باقرالعلوم (ع) کو میرا سلام کہنا

Rate this item
(0 votes)
باقرالعلوم (ع) کو میرا سلام کہنا

رسول گرامی اسلام کا ارشاد ہے کہ "رجب" جنت میں ایک نہر کا نام ہے، جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ جو شخص اس ماہِ مبارک میں ایک دن کا روزہ رکھے گا تو وہ ضرور اس نہر سے پانی پئے گا۔ رجب، شعبان، رمضان کے مہینے بڑی فضیلت والے ہیں، ان کی فضیلت میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ "رجب اللہ تعالی کا مہینہ ہے اور کوئی مہینہ بھی اس کے احترام اور فضیلت کو نہیں پہنچ سکتا۔ اس مہینہ میں کفار سے لڑائی حرام ہے، پھر فرمایا شعبان میرا مہینہ اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے، جو شخص اس ماہ میں ایک دن روزہ رکھے گا، وہ اللہ تعالی کی بہت بڑی خوشنودی کا مستحق ہوگا اور خدا کا غضب اس سے دور رہے گا، اور جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ اس پر بند کر دیا جائے گا"۔ 

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے نقل ہے کہ جو شخص اس ماہ میں ایک دن روزہ رکھے گا تو جہنم کی آگ اس سے ایک سال کے راستہ کے برابر دور ہو جائے گی، اور جو تین دن کے روزے رکھے تو اس پر جنت واجب ہو جائے گی۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، "رجب کا مہینہ میری امت کے لئے استغفار کا مہینہ ہے، پس اس مہینے میں گناہوں کی معافی مانگو کیونکہ خداوند عالم بہت بخشنے والا اور مہربان ہے، اور رجب کو اصبّ بھی کہتے ہیں کیونکہ اللہ کی رحمت اس مہینہ میں میری امت پر زیادہ ہے، اور اس ماہ کا ذکر "اَستَغفراللہَ وَاَسئَلُہُ التَّوبۃَ" ہے۔ 

ابن بابویہ نے معتبر سند سے سالم سے روایت کی ہے کہ میں ماہ رجب کے آخر میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، جب آپ کی نگاہ مجھ پر پڑی تو آپ نے سوال کیا، کیا اس مہینے کا روزہ رکھا ہے، میں نے کہا خدا کی قسم نہیں، تو آپ نے فرمایا کہ تجھ سے اتنا ثواب فوت ہو گیا کہ جس کے اندازہ کو صرف خداوندعالم جانتا ہے، کیونکہ خدا کے نزدیک یہ ماہ بہت محترم ہے۔ میں نے عرض کی اے فرزند رسول، اگر میں اس کے باقی دنوں میں روزہ رکھ لوں تو ثواب پا لوں گا، آپ نے فرمایا، اے سالم جو اس کے آخری دن کا روزہ رکھ لے تو خداوندعالم اسے سکرات موت کی سختی اور موت کے بعد والے خوف اور قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے گا اور جو شخص آخری دو دن کے روزے رکھے تو وہ پل صراط سے آسانی سے گزرے گا اور جو کوئی اس کے آخری تین دن کے روزے رکھے تو وہ روز قیامت کے بہت بڑے خوف، اور اس دن کی سختی سے محفوظ رہے گا اور جہنم سے برائت ہو گی، اور جو روزہ رکھنے پر قادر نہ ہوتو وہ ہر دن سو مرتبہ اس تسبیح کو پڑھے تاکہ وہ اس دن کے روزہ کے ثواب کو پا لے، وہ تسبیح یہ ہے" سبحان الاِلَہَ للہِ الجلیلِ سبحانَ مَن لاَ یَنبغیِ التَّسبیح اِلّا لَہُ سُبحانَ الاَعَزِّ الاکرمِ، سبحانَ َمن لَبِسَ العِزّ وَھوَ لَہُ اَھلُ۔1 

