سلیمانی

سلیمانی

Thursday, 20 August 2020 19:29

فلسفه شهادت

محقق: آیة الله العظمی مکارم شیرازی
مترجم : سید حسین حیدر زیدی


امام حسین علیہ السلام کی تاریخ زندگی کہ جو تاریخ بشریت کی ہیجان انگیز ترین حماسہ کی شکل اختیار کرچکی ہے اس کی اہمیت نہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہر سال لاکھوں انسانوں کے جذبات کی طاقت ور موجیں اپنے اطراف کو شعلہ ور کرتی ہیں اور دوسرے تمام پروگراموں سے زیادہ اچھی طرح اس کو مناتے ہیں بلکہ اس کی اہمیت اس سے بھی زیادہ ہے :اس عظیم حرکت کا محرک صرف انسانوں کے پاک و پاکیزہ جذبات ہیں اور ہر سال اس تاریخی حادثہ کی یاد میں یہ دستہ عزاداری اور جلوس و ماتم جو بہت شان و شوکت سے منایا جاتا ہے اس کیلئے کسی مقدمہ چینی اور تبلیغات کی ضرورت نہیں ہے اور اس لحاظ سے یہ اپنی نوعیت میں بے نظیر ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ اس حقیقت کوجانتے ہیں، لیکن بہت سے لوگوں(خصوصا غیر اسلامی دانشوروں)کیلئے یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے ان کی نظر میں ایک معمہ بن کر رہی گئی ہے کہ :
کیوں اس تاریخی حادثہ کو ”کیفیت و کمیت“کے اعتبار سے اتنی اہمیت دی جاتی ہے؟ کیوں اس حادثہ کی یاد کو ہر سال ، گذشتہ سال سے زیادہ جوش و ولولہ کے ساتھ منایا جاتا ہے؟
کیوں آج جب کہ ”بنی امیہ “ اور ان کے حوالیوں و موالیوں کی کوئی خبر نہیں ہے اور اس حادثہ کے وہ تمام لوگ فراموشی کے سپر د ہوچکے ہیں ، کیوں کربلا کا حادثہ ہمیشہ کیلئے زندہ اور باقی ہے؟
اس سوال کے جواب کو اس انقلاب کے اصلی علل و اسباب میں تلاش کیا جاسکتا ہے، ہم تصور کرتے ہیں کہ اس مسئلہ کا تجزیہ و تحلیل ان حضرات کیلئے جو تاریخ اسلام سے آگاہی رکھتے ہیں ، کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
واضح عبارت کے ساتھ یہ کہا جائے کہ کربلا کا خونی حادثہ جو نمودار ہوا وہ دو سیاسی رقیبوں کی جنگ کانتیجہ نہیں ہے کہ وہ ایک مقام و پوسٹ یا کسی زمین کو حاصل کرنے کیلئے جنگ کررہے تھے۔
اسی طرح یہ حادثہ دو مختلف گروہوں کے امتیازات و برتری کے کینہ و حسد کی وجہ سے وجود میں نہیں آیا۔
یہ حادثہ در حقیقت دو فکری اور عقیدتی نظریوں(مکاتب فکر)کی وجہ سے وجود میں آیا کہ جس کی بھڑکتی ہوئی آگ پوری تاریخ انسانیت میں گذشتہ زمانے سے اب تک ہرگز خاموش نہیں ہوئی ہے ، یہ جنگ تمام انبیاء اور دنیا میں اصلاح قائم کرنے والوں کی جنگ کودوام بخشتی ہے ، بعبارت دیگر جنگ ”بدر و احزاب“ کو دوبارہ تشکیل دیا جارہا ہے۔
سب جانتے ہیں کہ اس وقت پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)نے ایک فکری اور اجتماعی انقلاب کے رہبر کے عنوان سے بشریت کو بت پرستی، خرافات اور جہل کے چنگل سے آزادی اور نجات دلانے کیلئے قیام کیا تھا۔اور جن لوگوں پر ظلم ہوا تھا اور حق کے طالب لوگ جو اس زمانے کو بدلنے میں سب سے اہم کردار ادا کررہے تھے پیغمبر اکرم نے ان سب کو جمع کیا، اس وقت اس اصلاحی قیام کے مخالف لوگ جن میں سب سے آگے آگے بت پرست ثروتمند اور مکہ کے سود کھانے والے لوگ تھے انہوں نے اپنی صفوں کو مرتب کیا اور اس آواز کو خاموش کرنے کیلئے انہوں نے اپنی پوری طاقت سے کام لیا اور اس اسلامی حرکت کے خلاف سب سے آگے آگے ”اموی گروہ“ جن کا سرکردہ اور سرپرست ابوسفیان تھا۔
لیکن آخر کار اس عظمت اور خیرہ کرنے والے اسلام کے سامنے اس کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ، ان کی تمام انجمنیں بالکل نابود ہوگئیں۔
یہ بات واضح رہے کہ نابود ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ بالکل جڑ سے ختم ہوگئے بلکہ انہوں نے اسلام کے خلاف اپنی تمام تر کوششوں کو آشکار اور ظاہر میںانجام دینے کے بجائے پشت پردہ انجام دینا شروع کردیں(جو کہ ایک ہٹ دھرم، ضعیف اور شکست خوردہ دشمن کا حربہ ہوتا ہے) اور ایک فرصت کے انتظار میں بیٹھ گئے۔
بنی امیہ نے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)کی رحلت کے بعد اسلام سے پہلی حالت کی طرف پلٹنے کیلئے ایک قیام کو ایجاد کرنے کی کوشش کی اور اس طرح انہوں نے اسلامی حکومت میں اپنا نفوذ قائم کرلیااور مسلمان، پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ )کے زمانے سے جتنا دور ہوتے جارہے تھے یہ لوگ حالات کو اپنے حق میں نزدیک دیکھ رہے تھے۔
خصوصا ”جاہلیت کی کچھ رسمیں“ جو بنی امیہ کے علاوہ کچھ لوگوں نے مختلف اسباب کی بنیاد پر دوبارہ زندہ کردی تھیں اس کی وجہ سے جاہلیت کے ایک قیام کے لئے راستہ ہموار ہوگیا، ان میں جاہلیت کی کچھ رسمیں مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ قوم پرستی کا مسئلہ جس کو اسلام نے ختم کردیا تھا ، بعض خلفاء کے ذریعہ دوبارہ زندہ ہوگیا اورعرب قوم کی غیر عرب کے اوپر ایک خاص برتری قائم کردی گئی۔
۲۔ مختلف طرح کی اونچ نیچ : روح اسلام کبھی بھی اونچ نیچ کو پسند نہیں کرتی ، لیکن بعض خلفاء نے اس کو دوبارہ آشکار کردیا اور ”بیت المال“ جو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ) کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان مساوی طور سے تقسیم ہوتا تھااس کو ایک دوسری شکل دیدی اور بہت سے امتیازات بغیر کسی وجہ کے کچھ لوگوں کو دیدئیے اور طبقاتی امتیاز دوبارہ ایجاد ہوگئے۔
۳۔ پوسٹ اور مقام جو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ) کے زمانے میں علمی ، اخلاقی لیاقت اور معنوی اہمیت کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا تھا ، اس کو قوم و قبیلہ میں بانٹ دیا گیا ، اور خلفاء کے خاندان و قبیلہ والوں میں تقسیم کردیا۔
اسی زمانے میںابو سفیان کا بیٹا ”معاویہ“ بھی حکومت اسلامی میں آگیا اور اسلامی علاقہ کی حساس ترین پوسٹ(شام) کی گورنری اس کو دیدی اور اس طرح جاہلیت کے باقی ماندہ افراد ، حکومت اسلامی پر قبضہ کرنے اور جاہلیت کی سنتوں کوقائم و دائم کرنے کیلئے تیار ہوگئے۔
یہ کا م اس تیزی کے ساتھ ہوا کہ پاک و مطہر شخصیتوں جیسے حضرت علی(علیہ السلام)کو خلافت کے دوران مشغول کردیا۔
اسلام کے خلاف اس حرکت کا چہرہ اس قدر آشکار و واضح تھا کہ اس کی رہبری کرنے والے بھی اس کو چھپا نہ سکے۔
جس وقت خلافت بنی امیہ اور بنی مروان میں منتقل ہورہی تھی اس وقت ابوسفیان نے ایک عجیب تاریخی جملہ کہا تھا:
اے بنی امیہ! کوشش کرو اس میدان کی باگ ڈور کو سنبھا ل لو(اور ایک دوسرے کو دیتے رہو)قسم اس چیز کی جس کی میں قسم کھاتا ہوں بہشت و دوزخ کوئی چیز نہیں ہیں!(اور محمد کا قیام ایک سیاسی قیام تھا)۔
یا یہ کہ معاویہ عراق پر مسلط ہونے کے بعد کوفہ میں اپنے خطبہ میںکہتا ہے :
میں یہاں پر اس لئے نہیں آیا ہوں کہ تم سے یہ کہوں کہ نماز پڑھو یا روزہ رکھو بلکہ میں اس لئے آیا ہوں کہ تمہارے اوپر حکومت کروں جو بھی میری مخالفت کرے گا میں اس کو نابود کردوںگا۔
کربلا میں جام شہادت نوش کرنے والے آزاد مردان خدا کے سروں کو دیکھ کر یزید یہ کہتا ہے:
اے کاش میرے آباؤ اجدادجو بدر میں قتل کردئیے گئے تھے آج یہاں موجود ہوتے اور میرا بنی ہاشم سے انتقام لینے کو مشاہدہ کرتے۔
یہ سب اس قیام کی ماہیت پر دلیل ہیں کہ یہ ایک اسلام کے خلاف قیام تھا اور جتنا بھی آگے بڑھتے رہیں اس کا پردہ فاش ہوتا رہے گا۔
کیا امام حسین(علیہ السلام)اس خطرناک خطرہ کے مقابلہ میں جو اسلام کو چیلنج کر رہا تھا اور یزید کے زمانے میں اپنی حد سے عبور کر گیا تھا، خاموش رہ سکتے تھے؟ کیا خدا ، پیغمبراکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ) اور وہ پاکدامن لوگ جنہوں نے اس کو پروان چڑھایا تھا اس بات کو پسند کرتے؟
کیا وہ عظیم الشان فداکاری ، ایثار مطلق اور اسلامی معاشرہ کے اوپرچھائی ہوئی مرگبار خاموشی کو توڑنے کیلئے قیام نہ کرتا اور جاہلیت کے اس قبیح چہرہ کے اوپر بنی امیہ کے پڑے پردہ کو فاش نہ کرتا ؟ اور اپنے پاک و پاکیزہ خون سے اسلام کی تاریخ کی پیشانی پر چمکتی ہوئی سطروں کو لکھ کر اس عظیم الشان قیام کو زندہ نہ کرتا؟
جی ہاں؟ امام حسین علیہ السلام نے یہ کام کیا اور اسلام کے لئے بڑی اور تاریخی ذمہ داری کو انجام دیا، اور تاریخ اسلام کے راہ کو بدل دیا ، اس نے اسلام کے خلاف بنی امیہ کے حیلہ کو نابود کردیا اور ان کی ظالمانہ کوششوں کو نیست و نابود کردیا۔
یہ ہے امام حسین(علیہ السلام)کے قیام کا اصلی اور حقیقی چہرہ، یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ کیوںامام حسین(علیہ السلام)کا نام اور تاریخ کبھی فراموش نہیں ہوتی۔ وہ ایک عصر،قرن اور زمانے سے متعلق نہیں تھے بلکہ وہ اور ان کا ہدف ہمیشہ زندہ و جاوید ہے ، انہوں نے حق،عدالت اور آزادگی کی راہ، خدا و اسلامی کی راہ، انسانوں کی نجات اور لوگوں کی اہمیت کو زندہ کرنے کیلئے جام شہادت نوش کیا، کیا یہ مفاہیم کبھی پرانے اور فراموش ہوسکتے ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں!

