Super User

Super User

Sunday, 16 September 2012 05:56

ماں اور اس کی ذمہ داریاں

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

 

دستور زمانہ اور لافانی حقیقت ہے کہ دنیا کی سبھی قوموں کا قیمتی سرمایہ "بچے‘‘ ہوا کرتے ہیں ۔ اگر اس وقت وہ گود کا کھلونا ہیں تو آگے چل کر وہی مستقبل کے معمار بنیں گے۔ ماں کی گود بچے کی درسگاہ اول ہے۔ اسی عظیم درسگاہ سے وہ اخلاق حسنہ، اطاعت و فرمانبرداری اور دنیا میں زندگی گزارنے کے سلیقے، ڈھنگ اور طور طریقے لے کر معاشرے کا حصہ بنتا ہے۔ اس لئے ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اس طرز پر کرے کہ ان کے رگ و ریشہ میں دین کی روح پھونک دے اس کے لئے ضروری ہے کہ ماں از خود صفات کاملہ کی حامل ہو اس لئے کہ بچہ جیسے ماں کو دیکھے گا ویسا ہی بننے کی کوشش کرے گا۔ ماں تو کہتے ہی اسے ہیں جس میں ہمدردی، خیر خواہی، ایثار نصیحت و برداشت اور محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہو۔ ماں کو جتنی عظمت خداوند تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی ہے کہ اس کے قدموں تلے جنت رکھی وہ انہی قربانیوں کے پیش نظر دی ہے۔ ماں اپنے اندر باپ سے کئی گنا زیادہ دلسوزی، دردمندی اور خیر خواہی کے جذبات رکھتی ہے اور تلخ کلامی اور سخت بیانی سے کوسوں دور رہتی ہے۔ ماں اپنی منزل کہکشاں سے ہوکر نہیں کانٹوں اور پتھروں سے گزر کر حاصل کرتی ہے۔ لہذا اسی اہمیت اور افادیت کے پیش مثالی ماں کے عنوان سے چند اصول و قوانین پر مشتمل مضمون قارئین کی نظر کیا جا رہا ہے۔

 

1۔ بچوں کو سلام کرنے کی عادت ڈالنا

ماں کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو سلام کرنا سکھائے کہ جب بچہ کسی سے ملاقات کرے یا کسی کا فون آئے تو بجائے ہیلو کے سب سے پہلے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔ اس حوالے سے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا :

وَإِذَا حُيِّيْتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّواْ بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا (النساء، 4 : 86)

"اور جب (کسی لفظ) سلام کے ذریعے تمہاری تکریم کی جائے تو تم (جواب میں) اس سے بہتر (لفظ کے ساتھ) سلام پیش کیا کرو یا (کم از کم) وہی (الفاظ جواب میں) لوٹا دیا کرو‘‘۔ (ترجمہ عرفان القرآن)

اس آیت میں اللہ رب العزت نے سلام اور اس کے جواب کے آداب بتلائے ہیں۔ لہذا مسلمان مائیں اپنی اولاد کی تربیت کریں کہ وہ اس کلمہ کو رسمی طور پر عام لوگوں کی طرح ادا نہ کریں بلکہ اس کی حقیقت کو سمجھ کر اختیار کریں اور سلام کو پھیلانا اپنی عادت بنا لیں۔ کیونکہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا :

لَاتَدْخُلُوْنَ الْجَنَّة حَتّٰی تُوْمِنُوْا وَلَا تُوْمِنُوْا حَتّٰی تَجَابُّوْا، اَوَلَا اَدُلُّکُمْ عَلٰی شَئْیٍ اِذَا فَعَلْتُمُوْهُ تَحَابَبْتُمْ؟ اَفْشُوْا السَّلَامَ بَيْنَکُمْ (رواه مسلم و ترمذی)

"تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک مومن نہ ہو اور تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو، میں تم کو ایسی چیز بتاتا ہوں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تمہاری آپس میں محبت قائم ہوجائے گی۔ وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو عام کرو (یعنی کثرت سے ایک دوسرے کو سلام کیا کرو)

 

2۔ مامتا کی شفقت

ایک ماں اپنے خاندان کی روح رواں ہوتی ہے۔ اسی کے وجود سے گھر کا تمام نظام قائم رہتا ہے۔ اگر ماں باپ نے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی ہو تو خواہ سب افراد خاندان مل کر رہیں، یا الگ الگ، اس خاندان کی ساکھ، بھرم اور نظم و ضبط کو قائم رکھا جاسکتا ہے ایسے خاندان کا ہر فرد برا وقت پڑنے پر یا کسی اور آزمائش کے وقت میں تندہی سے جم کر اس صورتحال کا سامنا کرتا ہے اور خاندان کی خصوصاً "ماں‘‘ کی بلند ہمتی کو ہر قیمت پر برقرار رکھتا ہے۔

