Super User

Super User

پاکستان کےصدر آصف علي زرداري اور وزيراعظم راجہ پرويز اشرف نے قوم کو عيد الفطر کي مبارکباد ديتے ہوئے کہا ہے کہ خوشي کے اس موقع پر ہميں اخوّت ومحبت، برداشت، صبروتحمل و رواداري کو فروغ ديتے ہوئے عيد الطفر کي خوشيوں ميں اپنے غريب عزيز و اقارب، پڑوسيوں، ضرورت مند اور نادار مسلمان بہن بھائيوں کو شامل کرنا چاہئے، فرقہ واريت اور تشدد اسلامي تعليمات کے منافي ہے، نفرت جيسے رجحانات پر قابو پائيں، ہميں يہ بھي ياد رکھنا چاہيے کہ فرقہ پرستي، تعصب پرستي اور دہشتگردي اسلامي تعليمات کے منافي ہيں صدر آصف علي زرداري نے اپنے مبارکبادي پيغام ميں کہاکہ کامرہ پر دہشت گرد حملہ صريحاً گمراہي اور اسلام کي روح کے منافي ہے، ہميں منفي سوچ کي حامل قوتوں کے پروپيگنڈے کا انسداد کرنا ہوگا وزيراعظم راجہ پرويز اشرف نے اپنے مبارکبادي پيغام ميں کہاکہ عيدالفطر ہميں بھائي چارے، ايثار اور صبروتحمل کا درس ديتي ہے اس موقع پر ہميں اتحاد، يکجہتي اور وطن عزيز کي سلامتي کا عہد کرناچاہيے

Tuesday, 21 August 2012 07:26

عید فطر کی نماز

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران سمیت دیگر اسلامی ملکوں میں عالمی یوم قدس کے عظیم مظاہرے فلسطین کی حمایت میں ایک نمایاں اور درخشان اقدام ہے ۔ حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے تہران میں عید فطر کی نماز کے خطبوں میں فرمایا کہ حضرت امام خمینی قدس سرہ نے ملت مظلوم فلسطین اور قدس شریف کی حمایت کے لئے یوم قدس معین فرمایا ہے اور ہرسال ایران اور دیگر اسلامی ملکوں میں ان مظاہروں کی شان وشوکت بڑھتی ہی جارہی ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے عالمی یوم قدس کے مظاہروں کو نہایت اہم قراردیا اور فرمایا کہ دشمن چاہتا ہےکہ عالمی یوم قدس فراموش کردیا جائے لیکن وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ امت مسلمہ ہرسال گذشتہ برس کی نسبت مزید شان و شوکت سے ان مظاہروں میں شرکت کرتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ قوموں نے یوم قدس کے موقع پر ملت مظلوم فلسطین اور مسئلہ فلسطین کی جو کہ عالم اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے حمایت کی ہے اور یہ صحیح و بروقت اقدام بے شک نہایت وسیع پیمانے پر اثر انداز ہوگا اور عالم اسلام میں اس کے اہم اثرات دیکھے جائيں گے۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ دیگر قوموں نے بھی گذشتہ برسوں کی نسبت اس سال یوم قدس کے موقع پر ملت ایران کی ہمراہی کی ہے لیکن بعض ملکوں میں سرنگوں شدہ حکومتوں کے باقی ماندہ عناصر اس بات کی کوشش کررہے تھے کہ عوام فلسطین کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار نہ کرپائيں لیکن قومیں میدان میں آگئيں اور یہ تحریک جاری رہے گي۔ ولی امر مسلمین نے فرمایا کہ عالم اسلام میں جو واقعات پیش آرہے ہیں وہ قوموں کی امنگوں کے مطابق ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ علاقائي قوموں نے کارہائے نمایان انجام دئے ہیں اور ان کی تحریکیں جاری رہنی چاہیں ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے ملت اسلام کے دشمنوں کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا کہ ان سازشوں کو نا کام بنانے کے لئے اسلامی حکومتوں اور قوموں پر سنگين ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ امریکہ صیہونی حکومت اور ان کے اتحادی اسلامی ا مۃ کے بنیادی دشمن ہیں۔ آپ نے تاکید فرمائي دشمن کو مسلمان قوموں کے ساتھ ہرگز ہمدردی نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ علاقے کو تباہ کرکے اپے اھداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ آپ نے شمال مغربی صوبے مشرقی آذربائجان کے زلزلہ زدہ عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس زلزلہ زدہ علاقے میں اب تک بہت سے مفید کام انجام دئے گئےہیں اور حکام کو زلزلے کے اثرات مٹانے کے لئے سنجیدگي سے کوششیں جاری رکھنی ہونگي ۔

دينداري كا دعويٰ كرنے والے بہت زيادہ ہيں ليكن وہ لوگ غير شرعي امور كي انجام دہي اور لوگوں كے حقوق پر زيادتي كركے اپنے اهداف تك پہونچنے ميں نہيں ہچكچاتے۔ چنانچہ ايسے ہي بعض افراد امام (ع) كو مشورہ ديتے تهے كہ اب تو اسلامي حكومت آپ كے ہاته ميں ہے لهذا اپنے مقاصد تك پہونچنے كے لئے كسي بهي راستہ كا انتخاب كرنے ميں كيا عيب ہے؟

 

دوسروں كے حقوق كو ادا كرنے كي ايك خاص اہميت ہے۔ اور مسلمانوں كي سماجي زندگي كے تمام حالات ميں اس كا ايك خاص مقام ہے۔حضرت علي عليہ السلام ان شخصيات ميں سے ہيں جنهوں نے اس مسئلہ كو خاص اہميت دي ہے اور مختلف حقوق كے سلسلہ ميں آپ كا خاص نظريہ ہے۔

علماء اسلام معتقد ہيں كہ اسلام ميں توحيد كے بعد حق و انصاف كے برابر كسي بهي مسئلہ كو اهميت نہيں دي گئي ہے۔ ويسے ہي جيسے مسئلہ توحيد مسلمانوں كے تمام ديني اور اخلاقي اعتقادات ميں بنيادي حيثيت ركهتا ہے۔ اس سلسلہ ميں حضرت علي عليہ السلام كے نظريات كا مرور ايك خاص اہميت ركهتا ہے۔

 

