Super User

Super User

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے بدھ کے روز کہا کہ نو بچوں سمیت کم از کم اکیس افراد منگل کے روز ایک کشتی الٹنے سے غرق ہو گئے۔ اس کشتی پر ساٹھ افراد سوار تھے جو مقامی بازار سے خریداری کرنے کے لیے جا رہے تھے کہ سمندر کی متلاطم لہروں کی وجہ سے ان کی کشتی الٹ گئی۔

میانمار کے مغربی صوبے راخین میں بے گھر مسلمانوں کے لیے عارضی کیمپ بنائے گئے ہیں کہ جہاں وہ بدترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ میانمار کے روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف دو ہزار بارہ سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور انتہا پسند بدھسٹ اب تک سینکڑوں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر چکے ہیں۔ جبکہ دسیوں ہزار بے گھر ہوئے ہیں۔

میانمار کی حکومت اس ملک میں رہنے والے مسلمانوں کو شہریت دینے سے گریز کر رہی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ یہ مسلمان غیرقانونی مہاجرین ہیں کہ جو بنگلہ دیش سے میانمار میں آئے ہیں۔

دوسری جانب روہنگیائی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ یہاں کے مقامی باشندے ہیں اور صدیوں سے اس ملک میں رہ رہے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ملک کے میزائل پروگرام کے تعلق سے مغرب کے نئے مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کئے جانے کی بابت خبردار کیا ہے۔ آپ نے تہران میں طلبا کے بڑے اجتماع سے خطاب میں فرمایا کہ اگر ہم نے اس مسئلے میں کوئی نرمی دکھائی تو وہ بائیوٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی اور دیگر سائنسی پیشرفت میں بھی رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں گے۔

طلبا کی اسلامی انجمنوں کے اراکین کی بڑی تعداد نے بدھ کو رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں طلبا سے فرمایا کہ رجب کے مہینے سے اپنی روحانی تقویت کے لئے فائدہ اٹھائیں ۔ آپ نے فرمایا کہ رجب، شعبان اور رمضان کے مہینے روحانیت اور معنویت کی بہار کے مہینے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ بھی اپنی عمر کی بہار کے دور میں ہیں، اس بہار معنویت و روحانیت سے فائدہ اٹھائیں، ذکر و یاد خدا، دعاؤں اور تلاوت قرآن کریم سے استفادہ کریں، اول وقت نماز کی پابندی کریں، گناہوں سے پرہیز کریں اور اچھے صفات سے خود کو آراستہ کریں۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے طلبا سے اپنے اس خطاب میں فرمایا کہ نوجوانوں کے مسئلے میں اسلامی جمہوریہ ایران سے امریکا اور صیہونی حکومت کی ایک ہمہ گیر خاموش جنگ جاری ہے۔ آپ نے فرمایا کہ امریکی چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان شجاعت، جوش و ولولے، امید اور جسمانی نیز فکری توانائی سے عاری رہیں، دشمنوں کے سلسلے میں خوش فہمی کا شکار اور اپنوں سے بدگمان رہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ ایران سے سامراجی طاقتوں کی دشمنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایران کے مقابلے میں سامراجی طاقتوں کی صف آرائی کا ایک بنیادی محرک یہ تھا کہ انھوں نے دیکھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کسی دوسرے ملک پر انحصار کئے بغیر ایٹمی توانائی کے انتہا ئی حساس میدان میں اپنی جگہ بنالی اور اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر ہم نے میزائلی پروگرام کے سلسلے میں ان کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے تو وہ کل بائیو ٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی اور دیگر سائنسی شعبوں میں بھی ہماری پیشرفت پر اعتراض کرنا شروع کر دیں گے۔

آپ نے حزب اللہ کے خلاف سامراجی طاقتوں کی ہنگامہ آرائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انھوں نے حزب اللہ کے خلاف کیسی کیسی تشہیراتی مہم شروع کر رکھی ہے اور کس طرح کے وہ عملی اقدامات انجام دے رہی ہیں لیکن اسلامی دنیا میں حزب اللہ پورے وقار کے ساتھ موجود ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ اندر سے کھوکھلی، بدعنوان اور سامراجی طاقتوں سے وابستہ ایک حکومت نے ایک بیان جاری کر کے حزب اللہ کی مذمت کی ہے، اس کی اہمیت کیا ہے؟