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا، موج حوادث سے

اگر آسانیاں ہوں، زندگی دشوار ہوجائے

مامتا کی شفقت مثالی ہے اگر کسی ماں کو بچوں پر بہت غصہ آتا ہو اور وہ اپنے اندر شفقت کا جذبہ پیدا نہ کر پاتی ہو تو ایسی ماں کو چاہئے کہ دو رکعت صلوۃ الحاجت کی نیت سے پڑھ کر دعا مانگیں اے میرے مالک میرے اندر یہ جذبہ پیدا فرما دے اور اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا محاسبہ کرے کہ اگر میں شفقت اور محبت سے ان کی تربیت کروں گی تو اس پر مجھے اللہ تعالیٰ بہت ہی زیادہ اجرعطا فرمائیں گے۔ میری موت کے بعد میرے بچے میرے لئے صدقہ جاریہ ہوں گے اور سب سے بڑی بات کہ اللہ رب العزت مجھ سے راضی ہوں گے۔

 

3۔ بے جا لاڈ پیار بچے کے لئے نقصان دہ

سب مائیں یقینا اپنے بچوں سے بہت پیار کرتی ہیں یہی پیار و محبت بعض بچوں کو مستقبل میں برا آدمی بنا دیتا ہے جس کی وجہ موقع محل کی پہچان اور عدم پہچان ہے کہ بچے شرارتیں کرتے ہیں ان کو پیار اور محبت سے بات سمجھائی جائے جیسے کھانا اگر بچہ ضائع کر رہا ہے تو اس کو سمجھانا چاہئے کہ اس طرح اللہ پاک کی ناشکری ہوگی اور اگر اللہ پاک ہم سے ناراض ہوگئے تو پھر جتنی چیزیں ہمیں دی ہیں وہ واپس لے لیں گے۔ لہذا آپ ایسی حرکت آئندہ نہ کرنا۔ اگر بچہ کی بے جا شرارتوں اور غلط حرکات کو بروقت حکمت کے ساتھ سدھارا نہیں گیا تو بچے کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں۔

 

4۔ بچوں کی ضد

ضد اور ہٹ دھرمی کی عادت بہت بری ہے ماں باپ اگر بچوں کی خیر خواہی اور بھلائی چاہتے ہوں تو ان کی یہ ذمہ داری اور فرض ہے کہ بچے میں ضد کی خصلت پیدا ہوتے ہی اس کو دبا دیں اگر ایسا نہ کریں گے تو بچہ بھی ہاتھ سے جائے گا اور خود بھی مصیبت میں پھنس جائیں گے مثلاً اگر بچہ نقصان دہ چیز مانگنے کی ضد کر رہا ہے تو اس کا نقصان اس کو سمجھائیں اور کسی دوسرے کام میں مشغول کر دیں۔ اگر دو چار مرتبہ اس کی بے جا ضد پوری نہ کی گئی تو وہ سمجھ جائے گا کہ رونے دھونے اور ضد کرنے سے کچھ نہیں ہوگا اور پھر وہ اپنی عادت ان شاء اللہ چھوڑ دے گا۔

 

5۔ بچوں کی نفسیات کا مطالعہ

ماں بچے کی حرکات و سکنات اور اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھے۔ اس طرح ماں کو معلوم ہوگا کہ بچے کا قد اور وزن پچھلے ماہ کے مقابلے میں کتنا بڑھا ہے۔ سکول کے مختلف مضامین میں اس کی پراگرس کیا ہے۔ وہ کون سا کھیل پسند کرتا ہے؟ دوستوں کے ساتھ اس کے مراسم کیسے ہیں؟ پسندیدہ مضمون کونسا ہے؟ فارغ وقت میں کیا کرتا ہے؟ ماں کے ساتھ اس کا دوستانہ تعلق ہونا چاہئے۔ بہترین تربیت کے حوالے سے بچے کی عمر کے لحاظ سے والدین کو باہم مشاورت ضرور کرنی چاہئے۔

 

6۔ بچوں کی خود مختاری

ہر بچے کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ لوگوں میں اس کی حیثیت ممتاز ہو اور وہ اپنے گھر میں نمایاں مقام رکھتا ہو۔ اس تقاضا کے تحت وہ مشکل سے مشکل کام بھی سر انجام دے لیتا ہے بچہ جیسے جیسے شعوری پختگی اختیار کرتا جاتا ہے اس میں عزت نفس اور خودداری کا احساس تقویت پاتا ہے۔ قدرت نے تمام انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اس لئے ہر بچہ اپنی انفرادیت کا خواہاں ہوتا ہے۔ بچے کی خودمختاری اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے متوازن اور مناسب رویہ اختیار کریں نہ اس قدر آزادی دیں کہ بچہ شرم و حیاء اور اپنی ذمہ داری کا احساس نہ کرے اور نہ ہی اتنا دبایا جائے کہ دیواریں پھلانگنے پر مجبور ہوجائے۔

