Super User
امام خمینی کی نظر میں بعثت رسول ۖ کا فلسفہ

تاریخی اور کلامی لحاظ سے رسول اللہ ۖ کی بعثت ،نبوت کی اہم ترین بحث ہے ۔تاریخ انسانیت کایہ عظیم واقعہ دنیا میں ایک بڑے انقلاب کاباعث بناہے اور اس نے پوری تاریخ انسانیت پر اثرات چھوڑے ہیں اور یہ واقعہ نہ فقط اپنے زمانے کے لحاظ سے اہم تھا بلکہ آئندہ زمانے کے لئے بھی اس کی اہمیت اپنے زمانے سے زیادہ اہم ہے ۔ چونکہ رسول اللہ ۖ کی بعثت ایک نبی خاتم ۖ کی بعثت تھی نہ ایک محدود زمانے اور محدودپیغام کے حامل نبی کی بعثت تھی ۔بعثت پیغمبر ۖ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس کو جہاں تاریخی حیثیت سے دیکھا گیا ہے وہاں کلامی اور عرفانی نقطئہ نظر سے بھی اس پر بحث کی گئی ہے ۔
چونکہ امام خمینی ایک فقیہ ،فیلسوف ،عارف ہونے کے لحاظ سے ایک ایسے صاحب نظر عالم دین ہیں کہ جنہوں نے رسول اللہ ۖ کی شریعت کو طریقت اور عملیت کے میدان میں پیش کیا ہے اور رسول اللہ ۖ کے پیغام کا عملی تجربہ کیا ہے اور اسے جدید زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے پیش کرنے کی جرائت کی ہے اور یہ رسول اللہ ۖ کی بعثت اور لائی ہوئی شریعت پر امام خمینی کے محکم ایمان اور یقین کی دلیل ہے ۔
امام خمینی رسول اللہ ۖکی بعثت کے پیغام یعنی؛ شریعت محمدیہ ۖ کو نہ فقط اعتقادی نظر سے دیکھتے تھے بلکہ اس کو عملی میدان میں پیش کرنے اور اس کو دنیا کے تمام نظام ہائے زندگی سے برتر سمجھتے تھے ،اور اسی یقین کامل کے ساتھ اُنہوں نے بعثت رسول ۖکے نتیجے میں قائم ہو نے والی اسلامی حکومت کے احیاء کی کوشش کی اور اسے اپنے یقین محکم کے ساتھ عصر حاضر کے پیچیدہ ترین نظام ہائے زندگی کے مقابلے میں لاکھڑا کیا اور پوری دنیا پر بعثت پیغمبر ۖ کی حقانیت ثابت کر دی ۔اس لحاظ سے بعثت اور فلسفہ بعثت کے بارے میں امام خمینی کے افکار وبیانات اور نظریات خاصی اہمیت رکھتے ہیں ۔چونکہ یہ ایک ایسے عالم دین کے افکار ہیں جو فقط بعثت رسول ۖ پر علمی ونظریاتی بحث نہیں کرتا بلکہ اسے انسانی معاشرے میں عملی شکل میں پیش کرتا ہے ۔
یہ فقط امام خمینی کا امتیاز ہے کہ جنہوں نے پیغام رسالت اور فلسفہ بعثت کو عمل کے میدان میں پیش کیا ہے ۔لہٰذا بعثت رسول اللہ ۖکے بارے میں امام خمینی کے افکار فقط ایک عالم دین اور فقیہ کے افکار نہیں بلکہ ایک عارف کامل ، ایک فیلسوف اور ایک ماہر سیاستدان اور ایک طاقتوراسلامی حکمران کے افکار ہیں جس نے سیاست رسول ۖ اور پیغام بعثت کاتجربہ عملی طو ر پر کیا ہے ۔اسی خصوصیت کے ساتھ ہم سیرت رسول اللہ ۖ کے ایک اہم عنوان یعنی؛ ''بعثت رسول اللہ ۖ'' کے بارے میں امام خمینی کے افکار پیش کرتے ہیں ۔
تاریخ کاعظیم واقعہ
رسول اکرم ۖ کی بعثت کا دن پورے زمانے ''مِن َ الازَل اِلی الابد''باشرف ترین دن ہے۔چونکہ اس سے بڑا اور کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے ۔دنیا میں بہت سے عظیم واقعات رونما ہوئے ہیں ،عظیم انبیاء مبعوث ہوئے ہیں، انبیائے اولوالعزم مبعوث ہوئے ہیں اور بہت سے بڑے بڑے واقعات ہو گذرے ہیں لیکن رسول اکرم ۖ کی بعثت سے بڑا کوئی واقعہ نہیں ہے اور اس سے بڑے واقعہ کے رونما ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔کیونکہ اس عالم میںسوائے خداوند متعال کی ذات مقدس کے، رسول اکرم ۖ سے عظیم تر ہستی کوئی بھی نہیں ہے اورآپۖ کی بعثت سے بڑا واقعہ بھی کوئی نہیں ہے۔ایک ایسی بعثت کہ جو رسول خاتم ۖ کی بعثت ہے اور عالم امکان کی عظیم ترین شخصیت اور عظیم ترین الہٰی قوانین کی بعثت ہے ۔اور یہ واقعہ اس دن رونما ہوا ہے اسی نے اس دن کو عظمت اور شرافت عطا کی ہے ۔ اس طرح کا دن ہمارے پاس ازل وابد میں نہیں آیا اور نہ آئے گا۔لہذامیں اس دن کے موقعہ پر تمام مسلمانوں اور دنیا بھر کے مستضعف لوگوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ ١
عالم بشریت کا وحی کے فواہد اور تعلیمات سے بہرہ مند ہونا
بعثت کا ایک محرک یہ ہے کہ یہ قرآن کہ جو غیب میں تھا ،غیبی صورت میں تھا ،(فقط) علم خدا میںتھا اور غیب الغیوب میں تھا ،اس عظیم ہستی ۖ کے ذریعے ،وہ ہستی ۖ کہ جس نے بہت زیادہ مجاہدت و ریاضت کرنے اور حقیقی فطرت اور توحیدی فطرت پر ہونے کی وجہ سے اور غیب کے ساتھ رابطہ رکھنے کی وجہ سے اس مقدس کتاب کو مرتبہ غیب سے متنزل کیا ہے بلکہ (یہ مقدس کتاب ) مرحلہ بہ مرحلہ نازل ہوئی ہے اور آخر درجہ شہادت (ظاہر)پر پہنچ کر الفاظ کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔اور اب ان الفاظ کو ہم اور آپ سب سمجھ سکتے ہیں اور اس کے معانی سے اپنی توان اور (استعداد ) کے مطابق فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔بعثت کا مقصد اس دسترخوان نعمت کو لوگوں کے درمیان نزول کے زمانے سے لے کر قیامت تک بچھانا ہے اور یہی بات کتاب خدا کے نزول کے اسباب میں سے ایک سبب اور رسول اکرم ۖ کی بعثت کی اصل وجہ ہے (بَعَثَہُ اِلَیْکُم) ( اس رسول ۖ کو تمہاری طرف بھیجا)، وہ رسولۖ تمہارے لیے قرآن اور ان آیات:
''وَیُزَکِّیہِم وَیُعَلِّمُہُمُ الکِتابَ وَالْحِکْمَة'' (سورہ جمعہ ،آیت ٢)
'' (وہ رسولۖ) ان کا تزکیہ کرتا اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے''
کی تلاوت کرتا ہے۔شاید ان آیات کی مقصودیا ہدف یہی ہوکہ رسول اکرم ۖتزکیہ اور تمام افراد کی تعلیم وتربیت اور اسی کتاب وحکمت کی تعلیم کیلئے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ پس بعثت رسول اکرم ۖ کی وجہ وحی اور قرآن کا نزول ہے اور انسانوں کیلئے تلاوت قرآن کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنا تزکیہ کریں اور ان کے نفوس گناہ کی اس ظلمت وتاریکی سے پاک ہوں جو ان کے اپنے اندر موجود ہے اور اس پاکیزگی اور تزکیہ کے بعد ان کی روحیں اور اذہان اس قابل ہوں کہ کتاب وحکمت کوسمجھ کرسکیں۔٢
نور ہدایت کے حصول کے لئے نفوس کا تزکیہ
جو لوگ بعثت کو ایک الہٰی بعثت سمجھتے ہیںاور بعثت کا محرک تمام مخلوق کی ہدایت جانتے ہیں؛اُنہیں بعثت کی غرض و غایت کی طرف متوجہ رہنا چاہیے ۔اور بعثت کے اس محرک کی طرف توجہ کرنی چاہیے ۔چونکہ خود خداوند متعال نے بعثت کا محرک بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :
''یَتلوا عَلَیھم آیاتِہِ وَیُزَکِّیہِم وَیُعَلِّمُہُمُ الکِتابَ وَالْحِکْمَة''
''تاکہ وہ (رسولۖ) ان پر آیات کی تلاوت کرے اور ان کا تزکیہ کرے اور انہیں کتاب
و حکمت کی تعلیم دے'' (سورہ جمعہ ،آیت ٢)
انسان میں ہدایت کی روشنی تزکیہ نفس سے پیدا ہوتی ہے ۔٣
عظیم ترین علمی و عرفانی انقلاب
بعثت کا مسئلہ اور اسکی ماہیت و برکات کوئی ایسی چیز نہیں کہ جسے ہماری لکنت زدہ زبانوں سے بیان کیا جاسکے ۔اس کے پہلو اس قدر وسیع ہیں اور اسکی معنوی اور مادی جہات اس قدر زیادہ ہیں کہ جن کے بارے میں گفتگو کرنے کا میں گمان بھی نہیں کر سکتا ۔
رسول اکرم ۖ کی بعثت نے تمام عالم میں ایک علمی وعرفانی انقلاب برپا کیا ہے کہ جس نے یونانیوں کے خشک اور قدر وقیمت کے حامل فلسفے کو اہل شہود ومعرفت کیلئے ایک عرفان حقیقی اور شہود واقعی میں تبدیل کردیاہے۔کسی کے لئے بھی قرآن کے اس پہلو کا انکشاف نہیں ہوا سوائے اُن لوگوں کے لئے جو اسکے حقیقی مخاطب ہیں ۔حتیٰ بعض پہلو تو ''مَن خوطِبَ بِہ '' کے لئے بھی واضح نہیں ہوئے ہیں ۔جن سے فقط ذات ذی الجلال جل جالہ کے اور کوئی بھی آگا ہ نہیں ہے۔اگر کوئی قبل از اسلام کے فلسفے اور بعد از اسلام کے فلسفے کا مطالعہ کرے اور ہندوستان وغیرہ میں اس قسم کے مسائل سے سروکار رکھنے والوں کا بعداز اسلام کے عرفا سے (موازنہ کرے) کہ جو اسلامی تعلیمات کے ساتھ ان مسائل میں داخل ہوئے ہیں تو وہ جان لے گاکہ اس حوالے سے کتنا عظیم انقلاب آیا ہے۔حالانکہ اسلام کے عظیم عرفا بھی قرآنی حقائق کو کشف کرنے میں عاجز ہیں ۔ قرآن کی زبان کہ جو بعثت کی برکت اور رسول خدا ۖ کی بعثت کی عظیم برکات میں سے ہے۔٤
عظیم ترین علمی و عرفانی انقلاب
رسول اکرم ۖکی اس ولادت باسعادت کے مختلف پہلو آج تک کسی انسان کو معلوم نہیں ہوسکے۔ اس ولادت کی برکت سے فیوض وبرکات کے جاری ہونے والے چشمے رسول اکرم ۖ کے قلب مبارک پر وحی کے نزول کی صورت میں اپنے کمال کو پہنچے۔ قرآن مجید کا نزول بھی انہی سرچشموں میں سے ایک ہے کہ جس کا کامل فہم کسی ایک کیلئے یہاں تک کہ آخری زمانے کے عقلمند اور غور وخوص کرنے والے افراد کیلئے بھی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زبان عصمت سے قرآن کی بیان شدہ حقیقت سے زیادہ آج تک کسی نے قرآنی حقائق سے پردہ نہیں اٹھایا ہے۔ جب آپ اسلام سے قبل معرفت وعلوم کی گہرائی، فلسفے اور اجتماعی عدل وانصاف کا مشاہدہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ قرآن کے انہی معلوم شدہ حقائق نے دنیا میںایک عظیم انقلاب برپاکیا ہے کہ جس کی نہ ماضی میں مثال ملتی ہے اور نہ ہی مستقبل میں امید کی جاسکتی ہے۔
تاریخ عرفان میں آپ دیکھیں کہ اسلام سے پہلے کیا تھا اور اسلام کے بعد اسلام ِمقدس اور قرآن کریم کی تعلیمات کے ذریعے کیا کچھ ہو گیا ہے ۔اسلام سے پہلے کی شخصیات کو دیکھیں مثلاً ارسطو وغیرہ کو دیکھیں ؛وہ عظیم شخصیات تھیں لیکن اس کے باوجود اُن کی کتابوں میں وہ چیز نہیں ملتی جو قرآن کریم میں ملتی ہے ۔
ہماری روایات میں یہ جوبعض آیات(کے بارے میں) نقل ہواہے کہ مثلاً سورہ توحید اور سورہ حدید کی آخری چھ آیات آخری زمانے کے گہرا سوچ وبچار رکھنے والے دور اندیش لوگوں کے لیے نازل ہوئی ہیں ؛میر ے خیال میں اس کی واقعیت اس وقت تک یا اس کے بعد انسان کے لئے جس طرح ہونا چاہیے منکشف نہیں ہو سکے گی۔البتہ اس بارے میںبہت کچھ کہا جا چکا ہے اور اس سلسلے میں بہت ہی گرانقدر تحقیقات انجام پاچکی ہیں لیکن اُفق قرآن اس سے کہیں زیادہ بلند ہے ۔٥
انسان کے ادراک سے بالا معجزہ
بعثت کا واقعہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ جس کے بارے میں ہم کوئی بات کر سکیں ہم فقط اسی قدر جانتے ہیں کہ پیغمبر اکرم ۖ کی بعثت کے ساتھ ایک انقلاب برپا ہو ا ہے اور اس دنیا میںتدریجاً ایسی چیزیں رونما ہوئی ہیں کہ جو پہلے نہیں تھیں ۔ وہ تمام معارف وعلوم جو رسول اکرم ۖ کی بعثت کی برکت سے پوری دنیا میں پھیلے، ان کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ بشریت ان کے لانے سے عاجز ہے اور جو لوگ صاحب علم ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ معارف کیا ہیں اور ہم کس حد تک ان کا ادراک کرسکتے ہیں؟ تمام انسانوں کا ان معارف وعلوم کے لانے میں عاجز ہونا اور بشریت کے فہم وادراک سے اس کا ما فوق ہونا ایک ایسے انسان کیلئے بہت بڑا معجزہ ہے کہ جس نے زمانۂ جاہلیت میںپرورش پائی اور ایک ایسے ماحول میں تربیت حاصل کی کہ جس میں ان باتوں کا دور دور تک نام ونشان موجود نہیں تھا۔ اس زمانے کے لوگ دنیا کے مسائل، عرفانی حقائق، فلسفی نکات اور دیگر مسائل سے قطعی طورپر آشنا نہیں تھے۔ آنحضرت ۖ نے پوری زندگی اسی خطے میں گزاری صرف ایک مختصر مدت کیلئے آپ سفر پر تشریف لے گئے اور لوٹ آئے۔ جب ایک انسان اس وقت کو دیکھتا ہے کہ جب آپۖ رسالت پر مبعوث ہوئے تو آپ نے ایسے مطالب پیش کیے کہ جن کا پیش کرنا اور ان کا فہم وادراک بشریت کی طاقت سے باہر ہے۔ یہ وہ معجزہ ہے کہ جو اہل نظر افراد کیلئے پیغمبر ۖ کی نبوت پر دلیل ہے حالانکہ رسول اکرم ۖ بذات خود ان مطالب کو بیان نہیں کرسکتے تھے، نہ آپ ۖنے تحصیل علم کیا اور نہ ہی آپۖ لکھنا جانتے تھے۔ یہ ایک ایسی عظیم حقیقت ہے جس کے بارے میں بات نہیں کرسکتے اور نہ ہی یہ حقیقت کسی کیلئے کشف ہوئی ہے سوائے خود رسول اکرم ۖ کیلئے اور ان خاص الخاص افراد کیلئے جو آپ ۖسے مربوط ہیں۔
واقعہ بعثت کی عظمت پر پیغمبر ۖ کے اُمی ہونے کی دلالت
اسلام کے مختلف قسم کے عمیق اور گہرے اجتماعی مسائل ایسے شخص کے اپنے نہیں ہوسکتے جس نے تاریک اور علم سے بے بہرہ ماحول میں زندگی بسر کی ہو یا ہر ماحول ومعاشرے میںپرورش پانے والا انسان کیا اس طرح دنیا میں تمام چیزوں کے علم کو پاسکتا ہے جو موجودہ اور آئندہ زمانے کے عقلی تقاضوں اور معیارات پر پورا اترے یہ صرف ایک معجزہ ہے اور معجزے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتا۔٦
شریعت اسلام کی جامعیت کااسلام کے وحیانی ہونے پردلالت کرنا
خاتم المرسلین ۖ کی نبوت کے اثبات کیلئے ہمارے دلائل کا نچوڑ یہ ہے کہ جس طرح تخلیق کائنات کی مضبوطی اور اس کی حسن ترتیب وبہترین نظم ہم کو یہ بتاتا ہے کہ ایک ایسا موجود ہے جو اس کی تنظیم کرتا ہے، جس کا علم تمام باریکیوں، خوبیوں اور کمالات پر محیط ہے۔ اسی طرح ایک شریعت کے احکام کا اتقان، حسن نظام، ترتیب کامل، تمام مادی ومعنوی، دنیوی واخروی، اجتماعی وفردی ضروریات کی مکمّل طورسے پر ذمہ داری قبول کرنا بھی ہم کو یہ بتاتا ہے کہ اس کے منتظم اور چلانے والے کا علم بھی لامحدود ہوگا اور وہ افراد بشر کی ضرورتوں سے واقف ہوگا اور چونکہ یہ بات بدیہی ہے کہ یہ سارا کام ایک ایسے انسان کے عقلی قوتوں کا ہرگز مرہون نہیں ہوسکتا، جس نے کسی کے سامنے زانوئے ادب تہہ نہ کیا ہو، جس کی تاریخ حیات ہر قوم وملت کے مورخین نے لکھی ہو، جس نے ایک ایسے ماحول میں تربیت پائی ہو جو کمالات وتعلیمات سے عاری ہو، ایسا شخص اتنا کامل نظام نہیں بنا سکتا۔ اس لئے یقینا غیب اور ماوراء الطبیعہ سے اس شریعت کی تشریح ہوئی ہے اور وحی والہام کے ذریعے آنحضرتۖ تک پہنچائی گئی ہے:
''وَالحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ وُضُوحِ الحُجَّة''۔ ٧
....................................