آپ نے فرمایا کہ حزب اللہ اور اس کے اراکین خورشید کی مانند ضو فشاں اور اسلامی دنیا کے لئے باعث افتخار ہیں۔ انہوں نے لبنان پر مسلط کی گئی تینتیس روزہ جنگ میں حزب اللہ سے صیہونی حکومت کی شکست اور حزب اللہ کی اس کامیابی کا صیہونی حکومت کے مقابلے میں تین عرب ملکوں کی طاقتور فوجوں کی شکست سے موازنہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حزب اللہ اور اس کے مومن جوان عالم اسلام کے لئے عزت و افتخار کا باعث ہیں-

رہبرانقلاب اسلامی نے مغربی ایشیا اور دنیا میں ایران کی مقتدر انداز میں موجودگی، مسئلہ فلسطین، مزاحمتی تحریکوں اور ایرانی اسلامی طرز زندگی کے موضوعات کو اسلامی نظام سے سامراجی محاذ کے اختلافات کی وجوہات میں سے قرار دیا اور فرمایا کہ اگر کسی ملک میں مغربی طرز زندگی رواج پا جائے تو اس معاشرے کے دانشور اور تعلیم یافتہ لوگ سامراجی پالیسیوں کے مقابلے میں گھٹنے ٹیک دینے والے افراد میں تبدیل ہو جائیں گے- آپ نے فرمایا کہ کبھی کبھی ہمیں جنگ اور ہم پر بمباری کرنے کی بھی دھمکیاں دی جاتی ہیں مگر یہ سب ہرزہ سرائی ہے کیونکہ ان لوگوں میں ایسا کرنے کی ہمت اور جرائت نہیں ہے اور اگر کبھی ایسا کیا بھی تو انھیں منہ توڑ جواب دیا جائے گا-

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ سینتیس سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی سامراجی محاذ اسلامی جمہوریہ ایران کو ختم نہیں کر سکا اور نہ ہی علاقے میں اس کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اثر و رسوخ کو روک سکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تہران کے مرکزی نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ موحدی کرمانی نے ایران کے ضبط شدہ اثاثوں کے بارے میں امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔

تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ اس اقدام سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اپنے وعدوں کی تکمیل میں سنجیدہ نہیں ہے اور اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے ایران کی وزارت خارجہ پر زور دیا کہ وہ مغربی ملکوں کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایرانی عوام کے حقوق کی بالادستی کے لئے اپنی پوری توانائیاں بروئے کار لائے۔

آیت اللہ موحدی کرمانی نے ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں مغربی ملکوں اور امریکہ کے شور شرابے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے انبار لگانے والے ممالک، ایران کے دفاعی منصوبوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے فراہم کردہ جدید ترین ہتھیاروں سے لیس سعودی فوجی، یمن میں بے گناہ عورتوں اور بچوں کا خون بہانے میں مصروف ہیں۔

تہران کے خطیب جمعہ نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکی دباؤ کے سامنے ہرگز سرتسلیم خم نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے میزائل پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے ہر قسم کی دھمکیوں اور پابندیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق پانچ ہزار سے زائد علماء و مشائخ نے انتہا پسندی، فرقہ واریت، کرپشن کے خاتمے اور آپریشن ضرب عضب، نیشنل ایکشن پلان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ داعش اور القاعدہ کا طرز عمل خلاف اسلام او ر خود کش حملے حرام ہیں۔ دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک پاک فوج کا ساتھ دیں گے، انسداد توہین رسالت کیلئے عالمی سطح پر مؤثر قانون سازی کی جائے، کرپشن کے خاتمے کیلئے آرمی چیف کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں، نفاذ نظام مصطفی کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے لانے کیلئے تحریک امن و محبت چلائی جائے گی۔ تمام مذاہب کی مقدس شخصیات کی توہین کو سنگین ترین جرم قرار دیا جائے۔ اس بات کا اعلان انٹرنیشنل مسلم موومنٹ کے زیر اہتمام ایوانِ اقبال لاہور میں منعقدہ عالمی پیغام مصطفی کانفرنس میں دنیا بھر سے شریک علماء و مشائخ نے اپنے مشترکہ اعلامیہ میں کیا ہے۔ کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ برطانیہ، امریکہ، ناروے، ہالینڈ اور دوسرے ممالک سے علماء و مشائخ نے شرکت کی۔

