Super User
خواتين کے مسائل اور حقوق کے بارے ميں اسلام کي عادلانہ نظر
اسلام،خواتين کيلئے ايک عظيم و بلند مقام و مرتبے کا قائل ہے اور انہيں مشخص شدہ حقوق اور عملي زندگي خصوصاً خاندان کے قيام ودوام ميں بنيادي کردار عطا کرتا ہے اور اِسي طرح اُن کے اور مردوں کے درميان فطري اورمنطقي حدود کو معين کرتاہے ۔
خواتين کيلئے اسلام کي سب سے بڑي خدمت، معاشرے کے اِس اہم طبقے اور اُن کے حقوق کي نسبت عمومي نظر وزاويے کي اصلاح اور خواتين کو ايک جامع خانداني نظام اورمعاشرتي زندگي ميں ايک اہم کردار دلانا ہے ۔ اس سلسلے ميں خانداني نظام زندگي ميں اُن کے حقوق اور مقام و مرتبے کو استحکام بخشنا، فضول خرچي، شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ، تجمّل پرستي، زينت و آرائش کو ظاہر نہ کرنا اور جنسي و مادي امور ميں سرگرمي کو ممنوع قرار دينا اور خواتين کے رُشد و معنوي ترقي اوربلند وبالا انساني مقامات تک رسائي کے امکانات فراہم کرنا، اسلام کي ہدايت اور منصوبہ بندي ميں شامل ہيں ۔
عورت، عالم ہستي کا اہم ترين عنصر
عورت ، عالمِ خلقت کے اہم ترين امور کي ذمہ دار
ميري بہنو! خواتين کا موضوع اورمعاشرے کا اُس سے برتاو اور رويہ ايسا مسئلہ ہے جو ہميشہ سے مختلف معاشروں اورمختلف تہذيب وتمدن ميں زير گفتگو رہا ہے ۔ اس دنيا کي نصف آبادي ہميشہ خواتين پر مشتمل رہي ہے ۔ دنيا ميں زندگي کا قيام جس تناسب سے مردوں سے وابستہ ہے،اُسي طرح خواتين سے بھي مربوط ہے ۔خواتين نے عالم خلقت کے بڑے بڑے کاموں کو فطري طور پر اپنے ذمے ليا ہوا ہے اور تخليق کے بنيادي کام مثلاًبچے کي پيدائش اورتربيت اولاد ، خواتين کے ہاتھوں ميں ہيں ۔ پس خواتين کا مسئلہ بہت اہم مسئلہ ہے اور مختلف معاشروں ميں مختلف مفکرين اورمختلف اقوام وملل کے اخلاق وعادات ميں ہميشہ سے موضوع بحث رہا ہے ۔ اسلام نے اِن اہم موضوعات ميں سے ايک اہم موضوع کو منتخب کرکے اُسے افراط و تفريط سے بچاتے ہوئے دنيا کے تمام لوگوں کو خبردارکيا ہے ۔
خواتين مرد کے شانہ بشانہ بلکہ اُن سے بھي آگے؟!
اسلام نے اُن مردوں کو جو اپنے قدرت مند جسم يا مالي توانائي کي وجہ سے مردوں اور خواتين کو اپنا نوکر بناتے ، اُن سے خدمت ليتے اور خواتين کو اذيت وآزار اور کبھي کبھي تحقير کا نشانہ بناتے تھے، مکمل طور پر خاموش کرديا ہے اور خواتين کو اُن کے حقيقي اور مناسب مقام تک پہنچايا ہے بلکہ خواتين کو بعض جہات سے مردوں کے شانہ بشانہ لاکھڑا کيا ہے ۔ ’’اِنَّ المُومِنِينَ وَالمُومِنَاتِ وَالمُسلِمِينَ والمُسلِماتِ?‘‘ (قرآن بيان کررہا ہے کہ ) مسلمان مرد اورمسلمان عورت، عابد مرد اور عابدعورت اور نماز شب پڑنے والا مرد اور نماز شب ادا کرنے والي عورت ۔
س اسلام نے انساني درجات اور روحاني مقامات کو مرد وعورت کے دميان برابر برابر تقسيم کيا ہے ۔ (يعني ان مقامات تک رسائي ان دونوں ميں سے کسي ايک سے مخصوص نہيں ہے بلکہ دونوں ميں سے کوئي بھي يہ مقام حاصل کرسکتا ہے)۔ اس زاويے سے مرد وعورت ايک دوسرے کے مساوي اور برابر ہيں ۔ جو بھي خدا کيلئے نيک عمل انجام دے گا ’’مِن ذَکَرٍ اَو اُنثيٰ‘‘، خواہ مرد ہو يا عورت، ’’فَلَنُحيِيَنَّہُ حَيَاۃً طَيِّبَۃً‘‘ ١ ، ہم اُسے حيات طيبہ عطا کريں گے ۔
اسلام نے کچھ مقامات پر عورت کو مرد پر ترجيح دي ہے ۔ مثلاً جہاں مرد و عورت ،ماں وباپ کي صورت ميں صاحب اولاد ہيں ۔ اُن کي يہ اولاد اگرچہ کہ دونوں کي مشترکہ اولاد ہے ليکن اولاد کي اپني ماں کيلئے خدمت و ذمے داري باپ کي بہ نسبت زيادہ اور لازمي ہے ۔ اولاد پر ماں کا حق باپ کي بہ نسبت زيادہ ہے اورماں کي نسبت اولاد کا وظيفہ بھي سنگين ہے ۔
خاندان ميں عورت کا حق!
اس سلسلے ميں بہت زيادہ روايات نقل کي گئي ہيں ۔پيغمبر اکرم۰ سے کسي نے سوال کيا: ’’من عبر؟‘‘ (ميں کس سے نيکي کروں)۔ آپ۰ نے جواب ميں فرمايا ’’اُمَّکَ‘‘۔ يعني اپني ماں سے ۔ آپ۰ نے اس کے دوسرے سوال کے جواب ميں بھي يہ فرمايا اوراس کے تيسرے سوال کا يہي جواب ديا ليکن چوتھي مرتبہ جواب ميں فرمايا ’’اَبَاکَ‘‘ (اپنے باپ سے نيکي کرو)۔ پس خاندان کي چار ديواري ميں عورت کا اولاد پر حق بہت سنگين ہے ۔ البتہ اِس وجہ سے نہيں ہے کہ خداوند عالم يہ چاہتا ہے کہ ايک طبقے کو اکثريت پر ترجيح دے بلکہ يہ اِس جہت سے ہے کہ خواتين زيادہ زحمتيں برداشت کرتي ہيں ۔
يہ بھي عدل الٰہي ہے کہ خواتين کي زحمتيں زيادہ ہيں تو اُن کا حق بھي زيادہ ہے اور خواتين زيادہ مشکلات کا سامنا کرتي ہيں لہٰذا اُن کي قدر و قيمت بھي زيادہ ہے ۔ يہ سب عدالتِ الٰہي کي وجہ سے ہے ۔ مالي مسائل ميںمثلاً خاندان اور اُس کي سرپرستي کا حق اوراُس کے مقابل خاندان کو چلانے کي ذمہ داري ميں اسلامي روش ايک متوازن متعادل روش ہے ۔ اسلامي قانون نے اِس بارے ميں اتني سي بھي اجازت نہيں دي ہے کہ مرد يا عورت پر
-------------
١ سورئہ نحل / ٩٧
ذرہ برابر ظلم ہو۔ اسلام نے مرد وعورت دونوں کا حق الگ الگ بيان کياہے اور اُس نے مرد کے پلڑے ميں ايک وزن اور عورت کے پلڑے ميں دوسرا وزن رکھا ہے ۔ اگر اِن موارد ميں اہل فکر توجہ کريں تو وہ ان چيزوں کو ملاحظہ کريں گے ۔ يہ وہ چيزيں ہيں کہ جنہيں کتابوں ميں بھي لکھا گيا ہے ۔ آج ہماري فاضل اور مفکر خواتين الحمدللہ ان تمام مسائل کو دوسروں اور مردوں سے بہتر طور پر جانتي ہيں اوران کي تبليغ بھي کرتي ہيں ۔يہ تھا مرد و عورت کے حقوق کا بيان۔
اسلام اورحجاب
مرد اور عورت کي درمياني ’’حد‘‘ پر اسلام کي تاکيد
يہاں ايک بنيادي نکتہ ہے کہ جس پر اسلام نے بہت زيادہ تاکيد کي ہے اور وہ يہ ہے کہ تاريخ ميں مردوں کے مزاج ،عورتوں کي بہ نسبت سخت اور اِن کے ارادے مشکلات کا مقابلہ کرنے کي وجہ سے قوي اور جسم مضبوط رہے ہيں ۔ اِسي وجہ سے انہوں نے اہم ترين کاموں اور مختلف قسم کي ذمہ داريوں کو اپنے عہدے ليے ہوا تھا اور يہي وہ چيز ہے کہ جس نے مردوں کيلئے اپني جنس مخالف سے اپنے فائدے کيلئے سوئ استفادہ کرنے کے امکانات فراہم کيے ہيں ۔ آپ ديکھئے کہ بادشاہوں، ثروت مند، صاحب مقام و صاحب قدرت افراد ميں سے کون نہيں ہے کہ جس نے اپنے اپنے درباروں اور اپنے اپنے دارئرہ کار ميں اپنے مال و دولت اور مقام قدرت وغيرہ کے بل بوتے صنف نازک سے سوئ استفادہ ،دست درازي اور بے آبروئي کيلئے اقدامات نہ کيے ہوں؟!
يہ وہ مقام ہے کہ جہاں اسلام اپني پوري قوت و قدرت کے ساتھ احکامات جاري کرتا ہے اور معاشرے ميں مرد وعورت کے درميان حد اور فاصلے کو قرار ديتا ہے اور ان کے درميان تعلقات ميں سختي و پابندي کرتا ہے ۔ اسلام کي رو سے کسي کو بھي يہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ اِس حد کو پائمال کرے اور اس قانون کي بے احترامي کر ے ، کيونکہ اسلام نے خاندان اور گھرانے کو بہت زيادہ اہميت دي ہے ۔ گھر کے گلشن ميں مرد و عورت کا باہمي رابطہ کسي اور قسم کا ہے اور معاشرے ميں کسي اور قانون کے تابع۔ اگر معاشرے ميں مردو عورت کے درميان حائل فاصلوں کے قانون کا خيال نہ رکھا جائے تو نتيجے ميں خاندان اور گھرانہ خراب ہوجائے گا۔ گھرانے ميں عورت پر اکثر اوقات اورمرد پر کبھي کبھار ممکن ہے ظلم ہو۔ اسلامي ثقافت ، مرد وعورت کے درميان عدم اختلاط کي ثقافت ہے ۔ ايسي زندگي، خوشبختي سے آگے بڑھ سکتي ہے اورعقلي معيار وميزان کي رعايت کرتے ہوئے صحيح طريقے سے حرکت کرسکتي ہے ۔ يہ وہ مقام ہے کہ جہاں اسلام نے سختي کي ہے ۔
اسلام کي رو سے اگر معاشرے ميں (نامحرم) مرد اور عورت کے درميان فاصلے اور حد کو عبور کيا جائے،خواہ يہ خلاف ورزي مرد کي طرف سے ہو يا عورت کي طرف سے تو اسلام نے اِس معاملے ميں سخت گيري سے کام ليا ہے ۔ اسي نکتے کے بالکل مقابل وہ چيز ہے کہ جسے ہميشہ دنيا کے شہوت پرستوں نے چاہا اور اس پر عمل کرتے رہے ہيں ۔ صاحبان زر وزمين اور قدرت وطاقت رکھنے والے مرد،خواتين ، اُن کے ماتحت افراد اور اُن افراد نے کہ جنہوں نے اِن افراد کے ساتھ اور اِن کيلئے زندگي بسر کي، يہي چاہا ہے کہ مردو عورت کادرمياني فاصلہ اور حجاب ختم ہوجائے ۔ البتہ خود يہ امر معاشرتي زندگي اورمعاشرتي اخلاق کيلئے بہت برا اور مُضّر ہے ۔ يہ فکر و خيال اورعمل معاشرتي حيا و عفت کيلئے باعث زياں اور گھر و گھرانے کيلئے بہت نقصان دہ اور برا ہے اور يہ وہ چيز ہے کہ جو خاندان اورگھرانے کي بنيادوں کو متزلزل کرتي ہے ۔
حجاب و پردے ميں اسلام کي سنجيدگي
اسلام، خاندان اورگھرانے کيلئے بہت زيادہ اہميت کا قائل ہے ۔ مسلمانوں سے مغرب کي تمام پروپيگنڈا مشينريوں کا اختلاف اورجرح و بحث اِسي مسئلے پر ہے ۔ آپ ديکھئے کہ اہل مغرب حجاب و پردے کے مسئلے پرکتني حسّاسيت ظاہر کرتے ہيں! اگر يہ حجاب ، اسلامي جمہوريہ ميں ہو اُسے برا شمار کرتے ہيں، اگرعرب ممالک کي يونيورسٹيز و جامعات ميں ہو کہ جہاں جوان لڑکياں اپني معرفت، آگاہي اور اپنے تمام ميل و اختيار سے حجاب کا انتخاب کرتي ہيں ،تو اپني حساسيت ظاہر کرتے ہيں اور اگر سياسي پارٹيوں اور جماعتوں ميں حجاب ہو تو بھي ان کي بھنويں چڑھ جاتي ہيں ۔حتي اگرخود اُن کے اسکولوں ميں لڑکياں باحجاب ہوں تو باوجود يہ کہ يہ لڑکياں اُن کے ملک کي باشندہ ہيں ليکن پھر بھي يہ لوگ حجاب کي نسبت حسا س ہوجاتے ہيں ۔ پس اختلاف کي جڑ يہيں ہے ۔ البتہ خود يہ لوگ اپني پروپيگنڈا مشينري کے ذريعے ہر وقت فرياد بلند کرتے رہتے ہيں کہ اسلام ميں يا اسلامي جمہوريہ ميں خواتين کے حقوق کو پائمال کيا جارہا ہے ۔ حقيقت تو يہ ہے کہ خود اُن کو اس مسئلے کا يقين نہيں ہے اور وہ جانتے ہيں کہ اسلامي جمہوريہ ايران ميں خواتين کے حقوق کمزور اور پائمال ہونے کے بجائے اُن کا بہت زيادہ خيال رکھا جاتا ہے ۔
اسلامي انقلاب اورحقوق نسواں!
آپ توجہ کيجئے کہ آج ايران کے اعليٰ تعليمي اداروں اور جامعات ميں خواتين طالب علموں اور تحصيل علم ميں مصروف لڑکيوں کي تعداد زيادہ ہے يا زمانہ طاغوت ميں؟ توآپ ديکھيں گے کہ تعداد آج زيادہ ہے ۔ حصول تعليم کے ميدان ميں اچھي پوزيشن اور اچھے نمبر (درجات) لانے والي لڑکيوں کي تعداد آج زيادہ ہے يا شاہي حکومت کے زمانے ميں تھي ۔ وہ خواتين جو ہسپتالوں ، صحت کے مراکز اورمختلف علمي اداروں ميں کام اور تحقيق ميں مصروف عمل ہيں آج اُن کي تعداد زيادہ ہے يا گزشتہ زمانے ميںزيادہ تھي؟ وہ خواتين جو ملکي سياست اور بين الاقوامي اداروں ميں اپني شجاعت و دليري کے ذريعے اپنے ملک و قوم کے حقوق اور موقف کا دفاع کرتي ہيں، اُن کي تعداد آج زيادہ ہے يا انقلاب سے قبل اُن کي تعداد زيادہ تھي؟ آپ ديکھيں گے کہ ان کي تعداد آج پہلے کي نسبت زيادہ ہے ۔شاہي حکومت کے زمانے ميں خواتين مختلف گروپوں کي شکل ميں سياحت اور سفر کيلئے جاتي تھيں اور يہ سفر بہت اعليٰ پيمانے پر ہوتے تھے ليکن ہوس راني، شہوت پرستي اور اپني وضع قطع اورزينت و آرائش کو دوسروں کو دکھانے کيلئے ۔ ليکن آج کي مسلمان عورت بين الاقوامي اداروں ، بين الاقوامي کانفرنسوں، علمي مراکز اور جامعات ميں علمي ،سياسي اور ديگر قسم کي فعاليت انجام دے رہي ہے اور انہي چيزوں کي قدرو قيمت ہے ۔
مغربي اور مغرب زدہ معاشرے ميں خواتين کي صورتحال
طاغوتي ايام ميں ہماري لڑکيوں کو ’’آئيڈيل لڑکي‘‘اور ’’بہترين مثال‘‘ کے نام سے خاندان اور گھرانوں کے پاکيزہ اور پيار ومحبت سے لبريز ماحول سے باہر کھينچ کر برائيوں کي کيچڑ ميں ڈال ديتے تھے ليکن آج ايسي کوئي بات نہيں ۔ حقوق نسواں کہاں ضايع ہوتے ہيں؟ جہاں خواتين سے تحصيل علم، مناسب ملازمت ، اُن کي فعاليت اور خواتين کي خدمت کرنے جيسے اہم امور کے دروازے خواتين پر بند کرديے جاتے ہيں اور جہاں اُنہيں تحقير و تذليل کا نشانہ بنايا جاتا ہے ۔ جائيے اور امريکي معاشرے کو ديکھئے! آپ مشاہدہ کريں گے کہ اُس معاشرے ميں عورت کي کتني تحقير کي جاتي ہے! گھر کي عورت ، شوہر کي طرف سے اہانت کا نشانہ بنتي ہے اورماں اپنے بچوں کي طرف سے تحقير کا۔ ماں کے حقوق کہ جس طرح اسلامي مراکز اور معاشروں ميںموجود ہيں، اُس معاشرے ميں اُن کا تصور بھي ممکن نہيں ۔
خواتين، معاشرہ اور حجاب!
