اسلام کے فقہی مذاہب ، مشکلات فقر کے مقابل

Rate this item
(1 Vote)

اسلام کے پانچوں مذاہب زکات کے واجب ہونے پر متفق القول ہیں، مگر کن چیزوں اور کن لوگوں پر زکات واجب ہے اس سلسلہ میں ان کے نظریات مختلف ہیں اور نظریہ کا مختلف ہونا

زکات کی در آمد اور فائدہ کے کم اور زیادہ ہونے میں اچھی طرح اثر انداز ہے نتیجة اسلامی سماج سے فقرو فاقہ کو دور کرنے میں بھی زبردست اثر ڈالتا ہے ۔

اماميه مذہب میں بچے اور دیوانے زکات کی ادائگی سے معاف ہیں مگر اماميه مذہب کے مطابق ہر بالغ و عاقل مسلمان اورغیر مسلمان کے مال میں زکات واجب ہونے کی وجہ سے زکات کی در آمد کے لئے عظیم منبع مہیا ہو جاتا ہے ، جب کہ اہل سنت کے چارو مذاہب اور ان کی جدید فقہ کے مطابق کافر کے مال میں زکات واجب نہیں ہے ۔

زکات میں شامل ہونے والے اکیس موارد جو قومی ثروت کو شکل دیتے ہیں :

اہل سنت کے چارو مذہب کے مطابق ان اکیس موارد میں سے صرف ۱۲ یا ۱۴ موارد ہیں جن پر زکات واجب ہے اور ۷ یا ۹ اہم موارد ایسے ہیں جو اسلامی اقتصادی فریضہ سے خارج ہیں ، مگر امامیہ مذاہب میں شامل کئے گئے ہیں اگر خمس اور اس کے مصارف کو زکات اور اس کے مصارف سے الگ کردیا جائے جیسا کہ مشہور بھی یہی ہے تو شیعہ فقہ کے مطابق آج کے اقتصاد میں سے صرف چار غیر اہم موارد مشمول زکات قرار پائیں گے اس لحاظ سے زکات کی آمدنی بہت کم ہو جائے گی ۔

مقدمہ

کم از کم ضروریات زندگی کی فراہمی اور سماج سے فقر و فاقہ کو ختم کرنا باہمی زندگی کی ایک نیک آرزو ہے ۔ اسلام نے زکات کو واجب قرار دے کر اس نیک آرزو کو قطعی طور سے پورا کیا ہے ۔ یہاں تک کہ زکات کا وجوب ضرورت دین میں محسوب ہوتا ہے ۔ اس مقالہ میں سب سے پہلے بطور خلاصہ قرآن و حدیث اور شیعہ و اہل سنت کی فقہ کے اعتبار سے زکات کی فضیلت اور منزلت کو بیان کیا جائے گا پھر ان مذاہب کے نظریات کے مطالعہ کے ذریعہ بتایا جائے گا کہ خود زکات کے وجوب پر بھی مذاہب کا اجماع ہے مگر زکات کن لوگوں پر واجب ہے اور کن چیزوں میں واجب ہے ، اس میں ان مذاہب کے نظریوں میں اختلاف ہے آخر میں سرسری طور پر زکات کے قانون کو اسلامی حکومتوں میں کس طرح نافذ کیا گیا کو بیان کیا جائے گا ۔

اسلامی ممالک میں زکات کی آمدنی کو بڑھانے کا سسٹم اور اسلامی سماج سے غریبی دور کرنے کی مدیریت اور اس کا قانون نافذ کرنے کا سسٹم کامیاب نہیں ہے لہٰذا فقر فاقہ وک دور کرنے میں بہت کم موثر ہوا ہے ۔

یہ بات بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ یہ مقالہ صرف ایک تحقیق ، مباحثہ اور اطلاع رسانی ہے اس کا مقصد فقہی نظر یات میں سے ایک کو ثابت کرنا یا اس کی نفی کرنا نہیں ہے ، کسی بھی فقہی نظریہ کو بیان کرنے میں اس کی اصل اور بنیاد اس مذہب کا مشہور و معروف نظریہ ہے ۔

۱۔ زکات لغت کے اعتبار سے

لغت میں زکات کے معنی زیادہ ہو نا اور غور کرنا ۔ ۱ مقاییس الغة میں لکھا ہے ” زاء ، کاف اور حرف معتل “ اس کی اصل ہے جو زیاد ہونے اور نمو کرنے پر دلالت کرتا ہے ۔ ۲ شوکانی اپنی کتاب ” نیل الاوطار “ میں لکھتے ہیں ”