اس ماہ کی برکتوں میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب ہمارے پانچویں امام، امام محمد باقر علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائے، ہمارے پانچويں پيشوا امام محمد باقر (ع) جمعہ كے دن پہلى رجب 57ھ ق كو شہر مدينہ ميں پيدا ہوئے۔ 2۔ آپ كا نام محمد، كنيت ابوجعفر اور مشہورترين لقب باقر ہے۔ روايت میں نقل ہے كہ رسول اکرم صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم نے انہیں اس لقب سے ملقب فرمايا تھا۔ امام محمد باقر (ع) ماں اور باپ دونوں طرف سے فاطمى اور علوى تھے، اس لئے كہ ان كے والد امام زين العابدين امام حسين (ع) كے فرزند تھے، اور ان كى والدہ گرامى ''ام عبداللہ'' امام مجتبى (ع) كى بيٹى تھيں۔ آپ نے امام زين العابدين (ع) جيسے باپ كى پرمہر آغوش ميں پرورش پائی اور بافضيلت و باتقوا ماں كى گود میں پلے بڑھے۔ وہ ماں جو عالمہ اور مقدسہ تھيں، امام جعفر صادق عليہ اسلام سے منقول ہے كہ '' ميرى جدّہ ايسى صديقہ تھيں كہ اولاد امام حسن مجتبى (ع) ميں كوئی عورت انكى فضيلت كے پايہ كو نہ پہنچ سكی۔ 3

امام محمد باقر (ع) كى عمر چار سال سے بھی كم تھى كہ جب كربلا كا خونين واقعہ پيش آيا۔ آپ (ع) اپنے جد حضرت اباعبداللہ الحسين (ع) كے پاس موجود تھے۔ واقعہ كربلا كے بعد 34 برس آپ (ع) نے اپنے والد بزرگوار كے ساتھ زندگى گذاری، آپ جوانى ہى كے زمانہ سے علم و دانش، فضيلت و تقوٰى ميں مشہور تھے یہاں تک کہ آپکو مسلمانوں كی علمى مشكلات كے حل كا مرجع سمجھا جانے لگا۔ جہاں كہيں بھى ہاشميين، علويين اور فاطميين كے فضائل اور بلندى كا ذكر ہوتا، آپ (ع) كو ان تمام مقدسات، شجاعت اور بزرگى كا لوگ تنہا وارث جانتے تھے۔ آپ (ع) كى شرافت اور بزرگى کا اندازہ پيغمبر (ص) کی اس حدیث سے لگایا جا سکتا ہے جو آپ نے اپنے ايک بزرگ صحابی، جابر ابن عبداللہ انصارى (رض) سے فرمائی، '' اے جابر تم زندہ رہو گے اور ميرے فرزند محمد ابن على ابن الحسين (ع) كہ جن كا نام تورات ميں ''باقر'' ہے سے ملاقات كرو گے۔ ملاقات ہونے پر ميرا سلام اسے پہنچا دينا''۔ پيغمبر (ص) رحلت فرما گئے۔ جابر (رض) نے ايک طويل عمر پائی۔
 
آپ ايک دن امام زين العابدين (ع) كے گھر تشريف لائے اور امام محمد باقر (ع) كو جو اس وقت چھوٹے سے تھے ديكھا، جابر نے اس بچے سے كہا، ذرا آگے آئيے امام (ع) آگے آ گئے، جابر نے كہا، ذرا مڑ جايئے امام مڑ گئے، جابر نے ان كے جسم اور چلنے كا انداز ديكھا اس كے بعد كہا، رب كعبہ كى قسم، يہ ہو بہو آئينہ پيغمبر (ص) ہيں، پھر انہوں نے امام زين العابدين (ع) سے پوچھا'' يہ بچہ كون ہے؟ آپ نے فرمايا، ميرے بعد امام ميرا بيٹا محمد باقر (ع) ہے، جابر اپنی جگہ سے اٹھے اور آپ نے امام كے قدموں كا بوسہ ليا اور كہا، اے فرزند پيغمبر (ص) ميں آپ پر نثار، آپ اپنے جد رسول خدا كا سلام و درود قبول فرمائيں انہوں نے آپ كو سلام كہلو ايا ہے۔ شعور کی منزل دیکھئے کہ اس کم سنی کے باوجود امام محمد باقر (ع) كى آنكھيں ڈبڈبا گئيں اور آپ (ع) نے فرمايا، جب تک آسمان اور زمين باقى ہے اس وقت تک ميرا سلام و درود ہو، ميرے جد پيغمبر (ص) خدا پر اور تم پر بھى سلام ہو اے جابر، تم نے ان كا سلام مجھ تک پہنچايا۔

