Super User

Super User

تقریب کے علمبردار شهید برهان الدین ربانی کا زندگینامہ

شھید برھان الدین ربانی افغانستان کی متعہدترین اور متخصص ترین شخصیتوں میں تھے جنکا اسلامی جمہوری ایران کے ساتھ دیرینہ دوستانہ روابط تھے جسکا اندازہ شھادت سے دو دن پہلے تہران میں منعقدہ بین الاقوامی اسلامی بیداری کانفرنس میں ولی امر مسلمین حضرت امام خامنہ ای کے ساتھ ملاقات سے بھی آشکار تھا ۔

شھید برھان الدین ربانی ۱۹۴۰ میں مرکز ولایت بدخشان افغانستان کے فیض آباد نامی شھر میں پیدا ہوئے ۔ وہ افغانستان میں استاد ربانی اور پروفسر ربانی کے نام سے مشھور تھے ۔

وہ ۱۹۶۳ میں دانشکدہ شرعیات (الھیات کالج) فارغ ہوئے اور ۱۹۶۸ کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کیلئے مصر چلئے گئے اور وہاں الازھر یونیورسٹی میں داخلہ لیا ۔ وہ مصر میں اخوان المسلمین کے افکار سے متاثر ہوئے ۔

۱۹۵۷ میں دانشگاہ شرعیات کابل میں دوسرے اساتذہ جیسے غلام محمد نیازی، سید محمد موسی توانا، وفی اللہ سمیعی(ظاہر شاہ حکومت کا آخری عدلیہ وزیر)،استاد محمد فاضل، عبدالعزیز فروغ، سید احمد ترجمان کے ہمراہ ھدایت نہضت جوانان مسلمان کو قائم کیا اور ۱۹۷۲ میں غلام محمد نیازی کے استعفی دینے پر اس تحریک کی قیادت کو شھید ربانی نے جمعیت اسلامی افغانستان کے نام سے سنبھالی ۔

محمد داوود خان کی۱۹۷۳ میں بغاوت کے ساتھ تحریک اسلامی افغانستان کے اعضاء کہ جنہیں اخوانی کہا جاتا تھا حکومت وقت جو کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی افغانستان سایہ تلے چل رہے تھے کے دباو میں آگئے ۔ جن فوجی افسروں نے محمد داوود خان کو بغاوت میں مدد کی تھی وہ کمیونسٹ پارٹی افغانستان سے تعلق رکھتے تھے جو کہ اس زمانے میں اور ڈیموکریسی کی دہائی کے مخالف گنے جاتے تھے کہ جنکا مدارس ، یونیورسٹیوں اور علمی مراکز اور حکومتی اداروں میں آپسی اختلاف رہتا تھا ۔ حکومت ان کے ہاتھ آنے سے ، خاص کر وزارت داخلہ جو کہ پیپلز پارٹی کا ممبر تھا،نے اسلامی افکار رکھنے والے جماعتوں کے خلاف وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔

تقریب کے علمبردار شهید برهان الدین ربانی کا زندگینامہ

۱۹۷۴ میں شھید ربانی اور دیگر اسلامگرا کارکنان کہ جنکے پیچھے داوود خان کی حکومت لگی ہوئی تھی افغانستان سے نکل کر پاکستان چلے گئے جہاں ذولفقار علی بھٹو کی حکومت تھی اور پشتونستان مسئلے کو لے کر پاکستان کے روابط افغانستان کے ساتھ ٹھنڈے تھے اسلئے پاکستان میں انکی خوب آو بھگت ہوئی اور انہوں نے اسلامی تحریک کے مہاجروں کے مسلح کرنا شروع کیا تاکہ داوود خان کی حکومت کا تختہ پلٹ سکیں لیکن اسلامی تحریک کے بعض قائدین از جملہ شھید ربانی داوود خان کے خلاف عسکری تحریک چلانے کے مخالف تھے اور حکومت پاکستان کے ساتھ بعض اسلامی جماعت کے نزدیک روابط ہونے کی وجہ سے مہاجرین پر دباو بڑھایا گیا اور شھید ربانی پاکستان سے سعودی عرب چلے گئے ۔

انکی جماعت حکومت مخالف مضبوط ترین سیاسی جماعت تھی ۔ یہ جماعت معتدل تھی اور قائم ہونے سے لیکر ہی مصر کی اخوان المسلمین سے متاثر تھی ۔

شھید ربانی روسی حامی حکومت کے خاتمہ تک حکومت مخالف تھے اور روسی فوج کا افغانستان سے انخلا اور حکومت افغان مجاھدین کے سپرد کرنے کے حامی تھے ۔

مجاھدین کی کامیابی اور ۲۸ جون۱۹۹۲ میں نجیب اللہ احمدزی کی حکومت کا خاتمے پر افغانستان کے موقت صدر جمہور منتخب ہوئے اور صدر جمہور کو انتخاب کرنے کا اختیار شورای اھل حل و عقد جو کہ بعد میں لویی جرگہ سے جانا جانے لگا اسے شھید ربانی نے قائم کیا تھا جس میں زیادہ تر جمعیتی تھے ۔

شورای حل و عقد نے ۳۰ دسمبر۱۹۹۲ کو شھید برھان الدین ربانی کو افغانستان کے مجاھدین حکومت کا صدر جمہور منتخب کیا ۔

مجاھدین حکومت پر ۲۶ستمبر ۱۹۹۶ کو شدید حملات ہوئے اور حکومت طالبان کو منتقل کی گئی لیکن شھید ربانی جس نے مرکزی حکومت کو مزار شریف منتقل کیا ہے ابھی افغانستان کا باقاعدہ صدر جمہور تسلیم کیا جاتا تھا اور آہستہ آہستہ ملک پر انکی کمانڈ ڈھیلی پڑ گئی اور ملک کے صرف ۱۰ فیصد پر حکومت فرما رہے ۔

افغانستان پر امریکی حملے اور طالبان کی شکست کے ساتھ بن کانفرنس میں احمد کرزائی کو موقت صدر جمہور منتخب کیا گیا اور شھید برھان الدین ربانی نے ۲۲ دسمبر۲۰۰۱ کو باقاعدہ اجلاس میں حکومت کو افغانستان کے موقت ادارے کو سونپ دیا ۔

صدر جمہور کے لئے منعقدہ الیکشن میں شھید ربانی نے حامد کرزائی کی حمایت کی جوکہ منتخب ہوکر کامیاب ہوگئے ۔

انہوں نے پارلمنٹ الیکشن میں ولایت بدخشان سے پہلے نمایندے کے طور پر الیکشن میں حصہ لیا اور بھاری آراء کے ساتھ پارلمنٹ سیٹ جیت لی ۔

شھید ربانی نے ۲۰۰۷ میں جہادی اور کمیونسٹ جماعتوں کے سربراہوں پر مشتمل ایک فرنٹ قائم کیا جس کے بارے میں سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فرنٹ افغانستان کے سب سے بڑا اور مہم فرنٹ ہے ۔

تقریب کے علمبردار شهید برهان الدین ربانی کا زندگینامہ

شھید ربانی شھادت کے وقت افغانستان پارلمنٹ ممبر اور افغانستان امن کونسل کے سربراہ تھے ۔

احمد ضیاء مسعود نایب صدر جمہور افغانستان اور افغانستان کے نامور کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے شھید برھان الدین ربانی کی شریک حیات کے بھائی ہیں ۔

بین الاقوامی سٹیج پر انکی آخری حاضری تہران میں منعقدہ بین الاقوامی اسلامی بیداری کانفرنس تھی جس میں ولی امر مسلمین حضرت امام خامنہ ای اور عالم اسلام کے دیگر سیاسی اور مذھبی قائدین کے ساتھ انکی تصویریں ذرائع ابلاغ کے توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی ۔

وہ عالمی مجلس برای تقریب مذاھب اسلامی کے عمومی اجلاس کے ایکزیکٹیو ممبر تھے اور مجلس تقریب کی طرف سے ایران اور ایران سے باہر منعقدہ متعدد کانفرنسوں میں شرکت کرتے تھے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام شیعہ مسلمانوں کے چھٹے امام ہیں۔ شیعہ حضرات تو اپنے امام کا لوہا مانتےہی ہیں لیکن دیگر مذاہب نے بھی آپ کی عظمت علمی، فضائل اخلاقی اور بے نظیر کمالات کا اعتراف کیا ہے۔ کچھ لوگوں کے اعترفات پیش خدمت ہیں۔

 

ابو حنیفہ :

ابو حنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی جو فرقہ حنفی کے پیشوا سمجھے جاتے ہیں وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانےمیں تھے انہوں نے حضرت امام جعفر صادق کی عظمت کا اعتراف اس طرح کیا ہےکہ ما رایت افقہ من جعفر ابن محمد و انہ اعلم الامۃ ۔ میں نے جعفر ابن محمد سے زیادہ علم فقہ میں کسی کو ماہر نہيں پایا اور وہ اس امت کے سب سے بڑے عالم ہیں۔

عباسی حکمران جنہیں خلیفہ رسول ہونے کا گمان تھا انہوں نے آل رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسم )سے دشمنی کی بناپر آل رسول کو نیچا دکھانے کی کوشش کی تھی ۔ ایک مرتبہ منصور دوانیقی نے جسے ہمیشہ آل رسول بعنی بنی علی اور بنی فاطمہ بالخصوص امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی برتری اور مجد وشکوہ دیکھ کر قلق ہوتا تھا وہ اس قلق سے خود کو نجات دینے کے لئے ابو حنیفہ کو اکسایا کرتا تھا کہ وہ امام جعفر صادق کے مقابلے پر اتر آے تاکہ اس طرح امام جعفر صادق علیہ السلام کو علمی لحاظ سے شکست دی جاسکے۔ منصور دوانیقی ابو حنیفہ کا بڑا احترام کیا کرتا تھا اور انہیں اپنے دور کا سب سے بڑا عالم قراردیتا تھا اس کی وجہ بھی ابو حنیفہ سے محبت نہيں بلکہ اھل بیت رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی دشمنی تھی۔

اس واقعے کے راوی خود ابو حنیفہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن منصور دوانیقی نے مجھے کہلا بھیجا کہ اے ابوحنیفہ لوگ جعفر ابن محمد کے شیدا ہوچکے ہیں انہیں عوام کے درمیاں بڑی مقبولیت حاصل ہوچکی ہے اور تم سماج میں جعفر ابن محمد کی بے عزتی کرنے اور سماج میں ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کےلئے کچھ پیچیدہ مسائل کے سوالات تیار کرو اور مناسب وقت میں آن سے ان سوالات کے جواب دریافت کرو اس طرح جعفر ابن محمد تمہارے سوالوں کا جواب نہیں دے پائيں گےاور ان کی تحقیر ہوجائے گي جس کو دیکھ کر عوام کے دلوں میں ان کی عزت کم ہوجائے گي اور ان سے دور ہوتے جائيں گے۔ ابو حنیفہ کہتےہیں کہ میں نے منصور دوانیقی کے کہنے پر چالیس مشکل ترین سوالات تیار کئے۔ ایک دن جب منصور حیرہ میں تھا اس نے مجھے اپنے پاس بلوایا میں اس کے پاس پہنچا تو حیرت سے مبہوت رہ گیا، دیکھتا ہوں کہ جعفر ابن محمد، منصور کے دائيں طرف تشریف فرما ہیں، جب میری نگاہ جعفر ابن محمد پر پڑی تو مجھ پر ان کی عظمت، بزرگواری اور ابہت کا اتنا اثر پڑا کہ میں بیان کرنے سے عاجز ہوں۔ میں نے سلام کیا اور ان کے پاس بیٹھنے کی اجازت طلب کی بادشاہ نے اس کے کنارے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں جب بیٹھ گيا تو منصور نے جعفر ابن محمد کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ ابو حنیفہ ہیں ، انہوں نے جواب دیا جی ہاں میں انہيں پہچانتا ہوں۔ اس کے بعد منصور نے مجھ سے کہا کہ ابو حنیفہ اگر کوئي سوال ہوتو ابو عبداللہ جعفرابن محمد سے پوچھ لو۔ میں نے موقع غنیمت جان کر اپنے سوالات جعفر ابن محمد کے سامنے رکھے، یہ چالیس سوالات تھےجو میں نے پہلے سے آمادہ کررکھے تھے۔ میں ان سے ایک کے بعد دوسرا سوال پوچھتا رہا اور جعفر ابن محمد ان کا شافی جواب دیتے رہے ، ہرمسئلہ بیان کرنے کےبعد آپ فرماتے تھے کہ اس مسئلے کے بارے میں تمہارا قول یہ ہے تمہاری رائے اور نظر یہ ہے، علماء مدینہ کی نظر اس طرح ہے اور ہماری نظر اس طرح ہے۔ بعض مسائل میں آپ ہماری نظر سے موافق تھے اور بعض میں آپ علمائے مدینہ کی نظر سے متفق ہوتے تھے تو بعض مسائل میں دونوں کی مخالفت کرتے تھے اور اس سلسلےمیں اپنے نظرئے کو بیان فرماتے تھے۔ ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ میں نے تمام چالیس سوالات کرڈالے اور جعفر ابن محمد نے نہایت متانت اور بے نظیر علمی تسلط کے ساتھ ان کے جوابات دئے۔ اس کے بعد ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ ان اعلم الناس اعلمھم باختلاف الناس ۔ سب سے زیادہ عالم وہ شخص ہے جو لوگوں کے اختلافی نظریات سے آگاہ ہو۔ ابوحنیفہ کا یہ جملہ تاریخ میں جلی حروف سے لکھا ملے گا کہ لولا جعفر ابن محمد ما علم الناس مناسک حجھم۔ اگر جعفرابن محمد نہ ہوتے تو لوگوں کو مناسک حج سے واقفیت نہ ہوتی۔