ميں نے ايک بين الاقوامي فورم ميں بہت ہي اہم اور معروف تقرير ميں خاندان اور گھرانے سے متعلق گفتگوکي ۔ بعد ميں جو رپورٹ ہميںملي وہ اِس بات کي عکاسي کررہي تھي کہ اُس ملک کے باشندوں نے ميري تقرير کے اُسي حصے کو بہت توجہ سے سنا اور بہت زيادہ پسنديدگي کا اظہار کيا ۔ وجہ يہ ہے کہ اُن ممالک ميں خاندان اور گھرانوں کي صورتحال بہت خراب ہوچکي ہے اور وہاں کے معاشرتي نظام ميں خواتين مختلف قسم کي ظلم کي چکي ميں پِس رہي ہے ۔ ليکن ہمارے يہاں مرد و عورت کے درميان ايک حد اورفاصلہ موجود ہے ۔ اِس حد اورفاصلے کا مطلب يہ نہيں ہے کہ مرد وعورت ايک جگہ علم حاصل نہيں کريں،ايک جگہ عبادت انجام نہ ديں اور ايک جگہ کاروبار اورتجارت نہ کريں، اس کي مثاليں ہمارے يہاں زيادہ موجود ہيں ، بلکہ اس کا معني يہ ہے کہ وہ اپني معاشرتي زندگي ميں اپنے اخلاق و کردار کيلئے اپنے درميان حد اور فاصلے کو قرار ديں اوريہ بہت اچھي چيز ہے ۔ ہمارے معاشرے ميں خواتين (مردوں کے ساتھ معاشرتي تعلقات کے باوجود) اپنے حجاب کي حفاظت کرتي ہيں ۔ ہماري عوام نے حجاب کيلئے چادر کو منتخب کيا ہے ۔ البتہ ہم نے کبھي يہ نہيں کہا کہ ’’حجاب و پردے کيلئے صرف چادرکو ہي ہونا چاہيے اورچادر کے علاوہ کوئي اور چيز قابل قبول نہيں ہے‘‘، ہاں ہم نے يہ کہا ہے کہ ’’چادر دوسري چيزوں سے زيادہ حجاب کيلئے موزوں اور بہترين ہے‘‘۔ ہماري خواتين اِس بات کي خواہاں ہيں کہ وہ اپنے پردے کي حفاظت کريں لہٰذا وہ چادر کو پسند کرتي ہيں ۔ چادر ہماري خواتين کا قومي لبا س ہے ۔ چادر قبل اس کے کہ اسلامي حجاب ہو، ايک ايراني حجاب ہے ۔ چادر ہماري عوام کا منتخب کيا ہوا حجاب اور خواتين کا قومي لباس ہے ۔
اسلامي جمہوريہ ايران ميں خواتين کي ترقي
ہمارے معاشرے ميں تعليم يافتہ،مسلمان اورباايمان خواتين کي تعدادبہت زيادہ ہے جو يا تحصيل علم ميں مصروف ہيں يا ملکي جامعات ميں اعليٰ درجے کے علوم و فنون کو بڑے پيمانے پر تدريس کررہي ہيں اوريہ بات ہمارے اسلامي نظام کيلئے باعث افتخار ہے ۔الحمد للہ ہمارے يہاں ايسي خواتين کي تعدادبہت زيادہ ہے کہ جو طب اور ديگر علوم ميں ماہرانہ اورپيشہ وارانہ صلاحيتوں کي مالک ہيں بلکہ ايسي بھي خواتين ہيں کہ جنہوں نے ديني علوم ميں بہت ترقي کي ہے اور بہت بلند مراتب ودرجات عاليہ تک پہنچي ہيں ۔ اصفہان ميں ايک بہت ہي عظيم القدرخاتون گزري ہيں ’’اصفہاني بانو‘‘ کے نام کي کہ جو مجتہدہ ، عارف و فقيہ تھيں ۔ اُس زمانے ميں صرف وہ تنِ تنہا تھيں ليکن آج بہت سي ايسي جوان لڑکياں ہيں جو مستقبل قريب ميں علمي، فلسفي اور فقہي اعليٰ مقامات تک رسائي حاصل کرنے والي ہيں اور ايسي خواتين کي تعداد بہت زيادہ ہے ۔ يہ خواتين ہمارے اسلامي نظام کيلئے باعث افتخار ہيں ۔ اِسے کہتے ہيں پيشرفت زن اور خواتين کي ترقي ۔١
خواتين کے بارے ميں اسلام کي نظر
خواتين کے بارے ميں تين قسم کي گفتگو اوراُن کے اثرات
الف: خواتين کي تعريف و ستائش کي گفتگو
پہلي قسم کي گفتگو انقلاب ميں خواتين کے فعال کردار کي تمجيد و ستائش کے بارے ميں ہے ۔ اسي طرح انقلاب کے بعد اور اسلامي تحريک کوپروان چڑھانے ميں خواتين کے موثر کردار کے بارے ميں بھي ہے کہ اگر انقلاب سے قبل اور انقلاب کے زمانے ميں خواتين اِس مبارزے اور تحريک ميں شرکت نہيں کرتيں تو يہ تحريک کبھي کامياب نہيں ہوتي ۔ يا موجودہ زمانے ميں خواتين کے کردار کو بيان کرنا ہو تو ہم ديکھتے ہيں جيسا کہ ذمے دار افراد ہميں رپورٹ ديتے ہيںکہ جامعات ميں خواتين کي تعداد زيادہ ہوگئي ہے ،خواتين بڑي بڑي ذمے داريوں کوقبول کررہي ہيں يا وہ عوامي ااجتماعات ميں اس طرح شرکت کرتي ہيں ۔ يہ گفتگو کا ايک ايسا سلسلہ ہے کہ جس پر بحث ہوني چاہيے اورہو بھي رہي ہے اور يہ بہتر بھي ہے ۔ يہ بحث و گفتگو نہ صرف يہ کہ ترغيب دينے والي بھي ہے بلکہ حقائق کو روشن بھي کرتي ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ يہ گفتگو اِس ميدان ميں اسلامي جمہوريہ کے موقف کو سامنے لاتي ہے ليکن خواتين کے مسائل کے مستقبل کيلئے بہت سودمند اور تاثير گزار نہيں ہے ۔
--------------
١ اکتوبر ١٩٩٤ ميں نرسوں کے ايک وفد سے خطاب
ب: خواتين کے بارے ميں اسلام کي نظر کي وضاحت دوسري قسم کي بحث و گفتگو ، خواتين کے بارے ميں اسلام کي نظر کو بيان کرنے کے بارے ميں ہے ۔ ايک جگہ ميں نے خواتين سے متعلق گفتگو کي، ميري بحث کا خلاصہ يہ تھا کہ اسلام بنيادي طور پر خواتين کوکس نگاہ و زاويے سے ديکھتا ہے ۔ ميں نے کہا تھا کہ عورت تين مقامات پراپنے وجود کو ثابت کرسکتي ہے ۔ اُن ميں سے ايک انساني کمال کا ميدان ہے ۔ اس بارے ميں اسلام کي نظر يہ ہے کہ ’’اِنّ المُسلمِينَ والمُسلماتِ والمومِنينَ و المُومنِاتِ والقَانِتِينَ وَالقاَنِتاتِ والصَّادِقِينَ والصَّادِقاتِ وَ الصَّابِرينَ والصَّابِراتِ والخَاشِعِينَ والخَاشَعَاتِ وَالمتَصَدِّقِينَ و المُتصَدِّقاتِ والصَّآئِمِينَ والصَّآئِمَاتِ وَالحَافِظِينَ فُرُوجَہُم وَالحَافِظَاتِ وَالذَّاکرِينَ اللّٰہَ کَثِيراً والذَّاکِراتِ‘‘ (مسلمان، مومن، صادق ، صابر ، خاشع، صدقہ دينے والے ، روزہ دار، شرمگاہوں کي حفاظت کرنے والے اور خدا کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اورعورتيں)۔يہاں خداوند عالم نے مرد اورعورت کي دس بنيادي صفات کو کسي فرق و تميز کے بغير دونوں کيلئے بيان کيا ہے ۔ اس کے بعد خداوند عالم ارشادفرماتا ہے کہ ’’اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُم مَغفِرَۃً وَّ اَجراً عَظِيماً‘‘ ١ (اللہ نے ايسے مردوں اورخواتين کيلئے مغفرت اور اجر عظيم مہيا کيا ہے)۔ لہٰذا اِس ميدان ميں اسلام کي نظر کو معلوم کرنا اور اُسے بيان کرنا چاہيے ۔
دوسرا ميدان کہ جس ميں عورت اپنے وجود کو ثابت کرسکتي ہے، وہ اجتماعي فعاليت کا ميدان ہے، خواہ وہ سياسي فعاليت ہو، اقتصادي ہو يا اجتماعي يا کوئي اور غرضيکہ عورت، معاشرے ميں وجود رکھتي ہو۔ لہٰذا اِس ميدان ميں بھي اسلام کي نظر کي وضاحت کرني چاہيے ۔ خواتين کي فعاليت کاتيسرا ميدان؛ عائلي اور خانداني نظام زندگي ميں عورت کے ميدان سے عبارت ہے لہٰذا اس ميں بھي اسلام کي نظر کو واضح کرنے ضرورت ہے ۔
---------
١ سورئہ احزاب / ٣٥
ہمارے محققين و مقريرين ان تمام جہات ميں اسلام کي نظر بيان کررہے ہيں ۔ ہم نے بھي کچھ مطالب کو ذکر کيا ہے اور دوسرے افراد بھي گفتگو کررہے ہيں اور يہ بہت اچھي بات ہے ۔ ہماري نظرميں يہ بحث وگفتگو ، بہت مفيد اور اچھي ہے ۔ يہ وہ مقام ہے کہ جہاں اسلامي نظريات اورمغربي دعووں کے درميان موازنہ ہونا چاہيے کہ يہ ديکھيں کہ اسلام اِن تين ميدانوں ميں خواتين کے کردار وفعاليت کو کس طرح بيان کرتا ہے اور اہل مغرب اِس بارے ميں کيا کہتے ہيں؟اور حق بھي يہي ہے اور عدل و انصاف بھي اِسي بات کي تائيد کرتا ہے کہ ان تينوں ميدانوں ميں عورت اورمعاشرے کيلئے اسلام کي نظر، دنيا ميں رائج تمام نظريات وگفتگو سے کئي مراتب بہتر، مفيد اور مضبوط ومستحکم ہے ۔
پس آپ توجہ کيجئے کہ دوسري قسم کي گفتگو اُن مطالب سے عبارت ہے کہ جہاں مختلف شعبوں ميں اسلام کي نظر بيان کي جاتي ہے اور يہ اچھي بات ہے ۔ اِن تمام کاموں کو بھي انجام پانا چاہيے اور يہ بالکل بجا ہيں ۔ ممکن ہے اس جگہ مختلف ابہامات اورغير واضح امور موجودہوں ۔چنانچہ ضروري ہے کہ افراد بيٹھيں، بحث کريں اور اپنے نظريے کو بيان کريں تو اُس وقت اُس گفتگو کو باآساني اور بہترين طريقے سے زير بحث لايا جاسکتا ہے جو گزشتہ کچھ عرصے سے فقہي حوالے سے ہمارے کانوں ميں پہنچ رہي ہے اور وہ يہ ہے کہ کيا خواتين قاضي بن سکتي ہيں اور کيا خواتين اجتماعي ، معاشرتي اور سياسي منصب کي حامل ہوسکتي ہيں؟
ج: معاشرتي اورگھريلو زندگي ميں خواتين کي مشکلات
تيسري قسم کي بحث وگفتگو ’’خواتين کي مشکلات‘‘ کے بارے ميں ہے کہ اِس بندئہ حقير کي نظر ميں اس مسئلے پر ہميں اپني فکر کو متمرکز کرنا چاہيے ۔ چنانچہ اگر ہم نے اس مسئلے کا صحيح حل نہيں نکالا توگزشتہ دوونوں قسم کي گفتگو اوربحث ، خواتين کے مسائل کے حل کے سلسلے ميں کسي کام نہيں آسکيں گي ۔ ديکھنا چاہيے کہ عورت کو معاشرے ميں کن مشکلات کا سامنا ہے؟اور اس سے بھي اہم بات يہ کہ عورت اپني عائلي اورگھريلو زندگي ميں کن مشکلوں سے دوچار ہے؟
کون سي گفتگو اہم ہے؟
آپ خواتين کو جو ’’حقوق نسواں اور اُن کے مسائل‘‘ کے ميدان ميں سرگرم عمل ہيں، اِس بات پر ہرگز قانع نہيں ہونا چاہيے کہ کوئي اِس سلسلے ميں يا ايک عورت کے فلاں عہدے کو لینے يا نہ لينے يا ديگر مسائل ميں اسلام کي نظر کو بيان کرنے کيلئے کتاب لکھے ۔ لہٰذا اِن چيزوں پر قانع ہوکر اپني فعاليت کو متوقف نہيں کرنا چاہيے بلکہ براہ راست خواتين کي مشکلات کے حل کيلئے اقدامات کرنے چاہئيں ۔
خواتين سے متعلق صحيح اورغلط نظريات
جہالت ، خواتين پر ظلم کا اصل سبب
اس بندئہ حقير کا بيان ہے کہ پوري تاريخ ميں اور مختلف معاشروں ميں عورت ظلم وستم کانشانہ بني ہے ۔ ايک جگہ ميں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اِس ظلم و ستم کي وجہ کيا ہے ۔يہ تمام ظلم و ستم ، انسان کي جہالت کي وجہ سے سامنے آتے ہیں ۔ اِس جاہل انسان کي طبيعت و مزاج يہ ہے کہ جہاں بھي اُس کے سر پرکوئي زورزبردستي کرنے والا نہ ہو، يا خود اُس کے اندر سے يعني واضح اور مضبوط ايمان (کہ اِس کي مثال بہت کم ہے) يا اُس کے باہر سے کسي قانون کا دباو نہ ہو يا اس کے سر پر کوئي تلوار يا قانون کا ڈنڈا نہ ہو تو معمولاً ايسا ہوتا ہے کہ طاقت ور موجود، کمزور پر ظلم کرتا ہے ۔
گھر کي حقيقي سربراہ، عورت ہے اور مرد ظاہري حاکم
البتہ عورت عقلي اعتبار سے مرد سے ضعيف وکمزور نہيں ہے بلکہ بعض اوقات اُس سے زيادہ قوي ہے ۔ اگرچہ کہ عورت کا انداز فکر، مرد کے اندازفکر سے مختلف ہے اور دونوں کے احساسات وجذبات ميں فرق ہے کيونکہ دونوں کے احساسات وجذبات ايک خاص کام کيلئے خلق کيے گئے ہيں اور انساني وجود ميں اُنہيں وديعت کيا گيا ہے ۔ بعض مقامات پر مثلاً ايک علمي مسئلے کے بارے ميں زنانہ اور مردانہ انداز فکر ميں کسي قسم کا فرق نہيں ہوتاہے ليکن زندگي کو چلانے ميں دونوں کے انداز فکر مختلف ہوتے ہيں ۔ عاقل اورپختہ عمر کي خواتين ميں يہ بات رائج ہے ، ميں نے بارہا اپني بزرگ اور بڑي خواتين سے سنا ہے اور صحيح سنا ہے کہ وہ کہتي ہے کہ ’’مرد ايک بچے کي مانند ہے‘‘ ، اور بالکل ٹھيک کہتي ہيں اورحقيقت بھي يہي ہے ۔ ايک عالم ،فاضل اور باشعور مرد بغير کسي ذہني بيماري و خلل کے اپنے گھر ميں اپني بيوي کے مد مقابل اور اُس کے ساتھ زندگي گزارنے ميں ايک بچے کي مانند ہے اور بيوي اُس بچے کي ماں کي طرح! جس طرح اگر ايک بچے کي غذا ميں تھوڑي تاخير ہوجائے تو وہ رونے چلانے لگتا ہے ۔ لہٰذا اُسے کسي بھي صورت ميں قانع کرنا اور چپ کرانا چاہيے ورنہ وہ ضد کرنے لگتا ہے ۔چنانچہ اگرايک عورت اپني مہارت سے ان کاموں کو انجام دے سکے تو ايک مرد اُس کے ہاتھوں رام ہوجاتا ہے ۔
آپ توجہ فرمائيے کہ ميں ان باتوں کو کيوں نقل کررہا ہوں ؟ميں نہيں چاہتا کہ مرد کے ايک بچہ ہونے پر دستخط کروں، البتہ يہ اور بات ہے کہ يہ ايک حقيقت ہے، ليکن اس بات کو بيان کرنے ميں ميري مراد يہ نہيں ہے بلکہ ميرے پيش نظر يہ نکتہ ہے کہ مرد اور عورت کي ذہنيت ايک دوسرے سے مختلف ہے ۔ عورت کي پختگي و مہارت اُس کے اپنے دائرہ فعاليت ميں اُس کے کام آتي ہے ۔ يعني ايک عورت گھر کي چار ديواري ميں يہ سمجھتي ہے کہ مرد ايک بچے کي مانند ہے، لہٰذا اُس کا کھانا وقت پر تيار کرنا چاہيے تاکہ وہ بھوکا نہ رہے ورنہ وہ بداخلاق ہوجائے گا۔ لہٰذا بہانے کا کوئي بھي موقع ہاتھ سے دنيا نہيں چاہيے ۔ يافرض کيجئے کہ مرد اعتراض کرتا ہے تو اُسے کسي بھي طريقے سے قانع کرنا چاہيے ۔اِس نکتے کي طرف بھرپور توجہ کيجئے! عاقل اور پختہ خواتين پوري مہارت سے يہ کام انجام ديتي ہيں اور مرد کي حرکات وسکنات ،رفتار وعمل اور ذہنيت کو پوري طرح کنٹرول ميں رکھتي ہيں ۔ بنابرايں، گھر ميں حقيقي سربراہ عورت ہے جبکہ علي الظاہر ،مرد ظاہري سربراہ ہے، اس ليے کہ وہ بھاري آواز ، مضبوط جسامت اور لمبے قد کاٹھ کا مالک ہوتاہے ۔
پس مطلب کو اس طرح بيان کرتے ہيں کہ بعض خواتين کي ذہنيت و عقل مردوں سے زيادہ مستحکم ہے يا وہ تفکر، علم اور احساسات وغيرہ ميں مرد جيسي ہيں ليکن عورت کاجسم بطور متوسط مرد سے کمزور ہوتا ہے ۔ توجہ کيجئے! بنيادي نکتہ يہي ہے ۔ ايک مثال فرض کيجئے کہ جہاں ايک عقل مند انسان ايک جاہل اور بدمعاش انسان کے ساتھ ہو اور ان ميں سے کسي ايک کو پاني پينا ہو (اور پاني کا ايک ہي گلاس موجود ہو)۔ قاعدۃً جس کي طاقت زيادہ ہوگي وہ پاني پي جائے گا مگر يہ کہ کسي طرح اُسے دھوکہ ديا جائے اورپاني کا گلاس اُس سے چھين ليا جائے ۔ تاريخ ميں ہميشہ سے يہي ہوتا رہا ہے ۔ مرد حضرات اپنے لمبي قدوقامت ،بھاري آواز اورمضبوط جسامت اور پٹھووں کي وجہ سے خواتين پر ان کے نازک اندام ہونے، نرم لب ولہجے، نسبتاً چھوٹے قد اور کمزور جسموں کي بنائ پر اُن پر ظلم کرتے رہے ہيں! يہ ايک حقيقت ہے، ميري اپني نظر ميں اگر آپ اِس ماجرا کي تہہ تک پہنچيں اور تحقيق کريں تو آپ اِس مقام پر پہنچيں گي کہ تمام ظلم و ستم کي وجہ يہي ہے ۔
خواتين سے متعلق روايات ميں ظالمانہ فکر و عمل سے مقابلہ
ہاں البتہ اگر کوئي قانون يا بہت شديد قسم کي محبت يا مستحکم ايمان جيسا معنوي عامل موجود ہو تو وہ ان تمام ظلم و ستم کا سدّباب کرسکتا ہے ۔البتہ ايمان کو مضبوط و مستحکم ہونا چاہيے ورنہ بہت سے علمائ ہيں کہ جن کا ايمان تو بہت اچھاہے ليکن اُسي کے ساتھ ساتھ اُن کا اپني زوجات سے برتاو اور سلوک اچھا نہيں ہے لہٰذا ايسے لوگ ہماري مجموعي بحث کے زمرے ميں آتے ہيں ۔ ہميں صرف اِس بات کي وجہ معلوم کرني چاہيے کہ تاريخ ميںخواتين ہميشہ ظلم و ستم کا نشانہ کيوں بني ہيں؟ پيغمبر اکرم۰ کے زمانے ميں بھي يہ ظلم وستم ہوا ہے اور آنحضرت۰ نے اِس ظلم سے مقابلہ کيا ہے ۔ يہ جو پيغمبر اکرم۰ نے خواتين کے بارے ميں اتني باتيں ارشاد فرمائي ہيں، صرف اِسي ظلم وستم سے مقابلے کيلئے ہيں ۔ اگر وہ صرف مقامِ زن کو بيان کرنا چاہتے تو اِس قسم کے پُرجوش و پُراحساس بيانات کي ضرورت نہيں تھي ۔ خواتين کے بارے ميں حضرت ختمي مرتبت۰ کے احساسات واظہارات اِس چيز کي عکاسي کرتے ہيں کہ آپ ايک چيز سے مقابلہ کرنا چاہتے ہيں اور وہ خواتين پر ہونے والا ظلم ہے اورپيغمبر اکرم ۰ اِس ظلم کے مقابل کھڑے ہيں ۔
معاشرتي اورگھريلو زندگي ميں خواتين کے ساتھ زندگي گزارنے کے بارے ميں حضرت ختمي مرتبت۰ اور آئمہ اہل بيت عليہم السلام سے جو روايات ١ نقل کي گئي ہيں وہ اِسي ظالمانہ فکر اورستمگرانہ رويے اور عمل سے مقابلے کي خاطرہے ۔ بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ يہ ظلم و ستم ہمارے زمانے ميں بھي جاري ہے البتہ صرف ہمارے معاشرے سے مخصوص نہيں ہے ۔ليکن اس بات کي طرف ہم سب کي توجہ ہوني چاہيے کہ پوري دنيا ميں يہ ظلم موجود ہے اور مغرب ميں بہت ہي بدترين شکل ميں موجود ہے ۔
١ وسائل الشيعہ، جلد ٢٠، صفحہ ٣٢٤۔ ٣٥٤
اہل مغرب کي ايک ظاہري خوبصورتي مگر درحقيقت ؟!