کانفرنس کی صدارت انٹرنیشنل مسلم موومنٹ کے سربراہ اور مرکزی جماعت اہلسنّت برطانیہ کے سرپرست اعلی پیر سید عبد القادر شاہ جیلانی نے کی جبکہ مقررین میں سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ محمد حامد رضا، پیر سید مظہر حسین شاہ گیلانی، پاکستان مشائخ کونسل کے چیئرمین پیر سید منور حسین شاہ جماعتی، جماعت اہلسنّت پنجاب کے صدر مفتی محمد اقبال چشتی، پیر سید صابر حسین شاہ گیلانی، پیر سید علی امام شاہ جیلانی، پیر سید مبارک علی شاہ جیلانی، علامہ ڈاکٹر محمد آصف ہزاروی، پیر سید سمیع الحسن گیلانی، پیر خالد سلطان قادری، علامہ سید شاہ حسین گردیزی، پیر سید فرحت علی کاظمی، پیر سید شمس الدین بخاری، علامہ خلیل الرحمن قادری، علامہ سید عظمت حسین شاہ، پیر سید دلشاد حسین شاہ، علامہ محمد رفیق سیالوی، علامہ سید زبیر احمد شاہ، پیر ضیاء المصطفیٰ حقانی، مفتی محمد نعیم المصطفیٰ چشتی، علامہ غلام محمد چشتی، علامہ ظہور احمد فیضی، پیر سید انور حسین شاہ قادری، صاحبزادہ سید شاہد حسین گردیزی، علامہ حافظ فاروق احمد چشتی، پیر سید فیض الحسن شاہ، پیر سید جلال الدین رومی، علامہ ڈاکٹر محمد عبدالقوی بغدادی، علامہ سید زبیر احمد شاہ اور دیگر شامل تھے۔

کانفرنس کی نظامت علامہ حافظ اشتیاق علی قادری جیلانی نے کی۔ کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے انٹرنیشنل مسلم موومنٹ کے سربراہ پیر ڈاکٹر سید عبد القادر شاہ جیلانی نے کہا کہ ناموس رسالت کا تحفظ ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ امت مسلمہ تکفیریت اور خارجیت کے خاتمے کیلئے متحد ہو جائے۔ قیام امن کیلئے پیغام مصطفی کو اپنانے اور پھیلانے کی ضرورت ہے۔ جہاد کے نام پر فساد کرنے والے اسلام کے باغی ہیں۔ عشق رسول ہی انتہا پسندی کا بہترین توڑ ہے۔ انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے کفر کے فتویٰ جاری کرنیوالی فیکٹریوں کو بند کرنا ہو گا۔ ہم دنیا بھر میں نبی امن و رحمت کے پیغام امن و محبت کو عام کریں گے۔ توہین رسالت کا ارتکاب کرنیوالے عالمی امن کے دشمن ہیں۔ تکفیریت عہد حاضر کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندی کے خاتمے کیلئے پیغام مصطفی سے رہنمائی لی جائے، منبر و محراب کو نفرتوں کے پرچار نہیں بلکہ پیغام مصطفی کو عام کرنے کیلئے استعمال کیا جائے، لبرل ازم کا نعرہ قیام پاکستان کے مقاصد سے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد جہادیوں کی وجہ سے اسلام اور اہل اسلام دنیا بھر میں بدنام ہوئے ہیں۔ پیر سید مظہر حسین شاہ گیلانی نے کہا کہ اہلسنّت شدت پسند نہیں امن پسند ہیں، داعش اسلام دشمنوں کے ایجنڈے پر چل رہی ہے، امت مسلمہ پیغام مصطفی کو اپنا کر عظمت رفتہ بحال کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عشق رسول کا لازوال جذبہ ہی امت مسلمہ کی اصل طاقت ہے، بے گناہوں کا خون بہانے والے مجاہدین نہیں مفسدین ہیں۔