حق الناس

حضرت علي عليہ السلام لوگوں كے حقوق كي اہميت كے بارے ميں فرماتے ہيں: خدا گواہ ہے كہ ميرے لئے سعدان كي خاردار جهاڑي پر جاگ كر رات گذار لينا يا زنجيروں ميں قيد ہوكر كهينچا جانا اس امر سے زيادہ عزيز ہے كہ ميں روز قيامت پروردگار سے اس عالم ميں ملاقات كروں كہ كسي بندہ پر ظلم كرچكا ہوں، يا دنيا كے كسي معمولي مال كو غصب كيا ہو۔

دينداري كا دعويٰ كرنے والے بہت زيادہ ہيں ليكن وہ لوگ غير شرعي امور كي انجام دہي اور لوگوں كے حقوق پر زيادتي كركے اپنے اهداف تك پہونچنے ميں نہيں ہچكچاتے۔ چنانچہ ايسے ہي بعض افراد امام (ع) كو مشورہ ديتے تهے كہ اب تو اسلامي حكومت آپ كے ہاته ميں ہے لهذا اپنے مقاصد تك پہونچنے كے لئے كسي بهي راستہ كا انتخاب كرنے ميں كيا عيب ہے؟ ليكن امام (ع) ان كے جواب ميں فرماتے ہيں: خدا كي قسم جب تك ميري زندگي ہے اور شب و روز آرہے ہيں ستارے ايك بعد دوسرے طلوع و غروب كررہے ہيں۔ ميں ہرگز كوئي اس طرح كا كام انجام نہيں دوں گا۔

 

لوگوں كے حقوق كا احترام

حضرت علي عليہ السلام نے سن ۳۶ ه ميں اسلامي حكومت كي باگ ڈور اپنے ہاتهوں ميں سنبهالي۔ نہج البلاغہ ميں آيا ہے كہ آپ نے وجوہات شرعيہ كو جمع كرنے والے شخص سے لوگوں كے حقوق كا احترام كرنے كے سلسلہ ميں اس طرح سے فرمايا: اور خبردار نہ كسي مسلمان كو خوف زدہ كرنا اور نہ كسي كي زمين پر جبرا اپنا گذر كرنا۔ مال ميں سے حق خدا سے ذرہ برابر زيادہ مت لينا اور جب كسي قبيلہ پر وارد ہونا تو ان كے گهروں ميں گهسنے كے بجاۓ چشمہ اور كنويں پر وارد ہونا۔ اس كے بعد سكون و وقار كے ساته ان كي طرف جانا اور ان كے درميان كهڑے ہوكر سلام كرنا اور سلام كرنے ميں بخل سے كام نہ لينا۔ اور اس كے بعد ان سے كہنا بندگان خدا مجهے تمهاري طرف خدا كے ولي اور جانشين نے بهيجا ہے تاكہ ميں تمهارے اموال ميں سے خدا كا حق لے لوں تو كيا تمهارے اموال ميں كوئي حق اللہ ہے جسے ميرے حوالہ كرسكو؟ اگر كوئي شخص انكار كردے تو اس سے دوبارہ تكرار نہ كرنا اور اگر كوئي شخص اقرار كرے تو اس كے ساته اس انداز سے جانا كہ نہ كسي كو خوف زدہ كرنا، نہ دهمكي دينا۔ نہ سختي كا برتاؤ كرنا نہ بيجا دباؤ ڈالنا۔

 

دوستوں كے حقوق

بعض اوقات ايسا ہوتا ہے كہ دو دوست برسوں تك ايك ساته مهرباني اور صميميت كے ساته زندگي گذارتے ہيں اور مشكلات ميں ايك دوسرے كا ساته ديتے ہيں ليكن بعد ميں بعض چهوٹي باتوں كي وجہ سے ايك دوسرے سے ناراض ہوكر الگ ہوجاتے ہيں۔

اميرالمومنين عليہ السلام دو دوست كے درميان رابطہ برقرار كرنے كے سلسلہ ميں اپنے نوراني بيان ميں اپنے بيٹے امام حسن عليہ السلام سے فرماتے ہيں: اپنے نفس كو اپنے بهائي كے بارے ميں قطع تعلق كے مقابلہ ميں تعلقات، اعراض كے مقابلہ ميں مهرباني۔ بخل كے مقابلہ ميں عطا، دوري كے مقابلہ ميں قربت، شدت كے مقابلہ ميں نرمي اور جرم كے موقع پر معذرت كے لئے آمادہ كرو گويا كہ تم اس كے بندے ہو اور اس نے تم پر كوئي احسان كيا ہے۔

 

دوستي كےحدود اور حقوق كي رعايت

اميرالمومنين عليہ السلام نہج البلاغہ ميں فرماتے ہيں: خداوند متعال نے بندوں كے حقوق كو اپنے حقوق پر مقدم ركها ہے۔ لهذا اگر كوئي شخص بندگان خدا كے حقوق كو ادا كرنے كے لئے قيام كرے در واقع اس نے خدا كے حقوق كو ادا كيا ہے۔

اسي وجہ سے اميرالمومنين عليہ السلام نےدوستوں كے حقوق كي رعايت كرنے كے سلسلہ ميں امام حسن عليہ السلام كو سفارش كرنے كے بعد برادران ديني اور دوستوں كے درميان محبت كے حدود كو معين كرنے كے لئے بلا فاصلہ فرمايا ہے: كہيں ايسا نہ ہو كہ تم ان فرامين كي رعايت ايسے افراد كے ساته كرو جو ان كے مستحق نہيں ہيں اور دوستي اور عفو گذشت كو بے محل استعمال كرو۔

 

دوستي كے حقوق

اميرالمومنين عليہ السلام دوستي كے حقوق كے بارے ميں فرماتے ہيں:

دوست اس وقت تك دوست نہيں ہوسكتا ہے جب تك اپنے دوست كےتين مواقع پر كامنہ آۓ ۔

مصيبت كے موقع پر۔ اس كي غيبت ميں۔ اس كے مرنے كے بعد۔

 

