Super User

Super User

ترکي کے متعدد شہروں ميں اسلامي حجاب پر پابندي کے خلاف مظاہرے جاري ہيں

يہ مظاہرے ترکي کي وزارت تعليم کي طرف سے جاري طالبات کے اسکارف اور حجاب کي نوعيت کے بار ے ميں جاري کئے گئے تازہ سرکولر کے خلاف کئے جارہے ہيں –

ترکي کي حکومت نے گذشتہ نومبر ميں جو آئين نامہ جاري کيا ہے اس ميں کہا گيا ہےکہ صرف ديني علوم کي طالبات يا خطيب کو ہي اسلامي حجاب کرنے کي اجازت ہے اس کے علاوہ ديگر طالبات کو پردے ميں رہنے کي اجازت نہيں ہے-

اس آئين نامے پر پورے ترکي ميں غم وغصہ پايا جارہا ہے –

اسلامي رجحان کي حامل حکمراں انصاف اور ترقي پارٹي کے برسراقتدار آنے کے بعد عام توقع يہي تھي کہ ترکي ميں حجاب اور اسلامي پردے پر عائد پابندياں اٹھالي جائيں گي-

صيہوني حکومت کے وزير اعظم بن يامين نتن ياہو نے ايک بار پھر اپنا يہ بے بنياد دعوي دوہرايا ہے کہ ايران بقول ان کے ايٹمي اسلحہ بنانے کے نزديک پہنچ رہا ہے -

صيہوني حکومت کے وزير اعظم بنيامين نتنياہو نے ايک بار پھر دعوي کيا ہے کہ ايران ايٹم بنانے کے قريب پہنچ گيا ہے اور دوہزار تيرہ ميں اس کو روکنے کے لئے کچھ کرنا ہوگا-

صيہوني حکومت کے وزير اعظم نے تل ابيب ميں غير ملکي صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ايران کے پاس کافي مقدار ميں افزودہ يورينيم نہيں ہونا چاہئے جس سے وہ ايٹم بم بناسکے- انہوں نے جنرل اسمبلي ميں اپنے طنزآميز بيانات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب ايران مقررہ مقدار ميں يورينيم کو افزودہ کرلے گا تو اس وقت ايران کے ايٹمي پروگرام کو روکنے کے لئے ہمارے پاس وقت بہت کم رہ جائے گا –

اسرائيلي وزير اعظم نے پيشين گوئي کي ہے کہ ايران آئندہ ڈھائي مہينے ميں ايٹم بم بنانےوالي صلاحيتوں کے قريب پہنچ جائے گا-

انہوں نے دعوي کيا کہ يہ مسئلہ بہت بڑا چيلنج ہوگا جس سے آئندہ سال نمٹنا ہوگا -

اسرائيلي وزير اعظم نے اپنے بيان ميں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ مشرق وسطي ميں خطرناک عدم استحکام پايا جارہا ہے ايران کے ايٹمي پروگرام کو اپني مہم پسنديوں کا بہانہ بنايا اور جھوٹے دعوے کر کے ايران کے پرامن ايٹمي پروگرام کو علاقے اور دنيا کي سلامتي کے لئے بڑا چيلنج قرارديا -

نتنياہو کا يہ مضحکہ خيز بيان ايک ايسے وقت آيا ہے جب صيہونيوں کے پاس کم ازکم تين سو ايٹمي وار ہيڈ موجود ہيں جو امريکا برطانيہ اور فرانس کي مدد سے تيار کئے گئے ہيں اور صيہوني حکومت مشرق وسطي ميں واحد حکومت ہے جو پورے خطے کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے-

اس کے علاوہ وہ دنيا کي سلامتي کے لئے بھي بڑا خطرہ شمار ہوتي ہے جبکہ ايران کي ايٹمي سرگرمياں مکمل طور پر پرامن ہيں اور ايٹمي توانائي کي عالمي ايجنسي کي نگراني ميں اور اين پي ٹي معاہدے کے تحت ہي ايران کي ايٹمي سرگرمياں انجام پارہي ہيں –

اور اگر ايران يورينيم افزودہ کررہا ہے تو وہ ايٹمي ريکٹر کے ايندھن اور اسي طرح بوشہر ايٹمي بجلي گھر کے فيول کے لئے ہے جس کي سطح بيس فيصد سے بھي کم ہے -

پاکستان نے ايک بار پھر انٹرپول سے سابق صدر پرويز مشرف کي گرفتاري کا مطالبہ کيا ہے -

پاکستاني ذرائع سے موصولہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کي انٹيليجنس ايجنسي ايف آئي اے نے انٹر پول کے نام ايک خط ارسال کرکے مطالبہ کيا ہے کہ سابق صدر پرويز مشرف کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کيا جائے - ايف آئي اے نے اس خط ميں لکھا ہے کہ سابق صدر پرويز مشرف سابق وزير اعظم بے نظير بھٹو کے قتل کے مقدمے ميں مطلوب ہيں اور کئي بار عدالتي سمن جاري ہونے کے باوجود وہ عدالت ميں پيش نہيں ہوئے ہيں جس کے بعد عدالت انہيں مفرور قرار دے چکي ہے -

حکومت پاکستان اس سے پہلے بھي انٹر پول سے سابق صدر پرويز مشرف کي گرفتاري کي درخواست کرچکي ہے جس کے جواب ميں انٹر پول نے کہا تھا کہ پرويز مشرف ايک سياسي شخصيت ہيں اس لئے انہيں گرفتار نہيں کيا جاسکتا -

پاکستان کي انٹيليجنس ايجنسي ايف آئي اے نے انٹرپول کے اس جواب پر اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کيا ہے کہ پرويز مشرف کو پاکستان کے حوالے کياجائے تاکہ سابق وزير اعظم بے نظير بھٹو کے قتل کي سازش کے کيس ميں ان پر مقدمہ چلايا جاسکے

حضرت ابو الفضل عباس علیہ السلام کا کعبہ کی چھت پر عظیم الشان خطبہ

«بسم الله الرّحمن الرّحیم»

«اَلحَمدُ لِلّهِ الَّذی شَرَّفَ هذا (اشاره به بیت الله‌الحَرام) بِقُدُومِ اَبیهِ، مَن کانَ بِالاَمسِ بیتاً اَصبَح قِبلَةً. أَیُّهَا الکَفَرةُ الفَجَرة اَتَصُدُّونَ طَریقَ البَیتِ لِاِمامِ البَرَرَة؟ مَن هُوَ اَحَقُّ بِه مِن سائِرِ البَریَّه؟ وَ مَن هُوَ اَدنی بِه؟ وَ لَولا حِکمَ اللهِ الجَلیَّه وَ اَسرارُهُ العِلّیَّه وَاختِبارُهُ البَریَّه لِطارِ البَیتِ اِلیه قَبلَ اَن یَمشیَ لَدَیه قَدِ استَلَمَ النّاسُ الحَجَر وَ الحَجَرُ یَستَلِمُ یَدَیه وَ لَو لَم تَکُن مَشیَّةُ مَولایَ مَجبُولَةً مِن مَشیَّهِ الرَّحمن، لَوَقَعتُ عَلَیکُم کَالسَّقرِ الغَضبانِ عَلی عَصافِیرِ الطَّیَران.

اَتُخَوِّنَ قَوماً یَلعَبُ بِالمَوتِ فِی الطُّفُولیَّة فَکَیفَ کانَ فِی الرُّجُولیَّهِ؟ وَلَفَدَیتُ بِالحامّاتِ لِسَیِّد البَریّاتِ دونَ الحَیَوانات.

هَیهات فَانظُرُوا ثُمَّ انظُرُوا مِمَّن شارِبُ الخَمر وَ مِمَّن صاحِبُ الحَوضِ وَ الکَوثَر وَ مِمَّن فی بَیتِهِ الوَحیُ وَ القُرآن وَ مِمَّن فی بَیتِه اللَّهَواتِ وَالدَّنَساتُ وَ مِمَّن فی بَیتِهِ التَّطهیرُ وَ الآیات.

وَ أَنتُم وَقَعتُم فِی الغَلطَةِ الَّتی قَد وَقَعَت فیهَا القُرَیشُ لِأنَّهُمُ اردُوا قَتلَ رَسولِ الله صلَّی اللهُ عَلَیهِ وَ آلِه وَ أنتُم تُریدُونَ قَتلَ ابنِ بِنتِ نَبیّکُم وَ لا یُمکِن لَهُم مادامَ اَمیرُالمُؤمِنینَ (ع) حَیّاً وَ کَیفَ یُمکِنُ لَکُم قَتلَ اَبی عَبدِاللِه الحُسَین (ع) مادُمتُ حَیّاً سَلیلاً؟

تَعالوا اُخبِرُکُم بِسَبیلِه بادِروُا قَتلی وَاضرِبُوا عُنُقی لِیَحصُلَ مُرادُکُم لابَلَغَ الله مِدارَکُم وَ بَدَّدَا عمارَکُم وَ اَولادَکُم وَ لَعَنَ الله عَلَیکُم وَ عَلی اَجدادکُم.

ترجمہ

آپ علیہ السلام نے یہ خطبہ امام حسین علیہ السلام کی ۸ ذی الحجہ سن ۶۰ ہجری کو مکہ سے کربلا روانگی کے موقع پر خانہ کعبہ کی چھت پر جلوہ افروز ہو کر ارشاد فرمایا

حمد ہے اللہ کے لیے جس نے اسے (کعبے کو ) میرے مولا (امام حسین ع ) کے والد گرامی (علی ع ) کے قدم سے شرف بخشا جو کہ کل تک پتھروں سے بنا ایک کمرہ تھا ان کے ظہور سے قبلہ ہو گیا ۔

اے بد ترین کافروں اور فاجروں تم اس بیت اللہ کا راستہ نیک اور پاک لوگوں کے امام کے لیے روکتے ہو جو کہ اللہ کی تمام مخلوق سے اس کا زیادہ حق دار ہے اور جو اس کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اگر اللہ کا واضح حکم نہ ہوتا اور اسکے بلند اسرار نہ ہوتے اور اس کا مخلوق کو آزمائش میں ڈالنا نہ ہوتا تو یہی اللہ کا گھر خود اڑ کر میرے مولا کے پاس آجاتا لیکن میرےکریم مولا نے خود اس کے پاس آکر اس کوعظمت بخشی بے شک لوگ حجراسود کو چومتے ہیں اور حجر اسود میرے مولا کے ہاتھوں کو چومتا ہے ۔ اللہ کی مشیت میرے مولا کی مشیت ہے اور میرے مولا کی مشیت اللہ کی مشیت ہے خدا کی قسم اگر ایسا نہ ہوتا تو میں تم پر اس طرح حملہ کرتا جیسے کہ عقاب غضبناک ہو کر اڑتا ہوا چڑیوں پر حملہ کرتا ہے اور تم کو چیر پھاڑ دیتا کیا تم ایسے لوگوں سے خیانت کرتے ہو جو بچپن ہی سے موت سے کھیلتے ہوں اور کیا عالم ہوگا ان کی بہادری کا جب کے وہ عالم شباب میں ہوں ؟ میں قربان کر دوں اپنا سب کچھ اپنے مولا پر جو کہ اس پوری کائنات پر بسنے والے انسانوں اور حیوانوں کا سردار ہے ۔ اے لوگوں ! تمہاری عقلوں کو کیا ہو گیا ہے کیا تم غور و فکر نہیں کرتے ایک طرف شراب پینے والے ہیں اور دوسری طرف حوض کوثر کے مالک ہیں ایک طرف وہ ہیں جن کا گھر لہو لہب اور سارے جہان کی نجاستوں کی آماجگاہ ہے اور دوسری طرف پاکیزگی کے جہان اور آیات قرانیہ ہیں اور وہ گھر جس میں وحی اور قرآن ہے اور تم اسی غلطی میں پڑ گئے ہو جس میں قریش پڑے تھے کیونکہ انہوں نے رسول اللہ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا اور تم اپنے نبی کے نواسے کو قتل کرنے کا ارادہ کر رہے ہو ۔ قریش اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ امیر المومنین کی ہیبت و جلال کے آگے ان کی ایک نہ چل سکی اور کیسے ممکن ہوگا تمہارے لیے ابا عبداللہ الحسین کا قتل جب کہ اسی علی کا بیٹا رسول کے بیٹے کی حفاظت پر مامور ہے اگر ہمت ہے تو آؤ میں تمہیں اس کا راستہ بتاتا ہوں میرے قتل کی کوشش کرو اور میری گردن اڑاؤ تا کہ تم اپنی مراد پا سکو اللہ تمہارے مقصد کو کبھی پورا نہ کرے اور تمہارے آباء اوع اولاد کو تباہ کرے اور لعنت کرے تم پر اور تمہارے آباء و اجداد پر ۔

بجراکلی مسجد (بیراکلی مسجد) بلغراد ؛ سربیا

بجراکلی مسجد (بیراکلی مسجد بھی کہا جاتا ہے) سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں واقع ایک عظیم مسجد ہے۔

بجراکلی مسجد (بیراکلی مسجد) بلغراد ؛ سربیا

یہ 1575ء میں اُس وقت تعمیر کی گئی جب سربیا سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں تھا۔

بجراکلی مسجد (بیراکلی مسجد) بلغراد ؛ سربیا

1717ء سے 1739ء تک سربیا پر آسٹریا کے قبضے کے دوران اس مسجد کو رومن کیتھولک گرجے میں تبدیل کر دیا گیا لیکن جب عثمانیوں نے شہر پر دوبارہ قبضہ کیا تو اس کی مسجد کی حیثیت بحال کر دی۔

بجراکلی مسجد (بیراکلی مسجد) بلغراد ؛ سربیا

18 مارچ 2004ء کو مسجد میں آتشزدگی سے اس کو شدید نقصان پہنچا تاہم بعد ازاں اس کی مرمت کر دی گئی۔

جزیرۃ العرب میں رسول اسلام خاتم النبیین رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نورانی ظہور اور الہی معیارات پر قائم اسلامی احکام و دستور سے مقہور دور جاہلیت کے پروردہ امیہ و ابوسفیان کے پوتے یزید ابن معاویہ اور ان کے ذلہ خواروں کے ہاتھوں نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کے بعد ظلم و استبداد کے نشہ میں چور اموی ملوکیت نے عصر جاہلیت کے انسانیت سوز رسم و رواج از سر نو اسلامی معاشرے میں رواج دینے پر کمر باندھ لی ۔

 

بنی امیہ کے اس استبدادی دور میں حسینی انقلاب کے پاسبان امام زين العابدین علیہ السلام کی ذمہ داریاں شعب ابی طالب میں محصور توحید پرستوں کی سختیوں ، بدر و احد کے معرکوں میں نبردآزما جیالوں کی تنہائیوں ، جمل و صفین کی مقابلہ آرائیوں میں شریک حق پرستوں اور نہروان و مدائن کی سازشوں سے دوچار علی (ع) و حسن (ع) کے ساتھیوں کی جان فشانیوں اور میدان کربلا میں پیش کی جانے والی عظیم قربانیوں کے مراحل سے کم حیثیت کی حامل نہیں تھیں ۔

 

قرآن کی محرومی ،اسلام کی لاچاری اور آل رسول (ص) کی مظلومی کے " یزید زدہ " ماحول میں امام سجاد (ع) کی حقیقی انقلابی روش میں گویا اسلام و قرآن کی تمام تعلیمات جمع ہوگئی تھیں اور اسلامی دنیا آپ کے کردار و گفتار کے آئینہ میں ہی الہی احکام و معارف کا مطالعہ اور مشاہدہ کررہا تھا ۔

 

روز عاشورا نیزہ و شمشیر اور سنان و تیر کی بارش میں امام حسین (ع) کے ساتھ ان کے تمام عزیز و جاں نثار شہید کردئے گئے مردوں میں صرف سید سجاد (ع) اور بچوں میں امام باقر (ع) شہادت کے کارزار میں زندہ بچے تھے جو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ اہل حرم کے قافلہ سالار تھے ۔

 

خون اور آگ کے درمیان امامت و ہدایت کی یہ دونوں شمعیں الہی ارادہ اور فیصلے کے تحت محفوظ رکھی گئی تھیں جنہوں نے اپنی نرم و لطیف حکمت آمیز روشنی کے ذریعہ عاشورا کے پیغامات تاریخ بشریت میں جاوداں بنادئے ۔امام زين العابدین علیہ السلام کو خدا نے محفوظ رکھا تھا کہ وہ اپنی 35 سالہ تبلیغی مہم کے دوران عاشورا کے سوگوار کے طور پر اپنے اشکوں اور دعاؤں کے ذریعہ اموی نفاق و جہالت کو ایمان و آگہی کی قوت عطا کرکے عدل و انصاف کی دار پر ہمیشہ کے لئے آویزاں کردیں اور دنیا کے مظلوموں کو بتادیں کہ اشک و دعا کی شمشیر سے بھی استبدادی قوتوں کے ساتھ جہاد و مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔ظلم و عناد سے مرعوب بے حسی اور بے حیائي کے حصار میں بھی اشک و دعا کے ہتھیار سے تاریکیوں کے سینے چاک کئے جا سکتے ہیں اور پرچم حق کو سربلندی و سرافرازی عطا کی جا سکتی ہے ۔

 

چنانچہ آج تاریخ یہ کہنے پر مجبور ہے کہ کبھی کبھی اشک و دعا کی زبان آہنی شمشیر سے زیادہ تیز چلتی ہے اور خود سروں کے سروں کا صفایا کردیتی ہے ۔

امام زین العابدین ،سید سجاد، عبادتوں کی زینت ، بندگي اور بندہ نوازی کی آبرو ، دعا و مناجات کی جان ، خضوع و خشوع اور خاکساری و فروتنی کی روح سید سجاد جن کی خلقت ہی توکل اور معرفت کے ضمیر سے ہوئی ، جنہوں نے دعا کو علو اور مناجات کو رسائي عطا کردی ،جن کی ایک ایک سانس تسبیح اور ایک ایک نفس شکر خدا سے معمور ہے جن کی دعاؤں کا ایک ایک فقرہ آدمیت کے لئے سرمایۂ نجات اور نصیحت و حکمت سے سرشار ہے امام زين العابدین علیہ السلام کی مناجاتوں کے طفیل آسمان سجادۂ بندگي اور زمین صحیفۂ زندگي بنی ہوئی ہے ۔

 

آپ کی " صحیفۂ سجادیہ " کا ایک ایک ورق عطر جنت میں بسا ہوا ہے اور آپ کی صحیفۂ کاملہ کاایک ایک لفظ وحی الہی کا ترجمان ہے اسی لئے اس کو " زبور آل محمد " کہتے ہیں آپ خود سجاد بھی ہیں اور سید سجاد بھی ،عابد بھی ہیں اور زین العابدین بھی ۔

کیونکہ عصر عاشور کو آپ کے بابا سید الشہداء امام حسین (ع) کا " سجدۂ آخر " گیارہ کی شب ، شام غریباں ہیں آپ کے " سجدۂ شکر " کے ساتھ متصل ہے ۔اکہتر قربانیاں پیش کرنے کے بعد امام حسین (ع) نے " سجدۂ آخر " کے ذریعہ سرخروئي حاصل کی اور جلے ہوئے خیموں کے درمیان ، چادروں سے محروم ماؤں اور بہنوں کی آہ و فریاد کے بیچ ، باپ کے سربریدہ کے سامنے سید سجاد کے " سجدۂ شکر " نے ان کو زین العابدین بنادیا ۔

 

نماز عشاء کے بعد سجدۂ معبود میں رکھی گئی پیشانی اذان صبح پر بلند ہوئی اور یہ سجدہ شکر تاریخ بشریت کا زریں ترین ستارۂ قسمت بن گیا ۔باپ کا سجدۂ آخر اور بیٹے کا سجدۂ شکر اسلام کی حیات اور مسلمانوں کی نجات کا ضامن ہے ۔

در حقیقت صبر و شجاعت اور حریت و آزادی کے پاسبان امام زين العابدین ، طوق و زنجیر میں جکڑدئے جانے کے باوجود لاچار و بیمار نہیں تھے بلکہ کوفہ و شام کے بے بس و لاچار بیماروں کے دل و دماغ کا علاج کرنے کے لئے گئے تھے ۔

 

کوفہ بیمار تھا جس نے رسول (ص) و آل رسول (ص) سے اپنا اطاعت و دوستی کا پیمان توڑدیا تھا، کوفہ والے بیمار تھے جن کے سروں پر ابن زیاد کے خوف کا بخار چڑھا ہوا تھا اور حق و باطل کی تمیز ختم ہوگئی تھی شام بیمار تھا جہاں ملوکیت کی مسموم فضاؤں میں وحی و قرآن کا مذاق اڑایا جا رہا تھا اور اہلبیت نبوت و رسالت کومعاذاللہ " خارجی " اور ترک و دیلم کا قیدی قرار دیا جا رہا تھا ۔شام والے بیمار تھے جو خاندان رسول کے استقبال کے لئے سنگ و خشت لے کر جمع ہوئے تھے لیکن امام سجاد ان کے علاج کے لئے خون حسین (ع) سے رنگین خاک کربلا ساتھ لے کر گئے تھے کہ بنی امیہ کی زہریلی خوراک سے متاثر کوفیوں اور شامیوں کو خطرناک بیماریوں سے شفا عطا کریں

۔چنانچہ علی (ع) ابن الحسین (ع) اور ان کے ہمراہ خاندان رسول (ص) کی خواتین نے اپنے خطبوں اورتقریروں کی ذوالفقار سے کوفہ و شام کے ضمیر فروشوں کے سردو پارہ کردئے کوفہ جو گہرے خواب میں ڈوبا ہوا تھا خطبوں کی گونج سے جاگ اٹھا شام نے جو جاں کنی کی آخری سانسیں لے رہا تھا زنجیروں کی جھنکار سے ایک نئي انگڑائی لی پورے عالم اسلام میں حیات و بیداری کی ایک ہلچل شروع ہوئی اور اموی حکومت کے بام و در لرزنے لگے ۔

Monday, 10 December 2012 10:16

معروف اور منکر کے معنی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے فرمایا:

اذا امّتی تواکلت الامر بالمعروف و النّھی عن المنکر ، فلیاذنو ابوقاع من اللہ

جب میری امت امربالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑدے تو اللہ کی طرف سے عذاب کی منتظر رہے ۔

حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

لتامرّن بالمعروف ، و لتنھن عن المنکر ، او یستعملنّ علیکم شرارکم ، فیدعو خیارکم فلا یستجاب لھم

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضرور کرو، ورنہ فاسق ، فاجر اور شریر لوگ تم پر مسلط ہوجائیں گے، پھر تمہارے نیک لوگوں کی دعائیں بھی مستجاب نہیں ہوں گی۔

معروف اور منکر کے معنی

حضرت امام حسین (ع) نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسے عظیم فریضہ الہی کو اپنے قیام کا مقصد قرار دیا ہے۔ سید الشہداء (ع) نے اپنے وصیت نامہ میں قیامت تک آنے والوں کے تمام سوالات کاجواب خود لکھ دیا ہے ۔ اگر کوئی پوچھے کہ امام حسین (ع) نے یہ عظیم قربانی، یہ اسارتیں ، یہ شہادتیں کیوں پیش کیں؟ اور یہ معصوم بچے کیوں ذبح ہوئے ؟ ان سب سوالات کا جواب یہی ہے کہ امام حسین علیہ السلام امربالمعروف و نہی عن المنکر کرنا چاہتے تھے ۔

امر بالمعروف سے مراد کسی کی زندگی میں بے جامداخلت ، روکنا ٹوکنا ، کسی کے مزاحم ہونا نہیں ہے ، کیونکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ معروف کے نام پر منکرات پھیلائے جارہے ہوتے ہیں جبکہ کبھی منکرات کے نام پر معروف سے لوگوں کو روکا جاتا ہے اس لئے کہ ایسے لوگوں کو نہ تو معروف کی شناخت ہے اور نہ ہی منکر کی پہچان ہے ، شہید تشیّع ، جناب مرتضی مطہری رضوان اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ امربالمعروف کے نام پر جتنے منکرات لوگوں نے پھیلائے ہیں کسی اور عنوان سے اتنے منکرات نہیں پھیلائے گئے ۔

حضرت امام حسین (ع) فرمارہے ہیں کہ میں امربالمعروف و نہی عن المنکر کرنے جارہا ہوں میں ان چیزوں پر امر کرنے آیا ہوں جنہیں خدا نے اور تمہاری عقل نے تمہارے لئے تسلیم کیا ہے اور جن چیزوں سے تمہیں روکا ہے ان سے منع کرنے کے لئے نکل رہا ہوں یعنی وہ انسانی ، قرآنی ، دینی اور اسلامی اقدار جن کی ترویج کے لئے ، جن کو پھیلانے اور احیاء کرنے کے لئے ، انسانوں کے اندر متعارف کروانے کے لئے انبیاء (ع) یکے بعد دیگرے مبعوث ہوئے ، تا کہ انسانوں کی ان اقدار کی طرف رہنمائی کرسکیں، اور ان عالی اقدار کے مقابلے میں منفی صفات ، ٹھکرائی گئی صفات اور منکرات سے انسانوں کو بچاسکیں۔

پس معروف اور منکر در حقیقت دوقدروں کا نام ہے ۔ انسانی اور الہی اقدار کا نام معروف ہے منفی اقدار ، غیر انسانی صفات ، تمام برے اعمال اور صفات کا نام منکر ہے ۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اقدار کے دو حصے ہیں ایک حصہ وہ اقدار ہیں جنہیں وحی اور عقل نے تسلیم کرکے رسمیت سے پہچانا ہو ، جبکہ منکرات وہ حصہ ہیں جنہیں ٹھکرادیا گيا ہو رد کردیا گیا ہوا ورنہ ہی خدا نے تسلیم کیا ہو اور نہ ہی عقل نے قبول کیا ہو۔

لیکن کبھی ان اقدار کا نظام بدل جاتا ہے اور لوگ یہاں تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ منکر کو معروف اور معروف کو منکر سمجھنا شروع کردیتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ (ص) سے مروی حدیث میں بھی آیا ہے ۔

کیف بکم اذا رایتم المعروف منکراو المنکر معروفا

اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب معروف منکر اور منکر معروف بن جائے گا۔

قرآن کریم میں امربالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ تمام امت کے لئے قرار دیا گیا ہے لہذا امام امت کا بھی یہی فریضہ بنتا ہے کہ امام امت جب مشاہدہ کرے کہ قدروں کا نظام بدل گیا ہے امت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہو تو خود امام امت تن تنہا اس نظام اقدار کو بچانے کے لئے اقدام کرتا ہےجیسا کہ امام حسین (ع) نے یہی فرمایا کہ میں امربالمعروف و نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں ۔

اولو مسجد - ترکی کے شہر بروصہ

اولو مسجد ( ترکی :Ulu Cami، اولو جامع ) یعنی عظیم مسجد ترکی کے شہر بروصہ میں واقع ایک مسجد ہے جسے عثمانی طرز تعمیر کا اولین شاہکار سمجھا جاتا ہے۔

اولو مسجد - ترکی کے شہر بروصہ

یہ مسجد سلطان بایزید اول کے حکم پر علی نجار نے 1396ء سے 1399ء کے درمیان قائم کی۔

اولو مسجد - ترکی کے شہر بروصہ

مستطیل شکل میں بنی اس مسجد پر 20 گنبد ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سلطان بایزید نے جنگ نکوپولس میں فتح کی صورت میں 20 مساجد تعمیر کرنے کا عہد کیا تھا اور بعد ازاں انہی 20 مساجد کی جگہ بروصہ میں (جو اس وقت عثمانی سلطنت کا دارالحکومت تھا) 20 گنبدوں والی یہ مسجد تعمیر کی گئی۔

اولو مسجد - ترکی کے شہر بروصہ

اس کے دو مینار بھی ہیں۔

اولو مسجد - ترکی کے شہر بروصہ

مسجد کے اندر معروف خطاطوں کے 192 شاندار فن پارے رکھے گئے جو فن خطاطی کے عظيم نمونوں میں شمار ہوتے ہیں۔

اولو مسجد - ترکی کے شہر بروصہ

اولو جامع کا اندرونی منظر، صحن کے وسط میں وضو خانہ نمایاں ہے

اولو مسجد - ترکی کے شہر بروصہ

نماز کی محراب

اولو مسجد - ترکی کے شہر بروصہ

اولو جامع کا بیرونی وضو خانہ

Monday, 10 December 2012 09:35

اہل حدیث

اہل حدیث کا طریقہ ، اصل میں ایک فقہی اور اجتہادی طریقہ تھا ۔ کلی طور پر اہل سنت کے فقیہ اپنی طور طریقہ کی وجہ سے دو گروہ میں تقسیم ہوتے ہیں : ایک گروہ وہ ہے جن کا مرکز عراق تھا اور وہ حکم شرعی کو حاصل کرنے کے لئے قرآن و سنت کے علاوہ عقل سے بھی استفادہ کرتے تھے ۔ یہ لوگ فقہ میں قیاس کو معتبر سمجھتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ بعض جگہوں پر اس کو نقل پر مقدم کرتے ہیں ۔

یہ گروہ ''اصحاب رائے'' کے نام سے مشہور ہے اس گروہ کے موسس ابوحنیفہ (متوفی ١٥٠ھ) ہیں ۔

دوسرا گروہ وہ ہے جن کا مرکز حجاز تھا ، یہ لوگ صرف قرآن وحدیث کے ظواہر پر تکیہ کرتے تھے اور مطلق طور سے عقل کا انکار کرتے تھے ، یہ گروہ '' اہل حدیث'' یا '' اصحاب حدیث'' کے نام سے مشہور ہے ، اس گروہ کے بزرگ علمائ، مالک بن انس (متوفی ١٧٩ھ)، محمد بن ادریس شافعی (متوفی ٢٠٤ھ) اور احمد بن حنبل ہیں ۔

اہل حدیث ، اپنے فقہی طریقہ کو عقاید میں بھی استعمال کرتے تھے اور اس کو صرف قرآن و سنت کے ظواہر سے اخذ کرتے تھے ۔ یہ لوگ نہ صرف عقاید کے مسائل کو استنباط کرنے کے لئے عقل کو ایک مآخذ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اعتقادی احادیث سے متعلق ہر طرح کی عقلی بحث کی مخالفت کرتے تھے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ یہ گروہ اس عقلی کلام کا بھی منکر تھا جس میں عقاید کا مستقل مآخذ عقل ہے اورایسے نقلی کلام کا بھی منکر تھا جس میںنقل کے عقلی لوازم کو عقل استنباط کرتی ہے ۔ یہاں تک کہ یہ گروہ عقاید دینی سے دفاع کے کردار کو بھی عقل کے لئے قبول نہیں کرتے تھے ۔ یہ بات مشہور ہے کہ جب ایک شخص نے مالک بن انس سے اس آیت ''الرحمن علی العرش استوی'' کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا: عرش پر خدا کا قائم ہونا معلوم ہے، اس کی کیفیت مجھول ہے، اس پرایمان واجب ہے اوراس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے ۔

بہرحال اہل حدیث ، دین کے متعلق ہرطرح کی فکر کرنے کے متعلق مخالفت کرتے تھے اورعلم کلام کا بنیادی طور پر انکار کرتے تھے ۔ اس گروہ کا معروف چہرہ ، احمد بن حنبل کے اس اعتقادنامہ پر ہے جس میں اس گروہ کے اساسی عقاید کو بیان کیا گیا ہے ، ان اعتقادات کا خلاصہ اس طرح ہے :

١۔ ایمان، قول وعمل اورنیت ہے ۔ ایمان کے درجات ہیں اور یہ درجات کم و زیادہ ہوسکتے ہیں ۔ ایمان میں استثنائات پائے جاتے ہیں ، یعنی اگر کسی شخص سے اس کے ایمان کے بارے میں سوال کیا جائے تو اس کو جواب میں کہنا چاہئے : انشاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا تو) میں مومن ہوں ۔

٢۔ اس دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ قضا و قدر الہی ہے اور انسان، خداوند عالم کی قضا و قدرسے فرار نہیں کرسکتا ۔ انسانوں کے تمام افعال جیسے زنا، شراب پینا اور چوری وغیرہ خداوندعالم کی تقدیر سے مربوط ہے اوراس متعلق کسی کو خدا پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے ۔ اگر کوئی گمان کرے کہ خداوند عالم گناہگاروںسے اطاعت چاہتا ہے لیکن وہ معصیت کا ارادہ کرتے ہیں،تو یہ گنہگار بندوں کی مشیت کو خداوند عالم کی مشیت پر غالب سمجھتے ہیں ، اس سے بڑھ کر خداوند عالم پر کوئی اور بہتان نہیں ہوسکتا ۔ جو بھی یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ خداوندعالم کو اس جہان ہستی کا علم ہے اس کو قضا و قدر الہی کو بھی قبول کرنا چاہئے ۔

٣۔ خلافت اور امامت ، قیامت تک قریش کا حق ہے ۔

٤۔ جہاد ، امام کے ساتھ جائز ہے چاہے وہ امام عادل ہو یا ظالم ۔

٥۔ نماز جمعہ ، حج اور نماز عیدین (عید فطر و عید قربان) امام کے علاوہ قابل قبول نہیں ہے چاہے وہ امام عادل اور باتقوی بھی نہ ہو ۔

٦۔ صدقات ، خراج (لگان) اور جو مال بغیر کسی جنگ و وسایل جنگ کے حاصل ہو سب سلاطین کا حق ہے ، چاہے وہ ظالم ہی کیوں نہ ہو ۔

٧۔ اگر بادشاہ ، گناہ کا حکم دے تو اس کی اطاعت نہیں کرنا چاہئے ،لیکن ظالم بادشاہ کے خلاف خروج کرنا بھی جائز نہیں ہے ۔

٨۔ مسلمانوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے کافر کہنا جائز نہیں ہے ، مگران جگہوں پر جن کے متعلق حدیث میں وارد ہوا ہے جیسے نماز ترک کرنے والے، شراب پینے والے اور بدعت انجام دینے والے کو ۔

٩۔ عذاب قبر، صراط، میزان، صور پھونکنا، بہشت، جہنم، لوح محفوظ اور شفاعت یہ سب حق ہیں اور بہشت و جہنم ہمیشہ سے رہیں گے ۔

١٠۔ قرآن ،خداوند عالم کا کلام ہے اور یہ مخلوق نہیں ہے ، حتی کہ الفاظ اور قاری قرآن کی آواز بھی مخلوق نہیں ہے اور جو بھی قرآن کریم کو ہر طرح سے مخلوق اور حادث سمجھتے ہیں وہ کافر ہیں ۔

اہل حدیث کے اور دوسرے نظریات بھی ہیں جیسے خداوند عالم کو آنکھوں سے دیکھنا، تکلیف ما لایطاق کا جائز ہونا اور صفات خبریہ کا ثابت کرنا ،ہم ان عقاید کو اشاعرہ کی بحث میں بیان کریں گے ۔

خلاصہ :

١۔ اہل حدیث کا طریقہ ، اصل میں ایک فقہی طریقہ تھایہ لوگ صرف قرآن وحدیث کے ظواہر پر تکیہ کرتے تھے اور مطلق طور سے عقل کا انکار کرتے تھے ، یہ گروہ '' اہل حدیث'' یا '' اصحاب حدیث'' کے نام سے مشہور ہے ، اس گروہ کے بزرگ علمائ، مالک بن انس (متوفی ١٧٩ھ)، محمد بن ادریس شافعی (متوفی ٢٠٤ھ) اور احمد بن حنبل ہیں ۔

٢۔ اہل حدیث اپنے فقہی طور طریقہ کو عقاید میں بھی استعمال کرتے تھے اور اعتقادی احادیث سے متعلق ہر طرح کی عقلی بحث کے مخالف تھے اور اس کے نتیجہ میںیہ علم کلام کا بنیادی طور پرانکار کرتے ہیں ۔ اس متعلق احمد بن حنبل کے نظریات اہل سنت کے درمیان سب سے زیادہ تاثیر گذار ہیں ۔

٣۔ اہل حدیث کے بعض اعتقادات وہ ہیں جو احمد بن حنبل کے اعتقادنامہ میں بیان ہوئے ہیں :

الف : ایمان، قول وعمل اورنیت ہے ۔ ایمان کے درجات ہیں اور یہ درجات کم و زیادہ ہوسکتے ہیں ۔ ایمان میں استثنائات پائے جاتے ہیں ۔

ب : اس دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ قضا و قدر الہی ہے اور انسان، خداوند عالم کی قضا و قدرسے فرار نہیں کرسکتا،انسان کو اپنے کسی فعل میں کوئی اختیار نہیں ہے ۔

ج : جہاد، نماز جمعہ ، حج اور نماز عیدین (عید فطر و عید قربان) امام کے علاوہ قابل قبول نہیں ہے چاہے وہ امام عادل اور باتقوی بھی نہ ہو ۔

د : مسلمانوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے کافر کہنا جائز نہیں ہے ۔

ھ : قرآن ،خداوند عالم کا کلام ہے اور یہ مخلوق نہیں ہے ۔

اشاعرہ

اشاعرہ ، ابوالحسن اشعری (٢٦٠۔ ٣٢٤ ھ)کے پیروکاروں کو کہتے ہیں ، ابوالحسن اشعری نے عقل سے استفادہ کرنے میں معتزلہ کی افراط اور اہل حدیث کا عقل سے استفادہ کرنے میں تفریط سے کام لینے درمیان ایک تیسرا راستہ اختیار کیا ، دوسری صدی ہجری کے دوران ان دوونوں فکری مکتبوں نے بہت زیادہ وسعت حاصل کی ، معتزلہ عقاید کے لئے عقل کو ایک مستقل مآخذ سمجھتے تھے اور اس کے ذریعہ اسلام سے دفاع کرنے کی تاکید کرتے تھے اور اس کو استعمال کرنے میں افراط سے کام لیتے تھے،دوسری طرف اہل حدیث ، عقل سے ہر طرح کے استفادہ کو منع کرتے تھے اور قرآن و سنت کے ظواہر کو بغیر کسی فکری تحلیل کے اس کو دینی تعلیمات میں ملاک و معیار کے عنوان سے قبول کرتے تھے ، اشعری مذہب نے چوتھی صدی کے شروع میں اہل حدیث کے عقاید سے دفاع اور عملی طور پر ان دونوں مکتبوں کی تعدیل کے عنوان سے عقل و نقل کے موافق ایک معتدل راستہ اختیار کیا ۔

ابوالحسن علی بن اسماعیل اشعری اپنی جوانی میں معتزلہ عقاید سے وابستہ تھے انہوں نے ان کے اصول عقاید کو اس زمانہ کے مشہور استاد ابوعلی جبائی (متوفی ٣٣ھ) سے حاصل کئے اور چالیس سال کی عمر تک معتزلہ سے دفاع کرتے تھے اور اسی موضوع سے متعلق بہت سی کتابیں بھی لکھیں، ۔ اسی دوران انہوں نے اس مذہب سے اعتزال کیا اور معتزلہ کے مقابلہ میں اہل حدیث کے مطابق کچھ نظریات پیش کئے، اشعری ایک طرف تو غیروں کے مآخذ کو کتاب و سنت بتاتے تھے اور اس وجہ سے معتزلہ کی مخالفت کرتے تھے اور اہل حدیث ہوگئے ، لیکن اصحاب حدیث کے برخلاف دینی عقاید سے دفاع اور اس کو ثابت کرنے کے لئے بحث و استدلال کو جائز سمجھتے تھے اورعملی طور پر اس کو استعمال کرتے تھے ، اسی غرض سے انہوں نے ایک کتاب ''رسالة فی استحسان الخوض فی علم الکلام'' لکھی اور اس میں علم کلام سے دفاع کیا ۔ اشعری نے نقل کواصالت دینے کے ساتھ ساتھ عقل کوثابت کرنے اور دفاع کرنے کے لئے قبول کرلیا ، وہ شروع میں معتزلہ کے نظریات کو نقض کرنے کی ذمہ داری سمجھتے تھے لیکن انہوں نے معتزلہ کے عقایدسے جنگ کرتے ہوئے اہل حدیث کے عقلی طریقہ کو ثابت اور تعدیل کیا اور ان کے نظریات کو ایک حد تک معتزلہ کے نظریات سے نزدیک کردیا ۔

اشعری کے نظریات

اس حصہ میں کوشش کریں گے کہ اشعری کی روش کے نتیجہ کو ان کے بعض عقاید میں ظاہر کریں ۔ اس وجہ سے اس کے عقیدہ کے اصحاب حدیث اور معتزلہ کے عقاید کو اجمال کے ساتھ مقایسہ کریں گے ۔

١۔ صفات خبری : علم کلام میں کبھی کبھی صفات الہی کو صفات ذاتیہ اور صفات خبریہ میں تقسیم کرتے ہیں ۔ صفات ذاتیہ سے مراد وہ صفات ہیں جو آیات و روایات میں بیان ہوئے ہیں اور عقل خود بخود ان صفات کو خداوند عالم کے لئے ثابت کرتی ہے جیسے خدا کے لئے ہاتھ، پیر اور چہرہ کا ہونا ،اس طرح کے صفات کے متعلق متکلمین کے درمیان اختلاف ہے ۔

اہل حدیث کا ایک گروہ جس کو مشبھہ حشویہ کہتے ہیں، یہ صفات خبریہ کو تشبیہ کے ساتھ خداوندعالم کے لئے ثابت کرتے ہیں ۔ یہ لوگ معتقد ہیں کہ خداوند عالم میں صفات خبریہ اسی طرح پائے جاتے ہیں جس طرح مخلوقات میں پائے جاتے ہیں اوراس جہت سے خالق اور مخلوق کے درمیان بہت زیادہ شباہت پائی جاتی ہے ۔ شہرستانی نے اس گروہ کے بعض افراد سے نقل کیا ہے کہ ان کاعقیدہ ہے یہ ہے کہ خداوندعالم کو لمس کیا جاسکتا ہے اور اس سے مصافحہ اور معانقہ کیا جاسکتا ہے ۔

اہل حدیث میں سے بعض لوگ صفات خبریہ کے متعلق تفویض کے معتقد ہیں ۔ یہ لوگ صفات خبریہ کو خداوند عالم سے منسوب کرنے کے ضمن میں ان الفاظ کے مفہوم و مفاد کے سلسلہ میں ہر طرح کا اظہار نظر کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اوراس کے معنی کو خداوند عالم پر چھوڑدیتے ہیں ۔ مالک بن انس کا خداوند عالم کے استوی پر ہونے کی کیفیت کے متعلق سوال کے جواب سے ان کا نظریہ معلوم ہوجاتا ہے ۔ لیکن معتزلہ ، خداوند عالم کو مخلوقات سے مشابہ ہونے سے منزہ سمجھتے ہیں اور خداوند عالم کے ہاتھ اور پیر رکھنے والے صفات کو جائز نہیں سمجھتے ہیں ۔ دوسری طرف قرآن اور روایات میں اس طرح کے صفات کی خداوند عالم سے نسبت دی گئی ہے ۔ معتزلہ نے اس مشکل کوحل کرنے کے لئے صفات خبریہ کی توجیہ اور تاویل کرنا شروع کردی اور یداللہ (خدا کے ہاتھ) کی ''قدرت الہی'' سے تفسیر کرنے لگے ۔

اشعری نے صفات خبریہ کے اثبات میں ایک طرف تو اصحاب حدیث کے نظریہ کو قبول کرلیا اور دوسری طرف ''بلا تشبیہ'' اور بلاتکلیف'' کی قید کو اس میں اضافہ کردیا ۔ وہ کہتے ہیں : ''یقینا خداوند عالم کے دو ہاتھ ہیں، لیکن خدا کے ہاتھ کی کوئی کیفیت نہیں ہے جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے : (بل یداہ مبسوطتان) ، (سورہ مائدہ، آیت ٦٤) ۔

اسی طرح خداوند عالم کے آنکھیں بھی ہیں لیکن ان کی کیفیت بھی معلوم نہیں ہے جیسا کہ فرماتا ہے '' تجری باعیننا ) (سورہ قمر، آیت ١٤) ۔

٢۔ جبر واختیار: اہل حدیث نے قضا و قدر الہی پر اعتقاد رکھنے اور عملی طور پر اس اعتقاد کو انسان کے اختیار کے ساتھ جمع کرنے کی طاقت نہ رکھنے کی وجہ سے وہ انسان کے لئے اس کے افعال میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکے ، اس وجہ سے وہ نظریہ جبر میں گرفتار ہوگئے ۔ یہ بات ابن حنبل کے اعتقاد نامہ میں ذکر شدہ اعتقاد سے بخوبی واضح ہوجاتی ہے ، جب کہ معتزلہ انسان کے اختیاری افعال میں اس کی مطلق آزادی کے قائل ہیں اور قضا و قدر اور خداوند عالم کے ارادہ کے لئے اس طرح کے افعال میں کسی نظریہ کے قائل نہیں ہیں ۔

اشعری کا نظریہ یہ تھا کہ نہ صرف قضا و قدر الہی عام ہے بلکہ انسان کے اختیاری افعال کو بھی خداوند عالم ایجاد اور خلق کرتا ہے دوسری طرف اس نے کوشش کی کہ انسان کے اختیاری افعال کے لئے کوئی کردار پیش کرے ،انہوں نے اس کردار کو نظریہ کسب کے قالب میں بیان کیا ۔ اشعری کا یہ نظریہ بہت ہی اہم اور پیچیدہ ہے اس لئے ہم اس کو یہاں پر تفصیل سے بیان کرتے ہیں :

''کسب'' ایک قرآنی لفظ ہے اور متعدد آیات میں اس لفظ اور اس کے مشتقات کو انسان کی طرف نسبت دیا گیا ہے ۔ بعض متکلمین منجملہ اشعری نے اپنے نظریات کو بیان کرنے کے لئے اس کلمہ سے فائدہ اٹھایا ہے انہوں نے کسب کے خاص معنی بیان کرنے کے ضمن میں اس کو اپنے نظریہ جبر و اختیار اور انسان کے اختیاری افعال کی توصیف پر ملاک قرار دیا ہے ، اگر چہ اشعری سے پہلے دوسرے متکلمین نے بھی اس متعلق بہت کچھ بیان کیا ہے ۔ لیکن اشعری کے بعد ، کسب کا لفظ ان کے نام سے اس طرح متمسک ہوگیا ہے کہ جب بھی کسب یا نظریہ کسب کی طرف اشارہ ہوتا ہے تو بے اختیار اشعری کانام زبان پر آجاتا ہے ۔

ان کے بعد اشعری مسلک کے متکلمین نے اشعری کے بیان کردہ نظریہ سے اختلاف کے ساتھاپنی خاص تفسیر کو بیان کیا ۔ یہاں پر ہم نظریہ کسب کو اشعری کی تفسیر کے ساتھ بیان کریں گے ۔ ان کے نظریہ کے اصول مندرجہ ذیل ہیں:

١۔ قدرت کی دو قسمیں ہیں: '' ایک قدرت قدیم'' جو خداوند عالم سے مخصوص ہے اور فعل کے خلق و ایجاد کرنے میں موثر ہے ۔ اور دوسری قسم ''قدرت حادث'' ہے جو فعل کو ایجاد کرنے میں موثر نہیں ہے اور اس کافائدہ یہ ہے کہ صاحب قدرت اپنے اندر آزادی اور اختیار کا احساس کرتا ہے اورگمان کرتا ہے کہ وہ کسی کام کو انجام دینے کی قدرت رکھتا ہے ۔

٢۔ انسان کا فعل ، خدا کی مخلوق ہے : اشعری کے لئے یہ ایک قائدہ کلی ہے کہ خدا کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے اور تمام چیز منجملہ انسان کے تمام افعال ، خدا کی مخلوق ہیں ۔ وہ تصریح کرتے ہیں کہ افعال کا حقیقی فاعل ، خدا ہے ۔ کیونکہ خلقت میں صرف قدرت قدیم موثر ہے اور یہ قدرت صرف خدا کے لئے منحصر ہے ۔

٣۔ انسان کا کردار، فعل کو کسب کرنا ہے ۔ خداوند عالم ، انسان کے افعال کوخلق کرتا ہے اور انسان ، خداوند عالم کے خلق کردہ افعال کو حاصل کرتا ہے ۔

٤۔ کسب یعنی خلق فعل کا انسان میں قدرت حادث کے خلق ہونے کے ساتھ مقارن ہونا ۔ اشعری خود لکھتے ہیں : '' میرے نزدیک حقیقت یہ ہے کہ اکتساب اور کسب کرنے کے معنی فعل کا قوت حادث کے ساتھ اور ہمزمان واقع ہونا ہے ۔ لہذا فعل کو کسب کرنے والا وہ ہے جس میںفعل قدرت (حادث) کے ساتھ ایجاد ہوا ہو ۔ مثال کے طور پر جب ہم کہتے ہیں کہ کوئی آدمی راستہ چل رہا ہے یا وہ راستہ چلنے کو کسب کررہا ہے ، یعنی خداوند عالم اس شخص میں راستہ چلنے کو ایجاد کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اندر قدرت حادث بھی ایجاد کررہا ہے جس کے ذریعہ انسان یہ احساس کرے کہ وہ اپنے فعل کو اپنے اختیار سے انجام دے رہا ہے ۔

٥۔ اس نظریہ میںفعل اختیاری اورغیراختیاری میں فرق یہ ہے کہ فعل اختیاری میں چونکہ فعل انجام دیتے وقت انسان میں قدرت حادث ہوتی ہے تو وہ آزادی کا احساس کرتا ہے لیکن غیر اختیاری فعل میں چونکہ اس میںایسی قدرت نہیں ہے وہ جبر اور ضرورت کا احساس کرتا ہے ۔

٦۔ اگر چہ انسان فعل کو کسب کرتا ہے لیکن یہی کسب خدا کی مخلوق بھی ہے ۔ اس بات کی دلیل اشعری کے نظریہ سے بالکل واضح ہے ۔ کیونکہ اولا : گذشتہ قاعدہ کے مطابق ہر چیز منجملہ کسب ، خدا کی ایجاد کردہ ہے ۔ ثانیا : کسب کے معنی انسان میں حادث قدرت اور فعل کے مقارن ہونے کے ہیں، اور چونکہ فعل اور قدرت حادث کو خداوند عالم خلق کرتا ہے ، لہذا ان دونوں کی مقارنت بھی اسی کی خلق کردہ ہوگی ۔ اشعری نے اس مطلب کی تصریح کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیات سے تمسک کیا ہے وہ کہتے ہیں : '' اگر کوئی سوال کرے کہ تم یہ کیوں سوچتے ہو کہ بندوں کے کسب ، خداکی مخلوق ہے تو ہم اس سے کہیں گے کہ کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے : ( خداوند عالم نے تمہیں اور جو کچھ تم عمل کرتے ہو، خلق کیا ہے ) (سورہ صافات، آیت ٩٦) ۔

٧۔ یہاں پر جو سوال بیان ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسب ،خدا کی مخلوق ہے تو پھر اس کو انسان کی طرف کیوں نسبت دیتے ہیںاور کہتے ہیں کہ انسان کاعمل ہے ۔

اس کے جواب میں اشعری معتقد ہیں کہ مکتسب اور کاسب ہونے کا ملاک ، کسب کرنے کی جگہ ہے نہ کہ کسب کو ایجاد کرنا ۔ مثال کے طور پر جس چیز میں حرکت نے حلول کیا ہے اس کو متحرک کہتے ہیں ، جس نے حرکت کو ایجاد کیا ہے اس کو متحرک نہیں کہتے ۔یہاں پر بھی انسان ،محل کسب ہے اس لئے اس کو مکتسب کہتے ہیں ۔

نتیجہ یہ ہوا کہ خداوند عالم کی سنت اس بات پر برقرار ہے کہ جب انسان سے اختیاری فعل صادرہوتا ہے تو خداوند عالم اسی وقت قدرت حادث کو بھی انسان میں خلق کردیتا ہے اورانسان صرف فعل اور قدرت حادث کی جگہ ہے یعنی فعل اور قدرت حادث کے مقارن ہونے کی جگہ ہے ۔ اس بناء پر اشعری کا نظریہ انسان کے اختیاری فعل سے جبر کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ اگر چہ انہوں نے بہت زیادہ کوشش کی ہے تاکہ وہ انسان کے لئے ہاتھ او رپیر کا کردار ادا کریں لیکن آخر کار وہ اسی راستہ کی طرف گامزن ہوگئے جس پر اکثر اہل حدیث اور جبر کے قائل افراد گامزن ہیں ۔

٣۔ کلام خدا : اہل حدیث معتقد ہیں کہ خداوندعالم کا کلام وہی اصوات اور حروف ہیں جو قائم بذات خدا اور قدیم ہیں ۔

انہوں نے اس موضوع میں اس قدر مبالغہ سے کام لیا ہے کہ بعض لوگوں نے اس کی جلد اور قرآن کے کاغذ کو بھی قدیم سمجھ لیا ۔

معتزلہ بھی کلام خدا کو اصوات اور حروف سمجھتے ہیں لیکن ان کو قائم بذات خدا نہیں سمجھتے اور ان کا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم اپنے کلام کو لوح محفوظ یا جبرئیل، یا پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں خلق کرتا ہے اور اس وجہ سے خدا کا کلام حادث ہے ۔

اشعری نے میانہ راستہ اختیار کرنے کے لئے کلام کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے : پہلی قسم وہی لفظی کلام ہے جو حروف اور اصوات میں تشکیل پاتا ہے ،اس متعلق انہوں نے معتزلہ کی بات کو قبول کرتے ہوئے کلام لفظی کو حادث شمار کیا ہے ، لیکن دوسری قسم کلام نفسی ہے اس قسم میں اہل حدیث کی طرح کلام خدا کو قائم بذات اور قدیم شمار کیا ہے ۔ حقیقی کلام وہی کلام نفسی ہے جو قائم بنفس ہے اور الفاظ کے ذریعہ بیان ہوتا ہے ، کلام نفسی واحد اور نامعتبر ہے ۔ جب کہ کلام لفظی تغییر و تبدیل کے قابل ہے ، کلام نفسی کو مختلف عبارات کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے ۔

٤۔ رئویت خدا : اہل حدیث کا ایک گروہ جو مشبھہ حشویہ کے نام سے مشہور ہے ان کا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم کو آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے، لیکن معتزلہ ہر طرح کی رئویت خدا سے انکار کرتے ہیں ۔ اشعری نے اس متعلق درمیانہ راستہ اختیار کیا تاکہ افراط و تفریط سے محفوظ رہے ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ خدا وندعالم دیکھا ئی دیتا ہے لیکن خدا کو دوسرے اجسام کی طرح نہیں دیکھا جاسکتا ہے ۔ ان کی نظر میں رئویت خدا ، مخلوقات سے مشابہ نہیں ہے ۔ اس متعلق ایک شارح نے لکھا ہے : '' اشاعرہ کا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم کے جسم نہیں ہے اور وہ کسی سمت میںنہیں ہے اس بناء پر اس کے چہرہ اور حدقہ وغیرہ نہیں ہے لیکن اس کے باجود وہ چودہویں رات کے چاند کی طرح اپنے بندوں پر ظاہر ہوسکتا ہے اور دکھائی دے سکتا ہے جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے '' ۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے تاکید کرتے ہیں کہ '' ہماری دلیل عقل بھی ہے او رنقل بھی ہے لیکن اس مسئلہ میں اصل نقل ہے''۔

اشاعرہ کی دلیل عقلی جو دلیل الوجود کے نام سے مشہور ہے یہ ہے کہ جو چیز بھی موجود ہے وہ دکھائی دے گی مگر یہ کہ کوئی مانع موجود ہو ، دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ کسی وجود کا ہونا اس کے رئویت کا تقاضاکرتا ہے اس بناء پر چونکہ خداوند عالم موجود ہے اور اس کے دکھائی دینے کا لازمہ امر محال نہیں ہے پس رئویت خدا ، عقلا ممکن ہے ۔

٥۔ حسن و قبح افعال : معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ افعال میں حسن و قبح ذاتی پایا جاتا ہے اور عقل بھی( کم سے کم بعض موارد میں)اس کے حسن وقبح کو جاننے پر قادر ہے ، بلکہ اصولی طور پر تو یہ افعال کے حسن و قبح واقعی سے انکار کرتے ہیں ۔ کتاب شرح مواقف کے مصنف اس متعلق لکھتے ہیں : '' ہمارے ( یعنی اشاعرہ کے)نزدیک قبیح یہ ہے کہ نہی تحریمی یا تنزیہی واقع ہو اور حسن یہ ہے کہ اس سے نہی نہ ہوئی ہو ،جیسے واجب ، مستحب اور مباح ۔ اور خداوندعالم کے افعال حسن ہیں '' اسی طرح نزاع کی توضیح او ربیان کے وقت حسن و قبح کے تین معنی کرتے ہیں :

١۔ کمال و نقض : جس وقت کہا جاتا ہے : '' علم ، حسن ہے'' اور'' جہل، قبیح ہے'' تو حسن و قبح کے یہی معنی مراد ہوتے ہیں ، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حسن و قبح کے یہ معنی صفات فی نفسہ میںثابت ہیں اور عقل اس کو درک کرتی ہے اور شرع سے اس کا کوئی ارتباط نہیں ہے ۔

٢۔ غرض سے ملایم و منافر ہونا : اس معنی میں جو بھی غرض اور مراد سے موافق ہے وہ حسن ہے اور جو بھی مخالف ہو وہ قبیح ہے اور جو ایسا نہ ہو وہ نہ حسن ہے اور نہ قبیح ہے ۔ ان دو معنوں کو کبھی ''مصلحت '' اور کبھی ''مفسدہ '' سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اس معنی میں بھی حسن و قبح عقلی امر ہیں اور اغراض و اعتبارات کی وجہ سے بدل جاتے ہیں ، مثلا کسی کا قتل ہوجانا اس کے دشمنوں کے لئے مصلحت ہے اور ان کے ہدف کے موافق ہے لیکن اس کے دوستوں کے لحاظ سے مفسدہ ہے اس بناء پر اس معنی میں حسن و قبح کے معنی اضافی اور نسبی ہیں ، حقیقی نہیں ہیں ۔

٣۔ استحقاق مدح : متکلمین کے درمیان جس معنی میں اختلاف ہوا ہے وہ یہی تیسرے معنی ہیں ، اشاعرہ حسن و قبح کو شرعی سمجھتے ہیں ، کیونکہ اس لحاظ سے تمام افعال مادی ہیں اور کوئی بھی فعل خود بخود مدح و ذم یا ثواب و عقاب کا اقتضاء نہیں کرتا ہے اور صرف شارع کی امر و نہی کی وجہ سے ایسی خصوصیت پیدا ہوجاتی ہے ، لیکن معتزلہ کے نظریات کے مطابق یہ معنی بھی عقلی ہیں ، کیونکہ فعل خود بخود ، شرع سے چشم پوشی کرتے ہوئے یا حسن ہیں جس کی وجہ سے اس فعل کا فاعل مدح اور ثواب کا مستحق ہے ، یا قبیح ہے جس کی وجہ سے اس فعل کا فاعل عقاب اور برائی کامستحق ہے ۔

٦۔ تکلیف ما لا یطاق : تکلیف ما لا یطاق کے معنی یہ ہیں کہ خداوند عالم اپنے بندہ کو ایسے فعل کی تکلیف دے جس کو انجام دینے پر وہ قادر نہیں ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان کو ایسی تکلیف دینا جائز ہے؟ اور اس کے ترک کرنے پر عقاب کرنا جائز ہے؟ یہ بات واضح ہے کہ اس مسئلہ میں فیصلہ کرنے کے لئے مسئلہ حسن و قبح کی طرف مراجعہ کرنا پڑے گا ، معتزلہ چونکہ حسن وقبح کو عقلی سمجھتے ہیں لہذا وہ اس طرح کی تکلیف کو قبیح اور محال سمجھتے ہیں اور خداوند عالم کی طرف سے ایسی تکلیف کے صادر ہونے کو جائز نہیں سمجھتے ہیں ۔ لیکن اشاعرہ چونکہ حسن وقبح کے عقلی ہونے پر اعتقاد نہیں رکھتے اور کسی چیز کو خداپرواجب نہیں سمجھتے ہیں اس لئے ان کا نظریہ ہے کہ خداوند عالم ہر کام منجملہ تکلیف ما لا یطاق کو بھی انجام دے سکتا ہے اور اس کی طرف سے جو عمل بھی صادر ہو وہ عمل نیک ہے ۔

مذہب اشعری کا استمرار

ابوالحسن اشعری کے مذہب کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ شروع میں علمائے اہل سنت نے ان کے نظریات کو قبول نہیں کیا اور ہر جگہ ان کی بہت زیادہ مخالفت ہوئی ، لیکن عملی طورپر ان مخالفتوں کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور مذہب اشعری آہستہ آہستہ اہل سنت کی فکروں پر غالب آتا گیا ، ابوالحسن اشعری کے بعد سب سے پہلی شخصیت جس نے اس مذہب کو آگے بڑھا یا وہ ابوبکر باقلانی (متوفی ٤٠٣ ھ) ہے ، انہوں نے ابوالحسن اشعری کے نظریات کو جو کہ دو کتابوں ''الابانہ و اللمع'' میں اجمالی طور سے موجود تھے، ان کی اچھی طرح شرح کی اور ان کو ایک کلامی نظام کی شکل میں پیش کیا ۔

لیکن اشعری مذہب کو سب سے زیادہ امام الحرمین جوینی (متوفی ٤٧٨ھ) نے وسعت بخشی ۔ خواجہ نظام الملک نے بغداد کا مدرسہ نظامیہ تاسیس کرنے کے بعد (٤٥٩ھ)میں جوینی کو تدریس کے لئے وہاں بلایا ۔ جوینی نے تقریبا تیس سال تک اشعری مذہب کی ترویج کی اور چونکہ یہ شیخ الاسلام اور مکہ و مدینہ کے امام تھے اس لئے ان کے نظریات کو پورے عالم اسلام میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ۔ جوینی کے آثار کے ذریعہ اشعری مذہب بہت زیادہ پھیلا، یہاں تک کہ اہل سنت معاشرہ میں ان کے کلام کو ترجیح دی جانے لگی۔

جوینی نے اشعری کے نظریات کو عقلی اوراستدلالی رنگ دیا اور امام فخر رازی (متوفی ٦٠٦ھ) نے اشعری مذہب کو عملی طور پر فلسفی رنگ دیا ۔ امام فخر رازی نے اشعری کے مذہب سے دفاع اور ان کے مذہب کو ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ ابن سینا کے فلسفی نظریات پر انتقاد کیا ۔ دوسری طرف امام محمد غزالی (متوفی ٥٠٥ھ) جو کہ جوینی کے شاگرد تھے، نے تصوف کو اختیار کرلیا اور اشعری کے نظریات کی عرفانی تفسیر پیش کی ۔ انہوں نے ایک اہم کتاب احیاء العلوم لکھ کر تصوف اور اہل سنت کے درمیان ایک ارتباط برقرار کردیا ۔

اسلامي جمہوريہ ايران نے کہا ہے کہ افغانستان کے بحران کا حل يہي ہے کہ وہاں سے امريکي اور غير ملکي فوجيں نکل جائيں -

ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے جو پاکستان کے دورے پر ہيں کراچي ميں سينئر صحافيوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملاقات ميں کہا کہ افغانستان کو بدامني اور دہشت گردي کا جو چيلنج اس وقت درپيش ہے اس کا مقابلہ وہاں سے غيرملکي فوجوں کے انخلاء کي صورت ميں ہي کيا جاسکتا ہے انہوں نے دوہزار چودہ تک افغانستان سے غير ملکي فوجوں کے انخلاء کے بارے ميں کہا کہ امريکا نے دہشت گردي کا صفايا کرنے کے بہانے پر افغانستان پر لشکر کشي کي تھي اور علاقے ميں داخل ہوا تھا ليکن آج ايسے ثبوت پائے جاتے ہيں کہ دہشت گرد گروہوں کا سي آئي اے سے رابطہ ہے –

ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ علاقے کے ملکوں کي مشکلات کي اصل وجہ غيرملکي قوتوں کي موجودگي ہے کہا کہ اگر اغيار علاقے ميں امن قائم کرنا چاہتے ہيں تو علاقے کو اس کے حال پر چھوڑ دينا چاہئے تا کہ علاقے کے ممالک آپسي تعاون سے علاقے کے درپيش چيلنجوں کا مقابلہ کرسکيں اور ان قابو پائيں -

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ امريکي حکام کے پيش نظر صرف علاقے ميں صيہوني حکومت کے مفادات کي حفاظت کرنا ہے اور وہ اسلامي ملکوں کے درميان اختلاف پيدا کر کے صيہوني حکومت کي حمايت کرني بھرپور کوشش کررہے ہيں –

ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تہران علاقے کے سبھي بحرانوں منجملہ افغانستان کو درپيش سيکورٹي اور دہشت گردي کے چيلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے راہ حل پيش کرنے کے لئے تيار ہے اور ايران سمجھتا ہے کہ علاقے کے ملکوں کا تعاون ہي علاقے کي مشکلات کے حل کا بہترين طريقہ ہے -