حوالہ جات
١۔ صحیفہ نور ،ج ١٢ ،ص١٦٨
٢۔ صحیفہ نور ،ج ١٤، ص٢٥٢
٣۔ صحیفہ نور ،ج ١٤ ،ص٢٥٥
٤۔ صحیفہ نور ،ج ١٧ ،ص٢٥٠
٥۔ صحیفہ نور ،ج١٨ ،ص١٩٠
٦۔ صحیفہ نور ،ج ٢٠ ،ص٧٨
٧۔ چہل حدیث ،ص ٢٠١،٢٠٢
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع
١۔ چہل حدیث ؛امام خمینی ؛مئوسسہ تنظیم ونشر آثار امام خمینی ،طبع اول ١٣٧١ شمسی
٢۔ صحیفہ نور ؛امام خمینی ؛(٢٢جلد )وزارت فرہنگ وارشاد اسلامی طبع اول
موسوی
مجلہ سہ ماہی نور معرفت
حسن ثانی مسجد – كاسابلانكا مراكش
مسجد حسن الثانی مراکش کے شہر کاسابلانکا میں واقع ہے۔ اس مسجد کا ڈیزائن فرانسیسی ماہر تعمیرات مائیکل پنیسو نے تیار کیا۔
اس نے مسجد کے ڈیزائن کی تیاری میں اسلامی فن تعمیر سے مدد لی۔ مسجد میں ایک لاکھ سے زائد نمازیوں کی گنجائش ہے۔
یہ مسجد الحرام کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسجد ہے۔ اس کی تعمیر پر 80 کروڑ ڈالر کی لاگت آئی۔ اس مسجد کا مینار دنیا کا سب سے بلند مینار ہے جس کی بلندی 210 میٹر(689 فٹ) ہے۔
اس مسجد کی تعمیر اس طرح کی گئی ہے کہ اس کا نصف حصہ سمندر سے حاصل کی گئی زمین پر اور نصف حصہ بحر اوقیانوس کی سطح پر ہے۔
اس کے فرش کا ایک حصہ شیشے کا ہے جہاں سے سمندر کا پانی دکھائی دیتا ہے۔
مسجد کے مینار سے سبز رنگ کی شعاع کا اخراج ہوتا ہے اور یہ شعاع نہایت دور سے دیکھی جا سکتی ہے اور اس سے شہر کے رہنے والوں کو قبلے کی سمت کا اندازہ ہوتا ہے۔
اسلامی فن تعمیر کے ساتھ ساتھ یہ مسجد کئی جدید سہولیات سے بھی مزین ہے جن میں زلزلے سے محفوظ ہونا، سردیوں میں فرش کا گرم ہونا، برقی دروازے اور ضرورت کے مطابق کھولنے یا بند کرنے کے قابل چھت شامل ہیں۔
اس کا طرز تعمیر اسپین میں قائم الحمرا اور مسجد قرطبہ سے ملتا جلتا لگتا ہے۔
مسجد کے تعمیراتی کام کا آغاز 12 جولائی 1986ء کو کیا گیا اور افتتاح سابق شاہِ مراکش حسن ثانی کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر 1989ء میں کیا جانا تھا لیکن مسجد کے تعمیراتی کام میں تاخیر کے باعث اس کا افتتاح 30 اگست 1993ء کو ہوا۔
مسجد کی تعمیر میں مراکش بھر کے 6 ہزار ماہرین نے 5 سال تک محنت کی۔
مظلوم فلسطينيوں کي حمايت کا مطالبہ
حزب اللہ کے سربراہ سيد حسن نصراللہ نے غزہ پر غاصب صيہوني حکومت کے وحشيانہ حملوں کي مذمت کرتے ہوئے تمام اسلامي اور عرب ملکوں سے فلسطينيوں کي حمايت کي اپيل کي ہے -
حزب اللہ کے سربراہ سيد حسن نصراللہ نے جمعرات کي رات، شب يکم محرم کي مناسبت سے بيروت کے علاقے ضاحيہ کے سيدالشہدا کامپليکس ميں ايک بڑے اجتماع سے خطاب ميں غزہ پر صيہوني حکومت کے حملوں کي مذمت کرتے ہوئے اسرائيلي جارحيت کو تمام عرب اور اسلامي ملکوں کے لئے خطرہ بتايا - انہوں نے کہا کہ اس وقت دنيا کے تمام حريت پسندوں کو فلسطيني مجاہدين کا ساتھ دينا چاہئے کيونکہ غاصب صيہوني حکومت غزہ ميں انسانيت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کررہي ہے -
سيد حسن نصراللہ نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ شام کو جو فلسطيني مزاحمتي تنظيموں کي حمايت کا ايک مضبوط مرکز تھا، دشمنوں نے، اپني سازشوں اور اپنے بھيجے ہوئے دہشتگردوں سے لڑائي ميں الجھا رکھا ہے کہا کہ اس وقت عرب ملکوں کے سربراہوں اور تمام سياسي رہنماؤں کو باہمي اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صيہوني حکومت کے وحشيانہ حملوں کے مقابلے ميں غزہ کے دفاع پر متحد ہوجانا چاہئے-
انہوں نے کہا کہ صيہوني حکومت نے شام کے بحران سے غزہ پر حملے کے لئے فائدہ اٹھايا ہے -
سيد حسن نصراللہ نے اپنے خطاب ميں کہا ہے کہ غاصب صيہوني حکومت کے حکام نے تحريک مزاحمت کي طاقت و توانائي کا اعتراف کرليا ہے - انہوں نے تل ابيب پر فلسطينيوں کے ميزائلي حملوں کو غاصب صيہونيوں کے ساتھ جنگ کي تاريخ ميں ايک اہم موڑ قرار ديتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے مزاحمتي فلسطيني تنظيموں کي توانائي، دليري اور استقامت و پائيداري کو ثابت کرديا ہے -
انہوں نے کہا کہ اس وقت غزہ کے شہيدوں کے جن ميں عورتيں اور بچے بھي شامل ہيں، خون نے صيہوني حکومت کے ساتھ امريکا اور مغرب کے تعاون کو پہلے سے زيادہ آشکارا کرديا ہے کيونکہ امريکا نے غزہ پر صيہوني حکومت کا حملہ شروع ہوتے ہي اس کي حمايت کا اعلان کرديا -
سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ صيہوني حکومت نے دو ہزار چھے اور دو ہزار آٹھ کي جنگوں ميں جو اہداف مد نظر رکھے تھے ان ميں اس کو ناکامي ہوئي تھي اور آج بھي غزہ پر حملوں ميں اس نے جو اہداف مد نظر رکھے ہيں ان ميں سے کوئي بھي اس کو حاصل نہيں ہوگاکيونکہ مزاحمتي تنظيموں کي توانائي کا اس کو خود بھي اعتراف ہے -
رہبر معظم کی موجودگی میں آزادی کے عنوان سے ماہرین کا چوتھا اسٹراٹیجک اجلاس

رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی موجودگی میں حوزہ علمیہ اور یونیورسٹیوں کے 150 ممتاز ماہرین، اساتید، محققین اور مؤلفین کا چوتھااسٹراٹیجک اجلاس منعقد ہوا جس میں آزادی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
اس سے قبل تین اسٹراٹیجک اجلاس منعقد ہوچکے ہیں جن میں "اسلامی – ایرانی پیشرفت کے نمونے"، " عدل و انصاف"، اور "عورت وخاندان " کے موضوعات کا جائزہ لیا گیا۔ اسٹراٹیجک اجلاس کا مقصد طویل مدت اور اسٹراٹیجک امور کے بارے میں فیصلہ اورباہمی نظریات اور گفتگو کے لئے مؤثر علمی اور فکری ماحول بنانا ہے۔
اس اجلاس میں 10 ممتاز ماہرین نے آزادی کے بارے میں اپنے خیالات اور نظریات پیش کئے اس کے بعد 17 محققین اور اساتذہ نے بیان شدہ نظریات پر تنقیدی مباحثہ پیش کیا۔
اس اجلاس میں رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آغاز میں ملک کی عام فضا ،مسائل اور اقتصادی مشکلات جو عالمی استکبار کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابلے کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: قدرتی طور پر عوام کو درپیش مشکلات سے کوئی بھی شخص غافل نہیں ہے لیکن یہ اجلاس موضوع کی اہمیت اور پہلے سے طے شدہ پروگرام کی وجہ سے اور طویل مدت منصوبوں کا جائزہ لینے کی غرض سے منعقد ہوتا ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ملک کے بنیادی مسائل میں غور و فکر کے سلسلے میں ملک کی شدید ضرورت کو اسٹراٹیجک اجلاس منعقد کرنے کے اصلی علل و اسباب اور اہداف قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم بحر موّاج کی طرح پیشرفت و ترقی کی سمت گامزن ہے، اور اسے اساسی اور بنیادی امور میں افکار کے فعال ہونے اور غور و خوض کی سخت ضرورت ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےسماج کے بنیادی اور اساسی امور میں اہم سوالات کے جوابات دینے کے سلسلے میں ممتاز شخصیات اور دانشوروں کے ساتھ براہ راست رابطہ کو اسٹراٹیجک اجلاس منعقد کرنے کا ایک دیگر ہدف قراردیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس اجلاس کو فکر ونظر کی وسعت کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: ضروری ہے کہ اس اجلاس کے بعد اصلی کام شروع ہوجائے اور حوزہ علمیہ اور یونیورسٹیوں کے دانشوروں ، مفکرین اور محققین کو اس سلسلے میں بیان شدہ مطالب میں مشغول ہوجانا چاہیے کیونکہ وہ فکر و نظر کے جاری اورابلتے ہوئے چشمہ ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک میں آزادی کے موضوع کے مختلف پہلوؤں کی تشریح اور شناخت میں بہت سی خامیوں اور کمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حالیہ صدیوں میں مغربی ممالک میں دیگر موضوعات کی نسبت فکری لحاظ سے آزادی کے موضوع پر بہت زيادہ توجہ دی گئی ہے اور اس کی کلی علت وہ واقعات اور حوادث ہیں جو مغربی ممالک میں اس موضوع کے بارے میں فکری طوفان برپا کرنے کا موجب بنے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نےمغرب میں " ادبی و ثقافتی دور، صنعتی انقلاب، فرانس کے بڑے انقلاب اور سویت یونین کے اکتوبر کے انقلاب " کو مغربی ممالک میں آزادی کے سلسلے میں وسیع پیمانے پر فکری امواج پیدا کرنے کے اصلی عوامل اور حوادث قرار دیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مغربی ممالک کے برعکس ہم نے آزادی کے سلسلے میں مشروطیت سے قبل کوئی فکری موج پیدا نہیں کی اور یہ حالت بھی ہمارے روشن خیال افراد کی مغرب کے روشن خیال افراد کی تقلید کا ہی سبب بنی جو آزادی کے موضوع کے بارے میں کسی خاص نتیجہ تک نہیں پہنچ سکی ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں فرمایا: جب آپ دوسروں سے علم و دانش کو کسی جذبے کے تحت حاصل کرتے ہیں اور وہ فکر و نظر کے ہمراہ بھی ہو تو اس سے فکری پیداوار وجود میں آتی ہے لیکن اگر آپ نے کسی جگہ سے تقلید کرتے ہوئے بغیر فکر و نظر کے کچھ حاصل کیا تو اس سے کوئی فکر پیدا نہیں ہوگی اور آزادی کے موضوع میں مغربی روشن خیال افراد کی تقلید اسی حقیقت کی اساس پر ہے اور اسی وجہ سے مشروطہ کے بعد بھی کوئی نیا اور منظم نظریہ وجود میں نہیں آیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نےاسلامی مآخذ میں آزادی کے بارے میں فراواں مطالب اور موضوعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلام میں ان تمام موضوعات اور مطالب کے باوجود آزادی کے باب میں بہت بڑا خلاء موجود ہے اور ہمیں آزادی کے بارے میں سوالات اور اہم مسائل کا جواب دینے کے لئے نئے نظریہ کی سمت حرکت کرنی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اس کام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سنجیدگی اور اسلامی اور مغربی مآخذ پر مسلط ہونے کی ضرورت ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس اجلاس کے موضوع کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: آزادی سے اس کے یہی رائج اور متداول معنی مراد ہیں جو یونیورسٹیوں اور مغربی محافل میں استعمال کئے جاتے ہیں جو انفرادی اور اجتماعی آزادی پر محیط ہیں اور اس سے معنوی ، سیر و سلوک الی اللہ مراد نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آزادی سے مطلق رہائي و انحراف مراد لینے والے افراد پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا: آزادی کے بارے میں بحث کرتے وقت محدودیتوں سے نہیں گھبرانا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ہم آزادی کی بحث میں اسلام کے نظریہ کی شناخت کی تلاش و جستجو میں ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آزادی کے بارے میں اسلام اور مغرب کے نظریہ میں اہم فرق و تفاوت کو آزادی کی بحث کی بنیاد اور اساس قراردیتے ہوئے فرمایا: لبرل نظریہ کے مطابق آزادی کا منشاء وہی انسانی رجحان یا اومانیزم ہے جبکہ اسلام میں آزادی کا نظریہ توحید یعنی اللہ تعالی پر اعتقاد اور کفر یعنی طاغوت کے انکار پر استوار ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلام کے نظریے کے مطابق انسان، اللہ تعالی کی بندگي اور عبودیت کے علاوہ تمام قیود سے آزاد ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نےانسانی کرامت کو اسلام میں آزادی کےدیگر اصلی اصولوں میں قراردیا اور اسلامی مآخذ میں " قرآن میں حق" ، " فقہ و حقوق میں حق " ،" تکلیف " اور "گرانقدر نظام " میں آزادی کی بحث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: قرآن میں "حق " منظم اور با مقصد مجموعہ کے معنی میں ہے اور اس لحاظ سے عالم تکوین اور عالم تشریح دونوں حق ہیں۔ انسان کی آزادی حق ہے جو باطل کے مقابل قرار پاتی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حقوق و فقہ میں آزادی کو مطالبہ کرنے کی توانائي پیدا کرنے کے معنی میں قرار دیا اور تکلیف کے لحاظ سے آزادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس لحاط سے انسان کو اپنی اور دوسروں کی آزادی کی تلاش کرنی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے " اسلام میں آزادی کے مفہوم " کے بارے میں اپنے بیان کو سمیٹتے ہوئے اس سوال کو پیش کیا کہ اسلام میں آزادی کے مفہوم اور مغرب میں آزادی کے مفہوم کے درمیان گہرے اوربنیادی فرق کے پیش نظر کیا ہم آزادی کے سلسلے میں تحقیق اور ریسرچ میں مغربی نظریات کی طرف مراجعہ کرسکتے ہیں؟
