ولادت امام زین العابدین (ع)

Rate this item
(0 votes)

ولادت امام زین العابدین (ع)

نام و نسب

اسم گرامی : علی ابن الحسین (ع)

لقب : زین العابدین

کنیت : ابو محمد

والد کا نام : حسین (ع)

والدہ کانام : شہربانو یا شاہ زناں

تاریخ ولادت : ۵ / شعبان دوسری روایت کے مطابق ۷/ شعبان ۳۸ھـ

جائے ولادت : مدینہ منورہ

مدت امامت : ۳۵/ سال

عمر : ۵۷/ سال

 

حضرت علی بن ابی طالب علیہ السّلام کوفہ میں مسند خلافت پر متمکن تھے جب۱۵جمادی الثانی ۳۸ھـ میں سید سجاد علیہ السّلام کی ولادت ہوئی۔

امام زین العابدین علیہ السّلام اپنے چچا حضرت امام حسن علیہ السّلام اور والد امام حسین علیہ السّلام کی تربیت کے سائے میں پروان چڑھے۔

بارہ برس کے تھے جب امام حسن علیہ السّلام کی شہادت ہوئی۔ اب امامت کی ذمہ داریاں آپ کے والد حضرت امام حسین علیہ السّلام سنبھال چکے تھے۔ شام کی حکومت پر بنی امیہ کا قبضہ تھا اور واقعات کربلا کے اسباب حسینی جہاد کی منزل کو قریب سے قریب ترلارہے تھے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت زین العابدین علیہ السّلام بلوغ کی منزلوں پر پہنچ کر حدود شباب میں قدم رکھ رہےتھے۔

اسی زمانہ میں جب کہ امام حسین علیہ السّلام مدینہ میں خاموشی کی زندگی بسر کررہے تھے حضرت نے اپنے فرزند سید سجاد علیہ السّلام کی شادی اپنی بھتیجی ـ حضرت امام حسن علیہ السّلام کی صاحبزادی ـ کے ساتھ کردی جن کے بطن سے امام محمدباقر علیہ السّلام کی ولادت ہوئی اور اس طرح امام حسین علیہ السّلام نے اپنے بعد کے لئے سلسلۂ امامت کے باقی رہنے کا ساماںّ خود اپنی زندگی میں فراہم کردیا۔

۶۰ھ میں سید سجاد علیہ السّلام ۲۲ سال کے تھے جب حضرت امام حسین علیہ السّلام کو عراق کا سفر درپیش ہوا اور سید سجاد علیہ السّلام بھی ساتھ تھے۔

یہ نہیں کہا جاسکتا کہ راستے ہی میں یا کربلا پہنچنے کے بعد کہاں بیمار ہوئے اور دس محرم ۶۱ھ کوامام حسین علیہ السّلام کی شہادت کے موقع پر اس قدر بیمار تھے کہ اٹھنا بیٹھنا مشکل تھا اور یقین ہے کہ ساتویں سے پانی بند ہونے کے بعد پھر سید سجاد علیہ السّلام کے لئے بھی پانی کاایک قطرہ ملنا ناممکن ہوگیاتھا۔

