Super User
پاکستان میں عید میلادالنبی اور ہفتہ وحدت کی تقریبات
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں عید میلادالنبی اور ہفتہ وحدت کی تقریبات کےسلسلے میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔
ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد میں موجود ایرانی سفارتخانے کی جانب سے نجی ہوٹل میں عید میلادالنبی اور ہفتہ وحدت کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان کے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی تھے۔ تقریب میں شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی، مجلس وحدت مسلمین کے جنرل سیکریٹری علامہ ناصرعباس جعفری اور جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ سمیت مختلف مکاتب فکر علماء کرام اور دانشوروں نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب میں وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی کا کہنا تھاکہ علما محنت کریں تو امت کی رہنمائی ہو سکتی ہے، امت میں وحدت پیدا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ تقریب میں موجود علمائے کرام اور دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کے اختلافات مذہبی نہیں سیاسی ہیں، ان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے امت میں اتحاد کی ضرورت ہے۔
تقریب میں موجود تمام شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ حضور اکرم (ص) کی سیرت پر عمل کرکے امت کو متحد کیا جاسکتا ہے جس کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس موقع پر ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے تمام معزز مہمانون کا شکریہ ادا کیا ۔
طلبہ سے خطاب، کلیدی مسائل پرسیرحاصل
طلبہ سے خطاب، کلیدی مسائل پرسیرحاصل
یہاں ہے رستہ نشر ہونے کی تاریخ 30
یہاں_ہے رستہ نشر ہونے کی تاریخ 01
طلبہ سے خطاب، کلیدی مسائل پرسیرحاصل
یہاں ہے رستہنشر ہونے کی تاریخ 26
طلبہ سے خطاب، کلیدی مسائل پرسیرحاصل
یہاں ہے رستہ نشر ہونے کی تاریخ 25
اوہایو میں شیعہ سنی مسلمان خواتین کا اجتماع میں اتحاد اور وحدت پر تاکید
رپورٹ کے مطابق شعیہ خاتون ایرام جعفری کی کوششوں سے اوہایو میں شیعہ سنی خواتین میں ہم آہنگی مہم شروع کیا گیا ہے
«ایرام جعفری» کے بھائی رضا جعفری ایک معروف سرجن تھا جو پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکا ہے.
اوہایو میں رہنے والی ایرام جعفری کا کہنا ہے کہ میرا بھائی ایک مثالی فرد تھا مگر دہشت گردی کی وجہ سے انکی جان چلی گئی مگر میں سنی کو نہیں بلکہ شدت پسندوں کو ذمہ دار سمجھتی ہوں۔
اوہایو کی خواتین کی کوشش ہے کہ شدت پسندی کے مقابلے میں ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے
خواتین کی کوششوں سے کولمبس میں شیعہ اسلامی مرکز اور اہل سنت کے مرکز «ورثینگتون» میں وحدت کی فضا قایم ہوئی ہے
محترمہ جعفری کا کہنا ہے کہ ہم الگ الگ نہیں رہنا چاہتے بلکہ ایکدوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کی زندگی ہماری خواہش ہے
سنی خاتون گلچین اوزر کا کہنا ہے کہ شدت پسندی روکنے کے لیے ہم اعتدال پسندی کا راستہ عام کرنا چاہتے ہیں
میڈیکل کی طالبہ محترمہ اوزر کا کہناہے کہ جب ہم یکجا ہوتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم میں اختلاف بہت کم اور مشترکات بہت زیادہ ہیں
اوہایو کی مسلمان خواتین نے اسلامو فوبیا اور شدت پسندی دونوں کو خلاف اسلام قرار دیا ہے
اوہایو کی شیعہ ڈاکٹر ایسر حمودی کا کہنا ہے کہ داعش کے اکثر شکار مسلمان بنے ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو کوئی دین اور ایمان نہیں۔
انکا کہنا تھا کہ کوئی دین اپنے بھائی،ہمسائے اور انسانوں سے نفرت نہیں سکھاتا اور اسلام تو محبت اور برادری کا دین ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
