Super User

Super User

امام خمینی(رح) کی چوبیسویں برسی پر رہبر انقلاب اسلامی کا تفصیلی خطاب

امام خمینی(رح) کی چوبیسویں برسی پر رہبر انقلاب اسلامی کا تفصیلی خطاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

والحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سیدنا و نبینا ابی القاسم المصطفی محمد و ‏علی آلہ الاطیبین الاطہرین المنتبجبین الھداۃ المعصومین سیما بقیۃ اللہ فی الارضین۔

ہم خدا وند متعال کے شکر گذار ہیں کہ اس نے ایک بار پھر ہمیں موقع عطا فرمایا، عمر عطا کی تا کہ اس دن امام خمینی کو خراج عقیدت اور محبت و خلوص کا نذرانہ پیش کرسکیں۔ گرچہ امام خمینی ہمیشہ ہماری قوم کے دل میں زندہ ہیں لیکن چودہ خرداد ( مطابق چار جون) کا دن امام خمینی سے ملت ایرنا کی دلی محبت کی نشاندھی کرتا ہے۔ اس سال امام خمینی کی برسی ان کے جد بزرگوار حضرت امام موسی کاظم علیہ الصلاۃ و السلام کی شہادت کے دنوں میں پڑی ہے۔ اسی طرح اس سال پندرہ خرداد کے واقعے کو جو کہ تیرہ سوبیالیس(انیس سو ترسٹھ) میں پیش آیا تھا اور نہایت ہی اہم اور فیصلہ کن واقعہ ہے پچاس برس ہورہے ہیں۔ میں اس سلسلے میں اختصار سے کچھ عرائض پیش کرونگا اس کےبعد اپنے اہم اور ضروری مسائل تک پہنچیں گے۔

امام خمینی(رح) کی چوبیسویں برسی پر رہبر انقلاب اسلامی کا تفصیلی خطاب

پندرہ خرداد کا واقعہ عوام اور علماء کی عظیم تحریک کا آغاز نہیں ہے۔ اس سے قبل تیرہ سو اکتالیس میں اور تیرہ سوبیالیس (انیس سو باسٹھ و ترسٹھ)کے آغاز میں اہم واقعات پیش آئے ہیں۔ دوسری فروردین تیرہ سو بیالیس( انیس سو ترسٹھ) کو مدرسہ فیضیہ کا واقعہ پیش آیا جس میں طلاب علوم دینیہ کو زد و کوب کیا گیا اور بزرگ مرجع تقلید مرحوم آیت اللہ گلپائيگانی کی شان میں گستاخی کی گئي۔ اس سےپہلے تیرہ سو اکتالیس کے اواخر میں تہران کےبازار میں عوام نے بڑے مظاہرے کئے تھے اس موقع پر بھی بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ حاج سید احمد خوانساری کی توہین کی گئی تھی۔ یہ واقعات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ علماء کی تحریک تیرہ سو اکتالیس اور تیرہ سوبیالیس کے آغاز میں اس قدر عروج پر پہنچ چکی تھی کہ ظالم شاہ کی حکومت، پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں نے علماء، دینی طلبا یہانتک کہ مراجع کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیاتھا۔ لیکن اس کےباوجود پندرہ خرداد تیرہ سوبیالس کا واقعہ نہایت ہی اہم واقعہ ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ پندرہ خرداد تیرہ سوبیالیس کو جو واقعہ رونما ہوا اس نے علماء اور عوام کے رشتے کو نہایت مستحکم بنادیا جس پر حکومت حساس ہوگئی اور خطرے کا احساس کرنے لگي۔ اس سال عاشورا کے دن جو تیرہ خرداد کے مطابق تھا امام خمینی نے مدرسہ فیضیہ میں ایک تاریخی اور فیصلہ کن خطاب فرمایا ۔اس کےبعد جب امام خمینی کو گرفتار کرلیا گيا تو پندرہ خرداد کو خاص طور سے تہران اسی طرح قم اور دیگر شہروں میں عوامی احتجاج کی عظیم لہر اٹھ گئي۔ شاہ کی طاغوتی حکومت نے اپنی تمام تر طاقت، اپنی پولیس، اپنی فوج، اور اپنی سکیورٹی فورسس سے اس عوامی تحریک کوکچلنا شروع کردیا۔ پندرہ خرداد کو عوامی انقلاب وجود میں آگيا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہےکہ ایرانی قوم، اسکی فرد فرد علماء و مراجع سے کہ جن کا مظہر امام خمینی تھے نہایت مضبوط رشتے میں بندھی ہے۔ یہاں اہم نکتہ یہ ہےکہ یہی مضبوط رشتہ ہی تھا جو تحریک کی ترقی اور کامیابی کا ضامن تھا۔ جہاں کہیں بھی کوئي تحریک یا کسی انقلاب کو عوام کی حمایت حاصل ہوتی ہے اور عوام اسکے ساتھ ہوتے ہیں یہ تحریک جاری رہتی ہے لیکن اگر کسی احتجاجی تحریک کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوتی تو وہ ناکام رہتی ہے جیسا کہ ایران میں آئينی بادشاہت کی جدوجہد کے بعد ایران میں بہت سے واقعات رونما ہوئے، جدوجہد شروع کی گئي جن میں دائيں بازو کے گروہ اور قوم پرست دھڑے شامل تھے لیکن یہ سارے واقعات ایران میں سراٹھانے والی تحریکوں کی تاریخ میں ناکام تحریکیں قراردی جاتی ہیں۔ کیونکہ انہیں عوام کی حمایت حاصل نہیں تھی۔

امام خمینی(رح) کی چوبیسویں برسی پر رہبر انقلاب اسلامی کا تفصیلی خطاب

جب عوام میدان میں آجاتے ہیں تو وہ اپنے جذبات، موجودگي، اور فکر و نظر سے تحریک کی حمایت کرتے ہیں اور ایسی تحریک جاری رہتی ہے اور اسے کامیابی بھی نصیب ہوتی ہے۔ پندرہ خرداد کا واقعہ اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علماء کو عوام کی حمایت حاصل ہے۔ امام خمینی کو گرفتار کئےجانے کےبعد تہران اور دیگر شہروں میں ایسی قیامت برپا ہوگئي تھی کہ حکومت میدان میں اتر آئي اور اس نے عوام کو وحشیانہ طریقے سے کچلنا شروع کردیا۔ نامعلوم تعداد میں بہت زیادہ لوگ مارے گئے۔تہران کی سڑکیں خدا کے بندوں، مومنین اور اس ملت کے بہادر جوانوں کےخون سے رنگین ہوگئي تھیں۔ پندرہ خرداد کو ڈکٹیٹر کا کریھ اور طاغوتی حکومت کا بے رحم چہرہ کھل کر سامنے آگيا۔ پندرہ خرداد کےبارے میں دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ جس پر ہمارے جوانوں اور عوام کو توجہ کرنی چاہیے کیونکہ یہ باتیں نہایت اہمیت رکھتی ہیں نکتہ یہ ہے کہ تہران اور دیگر شہروں میں ہونےوالے وحشیانہ قتل عام پر دنیا کے کسی ادارے، انسانی حقوق کے ان نام نہاد اداروں نے کسی طرح کا احتجاج نہیں کیا۔ کسی نے اعتراض نہیں کیا، علماء اور عوام میدان میں تنہا رہ گئے۔ مارکسیسٹ اور بائيں بازو کی حکومتوں اور گروہوں نے اعتراض کرنا تو دور کی بات پندرہ خرداد کے عوامی قیام کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ ایک فئوڈال تحریک تھی، قوم پرست گروہ جو جدوجہد کا نعرہ لگاتے تھے انہوں نے بھی عوامی تحریک کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ایک اندھی اور بے ھدف اور انتہا پسندانہ تحریک ہے۔ جہاں کہیں بھی عافیت پسند اور تعیش پسند لوگ جدوجہد میں شریک نہیں ہوتے اور خطرہ مول نہیں لیتے مومن و مجاہد افراد کو انتہا پسند اور تشدد پسند قراردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ لوگ انتہا پسند ہیں ان کی تحریک انتہا پسندانہ تھی۔ امام خمینی ملت کے ساتھ میدان میں اکیلے رہ گئے تھے لیکن حقیقی معنی میں آپ نے ایک آسمانی، معنوی، ثابت قدم اور باعزم قائد کی حیثیت سے تاریخ اور انسانیت سے اپنا لوہا منوالیا۔

امام خمینی(رح) کی چوبیسویں برسی پر رہبر انقلاب اسلامی کا تفصیلی خطاب

امام خمینی تین اصولوں پر یقین رکھتے تھے جنہوں نے آپ کو ثابت قدمی، شجاعت اور استقامت عطا کی تھی۔ یہ اصول خدا پر یقین، عوام پر یقین اور اپنی توانائيوں پر یقین سے عبارت ہیں۔ یہ تین اصول تھے جن پر آپ کو ٹھوس یقین تھا۔ یہ اصول آپ کی شخصیت، فیصلوں اور اقدامات میں حقیقی معنی میں متجلی ہیں۔ آپ دل کی گہرائيوں سے عوام سے مخاطب ہوتے اور عوام نے بھی دل وجان سے آپ کی آواز پر لبیک کہا تھا اور میدان میں اتر آئے تھے اور دلیری سے ثبات قدمی کا ثبوت دیاتھا اور وہ تحریک کہ دنیا کے کسی کونے سے اسکے لئے ہمدردی نہیں تھی اور کوئي اس کی مدد کرنے کو تیار نہیں تھا آہستہ آہستہ کامیابی کی منزل کی طرف بڑھتی گئي اور سرانجام کامیاب ہوگئی۔ میں ان تین اصولوں کے بارے میں جو امام خمینی کا خاصہ تھے اختصار سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ یہ نہایت اہم باتیں ہیں جو اگر ہمارے دلوں میں بس جائيں تو ہماری تحریک کاراستہ روشن کردیں گي۔

خدا پریقین و ایمان کے سلسلے میں امام خمینی اس آیت کا مصداق ہیں الذین قال لھم الناس ان الناس قد جمعوا لکم فاخشواھم فزادھم ایمانا و قالوا حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔ امام خمینی اپنے پورے وجود سے حسبنا اللہ و نعم الوکیل کا مظہر تھےاور اس آیت پر نہایت مستحکم عقیدہ رکھتے تھے، خداوند متعال پر بھروسہ کرتے تھے، وعدہ الھی پر یقین رکھتے تھے خدا کے لئے تحریک شروع کی تھی اور خدا کے لئے ہی کام کرتے تھے، خدا ہی کی مرضی کے لئے بات کرتے تھے اور اقدام کرتے تھے اور جانتے تھے کہ ان تنصرواللہ ینصر کم و یثبت اقدامکم وعدہ خداوندی ہے، ایسا وعدہ ہے جو حتمی اور یقینا پورا ہونے والا ہے۔

عوام پریقین کے بارے میں امام خمینی حقیقی معنی میں ملت ایران کی شناخت رکھتے تھے۔ امام خمینی اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ملت ایران مستحکم ایمان کی حامل ہے۔ ذہین اور شجاع ہے۔ اگر اسے لائق رہبر مل جائيں تو یہ ملت مختلف میدانوں میں سورج کی طرح ضوفشانی کرسکتی ہے۔ امام خمینی ان باتوں پر یقین رکھتے تھے۔ اگر کسی زمانے میں شاہ سلطان حسین نامی نالائق عنصرنے ملت ایران کو پسماندگي کاشکار بنادیاتھا تو ایک دن وہ بھی آیا جب نادر قلی اپنے القاب و عناوین سے قطع نظر جب قوم کی باگ ڈور سنبھالتا ہے اور دلیری سے قوم کی قیادت کرتا ہے تو یہ ملت دھلی سے بحیرہ اسود تک اپنے کارناموں کے جھنڈے گاڑدیتی ہے۔ امام خمینی نے اس تاریخی حقیقت کو درک کیا تھا اسکی مثالوں کا مشاہدہ کیا تھا اور اس پر ایمان و اعتقاد رکھتے تھے۔ آپ ملت ایران کو پہچانتے تھے۔ اس پر اعتماد کرتے تھے۔ امام خمینی نے عوام کے اس ایمان کو جو دنیا پسندوں کی سازشوں کے بوجھ تلے پوشیدہ و پنہاں ہوچکا تھا، اس گہرے اور ناقابل تغیر ایمان کو نکھارا اور جلادی اور عوام کی دینی غیرت کو زندہ کیا جس کے نتیجے میں ملت ایران دنیا میں استقامت و بصیرت کا نمونہ بن گئی۔ امام خمینی کی نظر میں عوام کی سب سے زیادہ اہمیت تھی اور ان کے دشمن سب سے زیادہ قابل نفرت تھے۔ آپ جو یہ ملاحظہ کرتے ہیں کہ امام خمینی نے تسلط پسند طاقتوں کے مقابلے ایک لمحے کو بھی تھکن کا اظہار نہیں کیا اس کی بنیادی وجہ یہی ہےکہ تسلط پسند طاقتیں عوام کی دشمن اور عوام کی سعادت کی دشمن ہیں اور امام خمینی عوام کے دشمنوں سے دشمنی رکھتے تھے۔