مالک بن انس :

مالک بن انس اھل سنت کے چار مسلکوں میں سے مالکی مسلک کے بانی ہیں انہیں اھل سنت ائمہ اربعہ میں شمار کرتے ہیں۔ وہ ستانوے ہجری میں پیدا ہوے اور ایک سو اناسی ہجری میں وفات پائي۔ مالک بن انس کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ مالک بن انس حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی اور اخلاقی عظمت کے بارے میں کہتے ہیں کہ میں ایک مدت تک جعفر ابن محمد کی خدمت میں زانوےادب تہ کیا کرتا تھا آپ مزاح بھی فرمایا کرتے تھے ہمیشہ آپ کے لبوں پر تبسم رہتا تھا۔ جب آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام مبارک لیاجاتا تو آپ کے چہرے کا رنگ سبز اور زرد ہوجاتا تھا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کی ہو اور وضو سے نہ ہوں۔ میں جب تک ان کے پاس آیا جایا کرتا تھا میں نے نہیں دیکھا کہ وہ ان تین حالتوں سے خارج ہوں یا وہ نماز پڑھتے رہتے تھے ، یا قرآن کی تلاوت کررہے ہوتے تھے یا پھر روزہ سے ہوتے تھے۔ میں نے نہيں دیکھا کہ آپ نے کوئي بے فائدہ اور عبث بات کی ہو ۔ وہ علماء زھاد میں سے تھے کہ جن کے دل میں خوف خدا گھر کرگیا تھا۔ ان کے پورے وجود سے خوف خدا عیاں رہتا تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں ان کی خدمت میں پہنچا ہوں اور آپ نے جس دری پرآپ بیٹھے رہتے تھے اسے میرے لئے نہ بچھا یا ہو۔

مالک بن انس امام جعفر صادق علیہ السلام کے زھد و عبادت و معرفت کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ایک برس ہم امام صادق علیہ السلام کے ساتھ حج کرنے مدینے سے نکلے، مسجد شجرہ پہنچے جو اھل مدینہ کی میقات ہے۔ ہم نے احرام باندھا اور سب جانتےہیں کہ احرام باندھتے وقت تلبیہ کہنا یعنی لبیک اللھم لبیک کہنا واجب ہے۔ سب لوگ تلبیہ کھ رہے تھے۔ مالک کہتےہیں کہ میں نے دیکھا کہ امام صادق علیہ السلام تلبیہ کہنا چاہتے ہیں لیکن ان کا رنگ متغیر ہورہا ہے آپ کی آواز حلق میں پھنس رہی ہے آپ مرکب سے زمیں پر گرنا ہی چاہتےتھے ، میں آگے آیا اور کہاکہ کے فرزند رسول خدا یہ ذکر تو آپ کو کہنا ہی ہوگا جیسے بھی ہو اس ذکر کو زبان پرجاری فرمائيں ، آپ نے فرمایا یابن ابی عامر کیف اجسر ان اقول لبیک اللھم لبیک و اخشی ان یقول عزو جل لا لبیک و لاسعدیک

اے پسر ابی عامر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں جسارت کروں اور اس بات کی جرات کروں اور زبان پر لبیک کے الفاظ جاری کروں ، لبیک کہنے کے یہ معنی ہیں کہ خداوندا تو نے مجھے جو کچھ حکم دیا ہے میں تیری اطاعت کرتاہوں اور اس کی انجام دہی پر تیار رہتاہوں۔ میں بھلا کس طرح سے خدا کے حضور ایسی گستاخی کرسکتاہوں اور خود کو اطاعت خداوندی کے لئے پیش کرسکتا ہوں؟ اگر میرے جواب میں کھ دیا جاے کہ لا لبیک ولاسعدیک تو میں کیا کروں گا؟

مالک بن انس حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی فضیلت و عظمت کےبارے میں کہتے ہیں کہ ما رات عین ولا سمعت اذن ولا خطر علی قلب بشر افضل میں جعفرابن محمد۔

کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں خیال آیا کہ کوئي جعفر ابن محمد سے بھی افضل ہوسکتا ہے۔

مالک بن انس کے بارے میں ملتا ہےکہ وہ جعفر ابن محمد سے حدیث سن کر بیان کرتے تھے اور بعض اوقات یہ کہتے تھے کہ میں نے یہ حدیث مرد ثقہ سے سنی ہے اور اس سے ان کی مراد جعفر ابن محمد ہوتے تھے۔

حسین بن یزید نوفلی کہتےہیں کہ سمعت مالک بن انس الفقیہ یقول واللہ مارات عینی افضل من جعفر ابن محمد زھدا و عبادۃ و ورعا و کنت اقصدہ فیکرمنی و یقبل علی فقلت لہ یوما یابن رسول اللہ ما ثواب من صام یوما من رجب ایمانا و احتسابا فقال وکان واللہ اذا قال صدق حدثنی ابیہ عن جدہ قال، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من صام یوما من رجب ایمانا و احتسابا غفرلہ فقلت لہ یا ابن رسول اللہ فی ثواب یوما من شعبان فقال حدثنی ابی عن ابیہ عن جدہ قال، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من صام یوما من شعبان ایمانا و احتسابا غفر لہ ۔

حسین بن یزید نوفلی نے مالک بن انس فقیہ سے نقل کیا ہےکہ وہ کہتےہیں کہ خدا کی قسم ہماری آنکھوں نے نہیں دیکھا کہ کوئي زھد و علم و فضیلت اور ورع میں جعفرابن محمد سے برتر ہو، میں ان کے پاس جاتا تھا وہ خندہ پیشانی سے میرا استقبال کرتے تھے اورمیری عزت کرتے تھے۔ میں نے ایک دن ان سے پوچھا کہ فرزند رسول خدا ماہ رجب میں روزہ رکھنے کا کیا ثواب ہے؟ انہوں نے میرے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک روایت نقل کی اور جب بھی وہ کچھ کہتے تھے سچ کہتےتھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد نے اپنےوالد سے اور انہوں نے ان کے جد سے نقل کیا ہےکہ ماہ رجب کے روزہ کا ثواب یہ ہے کہ روزہ رکھنے والے کے گناہ بخش دئے جائيں گے۔ اس کےبعد میں نے ماہ شعبان کے روزے کے بارے میں پوچھا آپ نے اس بار بھی وہی جواب مرحمت فرمایا۔

ابن شبرمہ اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام

ابن شبرمہ کوفے کے نامدار قاضی تھے وہ بہتر ہجری میں پیدا ہوے اور ایک سو چوالیس ہجری میں وفات پائي۔ابن شبرمہ کہتے ہیں کہ ما ذکرت حدیثا سمعتہ من جعفر ابن محمد الا کاد ان یتصرع لہ قلبی سمعتہ یقول حدثنی ابی عن جدی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

وہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں ہے کہ میں نےجعفر ابن محمد سے حدیث سنی ہومگر یہ کہ وہ میرے دل میں اترجاتی تھی ، اور وہ اس طرح حدیث بیان کرتے تھے کہ میں نے اپنے والد سے اور انہوں نے میرے جد سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے، اور خدا کی قسم جعفر ابن محمد نے کبھی بھی اپنے والد پر جھوٹ نہیں باندھا اور نہ ان کے والد نے اپنے والد پر جھوٹ باندھا اور نہ اپنے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھا۔ یعنی جعفر ابن محمد جو بھی حدیثیں اور روایات بیان کرتے تھے وہ سب صحیح اور سچي ہوتی تھیں۔

ابن ابی لیلی اور حضرت امام صادق علیہ السلام

شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ ایک روایت نقل کرتےہیں کہ محمد بن عبدالرحمان معروف بہ ابن ابی لیلی ( 74۔148 ھ ق) جو کوفے کے مشہور فقیہ، محدث ، مفتی اور قاضی تھے وہ ایک دن امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس گئے اور ان سے متعدد سوالوں کے جواب چاہے جو امام جعفر صادق علیہ السلام نے انہيں مرحمت فرمادے۔ اس کےبعد ابن ابی لیلی امام جعفر صادق علیہ السلام سے خطاب کرکے کہتے ہیں کہ اشھد انکم حجج اللہ علی خلقہ ۔ میں شہادت دیتاہوں کہ آپ خدا کے بندوں پرخدا کی طرف سے حجت ہیں۔

ایک مرتبہ عمروبن عبید معتزلی امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس آيا اور اس آیت کی تلاوت کرنے لگا الذین یجتنبون کبار الاثم و الفواحش اس کے بعد خاموش ہوگيا، امام نے پوچھا کیوں رک گئے تو اس نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ قرآن سے مجھے گناہان کبیرہ کے بارے میں آگاہ فرمائيں، امام نے گناہان کبیرہ کو بیان کرنا شروع کیا، امام علیہ السلام کا بیان اس قدر واضح شافی اور قابل فہم اور جامع تھا کہ عمرو بن عبید نے بے اختیار اونچی آواز میں کہا ھلک من قال برايہ و نازعکم فی الفضل و العلوم ۔ ہلاک ہوگيا وہ جس نے اپنی رائے کو مقدم رکھا اور آپ سے علم و فضل میں نزاع کیا۔

ابو بحر جاحظ بصری جو تیسری صدی ہجری کے معروف ترین دانشوروں میں سے تھے کہتے ہیں کہ جعفر ابن محمد وہ ہیں جن کے علم وفقہ کا ڈنکا ساری دنیا میں بجتا ہے اور کہا جاتا ہےکہ ابو حنیفہ اور سفیان ثوری نے آپ کے سامنے زانوے تلمذ تہ کیا ہے۔ آپ کی علمی عظمت کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے۔

عمروابن مقداد جو امام جعفر صادق علیہ السلام کے معاصر علما میں سے تھے کہتے ہیں : کنت اذا نظرت الی جعفر ابن محمد علمت انہ میں سلالۃ النبیین وقد رایتہ واقفا عندالجمرۃ یقول سلونی سلونی۔

وہ کہتے ہیں کہ میں جب بھی جعفر ابن محمد پر نظر ڈالتاہوں تو سمجھ جاتاہوں کہ وہ پیغمبروں کی نسل سے ہیں ، میں نےخود دیکھا ہے کہ وہ منی کے ایک جمرے پر کھڑے ہوکر لوگوں سے فرماتے تھے کہ ان سے پوچھ لیں سوال کرلیں اور ان کے بے کراں علم سے فائدہ اٹھائيں۔

ابو الفتح محمد بن ابی القاسم اشعری معروف بہ شہرستانی نے اپنی کتاب الملل و النحل میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی عظمت کے بارےمیں لکھا ہے کہ و ھو ذو علم عزیز فی الدین و ادب کامل فی الحکمۃ و زھر بالغ فی الدنیا و ورع تام عن الشہوات۔ وہ کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام دین میں علم بے کراں، حکمت میں ادب کامل اور دنیا اور اس کے زرق وبرق کے تعلق سے مکمل زھد کے حامل اور شہوات سے مبری تھے۔

ابن خلکان امام جعفر صادق علیہ السلام کےبارےمیں لکھتے ہیں کہ احد الائمہ الاثنی عشر علی مذھب الامامیہ و کان میں سادات اھل البیت و لقب بالصادق لصدق مقالتہ و فضلہ اشہر من ان یذکر۔ وہ لکھتےہیں کہ مذھب امامیہ کے ایک امام تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اھل بیت کے بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں انہيں سچائي کی بناپر صادق کا لقب دیا گيا اور ان کی فضلیت اتنی عیاں ہے کہ اس کےبیان کی ضرورت نہیں۔ ابن خلکان لکھتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام کیمیا میں ید طولی رکھتے تھے، ابوموسی جابر بن حیان طرطوسی ان کے شاگردوں میں سے ہیں۔ جابر نے ایک ہزار ورق پرمشتمل ایک کتاب لکھی ہے جس میں جعفر ابن محمد کی تعلیمات تھیں۔

ابن حجر عسقلانی جن کا نام شہاب الدین ابوالفضل احمد بن علی مصری شافعی ہے اور جو ابن حجر کی کنیت سے معروف ہیں امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جعفر ابن محمد بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب ایسے فقیہ ہیں جو نہایت راست گو ہیں۔

ابن حجر کتاب تہذیب التہذیب میں ابی حاتم اور وہ اپنے والد سےکہ نقل کیا ہے کہ لایسال عن مثلہ ، ان جیسے کے بارے میں سوال نہیں کیا جاتا ( یہ بات سب کو روز روشن کی طرح معلوم ہے کہ وہ منبع علم اور سرچشمہ ھدایت ہیں) وہ مزید لکھتے ہيں کہ ابن عدی نے کہا ہےکہ لجعفر احادیث و نسخ و ھو من ثقات الناس، و ذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال کان من سادات اھل البیت فقہا و علما و فضلا، وقال النسائي فی الجرح والتعدیل ثقہ۔