حقیقت میں کون کامیاب ہوا؟

کیا اس عظیم جنگ میں بنی امیہ،خونخوار فوجی اور دنیا پرست لوگ کامیاب ہوئے؟ یا امام حسین(علیہ السلام)اور ان کے جانبازدوست ،جنہوں نے حق و فضیلت کی راہ میں اور خدا کیلئے تمام چیزوں کو فداکردیا؟!
کامیابی اور شکست کے واقعی مفہوم کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سوال کا جواب یہ ہے : کامیابی یہ نہیں ہے کہ انسان میدان جنگ سے صحیح و سالم واپس آجائے یا اپنے دشمن کو ہلاک کردے بلکہ کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے ”ہدف“ کو آگے بڑھائے اوردشمن کو اس کے مقصد تک پہنچنے میں ناکام کردے۔
اس معنی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس خونی جنگ کا نتیجہ بطور کامل روشن اور واضح ہے ۔ صحیح ہے کہ امام حسین(علیہ السلام)اور ان کے وفادار ساتھی ایک زبردست جنگ کے بعد جام شہادت نوش کرکے سوگئے، لیکن انہوں نے اس افتخار آمیز شہادت کے ذریعہ اپنے مقدس ہدف کو اس کی جگہ تک پہنچا دیا۔
ہدف یہ تھا کہ اموی حکومت کا قبیح چہرہ جو اسلام کے خلاف تھا آشکار ہوجائے اور مسلمانوں کے افکار بیدا ہوجائیں تاکہ دوران جاہلیت کے باقی بچے ہوئے لوگوں کے حیلے اور کفر و بت پرستی کے رسم و رواج سے آگاہ ہوجائیں اور یہ ہدف بخوبی اپنی منزل مقصودکو پہنچا۔
انہوں نے آخر کار بنی امیہ کے ظلم و بیداد گری کے درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اس غاصب حکومت کے فنا ہونے کے مقدمات کو فراہم کرکے ان کے برے سایہ کو مسلمانوں کے سروں سے ختم کردیا۔جن کا افتخار جاہلی کی رسومات، تبعیض و ستمگری کو رائج کرناتھانیست و نابود کردیا۔
یزید کی حکومت نے خاندان پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)،امام حسین(علیہ السلام)کے با فضیلت اصحاب اور خصوصا جگر کوشہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)کو شہید کرکے اپنے اصلی چہرہ کو ظاہر کردیا اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ )کی جانشینی کا دعوی کرنے والوں کی رسوائی کا نقارہ سب جگہ بجادیا۔
اور تعجب نہیں کہ کربلا کے حادثہ کے بعد جو یہ تمام انقلابات اور تبدیلی وجود میںآئی ، ”ان شہیدوں کے خون کا بدلا“ یا ”الرضا لآل محمد“کے نعرہ لگانے والوں کو دیکھتے ہیں کہ بنی عباس (جو خود اس مسئلہ کے ذریعہ سے حکومت تک پہنچے تھے اور اس کے بعد انہوں نے بھی ظلم و ستم انجام دئیے )کے زمانے تک جاری و ساری رہے۔
اس سے بڑھ کرجیت اور کیاہوگی کہ وہ نہ فقط اپنے مقدس ہدف تک پہنچ گئے بلکہ دنیا کے تمام آزاد لوگوں کے لئے سرمشق بن گئے۔

امام حسین (علیہ السلام)کی عزاداری کیوں کرتے ہیں؟

کہتے ہیں اگر امام حسین(علیہ السلام)کامیاب ہوئے تو پھر جشن کیوںنہیں مناتے؟ گریہ کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ گریہ اس بڑی کامیابی کے ساتھ صحیح ہے؟
جو لوگ اس طرح کے اعتراض کرتے ہیںیہ لوگ ”فلسفہ عزاداری“ کو نہیں جانتے اور اس کوذلت آمیز گریہ سے تعبیر کرتے ہیں۔
”گریہ“ اور آنکھوں سے اشک کے قطروں کا جاری ہونا جو کہ انسان کے دل کا دریچہ ہے، اس گریہ کی چار قسمیں ہیں:

