رمضان المبارک ، اخلاقی فضائل سے مزین ہونے کا مہینہ

Rate this item
(0 votes)

رمضان المبارک ، اخلاقی فضائل سے مزین ہونے کا مہینہ

رمضان المبارک کی مثال اس مقام کی سی ہے جہاں انسان تھوڑی دیر کے لۓ رک کر ماضی اور مستقبل کے واقعات کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے۔ اس مہینے کے دن خدا تعالی کی اطاعت کی لذت سے لبریز ہوتے ہیں اور اس کی راتیں خداۓ مہربان کی عبادت اور اس سے دعائيں مانگنے کے عطر سے معطر ہوتی ہیں۔ رمضان المبارک کے مہینے نے ہمیں سکھایا ہے کہ روحانیت اور ایمان سے مالامال زندگي شیریں اور دلچسپ ہوتی ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں ہم پاکیزہ ماحول میں سانس لیتے ہیں۔ اس ماحول میں زندگی گزارنا بہت سے مثبت اثرات اور برکات کا حامل ہے۔ سحر کے نورانی لمحات ، افطار کے لطیف اور دلربا اوقات ، شبہاۓ قدر کی خلوص بھری عبادتیں ، ناداروں کی مدد اور ان کے ساتھ محبت کا سلوک اور دوسروں کو معاف کرنے کی لذت یہ تمام وہ معنوی امور ہیں جو ہم کو اس بابرکت مہینے میں میسر ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک ایک بڑی تبدیلی کے لۓ ایک سنہری موقع ہے۔ یہ مہینہ اخلاقی فضائل سے مزین ہونے اور برائیوں کو اپنے آپ سے دور کرنے کی مشق کا مہینہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم نے اس مہینے کی جو برکات حاصل کی ہیں ان سے زندگي کے دوسرے ایام میں کس طرح استفادہ کرتے ہیں۔ رمضان المبارک میں ہم پر خدا تعالی کی رحمت کی بارش ہوتی ہے۔ فرشتے زمین پر خدا تعالی کا دسترخوان بچھاتے ہیں ۔ ہم چاہیے کہ اس مہینے میں خدا تعالی کے ساتھ اپنی محبت کا زیادہ مظاہرہ کریں اور اپنی روز مرہ کی عادتوں میں تبدیلیاں لائيں ۔ ہم نہیں جانتے کہ ہمیں دوبارہ ماہ رمضان نصیب ہوگا یا نہیں ؟ ہم خدا تعالی کی بارگاہ میں استدعا کرتے ہیں کہ وہ اس مبارک مہینے کو ہماری زندگي کا آخری ماہ رمضان قرار نہ دے ۔ اور آئندہ برسوں میں بھی رمضان کے روزوں اور دوسری عبادات کی لذت ہمیں نصیب ہو۔

حضرت موسی ع نے ایک دن کوہ طور پر خدا تعالی سے مناجات کرتے ہوۓ کہا : اس سارے جہانوں کے معبود ۔

خدا تعالی نے جواب میں فرمایا : موسی میں نے تیری دعا قبول کی ۔

اس کے بعد حضرت موسی ع نے ایک اور صفت کے ساتھ خدا تعالی کی تعریف کرتے ہوۓ کہا : اے اطاعت گزاروں کے معبود ۔