امام خمینی(رح) کی چوبیسویں برسی پر رہبر انقلاب اسلامی کا تفصیلی خطاب

امام خمینی کا اپنی توانائيوں پر یقین نیز خود اعتمادی کے بارے میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہےکہ آپ نے ملت ایران کو خود اعتمادی کی نعمت سے مالا مال کیا ہے۔ آپ نے ملت کو خود اعتمادی عطا کرنے سے قبل اپنے وجود میں اس نعمت کو مکمل اور زندہ کیاتھا اور اپنی توانائيوں پر یقین کو حقیقی معنی میں اپنے وجود میں ظاہر کیا تھا۔ تیرہ سوبیالیس مطابق انیس سو ترسٹھ میں روز عاشورا کو آپ نے عین غریب الوطنی کی حالت میں قم کے مدرسہ فیضیہ میں دینی طلباء اور عوام سے خطاب میں محمد رضا شاہ کو للکارا تھا جوکہ امریکہ اور بیرونی طاقتوں کی حمایت سے ایران پر مطلق العنانی سے حکومت کررہاتھا۔ آپ نے اسے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اسکی حرکتیں جاری رہیں اور وہ باز نہ آیا تو میں ایرانی عوام سے کھ دونگا کہ تجھے ایران سے نکال باہر کریں۔ یہ کون کھ رہا ہے؟ یہ ایک عالم دین کھ رہا ہے جو قم میں رہتا ہے۔ اسکے پاس کسی طرح کا ہتھیار نہیں ہے، کوئي ساز و سامان نہیں ہے پیسہ بھی نہیں ہے، عالمی حمایت بھی حاصل نہیں ہے۔ صرف اور صرف خدا پر ایمان کے سہارے اپنی خود اعتمادی کے سہارے استقامت کا مظاہرہ کررہا ہے۔ جس دن امام خمینی جلاوطنی سے لوٹ کر آئے اسی بہشت زہرا میں آپ نےبختیار کی حکومت کو للکار اور بآواز بلند فرمایا تھا میں بختیار کی حکومت کو ختم کردونگا، میں خود حکومت معین کرونگا، یہ خود اعتمادی کا مظاہرہ تھا۔ امام خمینی خود پر اپنی طاقت پر اور اپنی توانائيوں پر ایمان اور یقین رکھتے تھے۔ یہی خود اعتمادی امام خمینی کے عمل اور قول سے ملت ایران تک منتقل ہوئی۔ عزیزان محترم ایک صدی تک ہمیں یہ جتلا یا جاتا رہا کہ تم کچھ نہیں کرسکتے، تم اپنے ملک کا انتظام نہیں چلا سکتے، تم سربلند نہیں ہوسکتے، تم اپنے ملک کو آباد نہیں کرسکتے، تم علم و سائنس کے میدانوں میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔نہیں کرسکتے کچھ نہیں کرسکتے کی رٹ لگارکھی تھی اور ہم نے باور بھی کرلیا تھا۔

قوموں پر تسلط جمانے کا دشمنوں کا ایک موثر حربہ توانائيوں کی نفی کرنا ہے تا کہ قومیں مایوس ہوجائيں اور یہ باور کرلیں کہ وہ کچھ نہیں کرسکتیں۔ اس سازش کے تحت ملت ایران ایک صدی تک سیاست، اقتصاد، اور زندگي کے تمام شعبوں میں پسماندگي کا شکار رہی۔ امام خمینی نےاس کا خاتمہ کردیا اور سوپر طاقتوں سے یہ حربہ چھین لیا، آپ نے ملت ایران کو باور کرایا کہ وہ بھرپور توانائیوں کی حامل ہے۔ آپ نے ملت ایران کو دوبارہ شجاعت کی نعمت سے مالا مال کیا، فیصلہ کرنے کی طاقت اور ثبات قدمی عطا کی، خود اعتمادی کی نعمت بھی عطا کی۔ اس کےبعد ہم نے احساس کیا کہ ہم میں بھرپور توانائياں ہیں، ہم نے تحریک شروع کی، اقدام کیا لھذا ملت ایران اب تمام میدانوں میں جن کی طرف میں اشارہ کرونگا، گذشتہ چونتیس برسوں میں ملت ایران نے تمام میدانوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔

امام خمینی(رح) کی چوبیسویں برسی پر رہبر انقلاب اسلامی کا تفصیلی خطاب

امام خمینی کے یہ تین اصول یعنی خدا پر ایمان، عوام پر ایمان اور خود اعتمادی، امام خمینی کے تمام فیصلوں، تمام اقدامات اور تمام پالیسیوں کی بنیاد ہیں۔ تحریک انقلاب کے آغاز میں بھی یہی تین اصول تھے جن سے آپ کو ہمت ملی، جلاوطنی کے زمانے میں بھی ایسا ہی تھا اور جب آپ پیرس تشریف لے گئے اس وقت بھی ان ہی اصولوں پر گامزن تھے۔ جب آپ وطن واپس تشریف لائے تب بھی آپ کو ان ہی اصولوں نے طاقت عطا کی کہ آپ ان بحرانی حالات میں تہران آسکیں، بہمن تیرہ سو ستاون مطابق انیس سو اناسی کے بحرانی حالات، داخلی فتنوں، اسلامی جمہوریہ کا اعلان کرتے وقت، ظالمانہ عالمی نظام کے خلاف اعلانیہ قیام میں، مغربی اور مشرقی بلاکوں کی نفی کے اصول کے اعلان کے موقع پر، مسلط کردہ جنگ کے دوران، اور اپنی زندگي کے ان بحرانی دس برسوں میں آپ کے یہی تین اصول متجلی تھے۔ یہی تین اصول آپ کے فیصلوں اقدامات اور پالیسیوں کا سرچشمہ تھے۔ امام خمینی کی زندگي کے آخری دن تک کسی نے ان کے قول و فعل میں افسردگي، شک و شبہے، تھکاوٹ اور پسپائي کا مشاہدہ نہیں کیا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اور دنیا کی بہت سی انقلابی شخصیتیں جو جوانی کی منزلین طے کرکے بڑھاپے کی طرف پہنچتی ہیں تو شک و شبہے کا شکار ہوجاتی ہیں یہانتک کہ اپنے اصولی مواقف سے بھی ہٹ جاتی ہیں لیکن امام خمینی کی زندگي کے آخری برسوں میں آپ کے بیانات تیرہ سو بیالیس مطابق انیس سو ترسٹھ کے بیانات سے بھی زیادہ انقلابی رنگ اور شدت کے حامل ہواکرتے تھے، مستحکم و مضبوط ہوا کرتے تھے۔ ان کی عمر گرچہ ڈھلتی جارہی تھی لیکن ان کا عزم جوان تھا ان کی روح زندہ تھی، یہ وہی استقامت ہے جسے قرآن کریم میں ان لفظوں میں یاد کیا گيا ہے و ان لو استقامو علی الطریقہ لاسقیناھم ماء غدقا

دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملائکۃ ۔

امام خمینی(رح) کی چوبیسویں برسی پر رہبر انقلاب اسلامی کا تفصیلی خطاب

ان تین اصولوں نے امام خمینی کو زندہ رکھا، جوان رکھا ان کی فکر اور راہ کو اس ملت کے لئے بقائے دوام عطا کی۔ یہی تین اصول ہیں جو تدریجا عوام اور ہمارے جوانوں اور ہمارے معاشرے کے گوناگوں طبقوں میں پھیل گئے، امید جاگ اٹھی، خود اعتمادی پیدا ہوگئي، خدا پر توکل کاجذبہ بیدارہوگيا۔ انہوں نے مایوسی کی جگہ لے لی مایوسی کے ماحول کو ختم کردیا، بد گمانی کی جگہ لے لی، ایرانی عوام نئے جذبات کے حامل ہوگئے تو خدا نے بھی ان کی حالت بدل دی ان اللہ لایغیر مابقوم حتی یغیر مابانفسھم ۔ ملت ایران نے اپنی راہ اپنے محرکات اور اپنے اقدامات کی اصلاح کی اور خدا نے بھی اس کی مدد و نصرت کی اس کی حمایت کی۔ نتیجہ کیا ہوا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ (بڑی طاقتوں) سے وابستہ ایران خود مختار بن گيا۔ پہلوی طاغوتی حکومت کی پہلے برطانیہ اور بعد میں امریکہ کی وابستگي سے لے کر جو کہ رجعت پسند روسیاہ قاچاری حکومت سے بھی بری تھی بہت سی چیزیں ہیں جن سے ہمارے جوانوں کا آگاہ ہونا ضروری ہے۔ ان کی وابستگي شرمناک حدتک پہنچ چکی تھی۔ انقلاب کے بعد امریکہ کے ایک سینئر سفارتکار نے یہ لکھا بھی ہے اور کہا بھی ہے کہ ہم تھے جو شاہ سے کہتے تھے کہ تمہیں کس چیز کی ضرورت ہے اور کس چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ امریکی تھے جو کہتے تھے کہ شاہ کو کس سے رابطہ قائم کرنا ہے اور کس سے رابطہ منقطع کرنا ہے، کتنا تیل پیدا کرنا ہے، کتنا فروخت کرنا ہے اورکس کو فروخت کرنا ہے اور کس کو نہیں فروخت کرنا ہے۔ ملک امریکہ کی پالیسیوں کے مطابق، امریکہ کے منصوبوں کے مطابق اور اس سے پہلے برطانیہ کی پالیسیوں اور منصوبوں کے مطابق چلا کرتا تھا۔ ایران اس طرح سے وابستہ تھا جو ایک خود مختار ملک کی صورت میں نمودار ہوا سرفراز و سربلند ملک کی صورت میں سامنے آیا۔ اس ملک پر بدعنوانیوں میں مبتلا، خیانت کار، پیسے کےلالچی، شہوات و لذات مادی و حیوانی میں غرق حکمران حکومت کیا کرتے تھے۔ ایسے ملک میں عوام کے نمائندے حکومت میں آگئے، حکومت ان کے ہاتھوں میں آئي جو عوام کے نمائندے ہیں۔ ان چونتیس برسوں میں جن لوگوں نے اس ملک پر حکومت کی ہے، جن کے ہاتھوں میں اقتدار رہا ہے سیاست اور اقتصاد کی باگ ڈور جن کے ہاتھوں میں رہی ہے وہ عوام کے نمائندے ہیں۔ تمام کمزوریوں اور تمام مثبت توانائيوں کے باوجود جو مختلف افراد میں رہی ہیں یہ قدر مشترک رہی ہے کہ یہ سب عوام کے نمائندے تھے۔ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جیبیں نہیں بھری ہیں۔ البتہ کسی میں کمیاں پائي جاتی ہیں تو کسی میں مثبت پہلو زیادہ پائے جاتےہیں۔ یہ نہایت اہم مسئلہ ہے۔ وہ خبیث سیاست دان جو دشمن سے وابستہع لالچی اوراسکے سامنے پست اوراسکے آلہ کار تھے اور عوام پر اپنا غصہ اتارتے تھے وہ عوام کے نمائندوں میں تبدیل ہوگئے۔ علمی اور سائنسی لحاظ سے پسماندہ ملک پیشرفتہ ملک میں تبدیل ہوگيا۔ انقلاب سے پہلے ہمارے پاس کوئي ایسی چیز نہیں تھی جس پر ہم علم و سائنس کے لحاظ ‎سے فخر کرسکتے۔ آج ہمارے بارے میں دوسرے لوگ اور سائنسی مراکز یہ کہتے دکھائي دیتے ہیں کہ ایران کی علمی اور سانئسی ترقی دنیا کی اوسط ترقی کی نسبت گيارہ گنا زیادہ ہے۔ کیا یہ معمولی سی بات ہے؟ علمی مراکز پیشین گوئي کررہے ہیں کہ آئندہ چند برسوں میں دوہزار سترہ تک ایران دنیامیں سائنسی لحاظ سے چوتھے مقام پر ہوگا۔ کیا یہ معمولی کامیابی ہے؟ وہ ملک جو علمی اور سائنیسی لحاظ سے کچھ بھی نہیں تھا آج اس طرح کے ملک میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ہمارے ملک کی ایسی حالت تھی کہ اگر ہم کوئي شاہراہ، کوئي سڑک ، کوئي ڈیم، یا کارخانہ تعمیر کرنا چاہتے تو ہمیں دوسروں کی طرف ہاتھ پھیلانا پڑتا تھا تاکہ بیرونی انجینیر آئيں اور ہمارے لئے ڈیم تعمیر کریں، سڑک بنائيں، کارخانہ لگائيں ۔ آج ہماری قوم کے جوانوں نے بیرونی ملکوں سے ذرہ برابر مدد لئےبغیر ہزاروں کارخانے، سیکڑوں ڈیم، پل اور شاہراہیں بنادی ہیں۔ آج ہمارے ملک میں علمی، فنی اور ملک کو آباد کرنے کی توانائیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ کیا یہ اچھی بات ہےکہ ہم ان کامیابیوں کونظر انداز کریں؟