 

7۔ بچوں کی دیکھ بھال اور تربیت و دعا

عقل مند اور تجربہ کار عورتیں اپنی اولاد کی تربیت پر نظر رکھتی ہیں ان کو انسان بنانے کی کوشش کرتی ہیں حسنِ خوبی اور سلیقہ سے، پیار و محبت سے تربیت کرتی ہیں۔ آمدنی تھوڑی ہونے کے باوجود حسن انتظام سے گھر چلاتی ہیں۔ بچوں کی تربیت کا مرحلہ اتنا اہم ہے کہ اس کی ابتدا ماں کے پیٹ سے شروع ہوجاتی ہے جس قسم کے خیالات و نظریات اور رجحانات ماں کے ہوں گے وہی خیالات لیکر بچہ دنیا میں آتا ہے۔ بہر حال یہ بات ضرور ہے کہ بچوں کے پیدا ہونے کے بعد ان کی اصلاح ماں کے اختیار میں ہے۔

بچپن سے ماں کو چاہئے بچوں کے لئے دعا مانگنے کا اہتمام کرے۔ بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کے لئے بھی دعا مانگے۔ ان کے اچھے رشتے، ان کی روزی میں برکت اور زندگی میں صحت و عافیت کی بھی دعا مانگیں۔

 

8۔ بچوں کو خوش رکھنے کی فضیلت

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

ان فی الجنة دار يقال لها دارالفرح لايدخلها الا من فرح الاطفال. (کنزالعمال)

"جنت میں ایک گھر ہے جسے دارالفرح (خوشیوں کا گھر) کہا جاتا ہے اس میں وہ لوگ داخل ہوں گے جو اپنے بچوں کو خوش رکھتے ہیں‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کو خوش رکھنا اللہ کی رضا مندی کا سبب بھی ہے۔ بچوں کو خوش رکھنے کے کئی طریقے ہیں مثلاً بچوں کے ساتھ کبھی کبھار ان کے کھیل میں شریک ہونا۔ ان کی جائز و ننھی خواہشات کا پورا کرنا، ان کے ساتھ اچھے اخلاق اور خندہ پیشانی سے پیش آنا کبھی کبھار کوئی ایسا لطیفہ سنانا جس سے وہ خوش ہوکر بے اختیار ہنس پڑیں لیکن مزاح میں بھی جھوٹ کا دخل نہ ہو۔ اس کا سبق بھی ہمیں سیرت پاک سے ملتا ہے کہ آقا علیہ السلام سے ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت نے کہا کہ میرے لئے دعا فرما دیں کہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت میں تو بوڑھوں کا داخلہ نہیں ہوگا اس پر وہ رونے لگی آپ مسکرا پڑے اور فرمایا جنت میں سب مرد و عورت جوان ہوکر داخل ہونگے۔ اگر اس طرح کا مزاح ہو جس میں نہ کسی کی دل آزاری ہو نہ جھوٹ کا دخل ہو تو بچے تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے خوش اخلاقی اور خندہ روی کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔

یاد رکھئے بچوں کی تعلیم محض بڑے سکولوں میں داخلہ دلوا دینا یا محض اچھا نصاب پڑھا دینا نہیں ہے۔ تعلیم محبت، ہمدردی، سچائی، خدمت خلق اور تہذیب و ادب سکھانے کا نام ہے۔

 

9۔ بچوں کو نصیحت کرنا

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس باتوں کی وصیت فرمائی اس میں سے آخری دو یہ ہیں۔

وَلَا تَرْفَعُ عَنْهمْ عَصَاکَ اَدْبًا وَاَخْفِهِمْ فِی اللّٰه. (احمد والطبرانی)

"تنبیہ کے واسطے ان پر سے لکڑی نہ ہٹانا اور اللہ رب العزت

سے ان کو ڈراتے رہنا‘‘۔

اس حدیث کی شرح کچھ یوں ہے کہ لکڑی نہ ہٹانے سے مراد ہے کہ اس سے بے فکر نہ ہوں کہ انہیں حدود شرعیہ کے تحت میں کبھی کبھار مارنے کی ضرورت بھی پیش آئے تو تنبیہ و نصیحت کے واسطے ہوسکتا ہے۔

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بچوں کی نماز کی نگرانی کیا کرو اور اچھی باتوں کی ان کو عادت ڈالو۔ حضرت لقمان حکیم کا ارشاد ہے کہ باپ کی مار اولاد کے لئے ایسی ہے جیسا کہ کھیتی کے لئے پانی۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی اولاد کو تنبیہ کرے یہ ایک صاع صدقہ سے بہتر ہے اور ایک صاع تقریباً ساڑھے تین کلو غلہ کا ہوتا ہے۔