پاکستان مشائخ کونسل کے چیئرمین پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے کہا کہ پیغام مصطفی سے انسانیت سے محبت کا درس ملتا ہے، محبت رسول ہی ہر عبادت کی روح ہے اور محبت رسول کے بغیر ہر عمل بے نور ہے۔ پیغام مصطفی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، دینی جماعتیں اسلام آباد کے بجائے اسلام کو اپنی منزل بنائیں، اہل حق پاکستان کا نظریاتی تشخص ختم نہیں ہونے دیں گے، منکرین ختم نبوت کا تعاقب ایمان کا تقاضا ہے۔ جماعت اہلسنّت پنجاب کے صدر مفتی محمد اقبال چشتی نے کہا کہ علامہ ڈاکٹر محمد آصف ہزاروی نے کہا کہ اہلسنّت میں شدت پسندی پیدا کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے، اہلسنّت کی حقیقی شناخت امن پسندی ہے، سچا عاشق رسول قانون شکن اور انتہا پسند نہیں ہو سکتا، صوفیاء کے ماننے والا ملک کا سب سے بڑا مکتبہ فکر امن و محبت کا علمبردار ہے، یارسول اللہ کہنے والے تشدد اور جلاؤ گھیراؤ پر یقین نہیں رکھتے، علماء و مشائخ کو گالی گلوچ اور بد زبانی زیب نہیں دیتی۔ علامہ حافظ اشتیاق علی قادری جیلانی نے کہاکہ عالمی ایجنڈا کے تحت مسلم ممالک میں انتشار اور فساد پھیلایا جا رہا ہے، پاکستان کا مقدر سیکولر ازم نہیں نظام مصطفی ہے، عالمی طاقتیں مسلمانوں کے دلوں میں عشق مصطفی کے چراغ بھجانا چاہتی ہیں، نظام مصطفی ہی قوم کی آخری امید ہے، پیغام مصطفی کا پرچار انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشتگردی کا توڑ ہے، حضور نبی کریم سے اپنی جان، مال اور اولاد محبت کئے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔

کانفرنس میں منظور کی گئی قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں نظام مصطفی نافذ کیا جائے، عریانی و فحاشی کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جائیں، سودی نظام معیشت ختم کرکے اسلامی نظام معیشت نافذ کیا جائے، ایران اور سعودی عرب باہمی کشیدگی ختم کریں، یمن میں مستقل جنگ بندی کیلئے مسلم حکمران اپنا کردار ادا کریں، آپریشن ضرب عضب کا دائرہ ملک بھر میں پھیلایا جائے، پاکستان میں را کے نیٹ ورک کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جائیں، وزیراعظم قانون ناموس رسالت میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی نہ کرنے کا دو ٹوک اعلان کریں۔

رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوری ایران کے سفیر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ، سینئر نائب صدر الماس حیدر، نائب صدر ناصر سعید، سابق صدور اور مختلف سیکٹرز سے تعلق رکھنے والے ایگزیکٹو کمیٹی ممبران سے ملاقات کی۔ ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران سے سستی انرجی درآمد کرکے صنعت کا پہیہ رواں دواں رکھ سکتا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس میں منعقد ہونیوالی میٹنگ میں ٹیکسٹائل، لیدر، الیکٹرونکس، ڈیری اینڈ لائیو سٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایگزیکٹو کمیٹی ممبران میاں عبدالرزاق، شہزاد احمد، سابق صدور سہیل لاشاری، اعجاز بٹ، سرپرست اعلٰی آل پاکستان رائس ملز پیر ناظم حسین شاہ، سابق سیکرٹری جنرل سارک چیمبر رحمت اللہ جاوید سمیت دیگر کاروباری برادری شریک ہوئی۔ اس موقع پر ایرانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری کو تجارتی منڈیوں سے مکمل آگاہی نہ ہونے کے سبب تجارتی حجم کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی بزنس کمیونٹی کو ہمہ وقت کھلے دل سے خوش آمدید کہیں گے۔

