دخترِ رسول بحثیت مادر

Rate this item
(0 votes)
دخترِ رسول بحثیت مادر

ہم یہ نکتہ اکثر بھول جاتے ہیں کہ جس طرح ہر بیج کے اندر ایک درخت چھپا ہوتا ہے اسی طرح ایک ماں یا عورت کے اندر پوری قوم کی زندگی پوشیدہ ہوتی ہے۔ عقل و منطق ہم سے تقاضہ کرتی ہے کہ درخت کی دیکھ بھال کے ساتھ بیج کی عزت و تعظیم کی جائے، عورت کو اس کے حقوق دئیے جائیں اور ایک ماں ہونے کے ناطے بچوں کی دیکھ بھال کا موقعہ فراہم کیا جائے. ایک ماں کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ بچے کی تربیت یہ سوچ کر کرے کہ یہ بچے قوم کا مستقبل ہیں، یہ بچے قوم کا اثاثہ ہیں، اگر ماں نے بچے کی تربیت صحیح انداز میں کردی تو گویا اس نے پوری قوم کو نجات یافتہ بنا دیا اور اگر کسی ماں نے بچے کی تربیت صحیح انداز میں نہ کی تو اس نے پوری قوم کی زندگیاں چھین لیں۔  

اگر بات کو خاکی عہدہ داروں سے نکال کر نوری ذوات مقدسہ تک لے جایا جائے تو 20 جمادی الثانی کے دن گھرانہ نبوت میں ایک ایسا نور چمکا  کہ جس نے عالم انسانیت میں چاروں طرف روشنی بکھیر دی اور ازل سے ابد تک پیدا ہونے والی ساری مخلوق کے لئے یہ نور مربی قرار پایا۔  اس دن ہمیں ماؤں اور خواتین کا عالمی دن منانا چاہیے اگر کسی دن کو یوم مادر یا روز نسواں کہا جا سکتا ہے تو وہ صرف دختر رسول سیدہ فاطمہ زہراءسلام الله عليها کی ولادت کا دن ہے، روز مادر کیلئے اس دن سے بہتر اور کوئی دن نہیں کیونکہ آپ بحثیت مادر تربیت اولاد کیلئے رہنماء اصول ہیں۔ سیدہ زہراء(س) ماں کی حیثیت سے رہتی دنیا تک لئے ایسی لافانی مثال ہیں کہ ماں کی آغوش سے اولاد کو معراج ملتی ہے۔ ہمیں سیدہ فاطمہ زہراء سلام الله عليها کو رول ماڈل بنانا ہوگا، ان کا ایک ایک فعل ہی نہیں بلکہ حرکات و سکنات بھی مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

سیدہ زہراء کی سیرت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے بچوں کی تربیت میں کوئی پہلو نظرانداز نہیں کیا اور اس قدر کردار کو سنوارا کہ ہر ایک نے اپنے زمانے میں تاریخ رقم کی اور معاشرے کی آلودہ اور تاریک فضاؤں کے باوجود دین کی صورت نور کے مینار کھڑے کیے، آپ کی سیرت کا حصہ ہے کہ جناب سیدہ حسنین کریمین(عليهما السلام) کو دن میں سلا دیتی تاکہ شب قدر میں رات بھر جاگ سکیں، مسجد سے واپسی پر جناب سیدہ بچوں سے رسول خدا اور علی مرتضی کے بیانات اور دینی پیغامات کے متعلق پوچھتی، افطار کے وقت یتیم، مسکین، اسیر کو کھانا دینے میں پہل کرنے کے آداب سکھاتی اور کہتیں اے بیٹا تم باپ کی طرح ہونا تاکہ حق کا دفاع کرنا، الله کی عبادت کرنا اور ان افراد سے دوستی نہ کرنا جو کینہ پرور ہوں۔ تربیت کے اس انوکھے اور انرالے انداز نے عالم انسانیت کو ماؤں اور بچوں کی تربیت کے آداب و طریق سکھا دئیے۔

جناب فاطمہ جانتی تھیں کہ مجھے اس حسین ع کی تربیت کرنا ہے کہ جو اسلام کی ضرورت کے وقت اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان دین اسلام کے دفاع اور ظلم سے مبارزہ کرکے فدا کرسکے اور اپنے عزیزوں کے پاکیزہ خون سے اسلام کے درخت کو سیراب کرسکے، بی بی سیدہ(س) جانتی تھیں کہ انھیں ایسی خواتین زینب اور ام کلثوم تربیت کرنی ہیں جو اپنے پرجوش خطبوں اور تقریروں سے بنی امیہ کے ظلم و ستم کی حکومت کو رسوا کردیں اور انکے ناپاک ارادوں کو ناکام بنا دیں۔ جناب فاطمہ(س) گھریلو یونیورسٹی میں زینب(س) کو فداکاری، شجاعت اور یزید کے ظلم سے مرعوب نہ ہونے کا درس دے رہی تھیں تاکہ اپنی شعلہ بیانی سے دوست اور دشمن کو رلائے، بنوامیہ کے ظلم و ستم کی داستان کو کچل دینے کا درس دے رہی تھیں تاکہ ظلم سے ہمیشہ نجات ملے اور مستقبل میں مرد و زن ملکر ہر ظلم و بربریت کی داستان کو پاؤں تلے روند دیں۔ سیدہ زہراء(س) جانتی تھیں کہ متحمل مزاج فرزند امام حسن علیہ السلام جیسا تربیت کرنا ہے تاکہ اسلام کے حساس موقع پر اپنے جگر کا خون پیتا رہے اور اسلام کی خاطر جنگ پر صلح کو ترجیح دیکر عالم کائنات کو بتلا دے کہ اسلام جب تک ممکن ہو جنگ پر صلح کو ترجیح دیتا ہے۔

سیدہ زہراء(س) کی زندگی خواتین کے لئے ایسے ہی نمونہ عمل ہے جیسے ختمی مرتبت حضرت محمد صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم کا کردار و سیرت پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔ معصومہ عالم کا کردار ولادت سے شہادت تک اس قدر نورانی اور جاذبِ قلب و نظر ہے کہ خود رسول اکرم(ص) نے جناب فاطمہ(س) کی زندگی کو ہر دور اور ہر زمانے ميں اسوہ کامل قرار ديا ہے۔ ہمیں عملی طور پر سیدہ فاطمہ زہراء س کا پیروکار ہونا چاہیے، ہمیں اس راستے پر آگے بڑھنا چاہیے، خدا تعالی کی اطاعت کرنی چاہیے، اپنے دلوں میں روز بروز خدا تعالی کی محبت میں اضافہ کرنا چاہیے، کیا ہم نہیں کہتے کہ انہوں نے خدا کی محبت میں اتنی عبادت کی کہ پاؤں میں ورم آ گئے؟ کیا ہم نہیں کہتے کہ وہ نقاہت کے عالم میں مسجد گئیں تاکہ حق کا دفاع کرسکیں؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ وہ تن تنہا اپنے زمانے کے بڑے سامراج کے سامنے کھڑی ہوگئیں؟  ہمیں بھی حق کا دفاع کرنا چاہیے، ہمیں بھی ان کی طرح جیساکہ ان کے شوہر امام علی علیہ السلام نے کہا کہ وہ ساتھیوں کی کم تعداد سے نہیں ڈرتی تھیں،  ہمیں بھی اپنی کم تعداد کی وجہ سے سامراج اور عالمی طاقتوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔

تحریر: شاہد عباس ہادی

 

 

Read 113 times

Add comment


Security code
Refresh