Super User

Super User

تاریخ کے ہرمرحلے میں علماء اسلام کی سیرت مسلمانوں بلکہ اقوام عالم کے لۓ مشعل راہ رہی ہے تشنگان راہ حق کبھی بھی اس عظیم نعمت الھی سے بے نیازی کا اظہار نہیں کرسکتے ۔

سیرت علماء کے تعلق سے جس چیزپر تحقیقات کۓ جانے کی ضرورت ہے وہ شیعہ و سنی علماء کے دوستانہ تعلقات اور مفاھمت آمیز روش اور اس کے مبارک ثمرات ہیں ،بے شک اس وسیع موضوع کا ایک مقالے یا مضمون میں حق ادانہیں کیاجاسکتا بلکہ اس کے لۓ وسیع تحقیقات کی ضرورت ہے جس کے تحت صاحب نظر افراد تاریخ کے اس اھم گوشہ پر روشنی ڈالیں‎ ۔

علماء شیعہ میں بہت سی ایسی ھستیاں ہیں جن کے اھل سنت علماء کے ساتھ نہایت دوستانہ تعلقات تھے یہ لوگ اھل سنت علماء کے ساتھ علمی بحث و مباحثے بھی کیا کرتے تھے بلکہ علماءشیعہ میں بعض حضرات اھل سنت علماء کے شاگرد ہیں اسی طرح بعض علماءاھل سنت نے شیعہ علماءکے سامنے زانوے ادت تہ کیا ہے یہی نہیں بلکہ شیعہ علما ءنے اھل سنت علماءکو اجازہ روایت دیا ہے اور ان سے خود بھی اجازے لۓ ہیں،اس باھمی تعاون کا مبارک نتیجہ یہ نکلا کہ برادران اھل سنت کےعلماءپیروان اھل بیت یعنی شیعہ مسلمانوں کے عقائد و اصول سے آگاہ ہوۓ اور بہت سے غلط تصورات ابھامات اور تہمتوں کا ازالہ ہوا اور دوستی میں پختگي آئي ،یاد رہے اس دوستی سے فریقیں کے علماءکے اعتقادات میں کسی طرح کی تبدیلی یا خلل نہیں آیا بلکہ انہوں نے اپنے عقیدے اور موقف کو مستحکم بنانے کے لۓ ایک دوسرے کے نظریات سے پوری جرات کے ساتھ استفادہ کیا ۔

اس مختصر مقالے میں ہم بعض علماء شیعہ کا ذکر کررہے ہیں جن کی الھی شخصیت اور علمی عظمت میں ذرہ برابر شک نہیں کیاجاسکتا ان کے نظریات اور عملی سیرت فریقین کے نزدیک باعث تجلیل و تعظیم و تکریم ہے ۔

شیخ مفید محمد ابن نعمان البغدادی

سید شریف المرتضی علی ابن الحسین الموسوی

شیخ الطائفہ محمد بن الحسن الطوسی

علامہ حسن بن یوسف حلی

شہید اول محمد بن مکی الجزینی

شہید ثانی زین الدین بن علی العاملی

سید عبدالحسین شرف الدین العاملی

اس مختصر مضمون میں ان تمام علماء عظام کی سیرت کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا بنابریں ہم صرف شہید اول وثانی اور سید شرف الدین عاملی کی زندگي پر اختصار سے روشنی ڈالیں گے ۔

علامہ بزرگوار سید شرف الدین عاملی اسلامی امۃ کے اتحاد کو بے حد اھمیت دیتے تھے اسی وجہ سے انہوں نے اھل سنت علماء سے تعلقات بڑھاے ان سے ملاقاتیں کی اور بحث ومباحثے کۓ اور آج بھی ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ علامہ شرف الدین کا اسلوب ہی ثمر بخش و مفید واقع ہورہا ہے البتہ اس بات پربھی افسوس ہوتاہےکہ آپ کے بعد آنے والے علماء فریقین نے آپ کے بتاے ہوے راستے پر سنجیدگي سے عمل کرنا ترک کردیا ،اگر فریقین کے صف اول کے علماء علامہ شرف الدین کے راستہ پر عمل کرتے رہتے اور آپسی ملاقاتوں علمی تبادلوں اور علمی تعاون کا سلسلہ جاری رکھتے تو آج ہم کو ان مبارک کوششوں کے نہایت مفید ثمرات دیکھنےکوملتے ،بہرحال آج ہمیں بڑی خوشی ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعدحضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ اور آپ کے برحق جانشین قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای مد ظلہ کی حکیمانہ قیادت میں عالم اسلام کو متحد کرنے کی مفید کوششیں ہورہی ہیں جو انشاءاللہ اسلام کی کامیابی کا باعث بنیں گي ۔

شہید اول محمد بن مکی العاملی ۔

شہید اول کی علمی روش کا ایک اہم ترین پہلو یہ ہےکہ آپ نے کبھی بھی اپنے تعلقات کو کسی خاص فرقے گروہ یا شخص میں محدود نہیں رکھا بلکہ آپ عالم اسلام کی مختلف علمی شخصیتوں اور مکاتب فکر سے رابطے میں رہتے تھے ،مختلف مکاتب فکر کے علماء ومفکرین سے آپ کا علمی تعاون رھتا تھا ان ہی تعلقات کی بناپر آپ کی شخصیت جامع اور ھمہ گیر بن گئي ۔

شہید اول نے علماء اھل سنت کی متعدد شخصیتوں سے اجازات روائي حاصل کۓ اسی طرح متعدد علماء عامہ کو اجازے دۓ ہیں آپ ابن الخازن کے اجازہ راوئي میں لکھتے ہیں کہ اور جہاں تک سوال ہے عامہ (اھل سنت ) کی کتب اور روایات کا تو میں ان کے چالیس علماء سے روایت کرتاہوں جن کا تعلق مدینے مکہ دارالسلام بغداد دمشق مصر بیت المقدس اور بیت لحم سے ہے ،میں نے صحیح بخاری کے لۓ علماء عامہ کی بڑی تعداد سے روایات نقل کی ہیں جن کی سند بخاری تک پہنچتی ہے اسی طرح میں نےمسند احمد و موطاء مالک ،مسند دارقطنی مسند بن ماجہ مستدرک صحیحین اور دیگر کتابوں کے لۓ روایت کی ہے جن کا ذکر موجب تطویل کلام ہے

شہید اول ابن نجدہ کے اجازہ میں تحریر فرماتے ہیں میں انہیں اجازت دیتا ہوں ان تمام روایات کی جن کی میں نے حجازعراق و شام کے علماء اھل سنت سے روایت کی ہے اور وہ کثیر روایات ہیں ۔

شہید اول کے معروف اھل سنت اساتذہ

1- قاضی برھان الدین ابراھیم بن جماعۃ الکنانی متوفی سات سونوےھجری قمری،ان سے شہید اول نے شاطبیہ پڑھی ہے

2- قاضی القضاۃ عزالدین عبدالعزیزبن جماعۃ متوفی سات سو سڑسٹھ ھ ق ان کے بارے میں شھید فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ھفتے کے دن ذی الحجہ کی بائيس سات سو چون ھ ق کو اجازہ عام جس میں معقول و منقول شامل ہیں دیا ۔

3-جمال الدین ابو احمد عبدالصمد بن الخلیل البغدادی شہید اول کو اجازہ دیتے ہوۓ انہوں نے لکھا ہےکہ کہتا ہےعبد فقیر رحمت کا محتاج بغداد میں حدیث نبوی کا قاری کہ میں نے اجازت دی شیخ الامام علامہ فقیہ صاحب تقوی وفضل زاھد و پارسا شمس الدین ابی عبداللہ محمد بن مکی بن محمدکو کہ وہ مجھ سے ان تمام روایات کونقل کرسکتے ہیں جو میرے لۓ جائزہیں ۔

4-محمد بن یوسف القرشی الکرمانی الشافعی الملقب بشمس الائمہ و صاحب شرح البخاری ،انہوں نے شیہد اول کو بغداد میں سات سو اٹھاون ھ ق میں اجازہ روایت دیا ۔

5- شرف الدین محمد بن بکتاش التستری البغدادی الشافعی ،مدرس مدرسہ نظامیہ

6- ملک القراء والحفاظ شمس الدین محمد بن عبداللہ البغدادی الحنبلی

7- فخرالدین محمد بن الاعزالحنفی

8- شمس الدین ابو عبدالرحمن محمد بن عبدالرحمن المالکی ،مستنصریہ کے مدرس۔

قابل ذکر ہے نویں صدی ہجری کے بزرگ عالم اھل سنت شمس الدین الجزری نے شہید اول کے بارے میں کہا ہےکہ شیخ الشیعہ اور مجتھد جوکہ نحو قرائت وفقہ میں امام ہیںوہ میرے ساتھ لمبی مدت تک رہے ہیں میں نے اس دوران ان سے کوئي ایسی بات نہیں سنی جو سنت کے برخلاف ہو۔

شہید ثانی زین الدین بن علی العاملی ،

شہید ثانی نے اپنی سوانح حیات میں اھل سنت علماء سے استفادہ کرنے کے بارے میں لکھا ہےکہ میں نوسوبیالیس ھجری قمری کے آغاز میں تحصیل علم کےلۓ مصر گیا اور وہاں بہت سے فاضل افراد سے کسب فیض کیا سب سے پہلے میں شیخ شمس الدین ابن طولوں الدمشقی الحنفی کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے صحیحین کا ایک حصہ پڑھا انہوں نے

مجھے صحیحین کی ان روایتوں کی اجازت دی جو ان کے لۓ جائزتھیں یہ بات اسی سال ربیع الاول کی ہے ۔

شہید ثانی لکھتے ہیں کہ میں گذشتہ برس ربیع الاول کے وسط میں یوم جمعہ کو مصر پہنچاتھا اور علماء کے ایک گروہ کے ساتھ علمی کاموں میں لگ گيا وہ لکھتے ہیں کہ ان علماءمیں شیخ شھاب الدین احمد الرملی الشافعی ہیں جن سے میں نے فقہ میں منھاج النووی ،اور ابن حاجب کی مختصرالاصول کے اکثر حصے پڑھے ہیں اس طرح شرح العضدی بھی پڑھی ہے اور اس کے حواشی کا مطالعہ بھی کیا ہے جن میں السعدیہ والشریفیہ ہیں وہ لکھتے ہیں کہ میں نے ان سے فنون عربیہ اور عقلیہ حاصل کرنے کے لے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں جن میں شرح التلخیص المختصر فی المعانی و البیان شامل ہے جو کہ سعد الدین تفتازانی کی کتاب ہے اس طرح اصول فقہ میں امام الحرمین جوینی کی ورقات کی شرح جو خود شیخ نے تحریر کی ہے ا س کا بھی درس لیا ہے ۔

شہید ثانی لکھتے ہیں کہ میں نے اذکارالنووی اور فقہ میں جمع الجوامع المحلی کے کچھ حصے اور علم نحو میں توضیح ابن ھشام اور بہت سی دیگر کتابوں کی تعلیم بھی حاصل کی ۔

شہید ثانی نے لکھا ہےکہ شیخ نے مجھے ان روایات کی اجازت عامہ دی جو ان کے لۓ جائزتھیں ۔

شہید ثانی لکھتے ہیں کہ میں نے جن علماء اھل سنت سے استفادہ کیا ان میں ملاحسین جرجانی بھی ہیں ہم نے ان سے ملا قوشجی کی شرح تجرید حاشیہ ملا جلال الدین الدوانی اور فن ھندسہ میں قاضی زادہ رومی کی شرح اشکال التاسیس اور ھیئۃ میں شرح چغمینی کا بھی درس پڑھا ۔

وہ کہتے ہیں ہم نے ملامحمد استرآبادی سے مطول کے بعض حصوں کی تعلیم حاصل کی ساتھ میں سید شریف اور جامی کے حاشیے بھی پڑھے ۔

ان میں ملامحمد گيلانی بھی ہیں جن سے ہم نے معانی و منطق کے بعض ابواب کی تعلیم حاصل کی ۔

شیخ شہاب الدین بن النجار النبلی بھی ہمارے استاد ہیں ہم نے ان سے جاربردی کی شرح شافیہ ۔عروض و قوافی میں شیخ زکریا انصاری کی شرح خزرجیہ کا درس لیا اور مختلف فنون و حدیث کی بہت سی کتابیں انہیں پڑھ کرسنائيں جن میں صحیحین بھی شامل ہیں انہوں نے مجھے ان تمام روایتوں کے نقل کرنے کی اجازت دی ہے جن کے وہ خود راوی ہیں۔

شہید ثانی کہتے ہیں ان کے اساتذہ میں شیخ ابو الحسن البکری بھی شامل ہیں جن سے انہوں نے فقہ و تفسیر اور منھاج پر ان کی شرح کے بعض حصے پڑھے ہیں وہ لکھتےہیں کہ انہوں نے شیخ زین الدی الحری المالکی سے الفیہ بن مالک پڑھی ہے۔

شہید ثانی ناصرالدین اللقانی المالکی کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے مصر میں علوم عقلیہ اور عربیہ میں ان سے زیادہ کسی کوعالم و فاضل نہیں پایا شہید ثانی نے ان سے تفسیر بیضاوی اور دیگر فنون کی کتابیں پڑھی ہیں۔

شہید ثانی کے ایک اور استاد جواھل سنت ہیں ان کانام شیخ ناصر الطبلاوی الشافعی ہے شہید کہتے ہیں میں نے انہیں ابی عمروکی قرائت کے مطابق قرآن پڑھ کرسنایا اور قرآت کے موضوع پر ان کا ایک رسالہ بھی پڑھا ۔

شہید نے لکھا ہے کہ انہوں نے جن افراد سے کسب فیض کیا ان میں شیخ شمس الدین محمد ابو النجاالنحاس بھی ہیں شہید نے انہیں قرات سبعہ کے مطابق قرآن پڑھ کرسنایا اور قرآت میں شاطبیہ کا درس پڑھا وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے قراعشرہ کے مطابق قرائت قرآن شروع کی تھی لیکن اسے مکمل نہیں کرپاے ۔