ماں باپ كے حقوق

اميرالمومنين عليہ السلام نہج البلاغہ ميں فرماتے ہيں: فرزند كا باپ پر ايك حق ہوتا ہے اور باپ كا فرزند پر ايك حق ہوتا ہے۔ باپ كا حق يہ ہے كہ بيٹا ہر مسئلہ ميں اس كي اطاعت كرے معصيت پروردگار كے علاوہ۔ اور فرزند كا حق باپ پر يہ ہے كہ اس كا اچها نام تجويز كرے اور اسے بهترين ادب سكهاۓ۔اور قرآن مجيد كي تعليم دے۔

 

امام اور امت كے متقابل حقوق

اميرالمومنين عليہ السلام امام اور امت كے متقابل حقوق كے بارے ميں خطاب كرتے ہوۓ فرماتے ہيں: اے لوگوں' يقينا ايك حق ميرا تمهارے ذمہ ہے اور ايك حق تمهارا ميرے ذمہ ہے تمهارا حق ميرے ذمہ يہ ہے كہ ميں تمہيں نصيحت كروں اور بيت المال كا مال تمهارے حوالہ كردوں اور تمہيں تعليم دوں تاكہ جاہل نہ رہ جاؤاور ادب سكهاؤں تاكہ باعمل ہوجاؤ۔ اور ميرا حق تمهارے اوپر يہ ہے كہ بيعت كا حق ادا كرو اور حاضر و غائب ہر حال ميں خير خواہ رہو۔ جب پكاروں تو لبيك كہو اور جب حكم دوں تو اطاعت كرو۔

 

حق الناس كي عظمت

حق الناس كي اہميت و بزرگي كے لئے يہي كافي ہے كہ خداوندمتعال نے لوگوں كے حقوق كو اپنے حقوق پر مقدم ركها ہے جيسا كہ اميرالمومنين عليہ السلام نہه البلاغہ ميں فرماتے ہيں: خداوند متعال نے بندوں كے حقوق كو اپنے حقوق پر مقدم ركها ہے۔ لهذا اگر كوئي شخص بندگان خدا كے حقوق كو ادا كرنے كے لئے قيام كرے در واقع اس نے خدا كے حقوق كو ادا كيا ہے۔

 

پيغمبر ﷺكي نگاہ ميں حق اللہ كي عظمت

خداوندمتعال كا حق بندوں پر اس سے بڑه كر ہے كہ ادا كيا جاۓ۔ جيسا كہ پيغمبر اكرم (ص)نے فرمايا: خدا كا اس كے بندوں پر حق اس سے بڑه كر ہے كہ وہ اسے ادا كريں اور اس كي نعميتيں اس سے زيادہ ہيں كہ اس كے بندے انهيں شمار كرسكيں ليكن بندوں كو چاہيئے كہ صبح شام توبہ كريں اور اپنے پروردگار كي بارگاہ ميں رجوع كريں۔

 

قائد اور رعايا كے متقابل حقوق

حضرت اميرالمومنين عليہ قائد اور رعايا كے متقابل حقوق كے بارے ميں اس طرح فرماتے ہيں : ياد ركهو مجهپر تمهارا ايك حق يہ بهي ہے كہ جنگ كے علاوہ كسي موقع پر كسي راز كو چهپا كر نہ ركهوں اور حكم شريعت كے علاوہ كسي مسئلہ ميں تم سے مشورہ كرنے سے پہلو تہي نہ كروں۔ نہ تمهارے حق كو اس كي جگہ سے پيچهے ہٹاؤں اور نہ كسي معاملہ كو آخري حد تك پہونچاۓ بغير دم لوں اور تم سب ميرے نزديك حق كے معاملہ ميں برابر رہو۔ اس كے بعد جب ميں ان حقوق كو ادا كردوں گا تو تم پر اللہ كے لئے شكر اور ميري اطاعت واجب ہوجاۓ گي اور يہ لازم ہوگا كہ ميري دعوت سے پيچهے نہ ہٹو اور كسي اصلاح ميں كوتاہي نہ كرو حق تك پہونچنے كے لئے سختيوں ميں كود پڑوكہ تم ان معاملات ميں سيدهے نہ رہے تو ميري نظر ميں تم ميں سے ٹيڑهے ہوجانے والے سے زيادہ كوئي حقير ذليل نہ ہوگا اس كے بعد ميں اسے سخت سزا دوں گا اور ميرے پاس كوئي رعايت نہ پاۓ گا۔

 

لوگوں كے حقوق كي رعايت كے سلسلہ ميں امام علي عليہ السلام كي مالك اشتر كو نصيحت

مالك اشترامام علي عليہ السلام كے وفادار ساتهيوں ميں سے تهے آپ شجاع، مومن اور متقي انسان تهے امام علي عليہ السلام نے سن ۳۸ ه ميں جب مالك كو مصر كا حاكم بنا كر بهيجا تو آپ كو ايك نوشتہ لكه كر ديا جو نهج البلاغہ كے بہترين خطوط ميں سے ايك ہے اور "فرمان مالك" كے نام سے مشهور ہے۔ امام نے اس نامہ ميں وہ تمام باتيں تحرير كي ہيں جنهيں ايك اسلامي ملك كے حاكم كو جاننا چاہيے اور ملك كے كاموں كو اجرا كرنے ميں جن كي رعايت كرني چاہيئے۔ امام عليہ السلام فرماتے ہيں: تمهارے لئے پسنديدہ كام وہ ہونا چاہيئے جو حق كے اعتبار سے بهترين،انصاف كے اعتبار سے سب كو شامل اور رعايا كي مرضي سے سب اكثريت كے لئے پسنديدہ ہو كہ عام افراد كي ناراضگي خواص كي رضا مندي كو بهي بے اثر بنا ديتي ہےاور خاص لوگوں كي ناراضگي عام افراد كي رضا مندي كے ساته قابل معافي ہوجاتي ہے۔ رعايا ميں خواص سے زيادہ والي پر خوش حالي ميں بوجه بننے والا اور بلاؤں ميں كم سے كم مدد كرنے والا۔ انصاف كو ناپسند كرنے والا اور اصرار كے ساته مطالبہ كرنے والا، عطا كے موقع پر كم سے كم شكريہ ادا كرنے والا اور نہ دينے كے موقع پر بمشكل عذر قبول كرنے والا۔ زمانہ كے مصائب ميں كم سے كم صبر كرنے والا۔ كوئي نہيں ہے۔ دين كا ستون۔ مسلمانوں كي اجتماعي طاقت، دشمنوں كے مقابلہ ميں سامان دفاع عوام الناس ہي ہوتے ہيں لهذا تمهارا جهكاؤ انهيں كي طرف ہونا چاہيئے۔