اہل مغرب صرف ايک خصوصيت کے حامل ہيں کہ اگر خود اُس کے مقام پر اُس کے بارے ميں قدرے تآمل اورغوروفکر کيا جائے تومعلوم ہوگا کہ اُن کي يہ خصوصيت مثبت نہيں ہے ۔ ليکن مغربي معاشرے ميں کئي مقامات پر اس خصوصيت وعادت کو بہت زوروشور سے بيان کيا جاتا ہے کہ گويا وہاں ظلم کا سرے سے وجود ہي نہيں ہے ۔ وہ عادت و خصوصيت يہ ہے کہ اہل مغرب مرد و عورت کے آپس ميں رويے ، سلوک اوربرتاو کو عورت سے عورت يا مرد سے مرد کے برتاو کے مثل قرار ديتے ہيں يعني وہ ان دو جنس (مرد وعورت) ميں کسي بھي فرق کے قائل نہيں ہيں ۔ کوچہ و بازار ہو يا گھر کي چار ديواري ،وہ دوستي ورفاقت اور معاشرت ميں اسي رفتار کے حامل ہيں ۔ ظاہر ميں يہ عادت وسلوک بہت دلچسپ اورجالب نظرآتا ہے ليکن جب آپ اس کي حقيقت تک پہنچتے ہيں تو معلوم ہوتا ہے کہ يہ امر غلط اور منفي ہے اوراسلام اس کي ہرگز تاکيد نہيں کرتا ہے ۔ اسلام نے مرد وعورت کے درميان ايک حجاب اور فاصلہ رکھا ہے کہ يہ دونوں اپني معاشرتي زندگي ميں اس حجاب اور حدود کي رعايت کريں ۔
بنابرايں ہم جس ظلم وستم کي بات کررہے ہيں وہ صرف ايراني معاشرے يا گزشتہ دور سے ہي مخصوص نہيں ہے بلکہ تاريخ کے مختلف زمانوں سے ليکر آج تک ايران سميت دنيا کے مختلف ممالک ميں اس کا وجود رہا ہے ۔ آج بھي يہ ظلم پوري دنيا ميں موجود ہے، اسي طرح مغربي ممالک خصوصاً امريکہ اور بعض يورپي ممالک ميں خواتين کو اذيت و آزارپہنچانے کے واقعات، اُن سے ظالمانہ سلوک و طرز عمل ، شکنجے اورمصيبتيں دوسري ممالک کي نسبت بہت زيادہ ہيں ۔ اس کے اعداد وشمار بہت زيادہ ہيں، البتہ ميں نے خود ان اعداد وشمار کو مغربي اور امريکي مطبوعات ميں ديکھا ہے نہ يہ کہ ہم اِس کو کسي کي زباني نقل کررہے ہيں ۔ يہ تو وہ چيز ہے کہ جسے انہوں نے خوداپني زبان سے بيان کيا ہے ۔ لہٰذا اس ظلم و ظالمانہ رويے اور عمل سے مقابلے کي ضرورت ہے ۔
فاتح شام،حضرت زینب
انسانی تارخ میں ابتدا سے آج تک حق و باطل کے درمیان بہت سی جنگیں ھوئی ھیں لیکن ان تمام جنگوں میں وہ معرکہ اور واقعہ اپنی جگہ پر بے مثل ھے جو کربلا کے میدان میں رونما ھوا ، یہ معرکہ اس اعتبار سے بھی بے مثال ھے کہ اس میں تلواروں پر خون کی دھاروں نے ، برچھیوں پر سینوں نے اور تیروں پر گلوں نے فتح و کامیابی حاصل کی ، اس طرح اس جنگ کا مظلوم آج تک محترم فاتح اور ھر انصاف پسند انسان کی آنکھوں کا تارا ھے جبکہ ظالم ابد تک کے لئے شکست خود رہ اور انسانیت کی نگاہ میں قابل نفرت ھے۔
اس معرکہ میں یزید جیسے فاسق و فاجر حاکم سلطنت کے مقابل خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھوٹے نواسہ سید الشھدا امام حسین علیہ السلام نے اس کی بیعت سے انکار کرتے ھوئے اپنی بغاوت کا اعلان کیا، آپ نے خود فرمایا: ”ھم اھل بیت نبوت ھیں ھم رسالت کے معدن ھیں، ھمارے گھروں میں فرشتوں کی آمد و رفت رھی ھے، خدا نے ھم سے ھی دنیا کا آغاز کیا ھے اور ھم ھی پر اس کائنات کا خاتمہ کرنے والا ھے جبکہ یزید فاسق و فاجر ھے، شراب پیتا ھے، محترم اور بے گناہ انسانوں کو خون بھاتا ھے اور کھلم کھلا گناہ اور برائیاں کرتا ھے لہٰذا میرے جیسے لوگ اس جیسے کی بیعت نھیں کرتے“ اس طرح امام حسین علیہ السلام نے اس اعلان کے ذریعہ اپنے ساتھ ماضی اور مستقبل کے تمام حق پسند انسانوں اور ایمان و حقانیت کا پرچم بلند کرنے والوں کی حیثیتوں کو واضح کرکے کسی بھی عھد میں ان کے باطل کے آگے نہ جھکنے کا اعلان کردیا۔
بظاھر اس کی بڑی سخت سزا امام حسین علیہ السلام کو دی گئی، آپ کوفہ والوں کی دعوت پر مکہ سے عراق کی طرف روانہ ھوئے، لیکن ابن زیاد جو یزید کی جانب سے کوفہ کا نیا گو رنر مقرر ھوا تھا، اس کی سفاکانہ چالوں، شدت پسندی اور مال و دولت اور منصب کی لالچ اور وعدہ وں کو فریب نیز اس کی طرف سے پھیلائے جانے والے عام خوف و ھراس نے اھل کوفہ سے تاریخ کی وہ سب سے بڑی غلطی کرائی جس کے برے اثرات عراق پر آج تک باقی ھیں، دنیا بھی اس کے مکروہ نتائج سے اب تک سرگرداں ھے ، اور مستقبل میں بھی خدا جانے کب تک اس کا شکار رھے۔
اھل کوفہ کی اکثریت نے نواسہ رسول امام حسین سے بے وفائی کی اور شام کے لشکر کے علاوہ آپ کو قتل کرنے کے لئے کربلا پھونچ گئے امام مظلوم نے اپنے ھمراہ کوئی لشکر نھیں لیا بلکہ اپنے چند باوفا ساتھیوں ، اپنے بھائیوں، بھتیجوں اور بھانجو ں کے ھمراہ قربانی دی،قربان کی حکمت کی اپنی مظلومانہ روش کو اختیار کیا جواب میں ظالم اور سفاک و جری ھوگئے اور انھوں نے تین دن تک آپ پر پانی بند کرکے انتھائی درندگی کے ساتھ آپ کو آپ کے ساتھیوں اور اھل خاندان کے ھمراہ شھید کرڈالا، اس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ان نام نھاد امتیوں نے رسول چشم مبارک کے بند ھونے کے چند ھی برسوں بعد آپ کے خاندان کو بڑی درندگی کے ساتھ قتل کردیا بلکہ آنحضرت کی عظمت و حرمت کو بھی امام حسین علیہ السلام کی لاش کے ھمراہ کربلا میں گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کرڈالا۔
قتل حسین مظلوم کے بعد ان کے خیموں میں آگ لگائی گئی، اور نواسہ رسول اسلام کے گھر کو بڑی بے باکی کے ساتھ لوٹ لیا گیا، رسول زادیوں کے سروں سے چادریں اتار لی گئیں اور امام حسین کے بیمار بیٹے امام زین العابدین علیہ السلام جو اس معرکہ میں بچ گئے تھے ان کے ھاتھوں اور پیروں میں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں اور گلے میں طوق پہنایا گیا، اور انھیں سر برہنہ رسول زادیوں کے ھمراہ کربلا سے قید اور اسیر کرکے کوفہ اور وھاں سے شام لے جایا گیا۔
ان مقامات پر اگر چہ امام زین العابدین علیہ السلام بظاھر قیدی تھے اس کے با وجود اپنی مظلومیت کے ھمراہ اپنے باپ امام حسین علیہ السلام کی بے مثال قربانی اور ان کی مظلومیت اور ان کی حقانیت کا ھر موقع پر اعلان کرتے رھے، اور فریضہ امامت کو ادا کرتے رھے ، جس کی صرف ایک جھلک یھاں ذکر کی جاتی ھے ، کہ جب آپ کو اور ایک ھی رسی تمام اھل حرم کو باندھ کر یزید لعین کے دربار میں جھاں سات سو کرسی نشینوں کا مجمع تھا ، لایا گیا تو آپ نے یزید سے خطاب کرکے فرمایا : اے یزید یہ بتا اگر اس وقت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے دربار میں آجائیں تو وہ کھاں بیٹھنا پسند کریں گے ، تیرے پاس ، یا اپنی ان اولاد کے پاس جنھیں تو نے اس طرح ذلیل کرکے اور رسیوں میں جکڑ کر خاک پر بٹھارکھا ھے؟
لیکن مظلومیت کے اس اسیر شدہ قافلہ کی قیادت و سرداری جس شخصیت کے ھاتھوں میں تھی وہ کربلا کی شیر دل خاتون اور علی جیسے شجاع انسان کی شجاع بیٹی جناب زینب تھی ،اگر چہ آپ کا دل کربلا کے دردناک واقعہ سے ٹکڑے ٹکڑے تھا اور اپنی نگاھوں کے سامنے عزیزوں کا انتھائی سفاکانہ قتل اور اپنے عزیزترین بھائی یعنی حسین کا گلا شمر لعین کے ھاتھوں کٹتے ھوئے دیکھ کر آپ کی آنکھیں خون کے آنسو رورھی تھیں، اور خاص طور سے آپ کی بے پردگی نے آپ کو نیم جان بنارکھا تھا، اس کے باوجود آپ نے خاندان رسالت کی مظلومیت ، اپنے بھائی حسین کی حقانیت اور بنی امیہ کے ظلم و ستم کو آشکار کرنے کے کسی بھی موقع کو ھاتھ سے جانے نہ دیا۔
اھل کوفہ نے جب آل محمد کی اس بے کسی بیبیوں کی سربرہنہ اسیری نیز حسین اور ان کی اولاد اور انصار کے کٹے ھوئے سروں کو نیزوں پر بلند دیکھا تو رونے لگے اس پر جناب زینب سے ان کی ضمیروں کو جھنجھوڑتے ھوئے فرمایا: اب تم رورھے ھو ، اے اھل کوفہ تمھیں ھمیشہ رونا نصیب ھو پھلے تم نے ھی میرے بھائی کو خط لکھ کر بلایا اور جب وہ آئے تو ان کے ساتھ دغا کی اور انھیں کربلا میں تین دن کا بھوکا پیاسا قتل کرڈالا، ان کے عزیزوں کو تہہ تیغ کیا اور ان کے بچوں اور خواتین کو اسیر کرکے بازاروں اور درباورں میں پھرا رھے ھو، اور روبھی رھے ھو۔۔۔؟
جب کوفہ اور شام کے بازاروں میں ان اسیروں کی طرف صدقہ کے خرمے پھینکے جارھے تھے تو اس وقت آپ ان نادانوں سے اپنا تعارف کراتے ھوئے فرماتی تھیں: ھماری طرف صدقے کے خرمے نہ پھیکو، ھم آل محمد ھیں اور ھم پر صدقہ کھانا حرام ھے۔
اپنے بیمار بھتیجے امام زین العابدین (ع) کے ساتھ ساتھ آپ نے بھی قرآنی آیات اور احادیث رسول اکرم سے استدلال کرتے ھوئے یزید کے دربار میں ایسی تقریر فرمائی اور یزید کو اس کے ھمنواؤں کے سامنے اس طرح بے نقاب کردیا کہ وہ یزید جو اھل حرم کو پھلے دن اپنے دربار میں دیکھ کر غرور کے عالم مںی وہ اشعار پڑھنے لگا تھا جس کا مطلب تھا کہ ”بنی ھاشم نے حکومت کے لئے ایک کھیل کھیلا تھا ورنہ،نہ تو کوئی وحی آئی اور نہ کوئی رسول آیا اے کاش بدر میں قتل ھونے والے میرے بزرگ زندہ ھوتے اور دیکھتے کہ میں بنی ھاشم سے ان کے قتل کا کیسا سخت انتقام لیا ھے“ اب وھی یزید جناب زینب کے خطبوں کے سامنے بغلیں جھانکنے لگا اور اپنا الزام ابن زیاد اور شمر کے سر ڈالنے لگا، جناب زینب کے آتشیں خطبوں اور ان کی مظلومانہ فریاد نے چند دونوں میں ھی حقیقت کھول کر رکھ دی اور اھل شام کو یزید کی کرتوتوں کا پتہ چل گیا، کہ خلیفة المسلیمن بن کر وہ باغیوں کے قتل کا مرتکب ھوا ھے وہ کوئی خارجی نھیں بلکہ ان کے رسول کا نواسہ اور ان کی پارہ جگر فاطمہ زھرہ کا بیٹا ھے، اور یہ قیدی خود آنحضرت کے بچے ھیں جن کے ساتھ اس نے یہ بدسلوکی کی ھے۔ شام کی بدلتی ھوئی فضا نے یزید کو مجبور کردیا کہ وہ جلد از جلد اھل حرم کو رھا کردے اور یہ جناب زینب کی سب سے پھلی کامیابی تھی کہ آپ نے رھائی کے فوراً بعد خود یزید کے گھر یعنی شام میں اپنے بھائی کی صف عزا بچھائی، اور وہ اربعین کا دن تھا جب یہ دکھیا بہن اپنے بھائی کا چھلم کرنے کربلا پھونچی تھی اور اپنے بھائی کی قبر پر روتے ھوئے شام کی فتح کا اعلان کیا تھا۔
سفر حج کے موضوع پر ایک کتاب پرھنے کے بعد قائد انقلاب اسلامی کے تاثرات
یہ کتاب مجھے ایک بار پھر خانہ خدا اور حرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کے شوق و حسرت کی فضا میں لے گئی۔ ایسی حسرت اور ایسا شوق جس کے پورے ہونے کی امید نہیں۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ایام نوجوانی سے تا حال کبھی بھی میرا دل اس آتش شوق و حسرت سے کبھی خالی نہیں رہا۔ گھٹن کے اس سیاہ دور میں بھی جب اہل بصیرت یا بے بصیرت عالم رغبت و چاہت کے ساتھ یا سیر و سیاحت کی نیت سے بآسانی حج کے لئے جا سکتے تھے، میرے لئے یہ ممکن نہیں تھا۔ بلکہ یوں کہوں کہ کوئی بھی کارواں اور ٹور آپریٹر شاہ کی (خفیہ ایجنسی) ساواک کے خوف سے اس کی جرئت نہیں کرتا تھا کہ میرا نام اپنے عام حاجیوں کی فہرست میں شامل کرے، کارواں کے عالم دین کی حیثیت سے لے جانا تو بہت دور کی بات تھی۔ جی ہاں اس سخت دور میں بھی زیارت خانہ کعبہ اور مکہ و مدینہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قدم گاہ کا بوسہ لینے کی میری آرزو پوری نہ ہو سکی۔ یہ آرزو حالانکہ سنہ تیرہ سو اٹھاون ہجری شمسی (مطابق 1980 عیسوی) میں شہید محلاتی کے لطف سے دس روزہ سفر حج کے دوران پوری تو ہو گئی لیکن اس جذبہ شوق کی آگ کے شعلے اور بھی بھڑک اٹھے اور ان کی سوزش بڑھ گئی۔ اپنی صدارت کے دور میں میری امید یہ دور پورا ہو جانے کے بعد کے ایام سے وابستہ تھی لیکن اب۔۔۔۔۔؟ میرا جذبہ اور یہ شوق تسکین سے محروم اور میری امید تقریبا ختم ہے۔ صرف اس طرح کے سفر ناموں کو پڑھنا یا سننا تسلی کا راستہ ہے جو اس شوق کی آگ کو اور بھی شعلہ ور کر دیتا ہے۔
