Super User

Super User

کشمیری حریت پسند لیڈر میر واعظ عمر فارو‍ق نے ہندوستان کے وزیر دفاع کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کے حکمرانوں کے کشمیر سے متعلق حقائق ، تاریخ اور بین الاقوامی وعدوں کے برعکس بیانات سے نہ صرف پاک –ھند تعلقات میں کشیدگی اور بدگمانی بڑھ سکتی ہے بلکہ اس سے جاری مذاکراتی عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

حریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے ایک عوامی اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ایک طرف ہندوستان کے حکمران ، پاکستان کے ساتھ تمام حل طلب مسائل جن میں اہم اور بنیادی مسئلہ مسئلہ کشمیر ہے، کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی باتیں کرتے ہیں لیکن دوسری طرف ارباب اقتدار کے ذمہ داران ایسے بیانات بھی دیتے ہیں جو حقائق ، تاریخ اور بین الاقوامی وعدوں اور معاہدوں کیخلاف ہے اور ان سے نہ صرف ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی اور بدگمانی بڑھ سکتی ہے بلکہ اس سے جاری مذاکراتی عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے ۔

میرواعظ نےہندوستان کے وزیر دفاع اے کے انٹونی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیر کی 14 اگست 1947 کی جو حیثیت اور پوزیشن تھی ،وہ تمام علاقہ متنازعہ ہے ،جس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور اسے منصفانہ بنیادوں پر حل کئے بغیر نہ تو خطے میں امن و سلامتی کا قیام ممکن ہے اور نہ ہی دونوں ہمسایہ ملکوں میں خوشگوار تعلقات استوار ہو سکتے ہیں ۔

ہندوستان کے وزیر دفاع اے کے انٹونے نے لوک سبھا میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے اور پاکستان نے کشمیر کے ایک حصے کا قبضہ کرلیا ہے -

 

 

روس نے ايک بار پھر ايران کے خلاف امريکہ کي عائد کردہ يکطرفہ پابنديوں پر کڑي نکتہ چيني کي ہے-

روس کي وزارت خارجہ کے جاري کردہ بيان ميں کہا گيا ہے کہ واشنگٹن کو يہ بات اچھي طرح سمجھ لينا چاہيے کہ اگر ان پابنديوں سے روس پر کوئي اثر پڑا دونوں ملکوں کے تعلقات بري طرح متاثر ہوسکتے ہيں-

روسي وزارت خارجہ نے ايران کے خلاف يکطرفہ پابنديوں کو کھلي باج گيري اور عالمي قوانين کي خلاف ورزي قرار ديا ہے-

روسي وزارت خارجہ کے جاري کردہ بيان ميں يہ بھي کہا گيا ہے کہ ماسکو امريکہ کے داخلي قوانين کو دنيا کے ديگر ملکوں پر مسلط کرنے کي امريکي کوشش کو ہرگز برداشت نہيں کرے گا-

نئي امريکي پابنديوں کے تحت ايران سے تيل کي خريد و فروخت کرنے والے ملکوں کو واشنگٹن کي جانب سے ‎معاشي سزاوں کا سامنا کرنا پڑے گا-

ان پابنديوں پر اٹھائيس جون سے عملدرآمد شروع ہوگيا ہے-

ايران کے خلاف امريکہ کي يکطرفہ پابندياں تہران کے ايٹمي پروگرام کو بہانا بناکر لگائي ہيں-

ايران اپنے جوہري پروگرام کے بارے ميں امريکي الزامات کو سختي کے ساتھ مسترد کرچکا ہے -

ايران کا کہنا ہے اس کا جوہري پروگرام پرامن مقاصد کے لئے اور اين پي ٹي معاہدے کے رکن کي حثيت سے اسے يورينيئم کي افزودگي کا بھي حق حاصل ہے-

 

 

Wednesday, 15 August 2012 10:17

احسان نہ جتائیں!

قائد انقلاب اسلامی نے پندرہ محرم الحرام سنہ چودہ سو بتیس ہجری قمری کو فقہ کے اجتہادی و استنباطی درس " درس خارج" سے قبل حسب معمول فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ایک قول مع تشریح بیان کیا۔ اس روایت میں بے لوث دوستی اور احسان نہ جتانے کی بات کی گئی ہے۔ یہ قول زریں، اس کا ترجمہ اور شرح پیش خدمت ہے؛

"‫عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ الْمُؤْمِنُونَ خَدَمٌ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ قُیل وَ كَيْفَ يَكُونُونَ خَدَماً بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ قَالَ يُفِيدُ بَعْضُهُمْ بَعْضاً"

