Super User

Super User

رہبرانقلاب اسلامی : اتحاد عالم اسلام کی اہم ضرورت

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اتحاد کو عالم اسلام کی آج کی اہم ترین ضرورت قرار دیا اور تاکید فرمائی کہ دشمن کا اصلی منصوبہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا اور مغربی خفیہ اداروں کے منصوبوں کے ساتھ ہماہنگ ہوتے ہوئے اسلام دشمنی کو ہوا دینا ہے ۔ عید سعید بعثت کی مناسبت سے تھران میں اعلی حکومتی عہدیداروں اورمختلف ملکوں کے سفیروں اورشہداء کے اہل خانہ نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی ۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس موقع پر عید سعید مبعث کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے موجودہ صورت حال میں امت اسلامیہ کی اہم ترین ذمہ داری ، ہوشیاری اور اپنے راستے اور دشمن کے منصوبہ کی مکمل شناخت قرار دیا اور فرمایا کہ دشمن کا اصلی منصوبہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا اور انہیں آپس میں دست وگریبان کرنا ہے ، اس بنا پر عالم اسلام کی اہم ترین ضرورت ، اتحاد و اتفاق قائم رکھنا اور باہمی تعاون اور ہمدلی ہے ۔ اس وقت دنیا بھر خاص طور پر شمالی افریقہ و مشرق وسطی کے اہم سوق الجیشی علاقے میں اسلامی بیداری کی بابرکت لہر نے ، اسلامی ملکوں کے مستقبل کو روشن کردیا ہے ۔ڈکٹیٹروں اور تسلط پسند حکومتوں کے حکمرانوں کی سالہاسال کی حکمرانی کے بعد ، قوموں نے ان حکومتوں اور ان کی حامیوں کی سازشوں کو بھانپتے ہوئے ، دو سال قبل سے مسلمانوں کے لئے ، حق پسندی اور سعادتمندانہ زندگی کے راستے کا انتخاب کرلیا ہے ۔ اسلامی بیداری کی لہر ، مصر کہ جو امریکہ و اسرائیل کے مفادات کے محافظ ملک کے عنوان سے معروف تھا شروع ہوئی اور مرحلہ وار علاقائی ملکوں منجملہ تونس اوربحرین تک پھیل گئی اور اسلامی بیداری کی اس لہر نے تسلط پسند نظاموں اور صہیونیوں کو وحشت زدہ کردیا ہے ۔ امریکہ و اسرائیل نے مصر کے انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ہی اس ملک میں اپنے مفادات کو خطرے میں دیکھتے ہوئے ، مصر کے عوامی انقلاب کو نقصان پہنچانے کے لئے ، ہر قسم کے حربے کو استعمال کیا ۔ اگر چہ دشمنان اسلام مصر اور دیگر ملکوں کے عوامی انقلاب کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ، لیکن مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ خفیہ اداروں کے تعاون کے دائرے اور مختلف سازشوں کے ذریعے امریکی و صہیونی مخالف انقلابات کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کریں ۔ آج کے دور میں علاقے میں عوامی انقلابات کی لہر کے منظم ہونے کے ساتھ ہی ، صہیونیوں کے پالیسیوں کے خلاف احساسات میں اضافہ ہوگیا ہے اور قومیں ، مختلف عرب و افریقی ملکوں میں احتجاجی مظاہروں میں ، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپنے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے نعرے لگارہی ہیں ۔ مصر میں اسرائیل کے سفارت خانے پر حملہ ، مسلمانوں کے مشترکہ دشمن کے عنوان سے صہیونی حکومت کے خلاف عوامی تحریک کی صرف ایک مثال ہے ۔ عالم اسلام کے دشمن خاصطور پر امریکہ و اسرائیل نے اس موضوع کو سمجھتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کروانے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے ۔ رہبر انقلاب اسلامی کے تعبیر کے مطابق ، دشمن کا اصلی منصوبہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے تاکہ امت اسلامیہ کی توجہ ، دشمنوں کے اصلی مراکز یعنی فاسدو خراب سرمایہ داری ، غاصب و خون خوار صہیونی حکومت اور اسی طرح اسلامی معاشرے کی ترقی و پیشرفت سے ہٹائی جائے۔اسی طرح اگر شام کے خود ساختہ بحران اور مصر ، تیونس ، لیبیا اور یمن کے عوامی انقلاب کے حوالے سے امریکہ و اسرائیل کی پالیسیوں کی شکست پر گہری نظر ڈالی جائے تو مسلمانوں کے خلاف ان کی واضح سازشوں کا پتہ چل جاتا ہے ۔شام سالہاسال سے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی فرنٹ لائن پر ہے ، اور آج ایک میدان جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ عالم اسلام کے دشمن ، مسلمان نما انتہا پسند گروہوں منجملہ القاعدہ نیٹ ورک سے وابستہ عناصر کو شام کے مختلف علاقوں میں بھیج رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کریں اور اپنی شرمناک سازشوں کو عملی جامہ پہنائیں ۔ اس صورت حال میں اسی طرح جیسے رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی ہے

امام خميني (رح) دانشوران عالم كي نگاہ ميں

پروفيسر رفيق علي اف كہتے ہيں كہ امام خميني رح آخري دوصدي ميں عالم اسلام كي ايك بزرگ شخصيت ہيں كہ جنهوں نے ايك مفكر، سياست داں،عالم اور صاحب نظر ہونے كے عنوان سے جمهوري اسلامي كے لايحہ عمل كو تيار كيا اور اس كو ايراني قوم كے جوش و خروش كے ذريعہ شہنشاہي نظام كي جگہ قرار ديا۔ اس ميں كوئی شك نہيں ہے كہ ہم ايرانيوں كي نگاہ ميں امام ختمينيؒ كا ايك خاص مقام ہے ،كيوں كہ امام خميني رح ہمارے صرف سياسي قائد نہيں تهے بلكہ آپ ہمارے ديني اور الہي رہنما بهي تهے آپ وہ شخصيت تهے كہ جسے دوست و دشمن سب چاہتے تهے اور مستضعفين كے دلوں ميں آپ كا خاص مقام تها آپ كسي بات كي نصيحت كرنے سے پہلے خود اس پر عمل كرتے تهے آپ كي رہبري نے ايرانيوں كے زخمي غرور كے لئے مرحم كا كام كيااور ان كي عزت اور احترام اور خود اعتمادي واپس آگئي جتنا آپ كے بارے ميں كہا جائے كم ہے آپ پايداري،تقوي اور بہادري كا نمونہ تهے۔دلچسپ ہے كہ آپ كے سلسلہ ميں دنيا كے دانشمندوں كے نظريات سے آشنا ہوں۔