 

10۔ بچوں کی تربیت کا مسنون طریقہ

کتب احادیث میں آقا علیہ السلام کا بچوں کو تربیت دینے کا ایک واقعہ لکھا ہے۔

حضرت رافع ابن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں بچہ تھا تو انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھر پھینکا کرتا تھا (ایک دن) انصار مجھے پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا لڑکے تو کھجوروں کے درخت پر پتھر کیوں پھینکتا ہے؟ میں نے عرض کیا کھجوریں کھاتا ہوں (یعنی کھجوریں کھانے کے لئے ان کے درختوں پر پتھر مارتا ہوں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیٹے! پتھر نہ پھینکا کر بلکہ وہاں جو کھجوریں درخت کے نیچے گری پڑی ہوں ان کو کھا لیا کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا اور فرمایا! اے اللہ تو اسے سیر فرما۔ آقا علیہ السلام نے ہمیں اپنی سنت کے ذریعے بات سمجھا دی اور سب سے پہلے اس کی وجہ پوچھی جائے۔

پھر نہایت شفقت کے ساتھ نصیحت فرمائی دیکھئے بچے کی کھجوریں کھانے کی خواہش بھی پوری ہوگئی اور جو لوگوں کو تکلیف تھی کہ ان کے درختوں پر پتھر پڑتے تھے جس سے اور کھجوریں بھی خراب ہوتی تھیں وہ بھی دور ہوگئی۔

 

11۔ بچوں کیلئے نیک صحبت کا انتخاب

آقا علیہ السلام نے فرمایا : انسان اپنے دوست کے طریقہ پر ہوتا ہے۔ اس لئے تم میں سے ہر شخص یہ دیکھ لے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔ ماں کو چاہئے کہ جب انکے بچے سن شعور میں قدم رکھیں تو ان کے لئے ایسے نیک صالح اور سمجھدار ساتھیوں کا انتخاب کرے جو انہیں اسلام کی حقیقت سمجھائیں اور ایسی بنیادی باتیں سکھائیں جو ہر چیز پر محیط ہیں۔

بالغ بچوں کو شرعی مسائل کی تعلیم

ہمارے معاشرے میں بچوں کو شرعی مسائل کی تعلیم کے حوالے سے اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ ماں اور باپ اپنے بچوں سے شرم و حجاب میں ان کو ضروری شرعی مسائل تک سے ناواقف رکھتے ہیں لہذا ہونا یوں چاہئے کہ جیسے ہی والدین محسوس کریں کہ اولاد بالغ ہونے کے قریب ہے اور ان میں دینی و شرعی مسائل سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے تو وہ انہیں نہایت حکمت سے کچھ ضروری باتیں سمجھا دیں۔

تحریر: خانزادہ

آیت اللہ جعفر سبحانی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ شیعوں پر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب کو کافر کہنے کی بہت بڑی تہمت لگائی جاتی ہے ، کہا: شیعوں نے کبھی بھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے اصحاب کو کافرنہیں کہا ہے ، بلکہ شیعہ ، آنحضرت (ص) کے اصحاب کو دوست رکھتے ہوئے اور ان کا احترام کرتے ہیں ۔

آیت اللہ سبحانی نے مدرسہ عالی فقہ میں سورہ ''حشر'' کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: غلط پروپیکنڈہ کے برخلاف شیعہ بھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب کو دوست رکھتے ہیں، لیکن افسوس کہ بعض لوگوں نے شیعوں پر جھوٹی تہمت لگائی ہے کہ شیعہ صحابہ کو کافر کہتے ہیں ۔

آپ نے مزید فرمایا: تکفیر ایک الگ مسئلہ ہے اور عدالت دوسرا مسئلہ ہے ، ان دونوں کو ایک دوسرے سے نہیں ملانا چاہئے ،شیعوں کا نظریہ یہ ہے کہ صحابہ کے درمیان ٧٠ فی صدسے زیادہ صحابی متقی اور عادل ہیں ، لیکن کچھ صحابہ عادل نہیں ہیں اور عدالت کا نہ ہونا تکفیر سے بالکل جدا ہے ۔

آیت اللہ سبحانی نے کہا : شیعہ کس طرح صحابہ کو تکفیر کرسکتے ہیں جب کہ شیعوں کی نظر میں ١٥٠ سے زیادہ صحابی حضرت علی (علیہ السلام) کے شیعہ ہیں، اس بناء پر جو سائٹیں اور چینلز شیعوں پر تہمت لگاتے ہیں ان کو خدا وند عالم سے ڈرنا چاہئے اور یہ جھوٹی باتیں بیان نہیں کرنا چاہئے ۔