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس سوال کا جواب دینے سے قبل مغربی معاشرے میں آزادی کے کچھ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مغرب میں " اقتصادی میدان میں آزادی " سے مراد سرمایہ داروں کے حلقے میں قرارپانا اور خصوصی امتیازات سے بہرہ مند ہونا ہے، مغرب میں "سیاسی میدان میں آزادی " کا مطلب صرف دو پارٹیوں میں منحصر ہونا ہے ، اور مغرب میں " اخلاقی مسائل میں آزادی " سےمراد فسق و فجور کو فروغ دینا ہے جس کی وجہ سے وہاں ہمجنس بازی کا رجحان بڑھ گیا ہے مغربی ممالک میں آزادی کے یہ نتائج تھے جن کی طرف رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اشارہ کیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مغربی ممالک اور مغربی معاشرے پر ان موضوعات اور واقعات کے بہت برے، تلخ اور ناگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں وہاں تبعیض، منہ زوری اور بحران میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے اور آزادی ، انسانی حقوق و جمہوریت جیسے اچھے الفاظ کے ساتھ ان کی دوگانہ اور متضاد رفتار حقائق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ان تمام افسوسناک واقعات کے باوجود آزادی کے مفہوم میں تحقیق کے لئے مغربی دانشوروں کے نظریہ کی طرف رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ مغرب میں آزادی کے بارے میں منظم فکری و نظری کام ہوا ہے اور اس سلسلے میں ان کا تجربہ پرانا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے بیان کےاختتام میں فرمایا: مغربی دانشوروں کی طرف رجوع کرنے کے لئےتقلیدی نظریہ سے پرہیز کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ تقلید، آزادی کےسراسر خلاف ہے۔
اس اجلاس میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل 10 دانشوروں اور اساتید نے اپنے نظریات کو پیش کیا۔
علاقہ طباطبائی یونیورسٹی کےسیاسی علوم کے استاد ڈاکٹر دہقانی فیروز آبادی پہلے خطیب تھے جنھوں نے " فکری آزادی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی مفادات" پر مبنی اپنے مقالہ کا خلاصہ پیش کیا انھوں نے خارجہ پالیسی میں حکومت کے فیصلوں کے سلسلے میں قومی حمایت میں اضافہ اور سیاستدانوں اور سیاسی محققین کے درمیان اعتماد کے ارتقاء کو قومی مفادات کے شعبے میں فکری نتائج کے عنوان سے یاد کیا۔
شہید بہشتی یونیورسٹی کے سیاسی علوم کے استاد حجۃ الاسلام میر احمدی دوسرے خطیب تھے جنھوں نے "قرآن میں سیاسی آزادی " کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا جس میں انھوں نے توحید ، عدالت اور انسان کے حق انتخاب ، حق تنقید، حق بیان اور اجتماعات کی تشکیل کے حق کو قرآن مجید کی روشنی میں آزادی کے سب اہم موضوعات قراردیا۔
تربیت مدرس یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر شجاعی تیسرے خطیب تھے انھوں نے" عدالت و آزادی کے دینی مصادر " کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا جس میں انھوں نے دین اور آزادی کے درمیان تعارض کو غلط نظریہ قراردیا اور اس نظریہ کی اصلاح کے لئے توحیدی ادیان میں عدل و انصاف اور آزادی کی اصل روح کی طرف رجوع کرنے پر تاکید کی۔
حجۃ الاسلام ڈاکٹر یوسفی چوتھے خطیب تھے جنھوں نے اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر انسان کی اقتصادی آزادی کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں قدرت و ثروت اور آزادی کے مضر اثرات کی طرف اشارہ کیا اور انسان کی اقتصادی آزادی کے بارے میں اسلام کا نظریہ پیش کرتے ہوئے اقتصاد کے استعمال، پیداوار ، منافع اور مدیریت میں منصفانہ تقسیم کی ضرورت پر زوردیا۔
علامہ طباطبائی یونیورسٹی کے سیاسی علوم کے استاد ڈاکٹر برزگر اسٹراٹیجک اجلاس کے پانچویں خطیب تھے انھوں نے اخلاقی، سیاسی اور اعتقادی تین سطح پر آزادی کا جائزہ لیا اور ان کے ذریعہ آزادی کے بارے میں مغربی ممالک کے شبہات کا مدلل جواب دیا۔
محترمہ محدثہ معینی فر اس اجلاس کی چھٹی خطیب تھیں انھوں نے اسلامی حقوق اور فقہ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور اس اجلاس میں انھوں نے اپنے مقالہ میں خاندان میں لبرل نظریہ کے بارے میں جائزہ لیا، مغربی ممالک میں سماجی بحران، خاندانی اخلاق پر برے اثرات ، جنسی فساد، ہمجنس بازی، اور حرامی بچوں کی پیدائش جیسے خطرناک عوامل کا جائزہ لیا۔
باقر العلوم یونیورسٹی کے استاد حجۃ الاسلام دکتر واعظی اسٹراٹیجک اجلاس کے ساتویں خطیب تھے انھوں نے اسلامی نظم و ضبط کے معیاروں اور آزادی کے بارے میں اپنا مقالہ پیش کیا انھوں نے سماجی روابط میں آزادی کے نقش کو اہم قراردیا اور سیاست، ثقافت اور اقتصاد کے میدانوں میں درپیش ضروریات کی شناخت کو بھی اس سلسلے میں بہت ہی مؤثر قراردیا۔
سوشیالوجی کےڈاکٹر عماد افروغ اجلاس کے آٹھویں خطیب تھے انھوں نے " آزادی کے مفہوم اور اس کےتنازعات" کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا اور فلسفی، انتزاعی اور انضمامی لحاظ سے آزادی کے مفہوم کے تنازعات کی طرف اشارہ کیا اور آزادی کے بارے میں لبرل تعریف پر تنقید کی۔
ڈاکٹر موسی نجفی نویں خطیب تھے انھوں نے " ایران کے قومی تشخص و اسلامی بیداری کے تکامل میں آزادی فکر کے درجات " کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر نجفی نے ایران کی سیاسی تاریخ بالخصوص انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد آزادی کے مختلف ادوار کا جائزہ لیا۔
تہران یونیورسٹی کے سیاسی علوم کے استاد ڈاکٹر مصطفی ملکوتیان اجلاس کےدسویں اور آخری خطیب تھے انھوں نے اپنے مقالے میں آزادی کے مفہوم کا فرانس کے انقلاب اور ایران کے اسلامی انقلاب میں موازنہ پیش کیا۔ انھوں نے اپنے مقالہ میں آیت اللہ محمد باقر صدر کے افکار سے استفادہ کرتے ہوئے فرانس کے انقلاب اور ایران کے اسلامی انقلاب میں آزادی کے مفہوم کا موازنہ پیش کیا ۔
اجلاس کے آغاز میں اجلاس کے دبیرڈاکٹر واعظ زادہ نے مؤثرواسٹراٹیجک افکار کےسکرٹریٹ کے اقدامات کےبارے میں رپورٹ پیش کی۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی اور کوئٹہ کے حالات بگاڑنے میں خفیہ ہاتھہ کارفرما ہیں اور ان شہروں میں دانستہ طور پر بدامنی پھیلائی گئی ہے تاکہ نواسۂ رسول حضرت امام حسین (ع) کی شہادت کی عزاداری منائے جانے میں مسائل پیدا کئے جاسکیں ۔ انھوں نے اسلام آباد میں علمائے کرام سے ملاقات میں ان سے اپیل کی ہے کہ وہ محرم الحرام میں امن کی برقراری میں اپنا کردار ادا کریں ۔ پاکستان کی وزارت داخلہ نے ایک لائحہ عمل تیار کیا ہے کہ جس کی رو سے علمائے کرام کو اس بات کا پابند قرار دیا گیا ہے کہ وہ نماز جمعہ کے خطبوں میں اشتعال انگیز تقریریں نہیں کریں گے اور ایام عزا کے دوران مساجد کے لاؤڈاسپیکرز بھی اس طرح سے چلائے جائیں گے کہ ان کی آواز مساجد سے باہر نہ جاسکے ۔ علماء کیلئے ایک خصوصی کمیشن بھی قائم کیا جارہا ہے تاکہ وہ اس کمیشن کے ذریعے وزارت داخلہ تک اپنا احتجاج یا اعتراض پہنچاسکیں ۔ پاکستان کی وزارت داخلہ کے اس لائحہ عمل میں مسلح افراد کو دشمن اسلام ۔ دشمن انسانیت اور دشمن پاکستان اور اسی طرح ان مسلح افراد و گروہوں کے ساتھہ کسی بھی عالم دین کے تعاون کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے ۔ پاکستان میں مختلف دہشتگرد گروہ منجملہ کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکرجھنگوی سرگرم عمل ہیں جو محرم الحرام میں حسینی عزاداروں کو اپنے دہشتگردانہ حملوں کا نشانہ بناتے ہیں اور ان گروہوں نے حال ہی میں پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف اپنے جارحانہ حملے مزید تیز بھی کردیئے ہیں جن میں درجنوں شیعہ مسلمان شہیدوزخمی ہوچکے ہیں جبکہ پیر کے روز تازہ جارحیت میں جو شہر کوئٹہ سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع مچھہ شہر میں انجام پائی چار شیعہ مسلمان شہید ہوئے ہیں ۔ اس سلسلے میں مقامی پولیس کے ایک عہدیدار شیراحمد کا کہنا ہے کہ مسلح افراد، موٹر سائیکل پر سوار تھے جنھوں نے ہزارہ شیعہ مسلمانوں کی کئی دوکانوں پر اندھادھند فائرنگ کی اور چار افراد کو شہید اور ایک شخص کو زخمی کردیا ۔ اسی طرح سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے اتوار کے روز کراچی میں چار شیعہ مسلمانوں کو شہید کیا ۔ اس قسم کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ہزارہ ڈیموکرٹک پارٹی نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مجرموں کی فوری گرفتاری کا طالبہ کیا ہے ۔ مظاہرے کے شرکاء نے کوئٹہ سمیت صوبے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہزارہ شیعہ مسلمانوں کے، کئے جانے والے قتل عام پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور الزام لگایا کہ وہ اس قسم کے جارحانہ حملے روکنے میں ناکام رہی ہے ۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ سرحدی چوکیوں کے پاس کوئٹہ-چمن روڈ پر انجام پانے والے اس قسم کے حملوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سیکیورٹی فورسیز کو اس طرح کی جارحیت کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ انھوں نے سیکیورٹی فورسیز پر تعصب برتنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت بھی ہزارہ شیعہ مسلمانوں کے قتل عام پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ مظاہرین نے فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے والے مذہبی گروہوں کی تحلیل کا بھی مطالبہ کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ ماہ محرم الحرام اور عزداری کے مراسم کے انعقاد کے دوران امن کی برقراری اور دہشتگرد گروہوں کے اقدامات کا مقابلہ اور اسی طرح ان گروہوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے سیکیورٹی فورسیز کی جانب سے پورے پاکستان میں سخت حفاظتی انتظامات کئے جارہے ہیں ۔
امام حسن البنا (شہيد) عالم اسلام كے درخشندہ ستارے
حسن البنا ايك مقام پر كہتے ہيں كہ اسلام ہماري زندگيوں ميں دو كام انجام ديتا ہے۔ اس كا پہلا كام فرد كي ذات پر ہے۔ يہ كسي بهي فرد كو عقيدہ اور اعلٰي انساني اخلاق كے قالب ميں ڈهال كر ايك نيا وجود بخشتا ہے۔ پهر ان افراد كو الہي اور صالح معاشروں كے قيام كے ليے استعمال كرتا ہے۔ آپ كا نظريہ تها كہ اسلام ايك عقيدے كے ساته ساته ايك قوميت بهي ہے، تاہم زميني قوميتوں كے برعكس اسلامي قوميت كي بنياد ايمان پر ہے۔ پس يہ قوميت قبل ازيں ذكر كردہ قوميت كے مقابلے ميں بہت مضبوط ہے۔