روس كے ايك قلمكار:

امام خميني رح ہميشہ انسان اور خدا كے رابطہ كے بارے ميں تاكيدكرتے تهے

روس كے فڈريشن كے سكريٹري كہتے ہیں كہ امام خميني رح دور حاضر كے سياسي قائدين كے بر خلاف، كہ جو مختلف زمينوں ميں سے كسي ايك خاص سياسي ،اقتصادي، سماجي ،ديني اور حقوقي زمینہ ميں استعداد ركهتے ہيں ،آپ ان تمام زمينوں ميں استعداد ركهتے تهے

پروفيسر ميخاييل لمشف مزيد فرماتے ہيں كہ امام خميني رح نے سياست كو دين كا جزو لا ينفك قرار ديا اور اپنے ديني اور الہي ارادہ كے ساته ظلم كے مقابلہ ميں كهڑے ہوگئے۔وہ کہتے ہيں كہ امام راحل نے معاشرہ كي سماجي اور سياسي زندگي كے مختلف حصوں ميں اسلام كو انقلابي تبديليوں ميں ايك بنيادي سبب اور انساني اقدار كا حامي قرار ديا۔ انهوں نے اس نكتہ كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہ امام خميني رح كي پوري كوشش يہ تهي كہ بيگانہ افكار سے دوري اختيار كريں،كہا:امام خميني رح ہميشہ انسان اور خدا كے نہ ٹوٹنے والے رابطہ پر تاكيد كرتے تهے آپ نے جوانوں كو عقل اور جذبات كے منبع كے عنوان سے حقيقي اسلام سے جوڑا اور ان كو انحراف سے نجات دي۔

ميخاييل لمشف كا کہنا ہے كہ بين الاقوامي نقطہ نظر سے امام كي فكر عالم اسلام پر چها گئي اور آپ اسلام كے سخت دشمن اسرائيل اور امريكا كے مقابلہ ميں كهڑے ہوگئے اور آپ نے ثابت كرديا كے ايران كا اسلامي انقلاب روس اور فرانس كے انقلاب سے الگ ہے اس نے تاكيد كي كہ امام خميني رح نے اسلام كي جاودانہ تعليمات اور اقدار كي پيروي كرتے ہوئے لوگوں كو ان كي سماجي موقعيت كو مد نظر نہ ركهتے ہوے برابر سمجها اور ان كے درميان صلح وبرابري اور ان كي آسائش كو اپنا ہدف قرار ديا۔

مفتي كرواسي:

امام خميني رح صدي كے عظيم مصلح مفتي كرواسي نے امام خميني رح كو آخري صدي ميں اسلام اور معاشرہ كے آزادي طلب لوگوں كے درميان عظيم مصلح كے طور پر ياد كيا شفكو عمر بشيچ نے جمهوري اسلامي ايران كے خبر نگار سے گفتگو كرتے ہوے كہا كہ امام خميني رح كا پورے عالم اسلام اور دنيا ميں ايك خاص احترام ہے امام خميني رح كي فكر فقط مسلمانوں كي بيداري كا سب نہيں بني بلكہ آپ نے دوسرے اديان كے پيروں كو بهي سماج ميں دين كے اہم كردار كے بارے ميں سوچنے پر مجبور كرديا۔.

وہ كہتا ہے كہ امام خميني رح كا انقلاب تاريخ كے اس دور ميں واقع ہوا كہ جب لوگ دين كو ناكارآمد سمجهتے تهے ليكن ايران كے اسلامي انقلاب نے اس نظريہ پر خط بطلان كهينچ ديا اور دين كو پہلے سے زيادہ كار آمد تر كرديا۔مفتي كرواسي نے آخر ميں كہا كہ امام خميني رح كے انتقال كو چند سال گذرنے كے باوجود دنيا ميں آج بهي آپ كے افكار كے قدرداں اور موافق موجود ہيں لہذا تمام اديان الہي كے پيروں كو چاہيئے كہ وہ آخري صدي كے عظيم مصلح يعني امام خميني رح كي قدر كريں۔

آذربائيجان كا ايك دانشمند :

امام خميني رح ايك ايسے دانشمند تهے كہ جو منحصر بہ فرد تهے

جمهوري آذربائيجان كے تحقيقاتي مركز كے رئيس نے امام خميني رح كو ايك صاحب نظر اور منحصر بہ فرد دانشمند كے عنوان سے ياد كيا پروفيسر رفيق علي اف نے جمهوري اسلامي كے خبر نگار سے گفتگو كرتے ہوے كہا كہ امام خميني رح نے اپني حكيمانہ رہبري اور ايران ميں انقلاب اسلامي كي كاميابي كے ذريعہ ان لوگوں كے دعوے كو كہ جو دين كو تخريبي عامل كے عنوان سے پہچنواتے تهے غلط ثابت كرديا اور اسلام كو ايك تعميري مذہب اور اخلاقي اقدار اور صلح و عدالت پر مشتمل مذہب كے عنوان سے دنيا كے سامنے پيش كيا جمهوري آذربائيجان كے تحقيقاتي مركز كے رئيس نے كہا كہ ايران ميں انقلاب اسلامي كي كاميابي اور اس ملك ميں اسلامي قانون كے نافذ ہونے كے بعد پڑوسي ممالك من جملہ آذربائيجان، قفقاز شمالي اور مشرق وسطي بهي اس انقلاب كي بركت سے بہرہ مند ہوے وہ كہتا ہے كہ اسلامي انقلاب كے اثرات جلدي ہي پوري دنيا پر ظاہر ہوگئے اور ان اثرات نے پوري دنيا كي بيداري ميں مناسب شرائط مہيا كئے پروفيسر رفيق علي اف كہتے ہيں كہ امام خميني رح آخري دوصدي ميں عالم اسلام كي ايك بزرگ شخصيت ہيں كہ جنهوں نے ايك مفكر، سياست داں،عالم اور صاحب نظر ہونے كے عنوان سے جمهوري اسلامي كے لايحہ عمل كو تيار كيا اور اس كو ايراني قوم كے جوش و خروش كے ذريعہ شہنشاہي نظام كي جگہ قرار ديا۔