صاحب سیر النبلاء حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہيں کہ جعفر ابن محمد بن علی ابن الحسین ریحانہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ان کے سامنے بہت سے لوگوں نے زانوے ادب تہ کیا ہے اور ان سے علمی فیض حاصل کیا ہے۔ ان میں ان کے بیٹے موسی کاظم علیہ السلام، یحی بن سعید انصاری، یزید بن عبداللہ، ابو حنیفہ، ابان بن تغلب،، ابن جریح ، معاویہ بن عمار، ابن اسحاق، سفیان، شبعہ ، مالک، اسماعیل بن جعفر، وھب بن خالد، حاتم بن اسماعیل، سلیمان بن بلال، سفیان بن عینیہ، حسن بن صالح، حسن بن عیاش، زھیر بن محمد، حفص بن غیاث، زید بن حسن، انماطی، سعید بن سفیان اسلمی ، عبدالہ بن میمون، عبدالعزیز بن عمران زھری، عبدالعزیز درآوری ، عبدالوہاب ثقفی ، عثمان بن فرقد، محمد بن ثابت بنانی، محمد بن میمون زعفرانی، مسلم زنجی، یحی قطان، ابو عاصم نبیل و۔۔۔۔۔

وہ اپنی کتاب میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں کہ جعفر ابن محمد امام بزرگ ہیں جن کا مقام نہایت اعلی ہے وہ نیک اور صادق ہیں۔

شہاب الدین ابوالعباس احمد بن بدرالدین شافعی معروف بہ ابن حجر ہیتمی امام صادق علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں کہ لوگوں نے آپ سے بہت سے علوم سیکھے ہیں اس یہ علوم مسافروں کے ذریعے ساری دنیا میں پھیل گئے اور ساری دنیا میں جعفر ابن محمد کے علم کا ڈنکا بجنے لگا۔ وہ کہتےہیں کہ بزرگ علماء جیسے یحی بن سعید ، ابن جریح مالک ، سفیان ثوری اور سفیان بن عینیہ ابو حنیفہ، اور شعبہ نیز ایوب سجستانی نے ان سے حدیث نقل کی ہے۔

میر علی ہندی جو کہ اھل سنت کے بزرگ علماء میں شمار ہوتےہیں اور وہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی اور اخلاقی عظمت کے بارے میں کہتے ہیں صرف فاطمی سادات کے نزدیک آرا و فتاوی نے فلسفی رنگ حاصل کیا ہے ، اس زمانے میں علم کی ترقی نے سب کو کشتہ بحث و جستجو بنادیا تھا اور فلسفیانہ گفتگو ہرجگہ رائج ہوچکی تھی ۔ قابل ذکر ہےکہ اس فکری تحریک کی رہبری اس مرکز علمی کے ہاتھ میں تھی جو مدینہ میں پھل پھول رہا تھا اور اس مرکز کا سربراہ علی ابن ابی طالب کا پوتا تھا جس کا نام جعفر صادق تھا۔ وہ ایک بڑے مفکر اور سرگرم محقق تھےاور اس زمانے کے علوم پر عبور رکھتے تھے وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اسلام میں فلسفے کے مدارس قائم کئے۔ ان کے درس میں صرف وہ لوگ شرکت نہیں کرتے تھے جو بعد میں فقہی مکاتب کے امام کہلائے بلکہ فلاسفہ، فلسفہ کے طلبہ بھی دور دراز سے آکر ان کے درس میں شرکت کرتے تھے۔ حسن بصری جو مکتب فلسفہ بصرہ کے بانی ہیں، واصل بن عطاء جو معتزلہ مسلک کے بانی ہیں یہ لوگ ان کے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ان کے چشمہ علم سے فیض حاصل کیا ہے اور اسی سے سیراب ہوئے ہیں۔

فاتح مسجد - ترکی کے شہر استنبول

فاتح مسجد (ترک: Fatih Camii یعنی فاتح جامع) ترکی کے شہر استنبول کی ایک جامع مسجد ہے جو عثمانی عہد میں قائم کی گئی۔

یہ استنبول میں ترک اسلامی طرز تعمیر کا ایک اہم نمونہ ہے اور ترک طرز تعمیر کے ایک اہم مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے۔

فاتح مسجد - ترکی کے شہر استنبول

فاتح مسجد فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان محمد ثانی المعروف محمد فاتح کے حکم پر تیار کی گئی۔ یہ فتح قسطنطنیہ کے بعد تعمیر کی جانے والی پہلی مسجد تھی۔ ماہر تعمیرات عتیق سنان تھے جنہوں نے 1463ء سے 1470ء کے عرصے میں اس مسجد کو تعمیر کیا۔

مسجد کی اصلی عمارت مسجد کے گرد انتہائی منصوبہ بندی سے تیار کی گئی عمارات کا مجموعہ تھی۔ ان میں آٹھ مدارس، کتب خانہ، شفا خانہ، مسافر خانہ، کاروان سرائے، بازار، حمام، ابتدائی مدرسہ اور لنگر خانہ موجود تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں چند قبریں بھی تعمیر کی گئیں۔ حقیقی عمارت تقریباً مربع شکل میں 325 میٹر پر محیط تھی جو جادۂ فوزی پاشا پر شاخ زریں کے کنارے واقع تھی۔

سلطان محمد فاتح کی تعمیر کردہ اصلی مسجد 1509ء کے زلزلے میں بری طرح متاثر ہوئی جس کے بعد اسے مرمت کے مراحل سے گزارا گیا۔ 1557ء اور 1754ء زلزلوں میں ایک مرتبہ پھر مسجد کو متاثر کیا اور دوبارہ اس کی مرمت کی گئی۔ لیکن 22 مئی1766ء کو آنے والے زلزلے میں یہ مسجد مکمل طور پر تباہ ہو گئی، اس کا مرکزی گنبد گر گیا اور دیواروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

فاتح مسجد - ترکی کے شہر استنبول

موجودہ مسجد سلطان مصطفیٰ ثالث کے حکم پر معمار محمد طاہر نے 1771ء میں تعمیر کی جو قدیم مسجد سے بالکل مختلف انداز میں تعمیر کی گئی۔

مسجد کا صحن، مرکزی داخلی دروازہ اور میناروں کے نچلے حصے ہی اولین تعمیرات کا حصہ ہیں جن پر 1771ء میں دوبارہ مسجد تعمیر کی گئی۔

مسجد کے باغ میں سلطان محمد فاتح اور ان کی اہلیہ گل بہار خاتون کی قبریں ہیں۔ ان دونوں کی تربت کو بھی زلزلے کے بعد دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ ان دونوں کے علاوہ مسجد کے احاطے میں سلطان محمد فاتح کی والدہ نقشِ دل سلطانہ کی قبر بھی موجود ہے جبکہ کئی سرکاری عہدیداروں کی قبریں بھی یہیں ہیں۔

ایوب انصاری مسجد کی طرح فاتح مسجد بھی فن تعمیر کے لحاظ سے اتنی اہمیت کی حامل نہیں بلکہ یہ دونوں مساجد تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔

فاتح مسجد - ترکی کے شہر استنبول

فاتح مسجد - زلزله سے پهلے - 1559

جامعہ مسجد الازہر - کایرو ؛مصر

جامعۃ الازہر قاہرہ ، مصر کی ایک مسجد اور یونیورسٹی ہے۔

1-مسجد: بنوفاطمہ نے جب مصر کو فتح کرکے قاہرہ کو اپنا دارلحکومت بنایا تو جوہر الکاتب صقلبی نے ، جو ابوتیمم کا سپہ سالار تھا۔

جامعہ مسجد الازہر - کایرو ؛مصر

359ھ میں اس مسجد کی بنیاد رکھی اور یہ دو برس بعد 361ھ میں تیار ہوگئی۔

جامعہ مسجد الازہر - کایرو ؛مصر

اس کے بعد مختلف بادشاہوں نے اس میں اضافہ کیا۔

جامعہ مسجد الازہر - کایرو ؛مصر

2۔ یونیورسٹی : مسجد میں ایک مدرسہ قائم کیا گیا جو کچھ مدت بعد دینی اور دینوی تعلیم کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔

جامعہ مسجد الازہر - کایرو ؛مصر

چونکہ یہاں دور دور سے طلبہ آتے تھے اس لیے اس کی حیثیت اقامتی درس گاہ کی ہوگئی آج بھی نصف سے زیادہ لڑکے اقامت گاہوں میں رہتے ہیں۔ شروع میں یہاں صرف دینی تعلیم دی جاتی تھی ۔ 1930ء میں پرائمری ، ثانوی ، ڈگری اور عالم ایم۔ اے کے مدارج قائم ہوئے۔ اور تعلیم کو مسجد سے نکال کر کالجوں میں منتقل کر دیا گیا۔ اب صرف دینیات کا شعبہ مسجد سے وابستہ ہے۔ يه اسلام كى قديم ترين درسگاه ہے۔

جامعہ مسجد الازہر - کایرو ؛مصر

پرانا تصویر – 1900 ء

Saturday, 15 December 2012 06:04

لشکر حسینی کا سپہ سالار

تمہید

جس وقت ہم ایمان و شجاعت و وفا کی بلندیوں کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتے ہیں تو ہماری نظر اس بے نظیر اور برجستہ ترین شخصیت پر پڑتی ہے جسے ''عباس'' کے نام سے جانا جاتا ہے۔حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا فرزند رشید ۔ فضیلت،کمال اور جوانمردی میں جسکی مثال نہیں۔ خلوص و استقامت میں جو یکتا ہے۔ اور ہراس نیک اور انسانی خصلت جس سے انسانی کرامت وابستہ ہوا کرتی ہے ،کا مجسم پیکر ہے۔ہم نے ہمیشہ دینداری،حق طلبی ،ظلم کشی اور جانبازی کا درس اسی سے لیاہے۔آج کی مسلمان نسل اس مکتب و تحریک کی مرہون منت ہے جسکا علمبردار ابوالفضل العباس ہے ۔

اب جبکہ واقعۂ کربلا کو تقریباً چودہ صدیاں گزر چکی ہیں لیکن تاریخ اب بھی عباس کی کرامت و فضیلت سے جگمگا رہی ہے اور انکا نام وفا،ایثاراور جوانمردی کے ساتھ ذکر ہوتا ہے اورچودہ سو سال بھی عباس کی خوبصورت تصویر پر گرد و غبار بٹھانے سے قاصر رہے ہیں۔

حضرت ام البنین علیہا السلام کا ایمان اور اولاد رسول ۖ کے تیئیں آپکی محبت اس قدر تھی کہ آپ ان کو اپنے بچوں سے زیادہ چاہتی تھیں۔جس وقت واقعۂ کربلا رونما ہوا مستقل کوفہ و کربلا سے آنی والی خبروں کا انتظار کرتیں۔جب کھبی اپنے کسی فرزند کی شہادت کی خبر سنتیں تو پہلے فوراً امام حسین علیہ السلام کی خیریت دریافت کرتیں ۔

عاشور وہ دن ہے کہ جب عظیم ارادوں کے حامل عظیم انسانوں نے اپنی عظمت و بلندی کو دنیا والوں کے سامنے رکھا جس سے تاریخ نے ایک نئی جان حاصل کی اور زمانے کی نبض نے کربلائی دلاوروں کے حوصلہ کے ساتھ ایک نئی حرکت کا آغاز کیا۔ کربلا ایک ایسا انسان ساز اور درس آموزمکتب بن کر سامنے آیا جہاں سے فارغ ہوئے شاگردوں نے خلوص،عہد اور جہاد کا تمغہ حاصل کیا۔عباس بھی اسی مکتب کے ایک ممتاز اور مایۂ ناز طالب علم کا نام ہے۔

اب بھی یہ عظیم درسگاہ کھلی ہے اور حق و حقیقت کے طالبوں کو اپنی آغوش میں پناہ دیتی ہے۔وفا و معرفت کی تعلیم دینی کے لئے اس درسگاہ میں ایک تجربہ کار استاد موجود ہے جسے علمدار کربلا کہتے جاتا ہیں۔جوعشق و شجاعت کی بلندیوں پر کھڑا حریت و آزادی کی راہ دکھاتا ہے۔

سرچشمۂ یقین اور کوثر ایمان تک رسائی کے لئے ہمیں مستقل راہنمائی کی ضرورت ہے۔ہماری روح و جان پیاسی ہے تو ہمارے دل مشتاق۔ اولیائے خدا جو طہارت و فضیلت کا مظہر ہواکرتے ہیں ہمیں ہماری منزل مقصود تک پہونچا سکتے ہیں۔

آئندہ سطروں میں آپ جو کچھ ملاحظہ فرمائیں گے وہ حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کی شخصیت کی صرف ایک جھلک ہے۔امید ہے کہ اس بزرگوار شہید اور سردار رشیدکی یاداور اسکا نام ہمارے ذہن و زندگی کو روشنی عطا کریگا۔

عباس کو ''علمدار'' اور ''سپہ سالار'' بھی کہا جاتا ہے۔یہ لقب اس ذات کو کربلا میں علمداری کے نتیجہ میں ملا۔آپ رکاب حسینی میں لشکر حق کی سربراہی فرما رہے تھے اور خود سید الشہداء علیہ السلام نے آپکو ''صاحب لوائ'' کا خطاب دیاجو خود آپکے اس منصب کی اہمیت کا پتہ دیتا ہے۔امام صادق علیہ السلام نے ایک زیارت میں آپکو ''عبد صالح'' کے نام سے بھی یاد فرمایا ہے۔ایک حجت خدا اگر کسی شخصیت کو ''عبد صالح'' اور ''مطیع للہ و رسولہ'' کے لقب سے یاد کرے تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے!