شہید ثانی کے ایک اور سنی استاد عبدالحمید سہمودی ہیں ان سے شہید نے مختلف فنون کی کتابیں پڑھی ہیں اور اجازہ عام بھی حاصل کیا ۔

شہید ثانی کے ایک اور سنی استاد شیخ شمس الدین عبدالقادر الفرضی الشافعی ہیں جن سے شہید نے ریاضیات کی مختلف کتابیں پڑھی ہیں اور اجازہ عام بھی حاصل کیا ہے ،شہید ثانی لکھتے ہیں کہ انہوں نے مصر میں علماءکی بڑی تعداد سے کسب فیض کیا ہے جن کا ذکر تطویل کلام کا باعث ہے ۔

شہید ثانی مصرکے بعدنوسوتینتالیس ھجری قمری میں حجازکاسفرکرتے ہیں اس کے بعدبیت المقدس کی زیارت کےلۓ نوسواڑتالیس ھ ق میں فلسطین پہنچتے ہیں جہان وہ شیخ شمس الدین ابی اللطف المقدسی کے سامنے زانوے ادب تہ کرتےہیں اور ان سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بعض حصے پڑھتےہیں شیخ انہیں اجازہ بھی عطاکرتے ہیں ۔

بیت المقدس کے بعد شہید ثانی بعلبک میں قیام پذیر ہوتےہیں اور یہاں ایک مدت تک مذاھب خمسہ اور دیگر علوم کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

علامہ سید شرف الدین العاملی

علاہ سید شرف الدین عاملی آفاقی شخصیت کےمالک ہیں اسلام و مسلمین کی فلاح وبہبود اور امت کے اتحاد کے لۓ ان کی کوششوں کو دنیا کبھی نہیں بھلاسکتی سید شرف الدین نے شیعہ سنی اتحاد کے لۓ اھل سنت کے بزرگ علماء سے رابط کیا اور تعلقات قائم کۓ ان سے استفادہ کیا اور انہیں بھی فیض پہنچایا،لبنان ودیگر اسلامی ممالک میں اسلامی امت کے اچھے حالات ان ہی کی مجاھدانہ کوششوں کا نتیجہ ہے ۔

سید شرف الدین اپنی کتاب ثبت الاسنادفی سلسلۃ الرواۃ میں اپنے اھل سنت اساتذہ اوررفقاءکےبارے میں لکھتے ہیں کہ میرے اھل سنت اساتذہ کی تعداد شیعہ اساتذہ سے زیادہ ہے لیکن میں صرف پانچ شخصیتوں کا ذکر کررہا ہوں جنہوں نے مجھے اجازے دیے ہیں ۔

1 استاد شیخ سلیم البشری المالکی شیخ الازھر تھے اور انہیں علماء مصر کا امام کہا جاتاتھا ان سے میری ملاقات مصر میں ہوئي الازھر میں ان کے درس میں کچھ دنوں تک شرکت کی ہم دونوں کے درمیان علمی رسائل کاتبادلہ ہوتارہتا تھا ان کے خطوط سے ان کے تقوی انصاف اور علمی اخلاقی اور ادبی لحاظ سے ان کی عظمت کا پتہ چلتا ہے ۔

دوسری شخصیت ہیں فقیہ و محدث محمد المعروف بہ شیخ بدالدین الدمشقی ہیں وہ دمشق میں شیخ الاسلام کے عھدے پرفائزتھے اور اپنے زمانے کے اعلم علماءمیں ان کا شمار ہوتاتھا تیرہ سو اڑتیس میں مجھے دمشق میں ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اسی سال رمضان المبارک میں،میں نے ان کے درس میں

شرکت کی ہمارے درمیان حسن و قبح عقلی ،امکان رویت خدا اور اس کے محال ہونے ،قرآن کا حدوث اور قدم جیسے مسائل پر بحث ومباحثہ جاری رہا ۔

تیسری شخصیت علامہ کبیر ومحدث شہیر شيخ محمد بن محمد عبداللہ الخانی الخالدی النقشبندی الشافعی کی ہے دمشق میں ان سے ملاقات ہوئي،بیروت اور دمشق میں ان سے بعض حدیثیں سننے کاموقع ملا ۔

علامہ شرف الدین فرماتے ہیں ان کے اساتذہ میں چوتھی شخصیت شیخ محمد المعروف بہ شیخ توفیق الایوبی الانصاری الدمشقی کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ ہم لوگوں نے ایک دوسرے سے کافی علمی استفادہ کیا۔

سید شرف الدین لکھتےہیں کہ ان کے ایک اور استاد کا نام شیخ محمد عبدالحی ابن الشیخ عبدالکبیر الکتانی الفاسی الادریسی ہیں سید لکھتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دوسرے کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور ہمارے درمیان علمی مباحثہ رہا جس کے بڑے فائدے حاصل ہوۓ ہم نے اصول فقہ کے ابواب پربحث کی جس سے ان کی علمی عظمت کااندازہ ہوتاہے ۔

علامہ سید شرف الدین لکھتے ہیں کہ ان کا مصر کا دورہ ایک فردی دورہ تھا اوراس کا مقصد شیعہ سنی علماء کو نزدیک لانا، انہیں اھل بیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والوں کے عقائد نظریات سے آگاہ کرکے غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا تھا اور سید شرف الدین اپنے اس مقصد میں کامیاب رہے ۔

سید شرف الدین نے دورہ مصر میں المراجعات نامی مستدل کتاب لکھی جو امامیہ کےنزدیک اثبات امامت پر بے نظیر کتاب ہے اس کتاب میں ایک لفظ بھی حق و انصاف سے ہٹ کر نہیں ہے بلکہ باھمی احترام کے اصولوں پر کۓ جانے والے علمی مباحثوں کا بہترین نمونہ ہے ۔

امید کہ اسلامی مکاتب فکر اسی روش کو اپناتے ہوۓ ایک دوسرے کے بارے میں موجود غلط تصورات کا ازالہ کرکے اتحاد کا ثبوت پیش کریں کے کیونکہ آج یہی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔

Saturday, 22 September 2012 06:42

امام رضا (ع) کے مختصر حالات

امام رضا (ع) اللہ کے نور کاٹکڑا ،اسکی رحمت کی خوشبو اور ائمہ طاہرین (ع)کی آٹھویں کڑی ہیں جن سے اللہ نے رجس کو دور رکھا اور ان کو اس طرح پاک و پاکیزہ رکھا جو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

مامون نے ائمہ طاہرین (ع) کے متعلق اپنے زمانہ کے بڑے مفکر و ادیب عبداللہ بن مطر سے سوال کرتے ہوئے کہا : اہل بیت (ع) کے سلسلہ میں تمھاری کیا رائے ہے ؟

عبداللہ نے ان سنہرے لفظوں میں جواب دیا : میں اس طینت کے بارے میں کیا کہوں جس کا خمیر رسالت کے پانی سے تیار ہوا اور وحی کے پانی سے اس کو سیراب کیاگیا؟ کیا اس سے ہدایت کے مشک اور تقویٰ کے عنبر کے علاوہ کوئی اور خوشبو آسکتی ہے ؟

ان کلمات نے مامون کے جذبات پر اثرکیا اس وقت امام رضا (ع)بھی موجود تھے، آپ نے عبداللہ کامنھ موتیوں سے بھر دینے کا حکم صادر فرمایا ۔ (١)

وہ تمام اصلی ستون اور بلند و بالا مثالیں جن کی امام (ع)عظیم سے تشبیہ دی گئی ہے، آپ (ع) کے سلوک ، ذات کی ہو شیاری اور دنیا کی زیب و زینت سے رو گردانی کرنا سوائے اُن ضروریات کے جن سے انسان اللہ سے لولگاتا ہے، یہ سب اسلام کی دولتوں میں سے ایک دولت ہے۔۔۔ہم ان میں سے بعض خصوصیات اختصار کے طور پر بیان کرتے ہیں:

آپ (ع)کی پرورش

امام (ع)نے اسلام کے سب سے زیادہ باعزت وبلند گھرانہ میں پرورش پائی ،کیونکہ یہ گھر وحی کا مرکز ہے ۔۔۔

یہ امام موسیٰ بن جعفر (ع)کا بیت الشرف ہے جو تقویٰ اور ورع و پرہیزگاری میں عیسیٰ بن مریم کے بیت الشرف کے مشابہ ہے ،گویا یہ بیت الشرف عبادت اور اللہ کی اطاعت کے مراکز میں سے تھا، جس طرح یہ بیت الشرف علوم نشرکرنے اور اس کو لوگوں کے درمیان شائع کرنے کا مرکز تھا اسی بیت الشرف سے لاکھوں علماء ، فقہائ، اور ادباء نے تربیت پائی ہے ۔

اسی بلند و بالا بیت الشرف میں امام رضا (ع)نے پرورش پائی اور اپنے پدر بزرگوار اور خاندان کے آداب سے آراستہ ہوئے جن کی فضیلت ،تقویٰ اور اللہ پر ایمان کے لئے تخلیق کی گئی ہے ۔

آپ (ع) کا عرفان اور تقویٰ

امام رضا (ع)کے عرفان کی خصوصیت یہ تھی کہ آپ حق پر پائیدار تھے، اور آپ نے ظلم کے خلاف قیام کیا تھا ، اس لئے آپ مامون عباسی کو تقوائے الٰہی کی سفارش فرماتے تھے اور دین سے مناسبت نہ رکھنے والے اس کے افعال کی مذمت فرماتے تھے ، جس کی بناء پر مامون آپ کا دشمن ہوگیا اور اس نے آپ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا اگر امام (ع) اس کی روش کی مذمت نہ کرتے جس طرح کہ اس کے اطرافیوں نے اس کے ہرگناہ کی تائید کی تو آ پ کا مقام اس کے نزدیک بہت عظیم ہوتا ۔اسی بناء پر مامون نے بہت جلد ہی آپ کو زہر دے کر آپ (ع) کی حیات ظاہری کا خاتمہ کردیا۔

آپ کے بلند و بالا اخلاق

امام رضا (ع) بلند و بالا اخلاق اور آداب رفیعہ سے آراستہ تھے اور آپ کی سب سے بہترین عادت یہ تھی کہ جب آپ دسترخوان پر بیٹھتے تھے تو اپنے غلاموں یہاں تک کہ اصطبل کے رکھوالوں اور نگہبانوں تک کو بھی اسی دستر خوان پر بٹھاتے تھے۔ (٢)

ابراہیم بن عباس سے مروی ہے کہ میں نے علی بن موسیٰ رضا (ع) کو یہ فرماتے سنا ہے :

ایک شخص نے آپ سے عرض کیا : خدا کی قسم آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے ہیں ۔۔۔

امام (ع)نے یہ فرماتے ہوئے جواب دیا: اے فلاں! مت ڈر ، مجھ سے وہ شخص زیادہ اچھا ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس کی سب سے زیادہ اطاعت کرے ۔خدا کی قسم یہ آیت نسخ نہیں ہوئی ہے۔

امام (ع) اپنے جد رسول اعظم کے مثل بلند اخلاق پر فائز تھے جو اخلاق کے اعتبار سے تمام انبیاء سے ممتاز تھے ۔

آپ (ع)کا زہد

امام (ع) نے اس پر مسرت اور زیب و زینت والی زندگی میں اپنے آباء عظام کے مانند کردار پیش کیا جنھوں نے دنیا میں زہد اختیار کیا ، آپ (ع) کے جد بزرگوار امام امیرالمومنین (ع) نے اس دنیا کو تین مرتبہ طلاق دی جس کے بعد اس سے رجوع نہیں کیاجاسکتا۔

محمد بن عباد نے امام کے زہد کے متعلق روایت کی ہے : امام (ع) گرمی کے موسم میں چٹائی پر بیٹھتے ، سردی کے موسم میں ٹاٹ پر بیٹھتے تھے، آپ سخت کھر درا لباس پہنتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ لوگوں سے ملاقات کے لئے جاتے تو پسینہ سے شرابور ہوجاتے تھے ۔ (٣)

دنیا میں زہد اختیار کرنا امام (ع)کے بلند اور آشکار اور آپ کے ذاتی صفات میں سے تھا ، تمام راویوں اور مورخین کا اتفاق ہے کہ جب امام (ع) کو ولی عہد بنایا گیا تو آپ (ع)نے سلطنت کے مانند کوئی بھی مظاہرہ نہیں فرمایا ، حکومت و سلطنت کو کوئی اہمیت نہ دی، اس کے کسی بھی رسمی موقف کی طرف رغبت نہیں فرمائی ، آپ کسی بھی ایسے مظاہرے سے شدید کراہت کرتے تھے جس سے حاکم کی لوگوں پر حکومت و بادشاہت کا اظہار ہوتا ہے چنانچہ آپ فرماتے تھے :

''لوگوں کا کسی شخص کی اقتدا کرنا اس شخص کے لئے فتنہ ہے اور اتباع کرنے والے کے لئے ذلت و رسوائی ہے ''۔

آپ (ع)کے علوم کی وسعت

امام رضا (ع) اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ اعلم اور افضل تھے اور آپ نے ان (اہل زمانہ) کو مختلف قسم کے علوم جیسے علم فقہ،فلسفہ ،علوم قرآن اور علم طب وغیرہ کی تعلیم دی۔ہروی نے آپ کے علوم کی وسعت کے سلسلہ میں یوںکہا ہے :میں نے علی بن موسی رضا (ع)سے زیادہ اعلم کسی کو نہیں دیکھا، مامون نے متعددجلسوںمیں علماء ادیان ،فقہاء شریعت اور متکلمین کو جمع کیا،لیکن آپ ان سب پر غالب آگئے یہاں تک کہ ان میں کوئی ایسا باقی نہ رہا جس نے آپ کی فضیلت کا اقرار نہ کیاہو،اور میں نے آپ (ع)کو یہ فرماتے سنا ہے: ''میں ایک مجلس میں موجود تھا اور مدینہ کے متعدد علماء بھی موجود تھے ،جب ان میں سے کوئی کسی مسئلہ کے بارے میں پوچھتا تھا تو اس کو میری طرف اشارہ کردیتے تھے اور مسئلہ میرے پا س بھیج دیتے تھے اور میں اس کا جواب دیتا تھا ''۔ (٤)