مليشيا كي ايك ايم شخصيت:

امام خميني رح دور حاضر كي مادي پرست دنيا ميں اخلاق اور معنويت كے پرچمدار تهے

ڈاكٹر چاندرا مظفر مليشيا كي عدالت ملي پارٹي كے سربراہ نے كہا كہ امام خميني رح نے جس معاشرہ ميں مادي گري سماج كا جزو لا ينفك تهي ،اخلاق اور معنوي اقدار كے چہرہ كو ظاہر كيا مليشيا كي يونيورسٹي كے اس استاد اور سرگرم سياستداں نے كہا كہ امام خميني رح كو بيسوي صدي كے عظيم قائد كے طور پر ياد كيا جاے گا كيوں كہ آپ وہ تنہا رہبر ہيں كہ جس نے بيسوي صدي ميں اسلامي انقلاب برپا كيا۔چاندرا مظفر كہ جو مليشيا كي عدالت ملي پارٹي كے سربراہ بهي ہيں عدالت كے تحفظ ميں امام خميني رح كے اہم كردار كا ذكر كرتے ہوے كہتے ہيں كہ امام خميني رح ايك عظيم رہبر تهے كہ جنهوں نے اپني كوششوں سے عالم اسلام ميں اپنا خاص مقام بنايا۔

كولنمبيا كے ايك قلمكار:

امام خميني رح نے اسلام كي ضرورت كو دنيا ميں زندہ كيا

حوليان زاپاتا،محقق، اہل قلم اور كلمبيا كے اسلامي كلچر كے مركز كے سربراہ نے كہا: بيسوي صدي ميں دنيا ميں تين اہم شخصيتيں مطرح ہوئيں جو تمام سياسي معاشروں ميں سياست مدار حضرات كي توجہ كا مركز بنيں ان ميں سے ايك گاندهي دوسرے يحيي واتيكان كے لوگوں كے قائد اور تييسرے امام خميني رح ہيں ان تينوں ميں جس كا كلچر اور باتيں لوگوں پر اثر انداز ہوئيں وہ امام خميني رح ہيں امام خميني رح مسلمانوں كے قائد اور وہ آزاد انسان تهے كہ جنهوں نے ايك قيام كے ذريعہ اسلام كو ايران جيسے وسيع ملك ميں پهيلايا اور اسلام كي ضرورت كو دنيا ميں زندہ كيا۔امام خميني رح اسلامي حكومت كے سايہ ميں اپني درايت اور تدبير سے قائدين عالم كے لئے نموئہ عمل بن گئے۔

قرقيزستان يونيورسٹي كے ايك استاد:

امام خميني رح نے دين كے راستے كا انتخاب كيا آپ انسان اور اس كي روح كا عقيدہ ركهتے تهے

ساويت بيك تاكتامشيف قرقيزي يونيورسٹي ميں فيزيك كے پروفيسر معتقد ہيں كے امام خميني رح ايك عظيم قائد ہيں انهوں نے جديد نظريات كو پيش كيا اور انهوں نے اس زمانے ميں دين كو سماج كي ہدايت اور قيادت كے ميدان ميں داخل كيا اور اس كي ان طاقتوں كو كہ جو دنيا والوں كے سامنے نا آشنا تهي استعمال كيا اور انهيں زندہ كيا۔ اس نكتہ كي توضيح ميں يہ كہہ سكتے ہيں كہ امام خميني رح نے انقلاب اسلامي كے لئے بہترين وقت كا انتخاب كيا۔ جس وقت دنيا ميں سرمايہ دارانہ نظام كے ستون لرز رہے تهے اور كميونيزم اور سوشليزم سماج كے امور چلانے ميں ناكام تهے۔ اس دور ميں امام خميني رح كي شخصيت ايك منفرد اور مستثني شخصيت تهي۔نہ آپ نے سرمايہ دارانہ نظام كے راستہ كو انتخاب كيا اور نہ ہي ماركسيزم اور كميونزم جيسے نظاموں كے كهوكهلے پن كے سلسلے ميں اپنے اعتقاد و ايمان كو ذرہ برابر كم ہونے ديا۔آپ كي راہ ايك منفرد راہ تهي كہ جس كي عمر بشريت كي عمر كے برابر تهي آپ نے دين كے راستے كا انتخاب كيا اور اسلام كو وسيلہ بنايا۔ آپ انسان اور اس كي روح كي وسعت كا عقيدہ ركهتے تهے۔ آپ انسان كو فرزند طبيعت كي طرح سمجهتے تهے اور ان كے درميان صرف ديني ايمان كو ايك دوسرے پر برتري كا ذريعہ سمجهتے تهے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے قرآن کریم کے تیسویں بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرنے والے قاریوں، حافظوں اور اساتید کے ساتھ ملاقات میں اتحاد اور یکجہتی کی حفاظت کو مسلمانوں کے لئے قرآن مجید کا ایک اہم حکم اور دستور قراردیتے ہوئے فرمایا: آج مسلمانوں کو اتحاد اور یکجہتی کی طرف دعوت دینے والی ہرآواز اور ہر زبان، الہی آواز اور الہی زبان ہے اور ہر زبان و ہر آواز جو مسلمانوں اور اسلامی مذاہب کے درمیان تفرقہ اور دشمنی پھیلائے وہ شیطانی آواز اور شیطانی زبان ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے اس ملاقات میں قرآن کریم اور اس کے عزت آفرین اور سعادت بخش معارف کے ساتھ مسلمانوں کی زیادہ سے زیادہ معرفت، انس اور آشنائی کے سلسلے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا: قرآن مجید کا مسلمانوں کو ایک حکم اور خطاب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور اس کے ارد گرد سے متفرق نہ ہوں جبکہ اللہ تعالی کے اس حکم کے خلاف استعماری طاقتوں کی مسلمانوں کے درمیان نفاق ، اختلاف اور قومی و مذہبی تعصب پھیلانے کی تلاش و کوشش اور و جد وجہد جاری ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بعض اسلامی ممالک اور حکومتوں کا دشمن کے مکر و فریب میں آنے اور ان کی دشمن کے حق میں بازی کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق ایک فوری فریضہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےقتل و غارت، خونریزی، اندھی دہشت گردی اور اس سے متعلق دردناک واقعات اور غاصب صہیونی حکومت کو آرام و سکون کا موقع فراہم کرنے کو امت اسلامی کے درمیان اختلاف اور تفرقہ کے نتائج قراردیتے ہوئے فرمایا: آج مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں کے لئے امتحان کا وقت ہے اور مسلمانوں کو مکمل طور پر ہوشیار رہنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک میں اسلامی موج اور عالم اسلام کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مغربی دشمنوں نے مسلمانوں کے سرپر شمشیر کھینچ رکھی ہے، لہذا مسلمانوں کو اپنے اندرونی اقتدار اور توانائیوں کے عوامل کو مضبوط بنانا چاہیے اور ان عوامل میں مشترکہ نقاط پر توجہ اور اتحاد و یکجہتی سب سے اہم عوامل ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالم اسلام کو قرآنی حقائق کے لئے تشنہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ماضی میں عالم اسلام کی ممتاز شخصیات اپنی حریت پسند آواز کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے سوشلسٹ اور کمیونسٹ کےنعروں سے استفادہ کرتی تھیں لیکن اس کے برعکس آج عالم اسلام کے مشرق سے لیکر مغرب تک اگرمسلمان آزادی، استقلال ، عزت اور عدل و انصاف کے نعرے لگائیں تو وہ قرآنی نعرے لگاتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قرآنی مقابلوں کے انعقاد کو قرآنی معانی و مفاہیم اور قرآنی حقیقت سے بہتر آشنا ہونے کا ایک وسیلہ قراردیتے ہوئے فرمایا: قرآنی معارف یاد کرنے اور قرآنی تعلیمات کے سائے میں مسلمان عزت ، عظمت ، امن و سلامتی کی سربلندی تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس ملاقات کے آغاز میں ادارہ اوقاف و امور خیریہ کے سربراہ اور نمائندہ ولی فقیہ حجۃ الاسلام والمسلمین محمدی نے اس ادارے کی طرف سے قرآنی معارف کو فروغ دینے اور اسی طرح قرآن مجید کےتیسویں بین الاقوامی مقابلوں کے انعقاد کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

حجۃ الاسلام والمسلمین محمدی نے 70 ممالک کے قاریوں، حافظوں اور اساتید کی ان مقابلوں میں شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ادارہ اوقاف نے ملک میں قرآنی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں مختلف پروگراموں کو مرتب کررکھا ہے

ریاض یونیورسٹی کے استاد کا فتویٰ: شیعہ عورتوں اور بچوں کا قتل کر کے دھشت پیدا کروالقاعدہ گروپ سے تعلق رکھنے والے سعودی عالم دین سعد الدریہم جو عراق میں مبلغ دین کے طور پر سرگرم فعالیت ہیں نے فیس بک پر اپنے خصوصی پیچ پر لکھا ہے کہ عراقی شیعہ عورتوں اور بچوں کا قتل کر کے لوگوں کے دلوں میں دھشت پیدا کرو۔

ریاض کی یونیورسٹی ’’ امام محمد بن سعود‘‘ کے شعبہ شریعت اسلامی کے استاد سعد الدریہم نے عراق میں القاعدہ کے دھشتگرد عناصر کو مجاہد کہتے ہوئے انہیں تاکید کی ہے کہ اگر مجاہدین عراق میں قتل و غارت کو مزید بڑھاوا دیں اور رافضیوں کی عورتوں اور بچوں کو قتل کریں یا گرفتار کریں تو اس سے رافضیوں کے دلوں میں دھشت اور دبدبہ پیدا ہو گا۔

اسلامی شریعت کے اس استاد اور مبلغ کا یہ فتوی شدید تنقید کا شکار ہوا ہے۔

المدینہ اخبار کے نامہ نگار نے اس سلسلے میں کہا: خدا کی قسم سب سے زیادہ جو لوگ اسلام کی اہانت کا باعث بنے ہیں وہ کوئی دوسری قومیں نہیں ہیں بلکہ اسی طرح کے شدت پسند مولوی ہیں جو دوسرے مسلمانوں کے قتل و غارت کا فتوی دیتےہیں۔

سعودی عرب کے اخبار’’ عکاظ‘‘ کے نامہ نگار’’ عبد اللہ بن بخبت‘‘ نے کہا: جب اس طرح کے افراد کو سعودی عرب میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے جو کھلے عام قتل و غارت کا فتویٰ دیتے ہیں تو ایسے میں یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ دھشت گرد سعودی عرب میں ہی پلتے ہیں۔

سعودی عرب کے ایک اور رائٹر محمد العمر کا کہنا ہے کہ ہمارے اجداد میں سے کسی نے بھی اس طرح کی وصیت نہیں کی ۔

ایک اور شخص عبد العزیز الزھرانی نے الدریہم سے مخاطب ہو کر لکھا ہے کہ نبی رحمت (ص) نے تو کبھی یہودیوں کی عورتوں اور بچوں کے لیے ایسا حکم نہیں دیا۔

’’ الوطن‘‘ نیوز پیپر کی نامہ نگار خاتون’’ حلیمہ مظفر‘‘ نے سعودی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ الدریہم کو عدالت کے کٹیرے میں کھڑا کیا جائے اور اسے یونیورسٹی میں پڑھانے سے منع کیا جائے۔

’’الریاض‘‘ نیوز پیپر کے نامہ نگار ’’یوسف ابا الخیل‘‘ نے لکھا ہے: خداوند عالم نے اس طرح کے افراد سے نہ صرف ایمان کی دولت چھین لی ہے بلکہ وہ رحم اور عطوفت جو حیوانوں کے اندر بھی ہوتی ہے وہ بھی اس سے چھین لی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سعد الدریہم نے کچھ عرصہ پہلے دعوی کیا تھا کہ جنت میں صرف ’’نجد‘‘ کے رہنے والے لوگ اور علماء جا سکیں گے۔

حرم حضرت زینب(ع) کی حفاظت میں سنی بھائی بھی شریکعراق کی تنظیم ’’ اھل الحق‘‘ کے سیکریٹری جنرل ’’ قیس خز علی‘‘ نے کہا ہے کہ شام میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے روضہ اقدس کی حفاظت کرنے میں اہلسنت کے مجاہدین بھی شریک ہیں کہ جن میں سے سات مجاہدین شہید بھی ہو چکے ہیں۔

انہوں نے تاکید کی کہ اہلسنت کے مجاہدین حکومت شام کا دفاع نہیں بلکہ صرف اہلبیت علیہم السلام کے روضوں کی حفاظت کرنے میں دھشتگردوں سے بر سر پیکار ہیں۔

’’ سومریہ نیوز ایجسنی‘‘ کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے قیس خز علی نے کہا: شام میں روضوں کی حفاظت کرنے والے عراقی مجاہدین کے ساتھ اہل الحق تنظیم کے افراد بھی شامل ہیں جو جناب زینب (س) کے روضے کی حفاظت کر رہے ہیں تاہم ان میں سے سات افراد شہید ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: روضوں کو گرانا اسلامی قوانین کی خلاف ورزی اور مذہبی جنگ و جدال کا باعث ہے ہم ابھی تک سامرا کے روضوں کے گرائے جانے کا منظر نہیں بھول پائے ہیں۔

اھل الحق تنظیم کے جنرل سیکریٹری نے تمام مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامی مقدسات کی حفاظت کرنے میں تمام مسلمانوں کو متحد ہو جانا چاہیے ۔

پاکستان میں جگہ جگہ امام خمینی (رہ) کی برسی کی تقریب منعقد

پاکستان کے مختلف شھروں میں پاکستان کی مختلف تنظمیوں کے زیر اھتمام امام خمینی (رہ) کی برسی کی تقریب منعقد کی ۔

اس رپورٹ کے مطابق، ایران کلچر ہاوس پشاور میں امام خمینی (رہ) کی برسی کی تقریب منعقد کی گئی جس میں پاکستان کی نامور شخصیتوں اور علمائے کرام نے شرکت کی ۔

جامعہ پشاورمیں پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر زیڈ اے گیلانی نے اس تقریب کے پرگرام میں امام خمینی کو امت مسلمہ کے لئے عصر حاضرکی ضرورت جانا ۔

ڈاکٹر زیڈ اے گیلانی نے مزید کہا: امام خمینی(رہ) نے مغرب کی سیاست میں ہلچل مچا دی ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ موجودہ زمانہ میں ملت اسلامیہ کے پاس سب کچھ ہے فقط ایک امام خمینی(رہ) جیسے لیڈر کی ضرورت ہے کہا: تاریخ ظلم و بربریت سے بھرتی جارہی ہے، امت مسلمہ کے پاس اتحاد بھی ہے اور وسائل بھی اور اگر کمی ہے تو صرف قیادت کی ہے۔

گیلانی نے کہتے ہوئے کہ امت مسلمہ کو امام خمینی(رہ) جیسی قیادت میسر آجائے تو ہمارے تمام مسائل آسانی سے حل ہوسکتے ہیں کہا: مسلمان اتحاد کی تسبیح میں پرونے کو تیار ہیں مگر امام خمینی (رہ) جیسی شخصیت کے فقدان نے ہمیں مشکلات سے روبرو کردیا ہے ۔

اس پروگرام کے ایک دوسرے مقرر عالمی علماء مشائخ کونسل کے رہنماء عابد شاکری نے یہ کہتے ہوئے کہ انقلاب اسلامی کے عاشقوں میں بروز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہا: 24 سال گزر جانے کے باوجود امام خمینی(رہ) لوگوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں ۔

شاکری نے یہ کہتے ہوئے کہ پاکستان میں بلاتفریق مذہب، حالات سے دلبرداشتہ لوگ دعا کرتے ہیں کہ خدا ایک مرتبہ پھر کوئی خمینی پیدا کر دے تاکید کی: یہ دعائیں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام خمینی(رہ) کتنے عظیم انسان تھے۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ اج شام کو اسرائیل کی مخالفت کی سزاء دی جا رہی ہے بعض نام نہاد مسلم علماء اور عرب شیوخ کی جانب سے اسرائیل کا کھلم کھلا ساتھ دیئے جانے پرشدید تنقید کی ۔

شاکری نے عصر حاضر کے علماء کرام کی سوچ کو مختلف ہونے افسوس کا اظھار کرتے ہوئے کہا: اسرائیل جو عالم اسلام کیلئے سرطان کی حیثیت رکھتا ہے اسے بعض امت مسلمہ کے علماء کی حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ امام خمینی(رہ) جو بھی قدم اٹھاتے تھے وہ خدا کی خوشنودی کیلئے اٹھاتے تھے کہا: جب سے ایران میں انقلاب آیا ہے اسے عالمی پابندیوں کا سامنا ہے مگر اسلامی انقلاب اپنی پوری آب و تاب کیساتھ برقرار ہے ۔

شاکری نے مزید کہا: امام خمینی(رہ) کی تعلیمات سے ہمیں اتحاد و اتفاق بالخصوص علماء کے مابین وحدت کا درس ملتا ہے۔

دوسری جانب جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان گلگت ڈویژن عباس ٹاون یونٹ نے مسجد ابوطالب عباس ٹاون برمس گلگت میں امام خمینی (رہ) کی برسی کا پروگرام منعقد کیا ۔

سیمینار میں جے ایس او کے سابق ڈویژنل صدر عابد رضا جعفری نے تمام مسائل کا حل خط امام خمینی(رہ) کی پیروی میں مضمر جانا ۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان گلگت ڈویژن کے صدر ایوب انصاری نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امام خمینی(رہ) نے انقلاب اسلامی ایران کے ذریعے پوری دنیا کی اسلامی تحریکوں کو دوام بخشا کہا : امام خمینی نے امت کا امام اور حقیقی رہبر ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے اتحاد امت اسلامیہ کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امام خمینی(رہ) نے اپنے دور کے ظالم اور باطل حکمرانوں کو للکارا اور ان کے قائم کئے گئے ظلم کے نظاموں کو چیلنج کیا کہا: امام خمینی(رہ) نے ہمیشہ ہر مظلوم کی حمایت کی اور ہر ظالم و جابر کے خلاف قیام کیا ۔

انصاری نے کہا: امام خمینی (رہ) کی عظیم شخصیت کی برکات کے نتیجے اور اسلامی اصولوں پر پابندی کے سبب ہی ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوا، جو آج تک امام خمینی (رہ) کے نائب حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں منزلوں کو طے کرتا ہوا ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔

انہوں نے مزید کہا : امام خمینی (رہ) کے دیئے ہوئے نظام مملکت اور معاشرت کے بعد عالمی سطح پر موجود اس پروپیگنڈے کا خاتمہ ہوا کہ اسلام کے پاس مملکت چلانے یا عصر جدید کے تقاضوں کے مطابق کوئی لائحہ عمل یا نظام نہیں ہے۔ آپ نے نظریہ ولایت فقیہہ اور حکومت اسلامی کا ڈھانچہ پیش کرکے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ اسلام میں جامع ضابطہ حیات موجود ہے۔

برطانوی مسلمانوں کا مستقبل خطرے میںنارتھ لندن کی مسجد اور اسلامک سنٹر کو شہید کئے جانے کے بعد برطانوی مسلمانوں کے ذہنوں میں فوری طور پر یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ آیا وہ اب اس ملک کے اندر محفوظ ہیں؟ نسل پرستوں نے جس طرح صبح کے ایسے پہر میں مسجد پرحملہ کیا جب سب سوئے ہوئے تھے۔ اس طرح وہ کہیں بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ ان کا اگلا نشانہ کوئی اور مسجد یا کسی مسلمان یا ایشیائی کا گھر ہوسکتا ہے۔ یا پھر وہ کسی مسلمان کے کاروبار پر بھی حملہ کرسکتے ہیں اس تازہ ترین منظر نامے نے مزید کئی سوالوں کو جنم دیا ہے مثلاً یہ کہ آیا انگلش ڈیفنس لیگ(EDL) نے وولچ میں دو انتہاپسند کو مسلموں کی جانب سے برطانوی فوجی کو بہیمانہ طریقے سے قتل کئے جانے کے واقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سارے برطانوی مسلمانوں کے خلاف جنگ کا طبل بجادیا ہے یا پھر یہ کہ آیا مسلمانوں اور سفید فام باشندوں کے اندر موجود انتہا پسندوں برطانوی کمیونیٹز کو تقسیم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں؟ مزید برآں یہ کہ جس طرح بعض امریکی اور مغربی مبصرین نے یہ پیشگوئیاں کر رکھی تھیں کہ مسلم اور مغربی تہذیبوں کے درمیان تصادم کو روکا نہیں جاسکتا تو کیا تہذیبوں کے درمیان تصادم شروع ہوگیا ہے۔ اگرچہ مسجد کو شہید کرنے کا واقع مسلمانوں کے لئے سخت دل آزاری کا باعث ہے مگر اس واقع کی مذمت کرنے میں ساری کمیونیٹز پیش پیش ہیں خاص طور پر نارتھ لندن کی ساری کمیونٹیز نے اس کی مذمت کی ہے اور پولیس بھی اس کو دہشت گردی کا واقع تصور کررہی ہے۔ اس کی تحقیقات بھی اندار دہشت پولیس کررہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کو بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ دہشت گردی صرف مسلمانوں کی طرف سے نہیں ہورہی بلکہ EDL اور BNP کے انتہا پسند بھی دہشت گردی میں ملوث ہیں جس طرح انہوں نے مسجد میں آگ لگائی ہے۔ اس سے لوگوں کی بڑی تعداد ہلاک بھی ہوسکتی تھی تاہم ان دہشت گردوں کا مقصد شاید مسلمانوں کو جانی نقصان پہچانا نہیں تھا بلکہ ڈرانے دھمکانا تھا جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اس وقت برطانیہ کے مسلمان عمومی طور پر اور نارتھ لندن کے مسلمان خصوصی طور پر خود کو محفوظ تصور کررہے ہیں اور بات کا اظہار صومالی اسلامک سینٹر کے ایک رہنما ابوبکر علی نے بھی کیا ہے برطانوی مسلمانوں کے اندر خوف و ہراس کی اس فضا کو قائم کئے جانے کے پیچھے خود بعض مسلمان انتہا پسندوں کا ہاتھ بھی ہے۔ ایک طرف تو دو سیاہ فام نو مسلموں نے لی رگبی کو سر عام دن دیہاڑے بہت سے لوگوں کی موجودگی میں نہ صرف ہلاک کیا بلکہ اس کی گردن کاٹنے کی بھی کوشش کی اور ابھی یہ واقعہ تازہ تھا کہ ایک اور سفید فام نو مسلم نے پرنس ہیری کو نقصان پہچانے کی دھمکی دے ڈالی یہی نہیں بلکہ خود کو مسلمانوں کا لیڈر کہنے والے انتہا پسند سکالر انجم چوہدری نے باقاعدہ یہ بیان داغ دیا کہ لی رگبی پر اب جہنم میں بھی تشدد ہوگا۔ کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھا اس بیان کی باقاعدہ ویڈیو ریکاڈنگ موجود ہے اس میں انجم چوہدری نے بہت سی اور بھی باتیں کی ہیں ان کے اس بیان کو اخبارات نے نمایاں انداز میں شائع کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت سے یہ استفسار بھی کیا ہے کہ اس نے انجم چوہدری کو گرفتار کرکے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ انہوں نے مرے ہوئے برطانوی فوجی کے خلاف اس قدر زہریلے اور توہین آمیز ریمارکس کیوں دےئے ہیں اگرچہ ان کے خلاف مذہبی منافرت کے قانون کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے تاہم پولیس اس سلسلے میں تحقیقات کررہی ہے کہ ان کے خلاف قانون کی کس شق کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ مسجد پر ہونے والے حملے میں انجم چوہدری کی بھی کئی باتوں کا اثر بھی شامل ہو،تاہم وولچ کے واقعہ کے بعد برطانیہ کے بعض بڑے سیاسی رہنماؤں کے جانب سے بھی ایسے بیان سامنے آرہے ہیں جن سے EDL کی حوصلہ افزائی ہورہی ہیں۔ ان لیڈروں میں ایک بڑا نام سابق وزیراعظم ٹونی بلےئر کا ہے جنہوں نے چند روز قبل یہ بیان دیا کہ وولچ میں لی رگبی کے قتل سے ظاہر بھی ہوتا ہے کہ دراصل اسلام کے اندر کوئی مسئلہ موجود ہے اس سے قبل ٹونی بلےئر ہمیشہ یہ کہتے چلے آئے ہیں کے اسلام ایک پر امن مذہب ہے مگر اپنے تازہ ترین بیان میں انہوں نے اپنے کہے کی نفی کردی ہے۔ اور اسلامی آئیڈیالوجی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے ہوسکتا ہے کہ ان کے اس بیان سے بھی EDL کے انتہاپسندوں کے حوصلے بڑھے ہوں اور انہوں نے ٹونی بلےئر سے متاثر ہوکر اسلام کے ایک مرکز کو اڑانے کے لئے نارتھ لندن کے اسلامی سینٹر اور مسجد کا انتخاب کیا ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ ایسا وقت ہے کہ لوگوں کے جذبات بپھرے ہوئے ہیں، لی رگبی کو جس انداز میں قتل کیا گیا اورجس طرح میڈیا میں یہ معاملہ پیش کیا گیا اس سے لوگوں کے اندر جذبات پائے جاتے ہیں۔ EDL اور بی این پی جیسی نسل پرست پارٹیاں ایسے بھی مواقع کا انتظار کرتی ہیں تاکہ نفرت کو ابھارا جاسکے۔ چنانچہ ان نسل پرستوں اور انتہا پسندوں نے مسلمانوں پر کئی وار کئے ہیں۔ صرف دو افراد کے کارروائی کا غصہ سارے مسلمانوں پر اتارا جارہا ہے اور ان سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ اس ملک کو چھوڑ کر چلے جائیں ٹونی بلےئر جیسے بڑے رہنماؤں کو اپنے ریمارکس دینے یا کوئی تحریر لکھتے وقت اپنے الفاظ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ردعمل کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ ای ڈی ایل اور دوسرے انتہا پسند تو مواقع کی تلاش میں ہوتے ہے اور وہ جہاں عاقبت نا اندیش مسلم انتہا پسندوں کے کرتوتوں کو وائیڈر کمیونٹی کے سامنے رکھتے ہیں وہاں ان کے بارے میں قومی رہنماؤں کے بیانات کو بھی نفرت کے لئے استعمال کرتے ہوں لی رگبی کے قتل کے فوراً بعد وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے فوری طور پر یہ بیان دیا تھا کہ اس واقعہ کا اسلام کے ساتھ کچھ دینا نہیں ہے اس ایک بیان کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف فوری طور پر اتنا بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا جتنا کے خود مسلمانوں کو خدشہ تھا۔ تاہم بعد میں سامنے آنے والے بعض لیڈروں کے بیانات نے صورتحال کو خراب کرنے میں مدد ضروری ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم کیمرون نے چھٹیاں گزار کر واپسی پر ہاؤس آف کامنز میں جس طرح برطانیہ میں انتہاپسندی کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کا اعلان کیا ہے اس سے برطانوی مسلمانوں کو اس ملک کے قوانین میں آنے والے دنوں میں سختیوں کا اندازہ ہوجانا چاہئے، وزیراعظم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ سے بار بار پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کو بعض ایسے اختیارات دے دیئے جائیں کہ وہ انتہا پسندوں کی موثر انداز میں جاسوسی کرسکیں۔ ان کی بنائی ہوئی ٹاسک فورس اس حوالے سے کیا اقدامات کرے گی ان کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کیا جاسکتا تاہم یہ بات طے ہے کہ قوانین کو مزید سخت کیا جائے گا۔ قوانین کو سخت کرنے کا یہ سلسلہ ایک دم شروع نہیں ہوا بلکہ 9/11 اور 7/7 کے واقعات اور ان کے بعد پکڑے گئے بعض منصوبوں کے نتیجے میں صدر کا رخ تبدیل ہورہے۔ یہ وہی ملک ہے جس میں مسلمان خود کو سب سے زیادہ محفوظ تصور کرتے تھے۔ آج کیا وجہ ہے کہ وہ خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں یہ بات خود برطانوی مسلمانوں کو بھی سوچنی چاہئے اور اپنے اندر سے کالی بھیڑوں کو باہر نکالنا چاہئے۔ جنہوں نے ان کو اس حالت تک پہنچایا ہے۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