 

فرزند شجاعت کی ولادت

چند سال پیغمبر اکرم ۖ کی دختر گرامی حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کو گزر چکے تھے۔بنی ہاشم اپنی تمام تر عزت و بزرگواری کے باوجود مظلومانہ زندگی گزار رہے تھے۔جس وقت علی اپنے دوسرے ہمسفر کی تلاش میں تھے تو عاشور کا منظر آپ کی نگاہوں کے سامنے تھا ۔حضرت امیر کے بھائی ''عقیل '' نسب شناسی میں خاصی مہارت رکھتے تھے اور قبائل عرب کی مختلف خصوصیات سے با خبر تھے۔لہٰذا آپ نے اپنے بھائی کو بلایااور ان سے کہا کہ شادی کے لئے ایک ایسی خاتون کا پتہ لگائیں جو نیک اور شائستہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہادر ،دلیراور شجاع خاندان سے تعلق رکھتی ہوجس سے ایک بہادر، شجاع اور دلیر فرزند کی ولادت ہو۔

کچھ دن گزرنے کے بعد جناب عقیل نے قبیلۂ بنی کلاب کی ایک خاتون کے بارے میں حضرت امیر کو بتایا جسمیں وہ تمام خصوصیات موجود تھیں۔ حزام بن خالد کی بیٹی جنکا نام ''فاطمہ'' تھااور جنکے آباء و اجداد تمام بہادروں اور دلاوروں میں شمار کئے جاتے تھے۔والدہ کی جانب سے بھی نجابت،طہارت اور عظمت کی مالک تھیں۔پہلے ان کو ''فاطمۂ کلابیہ''کے نام سے پکارا جاتا تھا لیکن بعد میں ''ام البنین'' کے نام سے معروف ہوئیں یعنی بیٹوں کی ماں؛ جنمیں سے ایک ''عباس'' تھے۔

جناب عقیل اپنے بھائی کا رشتہ لیکر فاطمہ کے والد کے پاس گئے۔ان کے والد نے جناب عقیل کی درخواست کو خوشی کے ساتھ قبول کر لیا اور پورے فخر کے ساتھ ''ہاں'' کر دی اور حضرت علی علیہ السلام نے اس باعظمت خاتون کے ساتھ نکاح کیا۔فاطمہ سراسر پاکیزگی،نجابت اور خلوص کا پیکرتھیں۔شادی کے ابتدائی دنوں میں جب فاطمہ ،علی کے بیت الشرف تشریف لائیں تو حسن و حسین بیمار تھے۔آپ نے پوری عطوفت و مہربانی کے ساتھان دونوں کی تیمار داری کی۔

نقل ہوا ہے کہ جب انہیں فاطمہ کہ کر پکارا جاتا تو کہتی تھیں:''مجھے فاطمہ کہہ کر نہ پکاروتاکہ تمہاری والدہ ''فاطمۂ زہراء ''کی جدائی کا غم تازہ نہ ہو۔ مجھے اپنی خادمہ ہی سمجھا کرو۔''

اس مبارک شادی کے نتیجہ میں اللہ نے انہیں چار فرزندون سے نوازا؛ عباس ، عبد اللہ ،جعفر و عثمان اور یہ چاروں فرزند کچھ سال گزرنے کے بعد کربلا میں کام آئے اور جام شہادت نوش کیا۔ عباس ام البنین کے پہلے اور سب سے بڑے فرزندتھے۔

ام البنین کے اس پہلے فرزند کی ولادت چار شعبان ٢٦ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ عباس کی ولادت نے خانۂ علی کو ایک نئی روشنی عطا کی اور مولا کا دل امید سے سرشار ہو گیا۔چونکہ آپ دیکھ رہے تھے کہ کل جو کربلا سجے گی اسمیں میرا فرزند حسین کے لشکر کا علم سنبھال کر اپنی جان کو نثار کر یگا اور علی کا لخت جگرعباس،فاطمہ کے نور نظر حسین کے کام آئیگا۔

جس وقت عباس نے دنیا میں آنکھیں کھولیں،حضرت علی علیہ السلام نے ان کے کانوں میں اذان و اقامت کہی؛اللہ اور رسول کے نام سے کانوں کو آشنا کیا ،توحید ،رسالت اور دین کو پہچنوایا اور اپنے بیٹے کا نام'' عباس '' رکھا۔ولادت کے ساتویں دن اسلامی سنت کے مطابق ایک گوسفند کو عقیقہ کے طور پر ذبح کرکے گوشت فقراء و مساکین میں تقسیم کیا۔

کبھی کبھی حضرت امیر،عباس کے گہوارہ کو اپنے ہاتھ میں لیتے،ان کے ننہے ہاتھوں کی آستینوں کو اوپر کرتے اور بچے کے بازؤں کا بوسہ لیکر گریہ فرماتے ۔ایک دن ام البنین نے جب یہ منظر دیکھا تو گریہ کا سبب پوچھا۔آپ نے فرمایا : ''ایک دن یہ ہاتھ حسین کی نصرت کی خاطر جدا کر دئے جائیں گے۔اس روز کو یاد کرکے میں روتا ہوں۔''

علی کے گھر میں عباس کی ولادت جہاں ایک طرف خوشیاں لیکر آئی، وہیں کچھ غم بھی اپنے ہمراہ کئے۔خوشی اس بات کی کہ ایک مبارک فرزند گھر میں آیا ہے اور غم اس بات کا کہ آئندہ کربلا میں اس کو نہایت دشوار مراحل سے گزرنا ہے۔

عباس نے علی کے گھر میں اپنی وفادار اور باایمان والدہ کے زیر سایہ اور حسن و حسین علیہما السلام کے ساتھ تربیت پائی ۔ عترت رسولۖ اور اس پاکیزہ گھرانے سے انسانیت،صداقت و اخلاق کے عظیم درس حاصل کئے۔

شک نہیں کہ اس جوان کی فکری اور روحی شخصیت کی تعمیر میں حضرت امام علی علیہ السلام کی خاص تربیت نے ایک نمایاں کردار ادا کیا۔عباس کی اعلیٰ بصیرت اسی علوی تربیت کا نتیجہ ہے۔

حضرت عباس سلام اللہ علیہ کی ذاتی صلاحیت اور خاندانی تربیت کا اثر تھا کہ جسمانی رشد و ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معنوی کمالات کے مراحل طے ہوتے گئے جس کے نتیجہ میں آپ ایک ممتاز،شائستہ اور مایۂ ناز جوان جوان کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے۔صرف جسمانی طور پر ہی رشید نہیں تھے بلکہ عقل وخرد اور انسانی صفات میں بھی رشید تھے۔آپ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ کس عظیم روز کے لئے آپ کو پروان چڑھایا گیا ہے تاکہ اس روز حجت خدا کی نصرت کی خاطر اپنی جان نثار کر سکیں۔عباس عاشور کے لئے دنیا میں آئے تھے۔

جس وقت حضرت امیر علیہ السلام نے جناب ام البنین سے شادی کی یہ حقیقت اس وقت آپکی نگاہوں بھی۔اور اسکے بعد جب آپ بستر شہادت پر تھے اس وقت بھی آپ نے عباس کو پاس بلا کر اسی حقیقت کی یاد دہانی کرائی۔

٢١ رمضان ٤١ھ کی شب جس وقت حضرت امیر علیہ السلام اپنی عمر کے آخری لمحات گزار رہے تھے تو عباس کواپنی باہوں میں کر سینے سے لگایا اور اس دل شکستہ نوجوان سے فرمایا:''بیٹا!عنقریب عاشور کے دن میری آنکھیں تمہارے ذریعہ روشن ہوں گی؛میرے بیٹے!جب وہ عاشور آئے اور تم فرات کے کنارے پہونچو تو جبردار کہیں تم پانی نہ پے لینا در حالیکہ تمہارا بھائی حسین پیاسا ہو۔''

یہ وہ درس تھا جو عاشور کے آنے تک ہمیشہ عباس کے کانوں میں گونجتارہا۔

عباس خاندانی شرافت و نجابت کے حامل اور علی و ام البنین کے پاکیزہ سرچشمۂ کردار سے سیراب تھے۔ام البنین میں شرافت،نجابت،خلوص اور خاندان پیغمبرۖکی محبت اپنے کمال پر بھی۔خود اہل بیت کی جانب سے بھی آپ ایک خاص مقام ومنزلت اوراحترام کی حامل تھیں۔یہی وجہ تھی کہ واقعۂ کربلا کے بعد حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا آپ کے گھر گئیں اور آپکے فرزندوں کی شہادت کی خاطر تعزیت پیش کی اور یہ جناب زینب کا دستور تھا کہ آپ وقتاً فوقتاً آپ کے گھر جایا کرتیں اور آپ کے غموں میں شریک ہوا کرتی تھیں۔

 

جوانی کا دور

جس دن سے عباس نے اس دنیا مین قدم رکھا ،تبھی سے حضرت امیر المومنین،امام حسن اور امام حسین علیہ السلام کو اپنے کنارے پایا اور ان حضرات کے سایۂ عطوفت کے تلے علم و فضیلت کے سرچشمہ سے سیراب ہوتے رہے۔

چودہ سال ابوالفضل نے اپنے پدر بزرگوار کے ساتھ گزارے اور یہ دور وہ تھا کہ جب امام اپنے دشمنوں سے بر سر پیکار تھے۔نقل ہوا ہے کہ عباس نے بھی بعض جنگوں میں شرکت کی ہے۔باوجودے کہ آپ کی عمر ١٢ سال سے زیادہ نہ تھی لیکن اس کے باوجود اس دور کے نامور جنگجوؤں کے مقابلہ پر آتے۔ امام علی علیہ السلام عباس ،امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کو معمولاً میدان جنگ میں جانے کی اجازت نہ دیتے ۔یہ حضرات اسلام کے مستقبل کے لئے ذخیرۂ الٰہی تھے۔عباس کے لئے بھی ضروری تھا کہ اپنے کو آئندہ رونما ہونے والے واقعۂ کربلا کے لئے آمادہ کریں۔

جنگ صفین میں آپ کی بہادری اور جاں نثاری کے بہت سے نمونے تاریخ نے نقل کئے ہیں ۔اگر ان تمام تاریخی منقولات کو صحیح مانا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب آپ کی ١٢ سال کی عمر میں وجود میں آئے ہیں۔

خود آپکے ١٣ سالہ بھتیجے قاسم بن حسن علیہما السلام نے ہی میدان کربلا میں وہ نمایاں کردار ادا کیا اور بہادری کے ایسے نمونے پیش کئے جس سے سب انگشت بدنداں رہ گئے۔آپ کے پدر بزرگوار نے بھی اپنی جوانی کے دور ان ''مرحب'' و '' عمرو بن عبدود'' جیسے نامور پہلوانوں کو جنگ خیبر و خندق میں زیر کیا۔آپکی والدۂ گرامی کے قبیلۂ ''کلاب '' ہی میں اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اجداد بھی اپنے دور کے سورماؤں اور بہادروں میں شمار کئے جاتے تھے۔درحقیقت ابو الفضل العباس شجاعت کے دو سمندروں کے ملاپ کا نتیجہ ہیں ،ایک شجاعت علوی اور دوسرا شجاعت فاطمی۔

وقت گزرا اور چالیس ہجری کا زمانہ آن پہونچاجس میں شہادت حضرت امیر علیہ السلام کا ہولناک اور دلخراش واقعہ پیش آیا۔اس وقت عباس کی عمر ١٤ سال کی تھی۔اس کم سنی میں عباس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کی کس طرح بابا کو شب کی تاریکی میں مظلومانہ دفن کیا جا رہا ہے۔ شک نہیں کہ اس ہولناک اور غم انگیز شہادت نے عباس کی حساس روح کو ایک گہرا صدمہ پہونچایا لیکن والد کے بعد حسن و حسین علیہما السلام جیسے بھائیوں کی عزت و شوکت کے زیر سایہ اپنے سفر زندگی کو جاری رکھا۔ وہ وصیت جو بابا علی نے شب شہادت عباس کو پاس بلا کر کی ،عباس اسے کبھی نہ بھولے ۔جانتے تھے کہ مستقبل قریب میں کچھ تلخ ایام کا سامنا کرنا ہے جس کے لئے کمر ہمت و شجاعت باندھنے کی ضرورت ہے تاکہ کربلا نامی منائے عشق میں اپنے کو قربان کر کے ابدیت سے ہمکنار ہوا جا سکے۔

تلخیوں سے پُر دس سال اور گزرے۔ ان سالوں میں امام حسن علیہ السلام عہدۂ امامت پر فائز ہوئے لیکن معاویہ نے اپنے چالبازیوں سے امام کو صلح کرنے پر مجبور کر دیا۔اموی ظلم و ستم اپنے عروج پر تھا۔حجر بن عدی اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ شہید کئے جا چکے تھے۔عمرو بن حمق خزاعی کو بھی جان شہادت نوش کرناپڑا۔ منبروں پر درباری ائمۂ جمعہ اور اموی نمکخوار حضرت امیر علیہ السلام کو اپنے دشنام کا نشانہ بنائے ہوئے تھے۔عباس یہ سب مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔جس وقت امام حسن نے جام شہادت نوش فرمایا اس وقت ابوالفضل کی عمر ٢٤ سال تھی اور اس عمر میں ایک اور داغ سینہ پر بیٹھا۔

جس وقت امام حسن علیہ السلام جام شہادت لئے بارگاہ خداوندی میں پہونچے ،اعزا ء و اقارب نے ایک بار پھر نبیۖ،علی اور فاطمہ کی رحلت کا احساس کیا ۔امام کا بیت الشرف نالہ و شیون کی صدائوں سے گونج اٹھا۔ عباس نے بھی اس غم کو اپنے دل میں جگہ دی۔لیکن اس کے علاوہ اور کوئی چارا نہ تھا۔لازم تھاکہ جبیں مرضیٔ الٰہی کے سامنے خم کر کے اپنے کو اس سے زیادہ تلخ لمحات کے لئے آمادہ کریں۔