ابراہیم بن عباس سے مروی ہے :میں نے امام رضا (ع)کو نہیں دیکھا مگر یہ کہ آپ (ع)نے ہر سوال کا جواب دیا ہے ۔ (٥) ،میں نے آپ کے زمانہ میں کسی کو آپ سے اعلم نہیں دیکھااور مامون ہر چیز کے متعلق آپ سے سوال کرکے آپ کا امتحان لیتاتھااورآپ (ع)اس کا جواب عطافرماتے تھے ۔ (٦)

مامون سے مروی ہے :میں اُن (یعنی امام رضا (ع))سے افضل کسی کو نہیں جانتا۔ (٧)

بصرہ،خراسان اور مدینہ میں علماء کے ساتھ آپ کے مناظرے آپ کے علوم کی وسعت پردلالت کرتے ہیں ۔دنیاکے جن علماء کو مامون آپ کا امتحان لینے کے لئے جمع کرتا تھا وہ ان سب سے زیادہ آپ (ع)پر یقین اور آپ کے فضل وشرف کا اقرار کرتے تھے ،کسی علمی وفدنے امام (ع)سے ملاقات نہیں کی مگر یہ کہ اس نے آپ کے فضل کا اقرار کرلیا۔مامون آپ کو لوگوںسے دور رکھنے پر مجبور ہوگیاکہ کہیں آپ کی وجہ سے لوگ اس سے بدظن نہ ہوجائیں۔

اقوال زرین

امام (ع)نے متعدد غررحکم،آداب ،وصیتیں اوراقوال ،ارشاد فرماتے جن سے لوگ استفادہ کرتے تھے یہ بات اس چیز پردلالت کرتی ہے کہ آپ اپنے زمانہ میں عالم اسلامی کے سب سے بڑے استاد تھے اور آپ نے حکمت کے ذریعہ مسلمانوں کی تہذیب اور ان کی تربیت کے لئے جدوجہد کی ہے ہم ان میں سے بعض چیزوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

عقل کی فضیلت

اللہ نے انسان کو سب سے افضل نعمت عقل کی دی ہے جس کے ذریعہ انسان اور حیوانات کو جدا کیا جاتا ہے اور امام (ع)نے بعض احادیث میں عقل کے متعلق گفتگو کی ہے جیسے :

١۔امام رضا (ع)کا فرمان ہے :''ہر انسان کا دوست اس کی عقل ہے اور جہالت اس کی دشمن ہے'' ۔ (٨)

یہ حکمت آمیز کلمہ کتنازیباہے کیونکہ عقل ہرانسان کا سب سے بڑادوست ہے جو اس کو محفوظ رکھتی ہے اور دنیوی تکلیفوںسے نجات دلاتی ہے اور انسان کا سب سے بڑا دشمن وہ جہالت ہے جو اس کو اس دنیا کی سخت مشکلات میں پھنسادیتی ہے ۔

٢۔امام (ع)کافرمان ہے :''سب سے افضل عقل انسان کا اپنے نفس کی معرفت کرنا ہے ''۔ (٩)

بیشک جب انسان اپنے نفس کے سلسلہ میں یہ معرفت حاصل کرلیتاہے کہ وہ کیسے وجود میں آیا اوراس کا انجام کیا ہوگا تو وہ عام اچھائیوں پر کامیاب ہوجاتا ہے اور وہ برائیوںکو انسان سے دور کردیتا ہے اور اس کو نیکیوںکی طرف راغب کرتا ہے اور یہی چیز اس کے خالق عظیم کی معرفت پر دلالت کرتی ہے ۔

جیساکہ حدیث میں وارد ہوا ہے :''من عرف نفسہ فقد عرف ربہ''۔

''جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کی معرفت حاصل کرلی''۔

محاسبۂ نفس

امام (ع)کافرمان ہے :''جس نے اپنے نفس کا حساب کیا اس نے فائدہ اٹھایااور جو اپنے نفس سے غافل رہا اس نے گھاٹا اٹھایا''۔ (١٠)

بیشک انسان کا اپنے نفس کا حساب کرنا کہ اس نے کون سے اچھے کام کئے ہیں اور کون سے برے کام انجام دیئے ہیں اور اس کااپنے نفس کو برے کام کرنے سے روکنا، اور اچھے کام کرنے کی طرف رغبت دلانا تو یہ اس کی بلندی نفس ،فائدہ اور اچھائی پر کامیاب ہونے کی دلیل ہے ،اور جس نے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے سے غفلت کی تو یہ غفلت انسان کو ایسی مصیبت میں مبتلا کردیتی ہے جس کے لئے قرار وسکون نہیں ہے ۔

کارو بار کی فضیلت

امام (ع)فرماتے ہیں :''اپنے اہل وعیال کے لئے کوئی کام کرنا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے مانند ہے ،یہ وہ شرف ہے جسے انسان کسب کرتا ہے اور ایسی کوشش ہے جس پر انسان فخر کرتا ہے ''۔ (١١)

سب سے اچھے لوگ

امام (ع)سے سب سے اچھے اورسب سے نیک لوگوں کے بارے میں سوال کیاگیاتوآپ (ع)نے فرمایا: ''وہ لوگ جب اچھے کام انجام دیتے ہیں تو ان کو بشارت دی جاتی ہے ،جب ان سے برے کام ہوجاتے ہیںتووہ استغفار کرتے ہیں،جب ان کو عطاکیاجاتا ہے تو شکراداکرتے ہیں جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو صبر کرتے ہیں اور جب غضبناک ہوتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں ''۔ (١٢)

یہ حقیقت ہے کہ جب انسان ان اچھے صفات سے متصف ہوجاتا ہے تو اس کا سب سے افضل اور نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے اور وہ کمال کی چوٹی پر پہنچ جاتا ہے ۔

آپ (ع)کی نصیحتیں

امام (ع)نے ابراہیم بن ابی محمود کو یوں وصیت فرمائی:''مجھے میرے والد بزرگوار نے انھوں نے اپنے آباء و اجداد سے اور انھوں نے رسول اسلام (ص) سے نقل کیا ہے :جس نے کسی کہنے والے کی بات کان لگا کر سنی اس نے اس کی عبادت کی ،اگراس کہنے والے کی گفتگوخدا ئی ہے تو اُ س نے خدا کی عبادت کی اور اگراس کی گفتگو شیطانی ہے تو اس نے ابلیس کی عبادت کی یہاں تک کہ آپ (ع)نے فرمایا :اے ابو محمود کے فرزند : میںنے جو کچھ تم کو بتایا ہے اس کو یاد رکھو کیونکہ میں نے اپنی اس گفتگو میں دنیا و آخرت کی بھلا ئی بیان کر دی ہے''۔ (١٣)

اس وصیت میں بیان کیا گیا ہے کہ اہل بیت (ع) کی اتباع اُن کے طریقہ ٔ کار کی اقتدا اور ان کی سیرت سے ہدایت حاصل کرنا واجب ہے ،بیشک اس میں نجات ہے اور ہلاکت سے محفوظ رہنا ہے اور اللہ کی راہ میں بڑی کا میابی ہے ۔

مالدار اور فقیر کے درمیان مساوات

امام رضا علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو سلام کے ذریعہ مالدار اور فقیر کے درمیان مساوات کر نے کی سفارش فرما ئی ہے :''جوشخص مسلمان فقیرسے ملاقات کرتے وقت اس کو دولت مند کو سلام کر نے کے علاوہ کسی اورطریقہ سے سلام کر ے تو خداوند عالم اس سے غضبناک ہونے کی صورت میں ملاقات کرے گا'' ۔ (١٤)

مومن کے چہرے کا ہشاش بشاش ہونا

امام رضا (ع) نے اپنے اصحاب کو وصیت فرما ئی کہ مو من کا چہرہ ہشاش بشاش ہونا چا ہئے اس کے بالمقابل اس کا چہرہ غیظ و غضب والا نہیں ہو نا چاہئے امام (ع) فرماتے ہیں :

''جس نے اپنے مومن بھا ئی کو خوش کیا اللہ اس کے لئے نیکیاں لکھتا ہے اور جس کے لئے اللہ نیکیاں لکھ دے اس پر عذاب نہیں کرے گا''۔ (١٥)

یہ وہ بلند اخلاق ہیں جن کی ائمہ اپنے اصحاب کو سفارش کیا کرتے تھے تاکہ وہ لوگوں کے لئے اسوئہ حسنہ قرار پا ئیں ۔

عام وصیت

امام (ع) نے اپنے اصحاب اور باقی تمام لوگوں کو یہ بیش قیمت وصیت فرما ئی :''لوگو ! اپنے اوپر خدا کی نعمتوں کے سلسلہ میں خدا سے ڈرو ،خدا کی مخالفت کے ذریعہ خدا کی نعمتوں کو خود سے دور نہ کرو ،یاد رکھو کہ خدا و رسول پر ایمان اور آل رسول میں سے اولیائے الٰہی کے حقوق کے اعتراف کے بعد کسی ایسی چیز کے ذریعہ تم شکر الٰہی بجا نہیں لاسکتے جو اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہو کہ تم اپنے مومن بھائیوں کی اُس دنیا کے سلسلہ میں مدد کروجو اُن کے پروردگار کی جنت کی جانب تمھارے لئے گذر گاہ ہے جو ایسا کرے گا وہ خاصانِ خدا میں سے ہوگا ''۔ (١٦)

اس وصیت میں تقوائے الٰہی ،بھا ئیوں کی مدد اور اُ ن کے ساتھ نیکی کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔

کلمات قصار

امام رضا (ع) کے حکمت آمیز کلمات قصارچمکتے ہوئے ستاروں کی طرح حکمتوں سے پُر ہیں :

١۔امام (ع) نے فرمایا ہے :''اگر کو ئی ظالم و جابر بادشاہ کے پاس جائے اور وہ بادشاہ ان کو اذیت و تکلیف دے تو اس کو اس کو ئی اجر نہیں ملے گا اور نہ ہی اِس پر صبر کرنے سے اس کو رزق دیا جا ئے گا ''۔ (١٧)

٢۔امام رضا (ع) کا فرمان ہے :''لوگوں سے محبت کرنا نصف عقل ہے ''۔ (١٨)

٣۔امام رضا (ع) فرماتے ہیں :''لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں عافیت کے دس جزء ہوں گے جس میں نو حصے لوگوں سے الگ رہنے میں ہوں گے اور ایک حصہ خا مو شی میں ہو گا ''۔ (١٩)

٤۔امام رضا (ع) فرماتے ہیں :''بخیل کے لئے چین و سکون نہیں ہے اور نہ ہی حسود کے لئے لذت ہے ،ملو ل رنجیدہ شخص کے لئے وفا نہیں ہے اور جھوٹے کے لئے مروَّت نہیں ہے ''۔ (٢٠)

٥۔امام رضا (ع) فرماتے ہیں :''جس نے مو من کو خوش کیا خدا قیامت کے دن اُس کو خو شحال کرے گا''۔ (٢١)

٦۔امام رضا (ع) فرماتے ہیں :''مومن، مومن کاسگا بھا ئی ہے ،ملعون ہے ملعون ہے جس نے اپنے بھائی پر الزام لگایاملعون ہے ، ملعون ہے جس نے اپنے بھا ئی کو دھوکہ دیا ، ملعون ہے ،ملعون ہے جس نے اپنے بھا ئی کو نصیحت نہیں کی ،ملعون ہے ملعون ہے جس نے اپنے بھائی کے اسرارسے پردہ اٹھایا ،ملعون ہے ملعون ہے جس نے اپنے بھا ئی کی غیبت کی ہے ''۔ (٢٢)

آپ(ع) کو تمام زبانوں کاعلم

امام (ع) تمام ز بانیں جانتے تھے، ابو اسما عیل سندی سے روایت ہے : میں نے ہندوستان میں یہ سنا کہ عر ب میں ایک اللہ کی حجت ہے، تو اُ س کی تلاش میں نکلا لوگوں نے مجھ سے کہا کہ وہ امام رضا (ع) ہیںمیں اُ ن کی بارگاہ میں حاضر ہوا جب آپ کی بارگاہ میں پہنچاتومیں نے آپ (ع)کو سندھی زبان میں سلام کیا امام (ع) نے سندھی زبان میں ہی سلام کا جواب دیا ،میں نے آپ (ع)کی خدمت مبارک میں عرض کیا: میں نے سنا ہے کہ عرب میں ایک اللہ کی حجت ہے اور اسی حجت کی تلاش میں آپ (ع) کے پاس آیا ہوں تو امام (ع) نے فرمایا :''میں ہی اللہ کی حجت ہوں ''،اس کے بعد فرمایا :''جو کچھ تم سوال کرنا چاہتے ہو سوال کرو ' 'میں نے آپ (ع) سے متعدد مسائل دریافت کئے تو آپ (ع) نے میری زبان میں ہی اُن کا جواب بیان فرمایا ۔ (٢٣)

ابو صلت ہروی سے روایت ہے :امام رضا (ع) لوگوں سے اُن ہی کی زبا ن میں کلام کیا کرتے تھے ۔ میں نے امام (ع) سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو آپ (ع) نے فرمایا :''اے ابو صلت میں مخلوق پر اللہ کی حجت ہوں اور اللہ کسی قوم پر ایسی حجت نہیں بھیجتا جو اُن کی زبان سے آشنا نہ ہو ،کیا تم نے امیر المو منین کا یہ کلام نہیں سُنا: ہم کو فصل خطاب عطا کیا گیا ہے ؟کیا وہ زبانوں کی واقفیت کے علاوہ کچھ اور ہے ؟''۔ (٢٤)