ان مرجع تقلید نے اہل سنت کی کتابوں جیسے ''صحیح بخاری'' میں مندرج بعض روایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: صحیح بخاری کی بعض روایات میں صحابہ کے مرتد ہونے پر تصریح کی گئی ہے ، لہذا جو لوگ شیعوں پر ناروا تہمتیں لگاتے ہیں ان کو اپنی کتابوں میں مراجعہ کرنا چاہئے اور ان کی اصلاح کرنا چاہئے کہ انہوں نے مرتد ہونے کی باتیں کیوں نقل کی ہیں ۔

آپ نے تاکید کرتے ہوئے کہا: شیعوں نے کبھی بھی صحابہ کے مرتد ہونے کی بحث کو بیان نہیں کیا ہے اور ان کے کافر ہونے کی باتوں کو کبھی بھی کسی کے سامنے پیش نہیں کیا ہے ، البتہ بعض روایات میں صحابہ کے مرتد ہونے کی طرف اشارہ ہوا ہے اور یہ اشارہ ولایت سے مربوط ہے ، لہذا صحابہ کا اسلام سے مرتد ہونا صحیح نہیں ہے ،اس بناء پر جو لوگ شیعوں پر تہمت لگاتے ہیں ان کو اس بات کا علم نہیں ہے ۔

ان مفسر قرآن کریم نے بعض صحابہ کے عادل نہ ہونے پر بعض تاریخی حوادث کی تصریح کرتے ہوئے فرمایا: تاریخ بتاتی ہے کہ اصحاب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے بارہا مختلف جگہوں پر اس پر اعتراض کیا اور بہت زیادہ آیتیں ان کی ہدایت اور گمراہی و فسق سے محفوظ رہنے کے لئے نازل ہوئی ہیں، جس کی بعض مثالیں سورہ حشر میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔

آیت اللہ سبحانی نے تاکید کرتے ہوئے کہا: پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعض خطبے اور رسول اللہ (ص) کے بعد کی جنگیں جیسے جنگ جمل اورجنگ نہروان وغیرہ اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ بعض اصحاب پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے آپ کے ارادوں پر حسد کیا اور اپنی ناراضگی کو بیان کیا ہے اور اس طرح وہ عدالت سے ساقط ہوگئے ہیں ۔

مرجع تقلید نے اپنے بیان کے آخر میں کہا : اس طرح کی آیات سے مراد یہ ہے کہ حقیقی اصحاب وہ ہیں جن میں اس طرح کے صفات اور خصوصیات پائی جاتی ہیں، وہ صفات نہیں جن کو بعض لوگ تمام اصحاب کے بدن پر عدالت اور قداست کا لباس پہنانا چاہتے ہیں ۔

امام جمعہ مراد آباد ھند مولانا سید شہوار حسین نقوی نے کہا ہے کہ حج کا مقصد فقط یہ نہیں کہ انسان خانہ کعبہ کا طواف کرے یا حجر اسود کو بوسہ دے بلکہ حج کا اصل مقصد یہ ہے کہ تمام مسلمان خانہ کعبہ میں جمع ہوں اور اجتماعی عبادت کریں۔ اجتماع کا مقصد یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان ایک جگہ جمع ہوکر ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ ہوں، ایک دوسرے کے مشکلات کو سمجھیں اور ان کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

نئی دہلی میں منعقد دو روزہ بین الاقوامی حج کانفرنس امام جمعہ مراد آباد ھند مولانا سید شہوار حسین نقوی نے کہا: اس کانفرنس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو حج کی افادیت سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ سمجھیں کہ خداوند عالم نے ان پر حج کیوں واجب کیا ہے، اس کا مقصد کیا ہے اور کیوں تمام لوگوں کو خداوند عالم نے مکہ میں جمع ہونے کا حکم دیا ہے۔

 

مولانا سید شہوار حسین نقوی نے مزید کہا: اس کانفرنس میں دنیا بھر سے بڑی تعداد میں علما، دانشوران جمع ہوئے تاکہ مسلمانوں کو درپیش مسائل کو عالمی پیمانے پر حل کرنے کی کوشش کی جائے اور دنیا کے حکمرانوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا جائے کہ آج امت مسلمہ جن مسائل سے دو چار ہے ان کو ہم کس طریقہ سے حل کرسکتے ہیں۔

 