حضرت مریم علیها السلام
ماں نے نذر مانی خیال تھا بیٹا ہوگا مگر حضرت مریم کی ولادت ہوئی۔ اللہ نے بیٹی کو بھی خدمت بیت المقدس کے لئے قبول کر لیا۔ وَإِنِّیْ سَمَّیْتُہَا مَرْیَمَ وَإِنِّیْ أُعِیذُہَا بِکَ ۔ "میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا۔ میں اسے شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ (آل عمران:۳۶) پھر بڑی ہوگئیں۔ خدا کی طرف سے میوے آتے ۔ ذکریا پوچھتے۔ بتاتیں۔ من عنداللہ ۔ اللہ کی طرف سے ہیں ۔حتیٰ کہ جوان ہو گئیں۔ ارشاد رب العزت ہے:
وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ إِذَ انْتَبَذَتْ مِنْ أَہْلِہَا مَکَانًا شَرْقِیًّا فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِہِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَیْہَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا قَالَتْ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِالرَّحْمَانِ مِنْکَ إِنْ کُنْتَ تَقِیًّا قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِأَہَبَ لَکِ غُلَامًا زَکِیًّا قَالَتْ أَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلَامٌ وَلَمْ یَمْسَسْنِی بَشَرٌ وَّلَمْ اَ کُ بَغِیًّا قَالَ کَذٰلِکِ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ وَلِنَجْعَلَہ آیَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَکَانَ أَمْرًا مَقْضِیًّا فَحَمَلَتْہُ فَانتَبَذَتْ بِہ مَکَانًا قَصِیًّا فَأَجَائَہَا الْمَخَاضُ إِلٰی جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ یَالَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہَذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا فَنَادَاہَا مِنْ تَحْتِہَا أَلاَّ تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا وَہُزِّیْ إِلَیْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَقَرِّی عَیْنًا فَإِمَّا تَرَیِنَ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُوْلِی إِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمَانِ صَوْمًا فَلَنْ أُکَلِّمَ الْیَوْمَ إِنْسِیًّا فَأَتَتْ بِہ قَوْمَہَا تَحْمِلُہ قَالُوْا یَامَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا یَاأُخْتَ ہَارُوْنَ مَا کَانَ أَبُوْکِ امْرَأَ سَوْءٍ وَّمَا کَانَتْ أُمُّکِ بَغِیًّا فَأَشَارَتْ إِلَیْہِ قَالُوْا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَہْدِ صَبِیًّا قَالَ إِنِّیْ عَبْدُ اللہ آتَانِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا وَّجَعَلَنِیْ مُبَارَکًا أَیْنَ مَا کُنْتُ وَأَوْصَانِیْ بِالصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ مَا دُمْتُ حَیًّا وَبَرًّا بِوَالِدَتِیْ وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا وَالسَّلَامُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُ وَیَوْمَ أَمُوتُ وَیَوْمَ أُبْعَثُ حَیًّا .
"اس کتاب میں مریم کا ذکر کیجئے۔ جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر مشرق کی جانب گئی تھیں۔ یوں انہوں نے ان سے پردہ اختیار کیا تھا۔ تب ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا۔ پس وہ ان کے سامنے مکمل انسان کی شکل میں ظاہر ہوا۔ مریم نے کہا۔ اگر تو پرہیز گار ہے تو میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں۔ اس نے کہا میں تو بس آپ کے پروردگار کا پیغام رساں ہوں۔ تاکہ آپ کو پاکیزہ بیٹا دوں۔ مریم نے کہا۔ میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا۔ مجھے تو کسی بشر نے چھوا تک نہیں۔ اور میں کوئی بدکردار بھی نہیں ہوں۔ فرشتے نے کہا۔ اسی طرح ہوگا ۔ آپ کے پروردگار نے فرمایاہے کہ یہ تو میرے لئے آسان ہے اور یہ اس لئے ہے کہ ہم اس لڑکے کو لوگوں کے لئے نشانی قرار دیں۔ اور وہ ہماری طرف سے رحمت ثابت ہو اور یہ کام طے شدہ تھا اور مریم اس بچہ سے حاملہ ہو گئیں اور وہ اسے لیکر دور چلی گئیں۔ پھر زچگی کا درد انہیں کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں۔ اے کاش میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور صفحہ فراموشی میں کھو چکی ہوتی۔ فرشتے نے مریم کے پیروں کے نیچے سے آواز دی غم نہ کیجئے آپ کے پروردگار نے آپ کے قدموں میں ایک چشمہ جاری کیا ہے اور کھجور کے تنے کو ہلائیں تو آپ پر تازہ کھجوریں گریں گی۔ پس آپ کھائیں پئیں اور آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اگر کوئی آدمی نظر آئے تو کہہ دیں۔ میں نے رحمان کی نذر مانی ہے۔ اس لئے آج میں کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔ پھر وہ اس بچے کو اٹھا کر اپنی قوم کے پاس لے آئیں۔ لوگوں نے کہا اے مریم۔ تو نے غضب کی حرکت کی۔ اے ہارون کی بہن۔ نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدکردار تھی۔ "پس مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگ کہنے لگے ہم ا س کیسے بات کریں۔ جو بچہ ابھی گہوارہ میں ہے۔ بچے نے کہا میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی ہے۔ اور مجھے نبی بنایا ہے اور میں جہاں بھی ہوں مجھے بابرکت بنایا ہے۔۔ اور زندگی بھر نماز اور زکوة کی پابندی کا حکم دیا ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ بہتر سلوک کرنے والا قرار دیا ہے اور اس نے مجھے سرکش اور شقی نہیں بنایا۔ اور سلام ہو مجھ پر جس روز میں پیدا ہوا جس روز میں وفات پاؤں گا اور جس روز دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔" (مریم:۱۶تا۳۳)
حضرت مریم خدا کی خاص کنیز ۔بیت المقدس میں ہر وقت رہائش ۔ اللہ کی طرف سے جنت کے کھانے و میوے۔ برگزیدہ مخلوق۔ بہت بڑے امتحان میں کامیاب ہوئی۔ ۳ گھنٹہ یا ۳ دن کے بچے نے اپنی نبوت اپنی کتاب اور اپنے بابرکت ہونے کی خبر دے کر کے اپنی والدہ ماجدہ کی عصمت کی گواہی دی اوربتایا مجھے والدہ ماجدہ سے بہترین سلوک کا حکم ملا ہے۔ پھر مریم کے پاؤں کے نیچے چشمہ جاری ہوا۔ خشک درخت سے تر و تازہ کھجوریں۔یہ اللہ کی طرف سے اظہارہے کہ جو میرا بن جائے خواہ عورت ہو یا مرد۔ میں اس کا بن جاتا ہوں ، عزت کی محافظت میرا کام، اشکالات کے جوابات میری طرف سے اوروہ سب کو ایسے برگزیدہ لوگوں (مرد ہو یا عورت)کے سامنے جھکا دیتا ہے ۔تومیرے سامنے جھک جا۔دنیا تیرے سامنے سرنگوں ہو گی۔ حضرت مریم کی تعریف و ثناء ارشاد رب العزت ہے: وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِکَةُ یَامَرْیَمُ إِنَّ اللہ اصْطَفَاکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفَاکِ عَلٰی نِسَاءِ الْعَالَمِیْنَ یَامَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ وَاسْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ "اور (وہ وقت یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا اے مریم۔ اللہ نے تمہیں برگزیدہ کیا ہے اور تمہیں پاکیزہ بنایا ہے اور تمہیں دنیا کی تمام عورتوں سے برگزیدہ کیا ہے اے مریم اپنے رب کی اطاعت کرو اور سجدہ کرتی رہو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو۔" (آل عمران :۴۲۔۴۳)
إِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِکَةُ یَامَرْیَمُ إِنَّ اللہ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَةٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَہْدِ وَکَہْلًا وَّمِنَ الصَّالِحِیْنَ قَالَتْ رَبِّ أَنّٰیْ یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ قَالَ کَذٰلِکِ اللہ یَخْلُقُ مَا یَشَاءُ إِذَا قَضٰی أَمْرًا فَإِنَّمَا یَقُوْلُ لَہ کُنْ فَیَکُوْنُ وَیُعَلِّمُہُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِیْلَ۔
" جب فرشتوں نے کہا اے مریم۔ اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہو گا وہ دنیا و آخرت میں آبرو مند ہوگا اور مقرب لوگوں میں سے ہوگا اور وہ لوگوں سے گہوارہ میں گفتگو کرے گا اور صالحین میں سے ہوگا۔ مریم نے کہا۔ پروردگار! میرے ہاں لڑکا کس طرح ہو گا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ فرمایا ایسا ہی ہوگا۔ اللہ جو چاہتا ہے خلق فرماتا ہے۔ جب وہ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس سے کہتا ہے ۔ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔ اور (اللہ) اسے کتاب و حکمت اور توریت و انجیل کی تعلیم دے گا۔" (آل عمران :۴۵۔۴۸) اللہ حضرت مریم کو طاہرہ، منتخب ہو اور پاکیزہ ہونے کی سند کے ساتھ عالمین کی عورتوں کی سردار قرار دے رہا ہے۔ کلمة اللہ ۔ روح اللہ کی ماں اعجاز خدا کا مرکز ۔ طہارة و پاکیزگی کا مرقع ایسے ان لوگوں کی اللہ تعریف کرتا ہے مرد ہو یا عورت۔ "عورت بھی خداکی معزز مخلوق ہے۔"
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا خطبہ
گیارہ ہجری میں ایک بوسیدہ مکان سے پیوند لگی چادر زیب تن کئے ایک خاتون در بار خلافت کی طرف گامزن تھی وہ خاتون جس کی چادر کے پیوندوں کی ضوفشانی ماہ و انجم کی چمک دمک اور نورانیت کو شرمندہ کئے دے رہی تھی وہ خاتون کی جو سراپا نور تھی جس کی صداقت کا یہ عالم یہ تھا کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے خالق کائنات نے خلعت جنت اس کے بچوں کے زیب تن کرنے کے لئے رضوان جنت کو خیاط بن جانے کا حکم دیا، جس کی محبت اور جانشانی کا یہ عالم تھا کہ رحمتہ للعالمین نے اسے امّ ابیہا کے لقب سے نوازا جس ک زہد و عبادت کا یہ عالم تھا کہ اسے زینت محراب، فخرالساجدین علی ابن ابی طالب علیہما السلام نے عبادت میں اپنا بہترین شریک قرار دیا وہ بزرگ خاتون احقاق حق اور چہرئہ باطل سے پردہ ہٹانے کے لئے دربار کا رخ کرتی ہیں اور اس بی بی نے دربار خلافت میں ایسا خطبہ پڑھا کہ چشم کائنات متحیر ہو گئی ۔ عرب کے فصیح و بلیغ افراد اپنے کو گونگا محسوس کرنے لگے اور علماء کے لئے یہ معلوم کر پانا مشکل ہو گیا کہ اس خطبہ میں کہاں خدا کا کلام ہے اور کہاں بنت پیامبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا!