جس وقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے تابوت کو رخصت آخر کے لئے روضۂ پیغمبر ۖکی طرف لے جایا جا رہا تھا تو مروانیوں نے سمجھا کہ امام کے جنازہ کو وہاں دفن کرنے کا قصد رکھتے ہیں ،یہ سوچ کر انہوں نے بنی ہاشم کا راستہ روکا اور امام حسن مجتبیٰ کے جنازہ پر تیروں کی بوچھار کر دی۔یہ وہ موقع تھا کہ جوانان بنی ہاشم کا کاسۂ صبر لبریز ہو گیا اور وہ طیش میں آگئے۔اگر حضرت سید الشہداء ان کو صبر و ضبط کی تلقین نہ فرماتے تو زمین بدخواہوں کے خون سے رنگین ہو جاتی۔ عباس بھی ان بنی ہاشم کے درمیان موجود تھے لیکن حکم امام کے پیش نظر خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے۔چاہتے تھے کہ دشمن پر حملہ کریں لیکن امام حسین علیہ السلام نے ان کو امام حسن علیہ السلام کی وصیت یاد دلاکر صبر و بردباری سے کام لینے کو کہا۔

وقت گزرا اور عباس نے اپنے برادر بزرگوار امام حسین علیہ السلام کی زیر سرپرستی اپنی زندگی کے ایک اہم دور کا آغار کیا اور اس دور کے نشیب و فراز کو نزدیک سے دیکھا۔حضرت ابوالفضل نے اپنے پدر بزرگوار کی شہادت کے چند سال بعد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی امامت کے ابتدائی دور میں عبد اللہ ابن عباس کی بیٹی ''جناب لبابہ'' سے شادی کی۔اس وقت آپکی عمر ١٨ سال کی تھی۔عبد اللہ ابن عباس امام علی علیہ السلام کے ممتاز شاگرد ،راوی اور مفسر قرآن تھے۔جناب لبابہ کی معنوی ،فکری اور علمی تربیت اسی مفسر قرآن کے ہاتھوں ہوئی۔اس مبارک شادی کے نتیجہ میں اللہ نے آپ کو دو فرزند''عبداللہ' اور ''فضل'' عطا کئے جو آگے چل کر بڑے علماء اور خادمین قرآن کے طور پر سامنے آئے۔آپکی نسل میں بھی ایسی شخصیتیں رہی ہیں جن کا شمار اپنے زمانے کے علماء اور راویان حدیث میں ہوا کرتا تھا۔ عباس میں موجود وہ نور علوی ہی تھا جس نے دین کے ایسے محافظوں کو آئندہ آنے والی نسلوں کے حوالہ کیاجو سب کے سب عالم،عابد،فصیح اور ادیب تھے۔حضرت عباس ٦١ھ میں واقعۂ کربلا کے پیش آنے تک مدینہ ہی میں مقیم رہے۔

ابوالفضل زندگی کے تمام مراحل میں اپنے برادر بزرگوار امام حسین کے ہمراہ رہے ور اپنی پوری جوانی کو آپکی خدمت میں گزارا۔ خود بنی ہاشم کے درمیان آپ کو ایک خاص عزت و شرف حاصل تھا۔یہ وجہ ہے کہ بنی ہاشم پروانوں کے مانند شمع عباس کے مانند حلقہ بنائے رہتے تھے۔ان جوانوں کی تعدار تقریباً تیس(٣٠) تھی اور امام حسن و امام حسین علیہ السلام کے دفاع کی خاطرہمیشہ آمادہ رہتے۔مدینہ کی محفلوں میں بھی ہمیشہ ان کے اور خاص طور پر عباس کے چرچے ہوا کرتے۔

 

سیرت ابو الفضل العباس

عباس کا چہرہ بھی حسین و خوبصورت تھا اور کردار بھی۔ظاہر نورانی تھا تو باطن بھی درخشاں۔گویا صورت آپکی سیرت کا آئینہ تھی۔ابو الفضل کا جمال اور آپکی نورانی شخصیت باعث بنی کہ آپ کو ''قمر بنی ہاشم'' کا نام دیا گیا۔

شجاعت و دلاوری کو اپنے پدر بزرگوار سے میراث میں حاصل کیا اور کرامت ،بزرگواری،عزت نفس اور پاکیزہ کردار میں قبیلۂ بنی ہاشم کے آئینہ دار تھے۔چہرے کی درخشش عبادت ،شب زندہ داری اور اللہ کی بارگاہ میں خضوع و خشوع کی حکایت کرتی۔ایک ایسے مرد میدان جو خدا کے عاشق ا ور اسکی راز و نیاز سے مانوس۔

مستحکم، استوار اور ایک آہنیں قلب کے مالک تھے۔آپکی فکر روشن،عقیدہ استوار اور ایمان راسخ تھا۔توحید اور محبت خدا سے پورا وجود لبریز تھا۔ آپکی عبادت اور خدا پرستی کا یہ عالم تھا کہ شیخ صدوق کے بقول سجدوں کے نشانات آپ کی پیشانی پر ہویدا تھے۔

عباس کا ایمان،بصیرت اور وفا اس قدر مشہور اور زباں زد خاص و عام تھا کہ ائمہ علیہم السلام بھی ہمیشہ ان صفات کا تذکرہ فرماتے اور انہیں ایک انسان کامل اور نمونۂ عمل کے طور پر پیش کرتے۔ایک روز امام سجاد علیہ السلام کی نظرحضرت عباس کے فرزند ''عبید اللہ ''پر پڑی تو آپ گریہ فرمانے لگے اور اسکے بعد آپ نے حضرت پیغمبر ۖ کے چچا جناب حمزہ اور اپنے عم بزرگوار حضرت عباس کو اس طرح یاد فرمایا:

''پیغمبراکرم ۖپر کوئی دن اُحد کے دن سے زیادہ سخت نہ تھا۔اس روز آپ کو چچا حضرت حمزہ علیہ السلام نے جام شہادت نوش کیا۔اسی طرح حسین بن علی علیہما السلام پر بھی عاشور سے زیادہ کوئی اور دن سخت نہ گزرا۔اس دن آپ تیس ہزار کے لشکر کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے اور دشمن کا خیال یہ تھا کہ فرزند رسول کو مارکر وہ اللہ سے نزدیک ہو سکتا ہے۔آخر کار بجائے اس کے کہ حضرت سید الشہداء کی خیر خواہانہ نصیحتوں کو سن کر باز آتے، ان کو شہید کر دیا۔''

اس کے بعدآپ اپنے چچا عباس کی فداکاری اور عظمت کے بارے میں فرماتے ہیں:''خدا میرے چچا عباس پر رحمت نازل کرے جنہوں نے اپنے بھائی کی خاطر ایثار و فداکاری کی اور اپنی جان تک کی بازی لگادی۔ایسی فداکاری کہ اپنے دونوں ہاتھوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔خداوند عالم نے بھی ان ہاتھوں کے بدلے انہیں دو پر عطا فرمائے ہیں جن کے ذریعہ آپ خلد میں فرشتوں کے ہمراہ پرواز کرتے ہیں۔ خدا کے نزدیک حضرت عباس کو وہ مقام و منزلت حاصل ہے کہ قیامت کے دن تمام شہداء آپ کے مقام و منزلت کو دیکھ کر رشک کریں گے۔''

امام صادق علیہ السلام حضرت عباس کی بصیرت،معرفت اور حق و ولایت کی پاپندی کو سراہتے ہوئے یوں ارشاد فرماتے ہیں:''کان عمنا العباس نافذ البصیرة صلب الایمان،جاھد مع ابی عبداللہ (ع)و ابلی بلائاً حسناً و مضی شہیداً؛ ہمارے چچا عباس نافذ بصیرت اور استوار ایمان کے مالک تھے۔حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ جہاد کیا ، مرحلۂ امتحان کو بخوبی سر کیا اور آخرکار شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔''

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صرف ایک شجاع علمدار نہ تھے بلکہ آپ کی شخصیت علمی،اخلاقی اور تقوائی خصوصیات سے بھی لبریز تھی۔آپکو میدان فقاہت میں بھی ایک خاص مقام حاصل تھااور راویوں کے نزدیک مورداعتماد و اطمینان فرد تھے۔بعض بزرگ علماء آپ کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:''عباس اولاد ائمہ میں موجود فقہاء اور دین کی شناخت رکھنے والوں میں سے ایک تھے۔آپ عادل،باتقویٰ،موثق و مطہر تھے۔''مرحوم قاینی فرماتے ہیں:''عباس فقہائے اہلبیت کے اکابرین اور فضلاء میں سے ایک تھے،بلکہ آپ ایسے عالم تھے جس نے کسی غیر کے سامنے زانو ئے ادب تہہ نہ کئے تھے۔''

حضرت عباس کے عظیم افتخارات میں ایک یہ ہے کہ آپ اپنی عمر میں ہمیشہ امامت و ولایت اور خاص طور پر امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں سرگرم رہے۔حضرت ابوالفضل امام حسین علیہ السلام کی بنسبت وہی مقام رکھتے تھے جو حضرت امیر المومنین علیہ السلام کو پیغمبر کی بنسبت حاصل تھا۔

ایک دانشمند نے کچھ اس طرح سے باپ اور بیٹے کے درمیان موازنہ کیا ہے:

''عباس نے اپنے پدر کی طرح بہت سے میدانوں میں شجاعت وجوانمردی دکھائی۔ عباس اُسی طرح حسین کے پشت پناہ تھے جیسے علی پیغمبر کے۔ عباس نے میدان کربلا میں صبر و استقامت ،شجاعت،قوت بازو،ارادہ و ایمان...کا اسی طرح مظاہرہ کیا جس طرح علی میدان جنگ میں کیا کرتے تھے۔جس طرح سے علی روٹی اور خرما کی بوریوں کو اپنے کاندھوں پر لاد کر یتیموں اور مسکینوں کے لئے لے جاتے اسی طرح عباس بھی اپنے بھائی کے ہمراہ اور انکے کہنے پر مدینہ کے بہت سے فقراء کا پیٹ بھرتے۔جس طرح سے علی دربار نبوی ۖ کے باب الحوائج تھے اور در نبی پر آنے والا ہر شخص پہلے علی کو پکارتا اسی طرح عباس دربار حسینی کے باب الحوائج تھے۔اس طرح کہ کوئی محتاج اگر در حسین کا رخ کرتا تو پہلے عباس کو آواز دیتا۔اگرعلی نے شب ہجرت بستر نبی پر لیٹ کر پیغمبر ۖ کی راہ میں فداکاری کی تو عباس نے بھی اطفال حسینی کے لئے پانی لانے کی خاطر فداکاری کی۔علی نے رکاب پیغمبر ۖ میں شمشیر چلائی تو عباس نے رکاب حسین میں رزمی جوہر دکھائے۔جس طرح علی میدان جنگ میں تنہا دشمن کے مقابلہ پر جاتے اسی طرح عباس بھی ایک شب کی مہلت لینے کے لئے تنہا خیام عدو کی جانب گئے۔

 

القاب کے آئینہ میں

انسان کے نام کے ساتھ ساتھ اس میںموجوداخلاقی اور علمی صفات بھی اسے دوسروں سے ممتاز بناتے ہیں۔انہیں خصوصیات کی وجہ سے اسے کچھ القاب بھی دے دئے جاتے ہیںجن کے ذریعہ اسکو پکارا اور یاد رکھا جاتا ہے۔

جس وقت حضرت عباس کے القاب کو دیکھتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک آپ کی شخصیت کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بعض القاب آپکی زندگی ہی میں آپ کو دئے گئے لیکن بعض دیگر القاب سے شہادت کے بعد آپکو نوازا گیا۔

کبھی کبھی ایک نام یا لقب کتنا حسین ہو جایاکرتا ہے!اس وقت کہ جب وہ اسم اپنے مسمیٰ کے ساتھ ہماہنگ ہو جائے اور صاحب لقب واقعی طور پر اس لقب کا حقدار قرار پائے۔

امیر المومنین کے اس فرزند رشید کا نام ''عباس'' تھا چونکہ وہ میدان جنگ میں شیر کی طرح حملہ آور ہوتا اور اپنی شجاعت کے جوہر دکھاتا۔ایسے غضبناک شیر کی طرح میدان کارزار میں اترتا کہ دشمن خوف و ہراس میں ڈوب کر لرز اٹھتا۔

ابوالفضل ،عباس کی کنیت ہے۔اس کی دو وجہ ہیں ؛ایک یہ کہ آپ کے ایک فرزند کا نام فضل تھا۔دوسرے یہ کہ آپ حقیقتاًفضیلت و نیکی کے باپ تھے ۔فضیلتیں اور نیکیاں آپ کے ہاتھوں پروان جڑھتی تھیں۔

آپکے القاب میں سے ایک ''ابو القریة'' یعنی مشک کا باپ بھی ہے۔چونکہ آپ بچپن سے ہی مشک کو اپنے دوش پر رکھ کر بنی ہاشم کے درمیان سقائی فرمایا کرتے تھے اس لئے آپکو یہ لقب عطا کیا گیا۔ ''سق'' بھی آپکے القاب میں سے ایک ہے یعنی پیاسوں اور بچوں کے لئے پانی لانے والا۔خاص طور پر کربلا کے سفر کے دوران کاروان حسینی کا منصب سقایت آپ ہی کو حاصل تھا اور آپ ہی خیام حسینی کے پیاسوں کے لئے پانی کا انتظام فرماتے تھے۔جب سات (٧) محرم کو اصحاب حسینی پر دشمن کی طرف سے پانی بند کر دیا گیا،آپ اپنے ساتھ چند افراد کو لے کر فرات کی طرف گئے اور دشمن کی صفوں کو چیر کر پانی لاکر خیموں تک پہونچایا۔آخر کار ١٠ محرم ؛عاشور کے دن آپ پیاسے بچوں کے لئے پانی لانے کی کوشش میں جام شہادت نوش فرماتے ہیں۔

عباس ہاشم،عبد المطلب اور ابوطالب کی اس مبارک نسل سے ہیں جس میں سبھی حاجیوں کے لئے سقایت کے فریضہ کو انجام دیا کرتے تھے۔حضرت امیر علیہ السلام نے بھی صرف اسی لئے بہت سے کنویں کھودے تاکہ پیاسے باآسانی سیراب ہو سکیں۔جنگ صفین میں بھی علی نے پانی پر قبضہ کر لینے کے بعد بھی معاویہ کے لشکر کو پانی پینے کی اجازت دی تاکہ علوی جوانمردی کا ایک اور نمونہ تاریخ کے دامن میں محفوظ ہو سکے۔عباس بھی اسی گھرانہ اور خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت کا نام ہے۔

آپکو ''قمر بنی ہاشم'' کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔اس لئے کہ آپ بنی ہاشم کے درمیان نہایت جذاب اور خوبصورت چہرہ کے مال تھے اور چودھویں کے چاند کی طرح دورے ہاشمی ستاروں سے ممتاز رہتے۔

آپ '' باب الحوائج'' کے نام سے بھی مشہور ہیں۔آپکا حرم مبارک حاجتمندوں کا قبلہ ہے۔ آپ کی ذات سے توسل حاجات کی برآوری کا ضامن ہے۔اپنی حیات کے دوران بھی باب رحمت،درحاجت اور چشمۂ کرم تھے اس طرح کہ اگر کوئی ضرورتمند کبھی در حسین پر آتا تو عباس کے ذریعہ ہی وارد ہوتا اور آج شہادت کے بعد بھی ان لوگوں پر آپکی خاص عنایت رہتی ہے جو آپ کے نام کا سہارا کیا کرتے ہیں اور خداونعالم بھی آپکے ایمان،ایثار اور شہادت کے طفیل میں حاجتمندوں کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے۔کم نہیں ہیں وہ لوگ جن کی جھولیاں آپ کے در پر آکر پُر ہوئی ہیں اور انکی حاجتیں ساحل مراد سے تک ہونچی ہیں۔متعدد کتابوں میں آپکی ایسی بہت سی کرامات کو جمع کیا گیا ہے ۔

علمدار،لشکر حسینی کا سپہ سالار،صاحب لوائ،مواسی(فداکاری کرنے والا)، طیّار اور عبد صالح آپکے دیگر القاب ہیں۔تقریباً سولہ(١٦) القاب آپکی ذات کے لئے ذکر کئے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک آپکی شخصیت کے ایک خاص گوشہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔

پوری زندگی حضرت عباس اپنے امام زمانہ کے لئے سپر بنے رہے اور کبھی حضرت سید الشہداء سے جدا نہ ہوئے۔ایک سائے کے مانند امام کے ساتھ رہتے۔ باوجودیکہ آپ خود علم ،تقویٰ ،پرہیزگاری،شجاعت اور فضیلت میں منزل کمال پر تھے اور ایک قابل مثال نمونۂ عمل سمجھے جاتے لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنی شخصیت کو اپنے امام کی شخصیت میں فنا کر دیا تھا۔اس طرح آپ اپنے کردار سے''ولایت کی اطاعت'' کا عملی درس دوسروں کا دیتے۔ ٣شعبان المعظم کو امام حسین علیہ السلام کی ولادت اور ٤ شعبان کو خود آپکی ولادت ہوناخود یہ ایک ایسا لطیف نکتہ ہے جو اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

چونکہ بات آپکے القاب کے سلسلہ میں ہے اس لئے ہم یہاں پر ائمہ علیہم السلام کی زبان مبارک سے ملے آپ کے کچھ القاب کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

امام صادق علیہ السلام آپکی ایک زیارت میں آپ کو خطاب کرکے فرماتے ہیں:''سلام ہو آپ پر اے عبد صالح ! خدا ،رسول،امیر المومنین،امام حسن و حسین علیہم السلام کے مطیع و فرمانبردار۔خدا کو گواہ قرار دے کر کہتا ہوں کہ آپ نے اسی راہ کا انتخاب کیا جسے بدر کے شہداء نے چنا تھا...''۔

زیارت ناحیہ میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف آپکو خطاب کرکے یوں فرماتے ہیں:''سلام ہو ابو الفضل ،امیر المومنین کے فرزند پر!وہ کہ جس نے اپنی جان اپنے بھائی پر قربان کر دی...جس نے خود کو حسین پر فدا کیااورمستقل حسین کی نگہبانی میں مشغول رہا،وہ کہ جسکے بازو قلم کر دئے گئے...''۔

 

شجاعت و وفا کا مظہر

وفاداری کے بغیر نہ شجاعت کی کوئی حیثیت ہے ،نہ ہی شجاعت کے بغیر وفاداری کاکوئی خاص فائدہ ہے۔راہ حق میں فرض شناس،وفادار اور ایک بہادر انسان کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔میدان جنگ میں ایسی بہادری کی ضرورت ہوتی ہے جس میں وفاکا رنگ پایا جاتا ہو۔یہ صفت کامل طور پر حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے فرزند میں موجود تھی۔آپ ذاتی شجاعت اور موروثی شہامت کے حامل تھے۔عباس کے بابا علی نے شجاعت کو ایک نیا مفہوم عطا کیااور خود عباس نے بھی اسی کو اپنے لئے نمونۂ عمل قرار دیا۔

میدان عاشورا ،شجاعت عباسی کے کی نمائش کے لئے بہترین اور مناسب ترین میدان تھا۔عاشور کے دن وفائے عباس اپنے عروج کی آخری منزل پر تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ آپ کی شجاعت پر ''اطاعت امام'' کا پہرا تھا۔امام کی طرف سے آپکو کچھ ایسی سنگین ذمہ داریاں سپرد کی گئیں جن کے ہوتے ہوئے آپ کو یہ موقع بخوبی نہ مل سکا کہ آپ اپنی شجاعت کے آتش فشاں کو دشمن کے خون سے خنکی عطا کر سکیں۔کربلا میں آپکا گوہر شجاعت ،فانوس اطاعت میں قید ہوکر دنیا والوں کو حکم امام کے آگے بغیر چوں چرا کے سر جھکا دینے کاعظیم درس دے رہا تھا۔

آپ کی شجاعت کے بعض مناظر جو کربلا میں دیکھنے کوملے ،ان سے بخوبی آپکی بے نظیر شجاعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔لیکن اس سے بڑھ کرمظلومیت و تشنگی کے ساتھ آپ کی وفا نے فرات کے کنارے جوہنر نمائی کی اس سے بشریت انگشت بدنداں رہ گئی۔

امام علیہ السلام کی بنسبت آپکی اطاعت و وفا ایک مثال یہ ہے کہ آپ کبھی امام حسین علیہ السلام کے سامنے آپ کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھتے اور وہ بھی ایک غلام کے مانند! عباس امام حسین کے لئے بالکل ایسے ہی تھے جیسے حضرت امیر حضرت پیغمبرۖکے لئے ۔جب کبھی امام کوآواز دیتے تو ہمیشہ ''یاسیدی''،''یا ابا عبداللہ'' یا ''یابن رسول اللہ'' کہہ کر خطاب فرماتے ۔

کربلا میں آپکی شجاعت کی ایک مثال کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں:

''روز عاشور،''مارد بن صدیق'' جو لشکر یزید کے سرداروں اور سورماؤں میں سے ایک تھا اور صرف اپنے برابر والوں کے ساتھ جنگ کیا کرتا تھا،جنگ کے لئے آمادہ ہوا اور ہتھیاروں سے لیس ،لال رنگ کے مرکب پر سوار ہو کر عباس سے جنگ کی غرض سے میدان میں آیا۔اس سے پہلے کہ جنگ کا آغاز ہو ،(یہ سوچ کر کہ عباس پر رحم کرکے انہیں ایک موقع دے دیا جائے تاکہ وہ میدان چھوڑ کر چلے جائیں)عباس سے چاہا کہ تلوار کو زمین پر رکھ کر میدان سے واپس چلے جائیں۔اسکے بعد بلند آواز میں رجز خوانی کرنے لگا تاکہ عباس پر رعب و وحشت طاری ہو جائے۔لیکن ابوالفضل پر اسکا کوئی اثر نہ ہوا۔ آپ رجزخوانی کے ذریعہ اسکا جواب دیتے ہوئے اپنے کچھ افتخارات کا تذکرہ کیا۔اسکے بعد یکایک آپ اسکی طرف آگے بڑھے اور ایک شدید جھٹکے کے ساتھ نیزے کو اسکے ہاتھ سے چھین کر اسے زمین پر دے مارا اور اسی نیزہ سے اس پر ایک ضرب لگائی۔سپاہ دشمن نے چاہا کہ ''مارد'' کو عباس کے ہاتھوں سے نجات دلائی جائے ...شمر اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھا تاکہ ''مارد'' کو میدان جنگ سے باہر لے جایا سکے،لیکن عباس نے اس سے پہلے ہی اسکا کام تمام کر دیا اور شمر کے کچھ ساتھیوں کو بھی واصل جہنم کیا۔

لشکر حسینی میں حضرت ابو الفضل العباس کا وجود جہاں دشمن کے لئے باعث رعب و وحشت تھا وہیں اطفال، اصحاب حسینی اور اہل حرم کے لئے قوت قلب اور اطمینان کا باعث تھا۔جب تک عباس زندہ تھے اس وقت تک اہل حرم اور بچے آسودہ خاطر اور مطمئن ہوکر سو جاتے چونکہ انہیں معلوم تھا کہ ابو الفضل نامی ایک شیر کی آنکھیں رات میں ان کی خاطربیداررہتی ہیں۔

 

عباس اور کربلا

چونکہ ہمارا ہدف کبلا کے آئینہ میں عباس کو پہچنوانا ہے اس لئے ہم کچھ اینے واقعات آپ کے سامنے پیش کریں گے جو حضرت ابو الفضل کے ، ایمان و وفا، اطاعت و جوانمردی، بصیرت و یقین اور راہ حق میں آپکی استقامت کی تصویر کش کرتے ہیں۔

سات محرم کا دن ہے۔چند روز ہیں کہ کاروان شہادت نے سرزمین کربلا پر اپنے خیمے لگا رکھے ہیں۔کوفے کے لشکر نے پانی کو اپنے قبضہ میں لے رکھا ہے اور اس بات کی اجازت نہیں کہ پانی خیام حسینی تک جائے۔یہ حکم کوفہ کی جانب سے آیا ہے تاکہ پیاس کے ذریعہ حضرت سید الشہداء کو سودا کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

شمر بن ذی الجوشن جو لشکر یزید کا پلید ترین اور خبیث ترین جرثومہ تھا اور اہل بیت کی بنسبت شدید کینہ رکھتا تھا،آگے بڑھتا ہے اور پیاس کی بات کرتے ہوتے امام کو طعنہ دیتے ہوئے کہتا ہے:''مرتے دم تک تمہیں پانی نصیب نہیں ہوگا!''۔

حضرت عباس نے امام سے سوال کیا:''کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟'' امام نے فرمایا:''یقینا ہم حق پر ہیں۔

اسکے بعد آپ نے ان ملعونوں پر حملہ کیا اور انہیں فرات کے کنارے سے دور کھدیڑا۔پھر اصحاب امام نے پانی حاصل کیا اور اپنی پیاس بجھائی۔

لیکن اسکے بعد پھر فرات پر محاصرہ شدید ہوا اور پانی کا دوبارہ حاصل کرنا سخت ہو گیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیاس اور پانی کی قلت کی خیام حسینی میں آشکار ہونے لگی ۔خاص طور پر بچوں پر پیاس کا شدید غلبہ تھا۔ایسی صورتحال میں سب کی نظریں عباس پر لگی تھیں تاکہ کسی طرح پانی حاصل کرکے اس بحران سے نجات دلائیں۔حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے عباس کے کاندھوں پر پانی لانے کی ذمہ داری رکھی۔عباس نے بنی ہاشم اور دیگر اصحاب کے درمیان سے تیس افراد کو اپنے ہمراہ لیا اور ٢٠ افراد پیدل آپکے ساتھ ہوئے ،ان سب کو لے کر آپ نے فرات کا رخ کیا۔پرچم کو ''نافع بن ہلال'' کے ہاتھوں میں دیا۔ فرات کا کنارہ دشمنوں کے حصار میں تھا۔ضروری تھا کہ ایک ایسا حملہ ترتیب دیا جائے جس سے دشمن کو پانی کے قریب سے ہٹا جا سکے اور اسکے بعد مشکوں کو پر کر کے انہیں کیام تک پہونچایا جا سکے۔

عباس اپنے مختصر سے لشکرکے ساتھ فرات کے کنارے پہونچے۔ مشکوں کو پانی سے بھرکر فرات سے باہر نکلے۔واپسی کے وقت فرات کے نگہبانوں نے انکا راستہ روکنا چاہاتاکہ پانی خیام حسینی تک نہ پہونچ سکے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ٹکراؤ شروع ہو گیا ۔کچھ لوگ ان سے لڑائی میں مشغول ہوئے اور باقی لوگوں نے پانی لے جاکر خیموں تک پہونچایا۔ عباس لڑنے والے گروہ میں تھے ۔

یہ پہلا ٹکراؤ تھا جو لشکر حسینی اور لشکر کفر کے درمیان ،فرات کے کنارے وجود میں آیا۔

 

امان نامہ

خیموں کی پشت سے ایک آواز امام حسین علیہ السلام کے کانوں سے ٹکرائی۔شمر ملعون کی شیطانی آواز جو پکار کر کہہ رہا تھا:''کہاں ہیں ہمارے بھانجے؟ اسکے بعد اس نے عباس اور آپکے تین بھائیوں کو پکارا ۔یہ ملعون ان حضرات کے لئے امان نامہ لیکر آیا تھا۔

اس سے پہلے بھی ایک بار حضرت ابو الفضل کے ماموں نے ابن زیاد سے آپکے لئے امام نامہ لیا تھا لیکن آپ نے اسکو ادب کے ساتھ لوٹا دیا تھا۔ اس بار پھر شمر امان نامہ لیکر آیا تاکہ عباس اور انکے بھائیوں کو لشکر حسینی نے جدا کر سکے۔

حضرت عباس علیہ السلام نے پہلے تو اسکی بات پر کوئی توجہ نہیں دی اور اسے بالکل نظر انداز کر دیا،اس لئے کہ آپ اسکے مقصد کو پہچانتے تھے۔ لیکن امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:''عباس اگرچہ یہ شخص فاسق ہے لیکن اسکی بات کا جواب دو۔دیکھو کیا چاہتا ہے''۔

حضرت عباس اپنے تین بھائیوں کے ساتھ خیمے سے برآمد ہوئے ۔ شمرلعیں نے وہ امان نامہ جو اس نے ابن زیاد سے لے رکھا تھا ،اسے عباس کے سامنے رکھا اور کہا:''اگر حسین سے جدا ہوکر ہماری طرف آجائو تو تمہاری جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔'' یہ سن کر عباس کے چہرہ کا رنگ غصہ سے سرخ ہو گیا۔چلا کر اس سے فرمایا:''خدا کی لعنت ہو تجھ پراور تیرے امان نامہ پر!اے کاش کہ تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں! تو مجھ سے چاہتا ہے کہ میں فرزند زہراء سے جدا ہو کر پست ولعین کی اطاعت کا طوق اپنی گردن میں ڈالوں؟! تو ہمارے لئے امان لایا ہے در حالیکہ فرزند رسول کے لئے کوئی امان نہیں ہے؟!''ایک دوسری مقام یوں نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:''اللہ کی امان ،عبید اللہ کی امان سے بہتر ہے۔''

اس طرح وہ پلید شخص ناکام ہو کر واپس چلا گیا۔شمر چاہتا تھا کہ عباس کو لشکر حسینی سے جدا کرنے کے ذریعہ ان کے لشکر کو کمزور اور لشکر یزید کو قوت بخشے۔عباس ایک ایسے نامور مرد میدان کا نام ہے جس کا وجوداصحاب حسینی کے لئے قوت قلب کا باعث تھا۔اب جب کہ شہادت کا سنہرا موقع قریب آن پہونچا ہے یہ کیسے ممکن ہے عباس فرزند زہراء کو چھوڑ کر اپنے کو ابدی سعادت سے محروم کر لیں؟!

شمر اس طرف گیا اور عباس امام کی طرف آئے۔اس وقت زہیر نے عباس سے کہا:''چاہتے ہو کہ ایک واقعہ تمہارے لئے بیان کروں اور ایسی بات تم کو بتاؤں جو میں نے خود اپنے کانوں سے سنی ہے؟'' حضرت عباس علیہ السلام نے فرمایا:کہو۔

اس وقت زہیر نے اس واقعہ کے بارے میں عباس کو بتایا جس میں حضرت علی علیہ السلام نے ایک شجاع خاتون سے نکاح کرنے کی بات اپنے بھائی حضرت عقیل کے سامنے رکھی۔اس کے بعد کہا:''تمہارے والد نے اسی دن کے لئے تمہاری خواہش کی تھی۔ لہٰذا کہیں ایسا نہ ہو کہ آج تم اپنے بھائی کی حمایت سے محروم رہ جاؤ!''

عباس سلام اللہ علیہ جواب میں فرماتے ہیں:''اے زہیر ! تم چاہتے ہو کہ آج میری حوصلہ افزائی کرو؟! خدا کی قسم !آج وہ کر دکھاؤ گا جو تم نے ہرگز نہ دیکھا ہوگا ایسی جنگ کروں گا جو کسی نے نے نہ دیکھی ہوگی...

عراق کے وزير اعظم نوري المالکي نے کہا ہے کہ بيروني طاقتوں کو يہ حق حاصل نہيں ہے کہ عرب اقوام کي جمہوريت اور آزادي کے بارے ميں فيصلہ کريں -

بغداد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق عراق کے وزير اعظم نوري المالکي نے عرب ملکوں کے سفيروں سے ملاقات ميں کہا ہے کہ حکومت عراق آزادي اور جمہوريت کو عرب اقوام کا بنيادي حق سمجھتي ہے اور ان کي تحريکوں کي حمايت کرتي ہے - انہوں نے اسي کے ساتھ کہا کہ آزادي اور جمہوريت کي تحريکوں کے حوالے سے بيروني طاقتوں کو يہ حق نہيں ہے کہ وہ عرب اقوام کي جگہ فيصلے کريں اور ان پر اپنے فيصلے مسلط کريں - عراق کے وزير اعظم نے شام کے خلاف ہر قسم کي فوجي مداخلت کي مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ شام کا مسئلہ کيسے حل ہونا ہے اور وہاں کس قسم کي تبديلي آني ہے ، اس کا فيصلہ کرنے کا حق صرف شام کے عوام کو ہے-

انہوں نے دنيا کےمختلف ملکوں ميں انتہا پسندي بڑھنے کي جانب سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عرب ملکوں کو دہشتگردي اور انتہا پسندي کے مقابلے کے لئے متحدہ موقف اختيار کرنا چاہئے –

عراق کے وزير اعظم نے تمام شعبوں بالخصوص اقتصادي اور سياسي شعبوں ميں عرب ملکوں کے ساتھ تعاون کے لئے عراق کي آمادگي کا اعلان کيا اور کہا کہ عراق قومي کاوشوں اور اتحاد کے ذريعے سيکورٹي سے متعلق دشوار مراحل سے نکل چکا ہے

روس نے ايک بار پھر شام ميں ہر قسم کي بيروني مداخلت کي مخالفت کي ہے -

ارنا کے مطابق روس کي مسلح افواج کے کمانڈر جنرل والري گراسيموف نے معاہدہ شمالي اقيانوس نيٹو کي فوجي کميٹي کے سربراہ جنرل بارٹلز کے ساتھ مشترکہ پريس کانفرنس ميں شام ميں ہر قسم کي بيروني مداخلت کي مخالفت کرتے ہوئے نيٹو کو خبردار کيا ہے کہ شام ميں فوجي مداخلت سے باز رہے -

جنرل گراسيموف نے اس پريس کانفرنس ميں کہا کہ وہ سمجھتے ہيں کہ شام کا مسئلہ کسي بھي قسم کي فوجي اور غير فوجي، بيروني مداخلت کے بغير تنازعے کے فريقوں کے درميان مذاکرات کے ذريعے ہي حل ہونا چاہئے - اس پريس کانفرنس ميں نيٹو کي فوجي کميٹي کے سربراہ جنرل بارٹلز نے دعوي کيا کہ ترکي ميں شام کي سرحد پر پيٹرياٹ ميزائل نصب کرنے کا فيصلہ ترکي کي درخواست پر کيا گيا ہے اور يہ اقدام صرف دفاعي ہے -

ياد رہے کہ ترکي نيٹو اور امريکا کے کہنے پر شروع سے شام کے بحران ميں مداخلت کررہا ہے اور اس نے شام ميں سرگرم مسلح گروہوں کو اسلحے سپلائي کرکے بحران کي شدت بڑھانے ميں اہم کردار ادا کيا ہے

Saturday, 15 December 2012 06:00

سي آئي اے کي ايذا رساني

امريکي سينٹ کي خصوصي کميٹي نے اس بات کي تصديق کي ہے کہ سي آئي اے اہلکاروں نے قيديوں کے خلاف ايذار رساني کے جديد ترين طريقے استعمال کئے ہيں-

فرانس پريس کے مطابق سينٹ کي خصوصي کميٹي نے چھے ہزار صفحات پر مشتمل دستاويزات اور شواہد کے جائزے کے بعد کہا ہے کہ مذکورہ کميٹي کے لئے يہ بات ثابت ہوگئي ہے کہ سي آئي اے کے ايجنٹوں نے قيديوں کے خلاف تشدد اور ايذا رساني کے انتہائي ماڈرن اور جديد طريقے استعمال کئے ہيں-

امريکي سينٹ کي خصوصي کميٹي کے بيان ميں يہ بات زور ديکر کہي گئي ہے کہ سي آئي اے کے ايجنٹوں نے تشدد اور ايذا رساني کے ايسے جديد ترين طريقے استعمال کرکے بہت بڑي غلطي کي ہے- قبل ازيں ہومين رائٹس واچ نے انکشاف کيا تھا کہ امريکہ ميں قيديوں کے حقوق کو جان بوجھ کر پامال کيا جارہا ہے_

۲۰۱۲/۱۲/۱۱ -رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح (بروز منگل) اسلامی بیداری اور عالم اسلام کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے اجلاس میں شریک سیکڑوں دانشوروں ، ممتاز ماہرین اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے ساتھ ملاقات میں اسلامی بیداری کے عنوان کی اہمیت، اسلام اور شریعت اسلامی کے مقام و منزلت ، اسی طرح انقلاب لانے والے ممالک کے عوام کے بارے میں ایک جامع تحلیل اور تجزيہ پیش کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قوموں کی نجات اور سعادت کے بارے میں دانشوروں اور ممتاز شخصیات کے نقش و کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس حوالے سے اسلامی بیداری اور عالم اسلام کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ کا اجلاس خاص اہمیت کا حامل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے معاشرے و سماج کی سعادت اور نجات کےسلسلے میں دانشوروں ، ممتاز شخصیات اور اساتذہ کی نقش آفرینی کے لئے اخلاص، شجاعت، ہوشیاری ، تلاش و کوشش نیز لالچ اور طمع سے دوری کو اصلی شرط قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی بیداری اور امت اسلامیہ میں اس بیداری کا رسوخ و نفوذ ایک عظيم حادثہ اور واقعہ ہے جو آج دنیا کے سامنے ہے اور جس کی بدولت بعض ممالک میں انقلاب رونما ہوا اور وہاں کی فاسد اور ظالم حکومتیں ختم ہوگئی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کو عمیق اور وسیع قراردیا اور اسلامی بیداری کے لفظ سے دشمنوں کے خوف و ہراس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمن بہت کوشش کررہے ہیں تاکہ اسلامی بیداری کا لفظ علاقہ کی موجودہ عظیم تحریک کے لئے استعمال نہ کیا جائے کیونکہ دشمنوں کو حقیقی اور واقعی اسلام کے پھیلنے سے سخت خوف و خطرہ لاحق ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: دشمن ، ڈالر کے غلام اسلام، فسادو اشرافیت میں ڈوبے ہوئے اسلام، اور اس اسلام سے خوفزدہ نہیں جس کی جڑیں عوام میں نہیں ہیں لیکن عمل و اقدام والے اسلام، عوام کے اندر موجود اسلام، اللہ تعالی پر توکل والے اسلام اور اللہ تعالی کے وعدوں پر حسن ظن رکھنے والے اسلام سے لرزہ بر اندام ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ہمارا یقین و اعتقاد ہے کہ موجودہ عظیم حرکت ایک وسیع و عریض اور حقیقی اسلامی بیداری ہےجو اتنی آسانی کے ساتھ منحرف بھی نہیں ہوگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس بیداری کو اسلامی لفظ سے موسوم کرنے کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: علاقائی انقلابات میں عوام کے اسلامی نعرے، وسیع و عظیم اجتماعات تشکیل دینے میں اسلامی شخصیات کا کردار اور فاسد حکومتوں کا خاتمہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ حرکت و تحریک اسلامی تحریک ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلابی ممالک کے انتخابات میں عوام کی اسلام پسند عناصر کو رائے اس تحریک کے اسلامی ہونے کی دوسری دلیل قراردیتے ہوئے فرمایا: آج اگر عالم اسلام کے زیادہ تر حصوں میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کرائے جائيں اور اسلام پسند سیاسی عناصر بھی حصہ لیں تو عوام اسلام پسند عناصر کو ووٹ دیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقائی انقلابات کے سلسلے میں بعض اہم نکات کی طرف بھی توجہ مبذول فرمائی۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مصر و تیونس اور لیبیا کے انقلابات کو لاحق بعض خطرات کو پہچاننے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: خطرات کو پہچاننے کے ساتھ انقلابات کے اہداف کی بھی تشریح ہونی چاہیے کیونکہ اگر ہدف مشخص نہ ہو تو حیرانی اور پریشانی وجود میں آجائےگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالمی سامراجی طاقتوں کے شر سے نجات حاصل کرنے کو اسلامی بیداری کے اہداف میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: اس مطلب کو وضاحت کے ساتھ بیان کرنا چاہیے کیونکہ ایسا تصور بالکل غلط اور خطا ہےکہ امریکہ کی سرپرستی میں عالمی سامراج ممکن ہے کہ اسلامی تحریکوں کے ساتھ مل جائے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جہاں اسلام اور اسلام پسند ہوں گے امریکہ ان کو ختم کرنے کے لئے اپنی تمام کوششیں صرف کرےگا البتہ وہ بظاہر مسکرائے گا بھی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالمی سامراج کے ساتھ علاقائی انقلابات کو اپنی حدفاصل مشخص کرنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ سامراجی طاقتوں کے ساتھ جنگ کریں لیکن اگر وہ ان کے ساتھ اپنی حد فاصل مشخص نہیں کریں گے تو وہ دھوکہ کھا جائیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےسامراجی طاقتوں کی طرف سے دنیا پر تسلط قائم کرنےکے لئے ہتھیار، سرمایہ اور علم کے وسائل سے استفادہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ان تمام وسائل کے باوجود مغربی دنیا کے لئے اب بھی ایک بہت بڑی مشکل یہ ہے کہ ان کے پاس بشریت کو پیش کرنے کے لئے نئی فکر و سوچ نہیں ہے جبکہ عالم اسلام کے پاس نیا آئیڈیل اور نقشہ راہ موجود ہے۔

رہبر معظم انقلاب سلامی نے اسلام کو نئے افکار اور نقشہ راہ کا حامل قراردیتے ہوئے فرمایا: یہ موضوع عالم اسلام کا قوی اور مضبوط نقطہ ہے اور ان افکار پر اہداف کے ترسیم ہونے کی بنا پر مغربی ممالک کے ہتھیار، علم اور سرمایہ جیسے وسائل ماضی کی طرح غیر مؤثر ثابت ہوجائیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کا ایک اہم ہدف ، اسلام اور اسلامی شریعت کے محور پرہونے کو قراردیتے ہوئے فرمایا: یہ ظاہر کرنے کے لئے وسیع کوششیں جاری ہیں کہ شریعت اسلام پیشرفت، تحول اور تمدن کے خلاف ہے جبکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اسلام انسانوں کی تمام ضروریات کے بارے میں جوابدہ ہے اور تمام ادوار میں انسان کی پیشرفت اور ترقی کا ضامن ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ان رجعت پسند اور انتہا پسند گروہوں کے اقدامات پر افسوس کا اظہار کیا جو اپنے اقدامات کے ذریعہ اسلام میں پیشرفت کی نفی کا تصور پیش کرتے ہیں۔البتہ حقیقی اسلام وہی ہے جو بشریت کی تمام ضرورتوں کو پورا کرے اور یہی فکر و سوچ قابل قبول فکر وسوچ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نظام کی تشکیل کو اسلامی بیداری کا ایک دوسرا ہدف قراردیا اور نظام کی عدم تشکیل کی بنا پر شکست سے دوچار، شمال افریقہ کے تاریخی تجربات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر انقلاب لانے ممالک میں نظام کی تشکیل نہ ہوئی اور مضبوط بنیاد نہ رکھی گئی تو انھیں اس صورت میں سخت خطرے کا سامنا کرنا پڑےگا۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقائی انقلابات میں عوام کی پشتپناہی کی حفاظت کو ایک اہم مسئلہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اصلی طاقت عوام کے ہاتھ میں ہے اور جہاں عوام ایک آواز اور اتحاد کے ساتھ اپنے رہنماؤں کے ساتھ ہوں گے وہاں امریکہ اور امریکہ سے بھی کوئی بڑا کسی غلطی کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام کو میدان میں موجود رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: دانشور، صاحبان قلم، شعراء اور بالخصوص علماء اسلام اپنا اہم اور ممتاز نقش ایفا کریں اور انقلابات کےاہداف اور دشمنوں کی طرف سے ڈالی جانے والی رکاوٹوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کریں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے طاقتور بننے کے لئے انقلاب لانے والے ممالک میں علم و ٹیکنالوجی کی پیشرفت اور جوانوں کی علمی تربیت کو اسلامی ممالک کے بہت ضروری مسائل میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: یہ کام ممکن ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس کا عملی اور کامیاب تجربہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایران ، انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے علم کی بہت ہی نچلی سطح پر تھا لیکن آج اسلام اور انقلاب کی برکت کی وجہ سے ایران کا دنیا کے ممتاز علمی ممالک میں شمار ہوتا ہے اور اعداد و شمار کےبین الاقوامی معتبر اداروں کی رپورٹ کے مطابق ایران کی علمی پیشرفت سرعت کے ساتھ جاری ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اس کامیاب تجربے کو اسلامی ممالک میں جاری رہنا چاہیے اور اسلامی ممالک کو اس مقام تک پہنچنا چاہیے تاکہ وہ دنیا کے لئے علمی مرجع اور نمونہ عمل بن سکیں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: ایران میں اسلامی نظام نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اسلام اور اسلامی شریعت کی بنیاد پر علم کے اعلی ترین مقام پر پہنچا جاسکتا ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اتحاد کو عالم اسلام کے بنیادی مسائل میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: مغربی ممالک اور امریکہ شیعہ و سنی کے عنوان سے مسلمان قوموں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لہذا ہم سب کو ہوشیار رہنا چاہیے اور مسائل کا اسی نقطہ نظر سے جائزہ لینا چاہیے اور اپنے مؤقف کو بیان کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کی سازشوں اور کوششوں کے باوجود عالم اسلام کی پیشقدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس پیشقدمی کی ایک نشانی آٹھ روزہ جنگ ہے جس میں ایک طرف فلسطین کے ایک چھوٹے سے علاقہ غزہ کے رہنے والے تھے جبکہ دوسری طرف دنیا کی قوی ترین اسرائیلی فوج تھی اور جنگ بندی کے دوران جس فریق نے شرط رکھی وہ غزہ کے فلسطینی تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: کیا دس سال قبل اس قسم کے واقعہ کا یقین ہوسکتا تھا؟

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: فلسطینیوں کو شاباش ہو، حماس اور اسلامی جہاد کو شاباش و مبارکباد ہو غزہ کی دفاعی یونٹوں کو شاباش ہو جنھوں نے اسرائیل کے مقابلے میں بھر پور شجاعت کا مظاہرہ کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: میں اپنی طرف سے تمام فلسطینی مجاہدوں کی زحمتوں ، فداکاریوں اور کوششوں پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے غزہ کی آٹھ روزہ جنگ کو فلسطینی عوام اور اسی طرح تمام مسلمانوں کے لئے اہم درس قراردیتے ہوئے فرمایا: غزہ کی جنگ سے معلوم ہوگیا کہ اگر سب آپس میں متحد رہیں اور سختیوں پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں تو سختی کے بعد آسانی کا اللہ تعالی کا وعدہ محقق ہوجائے گا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسئلہ بحرین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ہم بحرین کے مسئلہ میں عالم اسلام کی بالکل خاموشی کو مشاہدہ کررہے ہیں جواس مسئلہ پر غلط نظریہ کی عکاس ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: بحرین کے مسئلہ پر بعض کی نگاہ مذہبی نقطہ نظر سے ہے اور اسی وجہ سے ایک ایسی قوم جو ظالم اور فاسد حکومت کے خلاف قیام کرے اس کا دفاع جائز ہے مگر بحرین کی قوم کا دفاع جائز نہیں کیونکہ وہ شیعہ ہے!

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: علاقہ کے حالات پر صحیح نگاہ ، دشمن کے حیلوں اور منصوبوں کے پیش نظر ہونی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شام کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مؤقف کو دشمن کے حیلوں کے پیش نظر قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی مسلمان کا خون بہانے کے خلاف ہے، لیکن شام کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنھوں نے شام کے مسئلہ کو اندرونی جنگ ، برادر کشی اور تخریبکاری تک پہنچایا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: قوموں کے تمام مطالبات تشدد کے بغیر اور متعارف طریقوں سے پورے کرنے چاہییں۔

اس ملاقات کے آغاز میں اسلامی ممالک کے سات دانشوروں اور اساتذہ نے علاقہ کے موجود ہ حالات اور اسلامی بیداری کے بارے میں اپنے اپنے نظریات پیش کئے۔

 

حضرات:

٭ ڈاکٹر منیر شفیق، فلسطینی دانشور و تجزيہ نگار

٭ ڈاکٹر مجدی حسین، مصر کی الشعب پارٹی کے سربراہ

٭ ڈاکٹر راشد الراشد، بحرین کے سیاسی سرگرم کارکن اور محقق

٭ ڈاکٹر بابا اینوبای، سینیگال کے مذہبی امور کے سابق وزیر اور محقق

٭ ڈاکٹر علی فیاض، لبنانی پارلیمنٹ کے نمائندے

٭ ڈاکٹر عمر الشاہد، تیونس یونیورسٹی کے استاد اور سیاسی کارکن

٭ محترمہ ڈاکٹر عابد علی، پاکستان میں قائد اعظم یونیورسٹی کے بین الاقوامی شعبے کی سربراہ

مذکورہ شخصیات نے مندرجہ ذیل موضوعات کی طرف اشارہ کیا:

٭ اسلامی جمہوریہ ایران نے امام خمینی (رہ) کی سربراہی میں دنیا میں اسلامی بیداری کا آغاز کیا

٭ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد قائم کرکے سازشوں اور مشکلات پر غلبہ پایا جا سکتا ہے

٭ عالم اسلام اور مقاومت کے ہاتھوں حالیہ برسوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے مناسب استفادہ

٭ اسلامی جمہوریہ ایران کا اسلامی انقلاب علاقائی انقلابوں کے لئے ناقابل انکار نمونہ ہے

٭ اسلام علاقائی انقلابوں اور تحریکوں کا اصلی محور ہے

٭ اسلامی بیداری میں جوانوں پر توجہ کی اہمیت اور ان کے لئے مسائل کی تشریح پر تاکید

٭ انقلاب لانے والے ممالک میں عالمی سامراجی طاقتوں اور اسرائیل کے مقابلے میں واضح اور آشکار مؤقف پر تاکید

٭ اسلامی ممالک میں علمی پیشرفت پر توجہ کی ضرورت

٭ بحرین میں مسلمانوں کے قتل عام پر عالم اسلام اور عالمی اداروں کے سکوت پر شدید تنقید

٭ علاقہ بالخصوص انقلابی ممالک میں بحران پیدا کرنے کی سازش کے مقابلے میں ہوشیاری پر تاکید

اس ملاقات کے آغاز میں عالمی اسلامی بیداری کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر ولایتی نے اسلامی بیداری کی گذشتہ نشستوں کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلامی بیداری اور عالم اسلام کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ کا اجلاس " پیشرفت، عدالت اور دینی عوامی حکومت" کے عنوان سے منعقد ہوا جس میں اسلامی ممالک کے 500 اساتذہ ، دانشوروں اور محققین نے شرکت کی اور عالم اسلام اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

فلسطين کي اسلامي تحريک مزاحمت حماس نے مسلمانوں کے اتحاد اور آٹھ روز جنگ غزہ ميں فلسطينيوں کي مزاحمت کي ستائش پر مبني قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي کے بيان کا شکريہ ادا کيا ہےـ

تحريک حماس نے ايک بيان جاري کرکے کہا ہے کہ جب علاقہ اپنے دشوار دور سے گزر رہا ہے اور اسے گوناگوں سازشوں کا سامنا ہے قائد انقلاب اسلامي نے ايک بار پھر اپنے اتحاد آفريں اور رہنما بيان سے نگاہوں کو علاقے کي اصلي مشکل يعني مسئلہ فلسطين اور فتنہ و شر انگيزي کي اصلي جڑ يعني قدس کي غاصب صيہوني حکومت کے منحوس وجود کي طرف مرکوز کرايا ہےـ

حماس نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ فلسطيني تنظيموں کي مثالي استقامت و پائيداري کي قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي کي زباني تعريف و ستائش نے دشمنوں کے ناپاک عزائم منجملہ تہران ميں حماس کا دفتر بند ہونے سے ليکر حماس کے رہنما پر بے جا الزام تراشي تک گوناگوں افواہوں کے ذريعے فلسطيني مجاہدين اور اسلامي جمہوريہ کے مابين اختلاف ڈالنے کي کوششوں کو ناکام کر ديا ہےـ

حماس کے بيان ميں آيا ہے کہ يہ تنظيم فلسطين کي مظلوم قوم اور فلسطيني مجاہدين کےلئے قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ ا لعظمي سيد علي خامنہ اي کي دائمي حمايت کي قدرداني کرتي ہے اور ذرائع ابلاغ عامہ پر قائد انقلاب اسلامي کے بيانوں اور ارشادات پر انتہائي توجہ دينے، اطلاعات کي صحيح منتقلي نيز صيہوني مہروں کے ذريعے وقفے وقفے سے پھيلائي جانے والي افواہوں سے اجتناب کي ضرورت پر تاکيد کرتي ہےـ

قائد انقلاب اسلامي نے منگل کے روز تہران ميں اسلامي بيداري اور يونيورسٹي اساتذہ کے زير عنوان منعقد ہونے والي بين الاقوامي کانفرنس کے شرکاء سے خطاب ميں آٹھ روز جنگ غزہ ميں غاصب صيہوني حکومت کے خلاف فلسطينيوں کي مزاحمت کي تعريف کي اور فرمايا کہ کوئي يہ باور نہيں کر سکتا تھا کہ فلسطينيوں اور اسرائيل کے درميان ٹکراؤ کے بعد جنگ بندي کي شرطيں فلسطينيوں کي جانب سے رکھي جائيں گي ــ