مہدی ہنر دوست نے کہا کہ ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کامیاب رہا۔ لاہور چیمبر کے سینیئر نائب صدر الماس حیدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین فری ٹریڈ ایگریمنٹ بھی ہونا چاہیے۔ قبل ازیں ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے مزار اقبال پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا کلام پاکستان کے ساتھ ایران میں بھی پڑھا جاتا ہے۔ ایرانی سفیر نے قونصل جنرل محمد حسین بنی اسدی کے ہمراہ بادشاہی مسجد میں رکھے گئے مقدس تبرکات کی زیارت کی اور مغلیہ طرز تعمیر کے عظیم شاہکار کا دورہ کیا۔ ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ایران اور پاکستان مشترکہ ثقافتی و سماجی اقدار کی وجہ سے بھائی چارے کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا استحکام پاکستان کی ترقی و استحکام سے جڑا ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق  مجلس خبرگان رہبری میں سیستان وبلوچستان کےعوامی نمائندے مولوی نذیراحمد سلامی نے حضرت علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے اس صوبے کے لوگوں کو ہدیہ تبریک پیش کرتےہوئے کہا ہےکہ حضرت علی علیہ السلام ایمان، تقویٰ ،لوگوں کی خدمت،عدل وانصاف کا قیام اورتمام امورمیں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمراہی جیسی صفات کے مالک تھے۔
انہوں نے مزید کہا ہےکہ اہل سنت کے نزدیک حضرت علی علیہ السلام ایک خاص مقام رکھتےہیں اوراہل سنت کے علماء نے بہت زیادہ کتابیں تحریرکی ہیں۔
مولوی سلامی نے کہا ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح خیبر سے ایک دن قبل فرمایا کہ کل میں یہ علم اسے دوں گا کہ اللہ تعالیٰ جس کے ہاتھوں سے عالم اسلام کوفتح کو تحفہ دے گا اور وہ شخص حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اورنہیں ہے۔
انہوں نےمزید کہا ہے کہ نہ فقط فقہی کتابوں بلکہ اہل سنت کے ادبی مآخذ میں بھی حضرت علی علیہ السلام کے مقام ومنزلت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
انہوں نےحضرت علی علیہ السلام کو تاریخ اسلام کا چمکتا ہوا ستارہ قراردیتےہوئے کہا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام عالم اسلام میں عدل وانصاف کا نمونہ ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے قزاقستان کے صدر سے ملاقات میں فرمایا کہ امریکہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی دعوے دار طاقتیں اپنے دعوے میں سچی نہیں ہیں-

قزاقستان کے صدر نور سلطان نظربایف اور ان کے ہمراہ وفد نے پیر کو رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی - اس موقع پر آپ نے ایران اور قزاقستان کے درمیان مختلف سیاسی ، اقتصادی، اور عالمی امور نیز دہشت گردی کے خلاف جد و جہد میں تعاون بڑھانے کی ضرورت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض طاقتیں خاص طور پر امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دعوؤں میں سچا نہیں ہے لیکن اسلامی ممالک، سچائی کے ساتھ تعاون کر کے عالم اسلام سے اس خطرے کو دور کر سکتے ہیں-

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عراق میں امریکیوں کی جانب سے داعش کی مدد کو دہشت گردی کے خلاف جد و جہد کے دعوے دار انواع و اقسام کے اتحادوں کے جھوٹ کا ایک نمونہ بتایا اور فرمایا کہ وہ اپنے جھوٹے رویے کا جواز پیش کرنے کے لئے دہشت گردی کو اچھی اور بری دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں -

رہبر انقلاب اسلامی نے یورپ میں دہشت گردانہ واقعات میں ملوث عناصر کی شہریت اور شام و عراق میں سرگرم دہشت گرد گروہوں میں ان کی بھرپور موجودگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ مغرب بالخصوص امریکی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ نہیں ہیں-