امام خمینی(رح) کی چوبیسویں برسی پر رہبر انقلاب اسلامی کا تفصیلی خطاب

صحت عامہ و مڈیکل شعبے میں تھوڑے سے پیچیدہ آپریشن کے لئے ہمیں یورپ کے اسپتالوں میں سرگرداں ہونا پڑتا تھا وہ بھی پیسہ ہونے کی صورت میں اور اگرمریض غریب ہوتا تھا تو وہ مرجاتا تھا۔ آج ہمارے ملک میں بڑے بڑے پیچیدہ آپریشن ہورہے ہیں، جگراور پھیپھڑوں کی پیوندکاری ہورہی ہے، سرجری اور میڈیکل شعبے میں بڑے بڑے کام انجام پارہے ہیں صرف تہران میں ہی نہیں بلکہ دیگر دور افتادہ شہروں میں بھی یہ کام انجام دئے جارہے ہیں۔ ملت ایران کو ان میدانوں میں دیگر ملکوں کی ضرورت نہیں ہے ہمارا ملک اس نہایت ہی بنیادی اور ضروری شعبے میں خودکفالت اور خود مختاری تک پہنچ چکا ہے۔

ہمارے ملک کے بہت سے علاقوں کو فراموش کردیا گيا تھا۔ میں انقلاب سے پہلے مختلف شہروں اور گوناگوں مقامات کا سفر کیا کرتا تھا۔ ملک کے دور افتادہ علاقوں پر ذرا سی توجہ نہیں تھی لیکن آج سارے ملک میں مختلف خدمات و سہولتیں فراہم ہیں خواہ دورافتادہ شہر ہوں یا دیہی علاقے ہوں۔ آج یہ بات بے معنی ہے کہ کسی جگہ بجلی یا فرض کریں سڑک اور اس جیسا انفرا اسٹرکچر نہیں ہے۔ انقلاب سےپہلے اگر کوئي دور افتادہ علاقہ کسی سہولت کا حامل ہوتا تھا تو لوگ تعجب کیا کرتے تھےآج اگر یہ سہولتیں نہ ہوں تو تعجب کا باعث ہے۔ انقلاب سے پہلے پینتیس ملین آبادی میں دیڑھ لاکھ طلباء تھے اور آج آبادی دوگنی ہوگئی ہے لیکن طلباء کی تعداد کی شرح بیس گنا بڑھ چکی ہے بلکہ تیس گنا بڑھ چکی ہے، اس کےمعنی علم پر توجہ کے ہیں، طلباء کی تعداد میں اضافہ اساتذہ کی تعداد میں اضافہ نیز یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ قابل غور ہے۔ ہر دور افتادہ شہر میں ایک، دو، پانچ یہانتک کہ دس یونیورسٹیاں بھی ہیں۔ اس زمانے میں کچھ ایسے صوبے تھے جہاں اسکولوں کی تعداد انگلیوں کی تعداد سے کم تھی اور آج ان ہی صوبوں میں انکے ہر شہر میں کئي کئي یونیورسٹیاں ہیں۔ یہ ملت ایران کی عظیم تحریک ہے جس نے انقلاب کی برکت سے اور اپنے جوانوں اور حکام کی ہمت سے ان چونتیس برسوں میں یہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ بڑے اہم واقعات ہیں۔ انقلاب کی برکت سے ہمارے ملک میں وسیع انفراسٹرکچر قائم ہوا ہے۔ ملک میں ہزاروں کارخانے لگائےگئے ہیں۔ بنیادی صنعتیں وجود میں آچکی ہیں۔ وہ مصنوعات جو بیرونی ملکوں کا احسان لینے کے بعد بہت کم مقدار میں حاصل ہوتی تھیں آج ملک میں فراوانی سے تیار کی جارہی ہیں۔ ان چیزوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے یہ ساری کامیابیاں ان تینوں اصولوں کی برکت سے حاصل ہوئي ہیں جن سے امام خمینی نے اس قوم کو آشنا کیا تھا اور ان پر ایمان پیدا کیا تھا۔ خدا پر ایمان، عوام پر ایمان اور خود اعتمادی۔

میں یہ باتیں اس وجہ سے نہیں کررہا ہوں کہ جھوٹا غرور پیداہوجائے، ہم خوش ہوجائيں، خوش ہوجائيں کہ الحمدللہ ہم کامیاب ہوگئے، اب کام مکمل ہوچکا، جی نہیں ہمیں ابھی طویل راستہ طے کرنا ہے۔ میں آپ سے عرض کرتا ہوں ہم اگر اس وقت طاغوتی زمانے سے ایران کا موازنہ کریں تو ہمیں یہ کامیابیاں دکھائي دیں گي لیکن اگر ہم اسلامی ایران سے اپنا موازنہ کریں تو وہ ملک جو اسلام کی نظر میں ہے وہ معاشرے جس کا مطالبہ اسلام کرتا ہے، وہ ملک جس میں دنیوی عزت ہے، دنیوی رفاہ ہے، ایمان و اخلاق و معنویت بھی ہے اور بھرپور طرح سے ہے تو ہمارے سامنے ابھی بڑا لمبا راستہ ہے۔ میں یہ عرائض اس وجہ سے پیش کررہاہوں کہ ہمارے جوان اور ہماری دلیر قوم یہ سمجھ لے اس راہ کو ان ہی تین اصولوں کے سہارے طے کیا جاسکتا ہے۔ جان لیں کہ راستہ لمبا ہے لیکن آپ میں اسے طے کرنے کی توانائي ہے، آپ میں طاقت ہے آپ کےلئے ممکن ہے آپ اس طولانی راہ کو مکمل توانائي اور ضروری تیزی کے ساتھ کمال کی منزلوں تک پہچنے کے لئے طے کرسکتے ہیں۔ یہ باتیں اس وجہ سے کی جارہی ہیں کہ اگر دشمن ہمارے دلوں میں مایوسی پیدا کرنا چاہتا ہے تو آپ جان لیں کہ وہ محض دشمنی کررہا ہے۔ ( اس وقت) ہمارے لئے تمام چیزیں امید افزا ہیں۔

امام خمینی(رح) کی چوبیسویں برسی پر رہبر انقلاب اسلامی کا تفصیلی خطاب

ہمارے سامنے نقشہ راہ بھی ہے، ہمارے پاس نقشہ راہ ہے۔ ہمارا نقشہ راہ کیا ہے؟ ہمارا نقشہ راہ وہی امام خمینی کے اصول ہیں، وہی اصول جن کے سہارے آپ نے اس پسماندہ و شرمسار قوم کو اس طرح ترقی یافتہ اور سربلند کردیا۔ یہ وہ اصول ہیں جو راہ کو جاری رکھنے میں ہمارے کام آئيں گے اور ہمارے لئے نقشہ راہ کا بھی کام کریں گے۔ امام خمینی کے اصول نہایت واضح و روشن ہیں۔ بڑي خوشی کی بات ہےکہ امام خمینی کے بیانات اور ان کی نگارشات بیس سے زیادہ جلدوں میں جمع کرلی گئي ہیں اور عوام کی دسترس میں ہیں۔ ان کا خلاصہ امام خمینی کے زندہ جاوید وصیت نامے میں آیا ہے، سب اس کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ ہم اس بات کو مفید نہیں سمجھتے کہ امام خمینی کا نام لیتے رہیں اور آپ کے اصولوں کو بھلادیں، یہ غلط ہے۔ امام خمینی کا نام اور ان کی یاد کافی نہیں ہے۔ امام خمینی اپنے اصولوں، اپنے نظریات اور اپنے نقشہ راہ کے ساتھ ملت ایران کے لئے زندہ جاوید ہستی ہیں۔ امام خمینی نے ہمیں اپنے نقشہ راہ سے آگاہ کیا ہے۔ امام خمینی کے اصول واضح ہیں۔

داخلی سیاست کے بارے میں امام خمینی کے اصول عوام کے فیصلے پر بھروسہ کرنا، ملت کا اتحاد و یکجہتی، عوام کا دلسوز ہونا، حکام کا تعیش پسندی اور اشرافیت سے دور رہنا، ملک کی ترقی کے لئے سب کا آپس میں مل کر کوشش کرنا۔ خارجہ پالیسی کے سلسلے میں امام خمینی کے اصول تسلط پسند اور مداخلت پسند پالیسیوں کےسامنے ڈٹ جانا، مسلمان قوموں کےساتھ دوستانہ تعلقات، تمام ملکوں کےساتھ برابری کے اصول پرمبنی تعلقات، البتہ ان ملکوں کے علاوہ جنہوں نے ملت ایران کے خلاف تلوار سونت لی ہے اور دشمنی کررہے ہیں۔صیہونیت کے خلاف جدوجہد، فلسطین کی آزاد کے لئے جدوجہد،دنیا میں ظالموں کی مخالفت اور مظلوموں کی حمایت سے عبارت ہیں۔ امام خمینی کا وصیت نامہ ہمارے سامنے ہے۔ امام خمینی کی نگارشات، ان کے بیانات کتابی شکل میں موجود ہیں۔

ثقافت کے تعلق سے امام خمینی کے اصول مغرب کی اباحیت پسندی پر مبنی ثقافت کی نفی، جمود، تحجر، اور دینی احکام پر عمل درامد میں ریاکاری کی نفی، اخلاق و احکام اسلام کا سوفیصدی دفاع، معاشرے میں فحشاو اخلاقی برائيوں کے پھیلاو کی مخالفت سے عبارت ہیں۔

معیشت کے بارے میں امام خمینی کے اصول قومی معیشت پر بھروسہ کرنے، خودکفالت، پیداوار اور تقسیم میں معیشتی عدل وانصاف اور محروم طبقوں کی حمایت، سرمایہ دارانہ ثقافت سے مقابلے نیز ملکیت کے احترام پرمبنی ہیں۔ اس کے علاوہ امام خمینی سرمایہ داری کی ظالمانہ ثقافت کو مسترد کرتے ہیں لیکن مالکیت، سرمائے، اور کام کی اہمیت پر تاکید کرتےہیں۔ اسی طرح عالمی اقتصاد میں ضم نہ ہونا اور قومی معیشت کا خود مختار ہونا بھی امام خمینی کے معیشتی اصولوں میں ہیں۔ یہ ساری چیزیں امام خمینی کے بیانات میں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔

امام خمینی ملک کے حکام سے ہمیشہ یہ توقع رکھتے تھے کہ بھرپور توانائیوں کےساتھ، عقل و تدبیر سے ان اصولوں پر عمل کریں گے اور آگے بڑھائيں گے۔ یہ امام خمینی کا نقشہ راہ ہے۔

ملت ایران اپنی ہمت اور اپنے جوانوں کےسہارے اس نقشہ راہ سے اور اس ایمان کے سہارے جو اس کے دل میں راسخ ہے اپنے محبوب قائد امام خمینی کی یاد کے سہارے اس منزل مقصود کا راستہ طے کرسکتی ہے۔ ملت ایران آگے بڑھ سکتی ہے۔ ملت ایران اپنی توانائيوں کے سہارے، صلاحیتوں کے سہارے اپنی ممتاز شخصیتوں کے سہارے جو بحمد اللہ ملک میں موجود ہیں طے شدہ راہ کو جو انقلاب کے چونتیس برسوں کے تجربے پر مشتمل ہے زیادہ طاقت و ہمت سے جاری رکھ سکتی ہے اور انشاء اللہ حقیقی اور واقعی نمونہ عمل کے طور پر مسلمانون قوموں کے لئے ظاہر ہوسکتی ہے۔

انتخابات کے بارے میں، یہ ان دنوں ہمارا نہایت اہم اور حساس مسئلہ ہے یہ کہنا چاہونگا کہ بھائيوں اور بہنو، ملت عزیر ایران انتخابات ان تین اصولوں کا مظہر ہیں جن پرامام خمینی قائم تھے اور ان اصولوں پر ہمیں بھی عمل کرنا چاہیے۔ انتخابات خدا پر ایمان کا مظہر ہیں کیونکہ فریضہ واجب ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم پر واجب ہے کہ ہم ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے میں شرکت کریں۔ ملت کی فرد فرد پر یہ واجب ہے۔ انتخابات عوام پر یقین و ایمان کا مظہر ہیں چونکہ قوم کی فرد فرد کے ارادے کی نشاندھی کرتے ہیں۔ یہ عوام ہیں جو ملک کے حکام کو اس ذریعے سے منتخب کرتےہیں۔ انتخابات خود اعتمادی کامظہر ہیں کیونکہ ہر وہ شخص جو ووٹ ڈالتا ہے یہ احساس کرتا ہے کہ اس نے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے میں اپنے حصہ کا کام انجام دیا ہے اور اپنا فیصلہ دیا ہے۔ یہ بہت ہی ا ہم چیز ہے لھذا انتخابات خدا باوری کا بھی مظہر ہیں عوام پر یقین کا بھی مظہر ہیں اور خود اعتمادی کا بھی مظہر ہیں۔

