حضرت آیة اللہ العظمیٰ سید محمدسعید حکیم مد ظلہ الشریف

Rate this item
(0 votes)

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حضرت آیة اللہ العظمیٰ سید محمدسعید حکیم (دام ظلہ الشریف)

السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ

ہم آپ سے گذارش کرتے ہیں کہ ملا یین مسلمانوں کی خاص طور پر اِن دو اہم مو ضوعات میںرہنما ئی فرمائیں :

جو شخص زبا ن پر شہادتین جاری کرے ،قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھے اور آٹھ مذاہب (حنفی ،شافعی ،مالکی ،حنبلی ،جعفری،زیدی،اباضی اور ظاہری)میں سے کسی ایک مذہب کی پیروی کرے وہ مسلمان شمار کیا جاتا ہے ،اُس کا خون ،آبرو اور مال محترم ہے ؟

آپ کے دفتر سے جواب:

''صحابہ اور دوسرے مسلمانوں کی تکفیر کرنا چا ہے وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں،شیعوں کے اعتقادات میں سے نہیں ہے ۔یہ امروحکم اسلام کی روح اور اُس کے ارکان پرمبتنی ہے ۔یہ مطلب شیعوں کے ائمہ (علیہم السلام)کی احادیث سے نقل ہواہے نیزاُن کے علماء کے فتوے اوراُن کے کلام سے سمجھا جاتا ہے ''۔

ایک اورکسی مومن نے آپ سے سوال کیا:

ہم سے بہت سے مسلمان اورغیر مسلمان اسلامی مذاہب کے درمیان رابطہ کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ہم آپ سے ان دونوں سوالوں کے جوابات دینے کا تقاضا کرتے ہیں:

١۔جو شخص اسلامی مذاہب (حنفی ،شافعی ،مالکی ،حنبلی ،جعفری،زیدی،اباضی اور ظاہری)میں سے کسی ایک مذہب کی پیروی کرے وہ مسلمان شمار کیا جاتا ہے؟

٢۔اسلام میں تکفیر کی کیا حد ہے ؟آیا کسی ایک مسلمان کادوسرے معروف اسلامی مذاہب (جن کا پہلے سوال میں تذکرہ ہو چکا ہے)میں سے کسی ایک مذہب کا اتباع کرنے والے یا اشعریہ مذہب یا معتزلہ مذہب کا اتباع کرنے والے کی تکفیر کرنا جا ئز ہے ؟ آیا صوفی مسلک کی پیروی کرنے والے کی تکفیر کرنا جا ئز ہے ؟

آپ کا جواب:

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ و لہ الحمد

١۔ شہادتین کا اقراراوردین کے فرائض اور واجبات جیسے نماز وغیرہ کا انجام دینا اس لئے کہ ہم انسان کو مسلمان سمجھیں ،کافی ہے۔ اس ترتیب سے دین اسلام کے احکام منجملہ خون ،مال وغیرہ کی حرمت اُس کے لئے صدق کرتی ہے ۔

٢۔ اس سے پہلے ہم جو کچھ بیان کرچکے ہیں اُس میں اِس سوال کا جواب گذر چکا ہے ۔

السید محمد سعید الحکیم

Read 1663 times

Add comment


Security code
Refresh