اس بی بی نے بھرے دربار میں ظالموں کو شرمسار کردیا اور باطل کے چہرے سے اس طریقے سے نقاب ہٹائی کہ قیام قیامت تک کے لئے ہر حق جو کیلئے حق و باطل کے درمیان امتیاز کر پانا آسان ہو گیا اور اس خاتون نے یہ بتایادیا کہ دیکھو جب باطل زیادہ سر اٹھانے کی کوشش کریگا ، تو ہم میں سے کوئی آگے آئے گا اور باطل کو اس کی سرپچیوں کا مزہ ضرور چکھائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو اس امر کو انجام دینے کے لئے خاندان بنی ہاشم کی عورتیں بھی قدم آگے بڑھا سکتی ہیں۔
وہ عظیم کارنامہ جو شہزادی اسلام نے 11ھ میں انجام دیاتھا 61 ھ میں آپ کی بیٹی عقیلہ بنی ہاشم، ثانی زہرا جناب زینب کبریٰ سلام اللہ علیہ نے دہرایا 61ھ میں جب ظلم و استبدا د اپنی انتہائی منازل تک پہنچ رہا تھا، باطل کو سر پیچیاں حد سے گذر رہی تھیں جب درندگی کے چنگل میں انسانیت دم توڑتی نظر آ رہی تھی ، شرافت و صداقت کو جب ظلم و بربریت نے اپنے سیاہ بادلوں کے گھیرے میں لے لیا تھا اس دیانت کو لباس الحاد پہنانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ دین اسلام ویران گلیوں اور سنسان بیابانوں میں ناصر و مددگار کی تلاش میں سر گرداں تھا، خلافت کے نام پر اسلام کا مذاق اڑا یا جاا رہا تھا ، در بار خلافت مداریوں اور طوائفوں کا اڈا بن گیا تھا، پھر ایسے ماحول میں کچھ دینداروں کی نگاہیں جناب زہرا سلام اللہ علیہا کوتلاش کر رہی تھیں، اس وقت جناب زہرا سلام اللہ علیہا تو نہ تھیںلیکن ثانی زہرا سلام اللہ علیہانے یہ آوا ز دی کہ اگر زہرا نہیں تو ثانی زہرا موجود ہے ، اور اس باعظمت خاتون نے دربار شام میں وہ شجاعانہ خطبہ دیا کہ زبانیں یہ کہنے پر مجبور ہو گئیں کہ :
دلیر باپ کی بیٹی کا نام ہے زینب
اس خطبے سے سوتے ہوئے ذہن جاگنے لگے چہرہ باطل سے پردہ اٹھ گیا ، وہ ایسا خطبہ تھا کہ جسے سن کر لوگ دنگ رہ گئے ، جناب زینت سلام اللہ علیہ کی تقریر سننے کے بعد لوگوں کے لئے یہ سمجھ پانا مشکل ہو گیا کہ کوئی خاتون دربار خلافت میں تقریر کر رہی ہیں یا، علی مرتضیٰ مسجد کوفہ میں خطبہ دے رہے ہیں ، وہ خطبہ اس قد حکمت آمیز تھا کہ صاحبان عقل و خرآج بھی یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں
دیار شام میں خطبہ حکیمانہ تھا زینت کا
کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد مقصد حسینی کو دنیا تک پہونچانے والاکوئی نہ تھا اگر زینب سلام اللہ علیہا نے سید سجاد علیہ السلام کے ساتھ اس کام کو انجام نہ دیا ہوگا، اس وقت کہ جب درباری مؤرخین سید الشہداء علیہ السلام کو ایک خارجی سے تعبیر کر رہے تھے، جب ضمیر فروش مقررین منبر رسول کے خلاف تبلیغات سوء کر رہے تھے تو وہ زینب سلام اللہ علیہا ہی تھیں کہ جنہوں نے آراستہ دربار میں سیکڑوں کے مجمع میں اثبات حق کے لئے اپنے لبوں کو جنبش دی اور خواب غفلت میں پڑے ذہنوں کو جھنجھوڑا، ہفتوں کی پیاس کے باوجود ایسی تقریر فرمائی کہ دربار خلافت میں ایک تلاطم مچ گیا ، یزیدیت دم توڑنے لگی، اور اس طریقہ سے زینت نے بھرے دربار میں فتح حسینی کا اعلان کر دیا ثانی زہرا سلام اللہ علیہا اثبات حق کے لئے اور چہرئہ باطل سے نقاب ہٹانے کے لئے زہرا ہی کی طرح آیات قرآنی کا سہارا لیا اور فرمایا کہ شکر ہے عالمین کے رب کا، درود و سلام و آل رسول پر، خدائے پاک نے صحیح فرمایا ہے کہ ﴿عم کان عاقبۃ الذین اباؤ االسوء ان کنبو ابأیات اللہ و کانو ایہا یستہزنون﴾ برے کام کرنے والوں کا انجام برا ہے کہ ان لوگوں نے آیات خدا کی تکذیب کی اور اس کا مذاق اڑایا اے یزید کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو نے ہمارے لئے زمین و آسمان کے دروازوں کو بند کردیا ہے اور ہم کو غلاموں کی طرح پھرایا ہے ، تو ہم خدا کے نزدیک ذلیل ہو گئے اور تو ذی وقار ؟ اور اس طرح سے ہم پر تیرا غلبہ ہو گیا، لہٰذا خدا کے نزدیک تیری عزّت اور سر بلندی کے مترادف ہے ؟ پس تو نے تکبّر کیا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ فاتح عالم ہے تھوڑا قدم بڑھا، کیا قول خدا کو بھلا بیٹھا ہے ﴿ولا یحسبنّ الذین کفر واانّما نملی لہم لیزدادواانسمأ و لہم عذاب الیہم﴾
کافروں کو یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ ہم نے انہیں مہلت دی اس لئے کہ ہم ان کا بھلا چاہتے ہیں ، نہ ! ایسا نہیں ہے، بلکہ ہم نے انہیں مہلت دی تاکہ وہ گناہ زیادہ کریں اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے آپ یزید کو مخاطب کر کے آگے ارشاد فرماتی ہیں کہ:
﴿ أمن العدل با بن الطلقاء تضبرک ہرابرک و امائک و بو فک بنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بایاافد ھتلت بنور ہن و ابدلت وجو ہنّا﴾
...... ا ے میرے جد کے آزاد کردہ غلام کے بیٹے کیا یہی انصاف ہے کہ تو اپنی عورتوں اور کنیزوں کو تو پس پردہ رکھے اور رسول زادیوں کو اسیر کر کے کشاں کشاں پھرائے؟ بے پردہ شہر بہ شہر لے جایا جائے ؟ اور نامحرموں کی نگاہیں ان کے چہروں پر ہوں تو نے ذریت پیغمبر کا خون بہایا کہ جو آل عبدالمطلب میں روئے زمین پر ستاروں کے مانند تھے تو نے جو یہ کہا کہ :
لیث اتبا فی ببدر نہروا جزع الخزرج من وقع الال
لعبث ہما ئم با لملک فدا ضبر جاء ولا وہی نزل
تو جس طریقہ سے تو نے آج اپنے بزرگوں کو یاد کیا اور اپنے اسلاف کو آواز دی، پریشان نہ ہو کہ عنقریب تو ان سے ملے گا اور یہ آرزو کر ے گا کہ اے کاش تیرے ہاتھ شل ہو گئے ہوتے اور تیری زبان گنگ ہو گئی ہو تی اور تو وہ باتیں نہ کہتا جو کہیں وہ کام نہ کر تا جو کیا !
بہ خدا قسم تو نے خود اپنی کھال کھینچی، اپنے گوشت کو ٹکڑے ٹکڑے کیا، تو رسول کے پاس حاضر ہوگا اس حال میں کہ تیرے دوش پر خون آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کا بار ہوگا،
﴿ولا تحسبنّ الذین قتلو افی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربہم یرزقو ن ﴾
و کفیٰ با للہ ہما کمأو بحمدخصمأ و بجبرئیل ظہیرأ (رفع المسجوع ض۔۵۱)
جناب زینب سلام اللہ علیہا کا خطبہ الفاظ کا وہ بحر ذخار ہے کہ جس کی و شجاعت صبر و استقامت علم و حلم کے موتی کسب کئے جا سکتے ہیں خلاصئہ کلام یہ کہ جناب زینب سلام اللہ علیہا کا ایک خطبہ اس قدر مؤثر تھا کہ جس نے اسلام کی جاتی ہوئی آبرو کو بچا لیا مقصد حسینی کو پائمال ہونے سے محفوظ کر لیا کلمہ توحید کو صبح قیامت تک کے لئے جلا بخش دی انسانیت کو حیات جاوید عطا کی اور یہ بتادیا کہ کل ہماری ماں نے چہرئہ باطل سے نقاب ہٹائی تھی اور آج ہم اس کارنامہ کو اس طرح دوہرارہے ہیں کہ تا قیامت اس کی یاد باقی رہے گی۔
عصمت و عظمت و توقیر مجسم زینب گلشن حیدر کرار کی شبنم زینب
کار شبیر کی حامی معظم زینب راہ اسلام میں قربانی پیہم زینب
حق عطا قطرے کو کر سکتا ہے دریا ہونا
ورنہ آسان نہیں ثانی زہرا ہونا
پیغام کربلا کی تفہیم، ترسیل اور تطبیق
شہنشاہ کربلا کے عالم انسانیت پر بالعموم اور دنیائےاسلام پر بالخصوص مخفی و آشکار احسانات کا کاملًا احاطہ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے- احسانات ایسے جو کثیرالجہت اور عالم گیر ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اولاد آدم میں سے ایک بڑی جمعیت اپنے اس محسن کے اسم مبارک سے بھی ناآشنا ہے اور بہت سے انسان احسان فراموشی کا اس حوالے سے دیدہ و دانستہ مرتکب ہو رہے ہیں ... حد تو یہ ہے کہ اپنے آپ کو مبلغِ اسلام گرداننے والے بعض افراد موجودہ دور میں بھی"رضی اللہ" کی چادر سے قا تلِ حسین کی"عریاں تصویر" کو ڈھانکنا چاہتے ہیں۔ خیر کوئی معترف ہو یا نہ ہو امام عالی مقام نے پیغمبر اسلام کے مشن کو بچانے کیلئے عظیم قربانی پیش کرکے ثابت کر دیا کہ آپ علیہ السلام محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حقیقی وارث ہیں ـ اس طور انسانیت کی گردن امام حسین علیہ السلام کے احسانات سے تا قیام قیامت زیر بار رہے گی ـ بہر کیف جوں جوں انسان احسان مندی کی بو خو سے مانوس ہو تاجائے گا وہ خونِ حسین کی ہر بوند کا قدرشناس ہوتا جائے گا۔ شرط یہ ہے کہ فی الواقع کربلا کی نمائندگی کے دعوے دارا پنی اس سہ گونہ مسئولیت کی حساسیت و اہمیت کو جان لیں ـ اور اس کو پورا کرنے کی سعی کریں ـ ذیل میں اس کے مبادیات سے بحث ہوگی:
۱۔ پیغام کربلا کی تفہیم
۲- پیغام کربلا کی ابلاغ و ترسیل
۳- پیغام کربلا کی عصری حالات پر تطبیق
یہاں تک اول الذکر مسئولیت کا تعلق ہے۔ تحریک کربلا کے اصل مدعا و مقصد کو سمجھنے کیلئے لازمی ہے کہ کربلا کا مطالعہ اس کے صاف و شفاف منابع سے ہی کیا جائے۔ اس حوالے سےکربلا میں امام علیہ السلام اور یاوران امام پر جو مظالم ڈھا ئے گئے۔ ان کا اختتام کربلا ہی میں نہ ہوا بلکہ ان کی نوعیت وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی گئی اور آگے جاکر ایک نئی صورت میں وقوع پزیر ہوئے۔ یعنی کربلا کے جانبازوں کی اہمیت کو کم کرنے کیلئے بہت سی بےسر و پا روایات کا ڈھیر لگا دیا گیا۔ تاکہ پیغام کربلا اور حسینی مشن کا مقصد اسی ڈھیر کے نیچے دب کر رہ جائے۔ ایک ایسی حقیقت جس کو انسانی تاریخ نے عالم شباب میں اپنی پر بصارت آنکھوں سے دیکھا تھا اس حقیقت کو خرافات کی نذر کرنے کیلئے کئی بار منظم سازشیں کی گئیں۔ ان سازشوں میں ایک سازش یہ بھی تھی کہ اس حقیقت ِ کربلا کو افسانوی رنگ میں رنگ دیا جائے۔ بہت سی افسانوی داستانیں کربلا کے ساتھ منسوب ہوئیں۔ ان داستانوں کی کھوج بین اسلامی تاریخ میں کیجئے۔تو کھوج بین کرتے کرتے آپ تھک جائیں گے لیکن کہیں پر ان کا سراغ نہیں مل پائے گا۔ ان افسانوں، داستانوں اور غیر مستند روایات کا پول سیرت امام حسین اور ان کے اعوان و انصار کے کردار سے بھی کھل جاتا ہے۔ بعض دفعہ چند ایسی روایات اور واقعات سے بھی سابقہ پڑتا ہے۔ جو قطعی طور سیرت سید الشہداء ، کردارِ اصحاب ِامام حسین اور شعارِ اہلبیت سے ہرگز میل نہیں کھاتے۔ مثال کے طور پر کیا یہ بات تضاد بیانی پر محمول نہیں ہوگی کہ ایک طرف ہم صبر حسین کے مدح سراء بھی ہوں اور دوسری جانب ایسی روایتوں پر سینہ کوبی کریں جس میں امام یا ان کے اولاد و اعوان یہاں تک محذرات کے تئیں بے صبری کی منظر کشی کی گئی ہو۔ عمومی لحاظ سے بھی کسی تاریخی واقعے کے متعلق حتماً یہ دعویٰ کرنامبادی العلموم ِتاریخ سے ناواقفیت کی علامت ہے کہ فلاںواقع بدطینت افراد کی دست برد سے کلیتاً محفوظ رہا ہے۔ علی الخصوص جب کوئی واقعہ اغیار کی آنکھ کا کانٹا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنوں کے حقیر مفادات کی حصول یابی کا ذریعہ بن جائے۔ اس لحاظ سے تفہیم ِکربلا ہر کس و ناکس کا کام نہیں بلکہ یہ کام اسلامی تاریخ اور سیرت ِائمہ سے کماحقہ آشنائی کا طالب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پر خلوص اور بابصیرت علماء کرام نے وقتاً فوقتاًواقعہ کربلاکی[ بعض گوشوں کے حوالےسے] تحریف کا انکشاف کیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ ادوار میں چند ایک قابل قدر علماء و مجتہدین نے اپنی تحقیقی بصیرت سے بہت سے واقعات و روایات کو نشان زد کیا ہے۔ دورِ حاضر کے بہت سے دانشمند اور محقیقین نے بھی کتابِ کربلا سے تحریف کی دھول جھاڑے کی بساط بھر کوشش کی ہے۔ ان علماء کرام، دانشمند حضرات اور مجتہدینِ عظام میں سے شہید مرتضیٰ مطہری کو امتیازی حیثیت کے حاصل ہیں۔ جس زاویۂ نظر سے انہوں نے کربلا کو دیکھا اور اس کے دقیق پہلؤوں کو مورِ بحث ٹھہرایا ہے۔ اسکی نظیر خال خال ہی نظرآتی ہے۔ علی الخصوص تحریف کربلا کے حوالے سے ان کے آثار میں بہت سے جدید انکشافات نظر سے گزرتے ہیں۔ انہوں نے جس دلیری سے اپنے زبان و قلم کے ذریعے اس مسئلے کو اجاگر کیا۔ اُس سے کربلا پر نظر دوڑانے والوں کو ایک نیا کینواس ملا، ایک نیا زاویہ نگاہ اور نئی فکری افق فراہم ہوئی ہے۔ شہید موصوف نے اپنی نوکِ قلم سے بہت سے غیر حقیقی داستانوں کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا ہے۔ جس سے تفہیم کربلا کا حقیقی رخ اور زیادہ نمایاں ہوگیا ہے۔ پیغام کربلا کی تفہیم کیلئے کافی اہم ہے کہ شہید موصوف کے زاویۂ نگاہ سے استفادہ کیا جائے۔ کسی نابغۂ روزگار شخصیت کے افکار و آثار سے استفادہ کئے بغیر کربلا شناسی میں خطا سے دوچار ہونا یقینی ہے۔ کیونکہ زاویۂ نگاہ فراہم کرنا اعلیٰ پایہ دیدہ وروں کا کام ہے اور اس قماش کے دیدہ ور پیدا کرناہر دور کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ بلاشبہ ان کو جدید استعاراتی تناظر میں"فکری سیٹالائٹ" کہا جاسکتا ہے۔ چنانچہ فکری لحاظ سے کافی بلندی پر جاکر حیات وکائنات کی مختلف جہات کا مشاہدہ و مطالعہ کرنا ایک منفرد وظیفہ ہے یہ وظیفہ علامہ مرتضیٰ مطہری جیسے دیدہ ور اور مفکر سے ہی تکمیل پاتا ہے۔ جس طرح سیٹالائٹ (Satellite) عام سطح سےکافی اونچائی پر جاکر ہماری زمین کے گوشہ و کنار کے متعلق ہمیں مختلف جدید آلات کے ذریعے اطلاعات فراہم کرتا ہے۔ بعینہِ ایک قومی مفکر عامیانہ فکری سطح سے اوپر اٹھ کر حیات و کائنات کے مختلف گوشوں کو دیکھتاہے اور تفکر کے نشیب میں بیٹھی انسانی جمعیت کونادر اور نامعلوم افکار سے روشناس کراتا ہے۔ شہید مطہری نے اسی فکری بلندی سےاپنی بلند نگاہی کربلا پر مرکوز(Focus) کی۔ اور بہت سے پوشیدہ گوشے منکشف کردیئے۔المختصر واقعات کربلا کا مطالعہ کرنا ایک اہم وظیفہ ہے مگر اسے بھی اہم وظیفہ یہ ہے کہ کربلا کی تفہیم سے قبل ایک بے لاگ فکری رہنما کا تعین کیا جائے ...تاکہ تذکرہ کربلا کے حقیقی رجحان کو فروغ ملے اور خرافات سے یہ بیش بہا اثاثہ پاک ہو-
۲-پیغام کربلا کی تشہیر وترسیل:-
