جنگ کے بتیسویں روز بھی ایران کی مسلح افواج نے امریکی اور صہیونی اہداف کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں اور مختلف محاذوں پر دشمن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپاہ پاسداران کی بحریہ نے امریکی اور صہیونی اہداف کے خلاف ایک بھاری حملہ کیا جس میں دشمن کو شدید نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تازہ حملوں میں ایرانی میزائلوں کی ایک نئی لہر تل ابیب کی جانب داغی گئی جس کے بعد تل ابیب، اس کے جنوبی علاقوں اور مغربی کنارے کی شمالی بستیوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
صہیونی میڈیا کے مطابق صرف دس منٹ کے اندر ایران کی جانب سے تل ابیب پر دو میزائل حملے کیے گئے اور مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اسی دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے عمومی علاقے میں دشمن کا ایک جدید MQ‑9 ڈرون نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ایران کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک مار گرائے گئے امریکی و صہیونی ڈرونز کی مجموعی تعداد 146 تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب سپاہ پاسداران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کی مجموعی تعداد 88 تک پہنچ گئی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پینٹاگون کے دعوے کے برعکس ایک ماہ گزرنے کے باوجود ایران کی حملہ آور صلاحیت میں کمی نہیں آئی بلکہ حملے پہلے سے زیادہ منظم، مربوط اور شدید ہوگئے ہیں۔





















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