اس کے بعد بھی حضرت موسی کی بات الہی اجابت سے سرفراز ہوئي ۔

خدا تعالی کی جانب سے محبت آمیز جوابات سن کر حضرت موسی ع پر وجد کی سی کیفیت طاری ہوگئي۔ اور انہوں نے زیادہ شوق و اشتیاق کے ساتھ اپنے ہاتھ خدا تعالی کی بارگاہ میں بلند کردیۓ اور عرض کیا: اے گناہ گاروں کے معبود ۔ اس جملے کا جواب خدا تعالی نے تین مرتبہ دیا ۔ جس کے بعد حضرت موسی ع نے خدا تعالی سے عرض کیا بار الہا میرے اس جملے کا جواب تین مرتبہ دینے میں کیا حکمت ہے؟ تو خدا نے جواب دیا: اے موسی عرفاء کو اپنی معرفت کا آسرا ہے۔ نیک لوگوں نے اپنے نیک اعمال سے آس لگا رکھی ہے ۔ اطاعت گزار اپنی اطاعت سے توقع لگاۓ بیٹھے ہیں۔ لیکن گناہ گاروں کے پاس میرے کرم کے سوا کوئي پناہ گاہ نہیں ہے۔ میری بارگاہ سے ناامید ہو کر وہ کس کی پناہ حاصل کرسکتے ہیں؟ رمضان کا اختتام اپنے اندر ایک اور پیغام کا بھی حامل ہے۔ جس طرح رمضان کا بابرکت مہینہ پلک جھپکتے گزر گیا ہے ویسے ہی ہماری زندگی کے روز و شب بھی بادل کی طرح تیزی سےگزرتے جارہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ انسان کی زندگی کام و کوشش اور محنت کے لۓ ایک موقع ہے ۔ بعض افراد طویل عمر پاتے ہیں اور بعض قلیل۔ لیکن طویل عمر یا قلیل عمر کسی بھی شخص کی کامیابی یا ناکامی کی دلیل نہیں ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ زندگی کے مقصد سے عبارت ہے۔ اگرچہ طویل عمر کی خواہش ہر کسی کے دل میں ہوتی ہے لیکن اگر ہم زندگی کو بے کار امور میں گزار دیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے زندگی سے صحیح فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔ انسان زندگی کے راستے پر ہمیشہ دو نفسانی اور الہی کششوں کے درمیان چلتا ہے ۔ نفسانی کشش انسان کو کجی اور انحراف کی دعوت دیتی ہے جبکہ الہی کشش ہمیں حیوانی رجحانات ترک کرنے اور نفس کی بے لگام خواہشات کا مقابلہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ صراط مستقیم پر چلنے کے لۓ ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو اچھی صفات سے مزین کریں ۔ اگر ہم انسانی وجود کو ایک کھیتی سے تشبیہ دیں تو تہذیب نفس کی مثال فصل کو نقصان پہنچانے والے پودوں اور جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ پھینکنے کی سی ہوگی ۔ انسان کو ہر چیز سے پہلے برائیوں سے دوری اختیار کرنی چاہۓ تاکہ خدا تعالی کی برکتوں کا اہل بن سکے ۔ در حقیقت انسان اس زمین کی مانند ہے جس کو دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے اور اس دھوپ سے وہ توانائي حاصل کرتی ہے۔ اسی طرح انسان کے لۓ بھی ضروری ہے کہ ہمیشہ اس پر معرفت الہی کا نور پڑتا رہے تاکہ اس نور سے وہ زندگی پاتا رہے اور انحراف و گمراہی سے محفوظ رہے ۔ جو افراد کشش الہی کے زیر اثر ہوتے ہیں وہ بڑی فراست اور دانائي ساتھ عمر کے سرماۓ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایسے انسانوں کی نگاہ اس دنیا تک محدود نہیں رہتی ہے ۔ ان کے نزدیک تمام مہینے رمضان کی طرح گرانقدر ہوتے ہیں۔ اور وہ ان کو اپنے کمال کا سنہری موقع جانتے ہیں۔ حضرت امام سجاد ع نے فرمایا ہےکہ زندگی اس وقت سود مند ہوتی ہے جب وہ تخلیق کے مقصد سے ہم آہنگ ہو اور انسان کی رہنمائی بھلائي اور نیکی کی جانب کرے۔ حضرت امام سجاد ع دعاے مکارم اخلاق میں خدا تعالی سے ایک اچھی زندگی کی دعا کرتے ہوۓ عرض کرتے ہیں:

" خدایا اگر میری عمر تیری اطاعت میں گزرے تو اسے طولانی کردے۔ لیکن اگر وہ شیطان کی چراگاہ قرار پاۓ تو مجھ پر غضبناک ہونے سے پہلے ہی میری جان لے لے "

Read 1564 times

Add comment


Security code
Refresh