كافى، ج 2، ص 167

ترجمہ و تشریح: کتاب الکافی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت منقول ہے کہ «المؤمنون خدم بعضهم لبعض» مومنین ایک دوسرے کے خدمت گار ہیں۔ "خدم" جمع ہے " خادم" کی۔ خادم کے لئے فارسی (اور اردو) میں خدمت گار کا لفظ استعمال ہوتا ہے جو ذرا شائستہ لفظ ہے، اس کے لئے دوسرا لفظ نوکر کا ہے جو ذرا عامیانہ ہے۔ ایک تیسرا لفظ بھی ہے خدمت گزار جس کے فارسی زبان میں ایک الگ ہی معنی ہیں۔ یہاں خدم کا جو لفظ استعمال کیا گيا ہے اس سے خدمت گار ہی مراد ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ مومنین ایک دوسرے کے خادم ہیں۔ حاضرین کو یہ سن کا تعجب ہوا اور انہوں نے سوال کیا کہ وہ کیسے؟ سب ایک دوسرے کے خادم کیسے ہو سکتے ہیں؟ یا یوں کہا جائے کہ سب ایک دوسرے کے نوکر کیسے ہو سکتے ہیں؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے گھر جاکر ایک دوسرے کی خدمت کریں؟ ارشاد فرمایا کہ «يفيد بعضهم بعضا» ایک دوسرے کو فائدہ پہنچائيں۔ معلوم ہوا کہ مومنین کا ایک دوسرے کو فائندہ پہنچانا باہمی خدمت ہے۔ یہاں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اس میں احسان جتانے والی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ اگر ہم نے ایک دوسرے کی خدمت کی ہے، ایک دوسرے کو فائدہ پہنچایا ہے خواہ ہمارا مقام و مرتبہ آپس میں برابر اور یکساں ہو، جیسے کوچہ و بازار میں ایک جیسی سماجی حیثیت رکھنے والے افراد ہوتے ہیں اور خواہ ان میں ایک، سماجی مقام و مرتبے کے لحاظ سے بلند ہو مثلا کسی ادارے کا سربراہ ہو اور دوسرا شخص معمولی انسان ہو تو بھی ان میں کسی نے بھی دوسرے کی خدمت کرکے احسان نہیں کیا ہے۔ ہماری نظر میں اس حدیث کا اہم نکتہ صرف یہی نہیں ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو فائدہ پہنچائیں بلکہ یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ فائدہ پہنچانے کے اس عمل کے بعد کوئی کسی پر احسان نہ جتائے اور خدمت کو احسان جتا کر نابود نہ کرے۔

 

 