----------------------------------------------

۱۔ المعجم الاقتصادی ، احمد شرباصی ، دار الجلیل بیرورت ۱۴۰۱ئھ

۲۔ معجم مقاییس اللغة ، ابو الحسن احمد بن فارس ، دفتر تبلیغات اسلامی قم ۱۴۰۴ئھ

جب کوئی چیز نمو کرتی ہے اور زیادہ ہوتی ہے تو ہم عربی میں کہتے ہیں ” زکا الشیٴ “ اور جب کوئی شخص نیک اور اچھا ہوتا ہے تو کہتے ہیں ” زکیٰ فلاں “ اور تطہیر کے معنی میں بھی استعمال ہواہے ۔۱

راغب کی کتاب ” مفردات “ میں ہم پڑھتے ہیں ” اصل میں زکات پروردگار کی برکت کا ما حصل ہے م کہا جاتا ہے زکاالزرع یزکو ۔ جب کھیتی نمو کرتی ہے تو برکت ہوتی ہے ۔ ۲

بہت سی آیتیں جو زکات کی شان میں نازل ہوئی ہیںان میں زکات کو صدقہ کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے جیسے :

< خذ من اموالھم صدقة > ۳

< و انما الصدقات للفقراء و المساکین ․․․ > ۴

پہلے زمانہ میں زکات جمع کرنے والوں کو مسلمان مصدق کہتے تھے چوں کہ وہ صدقہ جمع کر کے تقسیم کرتے تھے ۔ ۵ ۔ کتاب ” لسان العرب “ میں لکھا ہے : جو شخص صدقے جمع کرکے مستحقوں کے درمیان تقیم کرتا ہے اسے مصدق کہتے ہیں ۔ ۶

زکات اصطلاح میں

مجمع البحرین میں لکھا ہے : ” اصطلاح میں زکات مخصوص صدقہ ہے جس کی مقدار بنیادی طور سے شریعت کی جانب سے معین ہو چکی ہے جو مال اور ذمہ دونوں میں ہے تا کہ دو نوں پاک ہو جائیں زکات مال ، مال کو پاک کرتی ہے اور فطرہ بدن کو پاک کرتاہے ۔ ۷

----------------------------------------------

۱۔ نیل الاوطار شرح منتفی الاخبار ، محمد بن علی بن محمد شوکانی ، مصطفی البابی الحلبی ، مصر ۱۳۴۷ئھ، ج/۴ کتاب الزکاة ص/۹۷

۲۔ مفرادات الفاظ القرآن ، راغب اصفہانی ، مرتضوی ، تہران ،۱۳۷۳ئھ

۳۔ سورہ توبہ / ۱۰۳

۴۔ سورہ توبہ / ۶۰

۵۔ مجمع البیان فی تفسیر القرآن ، ج/۵ ص / ۶۴ ، فضل بن حسن طبرسی ، دار المعرفة ، تفسیر المیزان ، ج/ ۹ ص /۳۱۰، سید محمد حسین طباطبائی ، موسسہ اسماعلیان ، قم ، تفسیر عیاشی ، محمد بن مسعود عیاشی ، تحقیق و تصحیح سید ہاشم رسولی ، محلاتی ج/ ۲ ص/۹۰ مکتبہ علمیة اسلامیة ، تہران ، تفسیر شبر ، سید عبداللہ شبر ، ص / ۲۰۶، دار البلاغة ۔

۶۔ لسان العرب ، ج /۴ ص/ ۲۴۱۹ ا ،بن منظور ، دار المصریہ للتالیف و الترجمہ ،قاہرہ ۔

۷۔ مجمع البحرین ، ص / ۲۸۳، فخر الدین طریحی ، دفتر نشر فرہنگ اسلامی ۱۴۰۸ء ھ

علامہ حلی لکھتے ہیں زکات لغت میں زیادہ ہونا ، نمو کرنا اور تطہیر کرنا ہے اور شریعت میں اس حق کا نام ہے ، جو مال میں واجب ہے ، جس کے وجوب کے لئے نصاب معتبر ہے اور زکات کہے جانے کی وجہ یہ ہے کہ دواب زیادہ ہواتا ہے ، مسکینوں کے حق سے مال پاک ہو جاتا ہے اور زکات ادا کرنے والا زکات نکالنے کے سبب گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے ۔ ۱ حاج رضا ہمدانی لکھتے ہیں زکات لغت میں طہارت و نمو کے معنی میں ہے اور عرف اہل شریعت میں اس حق کا نام ہے جس کی شناخت اہل شرع کو ہے اور کتاب اور جو متواتر سنت کے ذریعہ ان کے نزدیک ثابت ہو چکا ہے یہ نماز و روزہ کی طرح ضروریات دین میں سے ہے ۔ اس کا انکار کرنے والا اسلام سے خارج