امام خمینی(رح) کی چوبیسویں برسی پر رہبر انقلاب اسلامی کا تفصیلی خطاب

انتخابات کے بارے میں بنیادی مسئلہ یہ ہےکہ انتخابات کے موقع پر سیاسی کارنامہ انجام پائے عوام بھر پور طرح سے ووٹنگ میں شرکت کریں۔ عظیم کارنامے کے کیا معنی ہیں؟ اس کے یہ معنی ہیں کہ ملت جوش و جذبے اور ولولے سے فخریہ کارنامہ انجام دے۔ ہر ووٹ جو آپ ان آٹھ امید واروں میں سے ایک کو دیں گے، ان آٹھ محترم افراد کو جو میدان میں ہیں وہ اسلامی جمہوریہ کے حق میں ووٹ ہوگا۔ ہر امید وار کو دیا گيا ووٹ اسلامی جمہوریہ کے حق میں ووٹ ہے۔ ( اسلامی ) نظام اور انتخابات کے عمل کو دیا گيا ووٹ ہے۔ آپ جو انتخابات میں شرکت کرتے ہیں خواہ امیدوار کی حیثیت سے ہوں یا ووٹر کی حیثیت سے ہوں جیسے میں ہوں اور آپ ہیں ہمارا محض انتخابات میں شرکت کرنا ہی اسلامی جمہوری نظام اور انتخابات کے عمل کی حمایت کرنے کے معنی میں ہے، دوسرے درجے میں اس شخص کے لئے ووٹ ہے جسے ہم اور آپ ملک کے مستقبل کے لئے دوسروں سے زیادہ مفید سمجھتے ہیں۔

دیگر ملکوں میں ہمارے دشمن یہ بیچارے سوچتے ہیں کہ ان انتخابات کو اسلامی نظام کے لئے خطرے میں تبدیل کردیں جبکہ یہ انتخابات اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے ایک عظیم موقع ہے۔ دشمن یہ امید لگائے بیٹھا ہےکہ انتخابات میں جوش و جذبے کافقدان ہویا وہ یہ کھ سکيں کہ عوام اسلامی نظام کو پسند نہیں کرتے، یا انتخابات کے بعد فتنے پھیلاسکیں جس طرح سے انہوں نے دوہزار نو کے بے نظیر صدارتی انتخابات کے بعد فتنے پھیلائے تھے۔ اس قوم کے دشمن ان چیزوں کی فکر میں ہیں لیکن وہ غلطی کررہے ہیں انہیں ہماری قوم کی شناخت نہیں ہے۔ اس قوم کے دشمنوں نے نو دی ( تیس دسمبر دوہزار نو) کو فراموش کردیا ہے۔ وہ لوگ جو یہ سوچتے ہیں کہ ایران میں ایک اکثریت خاموش اور اسلامی نظام کی مخالف ہے وہ یہ فراموش کرچکے ہیں کہ چونتیس برسوں سے ملت ایران ہر سال ( انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر ) بائيس بہمن ( گيارہ فروری ) کو نہایت عظیم تعداد میں سڑکوں پرنکل کراسلامی جمہوری حکومت کا دفاع کرتی ہے اور امریکہ مردہ باد کے نعرے لگاتی ہے۔ دشمن نےانتخابات میں عوام کی شرکت کو کم کرنے کی غرض سے اپنے تھنک ٹینک کو ذرائع ابلاغ اور سیاسی ترجمانوں کی حمایت کے لئے بھیج دیا ہے تاکہ وہ نت نئي باتیں تیار کرکے ذرائع ابلاغ کو دیتے رہیں۔ ایک دن کہتے ہیں انتخابات میں حکومت ملوث ہے، دوسرے دن کہتے ہیں انتخابات آزاد نہیں ہیں ،کسی دن یہ کہتے ہیں کہ عوام انتخابات کو قانونی نہیں سمجھتے، یہ لوگ نہ عوام کو پہچانتے ہیں اور نہ ہی ہمارے انتخابی عمل کو اور نہ ہی اسلامی جمہوریہ کو، اور جوچیز جانتے ہیں وہاں بے انصافی کرتے ہیں اور انہیں اس بے انصافی پر شرم تک نہیں آتی۔

دنیامیں ایساکہاں ہوتا ہے؟ جسے معلوم ہو آکر بتائے کہ مختلف امیدواروں کو ان معروف اور غیر معروف امیدواروں کو اجازت دی جاتی ہوکہ وہ قومی اور سرکاری ذرائع ابلاغ سے مساوی استفادہ کریں؟ دنیا میں کہاں ایسی سہولت دی جاتی ہے؟ امریکہ میں دی جاتی ہے؟ سرمایہ دارانہ ملکوں میں دی جاتی ہے؟ سرمایہ دارانہ نظام کے حامل ملکوں میں اگرامید وار ان دو یا تین پارٹیوں کا رکن ہوتا ہے اور اسے سرمایہ داروں، صنعت کاروں اور پیسے والوں، اقتدار و سرمائے کی مافیاوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے تو وہ انتخابی سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں لیکن اگر انہیں ان حلقوں کی حمایت حاصل نہیں ہوتی تو سرے سے کسی طرح کی انتخابی سرگرمیاں انجام نہیں دےسکتے۔جو بھی امریکہ میں انتخابات کا جائزہ لیتا ہے ۔میں نے جائزہ لیا ہے۔ اس حقیقت کی تصدیق کرے گا۔ ایسے بھی لوگ تھے جنہيں صیہونیوں کی حمایت حاصل نہیں تھی، سرمایہ داروں کے بین الاقوامی خونخوار نیٹ ورک کی حمایت حاصل نہیں تھی انہوں نے سرتوڑ کوشش کرلی لیکن انتخابات میں امیدوار کی حیثیت سے شرکت نہ کرسکے، نہ انہیں میڈیا کی حمایت حاصل تھی نہ ٹی وی چینل ان کے اختیار میں تھے میڈیا پر ہر سکینڈ کے حساب سے بڑا خرچ آتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں انتخابات کے امیدوار ایک ریال خرچ کئے بغیر قومی میڈیا پر مساوی طورپر کئي گھنٹوں پرمشتمل مختلف پروگراموں میں عوام سے مخاطب ہوتے ہیں۔ دنیامیں کس ملک میں اس طرح کی سہولتیں دی جاتی ہیں؟

انتخابات میں امیدوار کی حیثیت سے حصہ لینے کےلئے صرف قانون کی پابندی کی ضرورت ہے۔ قانون کے مطابق کچھ لوگ امیدوار بن سکتے ہیں کچھ لوگ نہیں بن سکتے۔ قانون نے شرایط کا تعین کیا ہے، توانائیوں کا تعین کیا ہے۔ جہ لوگ اھلیت کی تشخیص دیتے ہیں وہ کون لوگ ہیں؟ یہ سارے کام قانون کے مطابق انجام دئے جارہے ہیں۔ دیگر ملکوں میں بیٹھا دشمن ان تمام حقائق کو نظرانداز کرکے پراپگینڈا کرتا ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ افسوس کی بات ہےکہ بے تقوا گلے اور بے تقوا زبانیں بھی ان ہی باتوں کو دوہراتی ہیں لیکن ملت ایران توفیق الھی سے اپنی موجودگي سے اپنی استقامت و عزم راسخ سے ان تمام سازشوں کاجواب دے گی اور اس کا جواب نہایت شدید اور ٹھوس ہوگا۔

ایک جملہ محترم امیدواروں سے کہنا چاہتاہوں۔ محترم امیدوار ان پبلک پروگراموں میں مختلف مسائل پر تنقید کرتےہیں یہ ان کاحق ہے وہ ہر اس چیز پر جو ان کی نظر میں قابل تنقید ہے تنقید کرسکتے ہیں لیکن انہیں یہ توجہ رکھنی چاہیے کہ تنقید مستبقل کی جدوجہد اور فخریہ راہ کو طے کرنے کی غرض سے عزم و نیت پر مبنی ہونی چاہیے شبیہ خراب کرنے منفی باتوں اور بے انصافی پر مشتمل نہیں ہونی چاہیے۔ میرے مد نظر کوئي امیداور نہیں ہے۔ اسی لمحے سے دشمن میڈیا غصے اور مذموم اھداف کے تحت یہ کہنے لگے گا کہ فلان کی نظر میں زید یا عمرو، یا بکر وخالد ہے یہ حقیقت کے برخلاف ہے۔ میرے مدنظر کوئي امید وار نہیں ہے میں حقائق پیش کررہاہوں۔ میں ان بھائيوں سے جو عوام کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ نصحیت کرتاہوں کہ انصاف سے بات کریں، تنقید کریں لیکن تنقید شبیہ بگاڑنے کےمعنی میں نہ ہو، ان عظیم کاموں کے انکار کے معنی میں نہ ہوجو اس حکومت یا پہلے کی حکومتوں میں انجام دئے گئے ہیں کیونکہ ان ہی کی طرح کے لوگ برسر اقتدار آئے تھے اور انہوں نے دن و رات محنت کرکے یہ کام انجام دئے ہیں۔ تنقید کے معنی مثبت پہلووں کے انکار کے نہیں ہیں۔ تنقید یہ ہےکہ انسان مثبت کاموں کا اعتراف کرے اور نقص و کمزوری کا بھی ذکر کرے۔ آج ہمارے ملک میں جو بھی برسراقتدار آئے گا اسے زیرو سے شروع کرنے کی ضرورت نہيں ہے۔ ہزاروں اہم کام انجام پاچکے ہیں، طولانی برسوں میں، مختلف حکومتوں میں، ملک میں بنیادی تنصیبات کا وسیع نیٹ ورک وجود میں آچکا ہے۔ علم و سائنس میں ترقی ہوئي ہے، صنعت میں ترقی ہوئي ہے، بنیادی کاموں میں ترقی ہوئي ہے۔ مختلف شعبوں میں نہایت اہم کام منصوبہ بندی سے انجام پاچکے ہیں، ہمیں یہ چيزیں ہاتھ سے جانے نہیں دینی چاہیں، جو بھی کام ہوگا یہاں سے شروع ہونا چاہیے، ان تمام کاموں کا صرف اس بہانےسے کہ آج ہم اقتصادی مسائل میں گرفتار ہیں، افراط زر اور مہنگائي ہے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ جی ہاں اقتصادی مسائل ہیں افراط زر ہے، مہنگائي ہے، انشاء اللہ جو منتخب ہوکر آئے گا ان مشکلات کو حل کرسکے، ان گرہوں کو کھول سکے۔ یہ تو ملت ایران کی آرزو ہے لیکن اس کے یہ معنی نہ لئے جائيں کہ اگر ہم اپنی مشکلات کا کوئي چارہ رکھتے ہیں تو آج تک جو کچھ ہوا ہے اور موجود ہے اس کا انکار کردیں اور ناقابل عمل وعدے کرنے لگیں۔ میں مختلف امیدواروں سے کہنا چاہتاہوں کہ اس طرح بات کریں کہ اگر آئندہ برس آپ کی ٹیپ شدہ باتیں آپ کے سامنے پیش کردی جائيں یا نشر کردی جائيں تو آپ شرمندہ نہ ہوں۔ ایسے وعدے کریں کہ اگر بعد میں آپ کے وعدوں کی یاد دہانی کرائی جائے تو آپ دوسروں کو قصور وار گرداننے پر مجبور نہ ہوں اور یہ کہیں کہ کچھ لوگوں نے آپ کو کام کرنے کا موقع نہیں دیا۔ آپ جو کام کرسکتے ہيں اس کا وعدہ کریں۔

ہمارے ملک میں صدر مملکت آئين کے مطابق غیر معمولی اختیارات کا حامل ہوتا ہے۔ آئين میں صدر کو وسیع اختیارات دئے گئے ہیں۔ اس کےپاس ملک کا بجٹ ہوتا ہے۔ ملک کے تمام اجرائي ارکان اس کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ قوانین کے نفاذ کے اختیارات اس کے پاس ہوتے ہیں۔ مختلف مسائل میں صدر کا ہاتھ کھلا ہوتا ہے۔ اس پر صرف قانون کی گرفت ہوتی ہے قانون ہی اسے محدود کرسکتا ہے اور یہ بھی کوئي محدودیت نہیں ہے بلکہ قانون ھدایت کرتا ہے محدود نہیں کرتا، قانون راہ دکھاتا ہے کہ کسطرح راستہ چلنا چاہیے۔

وہ لوگ جو آج عوام سے مخاطب ہیں جن امور کی انجام دہی کی توانائي رکھتے ہیں اور عوام کو ان چيزوں کی ضرورت ہے وہ عوام کے سامنے پیش کریں۔ وعدہ کریں عقل و درایت سے عمل کریں گے۔ اگروہ مسائل کے ہر پہلو کے بارے میں منصوبہ رکھتے ہیں تو عوام کو اپنے منصوبوں سے آگاہ کریں۔ وعدہ کریں تجربے اور ثابت قدمی سے اس میدان میں آگے بڑھیں گے ۔ وعدہ کریں کہ وہ آئين کی تمام تر توانائیوں سے اپنے عظیم اجرائي فرائض کو انجام دینے میں استفادہ کریں گے، وعدہ کریں کہ وہ ملک کے حالات سدھارنے کی کوشش کریں گے۔وعدہ کریں کہ ملک کے معیشتی حالات کہ جو آج دشمنوں کی جانب سے ملت پر مسلط کردہ چیلنجوں کا میدان بنے ہوئے ہیں بخوبی سدھارنے کی کوشش کریں گے۔ وعدہ کریں کہ حاشیے اور غیر اہم کاموں میں مشغول نہیں ہونگے۔ وعدہ کریں کہ اپنے رشتہ داروں اور قریبی لوگوں کو سرکاری سہولتیں نہیں دیں گے۔ وعدہ کریں کہ گوناگوں بہانوں سے دشمنوں کے مفادات کو ملت ایران کے مفادات پر ترجیح نہیں دینگے۔ بعض لوگ اس غلط تجزیے کے سہارے کہ دشمن کو مراعات دیدیں تا کہ ان کا غصہ ٹھنڈا پڑجائے عملا دشمن کے مفادات کو قوم کے مفادات پر ترجیح دے رہے ہیں یہ ایک غلطی ہے ۔ دشمن کا غصہ اس وجہ سے ہے کہ آپ موجود ہیں، اس وجہ سے ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران قائم ہے ، اس وجہ سے ہے کہ امام خمینی عوام کے ذہنوں اور ملک کے منصوبوں میں موجود ہیں، اس وجہ سے ہے کہ چودہ خرداد، امام خمینی کی رحلت کے دن پورے ملک میں عوام پورے جوش و خروش سے ان کی یاد مناتے ہیں، دشمن کے غصہ کی وجہ یہ سارے امور ہیں۔دشمن کے غصے کا علاج و تدارک قومی طاقت سے کرنا چاہیے۔