۱۔ خوشی اور شوق کا گریہ:

کسی ایسی ماں کا گریہ جو اپنے گمشدہ فرزند کو کئی سال بعد دیکھ کر کرتی ہے ، یا کسی پاک دل عاشق کا بہت عرصہ کے بعد اپنے معشوق سے ملنے کے بعد گریہ کرنا خوشی اور شوق کا گریہ کہلاتا ہے۔
واقعہ کربلا کا اکثر وبیشتر حصہ شوق آفرین اور ولولہ انگیز ہے ان لوگوں کی ہدایت، فداکاری، شجاعت آزادمردی اور ان اسیر خواتین و مرد کی شعلہ ور تقریریں ، سننے والوں کی آنکھوں سے اشک شوق کا سیلاب جاری ہوجائے تو کیا یہ شکست کی دلیل ہے؟
کیایہ گریہ شکست کی دلیل ہے؟

۲۔ شفقت آمیز گریہ

انسان کے سینہ کے اندر جو چیز موجود ہے وہ ”دل“ہے ”پتھر“نہیں!اور یہ دل انسان کی محبت کی امواج کا خاکہ کھینچتا ہے ، جب کسی یتیم کو اس کی ماں کی آغوش میں دیکھتے ہیں کہ وہ سردی کے زمانے میں اپنے باپ کے فراق میں جان دے رہا ہے تو دل میں ایک ہل چل مچ جاتی ہے اوراشکوں کا سیلاب جاری کرکے ان امواج کے خطوط کو چہرہ کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا دل زندہ اور انسانی محبت و شفقت سے سرشار ہے۔
اگر کربلا کے حادثہ میں ایک شیر خوار بچہ اپنے باپ کی آغوش میںجان دیدے اور خون کے سیلاب کے درمیان ہاتھ پیر چلائے اور اس حادثہ کو سن کر دل دھڑکنے لگے اور دل اپنے آتشی شراروں کے اشکوں کی صورت میںخارج کرے تو کیا یہ کمزوری او رناتوانی کی دلیل ہے یا حساس قلب کے بیدار ہونے کی دلیل ہے؟

۳۔ ہدف میں شریک ہونے کیلئے گریہ

کبھی اشکوں کے قطرے کسی ہدف کا پیغام دیتے ہیں، جو لوگ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ امام حسین(علیہ السلام)کے مقصد اور ان کے ہدف کے ساتھ اور ان کے مکتب کی پیروی کرنے والے ہیں وہ ممکن ہے کہ اپنے اس مقصد کو سلگتے ہوئے نعروںکے ساتھ یا اشعار میں بیان کرکے ظاہر کریں، لیکن ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سب دکھاوے کے لئے ہو ، لیکن جو شخص اس جانسوز حادثہ کو سن کر اپنے دل سے اشکوں کے قطرے بہائے وہ اس حقیقت کو صادقانہ دل سے بیان کرتا ہے ، یہ قطرہ اشک امام حسین(علیہ السلا)اور ان کے وافادار ساتھیوں کے مقدس ہدف کے ساتھ وفاداری کا اعلان ہے ، دل و جان سے ان کے ساتھ رہنے کا اعلان ہے اور بت پرستی، ظلم و ستم کے ساتھ جنگ کا اعلان اور برائیوں سے بیزاری کا اعلان ہے۔ کیا اس طرح کا گریہ ان کے پاک ہدف سے آشنائی کے بغیرممکن ہے؟

۴۔ ذلت اور شکست کاگریہ

ان کمزور او ضعیف افراد کا گریہ جو اپنے ہدف تک پہنچنے میں پیچھے رہ گئے ہیں اوراپنے اندر آگے بڑھنے کی ہمت اور شہامت نہیں رکھتے ایسے لوگ بیٹھ جاتے ہیں اور گریہ کرتے ہیں۔
امام حسین(علیہ السلام)کیلئے ہرگزایسا گریہ نہ کرو، کیونکہ وہ ایسے گریہ سے بیزار اور متنفر ہیں، اگر گریہ کرنا چاہتے ہو تو شوق و خوشی،شفقت آمیز اور ہدف میں شریک ہونے کیلئے گریہ کرو۔لیکن غم منانے سے اہم کام امام حسین(علیہ السلام)اور ان کے اصحاب کے مکتب اور ہدف سے آشنائی رکھنا اور ان کے اہداف سے عملی لگاؤ رکھنا اور پاک رہنا پاک زندگی بسر کرنا، صحیح فکر اورعمل کرنا ہے۔


گذشتہ کچھ عرصے سے ایسی اطلاعات سامنے آرہی تھیں کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان درِپردہ کچھ چل رہا ہے۔ نیتن یاہو کے خفیہ دورہ امارات کے انکشافات بھی ہو رہے تھے۔ فلسطینی و صیہونی میڈیا بھی کچھ ایسے دعوے کر رہا تھا، جن سے یہ اشارے مل رہے تھے کہ امارات عنقریب اسرائیل کے ساتھ اپنی دوستی مضبوط کرنے جا رہا ہے۔ جون میں ایک اسرائیلی ٹی وی چینل 13 نے اپنی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف جنگ کے لئے اسرائیل کے خفیہ اسٹریٹجک پارٹنر کا روپ دھار چکا ہے۔ اسی طرح فلسطینی اخبار القدس العربی کے مطابق جنوبی یمن میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تنظیم "جنوبی عبوری کونسل" کے نائب صدر شیخ ہانی بن برک نے کہا تھا کہ اسرائیل اپنا الحاقی منصوبہ جلد از جلد مکمل کر لے، تاکہ کوئی غلط فہمی باقی نہ رہے۔ شیخ ہانی نے دنیا کو یہ پیغام بھی دیا تھا کہ اسرائیل قابض نہیں بلکہ اپنی ہی سرزمین پر موجود ہے۔

بالآخر میڈیا کے یہ دعوے درست ثابت ہوئے اور 12 اگست کو اس معاہدے کے اصل محرک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا کہ "ہمارے دو پیارے دوستوں کے مابین تاریخی امن معاہدہ" اس ٹوئٹ کے بعد امریکی صدر کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک اگلے ہفتے سفارت خانوں کے قیام، سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سکیورٹی، ٹیکنالوجی، توانائی، ثقافت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق اہم معاہدے کریں گے۔ امریکی صدر کے اس ٹوئٹ اور مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کے فوراً بعد سے اماراتی حکام اپنے تئیں معاہدے کے "ان گنت فوائد" کی نوید سنا رہے ہیں۔ اماراتی وزیر خارجہ انور قرقاش کے مطابق اسرائیل اب مغربی کنارے کو ضم نہیں کرے گا اور انضمام کا یہ سلسلہ اب ختم ہوچکا ہے۔ ایک اور اماراتی سینیئر عہدیدار عمر سیف غباش نے اس معاہدے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور امارات کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے یہ معاہدہ دانشمندی کی ایک اعلیٰ مثال اور عالمی اہمیت کا حامل ایک اہم معاملہ ہے۔ عمر غباش کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا توسیعی منصوبہ بہت خطرناک تھا اور امارات نے اسے روکنے کے لئے یہ اہم قدم اٹھایا ہے۔ غباش نے واضح کیا کہ یہ اقدام فلسطینی عوام کے بہتر مستقبل کے لئے اٹھایا گیا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ صیہونی وزیراعظم نے بغیر کسی لحاظ اور مروت کے فوری طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ مغربی کنارے کے انضمام کا فیصلہ کالعدم نہیں ہوا بلکہ ابھی بھی ہماری ٹیبل پہ موجود ہے اور ہم اپنی زمین کے حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ نیتن یاہو کے اس بیان  سے یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ جس طرح مصر اور اردن سے اسرائیل کے امن معاہدے فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے کسی مثبت پیش رفت کا ذریعہ نہیں بن سکے، اسی طرح امارات اور اسرائیل کا سمجھوتہ بھی فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم اور ناانصافی کے ازالے میں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے اس تردیدی بیان نے اماراتی حکام کی امتِ مسلمہ اور خصوصاً مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کی گئی خیانت کو آشکار کر دیا ہے۔