كچه لوگوں كي ظاہري زندگي چاہے كتني ہي مختصر كيوں نہ ہو ان كا وجود اس كائنات ميں يوں امر ہو جاتا ہے كہ جس كو بهلانا يا مٹانا ممكن نہيں رہتا۔ مصر كے علاقے محموديہ ميں پيدا ہونے والا حسن البنا بهي كچه اسي قسم كے انسانوں ميں سے ايك ہے۔ اپني زندگي كي ابتداء نہايت مختصر وسائل سے كرنے والا عالم اسلام كا بطل جليل، آج عرب دنيا ميں امام كے لقب سے پكارا جاتا ہے۔ اخوان المسلمين كے نام سے دنيائے عرب ميں جاني جانے والي تنظيم اسي حسن البنا كي كوششوں اور كاوشوں كا نتيجہ ہے۔ حسن البنا نے 1906ء ميں ايك امام مسجد كے گهر آنكه كهولي، مذہبي تعليم و تربيت ابتدا ہي سے آپ كي زندگي كا لازمہ رہي۔ اعلٰي تعليم كے ليے دارالعلوم قاہرہ ميں داخل ہوئے اور فارغ التحصيل ہونے كے بعد اپنے علاقے ميں ہي درس و تدريس ميں مشغول ہو گئے۔ حسن البنا مصر كے مختلف قصبوں اور شہروں ميں سفر كرتے اور لوگوں كو قرآن و سنت پر عمل كرنے كي ترغيب ديتے، تاہم آپ نے كبهي بهي درس و تدريس كے اس عمل كو اپنے روزگار كا ذريعہ نہ بنايا۔ حسن البنا گهڑيوں كي مرمت كا كام كرتے اور اسي سے اپنا گزر اوقات كرتے۔
حسن البنا نے”الاخوان“ تنظيم كي بنياد مصر كے معروف شہر اسكندريہ ميں ركهي، جس كا ہيڈ كوارٹر حسن البنا كي قاہرہ كي جانب ہجرت كے ساته ہي قاہرہ منتقل ہو گيا۔ ياد رہے كہ يہ وہ دور تها جب مصر پر برطانيہ اپنے زرخريد غلاموں كے ذريعے حكومت كر رہا تها۔ حسن البنا كے دروس كا سلسلہ جب بڑها اور تبليغي سرگرميوں كو منظم كرنے كي نوبت آئي تو آپ نے اپنے چند ساتهيوں كے ہمراہ ايك گروہ كي بنياد ركهي۔ اس تنظيم كي تاسيس كے بارے ميں حسن البنا كہتے ہيں:
”ميں نے اپني زندگي كو بچپن سے ہي ايك مقصد كے ليے مختص كر ركها تها اور وہ تها لوگوں كو اسلام كي حقيقي تصوير سے روشناس كرانا، تاہم يہ مقصد ميرے ذہن ميں ہي رہا، جس پر ميں وقتاً فوقتاً سوچتا رہتا تها۔ ميں اپنے اردگرد كے لوگوں سے كبهي كبهي اس سلسلے ميں بات كرتا، جس كا ذريعہ ميرے دروس اور ليكچرز ہوتے تهے۔ ميں نے اپنے علماء دوستوں كو تشويق دلائي كہ وہ تبليغ اسلام كے عمل كو بڑهائيں، تاكہ لوگوں تك اسلام كي حقيقي تعليمات كو پہنچايا جا سكے۔ ميں نے اس سلسلے ميں معاشرے كے مقتدر لوگوں سے بهي بات كي، تاہم مجهے كوئي تسلي بخش جواب نہ ملا۔ جب ميں نے محسوس كيا كہ ميري كوششيں بے سود جا رہي ہيں تو پهر ميں اپنے ديني بهائيوں كي جانب متوجہ ہوا، جن كے ساته ميرا قلبي تعلق بهي تها اور احساس ذمہ داري ميں بهي وہ ميرے رفيق تهے۔
مارچ 1928ء ميں چه برادران جن ميں حافظ عبد الحامد، احمد الحوثري، فواد ابراهيم، عبد الرحمن حسب اللہ، اسماعيل عز اور زكي المغربي شامل تهے ميرے پاس آئے۔ ہم نے عہد كيا كہ ہم بهائيوں كي طرح زندگي گزاريں گے اور اپني زندگياں اسلام كے نام پر مختص كرتے ہوئے اس راہ ميں جدوجہد كريں گے۔ ہم ميں سے ايك نے كہا: ہميں اپنے آپ كو كس نام سے پكارنا چاہيے؟ آيا ہميں كوئي كلب تشكيل دينا چاہيے؟ يا كوئي تنظيم بناني چاہيے؟ ميں نے جواب ديا كہ نہيں ہميں تكلفات ميں نہيں پڑنا، آئيے عملي چيزوں پر توجہ مركوز ركهيں۔ ہم وہ بهائي ہيں جو اسلام كے ليے كام كرتے ہيں، پس ہم اخوان المسلمون ہيں، يہ الاخوان كا پہلا گروہ تها۔ ان چه افراد اور اسلامي تعليمات كي كامل آگہي كے ساته ہم نے اپنے كام كا آغاز كيا۔”
امام حسن البنا نے اپني تحريك كي بنياد كچه اصولوں پر استوار كي۔ ان كي نظر ميں مندرجہ ذيل دس اصول انتہائي اہميت كے حامل تهے۔
1۔ وحدت ہدف
2۔ چهوٹے چهوٹے اختلافات كو پس پشت ڈالتے ہوئے لوگوں كو اسلام كے بنيادي اصولوں پر اكٹها كرنا۔
3۔ اختلاف كي صورت ميں اخلاق اسلامي كي حقيقي پيروي۔
4۔ اختلاف ركهنے والے افراد كے بارے ميں حسن ظن۔
5۔ استبداديت اور مطلق العنانيت سے اجتناب۔
6۔ ايك ہي مسئلے كے ليے دو يا دو سے زيادہ درست راہوں كے امكان كا ادراك۔
7۔ اتفاق رائے پر تعاون اور اختلاف سے صرف نظر كرنا۔
8۔ تمام مسلمانوں كو مشتركہ دشمن كے خلاف مجتمع كرنا۔
9۔ كام اور فعاليت كي حوصلہ افزائي كرنا۔
10۔ وہ لوگ جو بے مقصد مارے گئے انكے لئے بغض كے بجائے رحم دلي كے جذبات ركهنا۔
حسن البنا ان اصولوں كے بارے ميں كہتے تهے كہ اے بهائيو! ہمارے عہد كے دس ستون ہيں، ان كو كبهي فراموش مت كرنا۔ وہ آگہي، اخلاص، كام، لگن، قرباني، اطاعت، مستقل مزاجي، وحدت ہدف، بهائي چارے اور اعتماد پر بہت زور ديتے۔ حسن البنا ايك مقام پر كہتے ہيں كہ اسلام ہماري زندگيوں ميں دو كام انجام ديتا ہے۔ اس كا پہلا كام فرد كي ذات پر ہے۔ يہ كسي بهي فرد كو عقيدہ اور اعلٰي انساني اخلاق كے قالب ميں ڈهال كر ايك نيا وجود بخشتا ہے۔ پهر ان افراد كو الہي اور صالح معاشروں كے قيام كے ليے استعمال كرتا ہے۔ آپ كا نظريہ تها كہ اسلام ايك عقيدے كے ساته ساته ايك قوميت بهي ہے، تاہم زميني قوميتوں كے برعكس اسلامي قوميت كي بنياد ايمان پر ہے۔ پس يہ قوميت قبل ازيں ذكر كردہ قوميت كے مقابلے ميں بہت مضبوط ہے۔
حسن البنا اور ان كے اخوان كي كوششوں سے مصر ميں تبليغ كا يہ سلسلہ اس قدر تيز رفتاري سے پهيلا كہ برطانوي حكومت اور ان كے گماشتے ششدر رہ گئے۔ چند ہي سالوں ميں لاكهوں افراد اخوان المسلمين كا حصہ بن گئے۔ 1930ء تك اخوان المسلمين كي شاخيں مصر كے ہر صوبے ميں پهيل گئيں۔ ايك دہائي بعد فقط مصر ميں اس تحريك سے منسلك افراد كي تعداد پانچ لاكه ہو گئي، علاوہ ازيں اس تحريك كي شاخيں ہمسايہ ممالك تك بهي پهيلنے لگيں۔ اسلامي تعليمات سے اخذ كردہ حسن البنا كے پيغام نے بيك وقت مصري معاشرے كے ساته ساته ديگر عرب معاشروں ميں بهي سرمايہ دارانہ نظام، كميونسٹ رجحانات، استعماريت، سماجي ناہمواريوں اور عرب قوميت سے مقابلہ كيا۔
عرب اسرائيل جنگ ميں اخوان المسلمين كے مجاہدين كي بهرپور شركت اور مصر كي شاہي حكومت سے اختلافات، حسن البنا شہيد كي شہادت كا باعث بنے۔ شاہي حكومت نے ايك حكم نامے كے تحت اخوان المسلمين كو كالعدم قرار ديتے ہوئے اس كے تمام اثاثوں كو منجمد كر ديا اور مركزي قيادت كو گرفتار كر ليا گيا۔ مصر ميں افواہيں پهيلائي گئيں كہ اخوان المسلمين حكومت كا تختہ الٹنے كا ارادہ ركهتي ہے۔ اسي تنگ تاريك ماحول ميں 12 فروري 1949ء كو حسن البنا كو جامع الشعبان المسلمين كے سامنے گوليوں كا نشانہ بنايا گيا۔ يوں اسلام كا يہ سر بكف مجاہد اپني زندگي كے بياليسويں سال ميں اپنے خالق حقيقي سے جا ملا۔
حضرت علي عليہ السلام كي وصيتيں
آپ(ع) كي زندگي كو ديكها جائے تو انہيں باتوں كا خلاصہ ہے جو آپ نے يہاں فرمائي ہيں’’ولا تاسفا علي شي منها ذوي عنكما‘‘ اس وصيت كا ايك ٹكڑا يہ ہے كہ اگر اس مذموم دنيا كا تهوڑا سا حصہ بهي تمہيں نہ ملے تو اس پر كف افسوس نہ ملو فلاں دولت، فلاں ثروت، فلاں لذت، فلاں مقام ومنصب، فلاں آسائش كي چيز آپ كے پاس نہيں ہے اس پر كبهي افسردہ نہ ہوں۔ يہ ہے اس وصيت كا تيسرا جملہ اس كے بعد فرماتے ہيں’’و قولا قول الحق‘‘ حق بات كہيں ،حق كو برملا كريں اسے چهپائيں نہيں۔ اگر كوئي بات آپ كي نظر ميں حق ہے تو اسے اس كي جگہ كہنا چاہئے چهپانا نہيں چاہيئے۔
امام علي(ع) كے كلام ميں اول تا آخر تقوٰي موضوع گفتگو رہا ہے فرماتے ہيں!’’ميرے بيٹو!اپني حفاظت كرو خدا كي راہ ميں اور خدائي معيار كے مطابق زندگي بسر كرو‘‘تقوٰي الٰہي يہي ہے۔ تقوٰي خدا سے خوف وہراس ركهنے كا نام نہيں ہے جيسا كہ بعض لوگ تقوٰي كے يہي معني بيان كرتے ہيں۔
’’خشيت الٰہي‘‘اور ’’خوف خدا‘‘ ايك دوسري چيز ہے۔ تقوا يعني يہ كہ آپ جو كام بهي كريں وہ اس مصلحت كے مطابق ہو جو خدا كي نظر ميں ہے۔تقوٰي كوئي ايسي چيز نہيں ہے كہ ايك لمحہ كے لئے بهي اسے ترك كيا جا سكتا ہو۔ اگر چهوڑ ديا تو پهر انسان كا لڑكهڑانا اور ايك گہرے گڑهے ميں گرنا حتمي ہے يہاں تك كوئي پتهر،كوئي درخت يا كوئي چيز دوبارہ ہاتهوں آئے اور اس كا سہارا لے كر ہم خود كو كهڑا كر سكيں۔’’ان الذين اتقوا اذا مسهم طائف من الشيطان تذكر وا فاذا هم مبصرون‘‘(اعراف ۲۰۱) ۔
تقوٰي كي ايك شرط:دنيا كے پيچهے نہ بهاگنا
’’وان لا تبغيا الدّنيا وان بغتكما‘‘
(دنيا كے پيچهے نہ دوڑواگرچہ وہ تمہارے پيچهے آئے)
يہ بهي تقوٰي كے شرائط اور لوازمات ميں سے ہے،البتہ تمام نيك كام تقوٰي كا جز ہيں جن ميں سے ايك يہي ہے۔ يہ نہيں كہا كہ’’دنيا كو چهوڑ دو، بلكہ يہ فرمايا كہ دنيا كے طالب نہ بن جاؤ اس كے پيچهے نہ بهاگو۔ يہ دنيا كيا ہے؟ اس كا مطلب كيا ہے؟كيا دنيا زمين كو آباد كا نام ہے؟ كيا دنيا الٰہي خزانوں كے زندہ كرنے كو كہتے ہيں؟كيا دنيا يہي ہے جس كا طالب بننے سے روكا جا رہا ہے؟ جي نہيں! يہ دنيا نہيں ہے۔ دنيا وہ ہے جو آپ اپنے لئے،اپني لذتوں كے لئے اور اپني خواہشات كے لئے كرتے ہيں۔ ورنہ زمين كو لوگوں كي خدمت اور خير وصلاح كے لئے آباد كيا جائے تو يہ عين آخرت ہے، يہي ہے ايك اچهي دنيا۔ وہ دنيا جسكي مذمت كي گئي اور جس كے پيچهے دوڑنے سے روكا گيا ہے وہ ہے جو ہم كو ’ہماري توانائي كو‘ ہماري محنت وہمت كو اپني طرف متوجہ كرتي ہے اور ہميں صحيح راستے سے روكتي ہے۔ خود غرضي،نفس پرستي، اپنے لئے مال ودولت كا حصول آرام وآسائش كي لالچ يہ ہے وہ دنيا جو قابل مذمت ہے۔
البتہ اس دنيا ميں حلال بهي اور حرام بهي ہے ۔ ايسا نہيں ہے كہ دنياوي اشيا كا طالب ہونا صرف حرام ہے نہ حلال بهي ہے اور اسي حلال كے بارے ميں كہا گيا ہے اس كے پيچهے بهي مت پڑو،اگر دنيا اس طرح كي ہو گئي تو اس كا حلال بهي اچها نہيں ہے، مادي زندگي كو جتنا زيادہ خدا كي طرف موڑا جائے اتنا زيادہ فائدہ مند ہے ہمارے لئے اور يہي آخرت ہے۔ تجارت بهي اگر مخلوق خدا كي خدمت كے لئے ہو ، نہ كہ دولت اكٹها كرنے كے لئے تو يہ بهي عين آخرت ہے، دنيا كے دوسرے كام بهي اسي طرح ہيں۔ پس دوسرا اہم نكتہ اس وصيت كا يہ ہے كہ دنيا كے طالب نہ بنو اور اس كے پيچهے نہ بهاگو۔
امام علي(ع) نے اس وصيت ميں جو كچه فرمايا ہے ، خود ان باتوں كا مجسم نمونہ تهے۔
آپ(ع) كي زندگي كو ديكها جائے تو انہيں باتوں كا خلاصہ ہے جو آپ نے يہاں فرمائي ہيں’’ولا تاسفا علي شي منها ذوي عنكما‘‘ اس وصيت كا ايك ٹكڑا يہ ہے كہ اگر اس مذموم دنيا كا تهوڑا سا حصہ بهي تمہيں نہ ملے تو اس پر كف افسوس نہ ملو فلاں دولت، فلاں ثروت، فلاں لذت، فلاں مقام ومنصب، فلاں آسائش كي چيز آپ كے پاس نہيں ہے اس پر كبهي افسردہ نہ ہوں۔ يہ ہے اس وصيت كا تيسرا جملہ اس كے بعد فرماتے ہيں’’و قولا قول الحق‘‘ حق بات كہيں ،حق كو برملا كريں اسے چهپائيں نہيں۔ اگر كوئي بات آپ كي نظر ميں حق ہے تو اسے اس كي جگہ كہنا چاہئے چهپانا نہيں چاہيئے۔
جس وقت منہ ميں زبان ميں ركهنے والے حق كو چهپا رہے اور باطل كو جان بوجه كر بيان كر رہے يا حق كي جگہ باطل كو لا رہے ہوں،اگر اس وقت حق آشنا اور حق گوزبانيں اظہار حق كريں تو حق مظلوم نہيں ہوگا، حق اجنبي نہيں بنے گا اور اہل باطل حق كو مٹانے كي كوشش نہيں كريں گے۔
پهر فرماتے ہيں’’واعملا للاجر‘‘الٰہي اجروثواب كے لئے كام كرو، عبث كام نہ كرو اے انسان، تيرا يہ كام ،يہ عمر، يہ خون پسينہ ايك كرنا يہي تيرا اصل سرمايہ ہے اسے يوں ہي صرف نہ كر۔ اگر زندگي بسر كر رہے ہو،اگر كوئي كام كر رہے ہو، اگر محنت و مشقت كر رہے ہو تو يوں نہ كرو بلكہ ايك اجرت كے لئے كرو۔ ليكن اس كي اجرت كيا ہے؟ كيا چند روپے انساني وجود كي قيمت ہے؟ كيا اس عمر كي يہي قيمت ہے؟جي نہيں! انسانجيسي مخلوق اور اس قيمتي عمر كي يہ اجرت نہيں ہے؟
’’فليس لانفسكم ثم الا الجنۃ فلا تبيعوها غيرها‘‘حكمت۴۵۶
يہ امام كا وہ جملہ ہے جس ميں انسان كي قيمت بتائي گئي ہے كہ تمہاري قيمت صرف جنت ہے لہذا اسے جنت كے علاوہ كسي دوسري چيز سے مت بيچو۔
وصيت كا ايك جملہ يہ بهي ہے’’كونا لظالم خصيما وللمظلوم عونا‘‘ظالم كے حريف اور مظلوم كے مددگار بن جاؤ۔ يہاں ’’خصم‘‘ كے معني دشمن كے نہيں ہيں۔ كبهي ايسا ہوتا ہے انسان ظالم كا دشمن ہوتا يعني اس سے متنفر ہوتا ہے۔ يہ كافي نہيں ہے بلكہ فرماتے ہيں اس كے حريف بن جاؤ۔