اگر ملت طاقتور ہو توانا ہو، اپنی ضرورتوں کوکم کرے، اپنی مشکلات خود برطرف کرلے، اور آج معیشت کے مسائل کو جو کہ بنیادی مسئلہ بنی ہوئي اسے خود حل کرلے تو دشمن ملت ایران کے مقابل بے دست و پا ہوجائے گا۔ بہرحال جس چیز کی اہمیت ہے وہ عزم و ارادہ، خدا پر یقین، عوام پر یقین اور خود پر یقین ہے یہ چیزیں امیداروں کے لئے بھی ضروری ہیں اور ملت کے لئے بھی۔ میرے بھائيوں اور بہنوں دس دنوں کے بعد ایک بڑی آزمائش ہوگی اور امید کہ انشاء اللہ اس بڑے امتحان میں خدا کی مدد سے پربرکت کارنامہ انجام پائے گا جس سے ملت کو درخشان نتائج حاصل ہونگے

ولاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم ۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

امام خمینی رح ایک تاریخ سازہستی

امام خمینی نے ایک ایسے دور میں جبکہ پوری دنیا کی نظروں میں صرف دو طاقتیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی تھی یہ واضح کردیا کہ دنیا کے اندر صرف دو طاقتیں ( مغربی دنیا اور کمیونسٹ ) ہی نہیں بلکہ تیسری ایک بہت بڑی طاقت بھی اسلام اور ایمان کی شکل میں موجود ہے

تحریر:ذاکر حسین جامعۃ النجف اسکردو پاکستان

تاریخ انسانیت ایسی عظیم شخصیتوں کے ذکر سے بھری پڑی ہے جنھوں نے اپنی پاک سیرت، مہر و محبت اور انسان دوستی کی بناء پر لوگوں کے دلوں پر حکومت کی۔ انسان دوستی، نرم مزاجی، پاک کردار و گفتار اور مظلوم پروری وغیرہ ایسی صفات ہیں جو اپنے اندر ایک پر کشش مقناطیسی طاقت رکھتی ہیں۔ لھذا جس کے اندر یہ چیزیں موجود ہوں وہ ایسی مقبول شخصیت بن جاتی ہیں کہ بے اختیار انسانی توجہ ان پر مرکوز ہوتی ہے۔ خدا کے انہی پاک طینت اور پاکیزہ کردار بندوں میں سے ایک فرد صالح امام خمینی رح کی ذات ہے جنھوں نے اپنے کردار و گفتار کے ذریعے نہ صرف ایرانی قوم کے دلوں پر حکومت کی بلکہ پورے جہاں کے مظلوں کے دلوں کو اپنی طرف مبذول کیا۔ دنیا اس بات پر یقیناً حیرانگی کا مظاہرہ کرے گی کہ وہ انسان جس کے ہاتھ ہر قسم کے مادی وسائل سے خالے تھے، جس کے پاس نہ فوجی طاقت تھی نہ مادی وہ فرد واحد جو دنیا کی سپر پاور طاقتوں کا مقابلہ کر رہے تھے کس طاقت کے بل بوتے ایک قلیل عرصے کے اندر کڑوڑوں انسانوں کے دلوں پر چھا گئے یقیناً ان کے اندر یقین کامل، اعمال صالح اور الہی طاقت تھی جس کے سامنے دنیا کی مادی طاقتیں ٹک نہ سکی۔

تاریخ اسلام میں بہت سارے علمائے حق ایسے نظر آ ئیں گے جنھوں نے تہہ تیغ کلمہ حق کی آواز بلند کی انھوں نے کلمہ حق کی سر بلندی کیلئے کتنی زحمتیں برداشت کیں، کتنے مظالم کا مقابلہ کیا مگر یہ تاج کسی کے سر پہ نہیں رکھا گیا کہ وہ بے سر و سامانی کے باوجود ایک اسلامی انقلاب برپا کر سکیں۔ لیکن بیسویں صدی کے اس عظیم رہنما کو یہ منفرد مقام حاصل ہے کہ انھوں نے روئے زمین کے اندر الہی حکومت کا قیام عمل میں لاکر عالم اسلام کے اوپر یہ واضح کر دیا کہ اگر مسلمان اپنے یقین کامل، اعمال صالح اور علم آگہی کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں تو دنیا کی کوئی ایسی طاقت نہیں جو مسلمانوں کو زیر کر سکے۔ امام خمینی نے ایک ایسے دور میں جبکہ پوری دنیا کی نظروں میں صرف دو طاقتیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی تھی یہ واضح کردیا کہ دنیا کے اندر صرف دو طاقتیں ( مغربی دنیا اور کمیونسٹ ) ہی نہیں بلکہ تیسری ایک بہت بڑی طاقت بھی اسلام اور ایمان کی شکل میں موجود ہے۔ وہ چند ایک خصوصیات جن کی بناء پر امام خمینی بیسویں صدی کے آخری عظیم رہنما کے طور ابھرے۔

* امام خمینی نے عالم اسلام کی نئی نسلوں کو اپنے انقلابی افکار و نظریات سے متاثر کیا۔

* ایک ایسے دور میں جبکہ مسلمانان عالم مایوسی اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے امام خمینی نے اپنے کردار و عمل کے ذریعے مسلمانوں کو یہ بات سمجھا دی کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو اس دور کے تمام فتنوں، الجھنوں اور مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔

* امام خمینی نے اپنے وقت کے سامراجی و استعماری طاقتوں کے خلاف ( بے سر و سامانی کے عالم میں ) بغاوت کا علم اٹھا کر مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ انہیں خدا، رسول اور قرآن کے علاوہ کسی قسم کا خوف نہیں۔

* امام خمینی کی شخصیت نے عالم اسلام کے فکری کردار کو اعتماد فراہم کیا۔

* امام امت کی شخصیت کے انقلابی اثرات عالم اسلام کے نوجوان نسل پر پڑے اور ان میں مجاہدانہ کردار ابھرے۔

* انقلاب اسلامی کے ظہور کے ساتھ امام امت نے اتحاد بین المسلمین کا نعرہ بلند کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کا باعث بنے تو وہ نہ شیعہ ہے اور نہ سنی بلکہ استعمار کا ایجنٹ ہے۔

* دشمنوں کی طرف سے مختلف قسم کے مخالفانہ پروپیگنڈے کے باوجود امام خمینی نے اسلامی اصولوں کی پاسداری کرنے میں انحراف نہیں کیا۔

* امام خمینی نے عالم اسلام کے قلب میں جو لرزشیں پوشیدہ تھیں ان کو رفع کیا اور اپنی قیادت کے کرشمہ سے عالمی سیاسیات میں اسلام اور بلاد اسلام کو مرکزی اہمیت فراہم کی۔

* امام امت مستضعفین جہاں کی آواز بن کر ابھرے۔

* امام خمینی نے اپنی جدوجہد اور کاوشوں کے ذریعے عالم اسلام پر یہ واضح کردیا کہ خمینی ذاتی اقدار کا حصول نہیں چاہتے بلکہ ان کا مقصد دین محمدی کو لے کر پوری دنیا میں چھا جانا ہے۔

آج اگرچہ امام امت ہمارے درمیان نہیں ہے لیکن امام کے افکار و نظریات آج بھی خواب غفلت میں پڑے ہوئے مسلمانوں کو پکار پکار کر یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلمانو! تمہارے تمام مصائب و مشکلات کا حل اسلام اور قرآن کے اندر موجود ہے اگر تم آج بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست دینا چاہتے ہو تو قرآن کو عملی میدان میں لے آو۔ یقیناً آج مسلمان جس قدر مظلومانہ اور مایوسی کی زندگی گزار رہے ہیں اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ایک طرف مسلمانوں کے اوپر مظالم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں دہشت گرد قرار دینے کی مذموم کو ششیں کر رہی ہیں۔

افغانستان، عراق اور فلسطین کی صورتحال سے کون ناواقف ہے، ایک خونخوار درندے کی شکل میں امریکہ ان ملکوں میں نمودار ہوا اور یہاں کے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں تک کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا لیکن کسی مسلمان کے اندر یہ جرات پیدا نہ ہو سکی کہ وہ آگے بڑھ کر کہے کہ اس دور میں سب سے بڑا دہشت گرد خود امریکہ ہے اور اس کا اپنا وجود انسانیت کی بقاء کے لئے خطرناک اور ضرر رساں ہے۔ امام خمینی تو وہ عظیم مرد مجاہد ہے جنھوں نے ان حالات کے پیدا ہونے سے پہلے ہی پیشن گوئی دیتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا شیطان امریکہ ہے اور اس کے وجود سے عالم اسلام کو خطرات لاحق ہیں۔ لیکن عقل کے کھوٹے مسلمانوں نے اس پر کسی قسم کی توجہ نہیں دی جس کی سزا آج پوری امت مسلمہ بھگت رہی ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

حضرت امام خمینی(رہ)کا مقصد اسلام کا غلبہ و سرفرازیپاکستان کی جماعت اسلامی کے رہنما اسداللہ بھٹو نےکہا ہے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی(رہ) کامقصد امریکہ، اسرائیل اور دیگر استعماری و استکباری طاقتوں سے مقابلہ اوراسلام کا غلبہ و سرفرازی تھا۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت مسلسل جدوجہد کا نام ہے، تبدیلی کیلئے مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے، بعض اوقات کئی کئی دہائیاں بیت جاتی ہیں منزل تک پہنچنے کیلئےاور اس دوران کئی نسلیں گزر جاتی ہیں۔ ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ انقلاب کے اوائل میں محمد علی رجائی وزیراعظم تھے، پارلیمنٹ میں بم دھماکہ کیا جاتا ہے، وزیراعظم، اسپیکر سمیت درجنوں اراکین پارلیمنٹ شہید ہو جاتے ہیں، لیکن وہاں کسی قسم کی کوئی ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی۔ اس بات کا کریڈیٹ امام خمینی ﴿رہ﴾ کو جاتا ہے، ان کی وہاں اسلامی جمہوریت کیلئے کوششوں کو جاتا ہے۔ امام خمینی ﴿رہ﴾ نے وہاں کوئی عبوری حکومت قائم نہیں کی بلکہ فوری طور پر انتخابات کا اعلان کیا۔

 

جماعت اسلامی سندھ کے صدراسد اللہ بھٹوکا کہنا تھا کہ اس وقت واقعاً صورتحال انتہائی افسوسناک ہے مگر اس کے ساتھ ہی جو بات سب سے زیادہ خوش آئند ہے وہ ہے امت کے درمیان اتحاد۔ عوام چاہے مصر کی ہو یا تیونس کی، پاکستان کی ہو یا ایران کی، ترکی کی ہو یا انڈونیشیا کی، بلکہ یورپ، ایشیاء، افریقہ سمیت دنیا بھر کے مسلمان اس حوالے سے ایک طرح کی سوچ رکھتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانان عالم کے اندر فکری وحدت، فکری ہم آہنگی موجود ہے، وہ فرقہ واریت کے خلاف ہیں لیکن سوائے ایک آدھ اسلامی ملک کے، ہمارے تقریبا تمام مسلمان ممالک کے حکمران امریکا کے ایجنٹ اور پٹھو ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمیں یہ اختلاف نظر آتا ہے۔ ہمارے حکمران کے کچھ نہ کرنے کی اصل وجہ ان کا ہر معاملے میں امریکا سے ڈکٹیشن لینا ہے لیکن امت کے اندر اختلاف نہیں بلکہ اتحاد و وحدت موجود ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں درجنوں غیر ملکی سروے کئے جا چکے ہیں اور سب میں پاکستانی عوام کی اکثریت نے امریکا سے نفرت کا اظہار کیا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ امت جاگ رہی ہے۔ استعمار پاکستان میں شیعہ سنی جھگڑا کرانا چاہتا ہے۔ فرقہ واریت کو جنم دے کر وہ چاہتا ہے کہ جب ایران کے خلاف کوئی پابندیی لگائے، یا اسرائیل کی جانب سے ایرانی ایٹمی پروگرام پر جارحیت کی جائے تو سنی یہ کہے کہ ہمارا کیا واسطہ یہ تو شیعوں پر ہوا ہے۔ اسی طرح جب پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر امریکہ پابندیاں لگائے یا حملہ کرے تو وہاں کے عوام یہ سوچے کہ ہم تو شیعہ ہیں، اگر پڑوس میں ہوا ہے تو ہم کیا کریں۔ مگر ہم ان تمام سازشوں سے مقابلہ کرتے ہوئے وحدتِ امت کے ذریعے امریکا، اسرائیل سمیت تمام سامراجی، طاغوتی قوتوں کو ناکامی سے دوچار کرینگے۔