اتحاد بین المسلمین کو حج کا بنیادی مقصد قرار دیتے ہوئے مراد آباد کے امام جمعہ نے کہا: اسلام میں اجتماعیت کا واضح تصور ہے اور اس پر کافی زور دیا گیا ہے۔آپ دیکھئے خداوند عالم نے جماعت کا حکم دیا تاکہ ایک محلے کے لوگ ایک جگہ جمع ہوجائیں۔ اسی طرح نماز جمعہ کا حکم دیا گیا تاکہ ایک شہر کے لوگ ایک جگہ جمع ہوجائیں۔ اسی طرح حج کا حکم دیا گیا جو کہ ایک عالمی اجتماع ہے۔ حج میں ساری دنیا کے مسلمان بغیر کسی تفرقہ مذہب و ملت ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور آپسی اختلافات کو بھلا کر ایک اللہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خانہ کعبہ میں حاضر ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان حج کرنے جاتا ہے تو چاہے امیر ہو، غریب ہو، بادشاہ ہو، فقیر ہو سب ایک لباس میں نظر آتے ہیں۔ وہاں انسان پہچان نہیں پاتا ہے کہ کون امیر ہے اور کون غریب۔ سب لوگ ایک لباس میں ملبوث ہرکر اللہ کی بارگاہ میں ’’لبیک اللٰھم لبیک‘‘ کہتے ہوئے حاضر ہوجاتے ہیں۔ اس سے عالمی سطح پر اتحاد بین المسلمین کی ایک جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔

غازی خسرو بیگ مسجد جسے مختصراً بیگ مسجد بھی کہا جاتا ہے بوسنیا و ہرزیگووینا کے دارالحکومت سرائیوو کی اہم ترین مسجد ہے۔ اسے ملک کا اہم ترین اسلامی مرکز اور عثمانی طرز تعمیر کا شاہکار قرار دیا جاتا ہے۔

یہ مسجد 1531ء میں عثمانی ولایتِ بوسنیا کے گورنر غازی خسرو بیگ کے حکم پر تعمیر کیا گیا۔ اس مسجد کو عثمانیوں کے مشہور معمار سنان پاشا نے تعمیر کیا جنہوں نے بیگ مسجد کی تعمیر کے بعد سلطان سلیم اول کے حکم پر ادرنہ میں شاندار جامع سلیمیہ تعمیر کی۔

خسرو بیگ نے 1531ء سے 1534ء کے درمیان حلب، شام میں بھی ایسی ہی ایک مسجد تعمیر کرائی جو خسرویہ مسجد کہلاتی ہے۔

محاصرۂ سرائیوو کے دوران دیگر کئی مقامات کے علاوہ مسجد کو بھی سرب جارح افواج کے ہاتھوں سخت نقصان پہنچا۔ 1996ء میں اس مسجد کی تعمیر نو کا کام کیا گیا۔

یہ مسجد آج بھی شہر کی عبادت گاہوں میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔

غازی خسرو بیگ مسجد میں عيدالفطر كي نماز

غازی خسرو بیگ مسجد میں عيدالفطر كي نماز

غازی خسرو بیگ مسجد میں عيدالفطر كي نماز

رات کے وقت ایک خوبصورت منظر

ہندوستان کی شمالی ریاستوں میں بارشوں کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد28 ہوگئی ہے ۔ہندوستانی ریاست اتھرکھنڈ میں مون سون بارشوں کے باعث سیلاب اور تودے گرنے کے سبب کم از کم 28افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ امدادی حکام کے مطابق ردراپریاگ اور باگیشوراضلاع میں کم ازکم 30 افراد لاپتہ بھی ہیں۔

اسلام دشمن عناصر کی طرف سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں توہین اور گستاخی پر مبنی فلم کی اشاعت کے بعد رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایرانی قوم اور عظیم امت مسلمہ کے نام اپنے پیغام میں اس توہین آمیز اور شرارت انگیز حرکت کے پس پردہ امریکہ، صہیونزم اور دیگر عالمی سامراجی طاقتوں کی معاندانہ پالیسیوں کو قراردیا اوراسلام و قرآن مجید کے بارے میں صہیونیوں کے بغض و عداوت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر امریکی سیاستمدار اپنے دعوے میں سچے ہیں تو انھیں اس سنگین جرم میں ملوث افراد اور ان کی مالی معاونت کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے جنھوں نے امت مسلمہ کے جذبات اوردلوں کو مجروح کیا ہے۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن حسب ذیل ہے:

 

 

بسم الله الرحمن الرحيم

قال الله العزيز الحكيم: يُريدونَ لِيُطفِئوا نورَاللهِ بِاَفواهِهِم واللهُ مُتِمُّ نورِه وَلوكَرِهَ الكافِرون

ایران کی عزیز قوم، عظیم ملت اسلامیہ

دشمنان اسلام کے پلید ہاتھ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کرکے اپنے بغض اورکینہ کوآنحضور (ص) کی نسبت ایک بار پھر آشکار اور نمایاں کردیا ہے اوراپنے جنون آمیز اور نفرت انگیز اقدام کے ذریعہ موجودہ دنیا میں قرآن اور اسلام کے بڑھتے ہوئے نور کے متعلق صہیونیوں کے غیظ وغضب کو ظاہرکیاہے۔