 

قصاص ميں حق اور عدل كي رعايت كے بارے ميں امام (ع) كي وصيت

نہج البلاغہ ميں پڑهتے ہيں كہ امام علي عليہ السلام نے سن ۴۰ ه ميں ابن ملجم كي ضربت سے زخمي ہونے كے بعد امام حسن عليہ السلام اور امام حسين عليہ السلام بہت سي وصيتيں كي ہيں انهيں وصيتوں كے آخر ميں امام (ع) نے قصاص كے سلسلہ ميں امام حسن (ع) كو تاكيد كي ہے جو ياد گار كے طور پر آج بهي باقي ہے۔ اے اولاد عبدالمطلب خبردار ميں يہ نہ ديكهوں كہ تم مسلمانوں كا خون بہانہ شروع كردو صرف اس نعرہ پر كہ " اميرالمومنين مارے گئے ہيں"ميرے بدلہ ميں ميرے قاتل كے علاوہ كسي كو قتل نہيں كيا جاسكتا ہے۔

ديكهو اگر ميں اس ضربت سے جانبر نہ ہوسكا تو ايك ضربت كا جواب ايك ہي ضربت ہے اور ديكهو ميرے قاتل كے جسم كے ٹكڑے نہ كرنا كہ ميں نے خودسركار دوعالم سے سنا ہے كہ خبردار كاٹنے والے كتے كے بهي ہاتهپير نہ كاٹنا

 

حيوانات كے حقوق كي رعايت

حضرت علي عليہ السلام نے نہج البلاغہ كے ۲۵ مكتوب ميں حيوانات كے حقوق كي حمايت كرتے ہوۓ فرماتے ہيں: خبردار كسي جانور كو ڈرانا نہيں اور اسے آزار و اذيت نہ پہونچانا۔

استقلال مسجد انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں واقع ایک مسجد ہے۔

جسے جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

یہ مسجد 1975ء میں حکومت انڈونیشیا نے تعمیر کرائی تھی۔

اس مسجد میں بیک وقت 120،000 نمازی عبادت کر سکتے ہیں۔ مسجد کے مرکزی گنبد کا قطر 45 میٹر قطر ہے۔

نماز و عبادت کے علاوہ مسجد مختلف سماجی و ثقافتی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہے جس میں دروس، نمائشیں، مذاکرے، مباحثے اور عورتوں، نوجوانوں اور بچوں کے لیے مختلف نوعیت کے تقریبات شامل ہیں ۔

شوال کا پہلا دن عید سعید فطر ہے اور یہ دن عالم اسلام کی مشترک عید ہے ۔ مؤمنین رمضان مبارک کے گزرجانے اور اس مہینے میں عبادت وتقوی پرہیز گاری و تہذیب نفس کے ساتھ گزارنے پر خوشی اور اللہ سے ان نعمات کا شکریہ کرنے کیلۓ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے روابط قائم کرتے ہوۓ عید کی نماز پڑھتے ہیں-

 

حضور پاك حضرت محمد مصطفي صلي الله عليه و آله و سلم نے اس دن کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: اذا کان اول یوم من شوال نادی مناد : ایھا المؤمنون اغدو الی جوائزکم، ثم قال : یا جابر ! جوائز اللہ لیست کجوائز ھؤلاء الملوک ، ثم قال ھو یوم الجوائز ۔

یعنی جب شوال کا پہلا دن ہوتا ہے ، آسمانی منادی نداء دیتا ہے : اے مؤمنو! اپنے تحفوں کی طرف دوڑ پڑو ، اس کے بعد فرمایا: اے جابر ! خدا کا تحفہ بادشاھوں اور حاکموں کے تحفہ کے مانند نہیں ہے ۔ اس کے بعد فرمايا" شوال کا پہلا دن الھی تحفوں کا دن ہے ۔

 

اميرالمومنين امام علی ابن ابیطالب علیہ السلام نے عید فطر کے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا:

اے لوگو ! یہ دن وہ ہے جس میں نیک لوگ اپنا انعام حاصل کرتے ہیں اور برے لوگ ناامید اور مایوس ہوتے ہیں اور اس دن کی قیامت کے دن کے ساتھ کافی شباھت ہے اس لۓ گھر سے نکلتے وقت اس دن کو یاد جس دن قبروں سے نکال کرخدا کی کی بارگاہ میں حاضر کۓ جاؤ، نماز میں کھڑے ہونے کے وقت خدا کے سامنے کھڑے ہونے کو یاد کرو اور اپنے گھروں میں واپس آنے میں اس وقت کو یاد کرو جس وقت بہشت میں اپنی منزلوں کی طرف لوٹو گے۔ اے خدا کے بندو ! سب سے کم چیز جو روزہ دار مردوں اور خواتین کو رمضان المبارک کےآخری دن عطا کی جاتی ہے وہ یہ فرشتے کی بشارت ہے جو صدا دیتا ہے :

اے بندہ خدا مبارک ہو ! جان لے تمہارے پچھلے سارے گناہ معاف ہو گۓ ہیں اب اگلے دن کے بارے میں ہوشیار رہنا کہ کیسے گذارو گے ۔

 

امام انس بن مالک نے مومن کي عيد کو بہت خوبصورت پيرائے ميں بيان فرمايا ہے. فرماتے ہيں کہ “مومن کي پانچ عيديں ہيں”

(1) جس دن گناہ سے محفوظ رہے (2) جس دن دنيا سے اپنا ايمان سلامت لے جائے. (3) پل صراط سے سلامتي کے ساتھ گزر جائے- (4) دوزخ سے بچ کر جنت داخلہ مل جائے- (5) اپنے رب کي رضا کو پالے اور اسکے ديدار سے آنکھيں ٹھنڈي ہو جائيں وہ عيد کا دن ہے-

 

عيد الفطر رب کا شکر ادا کرنے کا دن ہے. اس سے رمضان کي مشقتوں کي قبوليت کي التجا کا دن ہے. کيا شان ہے اسلامي تہواروں کي. حقيقت تو يہ ہے کہ ميں اپنے تہواروں سے ہي پہچاني جاتي ہوں کوئي لہو لعب نہيں، کہيں حيا سوز نظارے نہيں، کہيں مخلوط مجالس اور رقص و سرور نہيں بلکہ خوشي کے اظہار کے لئيے ذکر ہے، تسبيح ہے اور تحليل ہے جو اسکي فکر کي بلند پروازي کا غماز ہے. يہ دنيا اسکا گھر نہيں اسلئے اسکو يہاں کے لہولعب سے بھي کوئي سروکار نہيں اور دنياپرستوں کي مصنوعي لذتوں ميں بندہ مومن کے لئے کوئي حقيقي لذت نہيں.