مجھے یاد ہے کہ جب ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہو رہا تھا تو پاکستان میں امام خمینی رحمة اللہ علیہ نے دو نمائندے بھیجے تھے، جن میں سے ایک بعد میں ایران کے وزیر خارجہ بھی بنے۔ دونوں نمائندوں نے آ کر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ ایران میں اسلامی انقلاب کیلئے امام خمینی (رہ)شریف لا رہے ہیں۔ اس وقت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے نہ صرف ان کا استقبال کیا تھا بلکہ ان کی اسلامی حکومت کو پاکستان نے سب سے پہلے تسلیم بھی کیا تھا۔

ہم ایران کے اسلامی انقلاب کو شیعہ کے بجائے اسلامی انقلاب سمجھتے ہیں۔ یہ اسلامی انقلاب الحمد اللہ آج تک برقرار ہے، ہمیں خوشی ہے، اللہ اسے مزید قائم و دائم رکھے۔

اسلامی نظام حکومت اور سیاست و حکومت کو اسلام کے مطابق بنانے کیلئے امام حسین عالی مقام (ع) نے سب سے بڑی قربانی دی ہے کہ یہاں پر اسلامی نظام ہونا چاہئیے۔ امام حسین (ع) کے قیام کے وقت لوگ نمازیں بھی پڑھ رہے تھے، روزے بھی رکھ رہے تھے، حج بھی کر رہے تھے۔ لیکن اسلامی نظام نہیں تھا، اسلامی احکامات کو تبدیل کیا جا رہا تھا، اس لئے امام حسین (ع) نانا (ص) کے دین کی بقاء اور اسلامی نظام حکومت کیلئے کھڑے ہو گئے اور سب سے بڑی قربانی دی۔ اصل میں یہ استعمار، استکبار، طاغوت کا فلسفہ ہے کہ دین و سیاست جدا ہیں۔ اسی لئے ہم امام خمینی (رہ) کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے عملی طور پر ایک کامیاب اسلامی نظام حکومت، اسلامی ریاست کا قائم کر کے دکھائی ہے۔

 

ہم اتحاد امت اور وحدت اسلامی کے ذریعے عالم اسلام اور مسلمین کے خلاف جو سازشیں ہو رہی ہیں ان سب کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی (رہ) نے فرمایاتھا کہ فقہ جعفری سے تعلق رکھنے والے شیعہ، حنفی، حنبلی، مالکی اور شافعی یہ پانچوں ایک مکے کی طرح ہیں، پانچ انگلیاں جب مل جائیں گی تو ایک مکا بنے گا اور انشاءاللہ یہ اتحاد امت کا مکا ہے جو سامراج اور طاغوت کے جبڑے کو توڑ دے گا۔

امام راحل کی 24 ویں برسی، تہران میں 30 ہزار پولیس اہلکار تعیناتاسلامی جمہوریہ ایران کے پولیس چیف نے کہا ہےکہ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ کی چوبیسویں برسی کے پروگراموں کے موقع پر تہران میں تیس ہزار پولیس اھلکار تعینات رہیں گے۔ مھر نیوز کے مطابق جنرل اسماعیل احمدی مقدم نےآج تہران میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اس سال امام خمینی رح کی برسی کے پروگراموں کے موقع پر تیس ہزار پولیس اھلکار تعینات رہیں گے جو ٹریفک کنٹرول اور سکیوریٹی فراہم کرنے کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس موقع پر چھے ہزار چھے سو موبائيل یونٹ بھی سرگرم رہیں گے اور ہیلی کاپٹروں سے بھی نظر رکھی جائے گي۔ جنرل احمدی مقدم نے کہا کہ امام خمینی کی برسی کےموقع پر بیس لاکھ سے زائد زائر ایران اور مختلف ملکوں سے آئيں گے اور تیس ہزار بسوں کو زائرین کی سہولت کے لئے پرمٹ دئے گئے ہیں۔ واضح رہے اسلامی جمہوریہ ایران میں چار جون کو بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ کی چوبیسویں برسی منائي جائے گي۔

شام، مقام حضرت ابراہیم علیہ السلام شہیدشام میں النصرہ سے وابستہ تکفیری سلفی دھشتگردوں نےعین العروس نامی علاقے میں جو شام کے شمال میں واقع ہے مسلمانوں کی اھم زیارتگاہ مقام حضرت ابراھیم(ع) کو آگ لگانے کے بعد بلڈوزروں کے ذریعے شھید کر دیا۔النصرہ سے وابستہ تکفیری سلفی دھشتگردوں نےاس گھناونے اقدام کے بعد انٹر نیٹ پر اس کی ویڈیو بھی نشر کی۔

شام میں مقام حضرت ابراھیم(ع) ایک تاریخی اور قدیم ترین آثار میں سے تھا۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی وہابیت کے ٹکڑوں پر پلنے والے النصرہ کے ایجنٹوں نے پیغمبر اسلام کے جلیل القدر صحابی حجر ابن عدی کے مرقد مطہر پر حملہ اور نبش قبر کرکے ان کی ضریح مبارک کو مسمارکردیا اور ان کے جسد اطہر کو جو چودہ سو برسوں کے بعد آج بھی تر وتازہ اور خون آلود تھا نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ۔ نبش قبر جیسے غیرانسانی فعل کی نسبت کسی بھی مسلمان کی طرف نہیں دی جاسکتی۔ یہ وہی لوگ ہیں جو سینکڑوں بے گناہ بچوں ،جوانوں اور بوڑھوں کا خون بہاتے ہیں صرف یہی نہیں بلکہ نوجوانوں کی گردنوں کو بڑی بے رحمی سے تلواروں سے اڑاکر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں اور پھر ان لاشوں کی تصاویر کو انٹرنیٹ اور سیٹیلائٹ پر نشر کرتے ہیں اور خود کو مسلمان ثابت کرکے اسلام کا بدترین چہرہ دنیا والوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یہ اقدام ان دہشت گرد عناصر نے کیا ہے جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور اپنی دہشتگردی کو جہاد کا مقدس نام بھی دیتے ہیں۔ مقام حضرت ابراھیم(ع) کو آگ لگانے کے بعد بلڈوزروں کے ذریعے شھید کر کے اسکی مسماری ان دہشت گردوں کا پہلا گھناونا اقدام نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی ان دہشت گردوں نے اسلامی مقدسات اور تاریخ اسلام کی اہم شخصیات کے مزارات کو نشانہ بنایا ہے اور ان کے آقاؤں نے انہدام جنت البقیع جیسا فعل انجام دیا تھا۔ یہ وہی گروہ ہے جس نے رسول اکرم (ص) کی نواسی اور سیدالشہداء امام حسین کی ہمشیرہ گرامی حضرت زينب (س) کے مزار کو مارٹر گولوں سے تباہ کرنے کی بارہا کوشش کی ہے۔ یہ دہشت گرد صرف مزارات کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ شام کے نہتے شہری بھی انکی بربریت سے محفوظ نہیں ہیں۔ مسلمانوں کے اندر انتہاء پسندی کی بنیاد رکھنے میں سعودی عرب کا بنیادی ہاتھ ہے، البتہ اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ سعودی عرب کے ہر اقدام کے پیچھے امریکی اور برطانوی استعمار کا ہاتھ ہوتا ہے، اور اب تو یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ سعودی عرب اور اسکے بعض عرب اتحادی سلفیت اور تکفیری گروہوں کے ذریعے شام سمیت کئی ملکوں میں امریکی ایجنڈے کو آگئے بڑھا رہے ہیں۔شام میں ہونے والی دہشت گردی میں قطر اور سعودی عرب کا ہاتھ بہت ہی واضح ہے اور وہ میڈیا کے ذریعے واضح طور پر اس کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ قطر، سعودی عرب اور ترکی شام میں بہنے والے خون کے ہر قطرے اور اسلامی مقدسات کی توہین کے ذمہ دار ہیں اور عالمی برادری کو چاہیے کو وہ ان ممالک کو شامی دہشت گردوں کی حمایت کرنے اور انہیں ہتھیار فراہم کرنے سے روکے۔

شام میں موجودہ حوادث کے آغاز میں اپریل کے مہینے میں سعودی ولی عہد نائف بن عبدالعزیز نے سعودی جیلوں کا دورہ کیا تھااور القاعدہ کے گرفتار افراد کو شام میں کردار ادا کرنے کی شرط پر رہا کر دیا۔ الظواہری نے گزشتہ جون میں اپنے بیان میں شام کی موجودہ حکومت کے خاتمے کی حمایت کی تھی، علاوہ ازیں مختلف ذرائع کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان، عراق اور یمن سے القاعدہ کے سینکڑوں اراکین کو شام روانہ کیا گیا ہےلہزا شام میں القاعدہ اور النصرہ میں کوئی فرق نہیں

شام کے سیاسی امور کے ماہر اور تجزیہ کار ریاض الاخرس نے بھی القاعدہ اور امریکہ کے مابین شامی حکومت کے خاتمے کے لیے ہم آہنگی کا پردہ چاک کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں کا اتحاد دراصل وائٹ ہاﺅس کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہ فقط شام کے ہمسایہ ممالک سے القاعدہ کے ارکان کو رہا کرکے شامی سرحدوں کے قریب بھجوایا گیا ہے، بلکہ برطانیہ سمیت بعض مغربی ممالک سے بھی القاعدہ کے اراکین کو آزاد کرکے اردن وغیرہ بھجوایا گیا ہے، تاکہ انھیں حسب ضرورت شام روانہ کیا جائے اور وہ شام میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں جیسی کارروائیاں کرسکیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ کونسا بڑا ہدف ہے جس نے امریکہ، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب، قطر، اسرائیل اور القاعدہ وغیرہ کو یکسو کر دیا ہے۔ شام میں ان قوتوں کے اتحاد کا مقصد کیا ہے؟ کیا واقعاً یہ سب قوتیں عوام دوست اور جمہوریت پسند ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ”ہاں“ وہی کہے گا جو احمقوں کی جنت میں بستا ہے۔ سعودی عرب، قطر اور اردن کی موجودہ خاندانی بادشاہتوں کے سرپرستوں کو جمہوریت کتنی عزیز ہے، کسی سے پوشیدہ نہیں۔

 

القاعدہ کی ہر کارروائی آج تک امریکہ اور اس کے دوستوں کے مفاد میں تمام ہوئی اور اس کی ہر ضرب کا زخم ہمیشہ مسلمانوں کے بدن پر لگا ہے۔ آج اسرائیل، امریکہ اور القاعدہ شام میں پھر ایک ہوگئے ہیں تو اس کا ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے شام کی موجودہ حکومت کا طویل عرصے سے اسرائیل کے خلاف جرات مندانہ موقف۔

شام میں النصرہ سے وابستہ تکفیری سلفی دھشتگردوں نےعین العروس میں واقع مسلمانوں کی اھم زیارتگاہ مقام حضرت ابراھیم(ع) کو آگ لگانے کے بعد بلڈوزروں کے ذریعے شھید کیا ہے اور یہ وہی عمل ہے جسکا ارتکاب القاعدہ اور اسکے ہم فکر سلفی و وہابی گروہ اس سے پہلے کرتے رہے ہیں

عراقی صوبی بصرہ میں ہزاروں افراد کا امام خمینی کو خراج عقیدتعراق کے جنوبی صوبے بصرہ میں حضرت امام خمینی قدس سرہ کی چوبیسویں برسی کی مناسبت سے پروگرام ہوئے ہیں۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق یہ پروگرام الرافدین ادارے نے کرائے ہیں اور ان میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔ ان پروگراموں میں شریک افراد نے حضرت امام خمینی قدس سرہ کو خراج عقیدت پیش کرتےہوئے کہا کہ آپ نے ڈٹ کر سامراج کا مقابلہ کیاتھا۔ پروگرام میں شریک افراد نے آپ امت اسلام میں اتحاد قائم کرنے کی آپ کی نصحیتوں پرعمل کرنے کی ضرورت پرتاکید کی۔ الرافدین ادارے کے سربراہ نے اس موقع پر کہا کہ امام خمینی نے علماء دین کی روشن تصویر اور امت اسلام کی رہبری میں ان کے کردار کو واضح کیا ہے۔ بصرہ انتظامی کونسل کے رکن احمد السلیطی نے کہا کہ امام خمینی مظلوموں کے حامی تھے اور آپ نے ظالموں اور سامراج کے مقابل قیام کرکے عدل و انصاف اور اسلا م کے اصولوں پر حکومت قائم کی۔ ہر سال چار جون کو بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ کی برسی منائي جاتی ہے۔

