Super User
امام علی علیہ السلام کے مختصر فضائل اور کمالات

حضرت علی علیہ السلام کے فضائل اور کمالات کے بارے میں کچھ لکھنا جتنا آسان ہے اتنا مشکل بھی ہے اس لیے کہ حضرت علی علیہ السلام فضائل و کمالات کا ایسا بیکراں سمندر ہیں جس میں انسان جتنا غوطہ لگاتا جائے گا اتنا زیادہ فضائل کے موتی حاصل کرتا جائے گا یہ ایسا ایسا سمندر ہے جس کی تہہ تک پہنچنا ناممکن ہے۔ کیا خوب کہا خلیل ابن احمد نے جب ان سے امیر المومنین علی علیہ السلام کے فضائل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: کیف اصف رجلاً کتم اعادیه محاسنه و حسداً و احبّائه خوفاً و ما بین الکلمتین ملأالخائفین؛(۱) میں کیسے اس شخص کی توصیف و تعریف کروں جس کے دشمنوں نے حسادت اور دوستوں نے دشمنوں کے خوف سے اس کے فضائل پر پردہ پوشی کی ہو ان دو کرداروں کے درمیان مشرق سے مغرب تک فضائل کی دنیا آباد ہے۔
اس مقالہ میں امیر المومنین علی علیہ السلام کے بعض ان کمالات و فضائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنی زبان مبارک سے بیان فرمائے اور اہلسنت کی معتبر کتابوں میں نقل ہوئے ہیں:
علی (ع) کو خدا اور نبی (ص) کے علاوہ کسی نے نہ پہچانا
سچ مچ یہ کون سی ذات ہے جسے کوئی نہ پہچان سکا کوئی اسے خدا مان بیٹھا اور کوئی اس کی بندگی میں شک کرنے لگا۔
در مسجد کوفه شهیدش کردند گفتند مگر اهل نماز است علی؟!
کہا کہ کیا علی نماز بھی پڑھتے تھے؟! کہ انہیں مسجد کوفہ میں شہید کر دیا۔
اور جس نے علی (ع) کو حقیقی معنی میں پہچانا وہ صرف خدا اور اس کا رسول (ص) ہیں۔
پیغمبر اکرم (ص) نے امیر المومنین (ع) سے خطاب میں کہا: «یا علی ما عرف اللّه حق معرفته غیری و غیرک و ما عرفک حق معرفتک غیر اللّه و غیری؛(۲) اے علی! خدا کو میرے اور آپ کے علاوہ کما حقہ کسی نے نہیں پہچانا، اور آپ کو میرے اور خدا کے علاوہ کما حقہ کسی نے نہیں پہچانا۔۔۔
اور دوسری جگہ فرمایا: «یا علی لایعرف اللّه تعالی الّا انا و انت و لایعرفنی الّا اللّه و انت و لا یعرفک الّا اللّه و انا؛(۳) اے علی ! خدا کو میرے اور آپ کے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا اور مجھے خدا اور آپ کے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا اور آپ کو میرے اور خدا کے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا۔
لا تحصیٰ فضائل
وہ پیغمبر جنہوں نے علی علیہ السلام کی شناخت کا اعتراف کیا انہوں نے آپ(ع) کے فضائل کو شمار سے باہر بتلایا کہ علی فضائل انتے زیادہ ہیں کہ کوئی انہیں شمار میں نہیں لا سکتا۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: «لو انّ الفیاض(۴) اقلام و البحر مدادٌ و الجنّ حسّابٌ و الانس کتابٌ مااحصوا فضائل علیّ بن ابی طالبٍ؛(۵) اگر تمام درخت قلم، تمام دریا سیاہی، تمام جن حساب کرنے اور تمام انسان لکھنے بیٹھ جائیں تو علی علیہ السلام کے فضائل کا شمار نہیں کر سکتے۔
اور دوسری جگہ آپ نے فرمایا: «انّ اللّه تعالی جعل لاخی علیٍّ فضائل لاتحصی کثرة فمن ذکر فضیلةً من فضائله مقرّابها غفر اللّه له ما تقدّم من ذنبه و ماتأخّر ‘‘ بیشک خداوند عالم نے میرے بھائی علی کے لیے بے شمار فضائل قرار دئے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان میں سے ایک فضیلت کو عقیدت کے ساتھ بیان کرے تو اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔ . و من کتب فضیلةً من فضائله لم تزل الملائکة تستغفرله ما بقی لتلک الکتابه رسم، و من استمع فضیلةً من فضائله کفّر اللّه له الذّنوب الّتی اکتسبها بالاستماع و من نظر الی کتابٍ من فضائله کفّر اللّه له الذّنوب الّتی اکتسبها بالنّظر،(۶) اور اگر کوئی شخص ان فضائل میں سے کسی ایک کو لکھے تو جب تک وہ نوشتہ باقی رہے گا ملائکہ اس کے لیے استغفار کرتے رہیں گے اور اگر کوئی ان فضائل میں سے کسی ایک کو سنے تو خدا وند عالم اس کے ان تمام گناہوں کو جو اس نے کان کے ذریعے سے انجام دئے ہوں گے معاف کر دے گا۔ اور اگر کوئی شخص علی کے فضائل کے نوشتہ پر نگاہ کرے گا تو خدا اس کے ان تمام گناہوں کو جو اس نے آنکھ کے ذریعے انجام دئے ہوں گے معاف کر دے گا۔
آپ تنہا تمام کمالات کے مالک ہیں
علی علیہ السلام نہ صرف تمام اچھے لوگوں کے صفات کے تنہا حامل ہیں بلکہ پیغمبر اسلام (ص) کے علاوہ تمام اولو العزم پیغمبروں کے اوصاف کا بھی خلاصہ ہیں۔
اہلسنت و الجماعت کے ایک معروف عالم بیہقی نے پیغمبر اکرم (ص) سے یوں روایت کی ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: «من احبّ ان ینظر الی آدم فی علمه و الی نوحٍ(ع) فی تقواه و ابراهیم فی حلمه و الی موسی فی عبادته فلینظر الی علی بن طالب علیه الصّلوة و السّلام؛(۷) جو شخص آدم (ع) کے علم کو، نوح (ع) کے تقویٰ کو، ابراہیم (ع) کے حلم کو اور موسی(ع) کی عبادت کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ علی بن ابی طالب پر نگاہ کرے۔
اسی روایت کو دوسرے انداز میں بھی نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: «من اراد ان ینظر الی آدم فی علمه و الی نوح فی مهمه و الی یحیی بن زکریّا فی زهده، و الی موسی بن عمران فی بطشه، فلینظر الی علی بن ابی طالب علیه السلام؛(۸) جو شخص آدم کو ان کے علم میں، نوح کو ان کے فہم و ادراک میں، یحییٰ کو ان کے زہد میں اور موسی کو ان کی عبادت میں دیکھنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ علی بن ابی طالب پر نگاہ کرے۔
علی علیہ السلام سے پیغمبر اکرم(ص) کو محبت
جو شخص تمام اوصاف کا مالک ہو وہ تمام دلوں کا محبوب ہوتا ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) جو خود تمام کائنات کے محبوب ہیں وہ علی علیہ السلام سے عشق و محبت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس لیے کہ آیت مباہلہ سے یہ ثابت ہے کہ علی (ع) نفس پیغمبر ہیں ’’ انفسنا‘‘ اور ہر انسان کو اپنی جان سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ لہذا جب علی علیہ السلام نفس و جان پیغمبر ہیں تو یقینا ان کے نزدیک سب سے زیادہ عزیز ہیں۔