اخلاق و عادات كے اعتبار سے حضرت امام محمد باقر (ع)، متواضع، سخی، مہربان اور صابر تھے اور جيسا كہ جابر نے كہا تھا ہو بہو اسلام كے عظيم الشان پيغمبر (ص) كا آئينہ تھے۔ آپکی مہربانی اور عفو گذشت کا یہ عالم تھا کہ شام كا ايک شخص مدينہ ميں ٹھہرا ہوا تھا اور امام (ع) كے پاس بہت آتا رہتا تھا اور كہتا تھا كہ تم سے زيادہ روئے زمين پر اور كسى كے بارے ميں ميرے دل ميں بغض و كينہ نہيں ہے، تمہارا اور تمہارے خاندان سے زيادہ ميں كسى كا دشمن نہيں ہوں، اگر تم يہ ديكھتے ہو كہ ميں تمہارے گھر آتا جاتا ہوں تو يہ اس لئے ہے كہ تم ايک بہترین سخنور ہو، اس كی تمامتر بےادبیوں کے باوجود باوجود امام (ع) اس كے ساتھ حسن سلوک سے پيش آتے تھے اور اس سے بڑى نرمى سے بات كرتے تھے، كچھ دنوں كے بعد وہ شخص بيمار ہوا اس نے وصيت كى كہ جب ميں مرجاؤں تو امام محمد باقر (ع) ميرى نماز جنازہ پڑھائيں، جب اس كے متعلقين نے اسے مردہ ديكھا تو امام (ع) كے پاس پہنچ كر عرض كى كہ وہ شامى مرگيا اور اس نے وصيت كى ہے كہ آپ اس كى نماز جنازہ پڑھائيں۔ امام نے فرمايا، وہ مرا نہيں ہے جلدى نہ كرو يہاں تک كہ ميں پہنچ جاؤں، اس كے بعد آپ اٹھے اور آپ نے دو ركعت نماز پڑھى اور ہاتھوں كو دعا كے لئے بلند كيا اور تھوڑى دير تک سجدہ میں رہے، پھر شامى كے گھر گئے اور بيمار كے سرہانے بيٹھ گئے، اس كو اٹھا كر بٹھايا، اس كى پشت كو ديوار كا سہارا ديا اور شربت منگوا كر اس كے منہ ميں ڈالا اور اس كے متعلقين سے فرمايا كہ اس كو ٹھنڈى غذائيں دى جائيں اور خود واپس چلے گئے، ابھى تھوڑى دير نہ گذرى تھى كہ شامى كو شفا مل گئي وہ امام (ع) كے پاس آيا اور عرض كرنے لگا،''ميں گواہى ديتا ہوں كہ آپ، لوگوں پر خدا كى حجت ہيں''۔5

دوسرے تمام آئمہ كى طرح امام محمد باقر (ع) كا علم بھى چشمہ وحى سے فيضان حاصل كرتا تھا، آپ علم لدنی کے مالک تھے، جابر بن عبداللہ آپ كے پاس آتے اور آپ كے علم سے بہرہ ور ہوتے اور بار بار عرض كرتے تھے كہ ''اے علوم كو شگافتہ كرنے والے ميں گواہى ديتا ہوں كہ آپ بچپن ہى ميں علم خدا سے مالا مال ہيں۔ 6 اہلسنت كے علماء ميں سے ايک بزرگوار عبداللہ ابن عطاء مكى فرماتے تھے كہ ميں نے امام محمد باقر (ع) كے سامنے اہل علم كو جس طرح حقير اور چھوٹا پايا ہے ويسا كسى كے سامنے نہيں پایا۔ حكم بن عتيبہ لوگوں كے نزديک جن كا علمى مقام بہت بلند تھا، امام محمد باقر (ع) كے سامنے ان كى حالت يہ ہوتى تھى كہ جيسے ايک شاگرد استاد كے سامنے''۔ 7 آپ كا علمى مقام ايسا تھا كہ جابر بن يزيد جعفى ان سے روايت كرتے وقت كہتے تھے ''وصى اوصياء اور وارث علوم انبياء محمد بن على بن الحسين نے ايسا كہا ہے ...''۔ 8 

Read 97 times

Add comment


Security code
Refresh