’’خصم‘‘يعني وہ دشمن جو ظالم كے مد مقابل آجائے’’وہ دشمن جو ظالم كا گريبان پكڑ ليتا ہے اور پهر چهوڑتا نہيں ہے۔
اميرالمؤمنين(ع)كے بعد بشريت اسي وجہ سے بدبختي كا شكار ہوگئي كہ ظالم كا گريبان پكڑ نے والا كوئي نہ رہا۔ اگر با ايمان ہاته ظالموں اور ستمگروں كے گريبان پكڑتے تو ظلم آگے نہ بڑهتا بلكہ ختم ہو جاتا۔ علي(ع)كے كہنے كا مقصد يہ ہے۔ ظلم كے حريف بن جاؤ يعني:مٹا دو ظلم جہاں سے جہاں جہاں بهي ملے
كہنے كا مطلب يہ نہيں ہے ابهي اور اسي وقت دنيا كے اس كونے سے اٹه كر اس كونے ميں جائيں اور ظالم كا گريبان پكڑيں بلكہ مقصد يہ ہے كہ سب كے سامنے ظاہر كريں كہ آپ ظلم و ظالم كے حريف ہيں اور جب موقع ملے ظالم كو پكڑنے كا اسے دبوچ ليں۔ كبهي ايسا ہوتا ہے انسان ظالم كے پاس جا كے اس كے سامنے اظہار نہيں كر سكتا لہذا دور سے اسكي مخالفت كرتا ہے۔ آپ ملاحظہ فرمائيں امير المؤمنين(ع)كي اس ايك وصيت پر عمل نہ كرنے كي وجہ سے دنيا كس بدبختي كا شكار ہے اور كيا بهگت رہي ہے۔ اقوام عالم خاص كر مسلمان قوموں پر كيا گزر رہي ہے۔ اگر حضرت علي(ع) كي صرف اس حديث پر عمل ہوتا تو بہت سي بدبختياں اور ظلم وستم ختم ہو چكے ہوتے ان كا كوئي وجود ہي نہ ہوتا۔
’’وللمظلوم عونا‘‘ جہاں كہيں كسي مظلوم كو ديكهو اس كي مدد كرو، يہ نہيں فرمايا كہ اس كي حمايت كرو بلكہ فرمايا: اس كي مدد كرو، جسطرح سے بهي ہو اور جس قدر بهي ہو سكے۔
يہاں تك وصيت كے جملوں كے اصل مخاطب امام حسنؑ اور امام حسين (ع) كي ذات گرامي ہے البتہ يہ انہيں حضرات سے مخصوص نہيں بلكہ سب كے لئے ہے
اس كے بعد وصيت كا لہجہ بدل كر سب سے عمومي خطاب كرتے ہيں:
’’اوصيكما وجميع ولدي‘‘
تم دونوں اور اپنے تمام بيٹوں سے وصيت كرتا ہوں’’واهلي‘‘ اور اپنے اہل وعيال سے وصيت كرتا ہوں‘‘ ’’ومن بلغہ كتابي‘‘اور ہر اس شخص سے وصيت كرتا ہوں جس تك ميرا يہ خط پہونچے‘‘۔
اس طرح ميں اور آپ سب اس وصيت نامہ كے مخاطب ہيں جس ميں امام فرماتے ہيں تم سب كو ايك چيز كي وصيت كرتا ہوں اور وہ ہے تقوٰي الٰہي اور اس كے بعد ’’ونظم امركم‘‘اور اپنے امور كو نظم وضبط كے ساته انجام دينے كي۔ يہاں پر ’’نظم امركم‘‘ كا كيا مطلب ہے؟ كيا نظم كا مطلب يہ ہے زندگي كے تمام كاموں كو منظم طور پر انجام دو؟ ممكن ہے اس كا ايك مطلب يہ بهي ہے۔ ليكن امام نے يہاں ’’نظم امر‘‘ فرمايا ہے نہ كہ ’’نظم امور‘‘ يعني جس چيز كے نظم وضبط كي تاكيد كي جا رہي ہے وہ ايك ہے نہ كہ زيادہ۔
عام طور سے انسان يہ سوچتا ہے كہ’’نظم امر‘‘ تمام امور دنيوي كے لئے استعمال ہوا۔ ليكن ميري نظر ميں’’نظم امر‘‘ كا مطلب اسلامي نظام، اسلامي حكومت اور اسلامي ولايت كا نفاذ ہے۔
يعني حكومت اور اسلامي نظام كے سلسلے ميں نظم وضبط سے كام ليا جائے
۔
آپسي صلح و صفا
وصيت كے دوسرے حصے كي تيسري اصل يہي آپسي صلح و صفا اور بهائي چارہ ہے يعني ايك دوسرے كے ساته حسن سلوك كرو دل ايك دوسرے كي نسبت صاف رہيں۔
وحدت كلمہ پر قائم اور اختلاف سے دور رہو۔يہ جملہ فرماتے وقت رسول خدا(ص) كے اقوال سے دليل كے طور پر ان كا ايك قول نقل كرتے ہيں۔جس سے معلوم ہوتا ہے اس اصل كو بہت زيادہ اہميت ديتے ہيں۔
اس كا مطلب يہ نہيں كہ آپسي ميل و محبت كي اہميت نظم امور سے بهي زيادہ ہے بلكہ اس كا ترك كرنا زيادہ خطر ناك ہے اسي لئے پيغمبر(ص)كے قول كو دليل كے طور پر پيش كرتے ہيں ’’فاني سمعت جدّكما يقول:صلاح ذات البين افضل من عامۃ الصلاۃ و الصوم‘‘ آپس ميں صلح و صفا ركهنا اور لوگوں كے درميان صلح پيدا كرنا نماز اور روزے سے بہتر ہے يہ نہيں كہا كہ نمازوں اور روزوں سے افضل ہے بلكہ فرمايا كہ ہر نماز اور روزے سے بہتر ہے يعني نماز و روزہ بجا لائيں ليكن جس چيز كي اہميت اور فضيلت ان دونوں سے زيادہ ہے وہ كيا ہے؟ يہي صلح و آشتي ہے ۔
اگر آپ نے مشاہدہ كيا كہ امت مسلمہ كے درميان كوئي اختلاف اور رخنہ پيدا ہو گيا ہے تو اسے فوراً پر كرنے كي كوشش كيجئے۔اس كي اہميت نماز اور روزے سے زيادہ ہے۔
يتيموں كي ديكه بهال
چند جملوں كے بعد ايك چهوٹا سا فقرہ كہتے ہوئے فرماتے ہيں’’واللہ اللہ في الايتام‘‘ يتيموں كے سلسلے ميں خدا سے ڈرو۔ جتنا ممكن ہو سكے ان كي ديكه بهال كرو ان كا خيال ركهو كہيں ايسا نہ ہو كہ انہيں بهول جاؤ۔
بہت اہم نكتہ ہے۔ آپ ملاحظہ فرمائيں كہ يہ انسان شناس، خدا شناس نفسيات كا ماہر اور دلسوز شخص كس طرح سے چهوٹي چهوٹي باتوں كا خيال ركهتا ہے۔ جي ہاں يتيم پروري، يتيم بچوں كا خيال ركهنا يہ فقط رحم و عطوفت نہيں ہے۔ جس بچے كے سر سے باپ كا سايہ اٹه چكا ہو وہ اپني زندگي كي بہت بڑي اور بنيادي ضرورت كو كهو چكا ہے،كسي طرح بهي اس كا جبران ضروري ہے، اگرچہ اس كا جبران نہيں كيا جا سكتا ليكن ہميں خيال ركهنا ہوگا كہ يہ بچہ، يہ نوجوان يا جوانجو اپنے باپ كے سايہ شفقت سے محروم ہو گيا، احساس كمتري ميں مبتلا ہو كر ضائع نہ ہو جائے’’واللہ اللہ في الايتام‘‘ فلا تغبوا افواههم‘‘ كہيں ايسا نہ ہو كہ يہ بهوكيں رہيں، ايسا نہ ہو كہ كبهي انہيں كچه ملے اور كبهي كچه نہ ملے’’الا تغبوا‘‘يہ ہے اس كا مطلب۔ ان كي زندگي كي شان اور اسٹنڈرڈ كے اعتبار سے ان كي ضروريات پوري كرو۔
’’ولا يضيعوا بحضرتكم‘‘ كہيں ايسا نہ ہو كہ تمہارے ہوتے ہوئے ان كي زندگي كے پهول مرجها جائيں،كہيں ايسا نہ ہو كہ يہ تمہاري بے توجہي كا شكار ہو جائيں۔ اگر تمہيں پتہ نہ ہو، تم بے خبر ہو تو الگ بات ہے۔ كہيں ايسا نہ ہو كہ معاشرے كا ہر شخص اپنے كام سے مطلب ركهے اور يہ يتيم بچہ تنہا اور بے سروسامان ہوجائے۔
پڑوسيوں كے حقوق كي رعايت
’’اللہ اللہ في جيرانكم‘‘ اپنے بڑوسيوں سے باخبر رہو۔
ہمسائيگي اور پڑوس اسلام كي نظر ميں بہت اہم ہے، اسے يوں ہي نہ سمجهيئے۔ يہ ايك عظيم اجتماعي ضرورت ہے جسكي طرف اسلام نے توجہ دلائي ہے اور يہ فطرت انساني كے مطابق ہے، البتہ انساني فطرت سے دور تہذيبوں كے پيچ وخم ميں اس طرح كي انساني اقدار كي اہميت اور قيمت كم ہوتي جا رہي ہے۔ اپنے پڑوسيوں كے حقوق كا خيال ركهيں۔نہ صرف اقتصآدي اور مالي اعتبار سے بلكہ انسانيت كے عنوان سے اگرچہ مالي اور اقتصادي حقوق كي بهي بہت اہميت ہے۔اگر ان انساني اقدار كو زندہ كيا جائے تو ديكهئے معاشرے ميں كس طرح سے الفت ومحبت پيدا ہوتي ہے اور كس طرح سے انسانيت كے لا علاج امراض كا مداوا ہوتا ہے۔
’’فانهم وصيۃ نبيكم‘‘ يہ پيغمبر خدا(ص)كي وصيت ہے’’مازال يوصي بهم حتي ظننا انہ سيورتهم‘‘آپ پڑوسيوں كے بارے ميں اتني زيادہ وصيت اور نصيحت فرمايا كرتے تهے كہ ہم سوچنے لگے كہ پڑوسيوں كو بهي ميراث كا حق ديا جائے گا۔
’’واللہ اللہ في القرآن‘‘ قرآن كے سلسلے ميں خبر دار اور ہوشيار رہو۔’’لا يسبقكم بالعمل بہ غير كم‘‘ كہيں ايسا نہ ہو كہ قرآن پر ايمان واعتقاد نہ ركهنے والے اس پر عمل كركے تم پر سبقت لے جائيں اور تم قرآن پر ايمان واعتقاد ركهتے ہوئے اس پر عمل نہ كرو اور پيچهے رہ جاؤ۔
يعني وہي جو ہوا اور ہو رہا ہے!اس دنيا ميں جو لوگ آج آگے ہيں وہ اپني مسلسل كوشش،محنت،بہتركام اور ان صفات كو اپنا كر جو خدا كے پسنديدہ صفات ہيں آگے نكلے اور كامياب ہوتے ہيں نہ كہ ظلم وفساد كے ذريعہ اور دوسري برائيوں كے وجہ سے۔
’’واللہ اللہ في بيت ربكم لا تخلوہ ما بقيتم‘‘خدا كے گهر كو آباد كرو جب تك تم زندہ ہو يہ خالي نہ رہنے پائے ويران نہ ہونے پائے۔
’’فانہ ان ترك لم تناظروا‘‘ اسلئے كہ اگر تم نے خانہ خدا كو تنہا اور ويران چهوڑ ديا تو تمہيں مہلت نہيں دي جائيگي اور زندگي كے وسائل تمہيں فراہم نہ ہو سكيں گے(اس عبارت كے مختلف معاني كئے گئے ہيں)
’’واللہ اللہ في الجهاد باموالكم وانفسكم والسنتكم في سبيل اللہ‘‘ اپنے مال، جان، زبان كے ذريعہ خدا كي راہ ميں جہاد كو جاري ركهو يہ ترك نہ ہونے پائے۔ يہي جہاد ہے جس پر عمل پيرا ہو كر امت مسلمہ دنيا كي ايك آئيڈيل قوم بني رہي اور جب اسے پس پشت ڈال ديا تو ذليل و خوار ہو گئي۔ جہاد اپني اسلامي حدود اور اسلامي ڈهانچے كے ساته ہو تو ظلم نہيں ہے۔
جہاد ميں انساني حقوق كو پامال كرنے كي اجازت نہيں ہے۔ جہاد ميں بہانے بازي اور بلا وجہ كسي كو قتل كرنا صحيح نہيں ہے۔ جہاد يہ نہيں ہے كہ جو بهي غير مسلم ہو اس كي گردن اڑا دي جائے۔ جہاد ايك ايسا حكم خدا ہےجو بہت مقدس اور عظيم كام ہے جہاد ہي ہے جسكي وجہ سے قوميں سر بلند اور سرخرو ہوتي ہيں۔
’’عليكم بالتواصل والتباذل‘‘ پهر فرماتے ہيں كہ’’تمہيں چاہيئے كہ ايك دوسرے سے جڑے رہو،ايك دوسرے كي مدد كرو،ايك دوسرے پر اور ايك دوسرے كے لئے خرچ كرو‘‘(واياكم بالتدابر والتقاطع)’’ايك دوسرے سے قطع تعلق نہ كرو،آپس ميں جدائي نہ ڈالو،قطع رحم نہ كرو‘‘
(لا تتركوا الامر بالمعروف والنهي عن المنكر)’’امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كو ہرگز ترك نہ كرو كيونكہ اگر اسے چهوڑ ديا(فيولي عليكم شراركم)’’تو تمہارے اوپر شر پسند افراد كا ايك گروہ مسلط ہو جائے گا‘‘
’’جس معاشرے ميں نيكي كي طرف بلانے والا اور برائي سے روكنے والا كوئي نہ ہو تو نا اہل اور شر پسند افراد ايسے معاشرے ميں برسر اقتدار آتے ہيں اور حاكم بن جاتے ہيں۔اگر لوگ برائيوں اور برے لوگوں كي مذمت نہ كريں تو پهر برے افراد حكومت كي باگ ڈور اپنے ہاتهوں ميں لے ليتےہيں
(ثم تدعون . . . .)جب ايسا ہو جاتا ہے تو پهر تم ميں سے نيك لوگ خدا كي بارگاہ ميں گڑگڑاتے ہيں كہ خدايا ہميں ان كے شر سے نجات دے
(فلا يستجاب لكم)اس وقت خدا تمہاري دعاؤں كو مستجاب نہيں كرتا۔
(تہران كے خطبہ نماز جمعہ ميں ولي امر مسلمين كے خطبے سے اقتباس)
قرآن کی حفاظت
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ
یہ چند ایک افراد اور ناتواں گروہ تو معمولی سی چیز ہے اگر دنیا بھر کے جابر ، اہل اقتدار، سیاستداں ، ظالم، منحرف، اہل فکر اور جنگ آزما جمع ہو جائیں اور اس کے نورکو بجھا نا چاہیں تو وہ بھی ایسانہیں کرسکیں گے ۔ کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خدا نے اپنے اوپرلے رکھا ہے۔
کفار نے بہت بہانہ سازیاں کیں ۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور قرآن کے بارے میں استہزا کیا ۔ زیر بحث آیت میں ایک عظیم اور نہایت اہم حقیقت بیان کی گئی ہے ۔ یہ بیان حقیقت ایک طرف تو پیغمبر اکرم کی دلجوئی کے لئے ہے : ہم یقینی طور پر اس کی حفاظت کریں گے (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ) ۔ ایسا نہیں کہ یہ قرآن کسی یاور و مددگار کے بغیر ہے اور وہ اس کے آفتابِ وجود کو کیچڑ سے چھپادیں گے یا اس کے نور کو پھونکوں سے بجھا دیں گے یہ تو وہ چراغ ہے جسے حق تعالیٰ نے روشن کیا ہے اور یہ وہ آفتاب ہے جس کے لئے غروب ہونا نہیں ہے ۔
یہ چند ایک افراد اورناتواں گروہ تو معمولی سی چیز ہے اگر دنیا بھر کے جابر ، اہل اقتدار، سیاستداں ، ظالم، منحرف، اہل فکر اور جنگ آزما جمع ہو جائیں اور اس کے نورکو بجھا نا چاہیں تو وہ بھی ایسانہیں کرسکیں گے ۔ کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خدا نے اپنے اوپرلے رکھا ہے ۔
قرآن کی حفاظت سے مراد کن امور کی حفاظت ہے اس سلسلے میں مفسریں کے مختلف اقوال ہیں :
۱۔ بعض نے کہا ہے کہ تحریف و تغیر اور کمی بیشی سے حفاظت مراد ہے ۔
۲۔ بعض نے کہا ہے کہ آخر دنیا تک فطا و نابودی سے حفاظت مراد ہے ۔
۳۔ بعض دیگر نے کہاہے کہ قرآن کے خلاف گمراہ کرنے والی منطق کے مقابلے میں حفاظت مراد ہے ۔