اسی وجہ سے پیغمبر اکرم (ص) نے بارہا فرمایا : «من احبّ علیّاً فقد احبّنی...؛(۹) جو علی کو دوست رکھے مجھے دوست رکھے گا۔ نیز فرمایا: «محبّک محبّی و مبغضک مبغضی؛(۱۰) تمہارا دوست میرا دوست ہے اور تمہارا دشمن میرا دشمن ہے۔
ایک شخص نے پیغمبر اکرم (ص) سے پوچھا: «یا رسول اللّه انّک تحبّ علیّاً؟ قال: او ماعلمت انّ علیّاً منّی و انا منه؛(۱۱) اے رسول خدا آپ علی کو چاہتے ہیں؟ فرمایا: کیا تم نہیں جانتے علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔
مناقب میں پوری سند کے ساتھ رسول اسلام (ص) سے نقل ہوا ہے: «انّ اللّه عزّ و جلّ امرنی بحبّ اربعةٌ من اصحابی و اخبرنی انّه یحبّهم. قلنا: یا رسول اللّه من هم؟ فلکنّا یحبّ ان یکون منهم، فقال: الا انّ علیّاً منهم ثم سکت، ثمّ قال: الا انّ علیّاً منهم ثمّ سکت؛(۱۲) خداوند عالم نے مجھے اپنے صحابیوں میں سے چار صحابی کو دوست رکھنے کا حکم دیا ہے اور اس نے خبر دی ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے۔ میں نے پوچھا اے رسول خدا وہ کون ہیں؟ ہم میں سے بھی ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ ان میں سے ہو۔ رسول اسلام(ص) نے فرمایا: آگاہ ہو جاو علی ان میں سے ایک ہیں۔ اس کے بعد آپ خاموش ہو گئے پھر دوبارہ فرمایا: یقینا علی ان میں سے ایک ہیں اور اس کے بعد آپ نے خاموشی اختیار کر لی۔
عائشہ کہتی ہیں: پیغمبر اکرم (ص) جب حالت احتضار میں تھے تو فرمایا: ادعوا الیّ حبیبی؛ میرے دوست کو میرے پاس بلاو۔ میں ابوبکر کی تلاش میں گئی اور انہیں بلا کر لائی۔ جب ابوبکر پیغمبر اکرم (ص) کے پاس آئے تو پیغمبر اکرم (ص) ان سے اپنی نگاہیں موڑ لی اور پھر فرمایا: ادعوا الیّ حبیبی؛ حفصہ عمر کی تلاش میں گئیں اور عمر کو بلا کر لائیں جونہی پیغمبر کی نگاہ عمر پر پڑی تو آپ نے فورا منہ پھیر لیا۔ پھر فرمایا: ادعوا الیّ حبیبی؛ عائشہ کہتی ہیں: میں نے کہا وائے ہو تم لوگوں پر رسول خدا (ص) علی بن ابی طالب کو بلوانا چاہتے ہیں۔ خدا کی قسم وہ صرف علی کو چاہتے ہیں۔ اس کے بعد علی علیہ السلام کو بلوایا گیا جب پیغمبر اسلام (ص) نے علی کو دیکھا تو انہیں سینے سے لگایا، اس کے بعد انہیں ایک ہزار حدیثیں تعلیم کی کہ جن میں سے ہر ایک ہزاروں حدیثوں کا باب تھی۔(۱۳)
ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: «علیّ منّی مثل رأسی من بدنی؛(۱۴) علی میرے نزدیک ایسے ہیں جیسے میرے بدن پر سر ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی علی علیہ السلام سے محبت کسی غرض کے تحت نہیں تھی بلکہ آپ میں موجود فضائل و کمالات کی بنا پرآپ سے محبت تھی جو فضائل و کمالات خود پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی زبان مبارک سے گاہ بگاہ بیان فرمائے تھے۔
علی علیہ السلام کا علم
علی علیہ السلام وہ شخص نہیں جنہوں نے کسی مدرسے یا کسی معلم کے پاس علم اکتساب کیا ہو بلکہ آپ کا علم ’’ علم لدنی‘‘ ہے یعنی خداوند عالم کی طرف سے عطا کردہ ہے۔ اسی وجہ سے آپ کا علم تمام انسانوں سے برتر اور کسی سے قابل قیاس نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلسنت کے منابع میں آپ کو ’’ اعلم الناس‘‘ کہا گیا ہے ذیل میں چند موارد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
۱: پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: «اعلم امّتی من بعدی علیّ بن ابی طالب علیه السّلام؛(۱۵) میری امت میں سب سے زیادہ دانا اور عالم شخص علی بن بن ابی طالب ہیں۔
۲: عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں: پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: «قُسّمت الحکمة علی عشرة اجزاءٍ فاعطی علیّ تسعة و النّاس جزءً واحداً؛(۱۶) حکمت اور علم کے دس جزء اور حصے ہیں جن میں سے نو صرف علی کو عطا کئے گئے ہیں اور ایک حصہ باقی امت کے پاس ہے۔
تمام بشری علوم اور عصر حاضر کی ترقیاں علم کے اسی دسویں حصے کا نتیجہ ہیں اور علی علیہ السلام کا علم تمام انسانوں کے علم سے نو گنا زیادہ ہے۔ اور اس کا راز یہ ہے کہ اس کا سرچشمہ وحی الہی ہے یعنی پیغمبر اکرم (ص) کے ذریعے اللہ کی جانب سے علم ان تک منتقل ہوا ہے جیسا کہ خود آپ (ص) نے فرمایا: انا مدینة العلم و علیٌ بابها، فمن ارادالعلم فیأت الباب؛(۱۷) میں شہر علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں جو شخص شہر علم میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اسے چاہیے کہ دروازے سے داخل ہو۔
۳: جناب عائشہ علی علیہ السلام کے بارے میں کہتی ہیں: «هو اعلم النّاس بالسّنة؛(۱۸) علی سنت پیغمبر کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔
اے کاش خود عائشہ اس حدیث پر عمل کر لیتیں اور جنگ جمل میں امیر المومنین علی علیہ السلام کی نصیحتوں پر عمل کر لیتیں۔
۴: پیغمبر اکرم (ص) نے جناب فاطمہ زہرا (س) کو علی علیہ السلام کے عقد میں دے کر شادی کروا کر فرمایا: «زوّجتک خیر اهلی، اعلمهم علماً و افضلهم حلماً و اوّلهم سلماً؛(۱۹) میں نے آپ کی شادی سب سے بہترین رشتہ دار سے کرائی ہے جو علم میں سب سے زیادہ عالم، حلم میں سب سے افضل، اور اسلام قبول کرنے میں سابق ترین شخص ہے۔
علی (ع) کی عبادت اور بندگی
امیر المومنین علی علیہ السلام کی عبادت ’’شہرہ آفاق‘‘ رکھتی ہے۔ علم لدنی کے مالک خداوند عالم کی جتنی معرفت رکھتے ہیں اسی مقدار میں اس کی عبادت اور اس کی بارگاہ میں راز و نیاز اور راتوں کو جاگ جاگ کر مناجات کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ خداوند عالم ملائکہ کے سامنے حضرت علی علیہ السلام کی عبادتوں پر فخر کرتا ہے۔