یاسر خادم سے روایت ہے :امام رضا علیہ السلام کے بیت الشرف میں صقالبہ اور روم کے افراد تھے، امام ابو الحسن (ع) اُن سے بہت قریب تھے، میں نے آپ(ع) کو اُن سے صقلبی اور رومی زبان میں گفتگو کرتے سنا ہے اور وہ اُس کو لکھ کر آپ (ع) کی خدمت میں پیش کر دیا کرتے تھے ۔ (٢٥)

اسی چیز کو شیخ محمد بن الحسن حرّ نے اس شعر میں قلمبند کیا ہے:

وَعِلْمُہُ بِجُمْلَةِ اللُّغَاتِ

مِنْ أَوْضَحِ الاِعْجَازِ وَالآیَاتِ (٢٦)

''تمام زبانوں سے آپ (ع)کی آشنا ئی آپ (ع)کا واضح معجزہ اور نشا نی ہے ''۔

واقعات و حادثات

امام رضا (ع) متعدد واقعات کے رونما ہونے سے پہلے ہی اُن کی خبر دیدیا کر تے تھے، اس سے شیعوں کے اس عقیدے کی تا ئید ہو تی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ائمہ اہل بیت علیہم السلام کو اسی علم سے نوازاہے جس سے اپنے رسول اور انبیاء (ع)کو نوازا ہے، اُن ہی میں سے امام (ع) نے یہ خبر دی تھی :مامون انپے بھائی امین بن زبیدہ کو قتل کرے گا ،جس کو اس شعر میں نظم کیا گیا ہے :

فَاِنَّ الضِّغْنَ بَعْدَ الضِّغْنِ یَفْشُو

عَلَیْکَ وَیُخْرِجُ الدَّ ائَ الدَّ فِیْنَا (٢٧)

''بیشک کینہ کے بعد کینہ مسلسل کینہ کرنے سے تمھارے اوپر راز فاش ہو جا ئے گااور دبے ہوئے کینے ابھر آئیں گے ''۔

ابھی کچھ دن نہیں گزرے تھے کہ مامون نے آپ (ع) کے بھا ئی امین کو قتل کردیا۔

امام (ع) نے ایک خبر یہ دی تھی کہ جب محمد بن امام صادق (ع) نے مامون کے خلاف خروج کیا تو امام رضا (ع)نے ان سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے فرمایا :اے چچا اپنے پدر بزرگوار اور اپنے بھائی (امام کاظم علیہ السلام)کی تکذیب نہ کرو ،چونکہ یہ امر تمام ہونے والا نہیں ہے ،تو اُس نے یہ بات قبول نہیں کی اور علی الاعلان مامون کے خلاف انقلاب برپا کر دیاکچھ دن نہیں گزرے تھے کہ مامون کا لشکر جلو دی کی قیادت میں اس سے روبروہوا اُس نے امان مانگی تو جلو دی نے اس کو امان دیدی ،اور اس نے منبر پر جاکر خود کو اِس امر سے الگ کر تے ہوئے کہا :یہ امر مامون کے لئے ہے ۔ (٢٨)

امام رضا (ع) نے برامکہ کی مصیبت کی خبر دی تھی ،جب یحییٰ برمکی ان کے پاس سے گزرا تو وہ رومال سے اپنا چہرہ ڈھانپے ہوئے تھا ۔امام (ع) نے فرمایا :یہ بیچارے کیا جانیں کہ اس سال میں کیا رونما ہونے والا ہے۔۔۔ اس کے بعد امام (ع) نے مزید فرمایا:مجھے اس بات پرتعجب ہے کہ یہ خیال کر تا ہے کہ میں اور ہارون اس طرح ہیں ، یہ فرماکر آپ (ع) نے اپنے بیچ اور انگو ٹھے کے پاس کی انگلی کو ایک دوسرے سے ملاکر اشارہ کیا۔ (٢٩)

ابھی کچھ دن نہیں گزرے تھے کہ جو کچھ امام (ع) نے فرمایا تھا وہ واقع ہوا ،یہاں تک کہ رشید نے برامکہ پر دردناک عذاب اور مصیبتیں ڈھائیں ،رشید نے خراسان میں وفات پائی اور بعدمیں امام رضا (ع) کواسی کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔

یہ وہ بعض واقعات ہیں جن کی امام رضا (ع) نے خبر دی تھی اور ہم نے ایسے متعدد واقعات ''حیاةالامام رضا (ع)''میں ذکر کر دئے ہیں ۔

آپ (ع) کی جود و سخا

مو رّخین نے آپ (ع) کی جود و سخا کے متعدد واقعات نقل کئے ہیں جن میں سے کچھ یوں ہیں :

١۔جب آپ (ع)خراسان میں تھے تو آپ(ع) اپنا سارا مال فقراء میں تقسیم کر دیا کر تے تھے ،عرفہ کا دن تھااور آپ (ع) کے پاس کچھ نہیں تھا ، فضل بن سہل نے اس پر ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہا :یہ گھاٹے کا سودا ہے۔امام (ع) نے جواب میں فرمایا :''اس میں فائدہ ہے ،اس کو تم گھاٹا شمار نہ کروجس میں فائدہ نہ ہو''۔ (٣٠)

اگر کو ئی شخص اجر الٰہی کی امید میں فقیروں کے لئے انفاق کر تا ہے تو یہ گھاٹا نہیں ہے، بلکہ گھاٹا تو وہ ہے کہ بادشاہوں اور وزیروں کے لئے ان کے سیاسی اورذاتی کاموں میں خرچ کیاجائے ۔

٢۔ آپ (ع) کا ایک مشہور و معروف واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص نے آپ(ع) کی خدمت با برکت میں آکر عر ض کیا :میں آپ (ع) اور آپ (ع) کے آباء و اجداد کا چا ہنے والا ہوں ،میں حج کر کے واپس آرہا ہوں ،میرے پاس خرچ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے اور جو کچھ ہے بھی اس سے کچھ کام حل ہونے والا نہیں ہے، اگر آپ (ع) چا ہیں تو میں اپنے شہر واپس پلٹ جائوں، جب میرے پاس رقم ہو جا ئے گی تو میں اُس کو آپ (ع)کی طرف سے صدقہ دیدوں گا، امام (ع) نے اُس کو بیٹھنے کا حکم دیا اور آپ (ع) لوگوں سے گفتگو کرنے میں مشغول ہو گئے جب وہ سب آپ (ع) سے رخصت ہو کر چلے گئے اور آپ (ع) کے پاس صرف سلیمان جعفری اور خادم رہ گئے تو امام اُن سے اجازت لیکر اپنے بیت الشرف میں تشریف لے گئے، اس کے بعد اوپر کے دروازے سے باہر آکر فرمایا : ''خراسانی کہاں ہے ؟''،جب وہ کھڑا ہوا تو امام (ع) نے اُس کو دو سو دینار دئے اور کہا کہ یہ تمھارے راستے کا خرچ اور نفقہ ہے اور اِ ن کو میری طرف سے صدقہ نہ دینا وہ شخص امام(ع) کی عطا کردہ نعمت سے مالا مال اور خوش ہو کر چلاگیا ۔ سلیمان نے امام(ع) کی خدمت میںیوں عرض کیا : میری جان آپ (ع) پر فدا ہو آپ (ع) نے احسان کیا اور صلۂ رحم کیا تو آپ (ع) نے اس سے اپنا رخ انور کیوں چھپایا ۔

امام (ع) نے جواب میں فرمایا :''میں نے ایسا اس لئے کیا کہ میں سوال کرنے والے کے چہرہ میں ذلت کے آثاردیکھنا نہیں چا ہتا کہ میں اس کی حاجت روا ئی کر رہا ہوں ،کیا تم نے رسول خدا (ص) کا یہ فرمان نہیں سُنا کہ :چھُپ کر کی جانے والی نیکی ستّر حج کے برابر اورعلی الاعلان برائی انجام دینے والامتروک شمار ہوتاہو۔ کیا تم نے شاعر کا یہ شعر نہیں سنا :

مَتیٰ آتہِ یَوماً لِاَطْلُبَ حَاجَةً

رَجَعْتُ اِلیٰ أَھْلِْ وَوَجْھْ بِمَائِہِ (٣١)

''جب میں ایک دن کسی حاجت کے لئے اس کے پاس آئوںتو میں اپنے اہل و عیال کے پاس پلٹا تو میری عزت اُن کی عزت سے وابستہ تھی ''۔

قا رئین کرام کیاآپ نے امام رضا (ع) کی اس طرح انجام دی جانے والی نیکی ملاحظہ فر ما ئی ؟یہ صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے ہے ۔

٣۔ایک فقیر نے آپ کے پاس آکر عرض کیا :مجھے اپنی حیثیت کے مطابق عطا کر دیجئے ۔

''لایسَعُنِیْ ذَلِکَ ۔۔۔''۔مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے ۔

بیشک امام کی حیثیت کی کو ئی انتہا نہیں ہے ،امام کے پاس مال و دولت ہے ہی نہیں جو کسی اندازہ کے مطابق عطا کیا جائے ،فقیر نے اپنی بات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا :یعنی میری مروت کی مقدار کے مطابق۔۔۔

امام (ع) نے مسکر اکر اس کی بات قبول کرتے ہوئے فرمایا :''ہاں اب ضرور عطا کیا جا ئے گا ۔۔۔'' ۔

پھر اس کو دو سو دینار دینے کا حکم صادر فر مایا ۔ (٣٢)

یہ آپ (ع)کی سخاوت کے کچھ نمونے تھے ،اور ہم نے اِ ن میں سے کچھ نمونے اپنی کتاب حیاة الامام رضا (ع) میں بیان کر دئے ہیں ۔

عبادت

امام اللہ کی یاد میں منہمک رہتے اور خدا سے نزدیک کرنے والے ہر کام کو انجام دیتے تھے آپ (ع) کی حیات کا زیادہ تر حصہ عبادت میں گزرا جو نور، تقویٰ اور ورع کا نمونہ تھا، آپ (ع) کے بعض اصحاب کا کہنا ہے : میں نے جب بھی آپ کو دیکھا تو قرآن کی یہ آیت یاد آگئی :(کَانُوا قَلِیلاً مِنْ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ )۔ (٣٣)

''یہ رات کے وقت بہت کم سوتے تھے ''۔

شبراوی نے آپ(ع) کی عبادت کے متعلق کہا ہے :آپ(ع) وضو اور نماز والے تھے ،آپ ساری رات با وضو رہتے ،نماز پڑھتے اور شب بیداری کرتے یہاں تک کہ صبح ہو جا تی ۔

اور ہم نے آپ (ع)کی عبادت اور قنوت و سجود میں دعا کے متعلق اپنی کتاب ''امام علی بن موسیٰ الرضا (ع) کی سوانح حیات میں ''مفصل طور پر تذکرہ کر دیا ہے ۔

آپ (ع) کی ولی عہدی

عباسی دور میں سب سے اہم واقعہ یہ رو نما ہوا کہ مامون نے امام رضا(ع) کو اپنا ولیعہد بنا دیا یعنی وہ عباسی خلافت جو علوی سادات سے دشمنی رکھتی تھی اس میںتبدیلی واقع ہو گئی اور اس بڑے واقعہ کاخاص و عام دونوں میں گفتگوو چرچاہوا اور سب مبہوت ہو کر رہ گئے، وہ سیا سی روش جس میں عباسیوں نے علویوں کا بالکل خاتمہ کر دیا تھا ،اُ ن کے جوانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا ،اُن کے بچوں کو دجلہ میں غرق اور شیعوں کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر قتل کردیاتھا۔۔۔عباسیوں سے علویوں کی دشمنی بہت آشکار تھی ،یہ دشمنی محبت و مودت میں کیسے بدل گئی ،عباسی اُن کے حق کے معترف ہو گئے اور عبا سی حکومت کا اہم مر کز اُن (علویوں ) کو کیسے سونپ دیا، اسی طرح کی تمام باتیں لوگوں کی زبانوں پر تھیں ۔

یہ مطلب بھی بیان ہونا چاہئے کہ مامون نے یہ اقدام اس لئے نہیں کیا تھا کہ یہ علویوں کا حق ہے اور وہ خلافت کے زیادہ حقدار ہیں، بلکہ اُ س نے کچھ سیاسی اسباب کی بنا پرولایت کا تاج امام رضا (ع) کے سر پر رکھا ،جس کے کچھ اسباب مندرجہ ذیل تھے :

١۔مامون کا عباسیوں کے نزدیک اہم مقام نہیں تھا،اور ایسا اس کی ماں مراجل کی وجہ سے تھا جو اس کے محل کے پڑوس اور اس کے نوکروں میں سے تھی، لہٰذاوہ لوگ مامون کے ساتھ عام معاملہ کرتے تھے ، وہ اس کے بھا ئی امین کا بہت زیادہ احترام کر تے تھے ،کیونکہ اُ ن کی والدہ عباسی خاندان سے تعلق رکھتی تھی ، لہٰذا مامون نے امام رضا (ع)کو اپنی ولیعہدی سونپ کر اپنے خاندان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی تھی ۔

٢۔مامون نے امام(ع) کی گردن میں ولیعہدی کا قلادہ ڈال کر یہ آشکار کرنا چاہاتھا کہ امام (ع) دنیا کے زاہدوں میں سے نہیں ہیں، بلکہ وہ ملک و بادشاہت اور سلطنت کے خواستگار ہیں،اسی بنا پر انھوں نے ولیعہدی قبول کی ہے، امام (ع) پر یہ سیاست مخفی نہیں تھی، لہٰذا آپ (ع) نے مامون سے یہ شرط کی تھی کہ نہ تومیں کسی کو کوئی منصب دوں گا ،نہ ہی کسی کو اس کے منصب سے معزول کریں گے، وہ ہر طرح کے حکم سے کنارہ کش رہوںگا امام کی اِن شرطوں کی وجہ سے آپ (ع) کازاہد ہونا واضح گیا۔