حقيقت يہي ہے کہ عيد کي خوشيوں ميں اس بد نصيب کا کيا حصہ جس پر رحمتوں کے ڈول کے ڈول انڈيلے جاتے رہے، مغفرت کے لئے پکارا جاتا رہا، ليکن اس نے توجہ ہي نہ کي، دنيا اور اسکي فکروں ميں ہي دل اسکا منہمک رہا- توبہ استغفار اور تراويح کي توفيق ہي نہ مل سکي کہ کاروبار دنيا اتنا پھيل چکا ہے. رمضان جيسا مہمان جو اپنے دامن ميں خزانے بھر کر لايا تھا پکارتا رہا خزانے لٹاتا رہا ليکن کتنے غافل ان خزانوں سے بھي حصہ نہ پا سکے!!! يقيناً عيد انکے لئے و عيد کا دن ہے اور وہ “مبارکباد ”‌ کے نہيں “تعزيت”‌ کے مستحق ہيں کيونکہ اس شخص کي ہلاکت اور محرومي ميں بھلا کسے شک ہو سکتا ہے جسکي ہلاکت کي دعا جبريل امين کريں اور رحمت العالمين اس بد دعا پر آميں کہيں. آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ”‌ جب ميں منبر پر خطبہ دينے چڑھنے لگا اور منبر کے پہلے زينے پر قدم رکھا تو جبريل امين نمودار ہوئے اور انھوں نے کہا “خدا اس شخص کو ہلاک کر ےد ے جس نے رمضان کا مہينہ پايا اور اپني بخشش نہ اور مغفرت کا سامان نہ کيا ”‌ اس پر ميں نے کہا ”‌ آمين.

۔ حوصلہ

سردار سرتيپ عبدالله عراقي :

عراق كي ايران كے ساته جنگ كے دوران حضرت ايۃ اللہ خامنہ اي نے شہيد ڈاكٹر مصطفي چمران كے ساته جنگ ميں بہت قريبي اور فعال كردار ادا كيا ۔ آيۃ اللہ موصوف ہتهيار لے كر رات ميں دشمن كي شناخت كے ليے نكل جاتے تهے، مجاهدان اسلام كي حمايت كرتے تهے اور انهيں حوصلہ ديتےتهے۔ سال 1988 كي جنگ كے آخر ميں جب ميدان جنگ كي صورتحال كچه بدل رہي تهي اور كچه لوگ اپنا حوصلہ كهو بيٹهے تهے اس وقت قائد انقلاب اسلامي كے صدر جمهوريہ ہونے كے باوجود، خود فوجي لباس زيب تن كر كے ، اور ايك جديد ٹكنك كے ساته ميدان جنگ ميں آ پہونچے ۔ موصوف كا جنگ ميں آنا فوجيوں كي حوصلہ افزايي كا بہت زيادہ باعث بنا ، يہاں تك كے انقلاب اسلامي كے فوجيوں نے جنگ كو منظم طريقےسے جاري ركهتے ہوے دشمنوں كا حملات كو ناكام بناكر جمهوري اسلامي ايران كو كامياب بنايا۔

 

۔خرّمشهر كي جنگ

حجت الاسلام والمسلمين ذوالنور :

ہم نے تقريباً چاليس دن خرمشهر ميں مضبوطي كے ساته مقابلہ كيا اور عراقيوں كو شهر ميں داخل نہ ہو نے ديا ، اس دوران قائد انقلاب اسلامي نے دشمنوں پر حملہ كرنے ميں ايك بے نظير بهادري اور دليري كا مظاهرہ كيا، عراقيوں كے ٹينكوں كو تباہ و برباد كر كے ان كي پيش قدمي كو ناكام بنايا۔ مقام معظم رهبري كبهي كبهي ۳يا ۵ نفرہ ٹكڑي كے ساته دشمن كي فوج كے بيچ تك چلے جاتے تهے اور دقيق اور ناب طريقہ سے انكي اطلاعات كو فراہم كر كے امام خميني ۔رہ۔ كے ليے لاتے تهے۔

 

۔ پہچان

سرداربرگيڈئر پاسدار علي فدوي :

جنگ كے ابتداي دنوں ميں جب ہم ملك كي خفيہ ايجنسي ميں كام كر رہے تهےاور ہمارا كام دشمن كي پہچان كرنا تها اور ان كے منصّبوں كا پتہ لگانا تها۔ ہم ايك دن ايك علاقہ ميں دشمن كي شناسايي كے ليے گيے ہوے تهے جہاں كچه عرصہ پہلے دشمن كا پڑاو تها ، اس جگہ ايك كنواں تها ، كنويں كو دونوں طرف گهنا جنگل تها ، جس طرف بهي ہم كهڑے ہوتے تهے دوسري طرف سے، گهنے درختوں كي بنا پر كويي بهي ہميں ديكه نہيں سكتا تها۔ ہم يہ سوچ رہے تهے كہ عراقي كنويں كے اس پار ہيں اور يہي سوچتے ہوے ہم پوري نگراني كے ساته آگے بڑه رہے تهے اچانك ہميں كچه لوگوں كے چلنے كي آواز سنايي دي ، ہم نے سوچا دشمن عراقي ہماري طرف آگے بڑه رہے ہيں۔ وہ بهي ہماري طرح يہي سوچ رہے تهے ، ہم پوري تياري اور حفاظت كے ساته كنويں كے اس پار دوڑ كر گيے ، اچانك ہمار نظر رهبر معظم انقلاب كے چہرے پر پڑي كہ وہ بهي حضرت امام خميني كي طرف سے نمايندگي كر رہے ہيں اور چند لوگوں كے ساته ہم سے پہلے ہي اس منطقہ كا جايزہ لے كر واپس لوٹ رہے ہيں