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:ایک دن صبح سویرے جبرئیل انتہائی خوشی کے ساتھ میرے پاس آئے میں نے پوچھا: میرے دوست کیا بات ہوئی ہے کہ آج آپ اتنے خوش نظرآ رہے ہیں؟ کہا: اے محمد! کیونکر خوش نہ ہوں جبکہ خداوند عالم نے جو اکرام و انعام آپ کے بھائی، جانشین اور امام امت علی بن ابی طالب پر کیا ہے اس نے میری آنکھوں کو نورانی کر دیا ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: کیسے خدا نے میرے بھائی اور امام امت کو اکرام سے نوازا ہے؟
«قال: باهی بعبادته البارحة ملائکته و حملة عرشه و قال: ملائکتی انظروا الی حجّتی فی ارضی علی عبادی بعد نبیّی، فقد عفر خدّه فی التّراب تواضعاً لعظمتی، اشهدکم انّه امام خلقی و مولی بریّتی؛(۲۰) فرمایا: خداوند عالم نے علی کی گزشتہ رات کی عبادت پر ملائکہ اور حاملین عرش کے سامنے اتنا فخر کیا ہے اور فرمایا ہے: اے میرے فرشتو! دیکھو میرے نبی کے بعد میرے بندوں پر میری حجت کو، کہ کس طرح سے اس نے اپنا چہرا اور رخسار خاک پر رکھا ہوا ہے میری عظمت کے سامنے اس کے اس تواضع کی وجہ سے میں تمہیں گواہ بناتا ہے کہ وہ میری مخلوق کا رہبر ہے اور میرے بندوں کا وارث اور سرپرست ہے۔
شیعہ کتابوں میں علی علیہ السلام کی عبادت کے بارے میں اتنے واقعات نقل ہوئے ہیں کہ جن کو بیان کرنے کے لیے ایک مفصل کتاب کی ضرورت ہے۔ اس مختصر مقالہ میں صرف ایک واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
ضرار بن ضمرہ معاویہ کے دربار میں علی علیہ السلام کے بارے میں کہتا ہے: میں خدا کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے علی کو کئی مربتہ دیکھا جب رات ہر چیز کو اپنی گھٹا میں ڈبو دیتی تھی اور آسمان پر ستارے سامنے آ جاتے تھے تو اس وقت میں دیکھتا تھا کہ علی محراب عبادت میں کھڑے ہوتے تھے اور اپنی داڑھی کو ہاتھ میں لیے ہوتے تھے اور اس شخص کی طرح تڑپ رہے ہوتے تھے جس کو سانپ نے کاٹ دیا ہو اور اس شخص کی طرح گریہ و زاری کرتے تھے جس کو شدید غم لگ گیا ہو۔۔۔ ( علی کے گریہ و زاری کی آوازیں ابھی بھی میرے کانوں میں گونجتی ہیں جو وہ کہتے تھے) آہ آہ قلت الزاد و طول السفر (زاد سفر کتنا تھوڑا اور سفر کتنا طولانی، راستہ کتنا کٹھن اور منزل کتنی دور)۔
یہ ماجرا سن کر معاویہ کے آنسو بھی نکل آئے اس نے آستین سے آنسو پوچھے اور سننے والے دوسرے لوگ بھی آنسو پوچھنے لگے۔ پھر معاویہ نے کہا: ہاں ابو الحسن ایسے ہی تھے۔(۲۱)
امامت علی (ع)
دریائے علم کے مالک اور بے مثل و نظیر عبادتگزار ہی کے لیے سزاوار ہے کہ امام امت ہو۔ وہ روایات جو امام علی علیہ السلام کے بلا فصل امام ہونے پر اہلسنت کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں اتنی زیادہ ہیں کہ انہیں یہاں پر بیان نہیں کیا سکتا ہے جیسے حدیث ثقلین، حدیث منزلت، حدیث یوم الدار، حدیث غدیر اوراس طرح کی معروف حدیثیں حد تواتر سے بھی زیادہ ہیں جو سب اہلسنت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ہم یہاں پر چند ایک روایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کی دلالت صریح ہے اور معمولا بہت کم بیان کی جاتی ہیں:
۱: پیغمبر اکرم (ص) نے علی علیہ السلام سے فرمایا: اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنیں تاکہ مقربین میں سے ہوں عرض کیا یا رسول اللہ کون سے انگوٹھی پہنوں؟۔ فرمایا: عقیقِ سرخ کی۔ چونکہ یہ وہ پتھر ہے جس نے خدا کی وحدانیت کا اقرار کیا ہے «ولی بالنّبوّة ولک بالوصیّة ولولدک بالامامة...؛(۲۲) اور میری نبوت، آپ کی بلافصل جانشینی اور آپ کے بعد گیارہ اماموں کی امامت کا اقرار کیا ہے۔
۲: ابن بریدہ سے نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: «لکلّ نبیٍّ وصیّ و وارث و انّ علیّاً وصییی و وارثی؛(۲۳) ہر پیغمبر کا ایک جانشین اور وارث ہے میرا جانشین اور وارث علی ہیں۔
۳: حضرت علی علیہ السلام کی عبادت کے سلسلے میں جواوپر روایت بیان ہوئی ہے اس میں خدا نے کہا ہے کہ میں فرشتوں کو گواہ بناتا ہوں کہ علی میری مخلوق کے امام اور میرے بندوں کے وارث و سرپرست ہیں «اشهدکم انّه امام خلقی و مولی بریّتی؛(۲۴)
۴: عمرو بن میمون نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (ص) نے علی علیہ السلام سے فرمایا: «انت ولیّ کلّ مؤمنٍ بعدی؛(۲۵) اے علی! آپ میرے بعد رہبر اور مومنین کے سرپرست ہیں۔
اس حدیث میں لفظ ’’ بعدی‘‘ سے ایک دم واضح ہو جاتا ہے کہ علی علیہ السلام پیغمبر اکرم کے بلافصل جانشین ہیں ورنہ اس حدیث کے کوئی معنی نہیں رہ جائیں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے امیر المومنین علی علیہ السلام کے فضائل و کمالات بیان کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں چھوڑی مختلف طریقوں اور مختلف مناسبتوں سے آپ کو امت کا امام اور اپنا جانشین متعارف کروایا۔ یہاں تک کہ غدیر کے میدان میں سوا لاکھ حاجیوں کے مجمع میں آپ کا ہاتھ اٹھا کر فرمایا دیا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولی ہیں۔ اور قرآن کریم جیسی جاویدانی کتاب کے ساتھ علی علیہ السلام کو بھی جاویدانگی حیات عطا کرتے ہوئے فرمایا: «علی مع القرآن و القرآن مع علی لن یفترقا...؛(۲۶) علی قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی کے ساتھ اور یہ دونوں ہر گز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔
اور کبھی علی علیہ السلام کو حق کا محور اور مزکر قرار دیا اور اس حدیثِ متواتر میں فرمایا: «علیّ مع الحقّ و الحقّ مع علیّ و لن یفترقا حتی یردا علیّ الحوض یوم القیامة؛(۲۷) علی حق کے ساتھ اور حق علی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں ہر گز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ روز قیامت حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوں۔