Wednesday, 15 August 2012 10:14

عالمی یوم قدس

قدس ، پہلا قبلہ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا دوسرا حرم ہے یہ فلسطین کے ان دسیوں لاکھ مسلمانوں کی اصل سرزمین ہے جنہیں عالمی استکبار نے غاصب صیہونیوں کے ہاتھوں سنہ 1948 میں اپنے وطن سے جلاوطن کرکے قدس کی غاصب ، صیہونیوں کے تصرف میں دےدیا تھا ۔اس سامراجی سازش کے خلاف فلسطینی مسلمانوں نے شروع سے ہی مخالفت کی اور ان مظلوموں کی قربانی اور صبر و استقامت کے سلسلے میں پوری دنیا کے حریت نواز ، بیدار دل انسانوں نے حمایت کی اور اسی وقت سے فلسطین کا مسئلہ ایک سیاسی ۔ فوجی جد وجہد کے عنوان سے عالم اسلام کے سب سے اہم اور تقدیرساز مسئلے کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے ۔اسلامی ایران کی ملت و حکومت نے بھی ، اسلامی انقلاب کی پرشکوہ کامیابی کے بعد سے غاصب صیہونیوں کے پنجۂ ظلم سے قدس کی آزادی کے مسئلے کو اپنا اولین نصب العین قراردے رکھا ہے اور ماہ مبارک کے آخری جمعہ کو روز قدس قراردے کر اس دن کو ستمگران تاریخ کے خلاف حریت و آزادی کے بلند بانگ نعروں میں تبدیل کردیا ہے ۔اسلامی انقلاب کے فورا" بعد حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے صیہونیوں کے پنجۂ ظلم سے قدس کی آزادی کے لئے اس دن کو روز قدس اعلان کرتے ہوئے اپنے تاریخی پیغام میں فرمایا تھا : میں نے سالہائے دراز سے ، مسلسل غاصب اسرائیل کے خطرات سے مسلمانوں کو آگاہ و خبردار کیا ہے اور اب چونکہ فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے خلاف ان کے وحشیانہ حملوں میں شدت آگئی ہے خاص طور پر جنوبی لبنان میں وہ فلسطینی مجاہدین کو نابود کردینے کے لئے ان کے گھروں اور کاشانوں پر پیاپے بمباری کررہے ہیں میں پورے عالم اسلام اور اسلامی حکومتوں سے چاہتا ہوں کہ ان غاصبوں اور ان کے پشتپناہوں کے ہاتھ قطع کردینے کے لئے آپس میں متحد ہوجائیں اور ماہ مبارک کے آخری جمعہ کو جو قدر کے ایام ہیں فلسطینیوں کے مقدرات طے کرنے کے لئے ، روز قدس کے عنوان سے منتخب کرتا ہوں تا کہ بین الاقوامی سطح پر تمام مسلمان عوام فلسطینی مسلمانوں کے قانونی حقوق کی حمایت و پشتپناہی کا اعلان کریں ۔میں پورے عالم کفر پر مسلمانوں کی کامیابی کے لئے خداوند متعال کی بارگاہ میں دعاگو ہوں ۔اور اس اعلان کے بعد سے ہی روز قدس ، قدس کی آزادی کے عالمی دن کی صورت اختیار کرچکا ہے اور صرف قدس سے مخصوص نہیں رہ گیا ہے بلکہ عصر حاضر میں مستکبرین کے خلاف مستضعفین کی مقابلہ آرائی اور امریکہ اور اسرائیل کی تباہی و نابودی کا دن بن چکا ہے ۔روز قدس دنیا کی مظلوم و محروم تمام قوموں اور ملتوں کی تقدیروں کے تعین کا دن ہے کہ وہ اٹھیں اور عالمی استکبار کے خلاف اپنے انسانی وجود کوثابت کریں اور جس طرح ایران کے عوام نے انقلاب برپا کرکے وقت کے سب سے قوی و مقتدر شہنشاہ اور اس کے سامراجی پشتپناہوں کو خاک چاٹنے پر مجبور کردیا اسی طرح دنیا کے دیگر اسلامی ملکوں کے عوام بھی اپنے انسانی حقوق کی بحالی کے لئے انقلاب برپا کریں اور صیہونی ناسور کو دنیائے اسلام کے قوی و مقتدر پیکر سے کاٹ کر کوڑے دان میں پھینک دیں ۔روز قدس جرات و ہمت اور جواں مردی و دلیری کے اظہار کا دن ہے مسلمان ملتیں ہمت و جرات سے کام لیں اور مظلوم و محروم قدس کو سامراجی پنجوں سے نجات عطا کریں ۔روز قدس ان خیانتکاروں کو بھی خبردار کرنے کا دن ہے جو امریکہ کے آلۂ کار کی حیثیت سے غاصب قاتلوں اور خونخوار بھیڑیوں کے ساتھ ساز باز میں مبتلا ہیں اور ایک قوم کے حقوق کا خود ان کے قاتلوں سے سودا کررہے ہیں ۔روز قدس صرف روز فلسطین نہیں ہے پورے عالم اسلام کا دن ہے ، اسلام کا دن ہے قرآن کا دن ہے اور اسلامی حکومت اور اسلامی انقلاب کا دن ہے ۔اسلامی اتحاد اور اسلامی یکجہتی کا دن ہے ۔اگر اپنی اسلامی یکجہتی کی بنیاد پر لبنان کے حزب اللہی صیہونی طاقتوں کے خلاف 33 روزہ جنگ میں سرخرو اور کامیاب ہوسکتے ہیں تو فلسطینی مجاہدین بھی اگر خیانتکاروں کو اپنی صفوں سے نکال کر اتحاد و یکجہتی سے کام لیں اور پوری قوت کے ساتھ غاصب صیہونیوں کے خلاف میدان میں نکل آئیں تو یقینا" کامیابی و کامرانی ان کے قدم چومے گي کیونکہ خدا نے وعدہ کیا ہے " اگر تم نے اللہ کی مدد کی تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثبات قدم عطا کردے گا ۔" اب وقت آچکا ہے کہ دنیا کے مسلمان ایک ہوجائیں مذہب اور اعتقادات کے اختلافات کو الگ رکھ کر حریم اسلام کے دفاع و تحفظ کے لئے اسلام و قرآن اور کعبہ ؤ قدس کے تحفظ کے لئے ، جو پورے عالم اسلام میں مشترک ہیں وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک اور ایک ہوجائیں اور کفار و منافقین کو اسلامی مقدسات کی پامالی کی اجازت نہ دیں تو کیا مجال ہے کہ دو ارب سے زائد مسلمانوں کے قبلۂ اول پر چند لاکھ صیہونیوں کا تصرف ، قتل عام اور غارتگری کا سلسلہ باقی رہ سکے ۔ دشمن مذہب و مسلک اور قومی و لسانی تفرقے ایجاد کرکے اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کررہا ہے اب بھی وقت ہے کہ مسلمان ملتیں ہوش میں آئیں اور اسلامی بیداری و آگاہی سے کام لے کر ، فلسطینی مجاہدین کے ساتھ اپنی حمایت و پشتپناہی کا اعلان کریں ۔فلسطین کے محروم و مظلوم نہتے عوام ، صیہونیوں کے پنجۂ ظلم میں گرفتار لاکھوں مرد وعورت ، وطن سے بے وطن لاکھوں فلسطینی رفیوجی ،غیرت و حمیت سے سرشار لاکھوں جوان و نوجوان ہاتھوں میں غلیل اور سنگریزے لئے فریاد کررہے ہیں ،چیخ رہے ہیں ،آواز استغاثہ بلند کررہے ہیں کہ روئے زمین پر عدل و انصاف کی برقراری کا انتظار کرنے والو ، فلسطینی مظلوموں کی مدد کرو قدس کی بازیابی کے لئے ایک ہوجاؤ ۔ہم فلسطینی ہیں فلسطینی ہی رہیں گے ۔ہم بیت المقدس کو غاصب صیہونیوں سے نجات دلائیں گے، ہم خون میں نہا کر مسلمانوں کے قبلۂ اول کی حفاظت کریں گے ۔بس ہمیں مسلمانوں کی حمایت و پشتپناہی کی ضرورت ہے ۔