مکتب اہلیبیت ع سے آشنائی، امام خمینی کا کارنامہ

ترکی میں اھل بیت فاونڈیشن کے سربراہ فرمانی آلتون نے کہا ہے کہ حضرت امام خمینی قدس سرہ نے اھل عالم کو مکتب اھل بیت علیھم السلام سے آشنا کراکر قوموں کوبیدار کیا ہے۔ فرمانی آلتون نے کہا کہ حضرت امام خمینی قدس سرہ نے اھل عالم کو مکتب اھل بیت علیھم السلام سے آشنا کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے حقیقی اسلام محمدی کی بنیادوں پر اسلامی حکومت قائم کرنے میں امام خمینی کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب نے دنیا کے حالات میں اہم کردار ادا کیا ہے ا ور اسلامی بیداری میں اس کی نشانیاں دکھاي دے رہی ہیں۔ انہون نے کہا کہ حضرت امام خمینی کی ھدایات نے مسلمانوں کو سامراج کے تسلط سے نجات دلائي ہے۔ انہوں نے سامراج کے مقابل ملت اسلام کے اتحاد کی ضرورت پر تاکید کی اور کہا کہ قران و اھل بیت کی پیروی مسلمانوں کو اس منزل تک پہنچاسکتی ہے۔ ادھر صربیہ یونیورسٹی کے پروفیسر رادہ بوژوویچ نے کہا ہےکہ امام خمینی کے افکار و نظریات نے مسلمانوں پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ صربیہ کی یونیورسٹی کے اس پروفیسر نے بانی انقلاب اسلامی کو خراج عقیدت پیش کرتےہوئے کہا کہ امام خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب نے ارینا کو علاقے کی بڑی طاقت میں تبدیل کردیا اور عالمی سطح پر دنیا میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بنا۔ صربیہ کے اس ماہر مشرقیات نے امام خمینی قدس سرہ کو بیسویں صدی کاعظیم ترین سیاسی چہرہ قراردیا۔

حزب اللہ کی جانب سے امریکی پالیسیوں کی مذمتحزب اللہ لبنان کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ شام میں بحران پیدا کرنے کا امریکی مقصد صیہونی حکومت کے خلاف جاری مزاحمت کو کمزور بنانا ہے۔ المنار ٹی وی کے مطابق شیخ نعیم قاسم نے شام کے خلاف امریکہ کی سازشوں کی مذمت کرتےہوئے کہا کہ امریکہ نے صیہونی حکومت کے خلاف جاری مزاحمت کو کمزور بنانے کے لئے شام کے خلاف سازشیں رچی ہیں۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ شام اس وقت صیہونی حکومت کے خلاف جاری استقامت کی حمایت اور علاقے کو جنگ کی آگ سے بچانے کے لئے اپنی ساری توانائي سے صیہونی حکومت اور امریکہ کی سازشوں کا مقابلہ کررہا ہے۔ حزب اللہ لبنان کے نائب سربراہ نے کہا کہ امریکہ کو شام کے عوام کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے اور یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ شام کے سیاسی عمل میں تمام پارٹیاں اور دھڑے شامل ہوں اور امریکہ ملت شام کے خلاف اپنی سازشوں سے دستبردار ہوجائ۔ شیخ نعیم قاسم نے بیروت کے جنوبی علاقے پر میزائل حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کامقصد لبنان میں فتنہ بھڑکانا ہے اور حزب اللہ ان فتنوں کا بھرپور طرح سے مقابلہ کرے گي۔

انسانی حقوق کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر

اسلام میں انسانی حقوق توحیدی فکروسوچ پر استوار ہیں کہ جس نے اسلامی حقوق بشر کو مغربی حقوق بشر سے ممتاز کر دیا ہے۔ اسلام انسانی حقوق کو انسانی عزت و کرامت کا لازمہ سمجھتا ہے کیونکہ دینی نظریے کے مطابق انسان زمین میں خدا کا جانشین ہے اور اس لحاظ سے عزت و تکریم کا لائق و سزاوار ہے۔

خداوند متعال نے عالم ہستی کو بہترین انداز میں پیدا کیا ہے تاکہ انسان کی روحانی اور جسمانی ضروریات کو احسن انداز سے پورا کر سکے۔ اسی لیے جو کچھ زمین و آسمان میں ہے اسے انسان کے اختیار میں قرار دیا ہے اور اپنی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے انسان کا ہاتھ کھلا رکھا ہے۔ لیکن انسان اپنے وجود اور عالم ہستی کی حقیقت کی تفسیر میں تضاد اور شش و پنج کا شکار ہو گیا ہے اور آفرینش اور معقول زندگی کے راستے سے بھٹک کر حرص و لالچ اور جاہ طلبی میں پڑ گیا ہے اور اس نے اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کے لیے دوسرے انسانوں کے حقوق کو پامال کرنا شروع کر دیا۔

دھمکی، امتیاز، بدامنی، فقر و غربت، بھوک اور جنگ و جدل انسانی معاشرے کی تاریخ کے تاریک پہلو ہیں کہ جن کے برے اثرات آج بھی انسانی معاشروں اور قوموں پر سایہ فگن دکھائی دیتے ہیں۔

انسانی حقوق قدیم یونان میں صرف معاشرے کے ممتاز اور خاص طبقے کے لیے تھے۔ دین مسیح کے پیروؤں کے ساتھ روم کی قدیم بادشاہتوں کا ظالمانہ رویہ انسانی معاشرے کے ساتھ ظلم و جارحیت کا ایک نمونہ ہے۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں انسانوں کے حقوق سے بےاعتنائی آہستہ آہستہ ایک معمول کی چیز بن گئی۔ جنگ و خونریزی کے ایک دور کے بعد مختلف منشور اعلامیے اور دستاویزات تیار کی گئيں کہ جن کو تیار کرنے والوں نے انسانی معاشروں کے دکھوں کے مداوا کے لیے انسانی حقوق کی بات کی اور انہوں نے طے کیا کہ معاشرے کی زندگی کو ایک اصول کے تابع کیا جائے کہ جو فردی اور اجتماعی حقوق کا ضامن ہو۔

انسانی حقوق کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں میں سے ایک انیس سو اڑتالیس میں انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ تھا۔ یہ اعلامیہ جو اس سے پہلے کے منشوروں اور اعلامیوں سے کامل تر نظر آتا ہے، انسان کی فردی اور اجتماعی آزادیوں اور بہت سے بنیادی حقوق کا حامل ہے اور اس نے قوموں میں اس امید کو زندہ کیا کہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے پر عمل درآمد سے ان کے تمام حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔

انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ ان حکومتوں کی مشترکہ فکر و سوچ کا نتیجہ ہے کہ جو واضح طور پر مغربی لبرل ازم کی طرف جھکاؤ رکھتی ہیں۔ اگرچہ یہ اعلامیہ بہت سی قانونی تبدیلیوں کا باعث بنا لیکن اس میں پائے جانے والے نقائص، اس کی من پسند تشریح اور اس پر عمل درآمد کے طریقۂ کار نے بہت سے انسانوں کو اپنے حقوق تک پہنچنے کے سلسلے میں مشکل سے دوچار کر دیا۔

دوسری جانب اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے کہ جس میں انسانی حقوق کے بارے میں مکمل معیارات اور قوانین موجود ہیں۔ حقوق بشر کے بین الاقوامی معیارات میں مقرر کیے گئے انسانی حقوق اور اسلامی انسانی حقوق میں بہت سے مشترکات پائے جاتے ہیں۔ جیسے زندگی کا حق، آزادی بیان کا حق، عقیدے کی آزادی، تعلیم کا حق، مکان اور عدم امتیاز وغیرہ۔ لیکن واضح سی بات ہے کہ انسانی حقوق کا خیال رکھنے کے لیے پیش کی گئي اقدار اس وقت عالمی حمایت کی حامل ہو سکتی ہیں کہ جب تمام تہذیبیں اور ثقافتیں نہ صرف قول میں بلکہ فعل میں بھی اس میں شریک ہوں۔ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ مرتب کرنے والوں کی جانب سے مغربی مکاتب کی پیروی اس اعلامیے میں اعلی دینی تعلیمات کو نظرانداز کرنے کا باعث بنی اور مذہب کو رنگ نسل اور زبان کے ساتھ امتیاز اور تفریق کے عامل کی حیثیت سے بیان کیا گيا۔

اسی بنا پر اسلامی ممالک ایک ٹھوس اعلامیہ کی شکل میں انسانی حقوق کے بارے میں اسلام کے نقطۂ نظر کو بیان کرنے پر مجبور ہوئے کہ جس کی بہت سی شقیں شکل اور مضمون کے لحاظ سے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے ساتھ ملتی جلتی ہیں لیکن انسان کی ذات پر نگاہ کے سلسلے میں بہت سے اختلاف اور امتیازات رکھتی ہیں۔

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

اسلام میں انسانی حقوق کی بنیاد توحیدی فکر و سوچ پر استوار ہے جس کی وجہ سے اسلامی حقوق بشر مغربی حقوق بشر سے ممتاز ہو گئے ہیں۔ اسلام انسانی حقوق کو انسانی عزت و کرامت کا لازمہ سمجھتا ہے کیونکہ دینی نظریے کے مطابق انسان زمین میں خدا کا جانشین ہے اور اس لحاظ سے عزت و تکریم کا لائق و سزاوار ہے۔ خداوند عالم سورۂ اسراء میں فرماتا ہے کہ ہم نے بنی آدم کو کرامت عطا کی ہے اور انہیں خشکی اور دریاؤں میں سواریوں پر اٹھایا ہے اور انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سوں پر فضیلت دی ہے۔

درحقیقت امتیاز و تفریق اور نسل پرستی کا خاتمہ انسانی حقوق کے اعلامیہ کا تازہ نتیجہ نہیں ہے۔ وہ اصول جو آج مغربی انسانی حقوق کے ارکان کو تشکیل دیتے ہیں، اسلام کے بنیادی اصول ہیں۔ دین اسلام کا ظہور دنیا میں امتیاز اور تسلط کی نفی سے شروع ہوا اور خدا پیغمبروں نے انسانوں کے حقوق کو پورا کرنے اور معاشروں میں امن و انصاف قائم کرنے کے لیے کوششیں کیں۔ اسلام کا استدلال یہ ہے کہ تمام انسان رنگ نسل اور قومیت کے اختلاف کے باوجود ایک ہی جسم کا حصہ ہیں اور انہیں ایک جیسا پیدا کیا گیا ہے۔

اسلام کی نظر میں جب تک انسان کی معنوی اور باطنی زندگي کی اصلاح نہیں ہو گي اس وقت تک مادی عوامل اجتماعی امن و امان قائم کرنے میں مؤثر نقش ادا نہیں کر سکتے۔ اس بنا پر مکتب اسلام انسان کے اجتماعی تشخص کو اس کے اخلاق اور اعتقادات میں قرار دیتا ہے اور اسے انسانی زندگی کے مشترکات کی بنیاد سمجھتا ہے۔ وہ انسانوں کی برابری اور مساوات کے سلسلے میں انہیں ایک دوسرے کا بھائي قرار دیتا ہے۔

دوسرا اہم نکتہ یہ کہ عالمی اعلامیوں میں انسانی حقوق کے عنوان سے جو کچھ کہا گیا ہے وہ مکمل طور پر انسانی زندگی کے مادی پہلوؤں سے تعلق رکھتا ہے لیکن انسان کے اخلاقی اور معنوی حقوق کی کوئي بات نہیں کی گئی ہے۔ آج کسی سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ دوسروں پر ظلم و جارحیت معاشروں میں اخلاقی قدروں کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ اسی سلسلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی حکومتوں کی خود سری نے انسانی حقوق کے مسئلے کو بری طرح متاثر کیا ہے اور انسانی حقوق کی حقیقت مغربی حکومت کی پالیسیوں میں جگہ جگہ پامال ہو رہی ہے۔

مغربی حقوق بشر پر اسلامی حقوق بشر کے امتیازات کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران نے دو ہزار آٹھ میں یوگینڈا کے دارالحکومت کمپالا میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران " اسلامی حقوق بشر اور انسانی کرامت" کا دن معین کرنے کے لیے ایک قرارداد پیش کی جسے تمام اسلامی ملکوں نے اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ اس قرارداد کے مطابق پانچ اگست کو اسلامی حقوق بشر اور انسانی کرامت کے دن کے طور پر معین کیا گیا۔ اس طرح یہ اسلامی حقوق بشر کے شعبے میں اسلامی تعاون تنظیم کی اہم ترین دستاویز کے طور پر ثبت ہوئی۔ اس دن کو معین کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اور اسلامی ملک اسلام میں حقوق بشر کو دنیا والوں تک پہنچائيں اور موجودہ دنیا کو انسانی حقوق کے جو چیلنج درپیش ہیں ان کے بارے میں بحث و مباحثہ کریں۔

اسلامی حقوق بشر کا اعلامیہ پچیس شقوں پر مشتمل ہے جس میں اشرف المخلوقات کی حیثیت سے انسان کے شرف اور عزت و کرامت کی بات کی گئي ہے۔ اس اعلامیہ میں اس بات کا ذکر بھی کیا گيا ہے کہ اگرچہ انسان نے مادی علوم میں ترقی و پیشرفت کے کئی مراحل طے کیے ہیں لیکن اپنے حقوق اور تمدن کی حمایت کے لیے اسے ایمان و معنویت کی شدید ضرورت ہے۔

رہبر معظم سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور نمائندوں کی ملاقات

۲۰۱۳/۰۵/۲۹ - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے پارلیمنٹ کے اسپیکر، سربراہ کمیٹی اور پارلیمنٹ کے نمائندوں سے ملاقات میں قوہ مقننہ کو تمام امور کا نگراں اور قوہ مجریہ کو میدان میں سنگين امور انجام دینے کا ذمہ دار قراردیااور حکومت اور پارلیمنٹ کے باہمی روابط میں انصاف، گفتگو، تعاون اور قانون کی رعایت کے سلسلے میں تاکید اور گیارہویں صدارتی انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سب کو تلاش و کوشش کرنی چاہیے تاکہ انتخابات عوام کی ولولہ انگیز ،وسیع اور بھر پور شراکت کے ذریعہ منعقد ہوں کیونکہ انقلاب اسلامی کی کامیابی سے لیکر آج تک اسلامی نظام کا استحکام اور اقتدار عوام کی میدان میں وسیع پیمانے پرموجودگی اور پشتپناہی پر استوار رہا ہے۔

رہبر معظم سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور نمائندوں کی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ولولہ انگیز انتخابات کے انعقاد کو ملک کی سلامتی، اقتدار،تحفظ اور دشمنوں کے خطرات کو دور کرنے کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوری نظام بڑا گہرا اور مضبوط نظام ہے کیونکہ اس کی جڑیں عوام کے اندر ہیں اور اسے عوامی پشتپناہی حاصل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام کی پشتپناہی کو اسلامی نظام ، ملک اور قوم کی عزت اور سربلندی کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: انتخابات عوام کی شرکت کا عظیم مظہر ہیں لہذا انتخابات میں عوام کی شرکت ولولہ انگیز اور نمایاں ہونی چاہیے۔

رہبر معظم سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور نمائندوں کی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انتخابات کے تمام مراحل میں موجود قوانین کو معقول، منطقی ، جامع اور بغیر کسی رکاوٹ کے قراردیتے ہوئے فرمایا: اب تک کے تمام مراحل بھی قانون کی روشنی میں انجام پذیر ہوئے ہیں اور امیدواروں نے بھی اپنے انٹرویوز میں قانون پر عمل کرنے کی تاکید کی اور صلاحیتوں کی تائيد کے بعد بھی انھوں نے قانون پر عمل کیا لہذا ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جن کی صلاحیت کی تائید نہیں ہوئی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس رفتار کو قانون کی اہمیت اور ترجیح کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: ممکن ہے ہم قانون سے بھی راضی نہ ہوں لیکن قانون پر ہمارا عمل قانون کے فصل الخطاب ہونے کا سبب بنتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے دوسرے نکتہ میں صدارتی امیدواروں کی تشخیص اور انتخاب کے سلسلے میں عوام کی بصیرت اور ہوشیاری پر تاکید کی۔

رہبر معظم سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور نمائندوں کی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی عوام کی سیاسی مسائل میں آگاہی اور بصیرت ، عالمی متوسط سطح سے بہت بلند و بالا ہے اور اسی طرح ریڈيو اور ٹی وی کے پروگراموں کے ذریعہ بھی عوام صدارتی امیدواروں میں سے اچھے اور اصلح امیدوار کو تشخیص دیکر انتخاب کرسکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ممکن ہے جس نتیجہ تک انسان پہنچے وہ صحیح یا غلط ہو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن مہم یہ ہے کہ آپ نے اپنی تشخیص ، بصیرت اور آگاہی کے ذریعہ انتخاب کیا اور یقینی طور پر اللہ تعالی اس پر ثواب عطا کرےگا۔

رہبر معظم سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور نمائندوں کی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صدارتی امیدواروں کو بھی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں میں شرکت کرنے والے امیدواروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے دوش پر سنگین ذمہ داری ہے اور انھیں ہوشیار رہنا چاہیے اور عوام کی توجہ مبذول کرنے کے لئے حقیقت اور صداقت کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: صدارتی امیدواروں کی گفتگو حقیقت ، صداقت اور صحیح و درست اطلاعات پر مبنی ہونی چاہیے۔

رہبر معظم سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور نمائندوں کی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: صدارتی امیدواروں کو عوام کے سامنے صرف حقائق کو پیش کرنا چاہیے انھیں ملک کے بارے میں بھی اور اپنے بارے میں بھی حقائق کو پیش کرنا چاہیے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اگر صداقت کے ساتھ عمل کیا جائے تو یقینی طور پر اللہ تعالی مدد و نصرت کرےگا اور اللہ تعالی کی مدد و نصرت کبھی عوام کی خدمت اور مسؤلیت کی توفیق حاصل ہونے کے ذریعہ اور کبھی خدمت اور مسؤلیت کی توفیق سلب ہونے کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: عوام کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے دوسرے امیدواروں کی تخریب اور اسی طرح معاشرے کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایک بار پھر انتخابات میں رہبری کی رائے کو بعض افراد کی طرف منسوب کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ باتیں ہمیشہ ہوتی رہی ہیں جو حقیقت سے بالکل عاری ہیں کیونکہ کسی کو معلوم نہیں کہ رہبری کسے ووٹ دیں گے۔

رہبر معظم سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور نمائندوں کی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: رہبری کا بھی دوسرے افراد کی طرح ایک ہی ووٹ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انتخابات میں رہبری کے ووٹ اور رائے کے بارے میں غیر ملکی میڈیا کے پروپیگنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمنوں نے اپنے طے شدہ اہداف کے مطابق اس پروپیگنڈے کو اپنا دستور العمل بنا لیا ہےلیکن اسلامی نظام دشمنوں کے پروپیگنڈے پر توجہ کئے بغیر اپنے ہدف اور مقصد کی جانب تدبیر کے ساتھ گامزن رہےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں پارلیمنٹ (مجلس شورای اسلامی) کی نمائندگی کو اسلامی نظام میں خدمت کا غنیمت موقع اور اس کے ساتھ اسے اللہ تعالی کی بارگاہ میں حساس اور عظیم امتحان قراردیتے ہوئے فرمایا: اس حساس موقع پر اپنی مراقبت کرنی چاہیے کیونکہ اگر ذمہ دار انسان اس خطرناک موڑ سے صحیح و سالم گزر گیا تو اس وقت وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں مؤفق اور کامیاب قرار پائے گا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے دسویں پارلیمنٹ میں گوناگوں ماہرین کی موجودگی کو بلوں اور پروگراموں کا دقیق جائزہ لینے کی اعلی ظرفیت کا حامل قراردیتے ہوئے فرمایا: گذشتہ سال میں پارلیمنٹ نے سیاسی لحاظ سے بہتر اور اچھا مؤقف اختیار کیا۔

رہبر معظم سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور نمائندوں کی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پارلیمنٹ میں نمائندوں کی رفتار و گفتار کو معاشرے پر اثرانداز ہونے کے لحاظ سے اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر پارلیمنٹ میں عقل ، فکر، آرام و سکون ، ہمدردی اور محبت حکمفرما ہو تو ان خصوصیات کا اثر معاشرے پر بھی پڑے گا اور اگر پارلیمنٹ کے نمائندوں کی رفتار اس کے برعکس ہو تو عوام کی رفتار پربھی اس کا ویسا ہی اثر پڑےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اگر پارلیمنٹ میں تقوی، اخلاق ، ذمہ داری کا احساس اور شوق و نشاط پایا جائےگا تو اس سے عوام، نمائندوں کے قریب اور ان سے مانوس ہوجائیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: یقینی طور پر معاشرے کی تربیت اور اقدار کی حمایت اور مخالفت میں نمائندوں کی رفتار بہت ہی اہم اورمؤثر ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بلوں کی منظوری میں نمائندوں کے ماہرانہ اور دقیق کام پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: یہ مسئلہ نمائندوں کے دوش پر عوام کا حق ہے لہذا بلوں کی منظوری میں ممتنع رائے دینا قابل قبول نہیں ہے کیونکہ اگر نمائندہ اس موضوع یا مسئلہ میں تخصص اور مہارت رکھتا ہے تو اسے اپنے اجتہاد پر عمل کرنا چاہیے اور اگر تخصص نہیں بھی رکھتا پھر بھی اسے ماہرین سے مشورہ لینا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بعض جلسات میں نمائندوں کی عدم شرکت اور کرسیوں کے خالی رہنے پر شکوہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: نمائندوں کو پارلیمنٹ میں ، جسمانی، ذہنی اور قلبی لحاظ سے حاضر رہنا چاہیے اور بلوں اور لوائح کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ اہتمام کرنا چاہیے۔

رہبر معظم سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور نمائندوں کی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےپارلیمنٹ کے نمائندوں کے لئے انصاف کی رعایت کو ایک اور اہم نکتہ قراردیتے ہوئے فرمایا: نمائندوں کو اپنے ساتھیوں، حکومت اور عدلیہ کے مقابلے میں عدل و انصاف کو مد ںظر رکھنا چاہیے کیونکہ انصاف کو مد نظر نہ رکھنے سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قوہ مقننہ اور قوہ مجریہ کے باہمی تعامل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: قانون کی بنیاد پر قوہ مقننہ اور مجریہ دونوں کے حدود اور اختیارات مشخص ہیں اور انھیں اپنے حدود کی رعایت اور ایکدوسرے کے ساتھ تعامل برقرار رکھنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حکومت اور پارلیمنٹ کے درمیان تعامل کا دو طرفہ راستہ ہے لہذا دونوں طرف توجہ مبذول رکھنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حکومت اور پارلیمنٹ کے درمیان بعض اختلافی نظریات کی موجودگی کو قدرتی امر قراردیتے ہوئے فرمایا: طبیعی اور قدرتی اختلافی نظریات کو کدورت اور نفرت میں نہیں بدلنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پارلیمنٹ اور حکومت کو ایکدوسرے کا لحاظ رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: پارلیمنٹ کو سمجھنا چاہیے کہ حکومت کے دوش پرمیدان میں سنگین اجرائی ذمہ داریاں ہیں اور ملامتیں بھی حکومت کے سر آتی ہیں لہذا قوہ مجریہ کے حال کی رعایت کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حکومت کو بھی قانون میں موجود پارلیمنٹ کے عظیم حق کو مد نظر رکھنا چاہیے۔

رہبر معظم سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور نمائندوں کی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قانون کو تمام امور کی جڑ قراردیا اور پارلیمنٹ کو پٹری بچھانے اور حکومت کو اس پر حرکت کرنے سے تشبیہ کرتے ہوئے فرمایا: حکومت کو اسی پٹری پر حرکت کرنی چاہیے جسے پارلیمنٹ نے بچھایا ہے لیکن پارلیمنٹ کو بھی چاہیے کہ وہ ایسی پٹری بچھائے جس پر حکومت حرکت کرسکے اور خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے کسی گھاٹی میں گر نہ جائے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پارلیمنٹ کے بارے میں ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یقینی طور پر پارلیمنٹ تمام امور کی نگراں ہے لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ ہر نمائندہ تمام امور کا نگراں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم کام کو خلوص نیت ، سنجیدگی، مجاہدت اور ذمہ داری کے احساس سے انجام دیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آغاز میں گذشتہ ایک سال میں پارلیمنٹ کے اسپیکر، پارلیمنٹ کی سربراہ کمیٹی اور پارلیمنٹ کے نمائندوں کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس ملاقات کے آغاز میں پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے پارلیمنٹ کی گذشتہ ایک سال میں کارکردگی کی رپورٹ پیش کی ، پارلیمنٹ کے اسپیکر نے نئے سال 1392 ہجری شمسی کے بجٹ کو صاف و شفاف بنانے کے سلسلے میں مختلف کمیشنوں کی کوششوں ، مہنگائی اور معیشتی مسائل حل کرنے، غیر ملکی کرنسی کو کنٹرول کرنے، قومی پیداوار اور مقاومتی اقتصاد کی حمایت کرنے، کسانوں اور ریٹائر ہونے والے افراد پر توجہ دینے، صحت و سلامت ،مالی انضباط میں گيس و تیل ، بجلی اور دفاع کے شعبہ پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کو پارلیمنٹ کے اہم اقدامات میں شمار کیا۔

پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے مجموعی طور پر 300 بلوں میں سے 53 بلوں کی منظوری ، آڈٹ کورٹ کا نگرانی کے لئےنئی روشوں اور پیشرفتہ طریقوں سے استفادہ اور مختلف اداروں کے ڈائریکٹروں سے مسلسل رابطہ، پارلیمنٹ کے تحقیقاتی شعبہ کی جانب سے مشاورتی نظریات اور پارلیمنٹ کا ملک کی اقتصادی مشکلات کو حل کرنے کے سلسلے میں حکومت کے ساتھ تعاون کو گذشتہ ایک سال میں پارلیمنٹ کے دیگر اقدامات میں قراردیا۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر نے آئندہ 24 خرداد مطابق 14 جون کے صدارتی انتخابات کو علاقائی اور بین الاقوامی شرائط کی روشنی میں حساس اور اہم قراردیتے ہوئے کہا: صدارتی انتخابات میں عوام کی ولولہ انگیز اور وسیع پیمانے پرشرکت سے عظیم اور شاندار سیاسی رزم و جہاد کا مظاہرہ ہوگا۔