اس جرم و جنایت کا ارتکاب کرنے والے عوامل کا سب سے بڑااور عظیم گناہ بس یہی ہے کہ انھوں نے کائنات کی سب سے عظیم اور مقدس ہستی کو اپنی پست اور معاندانہ پالیسی کا نشانہ بنایا ہے۔اس شیطانی اور شرارت انگیز حرکت کے پیچھے صہیونزم، امریکہ اور دوسری عالمی سامراجی طاقتوں کا ہاتھ ہے جو اپنے باطل و خام خیال میں عالم اسلام میں جوان نسل کی نگاہوں میں اسلامی مقدسات کو اپنے بلند مقام سے گرانا اور ان کے دینی جذبات کو محو کرنا چاہتی ہیں ۔

اگر وہ اس پلید سلسلے کے گذشتہ حلقوں یعنی سلمان رشدی، ڈنمارک کے کارٹونسٹ اورقرآن مجید کو آگ لگانے والے امریکی پادریوں کی حمایت نہ کرتے اور صہیونی سرمایہ داروں سے وابستہ اداروں میں اسلام کے خلاف دسیوں فلمیں بنانے کی سفارش نہ دیتے تو آج معاملہ اس عظیم اورناقابل بخشش گناہ تک نہ پہنچتا۔اس عظیم گناہ و جنایت میں سب پہلے امریکی اور صہیونزم مجرم ہیں۔ اگر امریکی سیاستمدار اپنے دعوے میں سچے ہیں تو انھیں اس سنگین جرم میں ملوث افراد اور ان کی مالی معاونت کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے جنھوں نے امت مسلمہ کے جذبات اوردلوں کو مجروح کیا ہے۔

پوری دنیا میں مسلمان بھائی اور بہنیں بھی جان لیں کہ اسلامی بیداری کے مقابلے میں دشمن کی یہ بزدلانہ اور ذلیلانہ حرکت در حقیقت اسلامی بیداری کی عظمت،اہمیت اور اس کی روز افزون رشد و ترقی کامظہر ہے۔ واللہ غالب علی امرہ

سید علی خامنہ ای

23 شہریور1391

رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں پیغمبر عظیم الشان کے بارے میں امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کے خلاف مسلمانوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے پرچموں کو نذر آتش کردیا ہے۔احتجاجی مظاہرے میں مرد و خواتین ، پیر و جواں اورعوام کے مختلف طبقات نے شرکت کی ۔عوام نے پیغمبر اسلام (ص)کی توہین پر اشک بہاتے ہوئے امریکہ کے اس توہین آمیز اقدام کی شدیدمذمت کی۔ احتجاجی اجتماع میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے پیغام کو بھی پڑھ کر سنایا گیا رہبر معظم نے اپنے پیغام میں پیغمبر اسلام (ص)کی توہین کو ناقابل برداشت اقدام قرار دیتے ہوئے امریکہ اور صہیونزم کو اسلام اور پیغمبر اسلام (ص)کا صف اول کا دشمن قراردیا ہے۔ تہران کےعلاوہ ایران کے دیگر شہروں میں بھی امریکہ کے خلاف زبردست عوامی مظاہرے ہوئے ہیں جن میں توہین آمیز فلم کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

ڈائریکٹر سر سید اکیڈمی، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی نے کہا ہے کہ حج اتحاد کے بھرپورمظاہرے کا ایک بہترین موقع ہے۔ کعبہ میں دنیا کے ہر علاقے کے مسلمان بلا لحاظ مسلک و فرقہ ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کو متحد ہونے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ آپ دیکھئےفلسطین سے لیکر افغانستان تک باطل طاقتیں کس طرح مسلمانوں پر غالب ہوگئی ہیں، اور عالم اسلام اتنا کمزور ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھا پا رہا ہے۔

نئی دہلی میں منعقد دو روزہ بین الاقوامی حج کانفرنس کے سائڈ لائن پر تقریب نیوز کے ایڈیٹر سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی نے کہا: ایران کلچرل ہاوس نے جو یہ جو انٹرنیشنل حج کانفرنس منعقد کی ہے یہ ایک بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ حج لوگوں کو عالمی سطح پر جمع کرتا ہے اور لوگ اللہ کے دربار میں پہنچتے ہیں اسی طرح یہاں پر یہ کوشش کی گئی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ وہ اس سبق کو یاد کریں جو خانہ کعبہ میں وہ دہرانے جارہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ حاجی حج سے جو پیغام لیکر آئیں گے اس کو صرف اپنے گھروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس وحدت کے پیغام کو مسلمانوں تک پہنچائیں۔