ایک ایسے بیمار کے لئے یہ تکلیف برداشت سے باہر تھی۔ عاشور کے دن کے اکثر حصے میں آپ غشی کے عالم میں رہے اسی لئے کربلا کے جہاد میں اس طرح شریک نہ ہوسکے جس طرح ان کے بھائی شریک ہوئے۔ قدرت کو سیّد سجاد کاامتحان دوسری طرح لینا تھا۔ وہ حسین علیہ السّلام کے بعد لٹے ہوئے قیدیوں کے قافلہ کے سالار بننے والے تھے۔ادھر امام حسین علیہ السّلام شہید ہوئے ادھر ظالم دشمنوں نے خیام اہلیبیت کی طرف رخ کردیا اور لوٹنا شروع کردیا۔ اس وقت کااہل حرم کااضطراب، خیام میں تہلکہ اور پھران ہی خیموں میں آگ کے بھڑکتے ہوئے شعلے! اس وقت سیّد سجاد علیہ السّلام کاکیا عالم تھا ، اس کے اظہار کے لئے کسی زبان یاقلم کو الفاظ ملنا غیر ممکن ہیں مگر کیا کہنا زین العابدین علیہ السّلام کی عبادت کا،کہ انھوں نے اس بیماری، اس مصیبت اور اس آفت میں بھی عبادت کی شان میں فرق نہ آنے دیا۔آپ نے گیارھویں محرم کی شب کو نماز فریضہ کے بعد سجدۂ معبود میں خاک پر سررکھ دیا اور پوری رات سجدۂشکر میں گزار دی۔ سجدہ میں یہ کلمات زبان پر تھے:لاالٰہ الاَّ اللهُ حقّاًحقاً لاَالٰهَ الا اللہ ایماناً وَّصِدقًالاالھٰ الاّ الله تعبدًاورقاً(یعنی کوئی معبود نہیں سوائے الله کے جو حق ہے یقیناً حق ہے , کوئی معبود نہیں سوائے ایک الله کے۔ایمان اور سچائی کی روسے کوئی معبود نہیں سوائے ایک الله کے۔ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،میں اسکی گواہی دیتا ہوں بندگی اور نیاز مندی کے ساتھ۔

گیارہ محرم کو فوج دشمن کے سالار ابن سعد نے ا پنے کشتوں کوجمع کیااور ان پر نماز پڑھ کر دفن کیا مگر حسین علیہ السّلام اور ان کے ساتھیوں کی لاشوں کواسی طرح بے گوروکفن زمین گرمِ کربلا پر دھوپ میں چھوڑدیا , یہ موقع سید سجاد علیہ السّلام کے لئے انتہائی تکلیف کا تھا، وہ اس مقتل سے گزر رہے تھے تو یہ حالت تھی کہ قریب تھا کہ روح جسم سے جدا ہوجائے۔ انہیں اس کا صدمہ تھا کہ وہ اپنے باپ اور دوسرے عزیزوں کو دفن نہ کرسکے وہ تو دشمنوں کے اسیر تھے اور کربلا سے کوفہ لے جائے جارہےتھے۔ پھر کتنا دل کو بے چین کرنے والا تھا وہ منظر جب خاندانِ رسول کالُٹا ہوا قافلہ دربار ابنِ زیاد میں پہنچا۔ سید سجاد علیہ السّلام محسوس کررہے تھے کہ یہ وہی کوفہ ہے جہاں ایک وقت علی ابن ابی طالب علیہ السّلام حاکم تھے اور زینب وامِ کلثوم شاہزادیاں۔ آج اسی کوفہ میں ظالم ابن زیاد تختِ حکومت پر بیٹھا ہے اور رسول کاخاندان مقیّد کھڑا ہے۔ سید سجاد علیہ السّلام ایک بلند انسان کی طرح انتہائی صدمہ اور تکلیف کے باوجود بھی ایک کوهِ وقار بنے ہوئے خاموش کھڑے تھے۔ ابن زیاد نے اس خاموشی کو توڑا یہ پوچھ کر کہ تمہارا نام کیا ہے ? امام علیہ السّلام نے جواب دیاکہ علی بن الحسین۔,, وہ کہنے لگا:کیا الله نے علی ابن الحسین کو قتل نہیں کیا؟(1),, امام نے جواب دیا۔»وہ میرے ایک بھائی علی تھے جنہیں لوگوں نے قتل کردیا۔,, وہ سرکش جاہل کہنے لگا۔''نہیں! بلکہ الله نے قتل کیا"