آپ نے دہشت گردی کے خطرے اور طاقتوں کے دہرے رویوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلامی ممالک کے درمیان منطقی اور عاقلانہ پالیسیوں کے تناظر میں تعاون میں اضافے کو ضروری قرار دیا اور فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ، مسلمان ممالک کے لئے برادرانہ جذبات رکھتا ہے اور بہت سے عالمی مسائل میں ایران اور قزاقستان کے مواقف یکشاں ہیں-

اس ملاقات میں کہ جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی بھی موجود تھے ، قزاقستان کے صدر نورسلطان نظربایف نے ایران کو ایک عظیم اور قابل اعتماد پڑوسی قرار دیا اور فرمایا کہ دونوں ممالک کے اندر، تعلقات کو فروغ دینے کے لئے بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں اور ہم نے اس دورے میں اہم تجاری اور اقتصادی پروگراموں کے سلسلے میں معاہدے کئے ہیں کہ جو تعاون میں اضافے اور فروغ کا باعث ہوں گے-

قزاقستان کے صدر نے دہشت گردی کو علاقے اور دنیا کے لئے ایک سنجیدہ خطرہ قرار دیا اور مغرب میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات اور مغرب کی جانب سے اسلام کو دہشت گردی کی علامت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور پڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی ہجرت درحقیقت مغربی طاقتوں کی جانب سے علاقے کے ممالک کی قانونی حکومتوں کے خلاف کارروائیوں کا نتیجہ ہے کیونکہ اگر کسی ملک کی پائدار مرکزی حکومت ختم ہو جاتی ہے تو اس کی جگہ دہشت گردی لے لیتی ہے-

نظر بایف نے اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت و استحکام اور اسلامی ممالک میں رہبر انقلاب اسلامی کے معنوی و روحانی اثر و رسوخ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں عالم اسلام میں اتحاد کے بارے میں جناب عالی کے نظریات سے بھر پور اتفاق رکھتا ہوں اور پوری دنیا پر یہ ثابت کر دینا چاہئے کہ اسلام، پیشرفت ، اتحاد اور دہشت گردی کے خلاف جد و جہد کا دین ہے-

اور اﷲ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے تو وہ بادل کو ابھار کر اکٹھا کرتی ہیں پھر ہم اس (بادل) کو خشک اور بنجر بستی کی طرف سیرابی کے لئے لے جاتے ہیں، پھر ہم اس کے ذریعے اس زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندگی عطا کرتے ہیں، اسی طرح (مُردوں کا) جی اٹھنا ہوگا [35:9]

اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے پٹرولیم کے وزیروں نے پیٹرولیم اور انرجی کے شعبوں میں باہمی تعاون پر بات چیت کی ہے -

ہندوستان کے پیٹرولیم کے وزیردھرمیندر پردھان نے اپنے دورہ تہران میں ایران کے پیٹرولیم کے وزیر بیژن نامدار زنگنہ کے ساتھ ملاقات میں فرزاد بی گیس فیلڈ کے توسیعی منصوبے میں شراکت، ایران کے تیل کے رقم کی ادائیگی، سمندرکے راستے گیس پائپ لائن بچھانے اور چابہار علاقے میں پیٹروکیمیکل کارخانوں کی تعمیر جیسے موضوعات پر بات چیت کی ہے۔

ہندوستان کے وزیر پیٹرولیم دھرمیندر پردھان، تہران میں اپنے قیام کے دوران ایران کے وزیرصنعت ومعدن وتجارت محمد رضا نعمت زادہ ، سینٹرل بینک کے سربراہ ولی اللہ سیف اور ایران کے آزاد صنعتی اورتجارتی علاقوں کی کوآرڈینیشن کونسل کے سیکریٹری اکبرترکان سے بھی ملاقات کریں گے -

چین کے بعد ہندوستان ایران کے تیل کا دوسراسب سے بڑا خریدار ہے -

ہندوستان، ایران کے انرجی اور پیٹرولیم کےمختلف شعبوں منجملہ پیٹروکیمیکل کے شعبے میں سرمایہ کاری اور اس کے توسیعی منصوبے میں شریک ہونے میں بھی دلچسپی رکھتاہے