اے مسلمانو! اپنا مرگبار سکوت اور خاموشی کو توڑ کر اٹھو ہم فلسطینی مجاہدین کی آواز سے آواز ملاؤ قدس ہمارا ہے ، قبلۂ اول ہمارا ہے ہم قدس کو آزاد کرائیں گے ۔ہم قدس کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیں گے لیکن قدس کو غاصبوں کے وجود سے پاک کرکے ہی دم لیں گے ۔

جو پتھروں میں بھی کھلتے ہیں وہ گلاب ہیں ہم

جو سرخرو ہے بہرحال وہ شباب ہیں ہم

ہمارے خون کی موجیں انہیں ڈبودیں گی

سمجھ رہے ہیں جو بس وقت کا حباب ہیں ہم

اجڑ کے بسنے نہ دیں گے کسی بھی غاصب کو

جوان حسرتوں کی مانگ کا خضاب ہیں ہم

ہمارے دم سے ہے باقی حرارت اسلام

نگاہ جس پہ ہے سب کی وہ آفتاب ہیں ہم

کریں گے قدس کو صیہونیوں کے شرک سے پاک

خلیل وقت خمینی (رح) کا سچا خواب ہیں ہم

 

رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے ایک موقع پر " یوم قدس " کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا تھا : " یوم قدس ایک عالمی دن ہے یہ دن صرف قدس سے مخصوص نہیں بلکہ عالمی سطح پر مستکبرین عالم سے مستضعفین عالم کے مقابلے اور استقامت کا دن ہے یہ تمام سامراجی طاقتوں کے خلاف کمزوروں اور محروموں کی دائمی جنگ و پیکار کا دن ہے ، ان تمام قوموں کی جدو جہد اور کارزار کا دن ہے جو امریکہ اور اس کے ہم قبیل و ہم فکر دوسرے سامراجی ملکوں کی زیادتیوں کا شکار ہیں اس دن بڑی طاقتوں سے مقابلے کے لئے مستضعفین کو لیس ہوکر دشمنوں کی ناک خاک میں مل دینا چاہئے ۔"یوم قدس اسلامی دنیا کے منافق چہروں اور قدس و فلسطین کے وفادار مسلمانوں کی شناخت و پہچان کا دن ہے جو مسلمان ہیں قدس کی آزادی کے لئے عالم اسلام کے دوش بدوش مظاہروں میں شریک ہوکر فلسطینی جانبازوں کی حمایت کا یقین دلاتے ہیں اور منافقین صیہونی قوتوں کے ساتھ مل کر سازشیں رچتے اور اپنے زير اقتدار مسلمان ملتوں کو یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کی اجازت نہیں دیتے ۔" بیت المقدس " کئی ہزار سالہ قدیم شہر ہے جو مشرق و مغرب کو ملاتا ہے یہ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے اور اسی میں " مسجد الصخرا " واقع ہے جو ایک مقدس مقام ہے " قبۃ الصخراء" میں حضرت ابراہیم (ع) اپنے فرزند حضرت اسمعیل (ع) کے ساتھ آئے تھے اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اسی مقام سے معراج کی عظمت عطا کی گئی تھی ۔عالم اسلام فلسطین اور بیت المقدس پر صیہونیوں کے غاصبانہ تسلط کو مظلوم فلسطینیوں کے خلاف سامراجی جارحیت سمجھتا ہے اور قدس کی بازیابی کے لئے ملت فلسطین کا طرفدار ہے گزشتہ ساٹھ سال کے دوران صیہونیوں نے یہاں برطانیہ اور امریکہ کی سامراجی سازشوں کے تحت اپنے قدم جمائے اور ساحلی شہر " یافا " اور " حیفا " کے قریب تل ابیب کو آباد کیا اور بیت المقدس پر اپنے خونی پنجے گاڑنے شروع کردے اور اس وقت تقریبا" اسی فی صدی علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے ۔فلسطینیوں کے منصوبہ بند قتل عام ، گھروں اور کاشانوں پر فوجی یلغار ، قید وبند ، جلاوطنی اور مہاجرت کی مانند خوف و وحشت کی فضائیں ایجاد کرکے ایک ملت کو اس کے ابتدائی ترین انسانی حقوق سے محروم کردینا اسرائيل کا سب سے بڑا کارنامہ ہے !!یہودیوں کے اس شیطانی ظلم کا نشانہ صرف مسلمان ہی نہیں عیسائیوں کو بھی بننا پڑا ہے سنہ 47 کے پہلے حملے میں ہی ساٹھ ہزار عیسائیوں کو مہاجرت پر مجبور کیا گیا ۔یہی نہیں سنہ 1950 میں تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرکے صیہونیوں نے مغربی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت اعلان کرکے اقوام متحدہ کی قرارداد کا بھی کھلم کھلا مذاق اڑایا ہے ۔یہاں کی آبادی کے تناسب کو بدلا گیا ، فلسطینیوں کو جلاوطن کرکے یہاں کی سڑکوں اور گلیوں تک کے نام بدل دئے گئے حتی مشرقی بیت المقدس کو بھی یورش کا نشانہ بنایاگیا اگرچہ یہاں کے مسلمان مجاہدین ، تمام ظلم و بربریت کے باوجود دشمنوں کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں اور انتفاضہ تحریک بیت المقدس میں فلسطینی پہچان بنی ہوئی ہے ۔حزب اللہ سے 33 روزہ جنگ میں صیہونیوں کی شکست اور اسلامی مجاہدوں کی فتح و کامرانی نے فلسطینیوں کے بھی حوصلے بلند کردئے ہیں ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے بقول قدس کی غاصب حکومت نے فلسطینیوں کے خلاف اپنی شدت عمل میں اضافہ کردیا ہے اور ان کا یہ ردعمل ان کی اپنی درونی کمزوریوں اور پے در پے ناکامیوں کا نتیجہ ہے اپنا خودساختہ ہوّا جو انہوں نے جمارکھا تھا وہ اس کو برقرار نہیں رکھ سکے، عرب قوموں کے دلوں میں ان جو رعب تھا اب ختم ہوچکا ہے ۔"