امام نے یہ آیت پڑھی کہ "اَللهُ يَتَوَفیّ الانفُسَ حِینَ مَوتِھَا" یعنی الله ہی موت کے وقت قبضِ روح کرتا ہے اور الله کاقبض روح کرنا یہ الگ بات ہے جو سب کے لئے ہے۔اس پر ابن زیاد کو غصہ آگیا اور کہا۔ تم میں اب بھی مجھ کو جواب دینے اور میری بات رد کرنے کی جراَت ہے اور فوراً قتل کا حکم دیا۔ یہ سننا تھا کہ حضرت زینب دوڑ کر اپنے بھتیجے سے لپٹ گئیں اور کہا کہ مجھ کو بھی اس کے ساتھ قتل کیاجائے۔ سیّد سجاد علیہ السّلام نے کہا کہ پھوپھی رہنے دیجئے اور مجھے ابن زیاد کا جواب دینے دیجئے۔ ابن زیاد تو یہ سمجھا تھا کہ کربلا میں ال محمد کے بہتے ہوئے خون کودیکھ کرسیّد سجاد علیہ السّلام کے دل میں موت کاڈر سما گیا ہوگا اور وہ قتل کی دھمکی سے سہم جائیں گے مگر بہادر حسین علیہ السّلام کے بہادر فرزند نے تیور بدل کر کہاکہ ابن زیاد تو مجھے موت سے ڈراتا ہے؟ کیا ابھی تک تجھے نہیں معلوم کہ قتل ہونا ہماری عادت ہے اور شہادت ہمای فضیلت ہے۔ یہ وہ پر زور الفاظ تھے جنہوں نے ظالم کے سر کو جھکادیا , حکم قتل ختم ہوگیا او رثابت ہوگیا کہ حسین علیہ السّلام کی شہادت سے ان کی اولاد و اہل حرم پر کوئی خوف نہیںچھایا بلکہ قاتل اس خاندان کے صبر واستقلال کو دیکھ کر خوفزدہ ہوچکے ہیں۔ کوفہ کے بعد یہ قافلہ دمشق کی طرف روانہ ہوا جس دن دمشق میں داخلہ تھا اس دن وہاں کے بازارخاص اہتمام سے سجائے گئے تھے ، تمام شہر میں ائینہ بندی کی گئی تھی اور لوگ آپس میں عید مل رہے تھے۔ اس وقت حسین علیہ السّلام کے اہل حرم جو تکلیف محسوس کررہے تھے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے , ایسے وقت انسان کے ہوش وحواس بجانہیںرہتے مگر وہ سید سجاد علیہ السّلام تھے جو ہر موقع پر ہدایت واصلاح او رحسینی مشن کی تبلیغ کرتے جاتے تھے , جس وقت یہ قافلہ بازارسے گزر رہا تھا اموی حکومت کے ایک ہوا خواہ نے حضرت سجاد سے طنزیہ پوچھا۔ اے فرزندِ حسین کس کی فتح ہوئی؟ آپ نے جواب میں فرمایا۔ تم کو اگر معلوم کرنا ہے کہ کس کی فتح ہوئی تو جب نماز کا وقت آئے اور اذان و اقامت کہی جائے اس وقت سمجھ لینا کہ کس کی فتح ہوئی۔ ا سی طرح اس وقت جب یہ قافلہ مسجدِ دمش کے دروازے پر پہنچا تو ایک بوڑھا سامنے آیا اور اس نے قیدیوں کودیکھ کر کہا کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے تم کو تباہ وبرباد کیااو رملک کو تمہارے مردوں سے خالی اور پر امن بنایا۔ اور خلیفہ وقت یزید کا تم پر غلبہ فرمایا۔ ان اسیروں کے قافلہ سالار حضرت سجاد علیہ السّلام سمجھ گئے کہ یہ ہم لوگوں سے واقف نہیں۔» فرمایا کہ اے شیخ کیا تم نے یہ آیت قرآن پڑھی ہے"قل لااسئلکم علیہ اجرالاالمودةفی القربیٰ "کہہ دو اے رسول! کہ میں سوائے اپنے اہلبیت کی محبت کے تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ بوڑھے نے کہا ہاں یہ آیت میں نے پڑھی ہے , فرمایا وہ رسول کے اہل بیت ہم ہی ہیں جن کی محبت تم پر فرض ہے۔ یوں ہی خمس والی آیت میں جو ذوی القربیٰ کالفظ ہے اور آیہ تطہیر میں اہلبیت کالفظ ہے یہ سب آپ نے اس کو یاد دلایا۔ بوڑھا یہ سن کر تھوڑی دیر حیرت سے خاموش رہا پھر کہا کہ خد اکی قسم تم لوگ وہی ہو ؟ سیّد سجاد علیہ السّلام نے فرمایا۔ ہاں قسم بخدا ہم وہی اہلبیت اور قرابتداررسول ہیں۔ یہ سُن کر بوڑھا شیخ رونے لگا۔ عمامہ سر سے پھینک دیا۔ سر آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا۔خداونداگواہ رہنا کہ میں آل محمدکے ہر دشمن سے بیزار ہوں۔ پھر امام علیہ السّلام سے عرض کیا۔,, کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ فرمایا, اگر توبہ کرو تو قبول ہوگی اور ہمارے ساتھ ہوگے۔ اس نے عرض کیا کہ میں اس جرم سے توبہ کرتا ہوں جو میں نے واقف نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی شان میں گستاخی کی۔

