سلیمانی
امریکی حکومت داعش کی گاڈ فادر ہے: ایران
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے کہا ہے کہ امریکی حکومت داعش کی گاڈ فادر ہے۔
یہ بات ناصر کنعانی نے جمعہ کو اپنے ٹوئٹر پیج میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ داعش کا خالق امریکہ ہے۔
کنعانی نے کہا کہ لیکن ان لوگوں کے لیے جنہوں نے جان بوجھ کر سچ سے آنکھیں بند کیں، جان ایف کینیڈی کے بھتیجے رابرٹ ایف کینیڈی کا یہ بیان کہ "ہم نے داعش کو بنایا" اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ امریکی حکومت داعش دہشتگردوں کا گاڈ فادر ہے۔
سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے بھتیجے رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کے نئے چیلنجر بن گئے۔
رابرٹ کینیڈی نے تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی تقریر میں کہا کہ "پولیس بدعنوان ہے۔" "ہم نے داعش کو بنایا"، ہم نے 20 لاکھ پناہ گزینوں کو یورپ بھیجا اور وہاں جمہوریت کو غیر مستحکم کیا جس کی وجہ سے برطانیہ یورپی یونین سے نکل گیا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے
خطے کے ممالک کے درمیان بات چیت اور تعاون کی روشنی میں علاقائی ترقی کو سہل بنایا جاتا ہے: صدر رئیسی
تہران، ارنا - ایرانی صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خلیج فارس کے علاقے میں پیشرفت علاقائی ممالک کے درمیان بات چیت اور تعاون کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔
یہ بات علامہ سید ابراہیم رئیسی نے جمعرات کو قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ ایک ٹیلی فونگ رابطے کے دوران گفتکو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے رمضان کے مقدس مہینے کے اختتام پر آنے والے عید الفطر کے موقع پر مبارکباد دی۔
صدر رئیسی نے کہا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کی توسیع اور مضبوطی اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔
مزید برآں، انہوں نے مسجد الاقصی میں فلسطینیوں کے خلاف جعلی صیہونی حکومت کے حالیہ جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایسے گھناؤنے اقدامات کی روک تھام کے لیے مسلم اقوام کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد پر زور دیا۔
قطر کے امیر نے اپنی طرف سے عید الفطر کے موقع پر ایرانی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا۔
شیخ تمیم نے حالیہ ہفتوں میں صیہونیوں کے فلسطینیوں کے خلاف کیے گئے جرائم کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قطر نے ہمیشہ فلسطین کے مظلوم عوام کا ساتھ دیا ہے۔
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّـهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَـٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿بقرہ، 114﴾
ترجمہ: اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کے ذکر سے (اللہ کے بندوں کو) روکے اور ان کی ویرانی و بربادی کی کوشش کرے حالانکہ ان (روکنے والوں) کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسجدوں میں داخل ہوں مگر ڈرتے ڈرتے۔ ان لوگوں کے لئے دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب ہے.