 

Wednesday, 15 August 2012 10:08

عید گاہ مسجد كاشغر – چين

عید گاہ مسجد چین کے مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ کے شہر کاشغر میں واقع ایک مسجد ہے۔

یہ چین کی سب سے بڑی مسجد ہے جہاں ہر جمعہ کو 10 ہزار افراد جمع ہوتے ہیں جبکہ اس میں 20 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔

موجودہ مسجد 1442ء میں تعمیر ہوئی تاہم اس مسجد کی قدیم تعمیرات 8 ویں صدی سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیکن بعد میں اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا ۔

حکومت چین نے سن 2000 ءمیں عید گاہ مسجد کو وسعت دے کر دوبارہ تعمیر کیا تاکہ مسلمان آرام اور آزادی کے ساتھ اپنی عبادت کو انجام دے سکیں

مسجد 16 ہزار 800 مربع میٹر پر محیط ہے۔

یہ مسجد اسلامی معماری کا نمونہ ہے –

اسلامی جمہوریہ ایران نے میانمار کے آوارہ وطن مسلمانوں کے لیے پہلی نقد امداد ہندوستان کے شہر حیدرآباد میں ان آوارہ وطنوں کے نمائندے کے حوالے کر دی ہے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق حیدرآباد دکن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل نے اس چیک کو حوالے کرنے کی تقریب میں میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کو میانمار کے مسلمانوں کے خلاف انسانیت سوز جرائم کو روکنے کے لیے فوری اقدام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میانمار کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس ملک میں امن قائم کر کے مسلمانوں کے قتل عام اور ان پر ہونے والے ظلم و ستم کو روکے۔

 

 

صہیونی حکومت کے اعلی فوجی اور سیاسی حکام نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام اسرائیل کی تباہی پر منتج ہوگا اور اسی خوف کی بناء پرصہیونی حکومت کے سربراہ نے ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کی مخالفت کی ہے –

صہیونی حکومت کے ایک ٹی وی چینل نے آج اعلان کیا کہ "شیمون پریز" صہیونی پارلمنٹ کے بعض اراکین اور اعلی حکام پر مشتمل اس اتحاد کی سربراہی کررہا ہے جو کہ ایران کے ایٹمی تنصیبات پر حملے کے خلاف ہے –