کوفہ میں دربار ابن زیاد میں اور پھر بازارِ کوفہ میں اور پھر دمشق میں یزید کے سامنے سید سجاد علیہ السّلام اور دیگر اہلِ حرم کی دلیرانہ گفتگو، خطبے اور احتجاج وہ تھے جنہوںنے دنیا کو شہادت حسین علیہ السّلام کامقصد بتایا اور اس طرح امام زین العابدین علیہ السّلام نے اس مشن کوپورا کیا جسے امام حسین علیہ السّلام انجام دے رہے تھے۔

قید شام سے رہائی کے بعد امام زین العابدین علیہ السّلام مع اہل حرم مدینہ گئے اور خاموش زندگی گزارنا شروع کی مگر مدینہ میں اب یزید کے خلاف جذبات بھڑک چکے تھے , ان لوگوں نے کوشش کی کہ امام زین العابدین علیہ السّلام کو اپنے ساتھ شریک کریں مگر امام علیہ السّلام ان کی نیت اور ان کے ارادوں کی حالت کو خوب جانتے تھے , آپ نے ان کا ساتھ دینا منظور نہیں فرمایا۔ اس لئے مدینہ پر جب یزید کی فوج نے چڑھائی کی تو امام زین العابدین علیہ السّلام کوبلاوجہ کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی مگر آپ کے روحانی صدمہ کے لئے یہ کافی تھا کہ رسول الله کی مسجد میں تین روز تک گھوڑے بندھے رہے سینکڑوں مسلمان شہید ہوئے اور سینکڑوں شریف عورتوں کی فوج یزید کے ہاتھوں عصمت دری ہوئی , یہ مصیبت آپ کے لئے نہایت ناگوار تھی مگر آپ نے صبرواستقلال کو ہاتھ سے جانے نہ دیا , ایسے موقع پر جب کہ شہادتِ حسین علیہ السّلام سے ہر طرف انقلاب برپا تھا اور مختلف جماعتیں خون حسین علیہ السّلام کابدلہ لینے کے لئے کھڑی ہوئی تھیں , حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کااس ہنگامہ سے الگ رہ کر صرف عبادت اور تعلیماتِ الٰہی کی اشاعت میں مصروف رہنا ایک بڑا حیرت ناک ضبطِ نفس کا نمونہ تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سلیمان ابن صرد خزاعی یامختار ابن ابی عبیدہ ثقفی جنہوں نے قاتلانِ حسین علیہ السّلام سے انتقام لیا, امام زین العابدین علیہ السّلام کے دل میں ان کے ساتھ ہمدردی کاجذبہ موجود تھا۔ آپ نے مختار کے لئے دعائے خیر فرمائی ہے اور آپ نے برابر لوگوں سے دریافت فرمایا ہے کہ کون کون قاتل حسین علیہ السّلام قتل کیئےگئے۔ مختار نے ان قاتلوں کو ان کے جرائم کی سزا دے کر سید سجاد علیہ السّلام کے زخمی دل پرا یک بڑا مرہم لگا دیا مگر آپ کا طرزِ عمل اتنا غیر متعلق اور محتاط رہا کہ آپ پر حکومت وقت کی طرف سے ان اقدامات کی کوئی ذمہ داری کبھی عائد نہ ہوسکی آپ کی پوری زندگی کادور الِ محمد اور ان کے شیعوں کے لئے پر اشوب رہا۔ یزیدکے تھوڑے ہی زمانہ کے بعد حجاج ابن یوسف ثقفی کے ذریعہ حکومت کاچُن چُن کر الِ رسول کے دوستوں کو قتل کرنا، حکومت کی طرف سے ہر ایک نقل وحرکت بلکہ گفتگو پر بھی خفیہ افراد کامقرر ہونا، اس صورت میں کہاں ممکن تھا کہ آپ ہدایت خلق کے فرائض کو آزادی کے ساتھ انجام دے سکتے مگر آپ اپنی خاموش زندگی سے دنیا کو رسول الله کی سیرت سے روشناس کر رہے تھے۔