لیکن یہ تفاسیر یہ صرف کہ ایک دوسرے سے تضاد نہیں رکھیتیں بلکہ ” إِنَّا لَہُ لَحَافِظُون“ کے عام مفہوم میں شامل ہیں تو پھر کیوں ہم اس محافظت کو ایک کونے میں محصور کردیں جبکہ یہ مطلق طور پر اور اصطلاح کے مطابق حذف متعلق کے ساتھ آئی ہے حق یہ ہے کہ اس آیت کے ذریعے خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ قرآن کی ہر لحاظ سے حفاظت و نگہداری کرے گا اسے ہر قسم کی تحریف سے بچائے گا ۔
اسے فنادی نابودی سے محفوظ رکھے گا اور وسوسے پیدا کرنے والے سوفسطائیوں اور بد یہات کے منکردین سے اس کی محافظت کرے گا ۔
باقی رہا بعض قدماء مفسرین کا یہ احتمال کہ یہاں ذاتِ پیغمبر مراد ہے اور” لَہُ“ کی ضمیر پیغمبر کی طرف لوٹتی ہے ، کیونکہ قرآن کی بعض آیات ( مثلاً طلاق ۱۰) میں لفظ ”ذکر “ کا اطلاق ذاتِ پیغمبر پر ہوا ہے یہ بہت بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ زیر بحث آیت سے قبل آیت میں لفظ ” ذکر “ صراحت کے ساتھ قرآن کے معنی میں آیا ہے ۔ او ریہ مسلم ہے کہ یہ بعد والی آیت اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔
عدم تحریف ِقرآن
تمام شیعہ سنی علماء مشہور و معروف یہ ہے کہ قرآن میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی اور جو قرآن آج ہمارے ہاتھ میں ہے ، بالکل وہی قرآن ہے جو پیغمبر اکرم پر نازل ہوا، یہاں تک کہ اس میں کوئی لفظ اور کوئی حرف بھی کم یا زیادہ نہیں ہوا ۔
قدماء اور متاٴخرین میں سے وہ عظیم شیعہ علماء کہ جنہوں نے اس حقیقت کی تصریح کی ہے ان میں سے کوئی حسب ذیل علماء کے نام لئے جاسکتے ہیں :
مرحوم شیخ طوسی جو شیخ الطائفہ کے نام سے مشہور ہیں انہوں نے اپنی مشہورکتاب ”تفسیر بیان “ کے آغاز میں اس سلسلے میں روشن واضھ اور قطعی بحث کی ہے ۔
۲۔ سید مرتضیٰ جو چوتھی صدی ہجری کے اعاظم علما ء امامیہ میں سے ہیں ۔
۳۔ رئیس المحدثین مرحوم صدوق محمد بن علی بن بابویہ وہ عقائد امامیہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :۔” ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ قرآن میں کسی قسم کی کوئی تحریف نہیں ہوئی “۔
۴۔ عظیم مفسر مرحوم طبرسی سے بھی اپنی تفسیر کے مقدمہ میں اس سلسلے میں ایک واضح بحث کی ہے ۔
۵۔ مرحوم کاشف الغطاء جو بزرگ علماء متاٴخرین میں سے ہیں ۔
۶۔ مرحوم محقق یزدی نے کتاب عررہ الوثقیٰ میں جمہور مجتہدین شیعہ سے عدم تحریف قرآن نقل کیا ہے ۔
۷۔ بہت سے دوسرے بزرگواروں مثلاً شیخ مفید ، شیخ بہائی ، قاضی نور اللہ اور دیگر شیعہ محققین نے یہی عقیدہ نقل کیا ہے ۔ اہل سنت کے بزرگ اور محققین بھی زیادہ تر یہی عقیدہ رکھتے ہیں ۔
اگر چہ بعض شیعہ اور سنی محدثین کہ جن کی اطلا عات قرآن کے کے بارے میں ناقص تھیں انھوں نے قرآن میں وقوعِ تحریف کا ذکر کیا ہے لیکن دونوں مذاہب کے بزرگ علماء کی وضاحت سے یہ عقیدہ باطل قرار پاکر فراموش ہو چکا ہے ۔
یہاں تک کہ مرحوم سید مرتضیٰ ”المسائل الطرابلسیات“ کے جواب میں کہتے ہیں :
”صحت نقل قرآن دنیا کے مشہور شہروں ، تاریخ کے عظیم واقعات اور مشہور معروف کتب کے بارے میں ہماری اطلا عات کی طرح واضح اور روشن ہے ۔
کیا کوئی شخص مکہ اور مدینہ یا لندن اور پیرس جیسے شہروں کے ہونے میں کوئی شک و شبہ کرسکتا ہے اگر چہ اس نے کبھی بھی ان شہروں کی طرف سفر نہ کیا ہو ۔
کیا کوئی شخص ایران پر مغلوں کے حملے ، فرانس کے عظیم انقلاب یا پہلی اور دوسری عالمی جنگ کا منکر ہو سکتا ہے ۔
ایسا کیوں نہیں ہوسکتا اس لئے یہ تمام چیزیں تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچی ہیں-
قرآن کی آیات بھی اسی طرح ہیں اس تشریح کے ساتھ کہ جو ہم بعد میں بیان کریں گے ۔
اگر بعض افراد نے اپنے مفادات کی غرض سے شیعہ سنی میں تفرقہ ڈالنے کے لئے شیعوں کی طرف تحریف کے اعتقاد کی نسبت دی ہے تو ان کے دعوی کے بطلان کی دلیل علماء شیعہ کی بڑی اور عظیم کتب ہیں ۔
یہ بات عجب نہیں کہ فخر رازی جیسا شخص کہ جو شیعوں سے مربوط مسائل میں خاص حساسیت اور تعصب رکھتا ہے محل بحث آیت کے ذیل میں کہتا ہے کہ یہ آیت ” إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ“مذہب شیعہ کے بطلان کی دلیل ہے کیونکہ وہ قرآن میں تغیر اور کمی بیشی کے قائل ہوتے ہیں ۔
ہم صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر اس کی مراد بزرگان اور محققین شیعہ ہیں تو ان میں سے کوئی بھی اس قسم کاعقیدہ نہیں رکھتا تھا اور نہ رکھتا ہے اور اگر اس کی مراد یہ ہے کہ اس سلسلے میں میں شیعوں کے درمیان ایک ضعیف قوم موجود ہے تو اس کی نظیر اہل ِ سنت میں بھی موجود ہے کہ جس کی نہ وہ اعتناء کرتے ہیں نہ ہم۔
معروف محقق کاشف الغطاء اپنی کتاب ”کشف الغطاء“ میں کہتے ہیں :۔
لاریب انہ ”ای القراٰن “ محفوظ من النقصان بحفظ الملک الدیان کما دل علیہ صریح القراٰن وجماع العلماء فی کل زمان ولاعبرة بنادر ۔
اس میں شک نہیں کہ قرآن کی حفاظت کے سائے میں ہر قسم کی کمی اور تحریف سے محفوظ رہا ہے جیسا کہ صریح قرآن اس پر دلالت کرتا ہے او رہر زمانے کے علماء کا اس پر اجماع رہا ہے اور شاذ و نادر افراد کی مخالفت کی کوئی حیثیت نہیں ہے ( تفسیر آلاء الرحمن ص۳۵)
تاریک اسلام نے اس قسم کی ناروا نسبتیں کہ جن کا سر چشمہ تعصب کے سوا کچھ نہیں ، بہت دیکھی ہیں ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے بعض دشمنون کی طرف سے پیدا کردہ غلط فہمیاں تھیں کہ جو اس قسم کے مسائل کھڑے کرتے تھے کہ مسلمانوں کی صفوں اتحاد و حدت ہر گز بر قرار نہ رہے ۔
معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ مشہور حجازی موٴلف عبد اللہ القصیمی اپنی کتاب الصراع میں شیعوں کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے :۔
شیعہ ہمیشہ سے مساجد کے دشمن تھے یہی وجہ ہے کہ جو شیعوں کے شہروں میں جائے ، شمال سے جنوب تک ، اور مشرق سے مغرب تک اسے بہت کم مساجد دکھائی دیں گی ۔ 2
خوب غور کریں کہ ہم ان تمام مساجد کو شمار کرتے تھک جاتے ہیں کہ جو شاہراہوں ، بازاروں ، کوچوں بلکہ شیعہ محلوں میں موجود ہیں ۔ بعض مقامات پر تو ایک ہی علاقے میں اتنی مسجدیں ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بس کر، آوٴ کوئی او رکام بھی کرو ۔
لیکن اس کے باوجود ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک مشہور موٴلف اس صراحت سے ایسی بات کرتا ہے جو ہم جیسے لوگوں کے نزدیک تو محض مضحکہ خیز ہے کہ جو ان مناطق اور شیعہ علاقوں میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان حالات میں اگر فخر رازی کوئی ایسی نسبت دیتا ہے تو زیادہ تعجب نہیں کرنا چاہیئے۔
عدم تحریف ِ قرآن کے دلائل
۱۔ حافظان قرآن : عدم تحریف قرآن کے بارے میں ہمارے پاس بہت زیادہ دلائل و براہین موجود ہیں ان میں زیادہ واضح اور روشن زیر بحث آیت اور قرآ ن کی کچھ اور آیات کے علاوہ اس عظیم آسمانی کتاب کی تاریخ بھی ہے ۔
مقدمہ کے طور پر اس نکتہ کی یاد ہانی ضروری ہے کہ وہ ضعف اقلیت کہ جس نے تحریف ِ قرآن کا احتمال ذکر کیا ہے ، وہ صرف قرآن میں کمی کے سلسلے میں ہے ۔ ورنہ کسی نے بھی یہ احتمال پیش نہیں کیا کہ موجودہ قرآن میں کسی چیز کا اضافہ کیا گیا ہے ۔( غو ر کیجئے گا )
یہاں سے گذر کر اگر ہم اس موضوع پر غور و فکر کریں کہ قرآن مسلمانوں کے لئے کچھ تھ قانون ِ اساسی ، زندگی کا دستور العمل ، حکومت کاپروگرام ، مقدس آسمانی کتاب اور رمز عبادت سب کچھ تو قرآن تھا تو اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اصولی طور پر اس میں کمی بیشی کا امکان نہیں ۔
قرآن ایک ایسی کتاب تھی کہ پہلے دور کے مسلمان ہمیشہ نمازوں میں ، مسجدوں میں،گھرون میں ، میدان جگ میں دشمن کا سامنا کرتے ہوئے اپنے مکتب کی حقانیت پر استدلال کرنے کے لئے اسی سے استفادہ کرتے تھے یہان تک کہ تاریخ اسلام سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم قرآن عورتوں ک اھق مہر قرار دیتے تھے اور اصولی ور پر تنہا وہ کتاب کہ جو تمام محافل کا موضوع تھی اور ہر بچے کو ابتدائے عمر سے جس سے آشنا کیا جاتا تھا اور جو شخص بھی اسلام کا کوئی درس پڑھنا چاہتا اسے اس کی تعلیم دی جاتی تھی جی ہاں وہ قرآن یہی قرآن مجید ہے ۔
کیا اس کیفیت کے ہوتے ہوئے کسی شخص کو یہ شخص کویہ احتمال ہو سکتا ہے کہ اس آسمانی کتاب میں تغیر و تبدل ہو گیا ہو خصوصاًجبکہ ہم نے اسی تفسیر کی جلد اول کی ابتداء میں ثابت کیا ہے کہ قرآن ایک مجموعہ کی صورت میں اسی، موجود ہ صورت میں خود زمانہ پیغمبر میں جمع ہو چکا تھا اور مسلمان سختی سے اسے یاد کرنے اور حفظ کرنے کو اہمیت دیتے تھے ۔اصولی طور پر اس زمانے میں افراد کی شخصیت زیادہ تر اس بات سے پہچانی جاتی تھی کہ انھیں قرآن کی آیات کس حد تک یا د ہیں ۔
قرآن کے حافظوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ تواریخ میں ہے کہ حضرت ابو بکر کے زمانے میں ایک جنگ میں قرآن کے چار سو قاری مارے گئے تھے ۔ ۱
”بئر معونہ“ مدینہ کی نزدیکی آبادیوں میں سے تھی ۔ یہاں ایک واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں رسول اللہ کی زندگی میں اس علاقے میں ایک جنگ رونما ہو گی تھی ۔یہاں ایک واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں رسول اللہ کی زندگی میں اس علاقے میں ایک جنگ رونما ہوگئی ۔ اس جنگ میں اصحاب پیغمبر میں سے قاریانِ قرآن کی ایک کثیر جماعت نے شربت ِ شہادت نوش کیا یہ تقریباًستّر افرد تھے ۔۲
ان سے اور ان جیسے دیگر واقعات سے واضح ہو جاتا ہے کہ حافظ و قاری اور معلمین قرآن اس قدر زیادہ تھے کہ صرف ایک میدان ِ جنگ میں ان میں سے اتنی تعداد نے جام ِ شہادت نوش کیا اور تعداد ایسی ہونا چاہئیے تھی کیونکہ ہم نے کہا ہے کہ قرآن مسلمانو کے لئے صرف قانون اساسی نہیں ہے بلکہ ان کا سب کچھ اسی سے تشکیل پاتا ہے ۔ خصوصاًابتدائے اسلام میں مسلمانوں کے پاس ا س کے علاوہ کوئی کتاب نہ تھی اور تلاوت و قراٴت اور حفظ و تعلیم تعلّم قرآن کے ساتھ مخصوص تھاقرآن ایک تروک کتاب نہ یہ گھر ی امسجد کے کسی کونے میں فراموشی کے گرد و غبار کے نیچے پڑی ہوئی نہ تھی کہ کوئی اس میں کمی یا زیادتی کردیتا ۔
حفظ قرآن کا مسئلہ ایک سنت اور ایک عظیم عبادت کے عنوان سے ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان تھا اور ہے یہاں تک کہ قرآن ایک کتاب کی صورت میںبہت زیادہ پھیل گیا اور تمام جگہوں پر پہنچ گیا بلکہ آج بھی چھاپہ خانے کی صنعت کے وجود میں آنے کے بعد جبکہ اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ قرآن ہی چھپتا اور نشر ہوتا ہے پھر بھی حفظ قرآن کے مسئلے نے ایک قدیم سنت اور عظیم افتخار کے طور پر اپنی اہمیت و حیثیت کو محفوظ رکھا ہے اور ہر شہر و دیار میں ہمیشہ ایک جماعت حافظِ قرآن تھی اور آج بھی ہے ۔
اس وقت حجاز اور کئی دیگر اسلامی ممالک میں ”تحفظ القراٰن الکریم “ یا دوسرے ناموں سے ایسے مدارس موجود ہیں ، جہاںطالب علموں کو پہلے مرحلے میں قرآن حفظ کرایاجاتا ہے ۔ سفرمکہ کے دوران اس شہر مقدس میں ان مدارس ک بر براہوں سے جو ملاقات ہوئی اس سے معلوم ہوتا ہے ان مدارس میں بہت سے نو جوان لڑکے اور لڑکیاں مشغول تحصیل ہیں ۔ جاننے والوں میں سے ایک شخص نے بتا یا کہ اس وقت پاکستان میں تقریباًپندرہ لاکھ حافظان قرآن موجود ہیں ۔
جیسا کہ دائرة المعارف فرید وجدی نے نقل کیا ہے کہ جامعة الازھر مصر کی یونیورسٹی میں داخلے کی ایک شرط پورے قرآن کا حفظ ہونا ہے اس کے لئے چالیس میں سے کم کم بیس نمبر رکھے گئے ہیں ۔
مختصر یہ کہ خود آنحضرت کے حکم و تاکید سے کہ جو بہت زیادہ روایات میں آئی ہے حفظ ِ قرآن کی سنت زمانہ پیغمبر سے لے کر آج تک ہر دور میں جاری و ساری ہے ۔ کیا ایسی حالت میں تحریف ِقرآن کے بارے میں کسی احتمال کا امکان ہے ؟