 

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عید نوروز کی مناسبت سے ملاقات کے لئے آنے والے کابینہ کے ارکان، پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کی صدارتی کمیٹی کے ارکان، عدلیہ کے عہدیداروں اور بعض دیگر محکموں کے حکام سے گفتگو میں عہدیداروں کا شکریہ ادا کیا اور استقامتی معیشت کے نفاذ کے لئے حکومت کی کوششوں اور جدوجہد کی قدردانی کی اور ان پالیسیوں کے نفاذ کے لئے ملک کے حکام کے درمیان یکجہتی اور ہمدلی و ہم زبانی کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ استقامتی معیشت کی مرکزی کمان کو چاہئے کہ مجریہ اور خود محترم نائب صدر کی قیادت اور دیگر تمام محکموں کا تعاون اور مدد حاصل کرے، مختلف شعبوں کی کارکردگی اور پیش قدمی پر گہری نظر رکھے اور داخلی پیداوار کی سنجیدگی کے ساتھ پشت پناہی کرتے ہوئے استقامتی معیشت کے تحت اقدام و عمل کو عملی جامہ پہنانے کے مقصد سے ہمہ جہتی اور ہمہ گیر اقدام کی زمینہ سازی کرے۔
آپ نے استقامتی معیشت کی مرکزی کمان کی جانب سے محکموں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے جانے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اس نظارت میں کے ضمن میں جو ادارے طے شدہ اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے حرکت کریں انہیں مضبوط کیا جائے اور جو ادارے بے تفاوت ہیں انہیں اصل راستے پر لایا جائے اور جو ادارے استقامتی معیشت کے برخلاف عمل انجام دے رہے ہیں ان کا راستہ روکا جانا چاہئے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ استقامتی معیشت میں اقدام اور عمل اس انداز سے ہونا چاہئے کہ سال ختم ہونے پر مختلف شعبوں کی متعلقہ کارکردگی کی صحیح اور واضح رپورٹ پیش کرنا ممکن ہو فرمایا کہ اجرائی اداروں کا پورا نظام استقامتی معیشت کی پالیسیوں کے اجراء کی توانائی رکھتا ہے اور پارلیمنٹ کو بھی چاہئے کہ اس سلسلے میں حکومت کی مدد کرے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ ہم حکومت سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کر رہے اور ہمیں وسائل اور بجٹ کی کمی اور مشکلات کا بھی اندازہ ہے، لیکن بعض شعبوں میں کفایت شعاری کرکے بعض دیگر شعبوں میں موجود کمی اور خلا کو دور کیا جا سکتا ہے۔
آپ نے ملک کے اعلی عہدیداروں کو تجربہ کار، اور فکر و عمل اور جوش و جذبے سے سرشار افراد قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ مرکزی کمان جو فکر کا مرکز اور عمل کا محور ہے ملک کے اندر موجود بہترین انتظامی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرے اور فیصلہ سازی اور اجرائی مراحل کے لئے مختلف محکموں کی توانائیوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ملک کو چلانا کہ جو حکومت اور خود صدر محترم کی ذمہ داری ہے ایک انتہائی دشوار کام ہے فرمایا کہ صدر محترم کی حد درجہ مصروفیات کے پیش نظر نائب صدر جو ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں استقامتی معیشت کی اعلی کمان سے متعلق اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ میں حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ میں جو بھی اقدام عوام کے مفادات کے لئے اور انکی مشکلات کے ازالے کی خاطر ہو اس کی بھرپور حمایت کروں گا، لیکن یہ نظر آنا چاہئے کہ جو کام انجام دیا جا رہا ہے وہ قومی مفادات کے حق میں ضروری اور مفید ہے۔