ہو جاتا ہے ۔۲

دوسرے الفاظ میں ایک مخصوص مقدار ہے جس میں خاص شرائط پائے جانے کے بعد اس مال کے نکالنے کا حکم دیا جاتا ہے ۔ ۳

کتاب ” معجم الاقتصادی الاسلامی “ میں لکھا ہے زکات ایک حق ہے جس کا نکالنا مخصوص مال میں سے خاص افراد پر مخصوص وقت میں واجب ہے ۔ ۴

زکات مسلمانوں کے مال میں ایک دینی اور الزامی فریضة ( حق اللہ المعلوم ) ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اپنے مخصوص نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال پورا ہو جائے ۔ دین اسلام میں اس لئے اسے زکات کہا گیا ہے کہ یہ لوگوں کے مال میں اضافہ ہونے اور ان کے مال کے مستحقوں کے حقوق سے پاک ہونے کا سبب بنتا ہے ۔

قرطبی اس سلسلہ میں لکھتے ہیں : زکات ، تزکیہ سے لیا گیا ہے جس کے معنی تطہیر کے ہیں، گویا زکات نکالنے والا اپنے مال کو محتاجوں کے اور دوسرے لوگوں کے حقوق سے کہ جن کا تذکرہ خدا وند عالم نے کیا ہے پاک کردیتا ہے ۔ ۵

----------------------------------------------

۱ ۔ المعتبر فی شرح المختصر ، ج / ۳ ص / ۱ ، محقق حلی ، موسسہ سید الشہداء قم

۲۔ مصباح الفقیہ ، ج / ۳ ص / ۱ ، آقای رضا ہمدانی ، مکتبة الصدر ، قم

۱۔ کتاب الزکاة ، حسین علی منتظری ، ج / ۱ ص / ۹ ، دفتر تبلیغات اسلامی قم ، ۰۴ ۱۴ ء ھ

۲۔ المعجم الاقتصادی الاسلامی ، ج / ۱ ص / ۹ ، احمد شر باصی

۳۔ الجامع لاحکام القرآن ، محمد قرطبی ، ج / ۱ ص/ ۳۴۳ ، دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۰۵ ء ھ

زکات قرآن میں

قرآن مجید میں لفظ زکات ۳۲ مرتبہ آیا ہے ، ۲۹ مرتبہ معرفہ کی صورت میں ۲۶مرتبہ نماز کے ساتھ ایک آیت میں اور ایک مرتبہ ایک ہی سیاق میں نماز کے ساتھ البتہ الگ الگ ایتوں میں ، اسی طرح زکات کا عنوان قرآن مجید میں صدقہ اور صدقات کے الفاظ میں۱۲مرتبہ استعمال ہوا ہے ۔۱

زکات کا مالی عبادت کے عنوان سے نماز کے ساتھ جو ایک جسمانی عبادت ہے قرآن مجید میں ۲۶مقامات پر ذکر ہونا ان دو واجب کے لازم و ملزوم ہونے کی دلیل ہے

زکات کا نماز (جو کہ ستون دین ہے ) کے ساتھ ہونا اس نظم و ضبط کی بنیاد ہے جس پر سماجی زندگی استوار ہے ، اس حد تک کہ گزشتہ انبیاء کے حکم کا جو ہر ہے جیسا کہ قرآن مجید نے خود انبیاء جیسے جناب ابراہیم ، اسحاق ، یعقوب اور اسماعیل علیہم السلام کی زبان سے اس امر کو اس طرح بیان کیا ہے ۔

< و جعلنا ھم ائمة یھدون بامرنا و اوحینا الیھم فعل الخیرات و اقام الصلاة و ایتاء الزکاة و کانوا لنا عابدین >

اور ہم نے سب کو پیشوا قرار دیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں اور ان کی طرف کار خیر کرنے نماز قائم کرنے اور زکات ادا کرنے کی وحی کی اور یہ سب کے سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔( سورہ انبیاء /۷۳)

< واذکر فی الکتاب اسماعیل انہ کان صادق الوعد و کان رسولا نبیا Rو کان یامر اھلہ بالصلاة و الزکاة و کان عند ربہ مرضیا >

اور اپنی کتاب میں اسماعیل کا تذکرہ کرو کہ وہ وعدہ کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے ۔ اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکات کا حکم دیتے تھے اور اپنے پرور دگار کے نزدیک پسندیدہ تھے ۔ ( سورہ مریم / ۵۴ و۵۵ )