ایک اور روایت میں فرمایا: «سیکون من بعدی فتنة، فاذا کان ذلک، فالزموا علی بن ابی طالب، فانّه الفاروق بین الحقّ و الباطل؛(۲۸) عنقریب میرے بعد فتنہ اور اختلاف ہو گا پس تم لوگ علی بن ابی طالب کا ساتھ دینا اس لیے کہ حق اور باطل کے درمیان فرق ڈالنے والے صرف علی ہیں۔
اور فرمایا: جو شخص علی سے الگ ہو وہ مجھ سے الگ ہے اور جو مجھ سے الگ ہو جائے خدا سے دور ہو جائے گا۔(۲۹)
قرآن علی (ع) کی شان میں
اہلسنت کے علماء اور مفسرین نے قرآن کریم کی بہت ساری آیتیں امام علی علیہ السلام کی شان میں ذکر کی ہیں اور اس بات کی تائید کی ہے کہ پیغمبر اکرم نے ان کے نزول کے بعد فرمایا تھا کہ یہ آیتیں علی(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہیں جیسا کہ ابن حجر، خطیب بغدادی، سیوطی، گنجی، شافعی، ابن عساکر، شیخ سلیمان قندوزی و۔۔۔ نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: «نزلت فی علیّ ثلاث مأئة آیه؛(۳۰) علی کہ شان میں تین سو آیتیں نازل ہوئی ہیں۔
نیز ابن عباس نے پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: «ما انزل آیة فیها «یا ایّها الذین آمنوا» و علیّ رأسها و امیرها؛ کوئی آیت ایسی نازل نہیں ہوئی جس مومنین کو مخاطب کیا ہواور علی امیر مومنین ہونے کی وجہ سے اس کے پہلے مخاطب نہ ہو۔(۳۱) یعنی یہ تمام آیات سب سے پہلے علی علیہ السلام کی شان میں ہیں۔
علی علیہ السلام کی اطات
جب علی علیہ السلام امام اور رہبر ہیں محبوب پیغمبر ہیں علم لدنی کے مالک ہیں خدا کی بندگی میں بالاترین مقام پر فائز ہیں حق و باطل کے درمیان فرق پیدا کرنے والے ہیں حق ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے قرآن ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے تو ایسے شخص کی اطاعت اور پیروی کرنا پوری امت مسلمہ پر واجب ہو جاتا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے امیر المومنین علی علیہ السلام کی اطاعت کرنے کے لیے عجیب تعبیرات کا استعمال کیا ہے جن کے نمونے درج ذیل ایک حدیث میں ہیں:
۱: سلمان نے حضرت زہرا (س) سے نقل کیا کہ آپ نے رسول خدا(ص) سے نقل فرمایا کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا: علیکم بعلیّ بن ابی طالب علیه السّلام فانّه مولاکم فاحبّوه، و کبیرکم فاتّبعوه، و عالمکم فاکرموه، و قائدکم الی الجنّة(فعزّزوه) و اذا دعاکم فاجیبوه و اذا امرکم فاطیعوه، احبّوه بحبّی و اکرموه بکرامتی، ماقلت لکم فی علیٍّ الّا ما امرنی به ربّی جلّت عظمته؛(۳۲) تم لوگوں پر علی کی اطاعت واجب ہے چونکہ وہ تمہارے مولا ہیں انہیں دوست رکھو اور تمہارے بزرگ ہیں ان کی اتباع کرو تمہارے عالم ہیں ان کا اکرام اور احترام کرو اور جنت کی طرف لے جانے والے تمہارے رہبر ہیں انہیں عزیز سمجھو وہ جب تمہیں کسی کام کی طرف بلائیں ان کی اطاعت کرو میرے محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرو میری بزرگی کی وجہ سے انہیں بزرگ سمجھو میں نے علی کے بارے میں تم سے وہی کہا ہے جو میرے پروردگار نے مجھے حکم دیا ہے۔
یہ حدیث اس قدر واضح اور آشکار ہے کہ مزید اس کے بارے میں کوئی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے پیغمبر اکرم نے اس میں واضح طور پر فرما دیا ہے کہ میں نے جو کچھ علی کے بارے میں کہا ہے سب اللہ کے حکم سے کہا ہے۔ یقینا اگر امت مسلمہ صرف اسی حدیث پر عمل پیرا ہو جاتی تو کسی قسم کے انحراف اور اختلاف کا شکار نہ ہوتی۔
۲: پیغمبر اکرم (ص) نے جناب عمار سے فرمایا: «یا عمّار! ان رأیت علیّاً قدسلک وادیّاً و سلک النّاس وادیاً غیره فاسلک مع علیّ ودع النّاس انّه لن بدلک علی ردی و لن یخرجک من الهدی؛(۳۳) اے عمار! اگر تم دیکھو کہ علی ایک طرف جا رہے ہیں اور دیگر تمام لوگ دوسری طرف جا رہے ہیں تو تم علی کے ساتھ جانا اور باقی لوگوں کو چھوڑ دینا اس لیے کہ علی گمراہی کی طرف رہنمائی نہیں کریں گے اور راہ ہدایت سے الگ نہیں کریں گے۔
لیکن افسوس سے کہنا سے پڑتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس راستے سے منحرف ہو گئی جس پر علی علیہ السلام چل رہے تھے اور جناب عمار کو پیغمبر اکرم (ص) کی طرف سے کی گئی اس وصیت نظر انداز کر کے لوگوں نے علی علیہ السلام کا ساتھ نہ دیا اور نتیجہ میں سب نے گمراہی کا راستہ انتخاب کر لیا اور عالم اسلام کے اندروہ مشکلات وجود میں آگئیں جو نہیں آنا چاہیے تھیں اورآج تک امت مسلمہ اپنے کئے کا خمیازہ بگت رہی ہے۔ نہ دنیا میں سکون ملا اور نہ آخرت میں نصیب ہو گا۔ امت مسلمہ کی اکثریت نے علی علیہ السلام کا ساتھ چھوڑ کر ان کا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ اپنا سب کچھ بگاڑ دیا۔ علی علیہ السلام تو وارث دوجہاں ہیں ہی کوئی انہیں مانے یا نہ مانے، علی(ع) امام برحق ہیں ہی کوئی انہیں قبول کرے یا کرے۔ علی (ع) قسیم النار و الجنہ ہیں ہی کوئی مانے یا مانے۔ دنیا میں تو ان سے بھاگ سکتے ہیں آخرت میں بھی بھاگ کر دکھائیں تو تب بتائیں۔
تحرير : جعفری
حوالہ جات
۱ـ روضة المتقین، ج 13، ص 265.
۲ـ مناقب ابن شهرآشوب، ج 3، ص 268.
۳ـ محمد تقی مجلسی، روضة المتقین، ج 13، ص 273.
۴ـ بحارالانوار، ج 28، ص 197 و بحار ج 35، ص 8 ـ 9.
۵ـ المناقب، الموفق بن احمد الخوارزمی، قم، جامعه مدرسین، چاپ چهارم، ص 32، ابن شاذان، مأة منقبه، قم مدرسة الامام المهدی(ع)، ص 177، حدیث 99، یہ حدیث اہلسنت کے عسقلانی، لسان المیزان، ج 5، ص 62، ذهبی، میزان الاعتدال، ص 467و...میں آئی ہے۔
۶ـ المناقب، وہی، ص 32، حدیث 2؛ فرائد السمطین، ج 1، ص 19، ینابیع المودة، قندوزی باب 56، مناقب السبعون، حدیث 70.