اس ٹی وی رپورٹ کے مطابق پریز نے امریکی وزیر دفاع کے حالیہ دورہ تل ابیب میں بھی ایران کےخلاف فوجی اقدام کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر حملے کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے –

ادھر صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدام پر صہیونی کابینہ میں شدید اختلافات ہیں –

شائول موفاز صہیونی حکومت کے سابق وزیر جنگ نے بھی کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی اقدام اسرائیل کے مستقبل کو تباہ کردے گا -

 

 

ارشاد خداوندي ہوتا ہے:

(وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لاَتَعْبُدُونَ إِلاَّ الله وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا )

ترجمہ: اورجب ہم نے بني اسرائيل سے عہد ليا کہ خدا کے سوا کسي کي عبادت اور پرستش نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا-

تحليل آيت:

اس آيت شريفہ ميں اللہ تعا لي دو مطلب کي طرف پوري بشريت کي توجہ کو مبذول فرماتا ہے . توحيد عبادي ، يعني عبادت اور پرستش کا مستحق صرف خدا ہے، عبادت اور پرستش ميں کسي کو شريک قرار دنيا اس آيت کے مطابق شرک ہے کيونکہ خدا نے نفي اور اثبات کي شکل ميں فرمايا: لاتعبدون الا الله

يعني سوائے خدا کے کسي کي عبادت نہ کرنا کہ يہ جملہ حقيقت ميں تو حيد عبادي کو بيان کرنا چاہتا ہے اور علم کلام ميں توحيد کو چار قسموں ميں تقسيم کيا ہے:

1- تو حيد ذاتي کہ اس مطلب کو متعدد عقلي اور فلسفي دليلوں سے ثابت کيا گيا ہے-

2- توحيد صفاتي -

3- تو حيد افعالي-

4-تو حيد عبادي- توحيدعبادي سے مراد يہ ہے کہ صرف خدا کي عبادت کريں -کسي قسم کي عبادت ميں کسي کو شريک نہ ٹھر ائيں -

لہٰذا ريا جيسي روحي بيماري کو شريعت اسلام ميں شدت سے منع کيا گيا ہے اور شرک کو بد ترين گنا ہوں ميں سے قرارديا گيا ہے -

جيسا کہ خدانے صريحا آيت شريفہ ميں بيان کيا ہے کہ تمام گناہ توبہ کے ذريعہ معاف ہو سکتے ہيں الاالشرک مگر شرک کے کہ اس گناہ کو کبھي معاف نہيں کيا جاسکتا -

2- دوسرا مطلب جو خدا نے تو حيد عبادي کے ساتھ ذکر فرما يا ہے ''وباالوالدين احسانا'' کا جملہ ہے يعني ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کريں-

دنيا ميں ہر انسان فطري طور پر اس چيز کا معترف ہے کہ وہ خود بخود وجود ميں نہيں آياہے بلکہ کسي اور انسان کے ذريعہ عدم کي تاريکي سے نکل کر وجود کي نعمت سے مالا مال ہوا - لہٰذاانبياء الٰہي کي تعليمات اور تاريخي حقائق کے مطالعہ کر نے سے معلوم ہوتا ہے کہ پيدا ئش کے اعتبار سے پوري بشريت تين قسموں ميں تقسيم ہوتي ہے :

1- يا تو انسان کو والدين کے بغير خدا نے خلق کيا ہے يہ سنت کائنات ميں صرف حضرت آدم عليہ السلام اور حضرت حواء کے ساتھ مخصوص ہے ليکن حضرت آدم کے بعد خدا نے بشر کي خلقت ميں والدين کے وجود کو جز علت قراردياہے، يعني والدين کے بغير حضرت آدم(ع) اور حضرت حوا کے بعد کسي کو وجود نہيں بخشا ہے -

2-بشريت کي دوسري قسم کو صرف ماں کے ذريعے لباس وجود پہنايا ہے جيسے حضرت عيسي عليہ السلام کہ اس قصہ کو خدانے قرآن مجيد ميں مفصل بيان کيا ہے ، پيدائش کا يہ طريقہ بھي محدود ہے اورصرف حضرت عيسيٰ سے مخصوص ہے-

3- تيسري قسم وہ انسان ہے جسے اللہ نے والدين کے ذريعہ وجود ميں لايا ہے-

لہٰذا حضرت آدم عليہ السلام اور حضرت عيسيٰ عليہ السلام کے علاوہ باقي سارے انسان ماں باپ کے ذريعہ وجود ميں آئے ہيں اسي لئے والدين کے ساتھ نيکي کرنا اورحسن سلوک کے ساتھ پيش آنا ہر انسان کي فطري خواہش ہے، اگر چہ معاشرہ اور ديگر عوامل کي تاثيرات اس فطري چاہت کو زندہ اور مردہ رکھنے ميں حتمي کردار ادا کرتي ہيں-