٣۔مامون کے لشکر کے بڑے بڑے سردار شیعہ تھے لہٰذا اس نے امام (ع) کو اپنا ولیعہد بنا کر اُن سے اپنی محبت و مودت کا اظہار کیا ۔

٤۔عباسی حکومت کے خلاف بڑی بڑی اسلامی حکومتوں میں انقلاب برپا ہو چکے تھے اور عنقریب اُس کا خاتمہ ہی ہونے والا تھا ،اور اُن کا نعرہ ''الد عوة الی الرضا من آل محمد ''تھا ،جب امام رضا (ع) کی ولیعہدی کے لئے بیعت کی گئی توانقلابیوں نے اس بیعت پر لبیک کہی اور مامون نے بھی اُن کی بیعت کی، لہٰذا اس طرح سے اُ س کی حکومت کودرپیش خطرہ ٹل گیا ،یہ ڈپلو میسی کا پہلا طریقہ تھا اور اسی طرح مامون اپنی حکومت کے ذریعہ اُن رونما ہونے والے واقعات پر غالب آگیا ۔

اِن ہی بعض اغراض و مقاصد کی وجہ سے مامون نے امام رضا (ع)کو اپنا ولی عہد بنایا تھا ۔

فضل کا امام رضا (ع) کو خط لکھنا

مامون نے اپنے وزیر فضل بن سہل سے کہا کہ وہ امام(ع) کو ایک خط تحریر کرے کہ میں نے آپ (ع)کو اپنا ولیعہدمقر ر کردیا ہے ۔خط کا مضمون یہ تھا :

علی بن مو سیٰ الرضا علیہما السلام کے نام جوفرزند رسول خدا (ص)ہیں رسول (ص) کی ہدایت کے مطابق ہدایت کر تے ہیں ،رسول کے فعل کی اقتدا کر تے ہیں ،دین الٰہی کے محافظ ہیں ،وحی خدا کے ذمہ دار ہیں ، اُ ن کے دوست فضل بن سہل کی جا نب سے جس نے اُن کے حق کو دلانے میں اپنا خون پسینہ ایک کیا اور دن رات اس راہ میں کو شش کی ، اے ہدایت کرنے والے امام (ع)آپ (ع) پر صلوات و سلام اور رحمت الٰہی ہو ، میں آپ (ع)کی خدمت میں اس خدا کی حمد بجالاتا ہوں جس کے سوا کو ئی معبود نہیں اور اس سے دعا کر تا ہوں کہ اپنے بندے محمد (ص) پر درود بھیجے ۔

اما بعد :

امید وار ہوں کہ خدا نے آپ(ع) کو آپ(ع) کا حق پہنچا دیا اور اُس شخص سے اپنا حق لینے میں مدد کی جس نے آپ(ع) کو حق سے محروم کر رکھا تھا، میں امیدوار ہوں کہ خدا آپ (ع)پر مسلسل کرم فرما ئی کرے ، آپ(ع) کو امام اور وارث قرار دے ،آپ (ع) کے دشمنوں اور آپ (ع) سے روگردانی کرنے والوں کو سختیوں میں مبتلا کرے ،میرا یہ خط امیر المو منین بندئہ خدا مامون کے حکم کی بنا پر پیش خد مت ہے میں آپ(ع) کو یہ خط لکھ رہا ہوں تاکہ آپ کا حق واپس کر سکوں ،آپ کے حقوق آپ(ع) کی خدمت میں پیش کر سکوں ، میں چا ہتا ہوں کہ اس طرح آپ (ع) مجھ کو تمام عالمین میں سعا دتمندترین قرار دیں اور میں خدا کے نزدیک کامیاب ہو سکوں ،رسول خدا (ص) کے حق کو ادا کر سکوں ،آپ (ع) کا معاون قرار پائوں ،اور آپ کی حکومت میں ہر طرح کی نیکی سے مستفیض ہو سکوں ، میری جان آپ پر فدا ہو ، جب میرا خط آپ تک پہنچے اور آپ مکمل طور پر حکومت پر قابض ہو جائیں یہاں تک کہ امیر المو منین مامون کی خدمت میں جاسکیں جو کہ آپ(ع) کو اپنی خلافت میں شریک سمجھتا ہے ،اپنے نسب میں شفیع سمجھتا ہے اور اس کو اپنے ما تحت پر مکمل اختیار حا صل ہے تو آپ (ع) ایسی روش اختیار کریں جس کی وجہ سے خیر الٰہی سب کے شامل حال ہو جائے اور ملائکہ ٔ الٰہی سب کی حفاظت کریں اور خدا اس بات کا ضامن ہے کہ آپ (ع) کے ذریعہ امت کی اصلاح کرے اور خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین ذمہ دارہے اور آپ (ع) پر خدا کا سلام اور رحمت و برکتیں ہوں۔(٣٤)

اس خط میں آپ (ع) کے کریم و نجیب القاب اوربلند و بالا صفات تحریر کئے گئے ہیں جس طرح کہ امام(ع) کی جانب خلافت پلٹائے جانے کا ذکر کیا گیاہے ۔

یہ سب مامون کی مہربانی ا ور اس کی مشقتوں سے بنے ،مامون یہ چا ہتا تھا کہ امام (ع) بہت جلد خراسان آکر اپنی خلافت کی باگ ڈور سنبھال لیں ،امام (ع) نے اس خط کا کیا جواب دیاہمیں اس کی کو ئی اطلاع نہیں ہے جو عباسی حکومت کے ایک بڑے عہدے دار کے نام لکھا گیا ہواور اس سے بڑا گمان یہ کیا جا رہا ہے کہ امام (ع) نے اپنے علم و دانش کی بناپر اس لاف و گزاف(بے تکے ) ادّعا اور عدم واقعیت کا جواب تحریر ہی نہ فرمایاہو ۔

مامون کے ایلچیوں کا امام (ع) کی خدمت میں پہنچنا

مامون نے امام رضا (ع)کو یثرب سے خراسان لانے کے لئے ایک وفد بھیجا اور وفد کے رئیس سے امام (ع)کو بصرہ اور اہواز کے راستے یاپھر فارس کے راستہ سے لانے کا عہد لیااور ان سے کہا کہ امام (ع)کو کوفہ اور قم (٣٥) کے راستہ سے نہ لیکر آئیں جس طرح کہ امام کی جانب خلافت پلٹائے جانے کا بھی ذکر ہے ۔ (٣٦)

مامون کے اتنے بڑے اہتمام سے یہ بات واضح و آشکار تھی کہ امام(ع) کو بصرہ کے راستہ سے کیوں لایا جائے اور کو فہ و قم کے راستہ سے کیوں نہ لایا جائے ؟چونکہ کو فہ اور قم دونوں شہر تشیع کے مرکز تھے ،اور مامون کو یہ خوف تھا کہ شیعوں کی امام (ع)کی زیادہ تعظیم اور تکریم سے اُس کا مرکز اور بنی عباس کمزور نہ ہو جا ئیں ۔

وفد بڑی جد و جہد کے ساتھ یثرب پہنچا اُ س کے بعد امام کی خدمت میں پہنچ کر آپ(ع) کو مامون کا پیغام پہنچایا،امام نے جواب دینا صحیح نہیں سمجھا،آپ (ع)کو مکمل یقین تھا کہ مامون نے آپ(ع) کو خلافت اور ولی عہدی دینے کے لئے نہیں بُلایا ہے بلکہ یہ اُس کی سیاسی چال ہے اور اس کا مقصد آپ (ع)کا خاتمہ کرنا تھا ۔

امام (ع) زند گی سے مایوس ہو کر بڑے ہی حزن و الم کے عالم میں اپنے جد رسول اللہ (ص) کی قبر کی طرف آخری وداع کے لئے پہنچے ، حالانکہ آپ (ع) کے رُخِ انور پرگرم گرم آنسو بہہ رہے تھے ، مخول سجستا نی امام (ع)کی اپنے جد کی قبر سے آخری رخصت کے سلسلہ میں یوں رقمطراز ہیں: جب قاصدامام رضا (ع) کو مدینہ سے خراسان لانے کے لئے پہنچا تو میں مدینہ میں تھا ،امام اپنے جد بزرگوار سے رخصت ہونے کیلئے مسجد رسول میں داخل ہوئے اور متعدد مرتبہ آپ کو وداع کیا،آپ (ع) زار و قطار گریہ کر رہے تھے ،میں نے امام (ع)کی خدمت اقدس میں پہنچ کر سلام عرض کیا، آپ (ع) نے سلام کا جواب دیااور میں نے اُن کی خدمت میں تہنیت پیش کی تو امام (ع) نے فرمایا :مجھے چھوڑ دو ،مجھے میرے جد کے جوار سے نکالا جا رہا ہے ،مجھے عالم غربت میں موت آئے گی ، اور ہارون کے پہلو میں دفن کر دیا جا ئے گا ۔مخول کا کہنا ہے :میں امام (ع) کے ساتھ رہا یہاں تک کہ امام (ع) نے طوس میں انتقال کیا اور ہارون کے پہلو میں دفن کردئے گئے ۔ (٣٧)

خا نہ ٔخدا کی طرف

امام رضا (ع) خراسان جانے سے پہلے عمرہ کرنے کے لئے خانہ ٔکعبہ کے لئے چلے ،حالانکہ آپ (ع) کے ساتھ آپ کے خاندان کی بزرگ ہستیاں تھیں جن میں آپ (ع) کے فرزند ارجمند امام جواد محمد تقی (ع) بھی تھے ، جب آپ بیت اللہ الحرام پہنچے تو آپ (ع) نے طواف کیا ،مقام ابراہیم پر نماز ادا کی ،سعی کی اس کے بعد تقصیر کی، امام محمد تقی (ع) بھی اپنے والد بزرگوار کے ساتھ ساتھ عمرہ کے احکام بجا لا رہے تھے، جب آپ (امام محمد تقی (ع))عمرہ کے احکام بجا لاچکے تو بڑے ہی غم و رنجیدگی کے عالم میں حجر اسماعیل کے پاس بیٹھ گئے ، امام رضا (ع) کے خادم نے آپ (ع)سے اٹھنے کے لئے کہا تو آپ (ع) نے انکار فرمادیا ،خادم نے جلدی سے جا کر امام رضا (ع) کو آپ (ع)کے فرزند ارجمند کے حالات سے آگاہ کیا تو آپ (ع)خود (امام رضا (ع) )امام محمد تقی (ع) کے پاس تشریف لائے اور اُ ن سے چلنے کے لئے فرمایا ،تو امام محمد تقی (ع)نے بڑے ہی حزن و الم میں یوں جواب دیا :میں کیسے اٹھوں ،جبکہ اے والد بزرگوار میں نے خانۂ خدا کو خدا حافظ کہہ دیا جس کے بعد میں کبھی یہاں واپسی نہیںہوگی ''۔ (٣٨)

امام محمد تقی (ع)اپنے والد بزرگوار کو دیکھ رہے تھے کہ آپ (ع)کتنے رنج و الم میں ڈوبے تھے ،جس سے آپ (ع) پریہ بات ظاہر تھی کہ یہ میرے والد بزرگوار کی زند گی کے آخری ایام ہیں ۔

خراسان کی طرف

امام رضا (ع)خانہ ٔ خدا کو الوداع کہنے کے بعد خراسان کی طرف چلے ، جب آپ (ع) شہر بلد پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے آپ (ع) کا انتہا ئی احترام و اکرام کیا امام (ع) کی ضیافت اور ان کی خدمات انجام دیں جس پر آپ (ع)نے شہربلد والوں کا شکریہ ادا کیا ۔

امام (ع) نیشاپور میں

امام (ع)کا قافلہ کسی رکا وٹ کے بغیر نیشا پور پہنچا ،وہاں کے قبیلے والوں نے آپ کا بے نظیر استقبال کیا ، علماء اور فقہا آپ (ع) کے چاروں طرف جمع ہو گئے ،جن میں پیش پیش یحییٰ بن یحییٰ ،اسحاق بن راہویہ ،محمد بن رافع اور احمد بن حرب وغیرہ تھے ۔جب اس عظیم مجمع نے آپ (ع)کو دیکھا تو تکبیر و تہلیل کی آوازیں بلندکرنے لگے ، اور ایک کہرام برپا ہوگیا،علماء اور حفّاظ نے بلند آواز میں کہا :اے لوگو ! خاموش ہو جائو اور فرزند رسول (ص) کو تکلیف نہ پہنچا ئو ۔

جب لوگ خا موش ہو گئے تو علماء نے امام (ع) سے عرض کیا کہ آپ (ع) اپنے جد بزرگوار رسول اسلام(ص) سے ایک حدیث بیان فر ما دیجئے تو امام (ع) نے فرمایا :''میں نے مو سیٰ بن جعفر سے انھوں نے اپنے والد بزرگوار جعفر بن محمد سے ،انھوں نے اپنے والد بزرگوار محمد بن علی سے ،انھوں نے اپنے والد بزرگوار علی بن الحسین (ع) سے ،انھوں نے اپنے والد بزرگوار حسین بن علی سے انھوں نے اپنے والد بزرگوار علی بن ابی طالب سے اور انھوں نے نبی اکرم (ص) سے نقل کیا ہے کہ خدا وند عالم حدیث قدسی میں فرماتا ہے :

'' لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ حِصْنِیْ ،فَمَنْ قَالَھَا دَخَلَ حِصْنِیْ، وَمَنْ دَخَلَ حِصْنِیْ اَمِنَ مِنْ عَذَابِیْ وَلٰکِنْ بِشُرُوْطِھَاوَأَنَا مِنْ شُرُوْطِھَا ''۔ (٣٩)