۷ـ بنقل از شیخ طوسی، امالی، قم، دارالثقافه، 1416، ص 416، مجلس 14، دیلمی، ارشادالقلوب، انتشارات شریف رضی، 1412 هـ.ق، ج 2، ص 363؛ علامه حلّی، شرح تجرید الاعتقاد، جامعه مدرسین قم، ص 221.
۸ـ المناقب همان، ص 83، حدیث 70، و ص 311، حدیث 309.
۹ـ کنزالعمّال، متقی هندی، بیروت، مؤسسة الرساله، ج 11، ص 622، حدیث 33024.
۱۰ـ وہی حوالہ ، روایت 33023.
۱۱ـ المناقب، همان، ص 64.
۱۲ـ وہی حوالہ ، ص 69، حدیث 42.
۱۳ـ خصال صدوق، جامعه مدرسین، ج 2، ص 651.
۱۴ـ المناقب، وہی حوالہ ، ص 144، روایت 167.
۱۵ـ وہی حوالہ ، ص 82، روایت 67، فرائد السمطین، جوینی، ج 1، ص 97، کفایة الطالب، الکرخی ص 332.
۱۶ـ وہی حوالہ ، ص 82، روایت 68 ؛ و حلیة الاولیاء، ابی نعیم، ج 1، ص 64.
۱۷ـ المناقب، وہی حوالہ ، ص 91، روایت 84، انساب الاشراف، ج 2، ص 124.
۱۸ـ کنزالعمّال، وہی حوالہ ، ج 11، ص 605، حدیث 32926.
۱۹ـ المناقب، وہی حوالہ ، ص 319، حدیث 322.
۲۰ـ بحارالانوار، داراحیاء التراث العربی، ج 41، ص 21 ذیل روایت 28.
۲۱ـ اشک شفق، ص 182.
۲۲ـ المناقب، ص 85، روایت 84..
۲۳ـ وہی حوالہ ، ص 319، حدیث 322.
۲۴ـ ابن کثیر دمشقی، البدایة و النهایة، بیروت، مکتبة المعارف، ج 7، ص346.
۲۵ـ المستدرک علی الصحیحین، حاکم نیشابوری، بیروت، دارالمعرفه، ج 3، ص 124، ینابیع المودة، سلیمان قندوزی، باب 20، ص 103، تاریخ الخلفاء سیوطی، باب فضائل علی(ع)، ص173.
۲۶ـ المستدرک للحاکم همان، ج 3، ص 124، حدیث 61، فرائد السمطین، همان، ج 1، ص 439، ینابیع المودة، همان، باب 20، ص 104، هیثمی، مجمع الزوائد، ج 9، ص 135.
۲۷ـ المناقب، همان، ص 105، روایت 108.
۲۸ـ وہی حوالہ ، ص 105، روایت 109.
۲۹ـ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج 6، ص 221، شماره 3275؛ ینابیع المودة، همان، باب 42، ص 148؛ تاریخ دمشق، ابن عساکر، ج 2، ص 431.
۳۰ـ المناقب، وہی حوالہ ، ص 267، ح 249.
۳۱ـ المناقب، وہی حوالہ ، ص 316، حدیث 316؛ فرائد السمطین، ج 1، ص 78.
۳۲ـ کنزالعمال، وہی حوالہ ، ج 11، ص 614، روایت 32971.
۳۳ـ تاریخ بغداد، خطیب بغدادی، ج 4، ص 410، و ابونعیم، حلیة الاولیاء، ج 1، ص
سعودی عرب کا ہزاروں ہندوستانی کارکنوں کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ
سعودي عرب کي حکومت نے ہزاروں ہندوستان ملازمين اور محنت کشوں کو اپنے ملک سے نکال دينے کا فيصلہ کيا ہے۔
سعودي عرب ميں پاس ہونےوالے نئے قانون کے مطابق عنقريب تقريبا چھپن ہزار ملازمين اور محنت کش نکال دئے جائيں گے۔ہندوستان کے وزير خارجہ سلمان خورشيد نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے دس افراد پر مشتمل ايک ٹيم سعودي عرب بھيجنے کا فيصلہ کيا ہے جو ان ہندوستاني شہريوں کو سعودي عرب سے ہنگامي حالت ميں نکالے جانے کا سرٹيفکٹ تيار کرے گي۔
يہ ايسي حالت ميں ہے کہ يہ ہندوستاني ملازمين اسي وقت واپسي کا سرٹيفکٹ حاصل کرسکيں گے جب انہيں مقامي انتظاميہ کي طرف سے کليرنس مل جائے گي۔ ہندوستان کے وزير خارجہ سلمان خورشيد نے کہا کہ اب تک چھپن ہزار سے زائد ہندوستانيوں نے ہندوستاني سفارتخانے ميں اپنا نام لکھا ديا ہے يہ وہ لوگ ہيں جن کے پاس معتبر ويزا اقامہ اور حتي پاسپورٹ بھي نہيں ہے۔
اطلاعات ہيں کہ ہندوستاني وزير خارجہ سلمان خورشيد اس معاملے پر اپني سعودي ہم منصب سعود الفيصل سے بات چيت کے لئے رياض جانےوالے ہيں -سعودي عرب کے تازہ قانون نطاقات کے مطابق سعودي کمپنيوں کو اس بات کا پابند بنايا گيا ہے کہ وہ دس فيصد ملازمين سعودي نوجوانوں کو ہي رکھيں۔سعودي عرب کي حکومت نے ملک ميں غير قانوني طريقے سے کام کرنےوالے غير ملکي شہريوں کو آئندہ چھ جولائي تک کي مہلت دي ہے کہ وہ سعودي عرب سے چلے جائيں۔
انتخابات میں ملت ایران کی شرکت، اسلامی نظام کا تحفظ
تہران کی مرکزی نمازجمعہ آیت اللہ محمد علی موحدی کرمانی کی امامت میں ادا کی گئی۔
خطیب نماز جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے ایران میں ہونے والے آئندہ صدارتی انتخابات میں ملت ایران کی وسیع شرکت کو ایران کے دشمنوں کی سازشوں کے مقابل اسلامی جمہوری نظام کے تحفظ کا سبب قراردیا۔آیت اللہ موحدی کرمانی نے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ جون میں ہونے والے ایران کے صدارتی انتخابات میں ملت ایران کی وسیع شرکت ایک عظیم کارنامہ ہوگی جو ایران کے اسلامی جمہوری نظام اور اسلامی انقلاب کے تحفظ کا سبب بنےگی۔خطیب نماز جمعہ تہران نے کہا کہ ہر ایرانی جو ایران سے محبت رکھتا ہے اس کو ان انتخابات کے عمل میں فعال شرکت کرنی چاہئیے۔آیت اللہ موحدی کرمانی نے ان خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جن کا حامل آئندہ صدر کو ہونا چاہئے کہا کہ یہ اہم عہدہ اختیار کرنے والے شخص کو رہبر انقلاب اسلامی کی ہدایات کے مطابق متقی، مدبر، منتظم، سامراج مخالف، انصاف پسند اور سادگی پسند ہونا چاہئیے۔خطیب نماز جمعہ تہران نے ایران پر عراق کی مسلط کردہ جنگ کے دوران بعثی حکومت کے قبضے سے ایران کے خرم شہر کی آزادی کی سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خدا پر ایمان اور ملت ایران کی صبر و استقامت خرم شہر کی آزادی کا سبب بنی۔انہوں نے شام میں دہشت گردں کے خلاف شامی فوج اور عوام کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں کے مقابل شامی عوام کی استقامت کے ثمرات سامنے آنے والے ہیں۔
حجابِ حضرت فاطمہ زھرا (س) اور عصر حاضر کی خواتین

حضرت فاطمہ زھرا (ع) کی تاریخ ولادت کے سلسلہ میں علماء اسلام کے درمیان اختلاف ہے۔ لیکن اہل بیت عصمت و طہارت کی روایات کی بنیاد پر آپ نے بعثت کے پانچویں سال ۲۰ جمادی الثانی، بروز جمعہ مکہ معظمہ میں اس دنیا میں تشریف لا کر اپنے وجود مبارک سے اس دنیا کو معطر کیا، حضرت فاطمہ زھرا (ع) دنیا کی وہ خاتون ہیں کہ جن کو خدا نے فرشتوں کے ذریعے سلام بھیجا اور آپ کا در وہ در یے کہ جہاں فرشتے بھی اجازت لے کر داخل ہوتے تھے، یہ مقام جو خدا نے فاطمہ زھرا (ع) کو دنیا و آخرت میں عطا کیا پے آج تک نہ کسی کو حاصل ہوا ہے نہ ہو گا، آپ کی سیرت مسلم خواتین کے لئے مشعل راہ ہے، آج کی عورت اگر آپ کی زندگی کو اپنے لئے اسوہ بنا لے تو اسوقت خواتین جن مشکلات میں گرفتار ہیں وہ برطرف ہو جائیں گی۔