واقعہ کربلا کے بعد 43برس امام العابدین علیہ السّلام نے انتہائی ناگوار حالات میں بڑے صبروضبط اور استقلال سے گزارے۔ اس تمام مدت میں آپ دنیا کے شور وشر سے علٰیحدہ صرف دومشغلوں میں رات دن بسر کرتے تھے۔ ایک عبادت خدا دوسرے اپنے باپ پر گریہ , یہی آپ کی مجلسیں تھیں جو زندگی بھر جاری رہیں۔ آپ جتنا اپنے والد بزرگوار کے مصائب کو یاد کرکے روئے ہیں دنیا میں اتنا کسی نے گریہ نہیں کیا , ہر ہر وقت پر آپ کو حسین علیہ السّلام کی مصیبتیں یاد آتی تھیں۔ جب کھانا سامنے آتا تھا تب روتے تھے۔ جب پانی سامنے آتا تھا تب روتے تھے , حسین علیہ السّلام کی بھوک وپیاس یاد آجاتی تھی تو اکثر اس شدت سے گریہ وزاری فرماتے تھے اور اتنی دیر تک رونے میں مصروف رہتے تھے کہ گھر کے دوسرے لوگ گھبراجاتے تھے۔ اور انہیں آپ کی زندگی کے لئے خطرہ محسوس ہونے لگتا تھا۔ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ آخر کب تک رویئے گا تو آپ نے فرمایا کہ یعقوب نبی کے بارہ بیٹے تھے۔ ا یک فرزند غائب ہوگیا تو وہ اس قدر روئے کہ آنکھیں جاتی رہیں۔ میرے سامنے تو اٹھارہ عزیزواقارب جن کے مثل ونظیر دنیا میں موجود نہیں، قتل ہوگئے ہیں۔ میں کیسے نہ روؤں۔

یوں تو یہ رونا بالکل فطری تاثرات کی تحریک سے تھا مگر اس کے ضمن میں نہایت پر امن طریقہ سے حسین علیہ السّلام کی مظلومیت اور شہادت کاتذکرہ زندہ رہا اور امام زین العابدین علیہ السّلام کے غیر معمولی گریہ کے چرچے کے ساتھ شہادت حسین علیہ السّلام کے واقعات کاتذکرہ فطری طور سے لوگوں کی زبانوں پر آتا رہا جو دوسری صورت میں اس وقت حکومت ُ وقت کے مصالح کے خلاف ہونے کی بنا پر ممنوع قرار پاجاتا۔

اتنی پر امن زندگی کے باوجود حکومت شام کو اپنے مقاصد میں حضرت علیہ السّلام کی ذات سے نقصان پہنچنے کااندیشہ ہوا ابن مروان نے اپنی حکومت کے زمانے میں آپ کو گرفتار کراکے مدینہ سے شام کی طرف بلوایا۔ اور دوتین دن آپ دمشق میں قید رہے مگر خدا کی قدرت تھی اور آپ کی روحانیت کااعجاز جس سے عبدالملک خود پشیمان ہوا اور مجبوراً حضرت زین العابدین علیہ السلام کو مدینہ واپس ہوجانے دیا۔

