آج پوری دنیا کی نگاہ مکتب اہل بیتؑ پر ہے

Rate this item
(0 votes)
آج پوری دنیا کی نگاہ مکتب اہل بیتؑ پر ہے
پاکستانی معروف عالم دین نے کہا کہ آج پوری دنیا کی نگاہ مکتب اہل بیتؑ پر ہے کیونکہ یہی مکتب اسلام کا اصل چہرہ، اس کی قوت کا مظہر، استعمار ستیزی اور طاغوت سے جنگ کا استعارہ ہے۔ دنیا بھر میں مبارزہ، استقامت، مستدل اور عقلاء کی جدوجہد کی روش مکتب اہل بیتؑ کا ہی خاصہ ہے.

شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی اٹھائیسویں برسی کی مناسبت سے حوزہ امام خمینیؒ میں ایک کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں حوزہ کے فضلاء، ڈاکٹریٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ طلاب نے شرکت کی۔ کانفرنس سے امتِ واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے خصوصی خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے نوجوانوں میں جذبہ شعور کو زندہ رکھنے کے لیے زندگی صرف کی۔ ان کی تمام زندگی مجاہدت، مقاومت اور شعور بانٹنے سے عبارت ہے۔ ہم شہید کی شخصیت میں دو نمایاں خصوصیات کو ملاحظہ کرتے ہیں: اول یہ کہ وہ انتہا درجے کہ متعبد، اسلامی اخلاق سے آراستہ اور دین کے فہم سے مزین انسان تھے۔ دوم یہ کہ جو کچھ انہوں نے دین سے حاصل کیا، اسے زندگی کی جدوجہد، تگ و دو اور مبارزہ میں ڈھال کر نوجوانوں کے درمیان مثال قائم کی۔ مجھے کینیا میں ان کی جائے پیدائش پر جانے کا موقع ملا اور میں اس مسجد میں بھی گیا جہاں ان کے والد بزرگوار تبلیغ دین کرتے تھے۔ کون جانتا تھا کہ وہ وقت آئے گا جب افریقی قوم کے درمیان پیدا ہونے والا ایک بچہ پاکستان کے مومن جوانوں کے دلوں کی دھڑکن بن جائے گا اور ان کے اذہان کو متاثر کرے گا۔

علامہ امین شہیدی نے کہا کہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی علماء و مراجع عظام کا احترام کرتے تھے۔ وہ امام خمینیؒ کے مرید، پیروکار اور مقلد تھے اور روحی اعتبار سے ایک مبارزاتی شخصیت تھے۔ انہوں نے فہمِ دین کو صرف جائے نماز اور ذاتی زندگی تک محدود نہیں رکھا بلکہ قرآن کریم کی تعلیمات سے استفادہ کرتے ہوئے میدانِ عمل میں مالک اشتر، عمار یاسر، اویس قرنی اور ابوذر غفاری جیسا کردار اپنانے کی کوشش کی اور جوانوں کے لئے نمونہ بنے۔ حوزاتِ علمیہ اور دینی مراکز کی سب سے بڑی ذمہ داری لوگوں کو انہی دینی صفات سے مزین کرنا ہے۔ میدانِ عمل میں ایمان کا اظہار اور نظریہ کی دعوت دینا، دو اہم خصوصیات ہیں۔ اگر آج ہم امام عصر عجل اللہ فرج کے ظہور کے منتظر ہیں تو ظہور کی تیاری کے لیے ان دو بنیادی ترین عناصر کی ہمیں ضرورت ہے۔ یعنی ہم ایک طرف عقیدہ، ایمان اور ذاتی زندگی میں پاکیزگی کے اسلحہ سے لیس ہوں تو دوسری طرف استعمار ستیزی، طاغوت سے جنگ اور استکبار کے مقابلہ میں مبارزہ، قیام اور استقامت کے جذبہ سے سرشار ہوں۔ امام خمینیؒ نے امت کے احیاء کے لئے یہی راہ دکھائی۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے اپنی عملی زندگی کی پچاس بہاریں اسی ہدف کو سامنے رکھ کر گزاریں۔

انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا کی نگاہ مکتب اہل بیتؑ پر ہے کیونکہ یہی مکتب اسلام کا اصل چہرہ، اس کی قوت کا مظہر، استعمار ستیزی اور طاغوت سے جنگ کا استعارہ ہے۔ دنیا بھر میں مبارزہ، استقامت، مستدل اور عقلاء کی جدوجہد کی روش مکتب اہل بیتؑ کا ہی خاصہ ہے۔ مکتب اہل بیتؑ انتہا پسندی، جہالت اور بے گناہوں کے قتلِ عام کا درس نہیں دیتا  اور نہ کسی شخص کو اسلام سے خارج کرنے کا کوئی راستہ اس مکتب میں ہے۔ مکتب اہل بیتؑ میں دین کا جاذبہ اور بے دین کے مقابلہ میں دفاع بھی ہے۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے مذکورہ صفات کا مظہر بننے کی بھرپور کوشش کی اور معاشرہ میں اسی خط پر کام کیا۔ آج کے مدارس کے طلاب و علماء اور رہنماؤں کو بھی انہی صفات کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ معاشرہ میں کام کرنے کے لیے متوازن اور بابصیرت حکمت عملی کی تشکیل ضروری ہے۔ یعنی نہ ہم مولا علی علیہ السلام سے آگے نکلیں اور نہ ان سے پیچھے رہ جائیں، نہ دشمنوں کی دشمنی اور نہ دوستوں کی دوستی میں امیرالمومنینؑ سے آگے نکلیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام کو معیار قرار دیتے ہوئے ایسی متوازن اجتماعی پالیسی تشکیل دی جائے جس کے ذریعہ پاکستان کے ہر فرقہ بشمول مکتب اہل بیتؑ کے پیروکاروں کو ظلم و فساد کے چنگل سے نجات دلائی جا سکے، لیکن شرط یہ ہے کہ  ہمارے حوزات، دینی مدارس، ادارے، مساجد اور مجالس شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی جیسی شخصیات پیدا کریں۔ اس بات کا تعلق ہمارے نظامِ تربیت سے ہے، اس نظام کو جتنا زیادہ اہل بیتؑ کی تعلیمات میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے گی، اتنا ہی ہم مؤثر طور پر دین کا پیغام انسانوں تک پہنچا سکیں گے۔
https://taghribnews.
Read 240 times