مقام معظم رهبري كا يہ كام ہمارے ليے بڑا حيران كن تها ہم نے اس ديدار سے ہميں بہت بڑا ہوصلہ ملا ہم نے اپنے ہتهياروں كونيچے اتارہ اور قائد انقلاب اسلامي آيۃ اللہ خامنہ اي سے ملاقات كي آقا نے ہم سب سے مصافحہ كيا اور ہم سب كےبوسے ليے۔

 

۔ قائد انقلاب اسلامي فوجيوں كے ساته

اميربرگيڈئر احمد دادبي :

حضرت آيۃ اللہ خامنہ اي جنگ كے دوران صدر جمهوريہ تهے، مريوان گيے اور وہاں لوگوں سے ملاقات كي، ملاقات كے بعد ہم سولہ گيے ،فوجي ، رضا كار اور فوجيوں كے بچے ، سب لوگ وہاں جمع تهے سولہ كي گيلري ميں دسترخوان بچهايا ۔ ہم نے حضرت سے كہا سولہ ميں بهيڑ ہے ہم ايك دوسري جگہ چلتے ہيں اور كهانا تناول فرماتے ہيں ،حضرت نے فرمايا: نہيں انہيں بچوں كے ساته كهانا كهاوں گا بہت زيادہ لوگ تهے رهبر معظم انہيں فوجيوں كے درميان بيٹهے ، بچوں نے رهبر معظم كے ساته بيٹه كر كهانا كهايا ، اس دن كا يہ منظر ميرے ليے ايك بہترين ياد گار تها كہ جو كبهي بهِ ميرے ذهن سے نكلنے والا نہيں تها۔

 

۔ مضبوط ستون

كمانڈر درپايان علي شمخاني

جنگ كے ابتدايي دنوں ميں ہم محاظ جنوب ميں كچه مشكلات كے شكار تهے جب بهي ہم اپني سختيوں اور مشكلوں كو بيان كرنا چاہتے تهے ، تو ہم رهبر معظم كي خدمت ميں چلے جاتے تهے جنوب كے محاظ پر انكا حاضر ہونا ہمارے ليے ايك مضبوط ستون كي طرح تها ، ہم اكثر اوقات رهبر معظم كے ساته ميٹنگ ركهتے تهے اور اپني مشكلات ان سے بيان كرتے تهَ اور ان سے مدد مانگتے تهے رهبر معظم آيۃ اللہ خامنہ اي بهي ہماري مشكلات كو امام زمانہ كے سامنے پيش كرتے تهے اور جہاں تك ہو سكتا تها حضور خود بهي ہماري مدد كرتے اور ہماري رهنمايي كرتے تهے۔

 

۔فوجي لباس

حجت الاسلام والمسلمين ذوالنور :

قائد انقلاب اسلامي آيۃ اللہ خامنہ اي نے مجه سے فرمايا : كہ ميں جنگ كے زمانے ميں ہميشہ فوجي لباس ميں ہوتا تها، ليكن ہميشہ مجهے يہ تشويش رہتي تهي كہ ميں كيا كروں فوجي لباس پہن كر ميدان ميں آوں يا روحاني پيغمبرانہ لباس پہن كر آوں ۔ ليكن جب بهي واپس تہران جايا كرتے تهے ، روحاني لباس اسي فوجي لباس كے اوپر پہن ليا كرتے تهے ، اور ساري رپوٹ امام خميني كي خدمت ميں پيش كر كے نماز جمعہ پڑحنے كے ليے جاتے تهے ۔ اپنے بات كو آگے بڑہاتے ہوے يہ بهي فرمايا: كہ ايك روز ميں ميدان جهاد سے جماران رپوٹ دينے كے ليے گيا امام خميني اپنے حجرے كي كهڑكي كے سامنے كهڑے تهے ۔ ميں اپني قميض كے بٹن كهول رہا تها كہ تهوڑي دير ہو گيي امام كهڑے مسكرا رہے تهے اور ميري طرف ديكه رہے تهے جب ميں كمرے ميں داخل ہوا ميں نے سلام كيا اور امام كے ہا تهوں كو چوما ، امام نے بهي ميري پشت پر ہاته مارا اور ارشاد فرمايا: كہ ايك زمانہ تها كہ يہ فوجي لباس ہمارے ليے شايان شان نہيں تها اور عرف عام ميں ہمارے ليے زيب نہيں ديتا تها ليكن آج يہ لباس آپ كے تن پر كتنا سج رہا ہے اور كتنا اچها لگ رہا ہے ،آيۃ اللہ خامنہ اي نے فرمايا : امام كے اس كلام نے ميرے دل سے اس تشويش كو ختم كر ديا كہ جوميں فوجي لباس كے بارے ميں ركهتا تها اور اس كے بعد ميں فوجي لباس پہننے ميں فخر محسوس كرتا تها۔

 

۔اصرار

سردار برگيڈئر پاسدار محمّد كوثري :

قائد انقلاب اسلامي آيۃ اللہ العظميٰ سيد علي خامنہ اي كے صدر جمہوريہ منتخب ہونے كے بعد امام خميني نے ان كو جنگ ميں جانے سے منع كر ديا تها ۔ آيۃ اللہ خامنہ اي نے بہت زيادہ اصرار كے بعد آيۃ اللہ خميني سے جنگ ميں جانے كي اجازت لي اور دوبارہ جنگ ميں قدم ركها ، رهبر معظم نے جنگ ميں جانے سے پہلے امام جمعہ تہران ہو نے كے ناطے تمام آيمہ جمعہ كوپيغام ديا اور انہيں جنگ ميں آنے كي دعوت دي ۔ رهبر معظم كي اس انقلابي حركت نے ميدان جنگ ميں ايك بہت بڑي تبديلي لايي ۔ اس دوران رهبر معظم لشكروں كے درميان جاتے اور ان كے درميان آپسي اتحاد و بهايي چارے كي تحقيق كرتے ، ايك ايك سے ان كي مشكلات كو سنتے اور ہميشہ ايك باپ كي طرح سلوك كرتے، مہرباني اور عطوفت كے ساته ان كي باتوں كو سنتے تهے ۔ رهبر معظم كے اس طريقہ كار نے فوجيوں كے حوصلہ كو بلند كر ديا اور ان كے اندر ايسا اثر ڈالا كہ جو دشمنوں كي شكست كا باعث بنا۔