پس اگر معاشرہ اسلامي تہذيب وتمدن کا آئينہ دار ہو تو يہ فطري خواہشات روز بروز زندہ اور مستحکم ہو جاتي ہيں، ليکن اگر کسي معاشرہ پر غير اسلامي تہذيب وتمدن کي حکمراني ہو تو فطري خواہشات مردہ ہو جاتي ہيں اور والدين کے ساتھ وہي سلوک روا رکھتے ہيں جو حيوانات کے ساتھ رکھتے ہيں-

لہٰذا دو ر حاضر ميں بہت ايسے واقعات ديکھنے ميں آتے ہيں کہ اکثر اولاد والدين کے ساتھ نہ صرف حسن سلوک نہيں رکھتے بلکہ بڑھاپے اور ضعيف العمري ميں بيمار ماں باپ کي احوال پرسي اور عيادت تک نہيں کرتے، حالانکہ اولاد اپنے وجود ميں والدين کي مرہون منت ہيں اور ان کي کاميابي پرورش اور تربيت ميں والدين کي زحمتوں اور جانفشانيوں کا عمل دخل ہے-

لہٰذا روايت ميں والدين سے طرز معاشرت کا سليقہ اور ان کي عظمت اس طرح بيان کيا گيا ہے کہ والدين کے ساتھ نيکي اور احسان يہ ہے کہ تم والدين کو کوئي بھي تکليف نہ پہنچنے ديں ،اگر تم سے کوئي چيز مانگے تو انکار نہ کريں، ان کي آواز پر اپني آواز کو بلند نہ کرے ان کے پيش قدم نہ ہو ان کي طرف تيز نگاہ سے نہ ديکھو اگر وہ تمھيں مارے تو جواب ميں کہو : ''خدايا ان کے گناہوں کو بخش دے اور اگر وہ تمھيں اذيت دے تو انہيں اف تک نہ کہو''-

رمضان المبارک کے آخري جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو ايران اور دنيا بھر کے مسلمان روزہ دار ايک بار پھر ساٹھ سال سے زيادہ عرصے سے جاري اسرائيلي کے مجرمانہ اقدامات کي مذمت اور فلسطين کے مظلوم عوام کي حمايت ميں اپني آواز بلند کریں گے- عالمي يوم القدس ايران اور دنيا بھر ايسے وقت ميں منايا جائے گا کہ جب امام خميني کي تحريک اور ايران کے اسلامي انقلاب سے پيدا ہونے والي اسلامي بيداري کي موجیں پورے عالم اسلام میں پھیل چکی ہں اور حريت پسندي اور فلسطين کے مظلوں لوگوں کي حمايت مسلمانوں کي تحريکوں کا مرکزي عنوان بن گيا ہے۔ اسرائيل مردہ بادہ کے نعرے آج ايسے وقت ميں پوري دنيا کے حريت پسندوں کے زبان پر گونج رہے ہيں کہ جب امام خميني (رح) کے جانشين آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے ايران کے بيدار اور غیور عوام کي بابصريت رہنمائي کے ذريعے، بيت المقدس کي رہائي اور اسرائيل کي نابودي کو بہت حدتک قريب کر ديا ہے- يہي وجہ ہے کہ یوم القدس کے مظاہروں ميں دنيا بھر کے حريت و آزادي کے متوالوں کي بھرپور شرکت جہاں امام خميني کي آواز پر ليبيک کہنا ہے وہيں آيت اللہ العظمي خامنہ اي کي دعوت پر بھي لبيک کہنا ہے جو شروع ہي سے مسئلہ فلسطين کو عالم اسلام کا اولين مسلہ قرار ديتے چلے آئے ہيں۔

آج فلسطین کی غیور ملت نے مزاحمت اور جہاد و شہادت کے جوہر عظیم کی شناخت کرکے عزت و سعادت کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ ارض فلسطین کی آزادی کیلئے ہزاروں قیمتی لوگ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں، ان میں عام لوگ بھی ہیں اور تحریک آزادی کے قائدین اور مجاہدین بھی۔ گذشتہ برسوں میں ڈکٹر فتحی شقاقی، شیخ احمد یٰسین، ڈاکٹر رنتیسی اور حماس و جہاد اسلامی کے قائدین کی عظیم قربانیوں نے شجاعت کی جو داستانیں رقم کی ہیں وہ مشعل راہ کا درجہ رکھتی ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے مقصد کے حصول کیلئے قربانیاں پیش کرنے اور جانوں پر کھیلنا سیکھ جاتی ہیں، انہیں زیادہ دیر تک غلام اور زیر نگیں نہیں رکھا جاسکتا۔ ویسے بھی ظلم و طاقت کے زور پر کب تک یہ تاریکی چھائی رہے گی۔ جوان اپنی جوانیاں لٹا کر اور مائیں اپنے بچوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس تاریکی کو صبح نو میں تبدیل کر کے چھوڑیں گی۔

