ولادت جناب علی اکبر(ع) اور یوم جوان کی مناسبت سے

Rate this item
(0 votes)

قرآن کی نظر میں جوان

ولادت جناب علی اکبر(ع) اور یوم جوان کی مناسبت سے

" اِذ اَوَی الفِتیة اِلَی الکَهفِ فَقالُوا رَبَّنا اتنا مِن لَدُنکَ رَحمَةً وَ هی لَنا مِن أَمرِنا رَشَداً" جبکہ کچھ جوانوں نے غار میں پناہ لی اور یہ دعا کی کہ پروردگارا ہم کو اپنی رحمت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے کام میں کامیابی کا سامان فراہم کردے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں دومرتبہ (اور دونوں مرتبہ سورہ کھف میں)لفظ فتیہ(جوان) استعمال ہوا ہے۔ ایک روایت میں بھی اس طرح بیان ہوا ہے کہ: امام صادق علیہ السلام نے ایک شخص سے سوال کیا کہ تمہاری نظر میں "فتی"کے کیا معنی ہیں؟ اس شخص نے جواب دیا:جوان۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:نہیں، "فتی"سے مراد مؤمن ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اصحاب کھف سن رسیدہ تھے لیکن خدا نے انہیں ان کے ایمان کی بدولت جوان کہا ہے۔ اس بنا پر قرآن کی نگاہ میں سن و سال اور بازو کی طاقت کے مالک انسان کو جوان نہیں کہا جاتا، بلکہ جوان ایمانی طاقت ک انام ہے۔

ایک اور حدیث میں آیا ہے: وہ سب نوجوان نہیں تھے لیکن قرآن نے انہیں نوجوان کہا ہے( اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی نگاہ میں جوان اسے کہا جاتا ہے جس کے پاس ایمانی طاقت ہو اور وہ انقلاب لانے کی طاقت رکھتا ہو اور اسی طرح وہ اپنے راستے کو تبدیل کرنے پہ بھی قادر ہو) قرآن نے انہیں "فتیہ" کہا ہے کیونکہ قرآن یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ عام نوجوان تھے نہ کہ پیغمبر، رسول یا خاص ولی۔

 

پیغامات

۱۔نوجوان کی توانائی، راہ حق میں قربانی ادا کرنے،حقیقت کو غیر حقیقت پہ ترجیح دینے،صحیح عقیدہ کی پہچان کرنےاور دنیاوی لذتوں کو ترک کرنے میں پوشیدہ ہے۔

۲۔فتنہ وفساد برپا ہوتے وقت قابل اطمینان جگہ کو اپنی پناہ بنانا چاہئے۔

۳۔مشکلات کے وقت صرف خداوند متعال سے راز ونیاز کرنا چاہئے۔(قالوا ربّنا)

۴۔جب خدا کی جانب سے نجات انسان کے شامل حال ہوجائے تو اسے فراموش نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہمیشہ اس کی بارگاہ میں عفو ورحمت کے لئے ہاتھوں کو بلند کرنا چاہئے۔

۵۔مؤمن، ظاہری اسباب و ذرائع فراہم ہونے کے باوجود ان سے لگاؤ نہیں رکھتا بلکہ وہ صرف خدا کی رحمت کا امیدوار اور اس کی قدرت پہ تکیہ کرتا ہے۔

۶۔جوان صرف اسی صورت میں خدا کو پا سکتا ہے جب تمام جھوٹے معبودوں کی نفی کرے اور اپنے آپ کو ان سے دور رکھے۔

۷۔جوان کو ہمیشہ حقیقت طلب ہونا چاہئے۔(وَ هیئ لَنا مِن أَمرِنا رَشَداً)۔

۸۔سماجی مسائل سے نوجوان کو غافل نہیں رہنا چاہئے، بلکہ صحیح معنی میں حق کو باطل سے پہچاننے کی کوشش کرے( جیسا کہ اصحاب کھف نے باطل معاشرے سے دوری اختیار کرتے ہوئے غار میں پناہ لی)۔

۹۔جوان آلودہ فضا میں زندگی بسر کرنا پسند نہیں کرتا بلکہ ہجرت کے ذریعہ فاسد معاشرے سے اپنے آپ کو نجات دیتا ہے۔

۱۰۔اہل حق و حقیقت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہیں۔

Read 853 times

Add comment


Security code
Refresh