درحقیقت متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کے ساتھ یارانہ قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی کی راہ میں روڑے اٹکانے کی ایک سازش اور فلسطینی عوام کی 70 سالہ جدوجہد کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ مظلوم فلسطینی عوام کے خونخوار قاتل کے ساتھ معاہدہ کرتے وقت اماراتی شہزادوں کو غزہ پر اسرائیلی وحشیانہ بمباری کیوں نظر نہیں آئی۔ فلسطینی گھروں پہ چلتے وہ صیہونی بلڈوزر کیوں نظر نہیں آئے، جنہوں نے فلسطینیوں سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ معصوم بچوں کی خون میں لت پت لاشیں کیوں نظر نہیں آئیں۔؟؟؟ لیکن ابھی اسی پر بس نہیں، امتِ مسلمہ مزید خیانتوں کی منتظر رہے، کیونکہ امریکی صدر اور ان کے مشیر کشنر نے برملا یہ اعلان کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایک اور عرب ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرے گی، اب یہ ریاست کوئی بھی ہو، لیکن ایک بات انتہائی واضح ہے کہ امریکی انتخابات سے پہلے ٹرمپ کورونا وائرس سے شکست کھانے کے بعد اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں اور جلتی پر تیل کا کام سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی ایران مخالف قرارداد نے کیا، جسے صرف ایک ووٹ وہ بھی ڈومینیکا جیسے ملک کی صورت میں ملا، ایسی صورتحال میں ٹرمپ انتظامیہ عرب ممالک پہ صیہونی ریاست کو تسلیم کرنے کے لئے مسلسل دباو بڑھا رہی ہے، تاکہ اپنے اسرائیل نواز ووٹرز کے دلوں میں جگہ بنائی جاسکے۔

قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس وقت جب کہ امریکی انتخابات کی آمد آمد ہے اور ووٹرز کی صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ امریکہ میں بڑھتے ہوئے یہودی اثر و رسوخ کی وجہ سے ووٹرز کی بڑی تعداد "مظلوم اسرائیل" کے نام پر ووٹ پول کرتی ہے، کوئی بھی صدارتی امیدوار اگر مظلوم اسرائیل اور اس کے حقوق کی بات کرے تو\ ووٹرز پر اس کا خاطر خواہ اثر پڑتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت مظلوم اسرائیل کا کارڈ کھیل کر امریکی ووٹرز کے دلوں میں اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ دوسری جانب اسی سے ملحق نکتہ یہ ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ عرب حکمرانوں کو یہ باور کرایا ہے کہ انہیں اسرائیل سے نہیں بلکہ اصل خطرہ ایران کی جانب سے ہے، لہذا انہیں اسرائیل سے مراسم بڑھانے چاہیئیں، تاکہ ایران کے ساتھ مقابلے میں اسرائیل ان کا محافظ بن سکے۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل معاہدے میں بھی امریکہ کا یہی حربہ کارگر رہا۔ اس معاہدے کے بعد اب امریکی صدر اور ان کے مشیر ایک اور معاہدے کی خبر دے کر امریکی ووٹرز کو چکمہ دینے کی سعی کر رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ مراسم قائم کرکے امت مسلمہ کے ساتھ جو خیانت کی ہے، اس پر حقیقی مسلمان اسے کبھی معاف نہیں کریں گے۔ فلسطینی مقاومتی محاذ خصوصاً حماس، جہاد اسلامی اور الفتح سمیت حزب اللہ اور ایران نے اس معاہدے پر شدید تنقید کی ہے اور اسے فلسطینی کاز کے ساتھ بہت بڑی خیانت شمار کیا ہے، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مقاومتی عمل کسی لحاظ سے بھی سست نہیں ہوگا اور پہلے سے زیادہ بڑھ چڑھ کر قبلہ اول کی آزادی کے لئے سرگرم عمل رہے گا۔ جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے بھی اس معاہدے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے خیانت قرار دیا اور 16 اگست کو یوم فلسطین منایا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بھی اس معاہدے کے دوررس مضمرات کا ذکر کیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان فلسطینیوں کے حقوق کے لئے ہمیشہ آواز بلند کرتا رہے گا، لیکن ہمیں بحیثیت مسلمان اور بحیثیت ایک زندہ قوم قبلہ اول کی آزادی کے لئے ایک مضبوط کردار ادا کرنا ہوگا اور بیت المقدس کی آزادی کے ساتھ خیانت کرنے والوں سے اپنے رستے جدا کرنے ہوں گے۔
 
 
 
Thursday, 20 August 2020 15:24

سیاہ رنگ

رنگوں سے کھیلنا آسان نہیں کہ ہر رنگ اپنی ایک آواز رکھتا ہے۔۔ اپنی ایک صدا۔۔ اپنی ہی ایک ردھم۔۔
مگر انہی بولتے ہوئے رنگوں میں سے ایک رنگ خاموشی کا استعارہ ہے۔۔
جب کینوس پر بکھرے سارے رنگ مل کر خوب شور کرنے لگتے ہیں تو یہ رنگ اپنے ایک ہی اسٹروک سے ہر آواز کو مکمل خاموش کر دیتا ہے۔۔۔
رنگ برنگے فتنوں کے شور و غوغا سے عاجز آ کر میں نے برش اٹھایا اور اس خاص رنگ کا انتخاب کرتے ہوئے اسے کینوس پر پھیلا دیا۔۔۔ 
نیلے۔۔ پیلے۔۔ سبز۔۔ سفید حتی کہ کینوس پر لگے ہر رنگ کی آواز اس ایک رنگ کی گہرائی میں کھو گئی۔۔۔ 
اور پھر جیسے مکمل سکوت چھا گیا۔۔۔
میں نے اس رنگ کو گہری خاموشی کا نام دینا چاہا۔۔۔
مگر نہ دے سکی۔۔۔
کہ کینوس پر اسٹروک لگتے ہی اس رنگ کے بوجھ تلے دم توڑتی آوازیں اسے سیاہ رنگت دے چکی تھی۔۔
سیاہ رنگ کی یہی ایک خاصیت مجھے پسند ہے۔۔
یہ بظاہر خاموش ہوتے ہوئے بھی پرسکون نہیں کہ اس میں قید ہو جانے والی آواز کی لہروں کا طلاطم اسے ہر لمحہ مضطرب رکھتا ہے۔۔
اور اسی بے قراری میں سینے پر دستک دینے والے ہاتھ جب سیاہ لباس پر پڑتے ہیں تو الیکٹرک شاک کا کام کرتے ہوئے۔۔
تاریخ کے سیاہ پنّو میں چھپائے گئے تمام خوشنما و پاکیزہ رنگوں کی آواز بن کر درد سے چینخ اٹھتے ہیں۔۔
اور سننے والوں کو وا مظلوما کی صدائے احتجاج سنائی دیتی ہے۔۔۔
سیاہ رنگ کی خاموشی اپنے آپ میں ایک طوفان کا پیش خیمہ ہے۔۔
دنیا والوں کے لیے سیاہ رنگ سوگ کی علامت ہوسکتا ہے۔۔۔
مگر میرے لیے یہ انتظار کی علامت ہے۔۔ کہ ہر عزادار منتظر ہے۔۔۔۔
سیاہ رات کے بعد آنے والی اس سحر کا۔۔۔
جس میں کینوس پر بنائی جانے والی تصویروں میں سیاہ رنگ کی کوئی جگہ باقی نہ رہے گی۔۔۔
یا صاحب عزا ادرکنی عج

برادر اسلامی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے دینی و مذہبی اسکالر اور عالمی سطح کے بلند پایہ رہنماء آیت اللہ محمد علی تسخیری کے انتقال پر ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، مرکزی قائدین علامہ سید ثاقب اکبر، پیر ہارون علی گیلانی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، پیر صفدر شاہ گیلانی، مفتی گلزار احمد نعیمی، حافظ زبیر احمد ظہیر، علامہ عارف حسین واحدی، سید ناصر شیرازی، علامہ مقصود سلفی اور دیگر راہنمائوں نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم رہنماء بانی انقلاب اسلامی امام خمینی کے قریبی ساتھی، اتحاد امت کے داعی اور پوری امت اسلامیہ کا درد رکھنے والی شخصیت تھے۔