''لا الٰہ الّا اللہ میرا قلعہ ہے ،جس نے لا الٰہ اِلّا اللہ کہا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوگیا اور جو میرے قلعہ میں داخل ہو گیا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہو گیا لیکن اس کی کچھ شرطیں ہیں اور اُن ہی شرطوں میں سے ایک شرط میں ہو ں''۔

اس حدیث کو بیس ہزار (٤٠) سے زیادہ افراد نے نقل کیا ،اس حدیث کو حدیث ذہبی کا نام دیا گیا چونکہ اس حدیث کو سنہر ی روشنا ئی (یعنی سونے کا پانی )سے لکھا گیا،سند کے لحاظ سے یہ حدیث دیگر تمام احادیث میں سے زیادہ صاحب عظمت ہے ۔

احمد بن حنبل کا کہنا ہے :اگر اس حدیث کو کسی دیوانہ پر پڑھ دیا جائے تو وہ صحیح و سالم ہو جا ئے گا ۔ (٤١)اور بعض ساما نی حکام نے یہ وصیت کی ہے کہ اس حدیث کو سونے کے پا نی سے لکھ کر اُ ن کے ساتھ اُن کی قبروں میں دفن کر دیا جائے ''۔ (٤٢)

مامون کا امام (ع) کا استقبال کرنا

مامون نے امام رضا (ع) کا رسمی طور پر استقبال کرنے کا حکم دیا ، اسلحوں سے لیس فوجی دستے اور تمام لوگ امام کے استقبال کے لئے نکلے ،سب سے آگے آگے مامون ،اس کے وزراء اور مشیر تھے ، اُس نے آگے بڑھ کر امام (ع) سے مصافحہ اور معانقہ کیا اور بڑی گرمجوشی کے ساتھ مرحبا کہا ،اسی طرح اس کے وزیروں نے بھی کیا اور مامون نے امام (ع)کو ایک مخصوص گھر میں رکھا جو مختلف قسم کے فرش اورخدم و حشم سے آراستہ کیا گیا تھا۔

مامون کی طرف سے امام (ع)کو خلافت پیش کش

مامون نے امام (ع) کے سامنے خلافت پیش کی ،اس نے رسمی طور پر یہ کام انجام دیااور امام (ع) کے سامنے یوں خلافت پیش کر دی :اے فرزند رسول (ص) مجھے آپ (ع)کے فضل ، علم ، زہد ،ورع اور عبادت کی معرفت ہوگئی ہے ، لہٰذا میں آپ (ع)کو اپنی خلافت کاسب سے زیادہ حقدار سمجھتا ہوں ۔

امام (ع) نے جواب میں فرمایا:''میں دنیا کے زہد کے ذریعہ آخرت کے شر سے چھٹکارے کی امید کر تا ہوں اور حرام چیزوں سے پرہیز گاری کے ذریعہ اخروی مفادات کا امید وارہوں ،اور دنیا میں تواضع کے ذریعہ اللہ سے رفعت و بلندی کی امید رکھتا ہوں ۔۔۔''۔

مامون نے جلدی سے کہا :میں خود کو خلافت سے معزول کر کے خلافت آپ (ع) کے حوالہ کرناچا ہتا ہوں ۔

امام (ع) پر مامون کی باتیں مخفی نہیں تھیں ،اس نے امام (ع)کو اپنے سیاسی اغراض و مقاصد کی وجہ سے خلافت کی پیشکش کی تھی ،وہ کیسے امام (ع) کے لئے خود کو خلافت سے معزول کر رہا تھا ،جبکہ اُ س نے کچھ دنوں پہلے خلافت کے لئے اپنے بھائی امین کو قتل کیا تھا ؟

امام (ع) نے مامون کو یوں قاطعانہ جواب دیا :''اگر خلافت تیرے لئے ہے تو تیرے لئے اس لباس کو اُتار کر کسی دو سرے کو پہنانا جا ئز نہیں ہے جس لباس کو اللہ نے تجھے پہنایا ہے ،اور اگر خلافت تیرے لئے نہیں ہے تو تیرے لئے اس خلافت کو میرے لئے قرار دینا جا ئز نہیں ہے ''۔

مامون برہم ہو گیا اور غصہ میں بھرگیا ،اور اس نے امام (ع) کو اس طرح دھمکی دی :آپ (ع) کو خلافت ضرور قبول کر نا ہو گی ۔۔۔

امام (ع)نے جواب میں فرمایا :''میں ایسا اپنی خو شی سے نہیں کروںگا.۔۔''۔

امام (ع)کو یقین تھا کہ یہ اُس (مامون )کے دل کی بات نہیں ہے ، اور نہ ہی اس میں وہ جدیت سے کام لے رہا ہے کیونکہ مامون عباسی خاندان سے تھا جو اہل بیت (ع) سے بہت سخت کینہ رکھتے ،اور انھوں نے اہل بیت علیہم السلام کا اس قدر خون بہا یا تھا کہ اتنا خون کسی نے بھی نہیں بہا یا تھا تو امام اُس پر کیسے اعتماد کرتے ؟

ولیعہدی کی پیشکش

جب مامون امام (ع) سے خلافت قبول کرنے سے مایوس ہو گیا تو اس نے دوبارہ امام (ع) سے ولیعہدی کی پیشکش کی تو امام (ع) نے سختی کے ساتھ ولیعہدی قبول نہ کرنے کا جواب دیا ،اس بات کو ہوئے تقریباً دو مہینے سے زیادہ گزر چکے تھے اور اس کا کوئی نتیجہ نظر نہیں آرہا تھا اور امام (ع) حکومت کا کو ئی بھی عہدہ و منصب قبول نہ کرنے پر مصر رہے ۔

امام (ع) کو ولیعہدی قبول کرنے پر مجبور کرنا

جب مامون کے تمام ڈپلومیسی حربے ختم ہو گئے جن سے وہ امام (ع) کو ولیعہدی قبول کر نے کے لئے قانع کر نا چا ہتا تھا تو اُس نے زبر دستی کا طریقہ اختیار کیا ،اور اس نے امام (ع)کو بلا بھیجا ،تو آپ (ع)نے اُس سے فرمایا:''خدا کی قسم جب سے پروردگار عالم نے مجھے خلق کیامیں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ۔۔۔اور مجھے نہیں معلوم ،کہ تیرا کیا ارادہ ہے ؟''۔

مامون نے جلدی سے کہا : میرا کو ئی ارادہ نہیں ہے ۔

''میرے لئے امان ہے ؟''

ہاں آپ (ع) کے لئے امان ہے ۔

''تیرا ارادہ یہ ہے کہ لوگ یہ کہیں :''علی بن مو سیٰ (ع) نے دنیا میں زہد اختیار نہیں کیا،بلکہ دنیا نے ان کے بارے میں زہد اختیار کیا ،کیا تم نے یہ نہیں دیکھا کہ انھوں نے خلافت کی طمع میں کس طرح ولیعہدی قبول کرلی ؟''۔

مامون غضبناک ہو گیا اور اُس نے امام (ع) سے چیخ کر کہا :آپ (ع) ہمیشہ مجھ سے اس طرح ملاقات کرتے ہیں جسے میں ناپسند کر تا ہوں ، اور آپ (ع) میری سطوت جانتے ہیں ،خدا کی قسم یا تو ولیعہدی قبول کرلیجئے ورنہ میں زبر دستی کروں گا ،قبول کر لیجئے ورنہ میں آپ (ع)کی گردن ماردوں گا ۔

امام (ع) نے خدا کی بارگاہ میں تضرّع کیا :''خدایا تونے مجھے خو دکشی کرنے سے منع فرمایا ہے جبکہ میں اس وقت مجبور و لاچار ہوچکا ہوں ، کیونکہ عبداللہ مامون نے ولیعہدی قبول نہ کرنے کی صورت میں مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے ،میں اس طرح مجبور ہو گیا ہوں جس طرح جناب یوسف (ع)اور جناب دانیال (ع)مجبور ہوئے تھے ،کہ اُن کو اپنے زمانہ کے جابر حاکم کی ولایت عہدی قبول کر نی پڑی تھی ۔

امام (ع) نے نہایت مجبوری کی بنا پرولی عہدی قبول کر لی حالانکہ آپ (ع) بڑے ہی مغموم و محزون تھے ۔

امام (ع)کی شرطیں

امام نے مامون سے ایسی شرطیں کیںجن سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ آپ (ع)کو اس منصب کے قبول کرنے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے ۔وہ شرطیں مندرجہ ذیل ہیں :

١۔آپ (ع) کسی کو ولی نہیں بنا ئیں گے ۔

٢۔کسی کو معزول نہیں کر یں گے ۔

٣۔کسی رسم و رواج کو ختم نہیں کریں گے ۔

٤۔حکومتی امور میں مشورہ دینے سے دور رہیں گے ۔

مامون نے اِن شرطوں کے اپنے اغراض و مقاصد کے متصادم ہونے کی وجہ سے تسلیم کر لیا، ہم نے اس عہد نامہ کی نص و دلیل اور شرطوں کواپنی کتاب ''حیاةالامام علی بن مو سیٰ الرضا (ع) '' میں نقل کیا ہے۔

امام (ع) کی بیعت

مامون نے امام رضا (ع)کو ولی عہد منتخب کرنے کے بعد اُن کی بیعت لینے کی غرض سے ایک سیمینار منعقد کیاجس میں وزرائ، فوج کے کمانڈر،حکومت کے بڑے بڑے عہدیداراور عام لوگ شریک ہوئے ، اور سب سے پہلے عباس بن مامون ،اس کے بعد عباسیوں اور ان کے بعد علویوں نے امام (ع) کی بیعت کی ۔

لیکن بیعت کا طریقہ منفرد تھا جس سے عباسی بادشاہ مانوس نہیں تھے ،امام نے اپنا دست مبارک بلند کیا جس کی پشت امام (ع) کے چہرئہ اقدس کی طرف تھی اور اس کا اندرونی حصہ لوگوں کے چہروں کی طرف تھا ، مامون یہ دیکھ کر مبہوت ہو کر رہ گیا ،اور امام (ع) سے یوں گویا ہوا :آپ (ع) بیعت کے لئے اپنا ہاتھ کھولئے ۔

امام (ع) نے فرمایا :''رسول اللہ (ص) اسی طرح بیعت لیا کر تے تھے ''۔ (٤٣)

شاید آپ (ع) نے اپنے قول کو خدا کے اس قول سے نسبت دی ہو :

(یداللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ )۔ (٤٤)'' اُن کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے ''۔

لہٰذا بیعت کرنے والے کا ہاتھ نبی اور امام (ع) کے ہاتھ سے اوپر ہونا صحیح نہیں ہے ۔ (٤٥)

اہم قوانین

١۔مامون نے امام رضا (ع)کو ولی عہد منتخب کرتے وقت مندرجہ ذیل اہم قوانین معین کئے :

١۔ لشکر کو پورے سال تنخواہ دی جا ئے گی ۔

٢۔عباسیوں کو کالا لباس نہیں پہنا یا جا ئے گا بلکہ وہ ہرا لباس پہنیں گے ،چونکہ ہر ا لباس اہل جنت کا لباس ہے اور خداوند عالم کا فرمان ہے :( وَ یَلْبَسُونَ ثِیَابًا خُضْرًا مِنْ سُندُسٍ وَِسْتَبْرَق)۔(٤٦)

''اور یہ باریک اور دبیز ریشم کے سبز لباس میں ملبوس ہوں گے ''

٣۔درہم و دینار پر امام رضا (ع)کا اسم مبارک لکھا جا ئے گا ۔

مامون کا امام رضا (ع) سے خوف

ابھی امام رضا (ع)کو ولی عہد بنے ہوئے کچھ ہی مدت گزری تھی کہ مامون آپ (ع)کی ولیعہدی کو ناپسند کرنے لگا،چاروں طرف سے افراد آپ (ع)کے گرد اکٹھا ہونے لگے اور ہر جگہ آپ (ع) کے فضل و کرم کے چرچے ہونے لگے ہر جگہ آپ (ع)کی فضیلت اور بلند شخصیت کی باتیں ہونے لگیں اورلوگ کہنے لگے کہ یہ خلافت کے لئے زیادہ شایانِ شان ہیں ،بنی عباس چور اور مفسد فی الارض ہیں ،مامون کی ناک بھویں چڑھ گئیں اس کو بہت زیادہ غصہ آگیا ،اور مندرجہ ذیل قانون نافذ کردئے :

١۔اُس نے امام کے لئے سخت پہرے دار معین کر دئے ،کچھ ایسے فو جی تعینات کئے جنھوں نے امام (ع)کا جینا دو بھر کر دیا اور نگہبانوں کی قیادت ہشام بن ابراہیم راشدی کے سپُرد کر دی وہ امام (ع)کی ہر بات مامون تک پہنچاتا تھا ۔

٢۔اُس نے شیعوں کو امام (ع)کی مجلس میں حا ضر ہو کر آپ (ع)کی گفتگو سننے سے منع کر دیا ،اس نے اِس کام کے لئے محمد بن عمر و طوسی کو معین کیا جو شیعوں کو بھگاتا اور ان کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آتا تھا ۔

٣۔علماء کو امام (ع)سے رابطہ رکھنے اور اُن کے علوم سے استفادہ کرنے سے منع کیا ۔

 