۲۔ کاتبان وحی : ان تمام امور کے علاوہ کاتبانِ وحی کا معاملہ بھی غور طلب ہے یہ وہ افراد تھے جو آنحضرت کے حکم اور تاکید سے آپ پر قرآن کی آیات نازل ہونے کے بعد انھیں لکھ لیتے تھے ان کی تعداد چودہ سے لے کر تنتالیس تک بیا ن کی گئی ہے ۔
ابو عبد اللہ زنجانی اپنی نہایت قیمتی کتاب”تاریخ قرآن “ میں لکھتے ہیں ۔
کان للنبی کتاباًیکتبون الوحی وھم ثلاثة و اربعون اشھر ھم الخلفاء الاربعة و کان الزمھم للنبی زید بن ثابت و علی بن ابی طالب علیہ السلام ۔
پیغمبر کے مختلف کاتب اور لکھنے والے کہ جو وحی لکھا کرتے تھے اور وہ تنتالیس افراد تھے کہ جن میں زیادہ مشہور خلفاء اربعہ تھے ۔ لیکن اس سلسلے میں پیغمبر کے سب سے بڑھ کر ساتھی زید بن ثابت اور علی ابن ابی طاللب علیہ السلام ۔3
وہ کتاب کہ جسے اس قدر لکھنے والے تھے کیسے ممکن ہے کہ تحریف کرنے والے اس کی طرف ہاتھ بڑھاسکتے ۔
۳۔ تمام رہبران اسلام نے اسی قرآن کی دعوت دی ہے : یہ امر قابل توجہ ہے کہ اسلام کے عظیم پیشواوٴں کے کلمات کا مطالعہ نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ابتدائے اسلام سے باہم بیک زبان لوگوں کو اسی موجودہ قرآن کی تلاوت ، مطالعہ اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتے تھے اور یہ امر خود نشاندہی کرتا ہے کہ یہ آسمانی کتاب اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر بعد تک تحریف ناپذیرمجموعہ کی صورت میں موجود ہی ہے ۔
نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام کے کلمات اس دعویٰ کے زندہ گواہ ہیں ۔
خطبہ ۱۳۳ میں آپ (علیہ السلام) فرماتے ہیں :۔
وکتاب اللہ بین اظھر کم ، ناطق لایعیالسانہ، و بیت لاتھدم ارکانہ ، و عزلاتھزم اعوانہ۔
اور اللہ تمہارے درمیان ایسا ناطق ہے جس کی زبان کبھی گنگ نہیں ہوتی ۔ یہ ایسا گھر ہے جس کے ستون کبھی منہدم نہیں ہوتے اور یہ ایسا سرمایہٴِ عزت ہے کے انصارکبھی مغلوب نہیں ہوتے ۔
خطبہ ۱۷۶میں فرماتے ہیں :۔
و اعلموا ان ھٰذا القراٰن ھو الناصح الذی الیغش والھادی الذی لایضل ۔
جان لو کہ یہ قرآن ایسا ناصح ہے جو اپنی نصیحت میں کبھی خیانت نہیں کرتا او ر ایسا ہادی ہے جوکبھی گمراہ نہیں کرتا ۔ نیز اسی خطبے میں ہے :
وما جالس ھٰذا القراٰن احد الاقام عنہ بزیادة او نقصان،زیادة من ھدی ، او نقصان من عمی ۔
کوئی شخص اس قرآن کا ہم نشین نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس سے پاس زیادتی یا نقصان کے ساتھ اٹھتا ہے ۔ ہدایت کی زیادتی یاگمراہی کی کمی ۔
اسی خطے کے آخر میں ہے :
ان اللہ سبحانہ لم یعظ احداًبمثل ھٰذا القراٰن ، فانہ حبل اللہ المتین و سببہ الامین۔
خدا نے کسی کو اس قرآن جیسی وعظ و نصیحت نہیں کی ۔ کیونکہ یہ خدا کی محکم رسی اور اس کا قابل اطمینان وسیلہ ہے ۔خطبہ ۱۹۸ میں ہے :۔
ثم انزل علیہ الکتاب نوراً لاتطفاٴ مصابیحة، و سراجاً لایخبوتوقدہ، و منھا جا لا یضل نھجہ و فرقاناً لایخمد بر ھانہ
اس کتاب کے بعد خدا نے اپنے نبی پر ایک کتاب نازل کی وہ کتاب جو خاموش نہ ہونے والا نور ہے اور جو ایسا چراغ پر فروغ ہے کہ جس میں تاریکی آہی نہیں سکتی اور یہ ایسا راستہ ہے جس پر چلنے والے گمراہ نہیں ہوسکتے اور یہ حق کی باطل سے جدائی کا ایسا سبب ہے جس کی برہان خاموش نہیں ہوتی ۔
ایسی تعبیرات حضرت علی السلام اور دیگر پیشوایانِ دین کے کلمات و ارشادات میں بہت زیادہ ہیں ۔
فرض کریں کہ اگر دست تحریف اس آسمانی کتاب کی طرف بڑھا ہوتا تو کیا پھر بھی ممکن تھا کہ اس کی طرف دعوت دی جاتی ۔ اور اسے راہ کشا ، حق کی باطل جدائی کا ذریعہ ، نہ بجھنے والانور ، خاموش نہ ہونے والا چراغ، خدا کی محکم رسی اور اس کا امین و قابل اطمینان وسیلہ قرار دے کر تعارف کروایا جاتا ۔
۴۔ آخری دین اور ختم نبوت کا تقاضا :۔ اصولی طور پر پیغمبر اسلام کی خاتمیت قبول کرلینے کے بعد اور یہ تسلیم کرلینے کے بعد کہ دین اسلام آخری خدائی دین ہے اور قرآن کا پیغام دنیا کے خاتمے تک بر قرار رہے گا کس طرح یہ باور کیا جا سکتا ہے خدا اسلام اور پیغمبر خاتم کی اس واحد سند کی حفاظر نہیں کرے گا ۔
اسلام کے ہزاروں سال کے بعد باقی رہنے ، جاوداں ہونے اور آخری دنیا تک رہنے کے ساتھ کیا تحریف ِ قرآن کاکوئی مفہوم ہو سکتا ہے ؟
۵۔ روایات ِ ثقلین :۔ روایات ثقلین کہ جو طرق معتبر و متعدد ہ سے پیغمبر اسلام سے نقل ہوئی ہےں قرآن کی اصالت اور ہر قسم کے تغیر و تبدل سے محفوظ رہنے پر ایک ایک اور دلیل ہیں کیونکہ ان روایات کے مطابق پیغمبر اکرم فرماتے ہیں :
میں تمہارے درمیان میں سے جارہاہوں اور دو گرانمایہ چیزیں تماہرے لئے بطور یاد گار چھوڑے جارہاہوں، پہلی اور دوسری میری اہل بیت ۔ اگر تم نے ان کا دامن نہ چھوڑا ، تو ہ رگز گمراہ نہیں ہوگے ۔ ۱
۱۔حدیث ثقلین متواتر احادیث میں سے ہے یہ حدیث اہل سنت کی بہت سے کتب میں صحابہ کی ایک جماعت کی وساطت سے پیغمبر اکرم سے نقل ہوئی ہے ان صحابہ میں ابو سعید خدری ، زید بن ارقم ، زید بن ثابت، ابو ہریرہ ،حذیفہ بن اسید ، جابر بن عبد اللہ انصاری ، عبد اللہ حنطب، عبدبن حمید، جبیر بن مطعم ، ضمرہ اسلمی ، ابوذر غفاری ، ابو رافع اور ام سلمہ وغیرہ شامل ہیں ۔
کیا ایسی با ت کسی ایسی کتاب کے لئے صحیح ہے جو تحریف کا شکار ہو گئی ہو ۔
۶۔ قرآن جھوٹی اور سچی روایات کے لئے کسوٹی ہے :ان سب پہلووٴں سے قطع نظر قرآن کا تعارف سچی اور جھوٹی روایات و احادیث کو پرکھنے کے لئے معیار کے طور پر کروایا گیا ہے بہت سے روایات کہ جو منابع اسلام میں آئی ہیں ان میں سے کہ جو حدیث کے سچے یا جھوٹے ہونے کے بارے میں شک کرو اسے قرآن کے سامنے پیش کرو، جو حدیث کے موافق وہ حق ہے اور جو حدیث اس کے مخالف ہے وہ باطل اور غلط ہے ۔
فرض کریں کہ قرآن میں کمی کے لحاظ سے ہی تحریف ہوتی تبب بھی ہر گز ممکن نہ تھا کہ اس کا تعارف حق و باطل کو پرکھنے کی کسوٹی کے طور پر کر وایا جاتا ۔
۱۔ البیان فی تفسیر القرآن ص ۲۶۰ بحوالہ منتخب کنزالعمال ۔
۲۔سفینة البحار جلد ۱ ص ۵۷۔
3۔تاریخ القرآن ص۳۴۔
روایات ِ تحریف
مسئلہ تحریف کے بارے میں جو بعض لوگوں کے ہاتھ اہم ترین دستاویز ہے وہ ایسی مختلف روایات ہیں جن کا حقیقی مفہوم نہیں سمجھا گیا یا پھر ان کی سند کے بارے میں تحقیق نہیں کی گئی جس کی وجہ سے اس قسم کی بری تعبیر وجود میں آئی ہے ۔
ایسی روایات مختلف قسم کی ہیں:
۱۔ ایسی روایات جن میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد حضرت علی (علیہ السلام) نے قرآن جمع کرنا شروع کیا جب اسے جمع کرچکے تو اسے صھابہ کے ایک گروہ کے پاس لے آئے انہوں نے مقامِ خلافت کے ارد گرد کو گھیر رکھا تھا ۔ آپ نے پیش فرمایا تو انھوں نے اسے قبول نہ کیا اس پر حضرت علی (علیہ السلام) نے کہا :پھر تم اسے کبھی نہ دیکھو گے ۔
لیکن ان روایات میں غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس جو قرآ تھا وہ دوسرے قرآنوں سے مختلف نہیں تھا ۔ البتہ تین چیزوں کا فرق تھا ۔
پہلا یہ کہ اس کی آیات اور سورتیں ترتیب ِ نزولی کے مطابق منظم کی گئی تھیں ۔
دوسرا یہ کہ ہر آیت اور سورة کی شان ِ نزول اس کے ساتھ لکھی گئی تھی ۔
تیسرا یہ کہ جو تفاسیر آپ نے پیغمبر اکرم سے سنی تھیں وہ اس میں درج تھیں ، نیز اس میں آیاتِ ناسخ و منسوخ کی نشاندہی بھی کی گئی تھی ۔
لہٰذا وہ قرآن جو حضرت علی علیہ السلام نے جمع کیا تھا اس میں اس قرآ ن سے ہٹ کر کوئی نئی چیز نہ تھی اور جو چیز زیادہ تھہ تھی وہ تفسیر تاویل ، شان ِ نزول اور ناسخ و منسوخ کی تمیز وغیرہ تھی دوسرے لفظوں میں وہ قرآن بھی تھا اور قرآن کی اصلی تفسیر بھی تھی ۔
کتاب سلیم بن قیس میں ہے :۔
ان امیر الموٴمنین (علیہ السلام) لما رای غدر الصحابة وقلة و فائھم لزم بیتہ، و اقبل علی القرآن ، فلما جمعہ کلہ، وکتابہ بیدہ، و تاٴویلہ الناسخ و المنسوخ، بعثت الیہ ان اخرج فبایع، فبعث الیہ انی مشغول فقد آلیت علی نفسی لا ارتدی بردائی الا لصلاة حتی اوٴلف القراٰن و اجمعہ ۔1
جس وقت امیر المومومنین (علیہ السلام) نے صحابہ کی بے وفائی اور دوستوں کی کمی دیکھی تو گھر نہ چھوڑا اور قرآن کی طرف توجہ ہوئے آپ قرآن جمع کرنے اور اسے اپنے ہاتھ سے لکھنے میں مشغول ہوگئے یہان تک کہ تاویل اور ناسخ و منسوخ سب کو جمع کرلیا اس دورانمیں انہوں نے آپ کے پاس کسی کو بھیجا کہ گھرسے باہر نکلےں اور بیعت کریں آپ نے جواب میں کہلابھیجا کہ مشغول ہو ں، میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک قرآن جمع نہ کرلوں سوائے نماز کے عباکندے پر نہیں ڈالوں گا ۔
۲۔ روایات کی دوسری قسم وہ ہے جو تحریف معنوی کی طرف اشارہ کرتی ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تحریف تین طرح کی ہے :۔
۱۔ تحریف لفظی
۲۔ تحریف معنوی
۳۔ تحریف معنوی
۱۔ لفظی یہ ہے کہ قرآن کے الفا اور عبارت میں کمی بیشی اور تغیر کیا جائے اور یہ وہ تحریف ہے جس کا ہم اور تمام محققین ِ اسلام شدت سے انکار کرتے ہیں ۔
۲۔ تحریف معنوی یہ ہے کہ آیت کا معنی اور تفسیر اس طرح سے کی جائے کہ وہ اس کے حقیقی مفہوم کے برخلاف ہو ۔
۳۔ تحریف عملی یہ ہے کہ اس کے خلاف عمل کیا جائے ۔
مثلاً تفسیر علی بن ابراہیم میں ابو ذر منقول ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی :۔
یوم بیض وجوہ و تسوةوجوة
جس دن کچھ لوگوں کے چہرے تو سفید ہوں گے اور کچھ کے چہرے سیاہ ہوں گے ۔ (آلِ عمران ۱۰۶) ۔
تو پیغمبر نے فرمایا:۔
روز قیامت لوگوں سوال کیا جائے گا تم تم نے ثقلین ( قرآن و عترتِ پیغمبر ) کے ساتھ کیا سلوک کیا تو لوگ کہیں گے :
اما الاکبر فحرقناہ،ونبذناہ وراء طھورن
ہم نے ثقل اکبر ( قرآن ) کی تحریف کی اور اسے پس پشت ڈال دی
واضح ہے کہ یہاں تحریف سے مراد وہی مفہوم قرآن کو دگر گوں کرنا اور اسے پس، پشت ڈال دیناہے ۔
۳۔ تیسری قسم ان روایات کی ایسی روایا ت ہیں ۔ یہ روایات دشمنوں، منحرفوں یا ناداں نے قرآن کو بے اعتبار کرنے کے لئے گھڑی ہیں مثلاً وہ متعدد روایات جو احمد بن سیاری سے نقل ہوئی ہیں کہ جن کی تعداد ایک سو اٹھاسی (یہ تعداد کتاب”برہان روشن“ کے موٴلف نے لکھی ہے ) ۔ تک جاپہنچی ہے ۔ مرحوم حاجی نوری نے کتاب ”فصل الخطاب“ میں انھیں فروانی سے نقل کیا ہے ۔
ان احادیث کاراوی سیاری بہت سے بزرگ علماء ِ رجال کے بقول فاسد المذہب، ناقابل اعتماد ضعیف الحدیث تھا اور بعض کے بقول صاحب غلو، منحرف ، تناسخ کے ساتھ مشہور اورکذاب تھا ۔ مشہور صاحب ِ کتاب رجال کشی کے بقول امام جواد علیہ السلام نے اپنے خط میں سیاری کے دعووں کو باطل اور بے بنیاد قرار دیا ہے ۔
البتہ روایاتِ تحریف سیاری میں منحصر نہیں ہیں لیکن ان کا زیادہ ترحصہ اسی کی طرف سے ہے ۔
ان جعلی روایات میں کچھ مضحکہ خیز روایات بھی نظر آتی ہیں جو شخص تھوڑا بہت بھی مطالعہ رکھتا ہے وہ فوراً ان روایات کی خرابی کو سمجھ لیتا ہے مثلاًایک روایت کہتی ہے کہ سورہٴ نساء کی آیہ ۳ میں ”وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ماطاب لکم من النساء“( اور اگر تمہیں ڈر ہو کے تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں اچھی لگتی ہیں ) شرط اور جزاء کے درمیان میں سے ایک تنہائی سے زیادہ قرآن ساقط ہو گیا ہے ۔
حالانکہ ہم سورہ ٴ نساء کی تفسیر میں کہہ چکے ہیں کہ اس اایت میں شرط اور جزاء پوری طرح ایک دوسرے سے مربوط ہیں یہاں تک کہ اس مین سے ایک لفظ بھی ساقط نہیں ہوا ۔
علاوہ ازیں ایک تہائی سے زیادہ تو پھر اس حساب سے کم ازکم چودہ پاروں کے برابر بنتا ہے ۔
یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ ان سب کا تبان، وحی اور زمانہ پیغمبر سے لے کر آج تک قرآن کے حافظوں اور قاریوں کے ہوتے ہوئے اس کے چودہ پارے ضائع ہوگئے او رکوئی آگاہ نہ ہوا ۔
ان جھوٹوں اور جعل سازوں نے اس تاریخی حقیقت کی طرف توجہ نہیں کہ قرآن کہ جو اسلام کاقانون اساسی ہے اور شروع سے مسلمانوں کا سب کچھ اسی سے تشکیل پاتا ہے رات دن گھروں اور مسجدوں میں اس کی تلاوت ہوتی رہتی ہے کیا اس عالم میں اس کا ایک لفظ بھی ساقط کیا جا سکتا ہے تھا چہ جائیکہ اس کے چودہ پارے غائب کردئے جائیں ۔ یہ اتنا بڑا جھوٹ ایسی احایدث گھڑنے والوں کے پیدا ہونے کی واضح دلیل ہے ۔
بہت سے بہانہ تراش کتاب فصل الخطاب کا سہارا لیتے ہیں ۔ اس کتاب کی طرف ہم نے سطور بالا میں اشارہ کیا ہے یہ مرحوم حاجی نوری کی تالیف ہے اور تحریف کے سلسلے میں لکھی گئی ہے اس کے ابرے میں ہم نے جو کچھ اوپر کہا ہے اس کے علاوہ اس با تی اس کی کیفیت واضھ ہو جاتی ہے کہ مرحوم حاج شیخ آقابزرگ تہرانی کہ جو مرحوم حاجی نوری کے شاگرد مبرز ہیں ، اپنے استاد کے حالات کے ذیل میں ”مستدرک الوسائل “ کی پہلی جلد میں لکھتے ہیں :۔
باقی رہا کتاب ” فصل الخطاب“ کے بارے میں تو میں نے بارہا اپنے استاد سے سنا ہے کہ فرماتے تھے کہ وہ مطالب جو فصل الخطاب میں ہے وہ میراذاتی عقیدہ نہیں ہے ۔ یہ کتاب تو میں نے بحث و اشکال کے لئے لکھی ہے اور اشارتاًعدم تحریف کے بارے میں اپنا عقیدہ بھی بیان کردیا ہے اور بہتر تھا کہ میں کتاب کا نام ” فصل الخطاب فی عدم تحریف الکتاب“ رکھتا ۔
اس کے بعد مرحوم محدث تھرانی کہتے ہیں :
عملی لحاظ سے ہم اپنے استاد کی روش اچھی طرح دیکھتے تھے کہ وہ روایات تحریف کو کچھ بھی وزن دینے کے قائل نہ تھے بلکہ انھیں ایسی ورایات سمجھتے تھے جنہیں دہوار پر دے مارنا چاہئیے ۔ ہمارے استاد کی طرف تحریف کی نسبت وہی شخص دے سکتا ہے جو ان کے عقیدہ سے آشنائی نہ رکھتا ہو ۔
آخری بات یہ ہے کہ بعض ایسے لوگ جو مسلمانوں کے لئے اس آسمانی کتاب کی عظمت کو محسوس نہیں کرتے تھے انھوں نے کوشش کی کہاس قسم کے خرافات اور اباطیل سے قرآن کو اس کی اصالت اور بنیاد سے گرادیں ۔ گذشتہ اور موجودہ زمانے میں بہت سی آیات تبدیل کردیں لیکن یہ ان کا اندھا پن تھا ،علماء ِ اسلام فوراً دشمن کی اس سازش سے آگاہ ہوئے اور ان نسخوں کو اکھٹا کرلیا ۔ یہ سیاہ دل دشمن نہیں جانتے تھے کہ قرآن میں سے ایک نقطہ بھی تبدیل ہو جائے تو قرآن کے مفسرین ، حفاظاور قارئین فوراً اس سے آگاہ ہو جائیں گے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ نور ِ خدا کو بجھا دیں لیکن وہ ایسا ہر گز نہیں کر سکتے ۔
"يُريدُونَ أَنْ يُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ بِأَفْواهِهِمْ وَ يَأْبَى اللَّهُ إِلاَّ أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَ لَوْ كَرِهَ الْكافِرُون"( توبہ ۔ ۳۲)
۱۔اس کی عبارت اس طرح ہے ۔ و الشیعة ھم ابدا اعداء المساجد ولھٰذا یقل ان یشاھد الضارب فی طول بلادھم عرضھا مسجداً
1۔تاریخ القرآن ص۳۴۔
میں مسلمان کیسے ہوئی؟
قرآن آیات کی معجزانہ تاثیر دیکھئے کہ آسٹریلیا کی ایک خاتون سورہ یٰسین کی آیات کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہو گئیں۔
ام امینہ بدریہ کی ایمان افروز داستان قبول اسلام انہی کی زبانی سنیے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے والد کا تعلق تھائی لینڈ سے تھا۔ وہ پیدائشی لحاظ سے مسلمان تھے لیکن عملی طور پر ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جبکہ میری والدہ بدھ مت تھیں اور والد صاحب سے شادی کے وقت مسلمان ہوئی تھیں۔ وہ دونوں بعد میں آسٹریلیا آ کر آباد ہو گئے تھے۔
میرا پیدائشی نام '' ٹے نی تھیا‘‘ Tanidthea تھا۔ میں نے یونیورسٹی آف نیو انگلینڈ، آرمیڈیل سے ایم اے اکنامکس کیا اور بزنس مارکیٹنگ اور ہیومن ریسورسز کے مضامین پڑھے۔ پھر میں بطور ٹیوٹر پڑھانے لگی۔ اسی اثناء میں شادی ہو گئی۔ شادی اسلامی قانون کے مطابق ہوئی۔ میرے شوہر کمپیوٹر گرافکس ڈیزائنر تھے۔ وہ شادی کے وقت مسلمان ہوئے تھے لیکن نام کے مسلمان تھے۔ اسلام پر ہرگز عامل نہیں تھے۔
میرے باپ بھی نام کے مسلمان تھے اور انہیں دین کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا نہ انہوں نے ہمیں کچھ بتایا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم بھی دین سے مکمل طور پر عاری تھے۔ میں کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اللہ مجھے معاف کرے، میں ملحد تھی۔ میں جب اپنے شوہر کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گزار چکی تو ایک وقت مجھ پر ایسا آیا کہ دنیا سے میرا دل اچاٹ ہو گیا اور میں پریشانی کی حالت میں تھی۔ اس پر میں نے سوچا کہ مجھے نماز پڑھنی چاہیے جیسا کہ میں نے ایک دفعہ اپنے والد صاحب کو کہیں پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ لیکن جب میں نے اپنے شوہر کو اس کے بارے میں بتایا تو اس نے اس بات کا بہت برا مانا۔ اس نے کہا ( نعوذ باللہ ) کوئی اللہ واللہ نہیں ہے اور نہ نماز وغیرہ کچھ ہے۔ دریں اثنا میرے والدین وفات پا گئے تھے۔
تقریبا سات سال پہلے آسٹریلیا کی نیوساؤتھ ویلز سٹیٹ کے شہر آرمیڈیل کی ایک چھوٹی سی مسجد میں گئی جو کہ غیر ملکی مسلم طلبہ کیلئے تعمیر کی گئی تھی۔ وہاں سے میں نے انگلش ترجمے والا قرآن مجید پڑھنے کیلئے مستعار لیا۔ میں اسے گھر لے جا کر محض اس کی ورق گردانی (Flip) کر رہی تھی کہ سورہ یاسین کی ان آیات کا ترجمہ میرے سامنے آیا جن میں چاند اور سورج کی حرکت کے بارے میں سائنسی انداز میں بیان کیا گیا ہے: '' اور سورج اپنی معین راہ پر گردش کر رہا ہے یہ اللہ عزیز و علیم کی منصوبہ بندی ہے اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ وہ ہر پھر کی کھجور کی سوکھی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے۔ نہ سورج کی یہ مجال کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔ ‘‘ یہ ترجمہ پڑھنا تھا کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میرے جسم میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔ میں نے سوچا کہ نبی علیہ السلام امی تھے۔ یعنی پڑھے لکھے نہ تھے لیکن اتنے بہترین سائنسی انداز میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے تو ضرور ان پر اللہ کی طرف سے وحی آسکتی ہے۔
بس اس لمحے میرے دل کی دنیا بدل گئی اور میں نے اللہ کی کتاب قرآن عظیم الشان کا مطالعہ اور اس میں غور وفکر شروع کردیا۔ میں جب بھی اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتی ہوں پہلے اپنے سابقہ عمل پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتی ہوں اور پھر اسلام پر پورا پورا عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں قبول اسلام کے بعد مسجد میں جاتی رہی۔ شروع شروع میں، میں پردہ نہیں کرتی تھی پھر جب نمازیوں نے مجھے بتایا کہ یہ گناہ ہے تو اسی دن سے میں نے اپنے گھر جا کر اسکارف لیا اور پہننا شروع کر دیا، نیز اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرنے لگی۔ میں نے خاصی کوشش کی کہ میں اپنے شوہر کو اسلام کے بارے میں قائل کر سکوں لیکن وہ نہ مانا، حالانکہ میری اس سے بیٹی بھی پیدا ہو چکی تھی۔ آخر میں نے اس سے کہا کہ یا اسلام قبول کر لو یا مجھے چھوڑ دو۔
تب اس نے مجھے طلاق دے دی اور مجھ سے اور میری بیٹی سے دستبردار ہو گیا۔ دریں اثنا میں انٹرنیٹ پر پاکستان میں رہنے والے اپنے ایک مسلم بھائی عبدالصمد سے چیٹنگ کرنے لگی اور ان سے اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتی رہی جو وہ مجھے وقتاً فوقتاً بہم پہنچاتے رہے۔ آخر میں نے فیصلہ کیا کہ میں آسٹریلیا سے اسلام کیلئے ہجرت کر لوں۔ میں نے پاکستان کی جانب ہجرت کرنے کو ترجیح دی۔ اسلام لانے سے پہلے میری بیٹی کا نام ( توان وارٹ ) تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے اس کا نام تبدیل کر کے امینہ رکھ دیا۔ میں نے اپنا نام غزوہ بدر کی نسبت سے بدریہ رکھا تھا۔ بیٹی کے حوالے سے میں ام امینہ کہلاتی ہوں۔ میں نے اپنی بیٹی کو آسٹریلیا کے کسی ا سکول میں بھجوانا مناسب نہ سمجھا کیونکہ وہاں تعلیم میں موسیقی اور ان کے پرچم کے آگے ادب و احترام کیلئے مختلف افعال کی ادائیگی شامل تھی جو کہ مجھے پسند نہیں تھی اور اسلامی تعلیمات کیخلاف تھی، لہٰذا میں نے اپنی بیٹی کو اپنے گھر ہی میں اسلام کی ابتدائی تعلیم و تربیت دی ہے۔
آسٹریلیا میں اکثریت عیسائی مذہب پر یقین رکھتی ہے لیکن الحمد للہ اب لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور خاص طور پر خواتین بڑی تیزی سے اسلام کی طرف آ رہی ہیں۔ چند خواتین نے مسلمانوں کے ساتھ شادیاں کی ہیں۔ اکثر خواتین اپنے تحفظ اور احترام کیلئے اسلام کی طرف متوجہ ہو رہی ہیں جو کہ صرف اسلام عطا کرتا ہے۔ آسٹریلیا کے مسلمانوں میں اکثریت عمل سے دور ہے لیکن وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو قرآن اور سنت پر مکمل عمل کر رہے ہیں اکثر مسلمان عورتیں شرعی پردہ نہیں کرتیں۔ صرف رواجی پردہ کرتی ہیں، جب گھر سے باہر نکلنا ہوتا ہے تو خوب پردہ کر لیتی ہیں لیکن گھروں میں نوکروں، دیوروں اور رشتے داروں کے سامنے پردے کا حق ادا نہیں کرتیں جس کا سارا گناہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے شوہروں کو بھی ہو گا۔ میں ان سے یہی کہوں گی کہ وہ اپنے اللہ کی طرف رجوع کریں۔ ان شاء اللہ ان کا یہ عمل دنیا و آخرت کی کامیابی کیلئے اجر کا ذریعہ ہوگا۔
اسلام ميں سب سے پہلى شہادت
قريش كے ہاتھوں آل ياسر كو سخت ترين سزائيں دى گئيں نتيجتاً حضرت عمار كى ماں حضرت سميّہ (رحمۃ اللہ عليہ) ، فرعون قريش ابوجہل (لعنۃ اللہ عليہ) كے ہاتھوں شہيد ہوگئيں وہ اسلام كى راہ ميں شہيد ہونے والى سب سے پہلي ہستى ہيں_ (1) حضرت سميّہ كے بعد حضرت ياسر (رحمۃ اللہ عليہ) شہيد ہوئے_البتہ كچھ لوگ كہتے ہيں كہ اسلام كے پہلے شہيد حضرت حارث ابن ابوہالہ ہيں_ وہ اس طرح كہ جب رسول(ص) اللہ كو اعلانيہ تبليغ كا حكم ہوا تو آپ(ص) نے مسجد الحرام ميں كھڑے ہو كر فرمايا: "" اے لوگو لا الہ الا اللہ كہو تاكہ نجات پاؤ ""يہ سن كر قريش آپ (ص) پر ٹوٹ پڑے، سب سے پہلے آپ (ص) كى فرياد رسى كيلئے پہنچنے والا يہى حارث تھا اس نے قريش پر حملہ كركے انہيں آپ كے پاس سے ہٹايا جبكہ قريش نے حارث كا رخ كيا اور اسے قتل كر ديا_ (2)
ليكن يہ واقعہ درست نہيں كيونكہ (جيساكہ پہلے ذكر ہوچكا) خدانے حضرت ابوطالب اور بنى ہاشم كے ذريعے اپنے نبى كى حفاظت كي، چنانچہ قريش آپ(ص) كا بال بھى بيكا كرنے كى جر ات نہ كرسكے_اسى طرح بنى ہاشم كے دوسرے ايمان لانے والوں كى حالت ہے كيونكہ وہ لوگ حضرت جعفر (رض) حضرت على (ع) اور ديگر افراد پر بھى حضرت ابوطالب (ع) كے مقام كى وجہ سے تشدد نہيں كرسكے_
اس کےعلاوہ مورخين كا تقريبا ًاتفاق ہے كہ اسلام كى راہ ميں سب سے پہلى شہادت حضرت سميہ (رحمۃ اللہ عليہ) اور ان كے شوہر حضرت ياسر (رحمۃ اللہ عليہ) كو نصيب ہوئي مزيد يہ كہ اعلانيہ تبليغ كى كيفيت كے بارے ميں جو كچھ كہا گيا ہے وہ مذكورہ باتوں كے صريحاً منافى ہے
1 _ الاستيعاب حاشيہ الاصابہ ج 4 ص 330 و 331 و 333 ، الاصابہ ج4 ص 334 و 335، سيرہ نبويہ ابن كثير ج1 ص 495، اسد الغابہ ج5 ص 481 اور تاريخ يعقوبى ج2 ص 28_
2_ نور القبس ص 275 از شرقى ابن قطامي، الاصابة ج 1 ص 293 از كلبي، ابن حزم اور عسكرى نيز الاوائل ج 1 ص 311،312_




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