انھوں نے عالم اسلام کے بہت سے تنازعات میں مصلح کا کردار ادا کیا۔ وہ ایک عرصے تک ایام حج میں بھی خدمات انجام دیتے رہے، وہ کئی مرتبہ پاکستان بھی تشریف لائے۔ ملی یکجہتی کونسل کے قائدین، علمائے کرام اور دیگر شخصیات سے ان کے قریبی روابط تھے۔ وہ کونسل کے مرحوم صدر قاضی حسین احمد کے بھی قریبی دوست تھے۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ کونسل کے قائدین نے اسلامی جمہوریہ ایران کے روحانی رہبر آیت اللہ خامنہ ای، حکومت، عوام اور ان کے محترم خاندان سے اس غم کے موقع پر اظہار تعزیت کیا ہے۔

 فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے متحدہ عرب امارات کے امن معاہدے کی شدید مذمت کی ہے۔ فوزی برہوم نے اس حوالے سے عرب نیوز چینل الجریزہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ دوستانہ تعلقات پر مبنی متحدہ عرب امارات کے اس معاہدے کا اعلان، فلسطینی عوام کے خلاف انجام پانے والے صیہونی جرائم پر اُسے انعام سے نوازے جانے کے مترادف ہے۔ حماس کے ترجمان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی استواری فلسطینی امنگوں کی کمر میں خنجر گھونپنے کے مساوی ہے جو غاصب صیہونی رژیم کو پہلے سے بڑھ کر فلسطینی عوام کے خلاف ظلم و ستم کرنے پر حوصلہ افزائی کرے گا۔

دوسری طرف فلسطینی مزاحمتی تحریک "الجہاد الاسلامی فی فلسطین" کے دفتر سیکرٹری داؤد شہاب نے بھی اس حوالے سے عرب ای مجلے 'فلسطین الیوم' کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ابوظہبی-تل ابیب دوستی معاہدے کو فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کو جائز قرار دینے اور کرپٹ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی گرتی حکومت کو بند گلی سے نکالنے کی سازش قرار دیا ہے۔ داؤد شہاب نے اس معاہدے کو غاصب صیہونی رژیم کے سامنے گھٹنے ٹیک دینا اور متحدہ عرب امارات کی شکستِ فاش قرار دیتے ہوئے تاکید کی کہ اسرائیل-امارات دوستی معاہدہ؛ مظلوم فلسطینی قوم کے خلاف صیہونی دہشتگردی میں اضافے کے علاوہ کوئی تبدیلی نہیں لائے گا۔

اس حوالے سے فلسطینی مزاحمتی کمیٹی نے بھی اعلان کیا ہے کہ امارات-اسرائیل امن معاہدہ نہ صرف مظلوم فلسطینی عوام کے لئے کسی قسم کے فائدے کا حامل نہیں بلکہ فلسطینی عوام کے خلاف سازش اور امتِ مسلمہ کی کمر میں زہرآلود خنجر ہے۔ اس سلسلے میں فلسطینی تحریک آزادی (PLO) کے مرکزی رہنما حنان عشراوی نے بھی ٹوئٹر پر جاری ہونے والے اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ غاصب صیہونی رژیم نے خفیہ مذاکرات کے ذریعے متحدہ عرب امارات سے (اپنے تمام جرائم کا) انعام وصول کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اعلان کیا تھا کہ اسرائیل و متحدہ عرب امارات نے "دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی استواری" پر اتفاق کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدے پر امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں دستخط کئے جائیں گے۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے 33 روزہ جنگ میں اسرائیل پر فتح اور کامیابی کی سالگرہ کے موقع پر خطاب میں اسلامی مزاحمت کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے لبنان پر 33 روزہ جنگ امریکہ کے کہنے پر مسلط کی۔

سید حسن نصر اللہ نے اسرائیل کی غاصب اور ظالم و جابر حکومت پرحزب اللہ کی تاریخی فتح اور کامیابی پر دنیا بھر کے تمام حریت پسندوں اور مسلمانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے شہید عماد مغنیہ، شہید مصطفی بدرالدین  ، سپاہ اسلام کے عظيم الشان کمانڈر میجر جنرل سلیمانی اور دیگر شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ 33 روزہ جنگ میں اسلامی مزاحمت کی کامیابی میں شہید سلیمانی  اور دیگر کمانڈروں کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی محاذ کی فتح اور کامیابی میں نقش ایفا کرنے والے تمام افراد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی نے 33 روزہ جنگ کی فتح اور کامیابی میں مرکزی اور کلیدی کردار ادا کیا۔

سید حسن نصر اللہ نے 33 روزہ جنگ میں فتح کے تین اہم نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں اسرائیل کا نئے مشرق وسطی کا نفشہ نقش بر آب ہوگيا۔ اس جنگ میں حزب اللہ لبنان نے اسرائیل کی فوجی طاقت کا طلسم توڑ دیا اور ثابت کردیاکہ اسرائیلی فوج کو شکست سے دوچار کیا جاسکتا ہے۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کو اچھی طرح علم ہے کہ اسے حزب اللہ کے خۂاف کسی جنگ میں فتح نصیب نہیں ہوسکتی، اسی لئے وہ دوسرے طریقوں سے استفادہ کررہے ہیں جن میں بعض عرب ممالک کو اسرائیل کا متحد اور ہمنوا بنانا بھی شامل ہے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ حزب اللہ لبنان اسرائیل کے کسی بھی احمقانہ اقدام کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے آمادہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ مزاحمت لبنان کے لئے سانس کا حکم رکھتی ہے جس طرح سانس بدن اور انسانی حیات  کے لئے ضروری ہے اسی طرح لبنانیوں کے لئے اسرائیل کے خلاف مزاحمت ضروری ہے۔

سید حسن نصر اللہ نے امارات کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم امارات کے اقدام سے غافلگیر نہیں ہوئے کیونکہ ہمیں پہلے سے علم تھا کہ بعض عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات کا سلسلہ جاری ہے۔ اور امارات کے اقدام سے صاف ظاہر ہوگیا ہے کہ بعض عرب ممالک خطے میں امریکہ کے غلام ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امارات کے بعد بعض دیگر ممالک بھی اسی قسم کا معاہدہ کرنے کے لئے صف میں کھڑے ہیں۔ امارات اور بعض دیگر عرب ممالک امریکی صدر ٹرمپ کو انتخابات میں کامیاب کرانے کے سلسلے میں اپنے خفیہ منصوبوں کو اب آشکار کررہے ہیں۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ اسلامی مزاحمت کا سلسلہ بیت المقدس کی آزادی تک جاری رہےگا اور کامیابی امریکہ کے غلام عرب حکمرانوں کو نہیں بلکہ اسلامی مزاحمت کو نصیب ہوگی۔

میجر جنرل سلامی نے لبنان پر مسلط کردہ اسرائیل کی 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ کی فتح کی سالگرہ کے موقع پر سپاہ قدس کے اعلی کمانڈروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید میجر جنرل قاسم سلیمانی نے جو پرچم بلند کیا تھا ہم اسے زمین پر نہیں رکھیں گے یہ پرچم ہمیشہ بلند رہےگا۔ اسلامی مجاہدین نے مختلف میدانوں میں دشمن کو شکست اور ناکامی سے دوچار کیا اور دشمن کو ہر میدان میں  مایوسی اور ناکامی کا سامنا ہے۔

میجر جنرل حسین سلامی نے کہا کہ سپاہ قدس کی تعداد کم ہے لیکن اللہ تعالی نے سپاہ قدس کو دشمنوں کی اکثریت پر ہمیشہ غلبہ عطا کیا ہے اور سپاہ قدس نے اس سلسلے میں آیات قرآنی کی بہترین اور عملی تفسیر پیش کی ہے۔

ایرانی سپاہ کے سربراہ نے کہا کہ سپاہ قدس نے مسلمانوں کے اندراستقامت اور پائداری کی نئی روح اور نیا جذبہ پیدا کیا ہے سپاہ قدس نے شام، لبنان، فلسطین اور عراق میں دشمن کو شکست دینے کے سلسلے میں مقامی حکومتوں اور مسلمانوں کی بھر پور مدد کی اور دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا اور دشمن کے پروردہ اور حمایت یافتہ دہشت گردوں کو عراق اور شام میں شکست سے دوچار کردیا۔

انھوں نے کہا کہ دشمن نے شہید قاسم سلیمانی کو شہید کرکے اپنے لئے شدید خطرہ مول لیا ہے۔ شہید قاسم سلیمانی کے خون کا سخت انتقام لیا جائےگا۔

 تحریکِ بیداریِ اُمت مصطفیٰ کے زیراہتمام جامعہ عروۃ الوثقیٰ لاہور میں حجة الاسلام و المسلمین علامہ سید جواد نقوی کی زیرصدارت گول میز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں وحدتِ اُمت اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور پاکستان کیخلاف ہونیوالی مختلف سازشوں کا جائزہ اور ان کے تدارک کیلئے ایک لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔ علامہ سید جواد نقوی نے موجودہ حالات کے تناظر میں وحدت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مفتی اعظم محمد شفیع عثمانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو تفرقہ پھیلاتا ہے، وہ یا تو احمق ہے یا خائن اور اسی طرح امام خمینی رہ کے حوالے سے کہا کہ ان کے نزدیک تفرقہ پھیلانے والا نہ شیعہ ہے نہ سنی بلکہ استعمار کا ایجنٹ ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر مذہبی امور کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی عورت عائشہ کے نام سے شیعہ اور سنی دونوں کو مشتعل کرنے والے پوسٹ شیئر کرتی ہے اور مختلف آگاہ افراد کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ دشمن ملک میں کئی طرح کے فسادات کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسے میں ہماری ذمہ داری میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ قرآن و سنت کا حکم بھی ہے۔

کانفرنس میں مولانا محمد خان شیرانی سابق سربراہ اسلامی نظریاتی کونسل، علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری امیر متحدہ جمعیت اہلحدیث پاکستان، لیاقت بلوچ نائب امیر جماعت اسلامی، مفتی گلزار نعیمی جامعہ نعیمیہ اسلام آباد، پیر ہارون گیلانی درگاہ حضرت میاں میر، چراغ علی شاہ جمعیت علماء اسلام (ف)، مولانا شاہد نقوی جامعہ نرجسیہ، ڈاکٹر عبدالغفور راشد مرکزی جمعیت اہلحدیث ساجد میر گروپ سمیت دیگر علماء و مشائخ نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی سازشیں کر رہا ہے، توہین اہلبیت اطہار علیہم السلام و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کرنیوالے مجرموں کو سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتشار پیدا کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا، ہندوستانی خفیہ ایجنسی را پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد پیدا کرنے کی سازشیں کر رہی ہے، عوام الناس انتشار پھیلانے والوں کیخلاف قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی مدد کریں۔

انہوں نے کہا کہ قومی بیانیہ پیغام پاکستان کو پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے اور اسے قانونی شکل دی جائے، تاکہ آئندہ کسی قسم کے فرقہ وارانہ واقعات کی روک تھام ہوسکے، تمام مسالک کے علماء اور قائدین فساد اور فرقہ واریت پھیلانے والوں سے مکمل لاتعلقی اور بیزاری کا اعلان کریں۔ رہنماوں کا کہنا تھا کہ اسلام کی مقدس شخصیات کی عزت و ناموس ہمیں اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے، ان تمام ہستیوں کا تقدس و تحفظ ہمارا ایمان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج اور عوام کی قربانیوں سے ملک میں امن قائم ہوا ہے، بعض عناصر ملک میں انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد پھیلانا چاہتے ہیں، ملک دشمن عناصر اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی پر قابو پانے اور جڑ سے اکھاڑنے میں سکیورٹی فورسز کا کردار قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے قوم کا ہر فرد پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی کارکردگی نے ملک دشمن عناصر اور بھارت کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشتگردی کا مزید کھیل نہیں کھیل سکتے، پاکستان میں دہشتگردی قتل و غارت گری کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وطن کی سلامتی و بقاء کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں، وطن دشمنوں کیلئے ارض پاک کو تنگ کر دینگے۔ رہنماوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی پر کسی صورت آنچ نہیں آنے دیں گے، مذہبی قوتیں پاکستان کی محبت کو ایمان کا حصہ سمجھتی ہیں۔

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مباہلہ کا لغوی معنی ایک دوسرے پر لعن و نفرین کرنے کے ہیں۔۱۔ جبکہ اصطلاح میں مباہلہ سے مراد دو افراد یا دو گروہ جو اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے مقابلے میں بارگاہ الہیٰ میں دعا اور نفرین کرتے ہیں کہ خداوند متعال جھوٹے پر لعنت کرے اور جو باطل پر ہے، اس پر اللہ کا غضب نازل ہو، تاکہ جو حق پر ہے اسے پہچانا جائے۔۲۔ مباہلہ ایک مشہور واقعہ ہے، جسے سیرت ابن اسحاق اور تفسیر ابن کثیر میں تفصیل سے لکھا گیا ہے۔ فتح مکہ کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجراں کے نصاریٰ کی طرف خط لکھا، جس میں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ جس میں یہ تین چیزیں شامل  تھیں۔ اسلام قبول کرو یا جزیہ ادا کرو یا جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ نصاریٰ نجراں نے اس مسئلہ پر کافی غور و فکر کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ساٹھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو حقیقت کو سمجھنے اور جاننے کے لئے مدینہ روانہ ہو۔ نجران کا یہ قافلہ بڑی شان و شوکت اور فاخرانہ لباس پہنے مدینہ منورہ میں داخل ہوتا ہے۔ میر کارواں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کا پتہ پوچھتا ہے، معلوم ہوا کہ پیغمبر اپنی مسجد میں تشریف فرما ہیں۔

کارواں مسجد میں داخل ہوتا ہے، پیغمبر نے نجران سے آئے افراد کی نسبت بے رخی ظاہر کی، جو کہ ہر ایک کیلئے سوال بر انگیز ثابت ہوئی۔! آخر کیوں، ہمیشہ کی طرح اس بار بھی حضرت علی علیہ السلام نے اس مشکل کو حل کر دیا۔ آپ نے عیسائیوں سے کہا کہ آپ تجملات اور سونے جواہرات کے بغیر، عادی لباس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جائیں، آپکا استقبال ہوگا۔ اب کارواں عادی لباس میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور انہیں اپنے پاس بٹھایا۔ میر کارواں ابو حارثہ نے گفتگو شروع کی: آنحضرت کا خط موصول ہوا، مشتاقانہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، تاکہ آپ سے گفتگو کریں۔ آپ نے فرمایا: شرک اور الحاد کو چھوڑ کر خدای واحد کے فرمان کو قبول کرکے دین اسلام کو قبول کریں۔ نصاریٰ نجران نے کہا: اگر آپ اسلام قبول کرنے کو ایک خدا پر ایمان لانے کو کہتے ہو تو ہم پہلے سے ہی خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔

آپ نے فرمایا: اگر آپ حقیقت میں خدا پر ایمان رکھتے ہو تو عیسیٰ مسیح کو کیوں خدا مانتے ہو اور سور کا گوشت کھانے سے کیوں اجتناب نہیں کرتے؟ انہوں نے جواب دیا: اس کے بارے میں ہمارے پاس بہت سارے دلائل ہیں؛ عیسیٰ مردوں کو زندہ کرتے تھے، اندھوں کو بینائی عطا کرتے تھے، جذام اور برص میں مبتلا مریضوں کو شفا بخشتے تھے۔ آپ نے فرمایا: خدائے واحد نے انہیں ان اعزازات سے نوازا تھا، اس لئے عیسیٰ مسیح کی عبادت کرنے کے بجائے  خدا کی عبادت کرنی چاہئئے۔ پادری یہ جواب سن کر خاموش ہوا اور اس دوراں کارواں میں شریک کسی اور نے اس خاموشی کو توڑتے ہوا کہا: عیسیٰ خدا کا بیٹا ہے، کیونکہ ان کی والدہ مریم نے کسی کے ساتھ نکاح کئے بغیر انہیں جنم دیا ہے۔ اس دوران اللہ نے اپنے حبیب کو اس کا جواب وحی فرمایا: "إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثِمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ"۔۳۔ "عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا اور پھر کہا ہو جا اور وہ ہوگیا۔"

اس جواب کے بعد خاموشی چھا گئی اور سب بڑے پادری کو دیکھتے رہے اور وہ خود شرحبیل کے کچھ کہنے کے انتظار میں ہے اور خود شرحبیل خاموش سر جھکائے بیٹھا ہے۔ آخرکار اس رسوائی سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے بہانہ بازی پر اتر آئے اور کہنے لگے کہ ان باتوں سے ہم مطمئن نہیں ہوئے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ سچ کو ثابت کرنے کے لئے مباہلہ کیا جائے۔ خدا کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہو کر جھوٹے پر عذاب کی درخواست کریں۔ ان کا خیال تھا کہ ان باتوں سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ اتفاق نہیں کریں گے، لیکن ان کے ہوش آڑ گئے جب انہوں نے سن لیا: "فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ"۔۴۔ "پیغمبر علم کے آجانے کے بعد جو لوگ آپ سے کٹ حجتی کریں، ان سے کہہ دیجئے کہ آو ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔"

روایات کے مطابق جب مباہلہ کی دعوت دی گئی تو نجران کے عیسائیوں کے نمائندے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے مہلت چاہی، تاکہ اس بارے میں اپنے بزرگوں سے مشورہ کر لیں۔ عیسائیوں کے مابین یہ طے پایا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شور و غل، مجمع اور داد و فریاد کے ساتھ مباہلہ کے لیے آئیں تو ڈرا نہ جائے اور مباہلہ کر لیا جائےو کیونکہ اگر اس طرح آئیں تو پھر حقیقت کچھ بھی نہیں ہے اور اگر وہ بہت محدود افراد کے ساتھ آئیںو بہت قریبی خواص اور چھوٹے بچوں کو لے کر وعدہ گاہ میں پہنچیں تو پھر جان لینا چاہیئے کہ وہ خدا کے پیغمبر ہیں اور اس صورت میں ان سے مباہلہ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیئے، کیونکہ اس صورت میں معاملہ خطرناک ثابت ہوگا۔

روز مباہلہ کی صبح کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے گھر تشریف لے گئے، امام حسن علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ لیا اور امام حسین علیہ السلام کو گود میں اٹھایا اور حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ہمراہ مباہلے کی غرض سے مدینہ سے باہر نکلے۔ جب نصاریٰ نے ان بزرگواروں کو دیکھا تو ان کے سربراہ ابو حارثہ نے پوچھا: یہ لوگ کون ہیں، جو محمد (ص) کے ساتھ آئے ہیں۔؟ جواب ملا کہ: وہ جو ان کے آگے آگے آرہے ہیں، ان کے چچا زاد بھائی، ان کی بیٹی کے شریک حیات اور مخلوقات میں ان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں، وہ دو بچے ان کے فرزند ہیں، ان کی بیٹی سے اور وہ خاتون ان کی بیٹی فاطمہ ہیں، جو خلق خدا میں ان کے لیے سب سے زیادہ عزیز ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مباہلے کے لیے دو زانو بیٹھ گئے۔

ابو حارثہ نے کہا: خدا کی قسم! محمد (ص) کچھ اس انداز میں زمین پر بیٹھے ہیں، جس طرح کہ انبیاء علیہم السلام مباہلے کے لیے بیٹھا کرتے تھے اور پھر پلٹ گیا۔ عیسائی افراد نے پوچھا: کہاں جا رہے ہو۔؟ ابو حارثہ نے کہا: اگر محمد (ص) برحق نہ ہوتے تو اس طرح مباہلے کی جرات نہ کرتے اور اگر وہ ہمارے ساتھ مباہلہ کریں تو ایک سال گزرنے سے پہلے پہلے ایک نصرانی بھی روئے زمین پر باقی نہ رہے گا۔ ایک  اور روایت میں بیان ہوا ہے کہ: ابو حارثہ نے کہا: میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر وہ خدا سے التجا کریں کہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے اکھاڑ دے تو بےشک وہ اکھاڑ دیا جائے گا۔ پس مباہلہ مت کرو، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے اور حتیٰ ایک عیسائی بھی روئے زمین پر باقی نہ رہے گا۔

اس کے بعد ابو حارثہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے ابا القاسم! ہمارے ساتھ مباہلے سے چشم پوشی کریں اور ہمارے ساتھ مصالحت کریں، ہم ہر وہ چیز ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، جو ہم ادا کر سکیں۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ مصالحت کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں ہر سال دو ہزار حلے (یا لباس) دینے پڑیں گے اور ہر حلے کی قیمت 40 درہم ہونی چاہیئے، نیز اگر یمن کے ساتھ جنگ چھڑ جائے تو انہیں 30 زرہیں، 30 نیزے، 30 گھوڑے مسلمانوں کو عاریتاً دینا پڑیں گے اور آپ (ص) خود اس ساز و سامان کی واپسی کے ضامن ہونگے۔ اس طرح آنحضرت (ص) نے صلحنامہ لکھوایا اور عیسائی نجران پلٹ کر چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا: اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ ہلاکت اور تباہی نجران والوں کے قریب پہنچ چکی تھی۔ اگر وہ میرے ساتھ مباہلہ کرتے تو بے شک سب بندروں اور خنزیروں میں بدل کر مسخ ہو جاتے اور بے شک یہ پوری وادی ان کے لیے آگ کے شعلوں میں بدل جاتی اور حتیٰ کہ ان کے درختوں کے اوپر کوئی پرندہ باقی نہ رہتا اور تمام عیسائی ایک سال کے عرصے میں ہلاک ہو جاتے۔۵۔

شیعہ، سنی مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نجران کے نصاریٰ کے مناظرے کی طرف اشارہ کرتی ہے، کیونکہ نصاریٰ (عیسائیوں) کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسی (ع) تین اقانیم میں سے ایک اقنوم ہے، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآن کریم کے بیان سے متفق نہیں تھے، جو انہیں خدا کا پارسا بندہ اور نبی سمجھتا ہے۔۶۔ اہل سنت کے مفسرین جیسے: زمخشری، نے اپنی کتاب تفسیر الکشاف، اور فخر رازی نے اپنی تفسیر التفسیر الکبیر اور بیضاوی نے اپنی تفسیرالبیضاوی میں اور دیگر مفسرین کے مطابق  ابناءنا (ہمارے بیٹوں) سے مراد امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام ہیں اور "نسا‏‏ءنا " سے مراد  حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام اور "انفسنا" ہمارے نفس اور ہماری جانوں سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں۔

یعنی وہ چار افراد جو آنحضرت (ص) کے ساتھ مل کر پنجتن آل عبا یا اصحاب کساء کو تشکیل دیتے ہیں اور اس آیت کے علاوہ بھی زمخشری اور فخر رازی کے مطابق آیت تطہیر اس آیت کے بعد ان کی تعظیم اور ان کی طہارت پر تصریح و تاکید کے لیے نازل ہوئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً۔۷۔ "بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور  اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔" تاریخ میں متعدد بار اہل بیت علیہم السلام کی حقانیت کے اثبات کے لیے واقعہ مباہلہ سے استناد و استدلال کیا گیا ہے اور اس واقعے سے استدلال امیر المؤمنین علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام اور باقی آئمہ معصومین علیہم السلام کے کلام میں ملتے ہیں۔ ہارون عباسی نے امام کاظم علیہ السلام سے کہا: آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ ہم رسول خدا کی نسل سے ہیں، حالانکہ رسول خدا کی کوئی نسل نہیں ہے، کیونکہ نسل بیٹے سے چلتی ہے نہ کہ بیٹی سے، اور آپ رسول خدا (ص) کی بیٹی کے اولاد ہیں۔؟

امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا: وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ كُلاًّ هَدَيْنَا وَنُوحاً هَدَيْنَا مِن قَبْلُ وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى وَهَارُونَ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۔ وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ"۔۸۔ "اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق و یعقوب دیئے اور سب کو ہدایت بھی دی اور اس کے پہلے نوح کو ہدایت دی اور پھر ابراہیم کی اولاد میں داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون قرار دیئے اور ہم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں اور زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس کو بھی رکھا، جو سب کے سب نیک کرداروں میں تھے۔" حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون ہے۔؟ ہارون نے کہا: ان کا کوئی باپ نہیں۔؟ امام (ع) نے فرمایا: پس خداوند متعال نے مریم سلام اللہ علیہا کے ذریعے انہیں انبیاء کی نسل سے ملحق فرمایا ہے اور ہمیں بھی ہماری والدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل سے ملحق فرمایا ہے۔

امام نے فرمایا: اور جواب دوں۔؟ ہارون نے کہا: ہاں بولیں، چنانچہ امام علیہ السلام نے آیت مباہلہ کی تلاوت فرمائی اور فرمایا: کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصاریٰ نجران کے ساتھ مباہلہ کے لیے علی بن ابی طالب، فاطمہ اور حسن و حسین، کے سوا کسی اور کو کساء کے نیچے جگہ دی ہے! پس آیت میں ہمارے بیٹوں "ابنائنا" سے مراد حسن و حسین، ہماری خواتین "نسائنا" سے مراد فاطمہ اور ہماری جانوں "انفسنا" سے مراد علی بن ابی طالب ہیں۔۹۔ پس خداوند نے آیت مباہلہ میں امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے قرار دیا ہے اور یہ واضح ترین ثبوت ہے، اس بات کا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام اور دیگر اہل بیت علیہم السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل اور ذریت ہیں۔

مامون عباسی نے امام رضا علیہ السلام سے کہا: امیر المؤمنین (ع) کی عظیم ترین فضیلت جس کی دلیل قرآن میں موجود ہے، کیا ہے۔؟ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: امیر المؤمنین علیہ السلام کی فضیلت مباہلہ میں اور پھر آیت مباہلہ کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا:رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام حسن علیہ السلام اور امام حسین  علیہ السلام، جو آپ کے بیٹے ہیں، کو بلوایا اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بلوایا جو آیت میں "نسائنا" کا مصداق ہیں اور امیر المؤمنین علیہ السلام کو بلوایا جو اللہ کے حکم کے مطابق "انفسنا" کا مصداق اور نفس رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی جان ہیں اور یہ ثابت ہے کہ کوئی بھی مخلوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات با برکت سے زیادہ جلیل القدر اور افضل نہیں ہے، پس کسی کو بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفس و جان سے بہتر نہیں ہونا چاہیے۔

مامون نے کہا: خداوند نے "ابناء" کو صیغہ جمع کے ساتھ بیان کیا ہے، جبکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف اپنے دو بیٹوں کو ساتھ لائے ہیں، "نساء" بھی جمع ہے، جبکہ آنحضرت صرف اپنی ایک بیٹی کو لائے ہیں، پس یہ کیوں نہ کہیں کہ "انفس" کو بلوانے سے مراد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ذات ہے اور اس صورت میں جو فضیلت آپ نے امیر المؤمنین (ع) کے لیے بیان کی ہے، وہ خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ امام رضا علیہ السلام نے جواب دیا: نہیں، یہ درست نہیں ہے، کیونکہ دعوت دینے والا اور بلانے والا اپنی ذات کو نہیں، بلکہ دوسروں کو بلاتا ہے، آمر کی طرح جو اپنے آپ کو نہیں بلکہ دوسروں کو حکم دیتا ہے اور چونکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مباہلہ کے وقت علی بن ابی طالب علیہ السلام  کے سوا کسی اور مرد کو نہیں بلوایا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ علی علیہ السلام وہی نفس ہیں، جو کتاب اللہ میں اللہ کا مقصود و مطلوب ہے اور اس کے حکم کو خدا نے قرآن میں قرار دیا ہے۔۱۰۔

عامر ابن سعد ابن ابی وقاص سعد ابن ابی وقاص سے نقل کرتا ہے کہ: معاویہ نے سعد سے کہا: تم علی پر سب و شتم کیوں نہیں کرتے ہو۔؟ سعد نے کہا: جب تک مجھے تین چیزیں یاد ہیں، میں کبھی بھی ان پر سبّ و شتم نہیں کروں گا اور اگر ان تین باتوں میں سے ایک کا تعلق مجھ سے ہوتا تو میں اس کو سرخ بالوں والے اونٹوں سے زیادہ دوست رکھتا، بعد ازاں سعد ان تین باتوں کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ: اور تیسری بات یہ تھی کہ جب آیت: فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ...نازل ہوئی، تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین علیہم السلام کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: اللهم هؤلاء اهل بيتي، یعنی خداوندا! یہ میرے اہل بیت ہیں۔۱۱۔

حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اصحاب میں سب سے افضل کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ابوبکر، عمر، عثمان، طلحہ اور زبیر۔ ان سے دوبارہ سوال ہوا پھر علی ابن ابی طالب کس درجہ پر فائز ہیں۔؟ انہوں نے جواب دیا: تم لوگوں نے اصحاب کے بارے میں سوال کیا تھا، نہ اس شخص کے بارے میں جو نفس پیغمبر تھے۔ اس کے بعد آیت مباہلہ کی تلاوت کی، اس کے بعد کہا: پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اصحاب کس طرح اس شخص کی مانند ہوسکتے ہیں، جو نفس پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔۱۲۔ اسی طرح احمد ابن حنبل کے بیٹے عبداللہ نے اپنے باپ سے پوچھا خلفاء کی افضلیت کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے۔؟ انہوں نے جواب دیا: ابو بکر، عمر اور عثمان اسی ترتیب کے ساتھ افضلیت رکھتے ہیں۔ عبداللہ نے دوبارہ پوچھا پھر علی ابن ابی طالب علیہ السلام کس درجے پر فائز ہیں۔؟ انہوں نے جواب دیا کہ اے بیٹے: علی ابن ابی طالب کا تعلق ایسے خاندان سے ہے کہ کسی کو ان کے ساتھ مقایسہ نہیں کیا جا سکتا۔۱۳۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ الجوہری، اسمعیل بن حماد، الصحاح، 1407
۲۔ طبرسی، تفسیر مجمع البیان، ج2، ص 762 تا 761
۳۔ آل عمران ۵۹
۴۔ سورہ آل عمران۶۱
۵۔ الطبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، 1415، ج 2، ص 310
۶۔ توضیحات و واژه نامه از بهاءالدین خرمشاهی، 1376.ذیل آیه مباهله، ص 57
۷۔ احزاب، 33
۸۔انعام،۸۴۔۸۵۔
۹۔ الطباطبائی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ص۲۲۹-۲۳۰۔
۱۰۔ المفید، الفصول المختاره، التحقیق: السید میر علی شریفی، بیروت: دار المفید، الطعبة الثانیة، 1414، ص 38۔
۱۱۔ الطباطبائی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ذیل آیت 61 آل عمران۔
۱۲۔ البیہقی، المحاسن ج1 ص 39، الامام الصادق و المذاہب الاربعۃ، ج1، ص 574۔
۱۳۔ طبقات الحنابلۃ، ج2، ص 120 الامام الصادق و المذاہب الاربعۃ، ج1، ص 575۔