عید الفطر امت اسلامیہ کے اتحاد و یکجہتی کی علامت ہے / عید الفطر کا اعلان کرتے وقت ہمیں ولی فقیہ کے حکم کے تابع ہونا چاہیے
ایران کے مغربی علاقہ جزیرہ شیف کے امام جمعہ شیخ جاسم بن ہاجر نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا: عید الفطر مسلمانوں کی اہم ترین اعیاد میں سے ایک ہے۔ جو کہ ماہِ رمضان المبارک کے اختتام اور ماہ شوال کی پہلی تاریخ کو منائی جاتی ہے۔ اس دن مسلمانوں کے لیے روزہ رکھنا حرام اور ان پر فطرہ ادا کرنا واجب ہے۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: عیدالفطر کا اعلان کرتے ہوئے ہمیں ولی فقیہ کے حکم سے ہماہنگ ہونا چاہیے۔ یہ چیز اہلسنت اور شیعہ بھائیوں کے درمیان اتحاد و ہم آہنگی میں اضافہ کا باعث اور اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی ناکامی کا سبب بنے گا۔
جزیرہ شیف کے اہلسنت امام جمعہ نے کہا: موجودہ زمانے میں عید الفطر کی نماز فرض نہیں ہے بلکہ مستحب ہے، اس نماز میں اذان و اقامت نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کے درمیان عید الفطر کی نماز خاص اہمیت کی حامل اور عالم اسلام میں امت کے اتحاد و یکجہتی کی علامت ہے۔
شیخ جاسم بن ہاجر نے فقہِ شافعی میں عید الفطر کی نماز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: شافعی مسلک میں عید الفطر کی نماز بھی دو رکعت ہے اور اس میں بارہ تکبیریں کہی جاتی ہیں، پہلی رکعت میں تکبیرۃ الاحرام کے بعد اور سورۂ فاتحہ اور دوسری سورہ سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ سے پہلے پانچ تکبیریں پڑھی جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: نماز عید کے بعد امام جماعت خطبہ پڑھتے ہیں اور مقتدی امام جماعت کا خطبہ سنتے ہیں اور اہلسنت میں عید الفطر کی نماز کا وقت طلوع آفتاب کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور زوالِ ظہر تک باقی رہتا ہے۔
عالمی کفر پر مسلمانوں کی فتح کا راز کلمۂ وحدت میں مضمر ہے
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے شہر پلدشت کے امام جمعہ حجت الاسلام قربان علی بابائی نے گذشتہ رات پلدشت شہر کی جامع مسجد میں منعقدہ دعوتِ افطار میں خطاب کرتے ہوئے کہا: خداوند متعال کے فضل و کرم، رہبر معظم انقلاب کی مدبرانہ قیادت اور ایرانی قوم کے اتحاد و وحدت نے گذشتہ 44 سالوں میں اسلام و ایران کے خلاف کی گئی تمام سازشوں کو بے اثر کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: خداوند متعال کا یہ حکم ہے کہ دشمنوں پر فتح حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور امت کے اتحاد و وحدت پر اعتماد کیا جائے، اور اگر ایک معاشرہ میں اتحاد ہی نہ ہو تو وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے گا چونکہ عالمی کفر پر مسلمانوں کی فتح کا راز کلمۂ وحدت میں مضمر ہے۔
حجت الاسلام قربان علی بابائی نے کہا: عالمی کفر کے مقابلہ میں بھی فتح کا راز باہمی اتحاد، اتفاق اور وحدت میں مضمر ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ آج ہم انقلابِ اسلامی کی برکت سے ملک میں عملی اتحاد کو مشاہدہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: انقلاب اسلامی کی فتح کے پہلے دن سے ہی نظامِ اسلامی کے ساتھ دشمنی موجود تھی اور آج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے لیکن الحمد للہ دشمنوں کی جانب سے ایران کو تقسیم کرنے کے لیے کی جانے والی نسلی اور مذہبی تعصب پر مبنی تمام سازشوں کو ایرانی عوام کے اتحاد نے ناکام بنا دیا ہے۔
شہر پلدشت کے امام جمعہ نے کہا: آج جعلی صیہونی حکومت زوال پذیر اور منہدم ہو رہی ہے اور امریکہ مکمل طور پر دنیا سے الگ تھلگ ہو چکا ہے اور اسلامی ممالک کے درمیان استوار ہونے والے برادرانہ اور مفید رابطوں نے دشمن کو ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ مایوس اور پریشان کر دیا ہے۔
غیر ملکی افواج کو خطے سے نکل جانا چاہیے: صدر رئیسی
تہران، ارنا – ایرانی صدر مملکت نے کہا ہے کہ ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب اسلامی جمہوریہ ایران کے محافظ ہیں اور غیر ملکی افواج کو خطے سے نکل جانا چاہیے کیونکہ اس کی موجودگی خطے کا خطرہ ہے۔
یہ بات علامہ سید ابراہیم رئیسی نے منگل کے روز ایرانی یوم آرمی کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج خطے میں سلامتی لاتی ہیں، آج ہماری بہادر فوج سائنس اور ٹیکنالوجی کے مختلف میدانوں میں خطے کی فوجوں پر سبقت رکھتی ہے اور ہر کوئی اسے تسلیم کرتا ہے۔
صدر رئیسی نے کہا کہ آج ہماری فوج ایک لیس اور جدید فوج ہے اور اس کے پاس ملکی اور ایرانی ساختہ جدید آلات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب کہ دیگر ممالک کی بعض فوجیں اور مسلح افواج اپنا ساز و سامان درآمد کرتی ہیں، ایرانی فوج جدید علم اور مقامی صلاحیتوں کی بنیاد پر اپنے آلات سے لیس ہے۔
انہوں نے انقلاب دشمن عناصر اور تکفیری اور شر پسند گروہوں کے مقابلے میں فوج کو ناقابل تسخیر ڈیم قرار دیا اور کہا کہ فوج ایرانی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے اور یہ سمندروں میں ہمارے ملک کے مفادات کا بھی تحفظ کرتی ہے۔ سیکورٹی کی ضمانت دیتا ہے.
انہوں نے ایرانی مسلح افواج کی جرأت اور بدمعاشوں اور دہشت گردوں کے مقابلے میں ان کے موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جس سے خطے میں سلامتی آئی اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت اور فوجی طاقت خطے کے مفاد میں ہے اور آج بھی اس کی مضبوطی خطے کے مفاد میں ہے، فوج اس سیکورٹی کی حفاظت کرتی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ یوم آرمی خطے کے ممالک کے لیے امن اور دوستی کا پیغام لے کر، ایران خطے میں سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی کوشش کا خیر مقدم کرتا ہے لیکن ہماری فوج اور مسلح افواج کا خطے سے باہر کی افواج خصوصاً امریکی افواج کو یہ پیغام ہے کہ وہ جلد از جلد اس خطے سے نکل جائیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے قوم، عوام، ملک اور اسلامی اقدار کے دفاع میں 48 ہزار شہیدوں کا نذرانہ پیش کیا اور دشمنوں بالخصوص ناجائز صیہونی ریاست کو یہ پیغام ملا ہے کہ کسی بھی غلطی کا ارتکاب ملک کو مسلح افواج کی طرف سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا اور حیفا اور تل ابیب کی تباہی کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات خطے میں کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہماری مسلح افواج نے کس طرح خطے کے ممالک کی علاقائی سالمیت کا دفاع کیا اور آج ہم فوج میں جدید آلات کے استعمال کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جو اس نعرے کی علامت ہے کہ ہم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی فوج تمام کوتاہیوں اور خطرات کو مواقع میں بدل دیتی ہے۔
اسلامی انقلاب کے عظیم بانی امام خمینی (رح) نے 1979 کے 17 اپریل کو "یوم آرمی" کا نام دیا۔
حقیقت پسندانہ اور لچک دار سعودی پالیسی عرب ممالک اور خطے کے مفاد میں ہے: شامی صدر
دمشق میں آئی آر آئی بی نیوز کے نمائندے کے مطابق گزشتہ روز شام کے صدر نے دارالحکومت کے قصر الشعب میں سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ فریقین نے اس ملاقات میں دمشق اور ریاض کے مابین مشترکہ تعاون کے مختلف پہلوؤں، باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا
شام کے صدر نے اس ملاقات میں بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں عرب ممالک کے مابین تعاون اور موجودہ صورتحال کو اپنے مفادات کے حصول کے لئے استعمال کرنے پر زور دیا۔
سعودی وزیر خارجہ نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ ریاض اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ شام کی حکومت اور عوام اپنے مستحکم عزم و ارادے کے ساتھ جنگ کے تلخ نتائج کو عبور کر جائیں گے اور ملک میں پائیدار ترقی کو عملی جامہ پہنائیں گے
فیصل بن فرحان نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کی حمایت کرتا ہے تاکہ تارکین وطن کی ملک واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔
سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگلے مرحلے میں عرب ممالک کے ساتھ شام کے تعلقات کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ دو ہزار گیارہ میں شام میں دہشتگردی کا بحران شروع ہونے کے بعد یہ سعودی وزیر خارجہ کا پہلا دورۂ دمشق ہے۔
تہران: یوم القدس کی ریلی میں صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات کی شرکت
تہران: ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ، یوم القدس کی مناسبت سے ایران سمیت دنیا بھر میں فلسطینی مظلومین سے اظہار یکجہتی کے لیے جلوس نکالے گئے۔ ایران میں اس سلسلے کی مرکزی ریلی تہران میں منعقد کی گئی، جس میں ہزاروں کی تعداد میں ایرانی شہریوں کے علاوہ حکومتی شخصیات نے شرکت کی اور فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔ اس موقع پر شرکاء نے “القدس لنا”، “مرگ بر امریکہ” اور مرگ بر اسرائیل” کے پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔ مقررین نے فلسطین میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ ریلی ایران کے صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔
جعلی صیہونی حکومت کیساتھ تعلقات کو معمول پر لانا فلسطینی قوم سے غداری ہے: صدر رئیسی
علامہ سید ابراہیم رئیسی نے جمعہ کے روز اپنے پیغام میں مزاحمتی محاذ کی بہادرانہ مزاحمت کو سراہا جو کہ صیہونیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والوں کے مقابلے میں باوقار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جعلی صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو فطری بنانا فلسطینیوں اور مزاحمتی محاذ کے ساتھ غداری کے مترادف ہے اور مزاحمتی محاذ اور وطن عزیز فلسطین کی پیٹھ پر خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔
عالمی یوم القدس کے موقع پر جمعے کی شام فلسطینی گروپوں کے رہنماؤں اور غزہ کے باشندوں کے اجتماع کے لیے بھیجے گئے ویڈیو پیغام میں صدر رئیسی نے ماہ رمضان میں روزہ دار فلسطینیوں کے لیے دعا کی ہے، اور دلیل دی ہے کہ اس مہینے میں امام علی علیہ السلام ایرانی قوم کے لیے نمونہ ہیں اور انہوں نے ہمیں نصیحت کی ہے کہ کبھی بھی ظالموں کا ساتھ نہ دیں جن کی زمینوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور ہمیشہ مظلوم فلسطینیوں سمیت مظلوم عوام کی حمایت کریں اور یہ حمایت جاری رہے گی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ فلسطینی قوم اگرچہ مظلوم ہے لیکن یہ مزاحمت کی ہیرو ہے اور فلسطینیوں کے نظریات کو عملی جامہ پہنانے اور مقبوضہ القدس کو آزاد کرانے کے لیے اس کی برسوں کی مثالی مزاحمت پوری انسانیت کے لیے قابل تعریف ہے اور یقیناً اس کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
امت مسلمہ کا اتحاد، قدس شریف کی آزادی کی لازمی شرط
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ امت مسلمہ میں اتحاد اور وحدت، غاصب صیہونی رژیم کی شکست اور نابودی، مظلوم فلسطینی قوم کی فتح اور قدس شریف کی آزادی کی بنیادی شرط ہے۔ اسی وجہ سے غاصب صیہونی حکمران ہمیشہ سے مسلمانوں اور اسلامی ممالک میں اختلافات اور دشمنی پیدا کرنے کی سرتوڑ کرششیں کرتے آئے ہیں تاکہ یوں امت مسلمہ میں اتحاد اور وحدت پیدا ہونے سے روک سکیں۔ غاصب صیہونی حکام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جس دن خطے کے مسلمانوں اور مسلمان اقوام کے اندر باہمی اتحاد اور وحدت پیدا ہوئی وہ ان کی نابودی کا دن ثابت ہو گا اور اسرائیل نامی ناجائز ریاست کا بھی آخری دن ثابت ہو گا۔ لہذا اسرائیل اور اس کی حامی مغربی طاقتیں مختلف بہانوں سے امت مسلمہ میں اختلافات ڈال کر ان میں پھوٹ ڈالنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
اسی اہمیت کے پیش نظر جب ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تو اس کے بانی اور قائد امام خمینی رح نے اتحاد بین المسلمین کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا۔ امام خمینی رح نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد 1980ء کے پہلے ماہ مبارک رمضان میں اس مقدس مہینے کے آخری جمعہ کو "یوم القدس" کا عنوان دے دیا۔ یہ اقدام بھی درحقیقت غاصب صیہونی رژیم اور اسرائیل نامی جعلی ریاست کا مقابلہ کرنے کیلئے امت مسلمہ میں اتحاد پیدا کرنے کی غرض سے انجام پایا تھا۔ امام خمینی رح انتہائی بابصیرت اور دوراندیش شخصیت کے حامل تھے اور دنیا خاص طور پر خطے کے سیاسی حالات سے پوری طرح آگاہ تھے۔ وہ بھی اس حقیقت کو اچھی طرح بھانپ چکے تھے کہ اسلامی دنیا میں اسرائیل نامی سرطانی غدے کو ختم کرنے کا واحد راستہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں اتحاد اور وحدت پر مشتمل ہے۔
لہذا گذشتہ چالیس برس سے ایران اور پوری اسلامی دنیا میں ہر سال یوم القدس پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ قبلہ اول مسلمین جہان کی مرکزیت میں شروع ہونے والی اس عظیم تحریک کا نتیجہ غاصب صیہونی رژیم کے خلاف مسلح مزاحمت اور جدوجہد کی صورت میں ظاہر ہوا اور فلسطین سمیت مختلف اسلامی ممالک میں اسلامی مزاحمتی گروہ تشکیل پائے۔ ان اسلامی مزاحمتی گروہوں نے غاصب صیہونی رژیم کے جارحانہ اقدامات کا بھرپور مقابلہ کیا اور اس کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے۔ آج خطے میں اسلامی مزاحمتی محاذ ایک اہم فوجی طاقت بن کر سامنے آ چکا ہے اور اس نے غاصب صیہونی حکمرانوں اور ان کے اتحادیوں کو بے بس کر کے رکھ دیا ہے۔
اسلامی مزاحمتی گروہوں نے غاصب صیہونی رژیم کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کی قسم کھا رکھی ہے اور اس راستے میں ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج روز قدس ظالم کے مقابلے میں مظلوم کے قیام اور مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔ مزید برآں، یوم القدس کو گذشتہ چند عشروں سے امریکہ اور مغربی طاقتوں کی غیر مشروط حمایت اور اسلحہ کے زور پر فلسطینیوں کی سرزمین پر ناجائز قبضہ قائم کی ہوئی غاصب صیہونی رژیم کے مقابلے میں امت مسلمہ کے اقتدار اور عظمت کی تجلی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یوم القدس درحقیقت پوری دنیا میں حریت پسند اور ظلم سے نفرت کرنے والے انسانوں میں وحدت کا دن ہے۔ ایسے انسان جو عدل و انصاف کے پیاسے ہیں۔
یہ انسان ہمیشہ ہر قسم کے ظلم و ستم، خاص طور پر دنیا کی سب سے بڑی ظالم رژیم یعنی صیہونی رژیم کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہذا دنیا کی تمام اسلامی اقوام کی شرعی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مظلوم فلسطینی قوم کی حمایت کریں اور آپس میں اتحاد کو فروغ دیں۔ امت مسلمہ کی جانب سے دنیا والوں کو یہ پیغام ملنا چاہئے کہ وہ نہ صرف مظلوم فلسطینی قوم بلکہ دنیا میں ہر مظلوم کی حامی ہے اور دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی انسان یا معاشرہ کسی طاقت کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہا ہے اس کی مدد اور حمایت کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار ہے۔ دوسری طرف عالمی استکباری طاقتیں، خاص طور پر امریکہ ظالم اور مظلوم کے درمیان جاری اس معرکے میں غیر جانبدار نہیں ہیں اور ہمیشہ کی طرح ظالم یعنی غاصب صیہونی رژیم کی ہر ممکنہ مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اگرچہ آج غاصب صیہونی رژیم اسلامی مزاحمت کی جدوجہد کی بدولت آخری سانسیں لے رہی ہے لیکن امریکہ اور مغربی طاقتیں اس کے بے جان بدن میں نئی روح پھونک کر اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ لیکن اگر مسلمان آپس میں اتحاد اور وحدت برقرار رکھیں تو دشمن کی تمام سازشیں ناکامی کا شکار ہو جاِئیں گی۔ لہذا امت مسلمہ اور دنیا بھر کی مسلمان اقوام کو ہر گز مسئلہ فلسطین کو فراموش نہیں کرنا چاہئے اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں مسئلہ فلسطین کو پہلی ترجیح کا حامل مسئلہ قرار دیں۔ مسلمان اقوام اور اسلامی حکمرانوں کے درمیان یہی اتحاد فلسطین کے دفاع اور غاصب صیہونی رژیم کی نابودی کا ضامن ہے۔





















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