Saturday, 18 August 2012 05:27

کوبے مسجد جاپان

کوبے مسجد (جاپانی: 神戸モスク ) جاپان کے شہر کوبے میں واقع ایک مسجد ہے جو اکتوبر 1935ء میں تعمیر کی گئی۔ اسے جاپان کی پہلی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ کوبے مسلم مسجد کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ اس کی تعمیر اسلامی مجلس کوبے کی جانب سے 1928ء سے 1935ء میں اس کی تکمیل تک ہونے والے مالی تعاون اور جمع کردہ عطیات کے باعث ممکن ہو سکی۔

1943ء میں جاپانی شاہی بحریہ نے اس مسجد پر قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم اب اس کی مسجد کی حیثیت بحال ہے اور یہ شہر کے مسلمانوں کا مرکز ہے۔ اپنے مضبوط ڈھانچے اور بنیاد کے باعث ہانشن کے عظیم زلزلے میں بھی یہ مسجد محفوظ رہی۔ یہ مسجد روایتی ترکی انداز میں تعمیر کی گئی اور اسے چیک ماہر تعمیرات جان جوزف سواگر (1885ء تا 1969ء) نے تعمیر کیا جو جاپان میں متعدد مغربی مذہبی عمارات کے ماہر تعمیرات ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: جیسا کہ ایک بار انقلاب اسلامی کی کامیابی میں امید کا ستارہ چمکا، ایک بار دفاع مقدس میں ، ایک بار جنگی قیدیوں کی آزادی و وطن واپسی کے وقت امیدکا ستارہ روشن ہوا، اللہ تعالی کی مدد سے اسی طرح مسئلہ فلسطین کےافق پر بھی امید کا ستارہ روشن ہوگا، مقبوضہ فلسطینیسرزمین یقینی طور پر فلسطینیوں کو واپس مل جائے گي اور اسرائیل کی غاصب و صہیونی حکومت صفحہ روزگار سے محو ہوجائےگي۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے (۲۰۱۲/۰۸/۱۵) سیکڑوں آزادگان سے ملاقات میں مشرقی آذربائیجان کے بعض علاقوں میں آنے والے حالیہ زلزلے سے متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہارکیا اور مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کا بنیادی مسئلہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اس سال بھی ایرانی قوم یوم قدس کے موقع اسلام اور فلسطین کے دشمنوں کے منہ پر زوردارطمانچہ رسید کرےگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فلسطینی سرزمین پر صہیونیوں کے غاصبانہ قبضہ و تسلط کو مشرق وسطی کا سب سے اہم مسئلہ اور اس علاقہ کی اقوام کی حالیہ برسوں کی مشکلات کی اصلی وجہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر علاقہ میں یہ سازش وجود میں نہ آتی تو علاقہ میں منہ زوراور سامراجی طاقتوں کی طرف سے مسلط کردہ جنگیں اور اختلافات بھی وجود میں نہ آتے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: صہیونی اورانکےحامی اقوام عالم کے نزدیک مسئلہ فلسطین کو فراموش کرانے کے سلسلے میں سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں لیکن عالم اسلام کو ان کی اس سازش اور فریب کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران میں اسلامی تحریک کےآغاز سے ہی مسئلہ فلسطین پر امام خمینی (رہ) کی خصوصی توجہ اورتاکید کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی نے مسئلہ فلسطین کوفراموش کرنےکےسلسلے میں سامراجی طاقتوں کی کوششوں کو ایک تاریخی رکاوٹ سے دوچارکردیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےمسئلہ فلسطین کو فراموش کرنے کےسلسلے میں بعض کوششوں کیطرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا: شیعہ وسنی اورہلال شیعی بحث کو اسی دائرےمیں پیش کیا جاتا ہےجبکہ 60 سال سے فلسطینی قوم شدید مشکلات اور دباؤ کا شکارہے اور فلسطینیوں کے بارےمیں انکی کوئی آوازبلند نہیں ہوتی۔

رہبر معظم نے سوال کیا: اسلامی جمہوریہ ایران جس نے مسئلہ فلسطین کو دوبارہ زندہ کیا ، کیا اسے عالم اسلام کے لئے خطرہ بنا کرپیش کرنا اور صہیونیوں کے سنگین جرائم کے مقابلے میں سکوت اور خاموشی خیانت نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسئلہ فلسطین کوفراموش کرنے کی سازش کے خلاف ایرانی عوام کی استقامت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: مسئلہ فلسطین ہمارےلئے کوئی ٹیکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہمارے اعتقادات سے وابستہ ہیں اور ہم اس اسلامی ملک کی غاصب صہیونیوں اور ان کے حامیوں سے آزادی کو اپنا مذہبی اور دینی فریضہ سمجھتے ہیں، اور دوسری مسلم اقوام اور اسلامی حکومتوں کو بھی مسئلہ فلسطین پر اسی زاویہ سے دیکھنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جیسا کہ امید کاستارہ ایک بارانقلاب اسلامی کی کامیابی میں چمکا، ایک بار دفاع مقدس میں روشن ہوا اورایک بار آزادگان کی رہائی اور وطن واپسی کے وقت درخشاں ہوا اللہ تعالی کےفضل و کرم سے اسی طرح امید کا ستارہ ایک بار مسئلہ فلسطین کےافق پربھی روشن ہوگا، اوریہ اسلامی سرزمین یقینی طورپرایکبارپھر فلسطینیوں کی آغوش میں واپس آجائے گي اوراسرائیل کی جعلی اورغاصب حکومت صفحہ روزگار سے محوہوجائےگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرےحصہ میں مشرقی آذربائیجان میں آنےوالے زلزلہ سے متاثرہ افراد کےساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور اسے پوری ایرانی قوم کےلئے درد وغم کاباعث قراردیا اورحکام پر زوردیا کہ وہ زلزلہ سے متاثرہ افراد کی مشکلات کوکم کرنے کے سلسلے میں تلاش وکوشش کریں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے زلزلہ سے متاثرہ افراد کے لئے اللہ تعالی کی بارگاہ سےصبر تحمل اور ان کےدلوں کو آرام و سکون پہنچانےکی دعا کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سرافراز آزادگان کو ایمان کا ذخیرہ اور باز یافتہ گوہر قراردیتےہوئے فرمایا: قیداوراسارت کے مشکل دور نےہمارےآزادگان کو درخشاں جواہرات اورچمکتےہوئے موتیوں میں تبدیل کردیاہے۔