تحرير : شریف قرشی

________________________________________

١۔حیاةالامام رضا (ع)، جلد ١،صفحہ ١٠

٢۔نورالابصار، صفحہ١٣٨

٣۔عیون اخبار الرضا (ع)،جلد ٢صفحہ ١٧٨۔مناقب ،جلد ٤،صفحہ ٣٦١

٤۔کشف انعمہ، جلد٣ صفحہ١٠٧

٥۔ایک نسخہ میں الاعلم آیاہے

٦۔ حیاة الامام الجواد (ع)صفحہ٤٢

٧۔اعیان الشیعہ ،جلد٤ صفحہ٢٠٠

٨۔اصول کافی ،جلد١ صفحہ١١ ،وسائل، جلد١١ صفحہ١٦١

٩۔اعیان الشیعہ ،جلد٤ صفحہ١٩٦

١٠۔اصول کافی، جلد ٢صفحہ ١١١

١١۔تحف العقول ،صفحہ ٤٤٥

١٢۔تحف العقول ،صفحہ٤٤٥

١٣۔وسائل الشیعہ، جلد ١٨صفحہ ٩٢

١٤۔وسائل الشیعہ ،جلد ٨ صفحہ ٤٤٢

١٥۔وسائل الشیعہ ،جلد ٨ صفحہ٤٨٣

١٦۔در تنظیم ،صفحہ ٢١٥

١٧۔تاریخ یعقوبی ،جلد ٣صفحہ ١٨١

١٨۔بحارالانوار ،جلد ٧٨ صفحہ ٣٣٥

١٩۔تحف العقول ،صفحہ ٤٤٦

٢٠۔تحف العقول ،صفحہ ٤٤٦

٢١۔وسائل الشیعہ ،جلد ١٢ صفحہ ٥٨٧

٢٢۔وسائل الشیعہ ،جلد ٨ صفحہ ٥٦٣

٢٣۔ حیاة الامام علی بن موسیٰ الرضا (ع)، جلد ١صفحہ ٣٨

٢٤۔مناقب ،ج ٤ص ٣٣٣

٢٥۔مناقب ،جلد ٤صفحہ ٣٣٣

٢٦۔نزھة الجلیس ،جلد ٢صفحہ ١٠٧

٢٧۔جوہرة الکلام ،صفحہ ١٤٦

٢٨۔حیاةالامام علی بن مو سیٰ الرضا (ع)، جلد ١صفحہ ٣٩

٢٩۔الاتحاف بحب الاشراف، صفحہ ٥٩

٣٠۔حیاةالامام محمد تقی علیہ السلام ،صفحہ ٤٠۔

٣١۔حیاةالامام علی بن مو سی الرضا (ع)، جلد ١صفحہ ٣٥۔

٣٢۔مناقب ،جلد ٤، صفحہ ٣٦١

٣٣۔سورئہ ذاریات، آیت ١٧

٣٤۔حیاةالامام علی بن مو سیٰ الرضا (ع)، جلد ٢صفحہ ٢٨٤

٣٥۔عیون اخبار الرضا ،ج ٢ص ١٤٩۔حیاةالامام علی بن مو سیٰ الرضا (ع) ، ج٢ص ٢٨٥

٣٦۔حیاةالامام علی بن موسیٰ الرضا (ع)،جلد ٢،صفحہ ٢٨٥۔اعیان الشیعہ ،جلد ٢صفحہ١٨

٣٧۔اعیان الشیعہ ،جلد ٤،صفحہ ١٢٢،دو سرا حصہ

٣٨۔حیاة الامام علی بن موسیٰ الرضا (ع) ، جلد ٢،صفحہ ٢٨٧

٣٩۔عیون اخبار الرضا، جلد ٢صفحہ ١٥٣۔علماء کے نزدیک اس حدیث کی بڑی اہمیت ہے ،اور انھوں نے اس کو متواتر اخبار میں درج کیا ہے

٤٠۔اخبار الدول، صفحہ ١١٥

٤١۔صواعق المحرقہ، صفحہ ٩٥

٤٢۔اخبار الدول ،صفحہ ١١٥

٤٣۔مقاتل الطالبین ،صفحہ ٤٥٥

٤٤۔سورئہ فتح ،آیت ١٠

٤٥۔حیاة الامام علی بن موسیٰ الرضا (ع)،جلد ٢،صفحہ ٣٠٣

٤٦۔سورئہ کہف ،آیت ٣١

بیت المکرم بنگلہ دیش کی قومی مسجد جو دارالحکومت ڈھاکہ کے قلب میں واقع ہے۔

یہ مسجد 1960ء کی دہائی میں تعمیر ہوئی۔

مسجد کے ماہر تعمیرات ٹی عبد الحسین تھاریانی تھے۔

بنگلہ دیش کی اس قومی مسجد کی تعمیر میں جدید تعمیراتی خصوصیات کے ساتھ ساتھ مسجد کے طرز تعمیر کی حسین خوبیاں بھی شامل کی گئیں ہیں۔

یہ مسجد خانہ کعبہ سے ملتی جلتی ہے اس لیے اسے دنیا بھر میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے علاقائی مسائل کے حل کےلئے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعاون پر آمادگی کا اظہار کیا –

قاہرہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی کی آجکی ملاقات میں مصر کے صدر محمد مرسی نے کہا کہ ان کا ملک اسلامی جمہوریہ ایران سمیت تمام اسلامی ممالک کے ساتھ علاقائی مسائل کے حل کےلئے تعاون پر آمادہ ہے –

محمد مرسی نے خطے کے مسائل کے حل میں ایران کے مؤثر کردار پر تاکید کرتے ہوئے مزید کہا کہ اپنے حقوق اور مشترکہ اہداف کے حصول کےلئے اسلامی ممالک کے مابین اتحاد کی ضرورت ہے –

اس ملاقات میں ایران کے وزیر خارجہ جناب علی اکبر صالحی نے بھی مصر میں عوامی انقلاب کی کامیابی پر مصر کے عوام اور منتخب صدر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی سرنوشت کے تعیّن کےلئے مصری عوام کے حق کی حمایت کرتا ہے –

صالحی نے شام کے معاملے پر چاررکنی کمیٹی کی تشکیل کےلئے محمد مرسی کی تجویز کی ایک بار پھر حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا اسلامی جمہوریہ ایران مصر کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کی بحالی اور توسیع پر آمادہ ہے -

۲۰۱۲/۰۹/۱۸- رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ملک کے شمال میں مسلح افواج کے ہزاروں افراد اور ان کے اہلخانہ سے ملاقات میں اسلامی نظام کے روز افزوں فروغ، اسلامی نظام کے شجرہ طیبہ کی جڑوں کے استحکام اوراس کی مختلف شاخوں میں ہونے والی واضح ، سرسبز و شاداب ترقیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس بانشاط و پر طراوت حرکت کو جاری رکھنے اور مستقبل کے روشن و تابناک افق تک پہنچنے کے لئے سب کی تلاش و کوشش ، پختہ عزم اور ہمت کی ضرورت ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مختلف مراحل میں ایرانی قوم کے قیام و جد وجہد اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایران اور ایران کی عظیم قوم اسلامی بیداری کی برکت سے گذشتہ 33 برسوں سے قابل فخر راہ اور اچھے انجام کے راستے پر گامزن ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حالیہ تین دہائیوں کو پرتحرک، بانشاط اور نشیب و فراز سے مملو قراردیا اور انھیں قرآنی آیات کی روشنی میں سختی و دشواری کے ہمراہ آسانی اور گشائش کا ترجمان قراردیتے ہوئے فرمایا: بعض علاقائی ممالک میں اسلامی بیداری بہت ہی مبارک حادثہ ہے لیکن ایرانی عوام کا اسلامی انقلاب بہت ہی وسیع ، عمیق، اصولوں پر مبنی اور خاص خصوصیات کا حامل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب کے اصولوں اور نعروں کے سلسلے میں عوام کے اندر اتحاد، ملک بھر میں انقلابی جوش و خروش کے وسیع ہونے اور جد و جہد کےمیدان میں ایران کی مؤمن عوام کے مختلف طبقات کا جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں حاضرہونے کو منجملہ خصوصیات میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: جہاں کہیں بھی قومیں ایمان، عزت اور فداکاری کے ساتھ میدان میں حاضر ہوں تو دنیا کی کسی طاقت میں ان کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں ہوگی کیونکہ سنت الہی کے مطابق شمشیر پر خون کی فتح و کامیابی یقینی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مختلف میدانوں میں عوام کی ہمہ گیر موجودگی کو دشمنوں کے ناجائزمطالبات کے مقابلے میں اسلامی نظام کے حکام کی مضبوط و مستحکم پشتپناہ قراردیتے ہوئے فرمایا: آج بعض انقلاب کرنے والے ممالک کے حکام امریکہ کے دباؤ کے سامنے اپنا اصول و مؤقف بدلنے پر مجبور ہیں جبکہ اسلامی جمہوریہ کے حکام حالیہ 33 برسوں میں دشمنوں کے دباؤ کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتےہوئے فرمایا: آج بھی اسلامی جمہوریہ ایران ، عوام کی برکت اور ان کی میدان میں موجودگی کی بدولت کسی بھی بڑی طاقت کی بات نہیں سنتی اور نہ ہی ان کے دباؤ کو قبول کرتی ہے بلکہ صرف اپنے ملک اور قوم کی مصلحت اور مفاد کےپیش نظر فیصلہ کرتی ہے اگر چہ اس فیصلے سےدنیا کی تمام طاقتیں ناراض ہی کیوں نہ ہوں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب کے اصولوں کے مختلف پہلوؤں کے روشن ہونے کو بہت ہی اساسی و بنیادی پیشرفت قراردیتے ہوئے فرمایا: وقت کے گذرنے کے ساتھ " اسلامی جمہوریہ، عوامی اسلامی حکومت، استقلال اور آزادی " جیسے مفہوم عوام ، ممتازشخصیات اور سیاستدانوں کے لئے مزید روشن ہوگئے ہیں اور ان اہداف کے تحقق کے لئےکیاکرنا اور کیا نہیں کرنا چاہیےیہ بھی سب پر عیاں ہوگیا ہےجبکہ حالیہ برسوں میں بھی انہی اہداف پر حرکت جاری رہی ہے اور یہ مسئلہ بہت ہی عظیم پیشرفت ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مضبوط و مستحکم ڈھانچے اور گہری و عمیق جڑوں کو اسلامی نظام کی پیشرفت و ترقی کا دوسرا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب کے پہلے برسوں کے مقابلے میں ایرانی قوم کے منتخب نظام کو سرنگوں کرنے کے لئے دشمن ناامید ہوگئے ہیں اوربہت سے موارد میں یہ حقیقت مایوسی اور ناامیدی میں تبدیل ہوگئی ہےجو اسلامی نظام کے استحکام کا مظہر ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علم وسائنس کے مختلف شعبوں میں حیرت انگیزپیشرفت کو اسلامی نظام کے سرسبز و شاداب برگ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایٹمی ٹیکنالوجی اورسیلز کےمتعلق اتنی حیرت انگیز پیشرفت حاصل ہوئی ہے جو ملک کے بعض خدوم سائنسدانوں کے لئے ناقابل یقین ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: آج بھی ایرانی سائنسداں مختلف میدانوں میں اپنی تحقیق اور ریسرچ کا کام جاری رکھےہوئے ہیں اور ان کے بعض اکتشافات ناقابل یقین ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی بنیادی ترقیات کی تشریح کےبعد تاکید کرتےہوئے فرمایا: ملک کی پیشرفت و ترقی کے سلسلے میں پرنشاط اور ہمہ گير حرکت جاری رہنی چاہیے اور اس حقیقت پر سب کو یقین ہوجانا چاہیے کہ کام و تلاش ، پیشرفت اور جد و جہد کا سلسلہ ختم ہونے والا نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی پیشرفت کو روکنے کے لئے ملک کے حالات کو تاریک اور سیاہ بنا کر پیش کرنے کو سامراجی ، صہیونی اور مغربی میڈيا کی سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم دشمن کے ان پروپیگنڈوں سے آگاہ اور واقف ہے اور ملک کے تابناک مستقبل تک پہنچنے کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت اور سستی سے پرہیز کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں مسلح افواج کے اہلخانہ کو مسلح افواج کے قابل فخر کارناموں میں شریک قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی نظام کی عظیم عمارت کی تعمیر و ترقی میں مسلح افواج کا اہم اور حساس کردار ہے اور ان کا یہ اہم و حساس کردار ان کے اہلخانہ کی ہمراہی اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نئے اسلامی نظام کو اسلامی ثقافت و تمدن کی راہ ہموار کرنے کا باعث قراردیا اور شہداء کےاہلخانہ کے صبر و استقامت کی تعریف و تجلیل کرتے ہوئے فرمایا: اگر شہداء کے اہخانہ کا قابل تعریف صبر نہ ہوتا تو ملک میں شہادت کا شاداب سلسلہ جاری نہ رہ سکتا۔ اور ایرانی قوم پر شہداء کے اہخانہ کا یہ بہت بڑا احسان ہے۔

اس ملاقات سے قبل بحریہ کے سربراہ ایڈمیرل سیاری نے رہبر معظم کی موجودگی میں مسلح افواج کے اہلخانہ کے اجتماع کو اتحاد و ہمدلی کا مظہر قراردیتے ہوئے کہا: دفاع مقدس سے لیکر اب تک مسلح افواج کے اہم کارناموں میں ان کے اہلخانہ کی فداکاری اور تعاون شامل ہے۔

مسجد وزیر خان شہرلاہور میں دہلی دروازہ، چوک رنگ محل اور موچی دروازہ سے تقریباً ایک فرلانگ کی دوری پر واقع ہے۔

مسجد کی بیرونی جانب ایک وسیع سرائے ہے جسے چوک وزیر خان کہا جاتا ہے۔

یہ وسیع العریض مسجد وزیر خان کے نام سے موسوم ہونے کی وجہ سے مسجد وزیر خان کہلاتی ہے۔

بلند و بالا دیواریں اور شاندار گنبد ماہرین فن تعمیر کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

زمانہ کی ستم گریوں کے باوجود یہ عمارت آج بھی اسی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

چوک کے تین محرابی دروازے ہیں۔ اول مشرقی جانب چٹا دروازہ، دوم شمالی جانب راجہ دینا ناتھ کی حویلی سے منسلک دروازہ، سوم شمالی زینے کا نزدیکی دروازہ –