فضائل حضرت زہرا (س)
حضرت فاطمہ زہرا (س) عالم اسلام کی ایسی باعظمت خاتون ہیں جن کی فضیلت زندگی کے ہر شعبے میں آشکار ہے اور عظمتوں کے اس سمندر کی فضلیتوں کو قرآنی آیات اور معصومین (ع) کی روایات میں ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت زہرا (س) کے فضائل کے بیان میں بہت زیادہ روایتیں وارد ہوئی ہیں، اور بعضں آیات کی شان نزول اور تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت زہرا (س) کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ تفسیر فرات کوفی میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ "انا انزلناہ فی لیلۃ القدر" میں "لیلۃ" سے مراد فاطمہ زہرا (س) کی ذات گرامی ہے اور "القدر" ذات خداوند متعال کی طرف اشارہ ہے۔ لہذٰا جسے بھی فاطمہ زہرا (س) کی حقیقی معرفت حاصل ہو گئی اس نے لیلۃ القدر کو درک کر لیا، آپ کو فاطمہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ لوگ آپ کی معرفت سے عاجز ہیں۔
علامہ مجلسی (رہ) انس بن مالک اور بریدہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے سورہ نور کی ۳۷ویں آیت کی تلاوت فرمائی" فی بیوت اذن الله ان ترفع و یذکر اسمه یسبح له فیها بالغدو والاصال" تو ایک شخص کھڑا ہوا اور رسول خدا (ص) سے دریافت کیا؛ یا رسول اللہ یہ گھر کس کا ہے؟ فرمایا، انبیاء علیھم السلام کا گھر ہے، ابو بکر کھڑے ہوئے اور حضرت علی علیہ السلام کے گھر کی جانب اشارہ کر کے پوچھا، کیا یہ گھر بھی انھیں گھروں جیسا ہے؟ حضرت نے فرمایا، بیشک! بلکہ ان میں سب سے برتر ہے۔ کتاب البرہان فی تفسیر القرآن تالیف سید ہاشم بحرانی میں سورۂ بینہ کی پانچویں آیت کی تفسیر میں امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ اس آیت میں دین قیم سے مراد فاطمہ (س) ہیں۔ شریعت کے سارے اعمال بغیر محمد و آل محمد (ع) کی ولایت کے باطل و بیکار ہیں اور روایات میں اس بات کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ دین کا استحکام فاطمہ(س) اور ان کی ذریت کی محبت سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین قیم کی تفسیر آپ کی ذات گرامی سے کی گئی ہے۔
تفسیر قمی میں سورۂ احزاب کی ۵۷ویں آیت کے ذیل میں وارد ہوا ہے، " ان الذین یوذون الله و رسوله لعنهم الله فی الدنیا و الاخره و أعد لهم عذاباً مهینا" یقینا جو لوگ خدا اور اس کے رسول کو ستاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت ہے اور خدا نے ان کے لئے رسوا کن عذاب مہیاّ کر رکھا ہے۔ "
علی بن ابراھیم قمی (رہ) فرماتے ہیں کہ کہ یہ آیت علی و فاطمہ علیھما السلام کے حق کے غاصبوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، نیز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ فرمایا، "جو بھی ہماری زندگی میں زہرا کو اذیت پہنچائے گویا میرے مرنے کے بعد بھی اس نے زہرا کو اذیت دی ہے اور جو بھی میری رحلت کے بعد زہرا کو اذیت دے گویا اس نے میری زندگی میں زہرا کو اذیت دی، اور جو بھی فاطمہ کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ،جس نے مجھے اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی" اور خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے، "یقینا جو لوگ خدا اور اس کے رسول کو ستاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت ہے اور خدا نے ان کے لئے رسوا کن عذاب مہیاّ کر رکھا ہے۔"
امام صادق علیہ السلام اپنے اجداد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت زہرا (س) نے فرمایا، "جس وقت سورہ نور کی ۶۴ویں آیت " لاتجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضاً" جس طرح تم ایک دوسرے کو پکارتے ہو پیغمبر اکرم (ص) کو اس طرح سے مت آواز دو) نازل ہوئی ہم نے پیغمبر اکرم (ص) کو بابا کہنا چھوڑ دیا اور یا رسول اللہ کہہ کر خطاب کرنے لگے، پیغمبر اکرم (ص) نے مجھے فرمایا، بیٹی فاطمہ یہ آیت تمھارے اور تمھاری آنے والے نسلوں کے لئے نازل نہیں ہوئی ہے چونکہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے، بلکہ یہ آیت متکبر اور ظالم قریش کے لئے نازل ہوئی ہے۔ تم مجھے بابا کہہ کر پکارا کرو چونکہ یہ کلمہ میرے دل کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے اور اس سے خداوند راضی ہوتا ہے، یہ کہہ کر میرے چہرے کا بوسہ لیا۔ سورہ شوریٰ کی ۲۳ویں آیت میں خداوند متعال فرماتا ہے، "اے میرے رسول آپ امت سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ میرے اقرباء سے محبت کرو" ابن عباس سے روایت ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی پیغمبر سے سوال کیا گیا، جن لوگوں سے محبت و مودت کا ہمیں حکم دیا گیا ہے وہ کون لوگ ہیں؟ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا، اس سے مراد علی، فاطمہ اور ان کے دو فرزند ہیں۔
حضرت فاطمہ زھرا(ع) کی سیرہ کی روشنی میں کچھ عرائض مومن خواتین کی خدمت میں:
اسلام نے عورت کو بہت بلند مقام پر فائز کیا ہے، اور اس صنف نازک کے لئے کچھ قوانین وضع کئے ہیں جو اس گوھر نایاب کی حفاظت کے لئے ضروری ہیں، جب ہمارے پاس کوئی بہت قیمتی چیز ہوتی ہے تو ہماری یہ کوششں ہوتی یے کہ اس کو ایسی جگہ پر رکھا جائے کہ کوئی نہ چرا سکے لیکن افسوس صد افسوس قیمتی ترین گوھر کو دنیا کی گود میں آزادانہ ڈال دیا گیا ہے کہ جو جس طرح چاہے استفادہ کرے، ایک بہت مشہور جملہ ہے کہ "عورت ہی عورت کہ دشمن ہوتی ہے"، یہ سو فیصد درست ہے، جب عورتیں بہترین آرایش کے ساتھ معاشرے میں جلوہ گر ہوں گی تو یہ عورتیں پردے میں رہنے والی خواتین کا حق غصب کرتی ہیں، کیونکہ جب مرد بنی سنوری عورتوں کو دیکھتا یے تو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی بیوی سے مقایسہ کرنے لگتا ہے، اور یہی بات آہستہ آہستہ معاشرے میں فساد کا باعث بن جاتی ہے۔ اسلام نے پردے کو عورت كی زينت اور اسکے لئے واجب قرار دیا هے، اس لئے اسلام ميں هر مسلمان عورت پر نامحرم سے پرده كرنا واجب هے، لیکن پرده واجب هونے كے باوجود اکثر مسلمان خواتين بے پرده نظر آتی هیں اور افسوس اس بات کا ہے کہ آج کے جدید معاشرے کی خواتین، پردے کو ترقی اور حسن کی راہ میں روکاوٹ سمجھتی ہیں، جو عورت بےحجابی سے حسن لانا چاہتی هے وہ یہ جان لے كه بےحجابی سے حسن پر زوال آتا هے نہ نکھار، بےحجابی سے عورت کی زينت اور وقار ختم هو جاتا هے۔
آج کے دور میں اسلام دشمن عناصر سازش کے تحت مسلم خواتین کو آلہء کار کے طور پر استعمال کر ریے ہیں، اور متاسفانہ آج كل كی عورتيں بھی modrenism کے شوق میں ان کے ہاتھوں میں کھلونا بنی ہوئی ہیں، ایک جانب تو مغربی ممالک کی پیروی کرتی ہوئی نظر آتی ہيں اور دوسری جانب مسلمان ہونے كا ادعا بھی کرتی ہیں۔ اس بات بھی کی دعویدار ہیں کہ ہم پيرو حضرت زهرا (س) ہیں، اگر حضرت فاطمہ (س) كی پيروکار ہونے کا دعوا كرتی ہیں تو ان كي سيرت پر عمل بھی كرنا چاہیے۔ حضرت زهرا (س) نے پردے میں رہ کر تدریس بھی کی، تبلیغ بھی کی، اور اپنے حق کے لئے خلیفہ وقت کے دربار میں آواز بھی بلند کی۔ عورت کا کمال اس میں ہے کہ اسلامي قوانين كو رعايت كرتے هوئے حجاب اسلامی ميں رہ كر معاشرے میں اپنا كردار ادا كرے۔ آجکل باحجاب خواتین کی بھی مختلف کیٹیگریز ہیں، کچھ وہ کہ جو حجاب واقعی کرتی ہیں، اور ان کا یہ حجاب تمام غیر محرموں سے ہے، اور یہی حجاب اسلام کو مطلوب ہے، کچھ ایسی بھی ہیں جو صرف سر پر اسکارف لینے کو حجاب کامل سمجھ لیتی ہیں، اس کے ساتھ میک اپ بھی ہے، نامحرموں کے ساتھ گپ شپ بھی ہو رہی ہے، شاید اس فارمولے کے تحت کہ "مسلمان سب بہن بھائی ہیں،"یہ وہ جملہ ہے جو ہمارے معاشرے میں بہت سننے کو ملتا ہے،"حالانکہ مسلمان سب بھائی بھائی ہیں،" عورت کے لئے جسکو خدا نے نا محرم قرار دیا ہے وہ اسکے لئے نا محرم ہے، خدا نے عورت کو نامحرم سے بات کرنے سے منع نہیں کیا لیکن اس کی کچھ حدود و قیود مقرر کی ہیں۔ روایت میں ملتا یے کہ "عورت کو چاہیے کہ نا محرم سے نرم و زیبا لہجے میں بات نہ کرے"
اميرالمؤمنين علی (ع) پیامبر گرامی(ص) سے نقل کرتے ہیں؛ ايك نابينا شخص نےحضرت زهرا سلام اللہ علیھا كے گھر ميں داخل هونے كے لئے اجازت چاهی تو اس وقت حضرت زهرا سلام اللہ علیھا پردے كے پيچھے چلی گئیں پھر اس کو اندر آنے كي اجازت دی، رسول خدا (ص) نے سوال كيا یا فاطمه، يه نابينا هے اس كو تو كچھ نظر نہيں آتا كيوں پرده كر رہی ہیں؟ تو اس وقت جناب فاطمہ(س) نےجواب میں فرمايا؛ بابا جان وه مجھے نہيں ديكھ سكتا ليكن ميں تو اس كو ديكھ سكتی هوں، مجھے ڈر ہے کہ وہ میری بو استشمام كر لے گا، یہ سن کر پيامبر (ص) بے اختیار شهادت ديتے هوئے فرماتے ہیں: "فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي" فاطمه ميرے جگر كا ٹكڑا هے۔ عورت کے لئے اسلام ميں حجاب کی بہترين نوع چادر هے، يه چادر حضرت زهرا (س) کی عصمت و عفت کی يادگار هے۔ جس کو آج کی مسلمان عورت نے ایک طرف رکھ دیا ہے، خواتین کو پردے كے بارے ميں امر كرنا مرد پر واجب هے، روایت میں ملتا ہے کہ" قیامت کے روز ھر شخص چار عورتوں کے اعمال کا ذمّہ دار ہے، اور وہ چار عورتیں اس کی بیوی، بیٹی، بہن اور ماں ہیں"۔ آج کی عورت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو فاطمی اصولوں کے تحت گزارے، اس میں ہی اس کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز یے۔
دہشت گردی، لوڈشیڈنگ، مہنگائی ملک کے سب سے بڑے مسائل ہیں
![]()

علامہ ساجد نقوی:
دہشت گردی، لوڈشیڈنگ، مہنگائی ملک کے سب سے بڑے مسائل ہیں
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے قائم مقام سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ دہشتگردی، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی ملک کے سب سے بڑے مسائل ہیں، امید ہے نئی جمہوری حکومت ان مسائل کے حل کیلئے موثر حکمت عملی اپنائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک میں ہونیوالی حالیہ بدترین لوڈشیڈنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں اس وقت شدید گرم موسم ہے اور ان حالات میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث عوام انتہائی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ توانائی بحران کے باعث ملک معاشی عدم استحکام کا بھی شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور بےروزگاری آنے والی نئی جمہوری حکومت کیلئے بڑے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنیوالی حکومت کی اولین ترجیح دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہونا چاہیئے کیونکہ گذشتہ کئی عرصے سے عوام اس عذاب کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے نئی قائم ہونیوالی جمہوری حکومت ملک سے دہشت گردی، لوڈشیڈنگ جیسی لعنت سے چھٹکارا پانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے گی۔
حزب اللہ کاانتباہ

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سیدحسن نصراللہ نے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے اور اسلام کی شبیہ خراب کرنے کے لئے تکفیریوں کی سازشوں سےخبر دارکیا ہے۔
سیدحسن نصراللہ نے بیروت میں آئین پرعمل درآمد کے امور میں ایران کےصدر کےمعاون محمدرضامیرتاج الدینی سے ملاقات میں کہا کہ تکفیری افکار ، مسلمانوں کےمختلف فرقوں کےدرمیان تفرقہ ڈالنے اوراسلام کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہا کہ اس طرح کےباطل افکار کےمقابلے میں مسلمانوں کی ہوشیاری نہایت ضروری ہے ۔
سیدحسن نصراللہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے استقامت کی حمایت کوسراہتے ہوئے کہاکہ شام پرصیہونی حکومت کےحملے کااصلی مقصد استقامت کوختم کرنا ہے۔
اس موقع پر محمدرضاتاج الدینی نے شام پرصیہونی حکومت کےحالیہ حملے اوردہشتگردوں کی دہشتگردانہ کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوۓ کہاکہ ایران کا اصولی موقف غاصب صیہونیوں کی سازشوں اور غاصبانہ قبضوں کےمقابلے میں فلسطینی کاز اور استقامت کی حمایت کرنا ہے۔
میرتاج الدینی نے دشمنوں کےفتنوں کوناکام بنانے کےلئے عوام میں ہوشیاری کےتحفظ میں بیروت میں علماء اسلام کاکردار اوراسلامی ثالثی کمیٹی کے پہلےاجلاس کےکامیاب انعقاد کےبارےمیں کہاکہ شام کےمستقبل کافیصلہ اس ملک کےعوام ہی کرسکتے ہيں اوردوسروں کواس ملک کےعوام پر اپنےفیصلے تھوپنے کاحوق نہیں ہے۔
پاکستان میں ڈرون حملے جاری رکھنے پر امریکہ کا فیصلہ
اطلاعات کے مطابق پاکستان میں ڈرون حملے فی الحال امریکہ کی جاسوس تنظیم سی آئی اے کے زیرانتظام جاری رہیں گے لیکن امریکہ حکومت ڈرون آپریشن کو سی آئی اے سے لے کر پنٹاگون کو منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ بتایا گيا ہے کہ امریکی صدر باراک او باما متنازع ڈرون حملوں کے عمل کو شفاف بنانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے عوام ان ڈرون حملوں کے سخت خلاف ہیں اور وہ کئی بار مظاہرے کر کے ان حملوں کو روکنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
حکومت پاکستان نے بھی کئي بار ان ڈرون حملوں کو ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہیں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اگلے دس سالوں میں برطانیہ میں اکثریت مسلمانوں کی ہوگی,سروے
برطانیہ میں کی گئی مردم شماری سے انکشاف ہوا ہے کہ اگلے دس سالوں میں برطانیہ کی زیادہ آبادی اسلام کی قیادت کریگی جس کی وجہ برطانیہ میں تیزی سے بڑھ رہی مسلم آبادی ہیں۔
مردم شماری کے مطابق برطانیہ میں عیسائیت کا زوال ہورہا ہے جبکہ دس میں سے ایک برطانوی نوجوان مسلمان ہے۔ اور عیسائیوں کی آبادی میں ۵۰ فیصد سے زیادہ تک کی کمی رونما ہوئی ہے۔
سروے کے مطابق عیسائیوں کی زیادہ تر آبادی کی عمر 60 سال سے زیادہ ہے جبکہ پورے برطانیہ میں نوجوان عیسائیوں کی آبادی پہلی بار آدھے سے کم ہوگئی ہے۔
برطانیہ کی اعداد و شمار کے ڈیپارٹمنٹ نے اس سروے میں واضح کردیا ہے کہ اگلے دس سالوں میں عیسائی اقلیت جبکہ مسلمان اکثریت میں ہونگے۔
وہابی دہشتگردوں نے فلسطینی تنظيم جہاد اسلامی کے رہنما شہید فتحی شقاقی کا مقبرہ منہدم کردیا ہے
براثا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام میں سرگرم باغی دہشتگردوں نے فلسطینی تنظيم جہاد اسلامی کے رہنما ڈاکٹر شہید فتحی شقاقی کا مقبرہ منہدم کردیا ہے۔
دہشت گردوں نے فلسطینی کیمپ یرموک میں شہداء کی قبروں کی بے حرمتی کرتے ہوئے شہید شقاقی کے مقبرے کو بھی منہدم کردیا، شہید فتحی شقاقی غزہ پٹی کے رفحہ کیمپ میں 1951 میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے مصر میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی اور پھر فلسطینی تنظیم جہاد اسلامی کی تاسیس کی۔ شہید شقاقی کو 1983 سے لیکر 1986 تک کئی بار اسرائيلیوں نے گرفتار کیا، وہ 1988 میں لبنان چلے گئے اور 1995 میں مالٹ میں صہیونی ایجنٹوں نے انھیں شہید کردیا۔
اسلام ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق شہید ڈاکٹر شقاقی کا مقبرہ تباہ کرنے سے ثابت ہوگیا ہے کہ دہشت گرد سنیوں کے بھی جانی دشمن ہیں۔ سلفی وہابی دہشت گردوں نے حال ہی میں صحابی رسول (ص) حضرت حجر بن عدی کے روضہ کو شہید کردیا اور ان کی قبر کی توہین اور بے حرمتی کی اور اس کے بعد ایک اور ہولناک جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے ایک شامی فوجی کا سینہ چاک کرکے اس کے دل کو چبایا۔ ان سلفی دہشت گردوں کو سعودی عرب کی بھر پور حمایت حاصل ہے اور سعودی عرب سلفیوں کی تبلیغ کا اصلی گڑھ ہے۔
حالیہ انتخابات انتہاء پسندی اور دہشت گردی کیخلاف ریفرنڈم
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے قائم مقام سربراہ اور ملت جعفریہ کے قائد علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ حالیہ انتخابات انتہاء پسندی اور دہشت گردی کیخلاف ریفرنڈم ہیں، تمام مکاتب فکر، عمائدین اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عوام نے انتہاء پسندی اور جنونیت کو مسترد کرتے ہوئے امن، خوشحالی اور ترقی کا بہترین فیصلہ کیا، تمام سیاسی جماعتیں عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے ملکی مفاد میں فیصلے کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی دفتر سے جاری بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں عوام جس جوش و خروش اور یکجہتی سے جمہوریت کے فروغ کیلئے گھروں سے نکلے اور مملکت خداد اد کو امن، خوشحالی اور ترقی کی جانب گامزن کرنے کیلئے اپنا ووٹ استعمال کیا اس پر وہ تحسین کے مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ریفرنڈم ہیں اور تمام مکاتب فکر، عمائدین اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عوام نے انتہاء پسندی اور جنونیت کو مسترد کر دیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک میں بھائی چارے، امن و آشتی کے داعی ہیں اور کسی بھی ایسے گروہ کا راستہ روکیں گے جو ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانے کا سبب بنے یا اتحاد میں دراڑیں ڈالنے کی کی مذموم کوششیں کریں۔ اس موقع پر انہوں نے پورے ملک خصوصاً جھنگ کے عوام کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جس طرح شرپسندی اور جنونیت کو مسترد کیا وہ لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے فیصلے نے ثابت کر دیا کہ ملکی استحکام اور دہشت گردی کا خاتمہ اتحاد و وحدت میں پنہاں ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