تفہیم اور ترسیل کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہےجو بات ،خیال ،فکر ،ادراک ،اور معلومات انسانی ذہن میں درجہ اجابت اور تقدیس کے مقام تک پہنچ جائیں ان کی حتی الوسع تشہیر و ترسیل انسان کی فطری ضرورت بن جاتی ہے-بر وقت اور شایان شان وسیلہ اظہار مل جائے تو ایک ذہنی آسودگی اور روحانی کیف سے انسان لطف اندوز ہوتا ہےبصورت دیگر یہی فکری و ذہنی اثاثہ اسکے باطنی دنیا میں ہیجا ن انگیزی کی فضا قائم کر دیتا ہے جو بعض دفعہ عجیب و غریب حرکات و سکنات کی صورت میں اظہار پاتی ہے-کتاب کربلا مفاہیم اور جذبات کا ایک بیش بہا خزینہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ... مفاہیم اور جذ بات کے اس بحر پر ذخار[کربلا] میں غطہ زن ہونے والے"غواصِ مودت"کو"درد آگہی" اور"کرب مصائب"جیسے دو گراں بہا موتی ہاتھ آ جاتے ہیں ۔جن کی نمائش کے لئے عجب نہیں ہےکہ وہ دیار بہ دیاراور کوچہ و بازار آہ و فغاں کر تا پھرے ۔سوز و گداز اور علم و آگہی میں بے چینی قدر مشترک ہے-کربلا اس قدر مشترک یعنی دوگانہ بےچینی کے عروج کا نام ہے-پس یہ امر انسانی فطرت سے کوسوں بعید ہے کہ کربلا کے درد و کرب اور عرفان و آگہی سے کسی حدتک آشنا فرد پر زبان بندی کی تعزیرِ بےجا لگائی جائے-بے جا نکتہ چینوں کے لئے یہ ضرب المثل کافی ہے"ملکی کیا جانے پرائے دل کی"البتہ تشہیر ِ کربلاایک ایسا عمل ہے ۔ جس سے عہدہ بر آہونا اصل میں علماءِ دین کا ہی وظیفہ ہے۔ لیکن تبلیغ و تشہیر کے وسیع تر مفہوم کے پیش نطر ہر وہ شخص اپنی بساط کے مطابق اس کام میں مصروف ہے۔ جو کربلا کی یاد حتی الوسع زندہ رکھنے میں کوشاں رہے۔ یہ عمل تفہیمی مرحلے کا ہی اگلا قدم کہلائے جائے گا۔ کیونکہ جو چیز انسان کے ذہن نشین ہو فطری طور وہ اسے دوسرے انسانوں تک منتقل کرنے کی ٹوہ میں لگارہتا ہے۔ جو لوگ فکر عاشورا سے آشنا ہوئے۔ وہ ہر صورت اس کی ترسیل و ترویج کیلئے بھی کوشاں ہوں گے۔ البتہ تبلیغی اور ترسیلی کاوشیں حساس نوعیت کی حامل ہوتی ہے۔ ذکر ِ حسین شہادت گہ ِالفت میں قدم رکھنے کے مترادف ہےخدانخواستہ اگر یہ تبلیغی کاوشیں مبنی پر اغلاط ہوں تو انفرادی معاملہ اجتماعی سرحدوں میں داخل ہوجاتا ہے۔ ذاتی غلط فہمی اور فکری کج روی کے معاشرتی اور سماجی بلکہ ملی سطح پرمنفی نتائج مراتب ہوسکتے ہیں۔ اس لحاظ سے مبلغین واعظین اور ذاکرین کی معمولی سی معمولی غلط بیانی کا خمیازہ بڑے پیمانے پر قومی تہذیب و ثقافت اور ملت کے فکری نظام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ روحِ حسینیت سے واقف کوئی بھی شخص اس حقیقت کا منکر نہیں ہوسکتا ہے کہ تحریک کربلا ذوق ِعمل کوجلا بخشنے کا بے بدل وسیلہ ہے۔ کربلا سوئے ہووں کو جگانے اور جاگے ہووں کو میدانِ عمل میں کودنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس کی تاثیر سے زنگ آلود اذہان میں بھی فکر نو کی شمعیں روشن ہوگئیں۔ اور خوف و دہشت کر مارے قلوب شجاعت کی چاشنی سے آشنا ہوئے۔ مگر کم سواد ذاکرین و واعظین کی کرشمہ سازی دیکھئے انہوں نے کربلا اور امام عالی مقام کی قربانی کو منفی انداز میں پیش کیا۔ نتیجتاً امام حسین علیہ السلام سے عقیدت رکھنے والے بعض افراد کے عقیدے میں یہ باطل خیال رچ بس گیا ہے کہ معاذاللہ خونِ حسین علیہ سلام اصل میں ہمارے گناہوں کا کفارہ ہے۔آپ علیہ سلام نے جو اتنی بڑی قربانی سے ہماری نجات کا پروانہ ہمارے ہاتھ میں تھما دیا تو پھر ہاتھ پیر مانے کی کیا ضرورت ہے۔
یقیناً امام حسین علیہ سلام بمطابِقِ حدیث پیغمبر سفینہ النجاۃ [نجات کی کشتی] ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں۔ کہ محض نام حسین علیہ السلام کو ورد زباں رکھنے والے خواہ اس نجات کی کشتی کے مخالف سمت ہی محو سفر کیوں نہ ہوں ہر حال میں منزلِ نجات پر لنگرانداز ہوں گے! بے ریب و شک امام عالی مقام علیہ السلام پوری امتِ مسلمہ بلکہ اقوام کیلئے باعثِ نجات ہیں جیسا کہ علامہ اقبال بھی اس حقیقت کے معترف ہیں۔
نقش اِلا اللہ برصحرا نوشت
سطرِ عنوانِ نجات مانوشت
مگراس سلسلے میں کچھ شرائط کا پاس ولحاظ رکھنا لابدی ہے۔اس صورتِ حال کو ایک مثال کے ذریعے شاید بہتر انداز میں سمجھایا جاسکتا ہے کہ جان بلب بیمار کے حق میں طبیب نے شفایابی کا ایک بہترین نسخہ تجویز کیا۔ مگر تیمار دار نے مریض کو اس نسخے میں درج تجاویز پر عمل کرنے کے بجائے اس بات پر اترانے کی ترغیب دلائی کہ وہ ایک حاذقِ بے مثل سے منسوب ایک بیمار ہے وہ پرہیز کرے یا نہ کرے بہر صورت شفایابی اس کی تقدیر میں رقم ہوچکی ہے۔بیمار اترانے تک ہی محدود رہا یہاں تک موت کی آغوش میں چلا گیا۔ امام حسین علیہ سلام جیسے طبیب ِخون دہندہ نے اپنے مقدس خون ِ جگر سے جاں بلب انسانیت کیلئے نسخۂ سرخ لکھ دیا مگر افسوس خونِ حسین کے تاجروں نے اس کی قسمت بھی وصولی اور عملی مظاہرے کی راہ میں سنگِ راہ بھی ثابت ہوئے۔ وہی کربلا جو ذوقِ عمل کو جلا بخشنے کا محرک تھی،روحِ حسینیت سے ناآشنا واعظ و ذاکر حضرات نے حرکت و عمل کی روح کو جسد قومی سے کو یوں نکال دیا جیسے عطر ساز نے گلاب کے پھول سے عرقِ گلاب کشید کیا ہو۔ کیا یہ امر غور طلب نہیں ہے کہ مجلس حسینی میں جو ولولہ، جوش ،تحریک، دلسوزی، تجسس، کشمکش، حرارت، یکسوئی، طلاطم، تڑپ اور درد دیکھنے کو ملتا ہے۔ اُس کا ادنیٰ سا عملی مظاہرہ بھی ان مجالس کو برپا کرنے والے معاشروںمیں دیکھنے کو کیوں نہیں ملتا؟ وجہ صاف ہے۔ اپنے آپ کوپیغام ِحسینی کے پیغام رساں گردانے والے بیشتر افراد یا مقصدحسینی اور تقاضائے کربلائی سے ناآشنا ہے یا اپنے حقیر مفادات کی خاطر اس کی صحیح تشہیر و ترسیل میں روڑا اٹکاتے ہیں۔کسی پس و پیش کے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ اگر پیغام حسینی کے مقصد کو صحیح انداز و عنوان میں پیش کیا جاتا تو حسینی مشن سے وابسطگی کے دعوے دار معاشروں میں فعالیت کا فقدان نہیں ہوتا۔ کربلا کو اگر روحانی بجلی گھر [spiritual power station]سے تشبیہہ دی جائے۔ اگر اسے نوروحرار ت کا ایک بڑا منبہ تصور کیا جائے تو یاد کربلا کو تازہ کرنےوالے ذاکر و واعظ کو ترسیلی لائن کہنا بجا ہے جو بظاہر اس روحانی بجلی گھر سے متوصل ہے۔ لیکن ہدایت و حرات کی حامل موجۂ برق (Current) کی غیر موجودگی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ترسیلی لائن کہیں نہ کہیں نقص زدہ ہے کیونکہ کربلا جیسے حرارت و نور کے ماخذ میں خرابی یا فیض رسانی میں کمی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
جس طرح پاور سٹیشن سے ہمیں حرارت و روشنی ملتی ہے اسی طرح کربلا کے روحانی بجلی گھر Power Station سے انسانیت کو نورہدایت اور جذبۂ حرکت فراہم ہونا لابدی ہے بشرطیکہ ترسیلی لائن کے نقائص دور ہوں۔
پیغام رسانی پر مامور حضرات کے طرزِ فکر، انداز تخاطب اور طریقہ کار سے یہ بات مترشح ہے کہ انہوں نے واقعات وروایات کی ہی روشنی میں امام اور یاورانِ امام کے سیرت و کردار کو پیش کرنے کی سعی ہے جبکہ اس امر کا متوازن اور احسن طریقہ یہ ہے کہ امام عالی مقام کے سیرت و کردار اور واقعاتِ کربلا کے تقابلی مطالعے سے ان واقعات کی اعتباریت کا پہلےتعین کیا جائے۔ رسالت و امامت کے وسیع و عظیم پس منظر سے بے نیاز ہوکر کربلاکی تفہیم و تشہیر ایسا ہی ہے جیسا کسی متن کو اس کے سیاق و سباق کے بغیر ہی سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ واقعۂ کربلا کے تشہیری عمل سے وابسطہ غالب اکثریت کے تحت الشعور میں یہ خیال رچ بس گیا ہے کہ ذکر ِحسین اور تذکرۂ شہداء نفسیاتی تسکین کا وسیلہ ہے۔ یہ نفسیاتی تسکین حاصل ہوجائے تو ذکر کربلا کا مدعا پورا ہوگیا۔ بالفاظِ دیگر اشک ریزی ، نالہ و شیون ،نوحہ و ماتم کو ہی ذکرِ کربلا کا مقصد عینی سمجھا گیا۔ ماتم و مراسم ِعزا ،ذکرِ کربلا اور احوالِ امام حسین کا فطری نتیجہ ہے نہ کہ مقصد ِقیامِ حسین ! ذکرِ کربلا کا اصل ہدف پیغام کربلا کی حتی الوسع ابلاغ و ترسیل ہے۔ یعنی انسانیت کا فرد فرد اس عظیم درس سے مانوس ہو جو ریگزارِ کربلا میں شہداءِکربلا کے لہو سے رقم ہوا ہے۔ اس بات سے انکار کی جرأت کسی بھی حقیقت بین فرد ملت کو نہیں ہوسکتی ہے۔ کہ مجالسِ حسینی میں شرکت کرنے والوں کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو آنسو بہاکر نفسیاتی آسودگی حاصل کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ انہوں نے ان مجالس سے گوہر مراد حاصل کرلیا۔ نشرو اشاعت اور تبلیغ و وعظ کامحور و مرکز سید الشہداء کے قیام کی غرض و غایت ہونا چاہیئے۔ بین و ماتم ایک ثانوی درجہ رکھتا ہے۔ کربلاکو اس کی غرض و غایت کے ساتھ بڑے ہی خلوص کے ساتھ پیش کیا جائے تو ضرور بہ ضرور ہر قلب سلیم غم زدہ ہوجائے گا اور ہر چشم بصیر تر ہوجائے گی۔ لیکن جب نتیجہ ہی مقصد بن جائے تو کسی بھی عمل کا مقصد فوت ہونا طے ہے۔ مثال کے طور پر عرفاء اور صوفیوں کے یہاں یکسوئی کے ساتھ ذکر اللہ کی کثرت کا ایک طریقہ رائج تھا۔ یعنی جب عارف وصوفی تمام ترذ ہی، قلبی، نفسیاتی یکسوئی کے ساتھ ذکر اللہ میں مشغول ہوا کرتے تھے تو ان پر ایک قسم کی مدہوشی کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ وہ اپنے آپ سے پاس پڑوس سے بے خبر ہوجاتے تھے۔ نتیجتاً وہ ایک قسم کی روحانی لذت سےمحظوظ ہوتے تھے۔آہستہ آہستہ ذکر اللہ کے نتیجے میں طاری ہونے والی غنودگی کی کیفیت ہی ہدف بن گئی یعنی پھر اکثر و بیشتر صوفی حضرات اسی لذت سے لطف اندوز ہونے کیلئے ہی کثرت ِ ذکر میں محو ہونے لگے۔ وہ عمل جس کا مقصد اللہ کی معرفت اور قرب خداوندی تھا لذت کوشی کا ذریعہ بن گیا۔ پھر کسی عامل سے پوچھا جاتا کہ یہ عمل کیوں کرتے ہو؟ تووہ جواباً کہتا کہ اس سے روحانی لذت سے نفسیاتی کام و دہن آشنا ہوتا ہے۔
عصر حاضر میں ترسیل و ابلاغ کے جدید ذرائع سے پیغام رسانی کا دائرہ کافی وسیع ہوتا جارہا ہے۔ مبادلۂ افکار و آئیڈیلوجی[ exchange of thought and ideology] کی رزمگاہ میں فکری للکار و پکار کی گونج دنیا کے ہر کونے میں سنی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی چھوٹے پیمانے کا عملی یا فکری مظاہرہ ان جدید ذرائع کے حوالے ہوجائے تو آن واحد میں عالمی منظر نامے کی زینت بن جاتا ہے۔ پیامبران ِکربلا کو اس سلسلے میں یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیئے کہ ان کی نظر میں سامعین و قارئین کے علاوہ بھی ایک بڑی انسانی جمعیت گوش بر آواز اور نظر بر تحریر ہے۔ جن محافل و مجالس اور تحاریر و تقاریر کو صرف اور صرف اہل عزاء کیلئے پیش کیا جاتا تھا۔ انکو دیکھنے اور سننے والے دیگر اقوام سے وابسطہ افراد بھی ہیں۔لہذا رسوم عزاء میں جس قدر پیچیدگی (Complication) اور الجھاؤ پایا جاتا ہے۔ اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے ہے ہمارا عقیدہ اگریہ ہے کہ امام حسین کی شخصیت تمام انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے۔ اور ان کے لاثانی کارناموں کا تذکرہ کرنے والے اس حکم پیغمبر پر عمل پیرا ہے جس میں انہوں نے اصحابِ کبار سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا"ھٰذا حسین فاعرفو" [یہ حسین ہے اس کو پہچانو]۔ مقامِ تفکر یہ ہے کہ کہیں یہ تذکرہ کرنے والے ہی حسین اور عالم انسانیت کے درمیان حائل تو نہیں ہے۔ کیا ہماری فرسودہ حرکات و سکنات سے تحریک کربلا دیگر اقوام عالم بلکہ اسلامی مسالک کے لئے چیستان تو نہیں بنی ہے؟ انسانی نفسیات سے کماحقہ شناسا افراد کو شاید ہی یہ بات قبول کرنے میں پس و پیش ہوکر اگر واقعۂ کربلا کو بغیر کسی اشکال و الجھاؤ کے جدید ذرائع کے حوالے کیا جائے تو یہ ضرور انسانی اذہان میں ہی نہیں بلکہ انسانی قلوب میں بھی اپنی جگہ یا لے گا۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ اس اثر انگیز واقع سے عالمِ انسانیت مجموعی لحاظ سے غیر واقف کیوں ہے؟ کیونکہ ہم نے بقول علامہ اقبال"غریب و سادہ، رنگین داستانِ حرم" کو مرصع، مسجع، غیر واضع اور پیچ در پیچ مراسم کے ذریعہ بیان کرنےپر اپنی پوری توانائی صرف کردی ہے۔ ان مراسم کے ذریعے جو پیغام دنیا تک پہنچانا مقصود تھا وہ پیغام سیدھے سادھے پیرا یہ میں بیان ہوتا تو صورتِ حال دیگر ہوتی۔ شاید اس مثال کے ذریعے بات واضع ہوکر کسی ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کو تحفتاً ایک قیمتی شئے ارسال کی لیکن ارسال کردہ شئے کو کچھ اس انداز سے Pack کیا کہ اس شئے کو لینے والا شخص پیچ در پیچ Package کو کھولتے وقت الجھ کے رہ گیا وہ ایک عقدہ وا کرتا تو دوسرا عقدہ اسے پریشان کردیتا۔ باالآخر اس نے کھول کر اس شئے کو دیکھنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی۔ اور اس Pack کو قیمتی شئے سمیت طاق نسیاں کے حوالے کردیا۔
۳---پیغامِ کربلا کی عصری حالات پر تطبیق:-
ذمہ داری کا آخرا لذکر پہلو انتہائی حساس اور اہم ہے۔تطبیق یعنی کسی ایک شئے کوکسی دوسری شئے ، کسی ایک واقع کو کسی دوسرے واقعے کے ساتھ، کسی ایک دور کے حالات کو کسی دوسرے دور کے حالات کے روبرو کرنا۔ مثال کے طور پر کسی مومن پر اگر کبھی کسی ظالم حکمران یا نظام کی جانب دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اس کے مظالم میں شرکت کے عوض انعام و اکرام اور دنیاوی عیش و عشرت سے ہمکنار ہو۔ لیکن وہ امام عالی مقام کی انکارِ بیعت اور اس کے نتیجے میں کربلا کے مصائب کو زیر نظر لاکر اس دباؤ کو خاطر میں نہ لائے نیز تمام ممکنہ مشکلات کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہوجائے۔ تو کہا جائے گا اُس نے واقعہ کربلا کو اپنی زندگی کے ساتھ کا منطبق ومنسلک کیا۔ عصری حالات و واقعات پر کسی تاریخی واقعہ کی مطابقت کیلئے شرط اول یہ ہے کہ تاریخی واقعہ زائد المیعاد (Expire) اور دور از کار (Non Function) اور غیر موثر (Ineffective) نہ ہوا ہو۔ان بنیادی شرائط کے بشمول واقعہ کربلا میں یہ تمام لازمی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ دراصل کربلا محض ایک ٹریجڈی کا نام نہیں [سطحی اور عوامی رائے کے مطابق] بلکہ یہ ایک منظم تحریک ہے۔ اس تحریک کا اہم اور حیات بخش پہلو اس کا حر کی پہلو (Dynamic Aspect) ہے۔ یہی اس کی پائندگی کا راز ہے۔ اسی سے یہ زمانی و مکانی حدبندیوں سے ماوریٰ ہے کربلائی تحریک ایک مسلسل عمل ہے۔ اگر زمان و مکان کا عمومی رویہّ تحریک کربلا پر بھی لاگو ہوتا تو گردشِ ایام نے اس کی اہمیت، نوعیت اور حساسیت کو کب کا نابود نہ سہی معدوم ضرور کیا ہوتا۔ تحریک کربلا پورے آب و تاب کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اس کے بطن سے بے شمار چھوٹی بڑی تحریکوں نے جنم لیا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے تحریکی رہنماؤں کیلئے بھی تحریک inspiration کا باعث بنی۔ اس لحاظ سے تحریکِ کربلا کو بجا طور پر ام التحاریک کے عنوان سے بھی یاد کیا جاسکتا ہے۔ گویا کربلائی حرکت ، جمود زدگی سے معاشرہ کو نجاد دلاکر اس میں تحرک کے عناصر انڈیل دیتی ہے۔ لہٰذا اس تحریک سے وابستہ افراد [خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتے ہوں] کیلئے شرط اول یہ ے کہ وہ ہر طرح کی فرسودگی اور جمودزدگی سے مبرہ ہوں جب ہی وہ اس تحریک کی نمائندگی کا کسی حد تک ادا کرسکتے ہیں۔عصری شعور سے نا بلد ذاکر و واعظ کی مثال خوابیدہ شخص کی سی ہے جو عا لم ِ خواب میں دیگر سوئے پڑے افراد کو جگانے کی اس زعم کے تحت سعی کر رہا ہو کہ خود وہ بیدار ہے- اس قسم کی بیداری کو غالب نے جامع انداز میں بیا ن فرمایا ہے:
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