مينار كي بلندي 100 فٹ ہے

یہ عظیم الشان مسجد كي معماري هندي ، مغلي اور اسلامي ہے اور 1634 عیسوی میں مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دورحکومت میں لاہور کے گورنر علم الدین انصاری جو کہ نواب وزیر خان کے نام سے جانے جاتے تھے انہوں نے تعمیر کرائی

اس مسجد کی تعمیرمکمل ہونے میں تقریباً سات سال کا عرصہ لگا۔

کچھ عرصہ پہلے غیر ملکی امداد سے اس مسجد کے دروازے پر خوانچہ فروشوں اور بھکاریوں نے جو ڈیرے ڈال رکھے تھے انہیں ہٹا کر وہاں ثقافتی ورثوں کے تحفظ کے لئے ایک ایسا کرافٹ بازار بنا یا گیا جس کا فن تعمیر، مسجد وزیر خان کے فن تعمیر سے مماثلت رکھتا ہے۔

۲۰۱۲/۰۹/۱۷ - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل اور تبریت یافتہ جوانوں کی تقریب سے خطاب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نورانی چہرے کی توہین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امت مسلمہ نے صہیونیوں اور سامراجی طاقتوں کی اسلام دشمن پالیسیوں کی شناخت کے پیش نظر امریکہ اور بعض یورپی ممالک کی طرف الزام کی انگلی اٹھائی ہے اور ان ممالک کے حکام کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے جنون آمیز اقدامات کی روک تھام کرکے ثابت کریں کہ وہ اس عظیم جرم میں شریک نہیں ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کی لہر اور ایران کی عظیم قوم کا مقابلہ کرنے میں دشمنان اسلام کی ناتوانی اور درماندگی کے احساس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ مسئلہ اس بات کا موجب بن گيا کہ دشمنان اسلام حالیہ حادثے جیسے ہولناک جرائم کا دیوانہ وار ارتکاب کریں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس واقعہ و حادثہ کو تاریخ کی یادگار عبرتوں میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: سامراجی نظاموں کے سربراہان اس ہولناک واقعہ کی مذمت کرنے سے گری‍ز اور اجتناب کرتے ہوئے اس عظيم جرم کے مقابلے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کررہے ہیں بلکہ اس واقعہ میں ملوث نہ ہونے کا دعوی کررہے ہیں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: البتہ ہمارا اس بات پر کوئی اصرار نہیں ہے کہ ہم اس جرم میں ان کے ملوث ہونے کوثابت کریں۔لیکن عالمی رائے عامہ اور اقوام عالم امریکی سیاستدانوں اور بعض یورپی ممالک کی پالیسیوں کی وجہ سے انھیں مجرم اور مقصر سمجھتی ہیں اور انھیں زبانی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر اپنے آپ کو اس سنگین اور عظیم جرم سے بری الذمہ کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراجی اداروں میں اسلام کے خلاف احساسات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انہیں احساسات کی وجہ سے سامراجی طاقتوں نے اسلام اور مقدسات اسلام کی روک تھام نہیں کی اور نہ ہی کریں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے " اسلام کی توہین اور آزادی بیان کے تعارض " کے سلسلے میں امریکی اور مغربی ممالک کے حکام کی گفتگو کو جھوٹ پر مبنی حقائق قراردیتے ہوئے کئی دلائل پیش کئے ۔

مغربی ممالک میں سامراجی حکومتوں کے اصولوں کے خلاف آواز بلند کرناان کی ریڈ لائنزمیں شامل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سوال کیا کہ وہ ممالک جہاں پوری شدت اور طاقت کے ساتھ سامراجی اصولوں کے خلاف بات کرنے سے روکا اور منع کیا جاتا ہو کیا کوئی یقین کرےگا کہ وہاں اسلام اور مقدسات اسلام کی توہین آزادی بیان کے خلاف ہو؟

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: بہت سے مغربی ممالک میں کسی میں ہمت نہیں کہ وہ ہولوکاسٹ کے مجہول واقعہ کے متعلق بات کرسکے یا غیر اخلاقی پالیسیوں منجملہ ہمجنس بازی کے بارے میں کوئی بیان نشر کرسکے۔مغربی ممالک میں کیوں ایسے مواقع پر آزادی بیان کا کوئی وجود باقی نہیں رہتا، لیکن اسلام اور مقدسات اسلام کی توہین، آزادی کے جھوٹے عنوان کے تحت آزاد ہے؟

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکیوں کو ڈکٹیٹر پرور قراردیا اور امریکہ کی طرف سے مصر کے ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی دسیوں برس کی حمایت ، ایران کے ڈکٹیٹر محمد رضا پہلوی اور علاقہ کے موجودہ ڈکٹیٹروں کی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ ڈکٹیٹروں کی حمایت کے اپنے سیاہ کارنامہ کی وجہ سے جمہوریت اور آزادی کا دعوی کیسے کرسکتا ہے؟

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مختلف ممالک میں امریکہ کے سیاسی اورثقافتی مراکزکی طرف عوام کے احتجاجی مظاہروں کوعالمی اقوام کی امریکہ و صہیونیوں اور ان کی پالیسیوں سے نفرت اور بیزاری کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: قوموں کے دل امریکہ سے بھرے ہوئے ہیں اوراسی وجہ سے جب انھیں موقع ملتا ہے تو وہ حالیہ واقعہ کی مانند اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اختتام میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا: بیشک سامراجی طاقتوں کے ساتھ مقابلہ میں خورشید اسلام ، دین الہی کےہمراہ ہمیشہ کی نسبت مزید درخشاں و تابناک رہےگا اور کامیابی امت مسلمہ کوہی نصیب ہوگی۔

مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے فوجی یونیورسٹیوں کے تربیت یافتہ جوانوں کی حلف برداری اور نشان عطا کرنےکی تقریب سے خطاب میں فوج کےاہم نقش اور نورانی راستے کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا: وہ عزیز جوان جو جذبے، عشق اوربصیرت کے ساتھ اس میدان میں وارد ہوتے ہیں انھیں قوم کی شاباش، دنیاوی عزت و سربلندی اور اخروی اجر و ثواب نصیب ہوتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے موجودہ ایران کوپیشرفت ، ترقی، خلاقیت اور نوآوری کا بحر بیکراں قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کی تعمیر وترقی اور اس کو مضبوط بنانے کی بہت بڑی اہمیت ہے اور مسلح افواج کے دوش پر اس سلسلے میں بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اس تقریب میں جب رہبر معظم انقلاب اسلامی پہنچے تو اس وقت قومی ترانہ پیش کیا گیا،

رہبر معظم انقلاب اسلامی اس کے بعد شہداء کی یادگار پر حاضر ہوئے اورشہداء کو خراج تحسین پیش کیا ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کو اس کے بعد گراؤنڈ میں موجود دستوں نے سلامی پیش کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے غدیر نامی کشتی کے ماڈل اور نمونہ کابھی قریب سے مشاہدہ کیا جسے مقامی سطح پر تیار کیا جارہا ہے۔

موجودہ دور جدید میں امت مسلمہ کو بے شمار چیلنجز در پیش نظر آتے ہیں اور میری نظر میں ان تمام خطرات اور کفار کی ریشہ دوانیوں کی ذمہ دار کافی حدتک خود مسلمان برادری ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ صدیوں سے جب اسلام پھیلا تو لوگوں نے اختلافات کو مزید بڑھا کر آپس میں ہی بڑی جنگیں لڑیں اور سارا نقصان اپنے ہی لوگوں کی وجہ سے امت مسلمہ کو اٹھانا پڑا، کفار کی سازشوں کی بدولت نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اسلامی ممالک نے آپس ہی میں جنگیں لڑیں اور بے شمار مالی وجانی نقصان اٹھایا۔ ان میں عراق کی کویت پر جارحیت اور افغانستان اور پاکستان کی تعلقات میں سرد مہری کا کافی عرصہ سے موجود ہونا اور اس کے علاوہ بھی بے شمار اسلامی ریاستوں کے اختلافات اور جنگ و جدل کی مثالیں موجود ہیں ، اب وقت آن پہنچا ہے کہ ان مذموم کوششوں اور کفار کے ہتھکنڈوں کا منہ توڑ جواب دیا اور وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام مسلمان ممالک کو خواہ کسی ذات ، رنگ و نسل ، لسانی و طبقاتی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں وہ ان اختلافات سے بالاتر ہوکر انکو سری سے ختم کرکے آپس میں مکمل طور پر یکجہتی و تعاون کا لازوال آغاز کریں اور زندگی کے تمام شعبوں جن میں صحت ، تعلیم، معیشت ، کرنسی، جدید سائنس و ٹیکنالوجی سمیت ہر سطح پر مکمل طور پر آپس میں مدد و معاون کو یقینی بنائیں، بلکہ میری نظر میں مسلم امّہ کو بین الاقوامی آمد و رفت اور ویزہ کی پابندیوں سے آزاد ہوکر صرف ایک عام ٹکٹ جاری کرنا چاہئے تاکہ ہر مسلمان ملک کا معزز شہری ویزہ کے بغیر صرف ایک ٹکٹ خرید کربا آسانی دنیا کے ہر اسلامی ملک میں بلا روک ٹوک جا سکے اور اپنی ذمہ داریاں فروغ اسلام کے لئے سرانجام دے سکیں اور اسکے بعد دوسرا کام یہ امت مسلمہ کو سرانجام دینا چاہئے کہ تمام اسلامی ممالک اپنی کرنسی ایک کردیں اور اسے " اسلامی کرنسی" یا کوئی اور نام دیں اس کی واضح مثال یورپ " یورو" کرنسی کو یورپ میں چلاتا ہے جو کہ ان کے ٹھوس اتحاد و تعاون کا ضامن ہے اس کے بعد جو اہم اور بڑا کام جو اتحاد مسلم ممالک اور تمام دنیائے عالم کے مسلمانوں کو کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ اپنی ایک الگ مضبوط اور موثر یا متحرک بین الاقوامی تنظیم قائم کریں، جو ان تمام اسلامی ممالک کا آپس میں اتحاد و تعاون اور یکجہتی کو یقینی بنانے کا ذریعہ ہے ، اب اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس جو پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک میں منعقد ہوچکی ہے، ان کی کارکردگی کو بھی بہتر سے بہتر بناکر فیصلہ کن بنانے کی اشد ضرورت ہے ، اسلامی ممالک کو کرنسی ، وسائل ، دولت ، معدنیات ، خوراک ، توانائی و ذرائع مرسل و وسائل اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی اور اسلحہ کی تیاری اور ایٹمی ٹیکنالوجی میں مکمل طور پر خودکفیل ہونا چاہئے اور زندگي میں کسی بھی مسئلہ کو سلجھانے اور آپس میں امداد و تعاون اور یکجہتی اور اسلام کے فروغ کے لئے تمام " اسلامی ممالک" کو اتحاد کرنا چاہئے ۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

نیل کے ساحل سے لے کر تاب خاک کا شغر

اگر ان تمام اقدامات پر امت مسلمہ جو ایک ارب سے زائد ہے، سچّے دل سے عمل کرے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کی رحمت سے مسلمان آنے والے وقت میں صف اوّل کی سب سے بڑی سپرپاور ثابت ہونگے اور تمام دنیا میں دین اسلام کا مکمل غلبہ ہوگا اور باطل نیست و نابود ہوجائے گا جبکہ دین اسلام ایک مضبوط قوت بن کر ابھرے گا ، انشاء اللہ

تحریر: اکرم سیال

ننکانہ صاحب پاکستان

امریکہ میں بننے والی اسلام مخالف فلم پر اسلامی ممالک میں احتجاج میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ اب تک ہونے والے احتجاج میں ایک درجن کے قریب افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔گذشتہ روز لاہور میں آئی ایس او کے نوجوانوں نے امریکی سنٹر پر دھاوا بول کر امریکی پرچم اتار کر اپنا پرچم نصب کردیا ہے اسی طرح لبنان میں ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا جس میں حزب اللہ کے رہنماسید حسن نصراللہ نے شرکت کی اوراحتجاج کو جاری رکھنے کی اپیل کی ۔ حزب اللہ کے رہنماسید حسن نصراللہ کافی عرصے بعد منظر عام پر آئے ہیں جس سے ان مظاہروں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے

جہاں پاکستان میں ہونے والے احتجاج میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا وہیں فلپائن کے شہر مراوی میں ہزاروں افراد نے ایک مشتعل جلوس میں شرکت کی۔

پیر کے روز افغانستان کے دارالحکومت میں بھی مشتعل مظاہرین نے پولیس کی گاڑیاں نذر آتش کر دیں اور گولیاں بھی چلائیں۔

ہندوستان کے بعد اب پاکستان میں بھی اس فلم کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو انٹرنیٹ پر یہ فلم بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

تکیہ ہالہ سلطان (Hala Sultan Tekke) لارناکا کے مغرب میں تقریبا 5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک بہت ہی ممتاز مسلم مزار ہے-

ام حرم (ترکی: ہالہ سلطان) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دودھ پلائی دایہ اور عبيدة بن الصامت کی بیوی تھیں-

تکیہ ہالہ سلطان ایک مسجد، مزار، مینار، قبرستان، اور مردوں اور عورتوں کے رہنے کے لیے کمروں پر مشتمل ہے-

خیال کیا جاتا ہے کہ ام حرم اپنے شوہر عبيدة بن الصامت کے ہمراہ قبرص پر اس وقت آئیں جب سب سے پہلے عربوں نے معاویہ کے دور میں قبرص پر حملہ کیا-

خلافت عثمانیہ کے دور میں یہاں ایک مسجد اور قبر کے ارد گرد مزار بنایا گیا- مسجد پر متعدد بار حملے ہو چکے ہیں-

24 جولائی 2010 کو اس پر پیٹرول بموں سے حملہ کیا گیا جس سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا-