Super User
رہبر معظم انقلاب اسلامی سے ترکمنستان کے صدر کی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ترکمنستان کے صدر سے ملاقات میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی کو دوستی اور تعاون پر استوار قرار دیاہے۔
رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے دونوں ممالک کےدرمیان تعاون کے فروغ کا خیر مقدم کرتے ہوئے فرمایا: دونوں ممالک کی وسیع ظرفیتوں نے باہمی تعاون کی راہ ہموار کردی ہے۔
رہبرمعظم انقلاب اسلامی نےترکمنستان کی پیشرفت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: دونوں ممالک مختلف مسائل میں مشترکہ مفادات منجملہ بحر کیسپئن میں باہمی تعاون کو زیادہ سے زیادہ فروغ دے سکتے ہیں۔
ترکمنستان کے صدر بردی محمد اف نے اس ملاقات میں ترکمنستان کی قوم کا گرم سلام پہنچاتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے لئے اپنی تمام کوششوں کو بروی کار لاؤں گا۔
ترکمنستان کے صدر نے تہران میں ناوابستہ تحریک کے سربراہی اجلاس کو بہت ہی اہم قراردیتے ہوئے کہا: بیشک رکن ممالک کی پیشرفت و ترقی میں اس اجلاس کے نتائج کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
مسجد الذہب – منيلا فلپائن
مسجد الذہب (سنہری مسجد) فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے مسلم اکثریتی ضلع کوئیاپو میں واقع ایک عظیم مسجد ہے۔ اس کو سنہری مسجد اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس پر سنہری رنگ کا ایک عظیم گنبد تعمیر ہے۔
فلپائن کی سابق خاتون اول امیلڈا مارکوس کی زیر نگرانی یہ مسجد 1976ء میں لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کے دورے کے لیے تعمیر کی گئی تھی تاہم لیبیائی صدر کا دورہ بعد ازاں منسوخ ہو گیا تھا۔
یہ منیلا کی مسلم برادری کے لیے مرکز کی حیثیت رکھتی ہے خصوصاً نماز جمعہ کے موقع پر مکمل طور پر نمازیوں سے بھر جاتی ہے۔
اس تاریخی مسجد کی عدم دیکھ بھال کے باعث مینار اور گنبد کے کام کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم اب اس پر تزئین و آرائش کا کام شروع کیا جا رہا ہے۔
نم اجلاس امریکہ کےمنہ پرزوردارطمانچہ
جرمن کے ایک اخـبار نے تہران میں ناوابستہ تحریک کے 120 رکن ممالک کے کامیاب اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نم اجلاس میں رکن ممالک کے صدور ، وزراء اعظم اور وزراء خارجہ کی بڑے اور وسیع پیمانےپر شرکت امریکہ کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق جرمن اخبار فرانکنورٹ رونڈ شای نے تہران میں ناوابستہ تحریک کے 120 رکن ممالک کے کامیاب اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نم اجلاس میں رکن ممالک کے صدور ، وزراء اعظم اور وزراء خارجہ کی بڑے اور وسیع پیمانےپر شرکت امریکہ کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔۔
اخبار کے مطابق اب تک دنیا امریکی پروپیگنڈہ کے پیش نظر یہی تصور کرتی تھی کہ ایران الگ تھلگ ہوگيا ہے لیکن تہران میں نم اجلاس میں ایران کیشاندار سفارتکاری نے پوری دنیا کو حیران کردیا ہے ناوابستہ ممالک کے بعض ارکان در حقیقت وابستہ تھے اور وہ امریکہ ، اسرائیل اور مغربی ممالک کے قریبی اتحادی تھے جو اپنے آپ کو اس اجلاس سے دور رکھ سکتے تھے لیکن قطر ،عمان اور سنی عرب ممالک نے اس اجلاس میں وسیع پمیانے پر شرکت کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ علاقہ میں تبدیلی رونماہورہی ہے اور امریکی اتحادی ممالک امریکہ سے دور ہونے کی کوشش کررہے ہیں اخبار کے مطابق تہران اجلاس میں اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اور 120 رکن ممالک کی وسیع پیمانےپرشرکت درحقیقت امریکہ کے منہ پر زوردارطمانچہ ہے اور علاقائي ممالک امریکی سرپرستی سے تنگ اچکے ہیں اور وہ اب وہ امریکہ کے پیچھے چلنے سے قاصر ہیں۔ اخبار کے مطابق مصر جو امریکہ اور اسرائیل کا بہت ہی قریبی اتحادی تھاوہ اب امریکہ کے تسلط سے خارج ہوکر ایران کے قریب ہورہا ہے جس کی وجہ سے علاقہ میں امریکہ کی طاقت کمزور اور ضعیف ہوجائے گی۔
ناوابستہ تحريک کے سولہويں سربراہي اجلاس کا بيان
تہران ميں منعقدہ ناوابستہ تحريک کے سولہويں سربراہي اجلاس کا بيان جمعہ کي رات اجلاس کے اختتامي سيشن ميں جاري کيا گيا -
يہ بيان گيارہ فصلوں پر مشتمل ہے جس ميں مختلف مسائل منجملہ دنيا کے سياسي و اقتصادي مسائل ، مسئلہ فلسطين ، پرامن مقاصد کے لئے ايٹمي توانائي سے استفادے کے حق اور دنيا ميں پائيدار امن کے قيام جيسے موضوعات اور مسائل کا احاطہ کيا گيا ہے اس بيان کو اجلاس ميں شريک سبھي ملکوں کي متفقہ طور پر منظوري حاصل ہے -
اس بيان ميں اسي طرح تمام ملکوں کي مشارکت سے عالمي انتظام چلانے کے لئے موثر، شفاف ، جامع اور منصفانہ نظام کي تشکيل پر زورديا گيا ہے جو سبھي ملکوں کے مفادات کو شامل ہو - بيان ميں کہا گيا ہے کہ سرزمين فلسطين پر قبضہ اور صہيوني حکومت کي مسلسل جارحيت و جرائم مشرق وسطي کے علاقے ميں بحراني صورتحال کا اصل سبب ہے اور اس بحران کے حل کے لئے ضروري ہے کہ سرزمين فلسطين پر غاصبانہ قبضہ ختم ہو، فلسطيني عوام کے مسلمہ حقوق کي بحالي اور ايک آزاد فلسطيني مملکت کا قيام عمل ميں آئے جس کادارالحکومت بيت المقدس ہو
ناوابستہ تحريک کے سولہويں سربراہي اجلاس کے بيان ميں زور دے کر کہا گيا ہے کہ انساني حقوق کے مسائل تعميري تعاون و طرز فکر،منصفانہ،غيرجانبدارانہ ،متوازن واضح اور ہر طرح کے سياسي عمل دخل سے دور ہونے جيسے اصولوں پر استوار ہونے چاہئيں –
اس بيان ميں ايٹمي ہتھياروں کو انسانيت کے لئے بہت ہي بڑا خطرہ قرارديا گيا اور کہا گيا ہے کہ جن ملکوں کے پاس ايٹمي ہتھيارموجود ہيں انہيں چاہئے کہ وہ اين پي ٹي کے معاہدے کے تحت اپنے وعدے پر عمل کرتے ہوئےان کو ايک معين نظام الاوقات کے تحت نابود کرديں –
تہران ميں ناوابستہ تحريک کے سولہويں سربراہي اجلاس کے بيان کےمطابق دنيا کے سبھي ملکوں کو پرامن ايٹمي ٹکنالوجي کے استعمال کے حق سے استفادے کا موقع ملنا چاہئے جس ميں کسي بھي طرح کي تفريق و امتياز نہ ہو –
اس بيان ميں اسي طرح پرامن مقاصد کے لئے ايٹمي ٹکنالوجي سے اسلامي جمہوريہ ايران کے استفادے کے حق کي بھي حمايت کي گئي ہے -
بيان ميں کہا گيا ہے کہ اس سلسلے ميں ايران کے حق کا احترام کيا جانا چاہئے - ساتھ ہي بيان ميں زور دے کر کہا گيا ہے کہ پرامن ايٹمي سرگرميوں کو بھي تحفظ حاصل ہونا چاہئے اور پرامن ايٹمي تنصيبات يا زير تعمير ايٹمي تنصيبات پر کسي بھي طرح کا حملہ يا دھمکي انسانوں اور ماحوليات کے لئے ايک خطرہ اور بين الاقوامي قوانين اور اقوام متحدہ کے اصول و منشور و اہداف نيز آئي اے اي اے کے قوانين کي کھلي خلاف ورزي ہے –
ناوابستہ تحريک کے رکن ملکوں نے اس بات پر بھي اتفاق کيا ہے کہ کسي بھي ملک کے يکطرفہ اور سرحدوں سےماوراء جبري قانون يا فوجي اقدامات کي حمايت اور ان کي منظوري سے کہ جس کے نتيجے ميں دوسرے ملکوں کو دھونس ودھونس کا نشانہ بنايا جاتا ہو يا يکطرفہ پابندياں عائد ہوتي ہوں يا پھر اس طرح کے اقدامات سے دوسرے ملکوں کے اقتدار اعلي کو نقصان پہنچتا ہو اور تجارت و سرمايہ کاري پر ضرب لگتي ہو، مکمل طور پر اجتناب اور اس طرح کے اقدامات کي حمايت نہيں کريں گے –
تہران ميں ناوابستہ تحريک کے سربراہي اجلاس کے بيان ميں کہاگيا ہے کہ ہر طرح کے دہشت گردانہ اقدامات منجملہ رياستي دہشت گردي کي بلاجھجھک مذمت کي جائے گي اور انسانيت سوز دہشت گردانہ کاروائيوں ميں مارے گئے سبھي افراد منجملہ ايران کے ايٹمي سائنسدانوں اور ان کے اہل خانہ کے لئے گہري ہمدردي کا اظہار کيا جانا چاہئے –
تہران اجلاس ميں ناوابستہ تحريک کے رکن ملکوں کے سربراہوں نے زور دے کر کہا کہ رکن ممالک اجلاس ميں کئے گئے فيصلوں پر عمل درآمد کے لئے اپنے تمام وسائل و ذرائع بروئے کار لائيں گے اور اسي بنياد پر ناوابستہ تحريک اپنے اہداف اور منشور کو عملي جامہ پہنانے ميں کا مياب ہوسکے گي –
واضح رہے کہ ناوابستہ تحريک کا سولہواں سربراہي اجلاس جمعرات کو قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي خامنہ اي کے خطاب سے شروع ہوا جو جمعہ کي رات بيان جاري کرکے ختم ہوگيا
ناوابستہ تحريک کے سولہويں سربراہي اجلاس کا اختتامي سيشن
ناوابستہ تحريک، عالمي نظام ميں اصلاح ،خودسرانہ اقدامات اور توسيع پسندي کي مخالف ہے -
صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے جمعے کي رات ناوابستہ تحريک کے سولہويں سربراہي اجلاس کے اختتامي سيشن سے خطاب ميں کہا کہ تحريک کے تمام اراکين عالمي نظام ميں اصلاح چاہتے ہيں –
انہوں نے کہا کہ تحريک کے تمام اراکين انساني کرامت، انسانوں کے حقوق ،خدائي اور انساني اقدار ، عدل و انصاف ، پاکيزگي اور دوستي کے تحفظ پر زور ديتے ہيں-
صدر مملکت نے کہا کہ تحريک کے تمام اراکين دوستي وبرادري کے فروغ اور اخلاقي اصولوں کي پابندي نيز خودپرستي ، خودسري اور توسيع پسندي کے مقابلے کي ضرورت پر تاکيد کرتے ہيں-
ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ تحريک کے رکن تمام اراکين اسي طرح جنگ و تشدد کي حوصلہ افزائي سے پرہيز اور عدل و انصاف نيز دوستي کي اساس پر گفتگو کے ذريعے بين الاقوامي مسائل و مشکلات حل کئے جانے پر زور ديتے ہيں - انہوں نے کہا کہ تمام اراکين تحريک کے اہداف کي تکميل پر تاکيد کرتے ہيں - صدر مملکت نے کہا کہ تمام اراکين تحريک کي پوزيشن مضبوط کئے جانے نيز اراکين کي توانائي ميں اضافے اور بين الاقوامي امور و معاملات ميں سب کي مشارکت کے اسباب فراہم کئے جانے کے خواہشمند ہيں-
ناوابستہ تحریک کے سولہویں سربراہی اجلاس سے رہبر معظم انقلاب کا خطاب
رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی موجودگی میں ناوابستہ تحریک کے سربراہی اجلاس کا تہران میں آغاز ہوگیاہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پانچ براعظموں کے 120 ممالک کے سربراہان اور اعلی حکام کے ساتھ خطاب میں دنیا کے موجودہ حساس شرائط ، دنیا کا ایک بہت ہی اہم تاریخی مرحلے سے عبور، تسلط پسند یک طرفہ نظام کے مقابلے میں کئی نظاموں کے ظہور کی علامتیں ، مستقل ممالک کے پاس نوید بخش مواقع کی تشریح، ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے بنیادی اصول اور اسی طرح عالمی نظام کے غیر جمہوری طرز عمل ،غلط محاسبہ، غیر منصفانہ و منسوخ اور معیوب روش سے عالمی سطح پر عوام بالخصوص عرب قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ناوابستہ تحریک کو نئے عالمی نظام کی تشکیل میں اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے اور تحریک کے رکن ممالک اپنے وسیع وسائل اور ظرفیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے دنیاکو تسلط پسندی ، جنگ اور بحران سے نجات دلانے کے لئے تاریخی اور یادگار نقش ایفا کرسکتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ناوابستہ تحریک کی تشکیل اور اسکےبانیوں میں سے ایک کے بیان ، جس میں ناوابستہ تحریک کی تشکیل کوجغرافیائی، نسلی اور مذہبی بنیادوں قرار نہ دینے بلکہ اس کی تشکیل کواتحاد اور نیاز پر قراردیتے ہوئے فرمایا: آج بھی تسلط پسند وسائل کی پیشرفت اور فروغ کے باوجود یہ نیاز اور ضرورت اپنی جگہ پر اسی طرح باقی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی تعلیمات کا انسانوں کی فطرت کو نسلی اور زبانی ناہمواری کےباوجود یکساں قراردینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس تابناک حقیقت میں اتنی ظرفیت موجودہے جو ایسے آزاد، سرافراز اور مستقل نظام کو تشکیل دے سکتا ہے جو پیشرفت اور انصاف پر استوار ہو اوریہ ادارہ مختلف قوموں کے درمیان برادرانہ تعاون کا شاندار ادارہ ہے۔
رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے ایسے ادارے کی بنیاد پر حکومتوں کے درمیان مشترکہ ، سالم اور انسانی مفادات کو فروغ دینےپر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: یہ اصولی ادارہ، تسلط پسند نظام کے مد مقابل ہے جو حالیہ صدیوں میں مغربی تسلط پسند طاقتوں اور آج امریکہ کی تسلط پسند اور منہ زور طاقت تسلط پسند نظام کی مبلغ اور مروج اور اس کے ہر اول دستے میں شامل ہے۔
رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے چھ دہائیاں گزرنے کے بعد ناوابستہ تحریک کے مقاصد زندہ اورقائم رہنے و ان مقاصد تک پہنچنے کو امید افزا اور مسرت بخش قراردیتے ہوئے فرمایا: دنیا آج سرد جنگ کی پالیسیوں کی شکست کے تاریخی تجربہ سے عبرت حاصل کرنے اور اس کے بعد یکجانبہ رجحان کی پالیسی سے عبور کرنے کے ساتھ قوموں کے مساوی حقوق اورہمہ گیر شراکت کی بنیاد پر نئے بین الاقوامی نظام کی تشکیل کی جانب بڑھ رہی ہے اورایسے شرائط میں ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور یکجہتی بہت ہی لازمی اور ضروری ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نےمشترکہ مقاصد کے دائرے میں ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کےدرمیان باہمی یکجہتی کو بہت بڑی کامیابی قراردیتے ہوئے فرمایا: اس بات پر بہت خوشی ہے کہ عالمی سطح پر مشترکہ نظام نوید بخش اور حوصلہ افزا ہے۔
رہبرمعظم سے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کی ملاقات
رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج بروز بدھ سہ پہر کواقوام کے سکریٹری جنرل بان کی مون اور اس کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں ماضی میں ایرانی ثقافت و تمدن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ثقافتی و تمدنی مسائل میں ایرانی قوم کے برتر اور اہم مقام کے پیش نظر، اسلام پر مبنی انسانی تمدن و ثقافت کے فروغ کے لئےاسلامی جمہوریہ ایران میں اچھی راہ ہموار ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے معاملے کو عالم بشریت کا مشترکہ مسئلہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطی کے مؤقف پر قائم ہےاوراقوام متحدہ کو ایٹمی ہتھیاروں کےخاتمہ کےسلسلے میں اپنا فعال اور سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ اور بعض دیگر طاقتوں کی جانب سے اسرائیل کو ایٹمی ہتھیار فراہم کرنے کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا: یہ مسئلہ علاقہ کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے اور اقوام متحدہ سے توقع ہے کہ وہ اس سلسلے میں مناسب اقدام انجام دے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اقوام متحدہ کی معیوب ترکیب پر سخت افسوس ہے اورایٹمی ہتھیار رکھنے اور ایٹمی ہتھیاروں سے استفادہ کرنے والی منہ زور طاقتیں اس وقت سکیورٹی کونسل پر مسلط ہوگئی ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شام کے معاملے کو حل کرنےکےسلسلے میں ایران کے تعاون کے بارے میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: شام کا مسئلہ بہت تلخ مسئلہ ہے اورشام کے بےگناہ عوام کوقربان کیا جارہا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران، اسلامی اور دینی تعلیمات کی بنیاد پر شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کے لئے آمادہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے ایک طبیعی اور قدرتی شرط یہ ہے کہ شام کے اندرغیر ذمہ دار گروہوں کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کردی جائے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شامی حکومت کے مخالف گروہوں کے لئے ہتھیاروں کی بیشمار ترسیل کو شام کےبحران کی اصلی وجہ قراردیتے ہوئے فرمایا: شامی حکومت کے پاس ہتھیاروں کی موجودگی قدرتی امر ہے کیونکہ دوسری حکومتوں کی طرح شامی حکومت کےپاس بھی فوج ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: شام کے بارےمیں تلخ حقیقت یہ ہے کہ بعض حکومتوں نے شام میں مسلح گروہوں کو اپنی نیابت میں شامی حکومت کے خلاف جنگ میں دھکیل دیا ہے اور یہ نیابتی جنگ شام کے بحران کی آج ایک حقیقت ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: یہی حکومتیں جنھوں نے شام میں نیابتی جنگ چھیڑ رکھی ہے وہی کوفی عنان کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانےمیں رکاوٹ بنیں جس کیوجہ سے کوفی عنان کا منصوبہ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جب تک شام میں بعض حکومتوں کی طرف سے یہ خطرناک منصوبہ جاری رہےگا تب تک شام کی صورتحال میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران کےایٹمی معاملے کے بارےمیں اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکیوں کو مکمل اطلاع ہے کہ ایران، ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے وہ صرف بہانے کی تلاش میں ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ ایران کےوسیع تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی اپنے قوانین کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کو علمی اور فنی تعاون فراہم کرنے کی پابند ہے لیکن بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے نہ صرف تعاون فراہم نہیں کیا بلکہ کام میں مسلسل خلل بھی پیدا کررہی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک کی جانب سے انٹرنیٹی اور فنی تخریب کاریوں منجملہ اسٹاکس نیٹ حملہ کے اعتراف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے اس سلسلے میں کیوں ٹھوس مؤقف اختیارنہیں کیا؟
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےامریکہ کے اعلی حکام کی جانب سے ایران کو ایٹمی دھمکیاں دینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: توقع یہ تھی کہ اقوام متحدہ ان دھمکیوں کا واضح جواب دیتی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی ہتھیاروں کی ساخت اور ان کے استعمال کی ممنوعیت کے بارےمیں ایک بارپھرایران کے مؤقف کو واضح کرتےہوئے فرمایا: یہ مؤقف دینی اعتقادات پر مبنی ہے امریکہ اور مغربی ممالک کی خوشآمد کےلئے نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو نیک نیتی پر مبنی نصیحت کرتےہوئے فرمایا: دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے سلسلے میں کسی بھی طاقت کا لحاظ نہ رکھیں اور آپ کو اس وقت جو موقع ملا ہے اس سے صحیح اور درست استفادہ کریں۔
اس ملاقات میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے ناوابستہ ممالک پر ایران کی صدارت کے سلسلے میں مبارک باد پیش کی اور علاقہ میں ایران کے اہم اور مؤثر کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے عنوان سے میں شام کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے اثر و رسوخ اور طاقت کو استعمال کرکے شام کے بحران کو حل کرنے کی راہ ہموار کرے۔
بان کی مون نے کہا : ہمارا اس بات پر اعتقاد ہے کہ شامی حکومت اور اس کے مخالف گروہ کو ہتھیاروں کی ترسیل بندکی جائے۔
اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل نے ایران کے ایٹمی معاملے کے سلسلے میں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی اور گروپ 1+5 کے ساتھ تعاون پر زوردیا۔
رہبرمعظم سے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کی ملاقات
رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج بروز بدھ سہ پہر کواقوام کے سکریٹری جنرل بان کی مون اور اس کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں ماضی میں ایرانی ثقافت و تمدن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ثقافتی و تمدنی مسائل میں ایرانی قوم کے برتر اور اہم مقام کے پیش نظر، اسلام پر مبنی انسانی تمدن و ثقافت کے فروغ کے لئےاسلامی جمہوریہ ایران میں اچھی راہ ہموار ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے معاملے کو عالم بشریت کا مشترکہ مسئلہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطی کے مؤقف پر قائم ہےاوراقوام متحدہ کو ایٹمی ہتھیاروں کےخاتمہ کےسلسلے میں اپنا فعال اور سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ اور بعض دیگر طاقتوں کی جانب سے اسرائیل کو ایٹمی ہتھیار فراہم کرنے کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا: یہ مسئلہ علاقہ کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے اور اقوام متحدہ سے توقع ہے کہ وہ اس سلسلے میں مناسب اقدام انجام دے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اقوام متحدہ کی معیوب ترکیب پر سخت افسوس ہے اورایٹمی ہتھیار رکھنے اور ایٹمی ہتھیاروں سے استفادہ کرنے والی منہ زور طاقتیں اس وقت سکیورٹی کونسل پر مسلط ہوگئی ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شام کے معاملے کو حل کرنےکےسلسلے میں ایران کے تعاون کے بارے میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: شام کا مسئلہ بہت تلخ مسئلہ ہے اورشام کے بےگناہ عوام کوقربان کیا جارہا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران، اسلامی اور دینی تعلیمات کی بنیاد پر شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کے لئے آمادہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے ایک طبیعی اور قدرتی شرط یہ ہے کہ شام کے اندرغیر ذمہ دار گروہوں کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کردی جائے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شامی حکومت کے مخالف گروہوں کے لئے ہتھیاروں کی بیشمار ترسیل کو شام کےبحران کی اصلی وجہ قراردیتے ہوئے فرمایا: شامی حکومت کے پاس ہتھیاروں کی موجودگی قدرتی امر ہے کیونکہ دوسری حکومتوں کی طرح شامی حکومت کےپاس بھی فوج ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: شام کے بارےمیں تلخ حقیقت یہ ہے کہ بعض حکومتوں نے شام میں مسلح گروہوں کو اپنی نیابت میں شامی حکومت کے خلاف جنگ میں دھکیل دیا ہے اور یہ نیابتی جنگ شام کے بحران کی آج ایک حقیقت ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: یہی حکومتیں جنھوں نے شام میں نیابتی جنگ چھیڑ رکھی ہے وہی کوفی عنان کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانےمیں رکاوٹ بنیں جس کیوجہ سے کوفی عنان کا منصوبہ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جب تک شام میں بعض حکومتوں کی طرف سے یہ خطرناک منصوبہ جاری رہےگا تب تک شام کی صورتحال میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران کےایٹمی معاملے کے بارےمیں اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکیوں کو مکمل اطلاع ہے کہ ایران، ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے وہ صرف بہانے کی تلاش میں ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ ایران کےوسیع تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی اپنے قوانین کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کو علمی اور فنی تعاون فراہم کرنے کی پابند ہے لیکن بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے نہ صرف تعاون فراہم نہیں کیا بلکہ کام میں مسلسل خلل بھی پیدا کررہی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک کی جانب سے انٹرنیٹی اور فنی تخریب کاریوں منجملہ اسٹاکس نیٹ حملہ کے اعتراف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے اس سلسلے میں کیوں ٹھوس مؤقف اختیارنہیں کیا؟
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےامریکہ کے اعلی حکام کی جانب سے ایران کو ایٹمی دھمکیاں دینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: توقع یہ تھی کہ اقوام متحدہ ان دھمکیوں کا واضح جواب دیتی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی ہتھیاروں کی ساخت اور ان کے استعمال کی ممنوعیت کے بارےمیں ایک بارپھرایران کے مؤقف کو واضح کرتےہوئے فرمایا: یہ مؤقف دینی اعتقادات پر مبنی ہے امریکہ اور مغربی ممالک کی خوشآمد کےلئے نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو نیک نیتی پر مبنی نصیحت کرتےہوئے فرمایا: دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے سلسلے میں کسی بھی طاقت کا لحاظ نہ رکھیں اور آپ کو اس وقت جو موقع ملا ہے اس سے صحیح اور درست استفادہ کریں۔
اس ملاقات میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے ناوابستہ ممالک پر ایران کی صدارت کے سلسلے میں مبارک باد پیش کی اور علاقہ میں ایران کے اہم اور مؤثر کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے عنوان سے میں شام کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے اثر و رسوخ اور طاقت کو استعمال کرکے شام کے بحران کو حل کرنے کی راہ ہموار کرے۔
بان کی مون نے کہا : ہمارا اس بات پر اعتقاد ہے کہ شامی حکومت اور اس کے مخالف گروہ کو ہتھیاروں کی ترسیل بندکی جائے۔
اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل نے ایران کے ایٹمی معاملے کے سلسلے میں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی اور گروپ 1+5 کے ساتھ تعاون پر زوردیا۔
رہبر معظم کی پاکستان کے آصف زرداری سے ملاقات
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات میں دہشت گردی کو علاقائی قوموں پر مسلط کردہ مغربی ممالک کی گہری سازش قراردیتے ہوئے فرمایا: امریکہ اور مغربی ممالک جہاں پاؤں رکھتے ہیں وہاں وہ بحران، بدامنی ،شر اور فساد لیکرجاتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دہشت کا مقابلہ کرنےکے لئے ناوابستہ تحریک کی ظرفیت سے استفادہ کو ضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا: ہمیں تسلط پسند طاقتوں کی منہ زوری کا مقابلہ کرنے کے لئے ذمہ داری کا احساس اور ان کے خلاف قیام کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پاکستان کی مؤمن ، مسلمان اور باثقافت قوم کے بارے میں ایرانی قوم کی مثبت نگاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: میں اللہ تعالی کی مدد سے پاکستان پر مسلط کردہ مشکلات کے خاتمہ کا امیدوار ہوں۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی دونوں قوموں کے باہمی روابط کو عمیق اور برادرانہ قرار دیا اور باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے اسلام آباد کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اتحاد و یکجہتی اور استقامت کے بارے میں آپ کے حکیمانہ خیالات اور نظریات کی ہم مکمل حمایت کرتے ہیں۔
پاکستان کے صدر نے ناوابستہ تحریک کے اجلاس کو کامیاب اور مؤفق منعقدکرنے پر ایران کی تعریف کرتے ہوئے کہا: اس اجلاس نے دنیا پر واضح کردیا ہے کہ اپنی مشکلات کو کس طرح حل کرنا چاہیے۔
رہبر معظم سے ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج بروز بدھ ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ اور اس کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں ماضی میں ایران اور ہندوستان کی دو قوموں کے درمیان تاریخی ،ثقافتی،تمدنی عاطفی ارتباطات کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا: ایرانی قوم نے ہندوستان کو ہمیشہ مثبت نگاہ سے دیکھا ہےاور یہ تمام موارد باہمی روابط کو فروغ دینے کےلئے بہت ہی مناسب ہیں ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علمی اور اقتصادی سطح پر ہندوستان کی ترقی و پیشرفت کو بہت ہی خوب اوراہم قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم نے انقلاب اسلامی کی کامیابی بالخصوص حالیہ برسوں میں علمی، اقتصادی اور اجتماعی شعبوں میں نمایاں کام انجام دیئے ہیں جن کی گذشتہ کئی صدیوں میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔
رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے ہندوستان اور ایران کے درمیان باہمی روابط کو فروغ دینے کے سلسلے میں تمام راہوں کو ہموار قراردیتے ہوئے فرمایا: دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون بالخصوص تجارتی اور بنیادی شعبوں میں تعاون اطمینان بخش ثابت ہوسکتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بین الاقوامی شرکاء کو ناقابل اعتماد قراردیتے ہوئے فرمایا: امریکہ ایک ناقابل اعتماد شریک ہے جو صرف اسرائیل کی غاصب صہیونی حکومت کے لئے قابل اطمینان شریک ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقائی مسائل بالخصوص شام اور افغانستان کے مسئلہ میں ایران اور ہندوستان کو ہم خیال قراردیتےہوئے فرمایا: دونوں ممالک علاقائی مسائل میں باہمی تعاون کوفروغ دے سکتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ہندوستان کے استقلال، ثبات اور اقتدار کو ایران کے لئے اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: ناوابستہ تحریک پر اپنی تین سالہ صدارتی مدت میں ایران ،ہندوستان کے تعاون سے علاقائی اوربین الاقوامی مسائل میں اس تحریک کے نقش کو فعال اور مؤثر بناسکتے ہیں۔
اس ملاقات میں صدر احمدی نژاد بھی موجود تھے ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے ساتھ ملاقات پر بہت ہی خوشی و مسرت کا اظہار کیا اور ہندوستان و ایران کی دو قوموں کے تاریخی ثقافتی اور تمدنی روابط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہندوستان ، اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تمام شعبوں بالخصوص انرجی اور بنیادی شعبوں میں باہمی روابط کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
ہندوستانی وزیر اعظم نے ایرانی صدر کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو بہت ہی مثبت قراردیتے ہوئے کہا: ان مذاکرات میں اہم امور پر اتفاق ہوا ہے جن سے دونوں ممالک کے باہمی روابط کو زیادہ سے زیادہ فروغ ملےگا۔
ہندوستانی وزیر اعظم نے علاقائی مسائل بالخصوص شام اور افغانستان کے مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہندوستان ، شام میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کے خلاف ہے اور شام کے بحران کا حل صرف شامی عوام کی نظر کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔
ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا: ناوابستہ تنظیم پر ایرانی صدارت کی تین سالہ مدت میں ہندوستان اس تنظیم کے نقش کوعلاقائی اور بین الاقوامی مسائل میں فعال اور مؤثر بنانے کے لئے ایران کا بھر پور تعاون کرےگا۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