تہی دست ہے وہ قوم جسکا دامنِ تاریخ سبق آموز اور عبرت انگیز واقعات سے خالی ہوا اور اس بڑھ کر وہ قوم بدقسمت ہے جس کا ماضی اس طرح کے واقعات سے مالا مال ہو اور وہ ان سے استفادہ کرنے سے قاصر ہو۔ ایک جانب ماضی میں واقعہ کربلا کی موجودگی اور دوسری جانب واقعہ کربلا کا تذکرہ کرنے والی قوم کی موجودہ بدحالی دیکھ کر یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اس قوم نے کربلا جیسے واقعے کو ذکر تک ہی محدود رکھا ہے۔ اور ہنوز عملی تطبیق کے مرحلے سے کافی دور ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ افراد ملت میں وہ متوازن بصیرت مفقود ہے جو تاریخ کے مطالے اور عصری حالات کے مشاہدے سے تشکیل یزید ہوتی ہے۔ نتیجتاً یہ لوگ کربلا کے عصری تقاضوں سے بھی نابلد ہیں۔ اس متوازن بصیرت کےفقدان کے سبب ہی ناقابلِ تصور مشاہدات سے آئے دن ہمارا واسطہ پڑتا ہے۔ چنانچہ یزید صفت انسان اس دور میں حسینی مشن کے علمبرداری کا ڈھونگ رچاتے ہیں اور سادہ لوح عزاداروں کی ایک بڑی جمعیت ان کے دام فریب میں بآسانی آجاتی ہے۔ بالفرض خود یزید بھی امام عالی مقام کے نام پر آکر ان کے سامنے دست دراز ہوجائے تو اس کی بھی دل کھول کر معاونت سے دریغ نہیں کریں گے۔اس امر کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا کہ کہیں کوئی عصری یزید مجلس ِ حسینی کے نام پر امام کے نام لیواوں کا استحصال تو نہیں کر رہا ہےکیونکہ:
خدا آن ملتی را سروری داد
که تقدیرش بدست خویش بنوشت
به آن ملت سروکاری ندارد
که دهقانش برای دیگران کشت
عصری آگہی کو جو یادِ کربلا سے الگ کیا جائے تو محض ایک رسمِ خانقاہی رہ جاتی ہے۔ جو لوگ اس رسمِ خانقاہی میں مست و مگن ہوئے وہ عصری یزیدیت کی شناخت سے تو رہ گئے۔ لہٰذاان کے لئے عصری یزیدیت کے خلاف مورچہ بند ہونا ممکن ہے نہ وہ عصری کربلا سے واقف ہوسکتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی زبانوں پر نام حسین ورد ہوتا ہے لیکن ان کے ہاتھ غیرشعور ی طورحسینی مشن کی بیخ کنی میں مصروف ہوتے ہیں۔تذکرۂ کربلا اپنی جگہ ایک ایسا عمل ہے جس کی سعادتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مگر یاد کربلا کے عصری تقاضوں سے بے اعتنائی ان سعادتوں پر بھی پانی پھیر دیتا ہے۔ کربلا کے عصری تقاضے کیا ہیں؟ اور" صدائے ینصرنا"پر آج کے دور میں کیوں کر لبیک کہا جاسکتا؟"کل ارض کربلا کل یوم عاشورا"کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ ان چند سوالوں پر بہت زیادہ غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ سادہ طبعیت لوگ اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ کب زمانہ الٹی سمت میں گردش کرنے لگے۔ تاکہ وہی ۶۱ہجری کا زمانہ ہو۔ وہی یزید اور وہی امام ہو، وہی کربلا اور وہی نصرت کی صدا۔ اور وہ اُسی ریگزارِ کربلا میں نصرت ِامام کیلئے حاضر ہو جائیں گے۔ لیکن روح ِ حسینیت پوری آب و تاب کے ساتھ گردش زمانہ کے رواں دواں ہےظاہری ہیت کے اعتبار سے تغیر پزیر ضرور ہے لیکن اسکی حقیقی روح میں تغیر و تبدل کا شائبہ تک نہیں ہو سکتا ہے بقول ِاقبال امام عالی مقام کی شخصیت اور تحریک ابدی حقیقت ہے اسی حقیقت کی روشنی میں معا صر حالات پرکھنے کی ضرورت ہے ...آج بھی جگہ جگہ کربلا برپا ہے بس کربلا کی اصل نوعیت اور عصری بصیرت درکار ہے۔زمانے کی راہ وروش کے عین مطابق پھر سے کربلا کے درس ہائے رنگا رنگ انسانیت کے گوش گزار کرنے ہوں گے-ان دروس کو پیش کرنے سے قبل ہمیں اپنے روایتی طور طریقوں پر بھی طائرانہ نطر دوڑانا ہو گی ۔فرسودگی سے مبرہ ایک تازہ دم نظام عزا کو تشکیل دینا ہو گا۔ جس کے لئے مجتہدانہ نظر کی ضرورت ہے:
پرانے ساغرو مینا اگر نہ بدلو گے
کوئی نہ لے گا جو آبِ حیات بھی دو گے
ذرائع اور مقاصد میں فرق ہوتا ہے
یہ نکتہ کب اے فقیہانِ شہر سمجھو گے
تحرير: فدا حسین
ظلم کے بادلوں کے پیچھے غائب ہونے والے سید، امام موسی صدر/ ایک ڈاکومینٹری
آج امام موسی صدر نہ تو شہید ہیں کہ آپ کے لئے فاتحہ پڑھی جاسکے اور نہ ہی قید میں ہیں کہ آپ سے ملاقات کی جاسکے آنکھیں دیکھنے کو ترس رہی ہیں مگر سید کہاں ہیں؟
یہ25 اگست 1978 کا دن تھا. ایک ہوائی جہاز لیبیا کی طرابلس کے ہوائی اڈے پر اترا. امام موسی صدر اسی جہاز کے مسافر تھے. آپ کے ساتھی «شیخ محمد یعقوب» اور مشہور روزنامہ نویس «عباس بدرالدین» بھی آپ کے ہمراہ تھے. امام موسی صدر لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی کی سرکاری دعوت پر لیبیا کے دورے پر آئے ہوئےتھے.
اس زمانے سے اب تک 27 سال کا عرصہ بیت چکا ہے مگر درج ذیل سوالات کا کوئی بھی اطمینان بخش جواب میسر نہیں ہے:
1. قذافی نے موسی صدر کے ساتھ کیا کیا؟
2. کیا امام موسی صدر ابھی تک جیل میں ہیں یا شہید کئے جاچکے ہیں؟
3. اگر شہید ہوئے ہیں تو آپ کا مدفن کہاں ہے اور اگر قیدی ہیں تو کس جیل میں ہیں؟
4. کیا آپ لیبیا کے شہر «تبرک» میں ہیں؟
5. کیا آپ لیبیا کے کسی صحرا میں قید ہیں؟
یہ سب ایک ایرانی نژاد لبنانی فیلسوف اور مشہور و معروف عالم دین امام موسی صدر کی زندگی اور آپ کے غائب ہوجانے کے بعد کے واقعات و حوادث پر مبنی ولایہ نیٹ ورک کی ایک ڈاکومینٹری کا موضوع ہیں جو بہت جلد آنے والی ہے.
امام موسی صدر نے انتھک محنت کرکے لبنان کی شیعہ آبادی کا احیاء کیا اور انہیں عزت و عظمت دی اور ان کو آواز عطا کی؛ وہ آواز جس کو سننے کے لئے آج دوست تو دوست، دشمن بھی بے چین رہتے ہیں. آپ نے لبنان کے شیعیان اہل بیت (ع) کو اندرونی اختلافات، خانہ جنگیوں اور دیگر سماجی مسائل سے نجات دلائی.
امام موسی صدر اور آپ کے دو ساتھی 1978 میں قذافی حکومت کے اہلکاروں سے ملنے لیبیا چلے گئے اور وہیں سے غائب ہوئے. اسی زمانے سے امام موسی صدر کی مقدر کا علم کسی کو نہیں ہوسکا ہے کہ کیا وہ زندہ ہیں یا شہید ہوچکے ہیں؟
آج امام موسی صدر نہ تو شہید ہیں کہ آپ کے لئے فاتحہ پڑھی جاسکے اور نہ ہی قید میں ہیں کہ آپ سے ملاقات کی جاسکے بلکہ ایک کمانڈر ہیں جو نظروں سے اوجھل ہیں اور ہماری آنکھیں آپ کے دیدار کے لئے ترس رہی ہیں مگر اتنے برس گذرنے کے باوجود آج بھی کوئی اٹھنے والے ہزاروں میں سے ایک سوال کا بھی اطمینان بخش جواب نہیں ہوسکا ہے اور اب تو ان کی شہادت کی خبریں بھی گشت کرنے لگی ہیں۔
قرآن مجید میں بعض عورتوں کا تذکرہ
ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ،ام البشر جناب حوا ، آدم علیہ السلام کی (تخلیق سے) بچی ہوئی مٹی سے پیدا ہوئیں۔ جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے: وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجُھَا ۔ "اوراس کا جوڑا اسی کی جنس سے پیدا کیا۔" (نساء:۱) وَمِنْ آیَاتِہ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوْا إِلَیْہَا ۔ "اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تمہیں سے پیدا کیا تا کہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو۔" (روم:۲۱)
وَاللہ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجًا۔ "اللہ نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں۔" (نحل:۷۲) تمہاری ہی مٹی سے پیدا ہونے والی عورت تمہاری طرح کی انسان ہے، جب ماں باپ ایک ہیں تو پھر خیالی اور وہمی امتیاز و افتخار کیوں ؟ اکثر آیات میں آدم اور حوا اکٹھے مذکور ہوئے ہیں ، پریشانی کے اسباب کے تذکرہ میں بھی دونوں کا ذکر باہم ہوا ہے۔ دو آیات میں صرف آدم کا ذکر کر کے واضح کیا گیا ہے کہ اے انسان کسی معاملہ میں حوا کو مورد الزام نہ ٹھہرانا ، وہ تو شریک سفر اور شریک زوج تھی۔ وَلَقَدْ عَہِدْنَا إِلٰی آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہ عَزْمًا ۔ "اور ہم نے پہلے ہی آدم سے عہد لے لیا تھا لیکن وہ اس میں پر عزم نہ رہے۔" (طہ:۱۱۵) قَالَ یَاآدَمُ ہَلْ أَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلٰی ۔ "ابلیس نے کہا اے آدم! کیا میں تمہیں اس ہمیشگی کے درخت اور لازوال سلطنت کے بارے میں نہ بتاؤں۔ (طہٰ:۱۲۵)
آپ لوگوں نے ملاحظہ کیا کہ ان آیات میں حضرت حوا شریک نہیں ہیں اور تمام امور کی نسبت حضرت آدم ہی کی طرف ہے۔ (۲) زوجہ حضرت نوح علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام پہلے نبی ہیں جو شریعت لے کر آئے جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے: شَرَعَ لَکُمْ مِّنْ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہ نُوْحًا وَّالَّذِیْ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ۔ "اللہ نے تمہارے دین کا دستور معین کیا جس کا نوح کو حکم دیا گیا اور جس کی آپ کی طرف وحی کی ۔"(شوریٰ :۱۳) حضرت نوح علیہ السلام نے ۹۵۰ سال تبلیغ کی ۔ارشاد رب العزت ہے: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوْحًا إِلٰی قَوْمِہ فَلَبِثَ فِیْہِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلاَّ خَمْسِیْنَ عَامًا " بتحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وہ ان کے درمیان ۵۰ سال کم ایک ہزار سال رہے۔" (عنکبوت:۱۴) حضرت نوح کو کشتی بنانے کا حکم ہوا ۔ وَاصْنَع الْفُلْکَ بِأَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا ۔ " اور ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم سے کشتی بنائیں اور حکم ہوا کہ اللہ کے حکم سے کشتی کو بناؤ۔"(ہود:۳۷)
وَقَالَ ارْکَبُوْا فِیْہَا بِاِسْمِ اللہ مَجْرَاًہَا وَمُرْسَاہَاط إِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَحِیْمٌ وَہِیَ تَجْرِیْ بِہِمْ فِیْ مَوْجٍ کَالْجِبَالِ ۔ "اور نوح نے کہا کہ کشتی میں سوار ہو جاوٴ اللہ کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے بتحقیق میرا رب بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے اور کشتی انہیں لے کر پہاڑ جیسی موجوں میں چلنے لگی ۔ (ہود:۴۲۔۴۱) حضرت نوح نے اپنے بیٹے سے کشتی میں سوار ہونے کیلئے کہا اس نے (اور زوجہ نوح نے ) انکار کیا اور کہا میں پہاڑ پر چڑھ جاوٴں گا اور محفوظ رہوں گا۔جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے: یَابُنَیَّ ارْکَبْ مَّعَنَا وَلاَتَکُنْ مَّعَ الْکَافِرِیْنَ قَالَ سَآوِیْ إِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَاءِ ط قَالَ لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللہ إِلاَّ مَنْ رَّحِمَ وَحَالَ بَیْنَہُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ۔ "نوح نے اپنے بیٹے سے کہا ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ اور کافروں کے ساتھ نہ رہو اس نے کہا میں پہاڑ کی پناہ لوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا ۔ نوح ۔ نے کہا آج اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں مگر جس پر اللہ رحم کرے پھر دونوں کے درمیان موج حائل ہو گئی اور وہ ڈوبنے والوں میں سے ہو گیا ۔ (ہود:۴۳۔۴۲) اور کشتی کوہ جودی پر پہنچ کر ٹہر گئی ۔جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے: وَقِیْلَ یَاأَرْضُ ابْلَعِیْ مَائَکِ وَیَاسَمَاءُ أَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَاءُ وَقُضِیَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ وَقِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ ۔ "اور کہا گیا اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا ۔ اور پانی خشک کر ہو گیا اور کام تمام ہوگیا اور کشتی کوہ جودی پر ٹھہر گئی اور ظالموں پر نفرین ہو گئی ۔ (ہود :۴۴)
کشتی ہی بچاؤ کا واحد کا ذریعہ تھی۔ قرآن مجید نے حضرت نوح ۔کی زوجہ کو خیانت کار قرا دیا ہے نبی کی بیوی ہونے کے با وجود جہنم کی مستحق بن گئی ۔ ارشاد رب العزت ہے : ضَرَبَ اللہ مَثَلاً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا امْرَأَةَ نُوْحٍ وَّامْرَأَةَ لُوْطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتَاہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنَ اللہ شَیْئًا وَّقِیْلَ ادْخُلاَالنَّارَ مَعَ الدَّاخِلِیْنَ "خدا نے کفر اختیا رکرنے والوں کیلئے زوجہ نوح اور زوجہ لوط کی مثال دی ہے یہ دونوں ہمارے نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں لیکن ان سے خیانت کی تو اس زوجیت نے خدا کی بارگاہ ان کو میں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور ان کیلئے کہہ دیا گیا کہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تم دونوں بھی داخل ہو جاؤ۔(تحریم :۱۰) اپنا عمل ہی کامیابی کا ضامن ہے رشتہ داری حتی نبی کا بیٹا ہونا کچھ بھی فائدہ نہیں دے گا ۔ (۳) زوجہ حضرت لوط حضرت لوط ،حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے ان کی قوم سب کے سامنے کھلم کھلا برائی میں مشغول رہتی ۔ لواطت ان کا محبوب مشغلہ تھا ۔ پتھروں کی بارش سے انہیں تباہ کر دیا گیا ۔حضرت لوط۔کی زوجہ بھی تباہ ہونے والوں میں سے تھی جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے : وَلُوْطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِہ أَتَأْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ أَئِنَّکُمْ لَتَأْ تُوْنَ الرِّجَالَ شَہْوَةً مِّنْ دُونِ النِّسَاءِ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْہَلُوْنَ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہ إِلاَّ أَنْ قَالُوْا أَخْرِجُوْا آلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ إِنَّہُمْ أُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ فَأَنْجَیْنَاہُ وَأَہْلَہ إِلاَّ امْرَأَتَہ قَدَّرْنَاہَا مِنَ الْغَابِرِیْنَ وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہِمْ مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ
اور لوط کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم آنکھیں رکھتے ہوئے بدکاری کا ارتکاب کر رہے ہو کیا تم لوگ شہوت کی وجہ سے مردوں سے تعلق پیدا کر رہے ہو اور عورتوں کو چھوڑے جا رہے ہو در حقیقت تم بالکل جاہل لوگ ہو ۔ تو ان کی قوم کا کوئی جواب نہ تھا سوائے اس کے کہ لوط کے خاندان کو اپنی بستی سے باہر نکال دو کہ یہ لوگ بہت پاک باز بن رہے ہیں تو لوط اور ان کے خاندان والوں کو بھی (زوجہ کے علاوہ) نجات دے دی اس (زوجہ) کو ہم نے پیچھے رہ جانے والوں میں قرار دیا تھا اور ہم نے ان پر عجیب قسم کی بارش کر دی کہ جس سے ان لوگوں کو ڈرایا گیاتھا ان پر(پتھروں) کی بارش بہت بری طرح برسی ۔ " (نمل، ۵۴ تا ۵۵)