تہران کے خطيب جمعہ نے کہا ہے کہ عالم اسلام اپنے اتحاد کے ذريعے صہيوني حکومت کو صفحہ ہستي سے مٹا سکتا ہے

تہران کي مرکزي نماز جمعہ کے خطيب آيت اللہ سيد احمد خاتمي نے عالمي يوم قدس کے موقع پرنمازجمعہ کے خطبوں ميں گذشتہ ساٹھ برس کے دوران ملت فلسطين پر صہيوني حکومت کے مظالم کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صہيوني ، فقط طاقت کي ہي زبان سمجھتے ہيں –

تہران کے خطيب جمعہ نے صہيوني حکومت کے ساتھ ہر طرح کے مذاکرات کو بے سود قرارديا اور کہا کہ جو چيز اب تک سرزمين فلسطين ميں اسرائيل کے خلاف موثر ثابت ہوئي ہے وہ تحريک انتفاضہ کا جاري رہنا اور صہيوني حکومت کے خلاف جد وجہد ہے کيونکہ مذاکرات سے صرف اسرائيل کو فائدہ پہنچتا ہے جبکہ فلسطينيوں کو مذاکرات سے ہميشہ نقصان ہوتا ہے –

تہران کے خطيب جمعہ نے علاقے کے بعض عرب ملکوں پر جن کے صہيوني حکومت کے ساتھ تعلقات ہيں اور جو علاقائي اور بين الاقوامي فورم پر اسرائيلي مظالم کي حمايت کرتے ہيں تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ صہيوني حکومت پر کاري وار لگانے کا بہترين طريقہ اس کو الگ تھلگ کردينا ہے –

تہران کے خطيب جمعہ نے علاقائي اور عالمي سطح پر صہيوني حکومت کے مجرمانہ اقدامات کو برملاکئے جانے کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہاکہ يہ حکومت کسي بھي طرح کي انساني اقدار اور بين الاقوامي قانون کي پابند نہيں ہے –

آيت اللہ سيد احمد خاتمي نے تہران ميں ناوابستہ تحريک کے آئندہ سربراہي اجلاس کے انعقاد کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ توقع ہے کہ اس تحريک کے سربراہان علاقے منجملہ فلسطين، بحرين اور شام ميں امريکا اور صہيوني حکومت کي توسيع پسنديوں کے مقابلے ميں ٹھوس موقف اختيار کريں گے –

تہران کے خطيب جمعہ نے شام کے حالات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ امريکا شام ميں دہشت گردوں کي مسلسل پشتپناہي کررہا ہے اور دہشت گردوں کے توسط سے وہ مختلف جرائم کا ارتکاب کررہا ہے ليکن شام کے عوام اور حکومت ان کے مقابلے ميں کامياب ہوکر رہے گي -

آيت اللہ سيد احمد خاتمي نے علاقے کے بعض عرب ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے جو شام کي حکومت اور عوام کے خلاف امريکا اور صہيوني حکومت کے ساتھ ہوگئے ہيں کہاکہ يہ ممالک پشيمان ہوں گے کيونکہ انہيں اپنے ملک کے عوام کي حمايت سے ہاتھ دھونا پڑے گا - تہران کے خطيب جمعہ نے کہا دہشت گرد تنظيم القاعدہ جو آج امريکا کي سرپرستي ميں شام ميں دہشت گردانہ کاروائياں انجام دے رہي ہے يہي دہشت گرد نيٹ ورک آگے چل کر امريکا کے اتحادي ممالک ميں بھي بحران پيدا کرے گا –

آيت اللہ سيد احمد خاتمي نے ايران کے صوبہ مشرقي آذربائجان ميں زلزلزلے کے حادثے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس حادثے سے ايران مخالف ذرائع ابلاغ کے ذريعے غلط فائدہ اٹھائے جانے پر مبني اقدامات کي مذمت کرتے ہوئے کہا متاثرہ علاقوں کا رہبر انقلاب اسلامي کے دورے سے اس بات کا بخوبي اندازہ لگايا جاسکتا ہے کہ ايران کي حکومت متاثرين کي مدد اور متاثرہ علاقوں کي بازآبادکاري کے لئے پوري طرح سنجيدہ ہے

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے(۲۰۱۲/۰۸/۱۶) صوبہ مشرقی آذربائیجان کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور زلزلہ سے متاثرہ افرادکےساتھ ہمدردی اور ہمدلی کا اظہار کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں کا قریب سے جائزہ لیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے زلزلہ سے متاثرہ ضلع ہریس کےسرند گاؤں کا دورہ کیا۔ اس کے بعد رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کوویج گاؤں کے لوگوں کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کی اورانکی مشکلات کا قریب سے جائزہ لیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کوویج گاؤں کے لوگوں سے خطاب کرتےہوئے فرمایا: میں آپ لوگوں سے ہمدردی اورہمدلی کااظہارکرنے اور تعزیت وتسلیت پیش کرنےکے لئے حاضرہواہوں اور ایران کی پوری قوم زلزلہ سے متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی اور ہمدلی کا اظہار کرتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: ایرانی عوام متحد اور متفق ہیں اور یہی اتحاد اور اتفاق ایرانی قوم کی طاقت اور قدرت کا مظہر ہے۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے زلزلہ سے متاثرہ افراد کو صبر وتحمل کی سفارش کرتےہوئے فرمایا: اس علاقہ کے عوام باہمی تعاون اورہمدردی کے ذریعہ اس علاقہ کی تقدیربدل سکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے زلزلہ سے متاثرہ افراد کے لئے امدادی کارروائیوں کو خوب توصیف کرتےہوئے فرمایا: حکام کے دوش پر زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کی پختہ اور مضبوط تعمیر کرنےکی سنگین ذمہ داری عائد ہےاوراس علاقہ کےعوام کو بھی چاہیے کہ وہ یہ ذمہ داری انجام دینے میں مقامی حکام کےساتھ تعاون کریں۔