ظلم کی یہ سیاہ رات جسے اسرائیل کی صورت میں برطانیہ و امریکہ نے دنیا پر مسلط کیا، ایک دن ختم ہو کر رہے گی۔ آج نہیں تو کل دنیا اس ناجائز صیہونی ریاست کے وجود سے پاک ہوگی اور وہ دن کتنا خوبصورت اور خوشگوار ہوگا جب دنیا کے نقشہ سے اسرائیل کا وجود مٹ جائے گا اور ہم سب مل کر ارض مقدس میں قبلہء اول کے اندر نماز ادا کریں گے اور دنیا میں امن و سلامتی کا راج ہوگا اور عالمی یوم القدس بھی قدس میں ہوگا جہاں شہیدوں کو یاد کرکے آزادی کے نغمے گنگنائے جائیں گے۔

ميانمار کے صوبے راخين کے روہنگيا مسلمانوں کے پناہگزين کيمپ ميں انساني الميہ رونما ہونے کا خدشہ پيدا ہوگيا ہے-

موصولہ خبروں کے مطابق اگرچہ ميانمار کي حکومت نے او آئي سي کو روہنگيا مسلمانوں کو انساني امداد پہنچانے کي اجازت دے دي ہے تاہم راخين کے مسلم پناہ گزين کيمپ ميں انساني الميہ کا خدشہ پيدا ہوگيا ہے-

پريس ٹي وي کے نمائندے کے مطابق پناہ گزين کيمپ ميں غذائي اشياء اور دواؤں کی شديد قلت ہے اور پچھلے چاليس روز کے دوران اٹھارہ افراد جانبحق ہوگئے جن ميں متعدد کمسن عمر بچے بھي شامل ہيں-

اس رپورٹ کے مطابق شمال مغربي ميانمار کے مسلم آبادي والے علاقوں ميں متعدد گاؤں جل کر خاکستر ہوچکے ہيں اور ان ميں رہنے والے ہزاروں لوگ کھلے آسمان تلے زندگي گزارنے پر مجبور ہيں-

مقامي لوگوں کا کہنا ہے کہ انتہا پسند بودھسٹوں کے حملے ميں مقامي سيکورٹي اہلکار برابر کے شريک تھے اور انہوں نے بودھسٹوں کو لوٹ مار اور آگ لگانے کي کھلي چھٹي دے رکھي تھي-

علاقے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے حمايت يافتہ بودھسٹ حملہ آوروں نے علاقے کی مسجد کو بھي نذر آتش کرديا ہے-

يہ ايسي حالت ميں ہے کہ راخين کا پناہگزين کيمپ سب سے اچھا تصور کيا جاتا ہے اور اسي ميانمار کي حکومت نے اس کے دورے کي اجازت بھي دے دي تھي-

دوسري جانب حکومت ميانمار نے اسلامي تعاون تنظيم اور ديگر امدادي اداروں کو مغربي علاقوں کے مسلمانوں کو امداد پہنچانے کي بھي اجازت دے دي ہے-

اسلامي تعاون تنظيم او آئي سي نے حکومت ميانمار سے اپيل کي تھي کہ وہ اسلامي ملکوں اور ديگر امدادي اداروں کو راخين صوبے کے بے گھر ہونے والے مسلمانوں کو امداد پہنچانے کي اجازت دے-

اسلامي تعاون تنظيم کے وفد نے ميانمار کے صدر سے بھي ملاقات کي ہے جس ميں روہنگيا مسلمانوں کو امداد پہنچانے کے طريقہ کار پر تبادلہ خيال کيا گيا-

ميانمار ميں ہونے والے مسلم کش فسادات ميں دوہزار سے زيادہ مسلمان جانبحق ہوئے تھے-

حکومت ميانمار کے حمايت يافتہ انتہا پسند بودھسٹوں نے مسلم آبادي والے علاقوں کو لوٹ مار کرنے کے بعد آگ لگادي تھي-

کہا جارہا ہے کہ مسلم کش فسادات کے دوران پانچ ہزار سے زيادہ گھروں کو نذر آتش کيا گيا ہے-

جسکے نتيجے ميں ہزاروں کي تعداد ميں مسلمان بے گھر ہوئے ہيں-

روہنگيا کہلائے جانے والے مسلمانوں کي تعداد آٹھ لاکھ کے قريب بتائي جاتي ہے اور انہيں ميانمار ميں سرکاري سطح پر سماجي اور معاشي ظلم و ستم کا سامنا ہے-

حکومت ميانمار روہگيا مسلمانوں کو اپنے ملک کا شہري تسليم نہيں کرتي حالانکہ اس ملک ميں مسلمان اس وقت سے آباد ہيں جب ميانمار ايک آزاد ملک بھي نہيں تھا-