پیغمبر خدا کی مبارک نسل کی یہ خصوصیت تھی کہ بارہ افرد لگاتار ایک ہی طرح کے انسانی کمالات اور بہترین اخلاق واوصاف کے حامل ہوتے رہے جن میں سے ہر ایک اپنے وقت میں نوعِ انسانی کے لئے بہتر ین نمونہ تھا، چنانچہ اس سلسلہ کی چوتھی کڑی سیّد سجاد علیہ السّلام تھے جو اخلاق واوصاف میں اپنے بزرگوں کی یاد گار تھے۔ اگر ایک طرف صبر وبرداشت کا جوہر وہ تھا جو کربلا کے آئینہ میں نظر ایا تو دوسری طرف حلم اور عفو کی صفت آپ کی انتہا درجہ پر تھی۔ آپ نے ان موقعوں پر اپنے خلاف سخت کلامی کرنے والوں سے جس طرح گفتگو فرمائی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کاحلم اس طرح نہ تھا جیسے کوئی کمزور نفس والا انسان ڈر کر اپنے کو مجبور سمجھ کر تحمل سے کام لے بلکہ آپ عفو اور درگزر کی فضیلت پر زور دیتے ہوئے اپنے عمل سے اس کی مثال پیش کرتے تھے۔ ایک شخص نے بڑی سخت کلامی کی اور بہت سے غلط الفاظ آپ کے لیئے استعمال کیے۔ حضرت علیہ السّلام نے فرمایا , جو کچہ تم نے کہا اگر وہ صحیح ہے تو خدا مجھے معاف کرے اور اگر غلط ہے تو خدا تمہیں معاف کر دے۔ اس بلند اخلاقی کے مظاہرے کاایسا اثر پڑا کہ مخالف نے سر جھکا دیا اور کہا حقیقت یہ ہے کہ جو کچہ میں نے کہا وہ غلط ہی تھا۔ ایسے ہی دوسرے موقع پرا یک شخص نے آپ کی شان میں بہت ہی نازیبا لفظ استعمال کیا۔ حضرت نے اس طرح بے توجہی فرمائی کہ جیسے سنا ہی نہیں، اس نے پکار کے کہا کہ میں آپ کو کہہ رہا ہوں۔ یہ اشارہ تھا اس حکم قران کی طرف کہ "خذالعفووامربالمعروف واعرض عن الجاھلین" یعنی عفو کو اختیار کرو اچھے کاموں کی ہدایت کرو اور جاہلوں سے بے توجہی اختیار کرو۔ ہشام ابن اسماعیل ایک شخص تھا جس سے حضرت علیہ السّلام کی نسبت کچھ ناگوار باتیں سرزد ہوئیں تھیں، یہ خبر بنی امیہ کےنیک بادشاہ عمر بن عبدالعزیز تک پہنچی۔ اسنے حضرت کو لکھا کہ میں اس شخص کو سزا دوں گا۔آپ نے فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے اس کو کوئی نقصان پہنچے۔

آپ کی فیاضی اور خدمت خلق کاجذبہ ایسا تھا کہ راتوں کو غلہ اور روٹیاں اپنی پشت پر رکہ کر غریبوں کے گھروں پر لے جاتے تھے اور تقسیم کرتے تھے۔ بہت سے لوگوں کو خبر بھی نہ ہوتی کہ وہ کہاں سے پاتے ہیں اور کون ان تک پہنچاتا ہے جب حضرت کی وفات ہوئی اس وقت انہیں پتہ چلا کہ یہ امام زین العابدین علیہ السّلام تھے۔ عمل کی ان خوبیوں کے ساتھ علمی کمال بھی آپ کاایسا تھا جو دشمنوں کو بھی سرجھکانے پر مجبور کرتا تھا اور ان کو اقرار تھا کہ آپ کے زمانے میں فقہ اور علم دین کا کوئی عالم آپ سے بڑھ کر نہیں۔ ان تمام ذاتی بلندیوں کے ساتھ آپ دنیا کو یہ سبق بھی دیتے تھے کہ بلند خاندان سے ہونے پر ناز نہیں کرنا چاہیے۔ یہاں تک کہ آپ جب کبھی مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو آپ نام ونسب لوگوں کو نہیں بتاتے تھے۔ کسی نے اس کاسبب پوچھا تو فرمایا , مجھے یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ میں اپنے نسب کاسلسلہ تو پیغمبر خدا(ص) تک ملاؤں اور ان کے صفات مجھ میں نہ پائے جائیں۔

آپ کی مخصوص صفت جس سے آپ زین العابدین اور سیدالساجدین مشہور ہوئے وہ عبادت ہے۔باوجود یہ کہ آپ کربلا کے ایسے بڑے حادثے کو اپنی انکھوں سے دیکھ چکے تھے۔ باپ بھائیوں اور عزیزوں کے دردناک قتل کے مناظر برابر آپ کی آنکھوں میں پھرا کرتے تھے اس حالت میں کسی دوسرے خیال کاذہن پرغالب آنا عام انسانی فطرت کے لحاظ سے بہت مشکل ہے مگر باپ کے اس غم وصدمہ پر جس نے عمر بھر سید سجاد علیہ السّلام کو رلایا اگر کوئی چیز غالب آئی تو وہ خوف خدا اور عبادت میں محویت تھی۔ یہاں تک کہ اس وقت آپ کے تصورات کی دنیا بدل جاتی تھی ، چہرہ کارنگ متغیر ہوجاتا تھا اور جسم میں لرزہ پڑجاتا تھا کوئی سبب پوچھتا تو فرماتے تھے کہ خیال کرو , مجھے کس حقیقی سلطان کی خدمت میں حاضر ہونا ہے۔

اس دور میں کہ جب دنیا کے دل پر دنیوی بادشاہوں کی عظمت کااثر تھا اور خالق کو بالکل بھول چکی تھی، سیّد سجاد علیہ السّلام ہی تھے جن کی زندگی خالق کی عظمت کااحسا س پیدا کرتی تھی۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کو زمانہ اس کی اجازت نہیں دے سکتا تھا کہ وہ اپنے داداعلی ابن ابی طالب(ع) کی طرح خطبوں (تقریروں ) کے ذریعہ سے دُنیا کوعلوم ومعارف اور الٰہیات وغیرہ کی تعلیم دییں، نہ ان کے لئے اس کاموقع تھا کہ وہ اپنے بیٹے امام محمد باقر یااپنے پوتے جعفر صادق کی طرح شاگردوں کے مجمع میں علمی ودینی مسائل حل کریں اور دنیا کو اچھی باتوں کی تعلیم دیں۔ یہ سب باتیں وہ تھیں جو اس وقت کی فضا کے لحاظ سے غیر ممکن تھیں۔

اس لئے امام زین العابدین علیہ السّلام نے ایک تیسرا طریقہ اختیار کیا جو بالکل پر امن تھا اور جسے روکنے کادنیا کی کسی طاقت کو کوئی بہانہ نہیں مل سکتا تھا۔ وہ طریقہ یہ تھا کہ تمام دنیا والوں سے منہ موڑ کر وہ اپنے خالق سے مناجات کرتے اور دعائیں پڑھتے تھے۔ مگر یہ مناجاتیں اور دعائیں کیا تھیں ? الٰہیات کاخزانہ , معارف وحقائق کاگنجینہ، خالق اور مخلوق کے باہمی تعلق کاصحیح آئینہ۔ ان دعاؤں کا مجموعہ صحیفہ کاملہ , صحیفہ سجادیہ اور زبور آلِ محمد کے ناموں سے اس وقت تک موجود ہے۔

 

........................

۱۔ ابن زیاد کامقصد اس جملے سے »کیاالله نے علی ابن الحسین علیہ السّلام کو قتل نہیں کیا؟ یہ تھا کہ علی ابن احسین علیہ السّلام (علی اکبر) معاذالله بحکمِ خدا قتل ہوئے اور یه جبر کی اس عقیدی کا تسلسل تها جس کا آغاز معاویه کی حکمرانی کو جواز فراهم کرنی کی لئی هوا تها اور بعد مین یه ایک اعتقادی مکتب مین تبدیل هوا جس کو "مرجئه" اور "اشاعره" نی آگی برهایا تا هم امام علیہ السّلام نے اس کی تردید کرتے ہوئے جو کچه فرمایا اس کا مطلب یه تها که کہ ان کا قتل ہر گز حکم خدا سے نہیں بلکہ ان کو فوج یزید نے ظلم سے قتل کیا ہے , یہ دوسری بات ہے کہ مرنے والا اپنی موت سے مرے یا قتل کیا جائے ہر صورت میں قبض روح کرنے والا خدا ہے۔

Read 1163 times

Add comment


Security code
Refresh