بشکریہ جنگ آن لائن

ڈرون حملہ، نومنتخب حکومت کے لئے امریکی تحفہپاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تحصیل دتہ خیل کے علاقے شوال میں جاسوس طیارے نے گھر پر 2 میزائل داغے۔ ڈرون حملے میں گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ حملے میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے۔ جاسوس طیارے کے میزائل حملے کے بعد علاقے میں خوف پھیل گیا جبکہ حملے کے بعد بھی امریکی جاسوس طیاروں کی پروازیں جاری رہنے سے امدادی کارروائیاں تاخیر سے شروع کی گئیں۔ بعض حلقے ڈرون حملے کو پاکستان کی نو منتخب حکومت کے لئے امریکی تحفہ اور بعض نواز حکومت کے لئے وہائیٹ ہاؤس کے پیغام سے تعبیر کر رہے ہیں۔

ووٹ دینے کو حرام اور جمہوریت کو کفر کہنے والے ہمارے نظریئے کے برخلاف ہیں، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں ووٹ دینا حرام اور جمہوریت کفر ہے، وہ ہمارے نظریے کے برخلاف ہیں، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دو ٹوک کہہ دیا کہ انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی فرید خان کے قتل پر افسوس کا اظہار تو کیا ساتھ یہ بھی کہا کہ جے یو آئی (ف) کے دفاتر کو جلانا سراسر انتقامی کارروائی ہے۔ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی: امام خمینی (رہ) اپنے زمانہ کی بے مثال شخصیت تھی

علامہ سید ساجد علی نقوی نے بانی انقلاب اسلامی ایران حضرت امام خمینی کی 24 ویں برسی کی مناسبت سے اپنے خصوصی پیغام میں عالم اسلام خصوصا شیعیوں اور ایرانیوں کو تعزیت پیش کی ۔

اس پیغام کا مکمل متن یہ ہے : رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی ایک اعلی فقیہہ ، عظیم مجتہد، جید مذہبی رہنما اور شخصیت نہیں بلکہ قابل تقلید سیاسی قائد، مثبت اور تعمیری سیاست کے بانی، عالمی استعماری سازشوں کو بے نقاب کرنے والے، مسلمانوں کو اپنے نظریات اور عمل کے ذریعے وحدت کی لڑی میں پرونے والے، عالم اسلام کو اس کے حقیقی مسائل کی طرف متوجہ کرنے والے، امت مسلمہ کو اس کے داخلی اور خارجی دشمنوں کے چہرے شناخت کرانے والے اور دنیا کو اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہرمیدان میں ارتقاء کے مراحل طے کرنے کی مثال پیش کرنے والے عظیم انسان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی کی جدوجہد میں امام خمینی نے طویل جلا وطنی کے باوجود ایران کے عوام کی تربیت اور رہنمائی اس انداز میں کی کہ وہ پرامن اور شعوری تحریک کے ذریعہ کامیاب ہوئے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا : امام خمینی کی ذات کا ہر پہلوجامع اور روشن ہے، وہ علم میں مرجع اعلی اور مجتہد اعظم، میدان تصنیف میں الحکومتہ الاسلامیہ اور اس جیسی کئی بیش بہا علمی یادگاروں کے مصنف ،اسلامی تاریخ اور فقہ کے تمام موضوعات پر انتہائی دسترس رکھنے والے، زہد وتقوی اور اصلاح نفس کی منزل پر فائز، عابد وشب زندہ دار ،اصلاح معاشرہ کے لیے عملی طور پر سرگرم، اسلام پر جدید اور گہری تحقیق اور تازہ ریسرچ رکھنے والے دینی قائد، اسلامی نظریات کے مطابق حکومت اسلامی کی داغ بیل ڈالنے والے رہنماء تھے۔ امام خمینی کے دئیے ہوئے نظام مملکت اور معاشرت کے بعد عالمی سطح پر موجود اس پروپیگنڈے کا خاتمہ ہواکہ اسلام کے پاس مملکت چلانے یا عصر جدید کے تقاضوں کے مطابق کوئی لائحہ عمل یا نظام نہیں ہے آپ نے نظریہ ولایت فقیہہ اور حکومت اسلامی کا ڈھانچہ پیش کرکے دنیا پر ثابت کردیا ہے کہ اسلام میں جامع ضابطہ حیات موجود ہے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا : امام خمینی گذشتہ صدی کے عظیم مفکر اور اسلامی معاشرے کی برجستہ علمی و انقلابی شخصیت ہیں جنہوں نے علم وشعور اورعمل و کردار کے ذریعے مسلمانوں کی صحیح خطوط پر رہنمائی کرکے پیغمبرانہ فرائض انجام دئیے اور عوام کو اسلامی انقلاب کے ذریعہ صحیح اور آئیڈیل تصویر دکھائی جس کے اثرات آج بھی عالم اسلام میں بالعموم اور مملکت ایران پر بالخصوص نظر آئے۔

انہوں نے مزید کہا: امام خمینی جیسے نابغہ روزگار شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیںامام خمینی دنیائے اسلام کی ایسی معتبر شخصیت ہیںجو علمی اور تحقیقی میدان میں سرکردہ حیثیت کی حامل ہے اور سیاسی وعملی میدان میں بھی رہبری ورہنمائی کا عملی ومثالی نمونہ ہے۔ ایسی ہمہ جہت شخصیات ہی وقت کا دھارا اور عوام کی تقدیر بدلنے کا فریضہ انجام دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ امام خمینی نے اپنے اعلی کردار سے تمام میدانوں میں عوام کی رہنمائی کی اور انہیں اسلامی انقلاب کے ذریعے جدید اسلامی ایران دیا جو آج اپنی پوری قوت اور عزت کے ساتھ دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