اسی طرح جناب عیسیٰ (علیهم السلام) گہوارہ میں فرماتے ہیں:

< قال انی عبد اللہ آتانی الکتاب و جعلنی نبیا و جعلنی مبارکا این ما کنت و اوصانی بالصلاة و الزکاة ما دمت حیا >

----------------------------------------------

۱۔ معجم المفہرس لالفاظ القرآن الکریم ، محمد فواد عبد الباقی ( تہران ، انتشارات اسلامی ۔ ۱۳۷۳ء ش

کہا میں اللہ کا بندہ ہون اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنا یا ہے اور جہاں بھی رہوں با برکت قرار دیا ہے اور جب تک زندہ رہوں نماز اور زکات کی وصیت کی ہے ۔ (سورہ مریم / ۳۰ و ۳۱ )

بنی اسرائیل سے عہد و پیمان کے سلسلہ میں اس طرح ارشاد ہوتا ہے :

< و اذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اللہ و بالوالدین احسانا و ذی القربیٰ و الیتامیٰ و المساکین و قولوا للناس حسنا و اقیموا الصلاة و اتوا الزکاة ثم تولیتم الا قلیلا منکم و انتم معرضون >

اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خبر دار خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ ، قرابتداروں ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا لوگوں سے اچھی باتیں کرنا ، نماز قائم کرنا ، زکات ادا کرنا ، لیکن اس کے بعد تم میں سے چند کے علاوہ سب منحرف ہو گئے اور تم لوگ تو بس اعراض کرنے والے ہی ہو۔

( سورہ بقرہ / ۸۳ )

قرآن مجید اللہ کے برگزیدہ دین کی صفت اس طرح بیان کرتا ہے :

< وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء و یقیموا الصلاة و یوتوا الزکاة و ذلک دین القیمة >

اور انھیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ خدا کی عبادت کریں اور اس عبادت کو اس کے لئے خالص رکھیں نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں اور یہی سچا اور مستحکم دین ہے ۔ ( سورہ بینہ / ۵ )

سورہ توبہ کی آیت ۱۱ کے مطابق اللہ کی وحدانیت پر ایمان اور نماز کے ساتھ زکات ادا کرنے سے انسان مسلمانوں کی جماعت میں داخل ہو جاتا ہے اور اخوت و برادری کا مستحق قرار پاتا ہے ۔ارشاد ہوتا ہے:

<فان تابوا و اقاموا الصلاة وآتوا الزکاة فاخوانکم فی الدین ۔۔۔۔>

پھر بھی اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں تو دین میں تمھارے بھائی ہیں ۔( سورہ توبہ / ۱۱ )

اسی سورہ کی آیت نمبر ۵ بھی اسی مطلب کو بیان کرتی ہے :

< فان تابوا و اقاموا الصلاة و آتوا الزکاة فخلوا سبیلھم ان اللہ غفور رحیم >

پھر اگر توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو کہ خدا بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

وہ اموال کہ جن پر فقہ میں زکات واجب یا مستحب ہے اس کی کچھ قسمیں قرآن مجید میں بیان کی گئی ہیں :

اول سونا چاندی

< والذین یکنزون الذہب و الفضة ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم >

اور جو لوگ سونے چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے پیغمبر آپ انھیں درد ناک عذاب کی بشارت دے دیں۔(سورہ توبہ / ۳۴ )

دوم میوے اور کھیتی ۱

< کلوا من ثمرہ اذا اثمر و آتوا حقہ یوم حصادہ ۔۔۔ >

تم سب ان کے پھلوں کو جب وہ تیار ہو جائیں تو کھاؤ اور جب کاٹنے کا دن آئے تو ان کا حق ادا کردو ․․․۔ ( سورہ انعام / ۱۴۱ )

سوم منافع تجارت

< یا ایھا الذین آمنوا انفقوا من طیبات ما کسبتم ۔۔۔ >

اے ایمان والو اپنی پاکیزہ کمائی میں سے راہ خدا میں خرچ کرو۔ ( بقرہ / ۲۶۷ )

چہارم وہ چیزیں جو زمین سے حاصل ہوں جیسے معدن

< ومما اخرجنا لکم من الارض ۔۔۔ >

اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمھارے لئے خارج کیا ہے ۔( سورہ بقرہ / ۲۶۷ )

----------------------------------------------

۱۔ اور ایک تفسیر کے مطابق حق الحصاد وہی زکات کی ادائیگی سمجھیں اور اسے زکات کے علاوہ کوئی حق شمار نہ کریں۔

Read 1409 times

Add comment


Security code
Refresh