ڈائریکٹر سر سید اکیڈمی نے مزید کہا: حج ایک ایسا موقع ہے کہ جب مسلمان بلا لحاظ فرقہ و مسلک، رنگ و نسل ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، اور بغیر کسی تعصب اور بھید بھاؤ کے بھائی بھائی ہوکر ایک خدا کے حضور میں سر بسجود ہوتے ہیں، اور امت واحدہ کا عملی ثبوت دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسلمان حج کے اس پیغام کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں۔

اتحاد بین المسلمین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سابق ناظم شعبہ سنی دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کہا: اتحاد بین المسلمین تو اسلام کا بنیادی مقصد ہے، اورحج کا ایک اہم فریضہ بھی ہے۔ اگر ہم حج پر جانے کو بعد بھی اتحاد کے سبق کو حاصل نہ کرسکے اور اسے عملی طور پر اپنی زندگی میں نافذ نہ کر سکے تو گویا حج نے ہمارے اوپر کوئی اثر ہی نہیں کیا۔ اس وقت مسلمانوں کو اتحاد کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ فلسطین سے لیکر افغانستان تک باطل طاقتیں مسلمانوں پر غالب ہوئی ہیں اور عالم اسلام اتنا کمزور ہے کہ آواز بھی نہیں اٹھا پا رہا ہے۔ اگر مسلمانوں میں اتحاد پید اہوجائے تو مسلمانوں پر یہ ظلم ختم ہوجائے گا۔ امام خمینی (رہ) نے کہا تھا کہ اگر مسلمان ایک ایک بالٹی پانی ہر جگہ سے ڈال دے تو اسرائیل ڈوب سکتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر مسلمانان جہاں اپنی قوت کا مظاہرہ کریں، اتحاد کا مظاہرہ کریں تو باطل طاقتوں کو ڈوبنے سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔

حج کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر قاسمی نے کہا: مسلمان حج کے اندر اللہ تعالیٰ کے حکم کی بندگی اور اطاعت کرتے ہیں ۔ اللہ کا حکم ہے کہ ہم جانور ذبح کریں تو ہم جانور ذبح کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ کا حکم ہے کہ حرم میں ہم کسی جانور کو بھی نہیں مارسکتے تو ہم مچھر کو بھی نہیں مارتے۔ غرض اس کا کم ہوگا تو ہم لاکھوں جانوروں کو قربان کریں گے اور اس کا حکم نہیں ہوگا تو ہم ایک مچھر کو بھی نہیں مار سکتے۔ ہمیں چاہئے کہ اسی طرح ہم اپنی پوری زندگی میں اللہ کے فرمان کی اطاعت کریں۔ حج میں ہمیں وحدت، اخوت ، اجتماعیت اور روحانیت کا جو پیغام ملتا ہے اس کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔

Saturday, 15 September 2012 04:48

جامع مسجد ژیان چین

جامع مسجد ژیان چین کے صوبہ شانژی کے شہر ژیان میں واقع ملک کی قدیم اور مشہور ترین مساجد میں سے ایک ہے۔

اسے پہلی بار تانگ خاندان کے ژوان زونگ (685ء تا 762ء) کے دور حکومت میں شاہراہ ریشم کے مشرقی کنارے پر قائم کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ کئی مرتبہ (خصوصاً منگ خاندان کے شاہ ہونگ وو کے دور حکومت میں) تعمیر نو کے مراحل سے گذری.

یہ مسجد ژیان کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے اور آچ بھی چین کے مسلمان اسے عبادت گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

مسجد کے عام روایتی طرز تعمیر کے برعکس جامع مسجد ژیان مکمل طور پر چینی طرز تعمیر کا شاہکار ہے۔ تاہم اس میں قرآنی آیات کی خطاطی ضرور کی گئی ہے۔ جامع مسجد ژیان کا کوئی گنبد یا مینار نہیں۔

چارسدہ میں مذہبی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون ارشد عبداللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں بدامنی، جہالت اور دہشت گردی کی لعنتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اسلامی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون و پارلیمانی امور بیرسٹر ارشد عبداللہ نے علمائے کرام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کی موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ معاشرے میں علمائے کرام بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دارالعلوم اسلامیہ ضلع چارسدہ میں صحیح بخاری کی تعلیمات کے آغاز کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی فضل شکور خان، سابق ایم این اے شیخ الحدیث مولانا گوہر شاہ، معززین علاقہ، علمائے کرام اور طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر مقررین نے دارالعلوم اسلامیہ میں دی جانے والی اسلامی تعلیمات کے اقدام کو سراہا۔

صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ بیرونی طاقتیں ہمارے ملک میں پیسوں کے بل بوتے پر خلفشار پیدا کر رہی ہیں اور ملک دشمن قوتیں مسالک کے درمیان اختلافات اور انتشار پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بد امنی، جہالت اور دہشت گردی کی لعنتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اسلامی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا کیونکہ ہمارا دین مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے۔