حضرت لوط کی زوجہ خیانت کار نکلی اور عذاب میں مبتلا ہوئی جیسا کہ حضرت نوح ۔کی زوجہ کا حا ل ہوا جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے ۔ ضَرَبَ اللہ مَثَلاً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا امْرَأَةَ نُوْحٍ وَّاِمْرَأَةَ لُوْطٍ "خدا نے کفر اختیا رکرنے والوں کیلئے زوجہ نوح اور زوجہ لوط کی مثال دی ہے۔" (تحریم :۱۰) زوجہ نوح کی طرح زوجہ لوط بھی ہلاک ہو گئی ۔ (۴) زوجہ حضرت ابراہیم - حضرت ابراہیم خلیل اللہ عظیم شخصیت کے مالک ہیں انہیں جد ّالانبیاء سے تعبیر کیا گیا ہے اورتمام ادیان ان کی عظمت پر متفق ہیں۔ حضرت ابراہیم کی قوم بت پرست تھی دلائل و براہین کے ساتھ انہیں سمجھایا پھر ان کے بتوں کو توڑا توبت شکن کہلائے ۔ ان کو آگ میں ڈالا گیا تو وہ گلزار بن گئی۔ خواب کی بنا پربیٹے کو ذبح کرنا چاہا تو اس کا فدیہ ذبح عظیم فدیہ کہلایا ۔ ابراہیم خانہ کعبہ کی تعمیرکی اور مکہ کی سر زمین کو آباد کیا ۔ ہمارا دین ،دین ابراہیم سے موسوم ہوا ۔ ان کی بت شکنی کے متعلق ارشاد رب العزت ہو رہا ہے : وَتَاللہ لَأَکِیْدَنَّ أَصْنَامَکُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِینَ فَجَعَلَہُمْ جُذَاذًا إِلاَّ کَبِیْرًا لَّہُمْ لَعَلَّہُمْ إِلَیْہِ یَرْجِعُوْنَ قَالُوْا أَنْتَ فَعَلْتَ ہَذَا بِآلِہَتِنَا یَاإِبْرَاہِیْمُ قَالَ بَلْ فَعَلَہ کَبِیْرُہُمْ ہَذَا فَاسْأَلُوْہُمْ إِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَ ۔ فَرَجَعُوْا إِلٰی أَنْفُسِہِمْ فَقَالُوْا إِنَّکُمْ أَنْتُمُ الظَّالِمُوُنَ ثُمَّ نُکِسُوْا عَلٰی رُئُوْسِہِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا ہٰؤُلَاءِ یَنْطِقُوْنَ۔ "
اور اللہ کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے ان بتوں کی خبر لینے کی ضرور تدبیرسوچوں گا چنانچہ حضرت ابراہیم نے ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا سوائے ان کے بڑے (بت ) کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں ۔ (انبیاء ۵۷ں۵۸) کہا اے ابراہیم !کیاہمارے ان بتوں کا یہ حال تم نے کیا ہے؟ ابراہیم نے کہا بلکہ ان کے اس بڑے (بت) نے ایسا کیا ہے تم ان سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہیں ( یہ سن کر) وہ ضمیر کی طرف پلٹے او ر دل ہی دل میں کہنے لگے حقیقتاً تم خود ہی ظالم ہو پھر انہوں نے اپنے سروں کو جھکا دیا اور (ابراہیم سے) کہا تم جانتے ہو کہ یہ نہیں بولتے ۔ (انبیاء۔۶۲تا۶۵) نمردو کے حکم سے اتنیآگ روشن کی گئی کہ اس کے اوپر سے پرندہ نہیں گزر سکتا تھا۔پھر ابراہیم کو گوپھن میں رکھ کرآگ میں ڈال دیاگیا۔ مزید ارشاد فرمایا: قَالُوْا حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْا آلِہَتَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ فَاعِلِیْنَ قُلْنَا یَانَارُ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَامًا عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ ۔ "وہ کہنے لگے اگر تم کو کچھ کر نا ہے تو اسے جلا دو اور اپنے خداوٴں کی نصرت کرو ۔ہم نے کہا اے آگ تو ٹھنڈی ہو جا اور ابراہیم کیلئے سلامتی بن جا ۔" (انبیاء :68-69)
ابراہیم و نمرود کا مباحثہ أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْ حَاجَّ إِبْرَاہِیْمَ فِیْ رَبِّہ أَنْ آتَاہُ اللہ الْمُلْکَ إِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّی الَّذِیْ یُحْیِی وَیُمِیْتُ قَالَ أَنَا أُحْیی وَأُمِیْتُ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ فَإِنَّ اللہ یَأْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُہِتَ الَّذِیْ کَفَرَ وَاللہ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ۔ "کیا تم نے اس شخص کا حال نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے ان کے رب کے بارے میں اس بناء پر جھگڑا کیا کہ اللہ نے اسے اقتدار دے رکھا تھا جب ابراہیم نے کہا میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے تو اس نے کہا زندگی او رموت دینا میرے اختیار میں بھی ہے ابراہیم نے کہا اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال کے دکھا! یہ سن کر وہ کافر مبہوت ہوکر رہ گیا اور اللہ ظالموں کی راہنمائی نہیں کرتا۔" (بقرہ:۲۵۸) حضرت ابراہیم اسماعیل اور ہاجرہ کو مکہ چھوڑ آئے تو ارشاد فرمایا : رَبَّنَا إِنِّی أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ۔ "اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے محترم گھر کے نزدیک ایک بنجر وادی میں بسایاہے۔" (ابراہیم:۳۷)
خواب کی وجہ سے اسماعیل کا ذبح ارشاد رب العزت ہے: قَالَ یَابُنَیَّ إِنِّیْ أَرٰی فِی الْمَنَامِ أَنِّیْ أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَی قَالَ یَاأَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِی إِنْ شَاءَ اللہ مِنَ الصَّابِرِیْنَ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّہ لِلْجَبِیْنِ وَنَادَیْنَاہُ أَنْ یَّاإِبْرَاہِیْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْبَلاَءُ الْمُبِیْنُ وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ۔ " ابراہیم نے کہااے بیٹا !میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں پس دیکھ لو تمہاری کیا رائے ہے اسماعیل نے کہا اے ابا جان ! آپ کو جو حکم ملا ہے اسے انجام دیں اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبرکرنے والوں میں پائیں گے۔پس جب دونوں نے حکم خدا کو تسلیم کیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا تو ہم نے ندا دی اے ابراہیم ! تو نے خواب کو سچ کر دکھایاہے۔ بیشک ہم نیکوکاروں کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں ۔یقینا یہ بڑا سخت امتحان تھا۔ہم نے ایک عظیم قربانی سے اس کا فدیہ دیا۔
حقوق نسواں
عورت
عورت (عربی سے ماخوذ. انگریزی: Woman) یا زن (فارسی سے زنانہ) مادہ یا مؤنث انسان کو کہاجاتا ہے.
عورت یا زنانہ بالغ انسانی مادہ کو کہاجاتا ہے جبکہ لفظ لڑکی انسانی بیٹی یا بچّی کیلیے مستعمل ہے. تاہم، بعض اوقات، عورت کی اِصطلاح تمام انسانی مادہ نوع کی نمائندگی کرتی ہے.
عورت تاریخ کے ہر دور میں مرد کےتابع رہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں ترقی یافتہ ملکوں میں عورت اور مرد کومساوی بنانے کی کوشش کی گئی ۔مگر عملا یہ فرق ختم نہ ہوسکا۔ عورت کو مغربی سماج میں آج بھی وہی دوسرا درجہ حاصل ہے جو قدیم زمانہ میں اس کو حاصل تھا۔ جدید تحقیقات نے بتایا کہ دونوں صنفوں کے درمیان اس فرق کا سبب حیاتیات میں ہے۔یعنی دونوں کی حیاتی بناوٹ میں فرق ہے۔ اس لیے معاشرہ کے اندر بھی دونوں کے درجہ میں فرق ہوجاتاہے۔اب مساوات مرد وزن کے حامی ڈارونزم کے تحت اس کی توجیہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عورت ارتقائی عمل میں زیادہ ابتدائی درجہ میں رہ گئی۔جب کہ ڈارون نے خود کہاہے کہ : مرد با لآخر عورت کے مقابلہ میں برتر ہوگیا،
Women remained at a more primitive stage of evolution.As Darwin himself put it, Man has ultimately become superior to women." [1]
عورت اور اسلام
اسلام انسانیت کے لیے تکریم، وقار اور حقوق کے تحفظ کا پیغام لے کر آیا۔ اسلام سے قبل معاشرے کا ہر کمزور طبقہ طاقت ور کے زیرنگیں تھا۔ تاہم معاشرے میں خواتین کی حالت سب سے زیادہ ناگفتہ بہ تھی۔ تاریخِ انسانی میں عورت اور تکریم دو مختلف حقیقتیں رہی ہیں۔ قدیم یونانی فکر سے حالیہ مغربی فکر تک یہ تسلسل قائم نظر آتا ہے۔ یونانی روایات کے مطابق پینڈورا (Pandora) ایک عورت تھی جس نے ممنوعہ صندوق کو کھول کر انسانیت کو طاعون اور غم کا شکار کر دیا۔ ابتدائی رومی قانون میں بھی عورت کر مرد سے کمتر قرار دیا گیا تھا۔ ابتدائی عیسائی روایت بھی اسی طرح کے افکار کی حامل تھی۔ سینٹ جیروم نے کہا: (St. Jerome)
"Woman is the gate of the devil, the path of wickedness, the sting of the serpent, in a word a perilous object."
مغرب میں عورت کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے ایک طویل اور جاں گسل جدوجہد سے گزرنا پڑا۔ نوعی امتیاز کے خلاف عورت کے احتجاج کا اندازہ حقوق نسواں کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی طرف سے عورت کے لیے womyn کی اصطلاح کے استعمال سے ہوتا ہے جو انہوں نے نوعی امتیاز (Gender Discrimination) سے عورت کو آزاد کرنے کے لیے کیا۔ مختلف اَدوار میں حقوق نسواں کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین میں (1820-1906) ۔Susan B. Anthony کا نام نمایاں ہے جس نے National Woman's Suffrage Association قائم کی۔ اور اسے 1872ء میں صرف اس جرم کی پاداش میں کہ اس نے صدارتی انتخاب میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کی کوشش کی، جیل جانا پڑا۔ صدیوں کی جدوجہد کے بعد 1961ء میں صدر John Kennedy نے خواتین کے حقوق کے لیے کمیشن قائم کیا جس کی سفارشات پر پہلی مرتبہ خواتین کے لیے fair hiring paid maternity leave practices اور affordable child care کی منظوری دی گئی۔ سیاسی میدان میں بھی خواتین کی کامیابی طویل جدوجہد کے بعد ممکن ہوئی۔ Jeanette Rankin of Montana پہلی مرتبہ 1917ء میں امریکی ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہو سکی۔
جب کہ اسلام کی حقوق نسواں کی تاریخ درخشاں روایات کی امین ہے۔ روزِ اول سے اسلام نے عورت کے مذہبی، سماجی، معاشرتی، قانونی، آئینی، سیاسی اور انتظامی کرادر کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اس کے جملہ حقوق کی ضمانت بھی فراہم کی۔ تاہم یہ ایک المیہ ہے کہ آج مغربی اہل علم جب بھی عورت کے حقوق کی تاریخ مرتب کرتے ہیں تو اس باب میں اسلام کی تاریخی خدمات اور بے مثال کردار سے یکسر صرف نظر کرتے ہوئے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کا پیغام تھی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں اور عورت کو وہ حقوق عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔ اسلام نے مرد کی طرح عورت کوبھی عزت، تکریم، وقار اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتے ہوئے ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جہاں ہر فرد معاشرے کا ایک فعال حصہ ہوتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں خواتین اسلام کے عطا کردہ حقوق کی برکات کے سبب سماجی، معاشرتی، سیاسی اور انتظامی میدانوں میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے معاشرے کو اِرتقاء کی اَعلیٰ منازل کی طرف گامزن کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی زندگی میں خواتین کے کردار کا مندرجہ بالا تذکرہ اس کی عملی نظیر پیش کرتا ہے۔
جامع القیروان الاکبر – قیروان شهر ؛ تیونس
جامع القیروان الاکبر - تیونس کی قدیم اور اہم مساجد میں سے ایک ہے۔ اسے جامع عقبہ بن نافع بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ اسے عقبہ بن نافع نے 670ء (50ھ) بنایا تھا جب قیروان شہر کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ قیروان اب تیونس کا ایک مشہور شہر ہے۔
جنوبی صحن
اس مسجد کا رقبہ 9000 مربع میٹر ہے اور اس کا طرزِ تعمیر بعد میں المغرب (تیونس، مراکش وغیرہ) اور ہسپانیہ میں مزید مساجد (مثلاً جامعہ قرویین اور مسجد قرطبہ) میں استعمال کیا گیا۔
ایک زمانے میں اس مسجد کو ایک جامعہ (یونیورسٹی) کا درجہ حاصل تھا کیونکہ یہاں دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی تھی اور اس مسجد میں مذہبی اور دیگر دانشور اکٹھا ہوتے تھے مگر بعد میں دانشوران اس کی جگہ جامعہ زیتونیہ (زیتونیہ یونیورسٹی) چلے گئے جو 737ء میں قائم ہوئی تھی اور آج بھی قائم ہے۔
نماز کی جگہ اور منبر (پرانا تصویر 1930 میں )
اس کی بنیاد عقبہ بن نافع نے 670ء (50ھ) میں رکھی۔ اس تعمیر کو بربروں نے تباہ کر دیا۔ 80ھ میں حسان بن نعمان الازدی الغسانی (افریقہ کی کچھ فتوحات کے قائد) نے پھر تعمیر کیا اور محراب کا اضافہ بھی کیا مگر زیادہ تعمیر اور موجودہ ڈھانچہ غلبی خاندان کا کارنامہ ہے۔ زیادۃ اللہ بن اغلب نے 221ھ میں مسجد کی توسیع کی اور ستون بنوائے۔ احمد بن محمد الاغلبی نے 248ھ میں منبر و محراب کی تزئین و آرائش کی۔ 261ھ میں بڑے صحن کا اضافہ ہوا۔ المعز بن بادیس نے 441ھ میں مسجد میں کچھ ترمیم کی۔
مشرقی طرف سے بیرونی دیوار
اس کی تعمیرات اب تک موجود ہیں۔ مگر بنیادی ڈھانچہ وہی ہے جو اغلبیوں نے تعمیر کروایا تھا۔ مسجد کا زیادہ تر حصہ نویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وجہ سے یہ قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتا ہے۔ زیادہ ڈھانچہ ابراہیم بن احمد الاغلبی کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ مسجد قلعہ نما ہے۔ اس کی دیواریں 1.9 میٹر موٹے پتھروں سے بنی ہیں جو اس زمانے کے حساب سے بھی زیادہ ہے۔ داخلی دیوار 138 میٹر لمبی ہے جبکہ اس کے بالمقابل دوسری دیوار 128 میٹر لمبی ہے۔
مسجد کا مینار
مینار کے ساتھ والی دیوار 71 میٹر لمبی جبکہ اس کے بالمقابل دیوار 77 میٹر لمبی ہے۔ داخلی دروازے سے صحن تک آپ ایک لمبے راہداری کی مدد سے جا سکتے ہیں۔
نماز کی جگہ کے قریب کچھ ستون
مگر اس کے علاوہ پانچ مزید دروازے ہیں۔ صحن کے درمیان ایک تالاب ہے جس میں بارش کا پانی نتھر (فلٹر) کر ایک زیرِ زمین پانی کے ذخیرے میں چلا جاتا تھا۔ یہ اب بھی ہوتا ہے مگر اب وضو کے لیے پانی کا وافر بندوبست ہے اور بارش کے پانی کی ضرورت نہیں پڑتی۔
نماز کے ہال میں 14 مختلف دروازے کھلتے ہیں اور اس میں 400 سے زیادہ ستون ہیں۔ مشہور ہے کہ اس مسجد کے ستونوں کو آپ اندھا ہوئے بغیر گن نہیں سکتے۔
نماز کی جگہ
مسجد کا منبر اسلامی دنیا کا قدیم ترین منبر ہے کیونکہ یہ اسی حالت میں نویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ایک مضبوط لکڑی (ٹیک کی لکڑی) کا بنا ہوا منبر ہے۔
نماز کی جگہ اور منبر
مسجد کا مینار دنیا کا چوتھا قدیم ترین مینار ہے۔ یہ گیارہ سو سال سے اسی طرح کھڑا ہے۔ اگرچہ اس کی نچلی منزلیں اس سے بھی پرانی ہیں (تقریباً تیرہ سو سال پرانی) اور آخری منزل گیارہ سو سال پہلے تعمیر کی گئی تھی۔ اس کی لمبائی 31.5 میٹر ہے اور اس کی تین منزلیں ہیں۔ پہلی منزل 10.5 میٹر اونچی ہے۔
رات کو مینار کا ایک خوبصورت منظر




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