آپ نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ استقامتی معیشت کی پالیسیوں کے اجراء کے لئے داخلی توانائیوں اور صلاحیتوں پر تکیہ کیا جانا چاہئے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے امریکا کو بداخلاقی اور بد عملی کا مظہر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ امریکیوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور امریکیوں کے علاوہ کچھ دوسرے مغربی ممالک بھی ایسے ہی ہیں، بنابرایں ہمیں خود اپنی توانائیوں پر تکیہ کرنا چاہئے اور امریکی حکام کے موقف اور اقدامات سے بھی اس نظریہ کی تصدیق ہوتی ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ اگر ہم صدق دل سے میدان عمل میں اتریں گے تو یقینا اللہ تعالی بھی ہماری مدد و اعانت کرے گا فرمایا کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہمیشہ نشیب و فراز اور سختی و آسانی کا سلسلہ رہتا ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہر طرح کے حالات میں اصلی راستہ اور سمت کوفراموش نہ کیا جائے۔
آپ نے داخلی پیداوار کی حمایت و پشت پناہی کے مسئلے پر پوری سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ صنعت اور زراعت دونوں ہی شعبوں میں پیداوار پر خاص توجہ دی جانی چاہئے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے حکام کی ہمدلی و ہم زبانی کو استقامتی معیشت کا مقدمہ قرار دیتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ حکام کے تعاون کے بغیر کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس ہمیشہ قومی اتحاد کی نعمت رہی ہے، تاہم قومی یکجہتی کے ساتھ ہی حکام کی آپسی ہمدلی و یکجہتی بھی ضروری ہے اور یہ یکجہتی، نظریات اور پسند کے اختلاف سے متصادم بھی نہیں ہے۔
آپ نے اس ملاقات کو بھی حکام کے باہمی انس و محبت اور ہمدلی و ہم زبانی کا آئینہ دار قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ مختلف نظریات اور پسند کے باوجود حکام کو چاہئے کہ بنیادی و انقلابی اہداف کی سمت میں ہی آگے بڑھتے رہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ آج ملک میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ تینوں شعبوں کے عہدیدار اور اسلامی نظام کے حکام طریقوں اور روشوں کے اختلاف کے باوجود انقلاب کے اصلی اہداف کے بارے میں یکساں نظرئے اور رائے کے حامل ہیں۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنی گفتگو کے دوران عہدیداران کے اہل خانہ اور خاص طور پر ان کی بیگمات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ حکام کی بہت سی کوششیں اور جدوجہد جو نگاہ میں آتے ہیں ان کی بیگمات کی وجہ سے ہوتے ہیں جن پر عام طور پر توجہ نہیں دی جاتی۔
اس ملاقات میں نائب صدر جناب اسحاق جہانگیری نے رہبر انقلاب اسلامی کی رہنما ہدایات اور حکومت کے لئے ان کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے استقامتی معیشت کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک جامع دستور العمل تیار کیا ہے اور وہ ان پالیسیوں کو ملکی معیشت کے لئے شفا بخش نسخہ مانتی ہے۔
نائب صدر نے کہا کہ حکومت کو استقامتی معیشت کی پالیسیوں پر پورا یقین ہے اور یہ پالیسیاں شرعی، قانونی اور ماہرین کی رائے، ہر اعتبار سے حکومت کے لئے قابل قبول ہیں۔
نائب صدر اسحاق جہانگیری نے استقامتی معیشت کی اعلی کمان کے حالیہ دو اجلاسوں میں رواں ہجری شمسی سال کی اقتصادی ترجیحات کے تعین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ شب ملک کے بڑے اقتصادی مراکز کے ساتھ طولانی ملاقات ہوئی اور حکومت پروڈکشن کو فروغ دینے، برآمدات میں اضافے، روزگار کا راستہ آسان کرنے اور نجی سیکٹر کی خدمات لینے کا پختہ عزم رکھتی ہے۔
انہوں نے استقامتی معیشت کی پالیسیوں کے نفاذ میں حکومت کی کامیابی کو دوسرے تمام محکموں اور خاص طور پر قومی نشریاتی ادارے کے تعاون پر منحصر گردانتے ہوئے کہا  کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ علم ودانش، تجربے، انتظامی توانائی و صلاحیت کے اعتبار سے جو کچھ بھی حکومت کے پاس ہے اسے استقامتی معیشت کی پالیسیوں کے نفاذ میں استعمال کرنے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
اس ملاقات سے قبل عہدیداروں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کی امامت میں نماز ظہرین ادا کی۔