Super User

Super User

Saturday, 04 August 2012 05:39

فتح خيبر

قلعہ خيبر ايك منظر

 

جب اللہ تعاليٰ نے اپنے نبي کو عزت بخشي اور قريش ذليل و رسوا ھوئے تو نبي (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے يہ مشاھدہ فرمايا کہ مسلمانوں کے امور اس وقت تک درست نھيں ھوں گے اور نہ ھي حکومت برقرارھوگي جب تک يھوديوں کا نظام مو جود ھے جو ھميشہ سے اسلام کے سخت دشمن تھے اور ان (يھوديوں) کي پوري طاقت وقوت خيبر کے قلعہ ميں محصور تھي جو اس زمانہ کے رائج اسلحوں کا کارخانہ تھا، منجملہ وھاں ايسے ايسے ٹينک نما توپ خانے تھے جو گرم پاني اور آگ ميں تپا ھوا سيسہ پھينکتے تھے اور يھود ي اسلام دشمن طاقتوں کو ھر طرح کي مسلح فوجي مدد پھنچاتے تھے -

نبي نے قلعہ خيبر پر حملہ کر نے کےلئے لشکر بھيجا اور لشکر کا سردار جناب ابوبکر کو بنايا، جب وہ قلعہ خيبر کے پاس پھنچے تو وہ شکست کھا کر اور مرعوب ھو کر واپس پلٹ آئے ، دوسرے دن جناب عمر کو لشکر کا سردار بنا کر بھيجا وہ بھي پھلے سردار کي طرح واپس آگئے اور کچھ نہ کر سکے اور قلعہ کا دروازہ يوں ھي بند رھا اور کوئي بھي اس تک نہ پھنچ سکا -

جب لشکر قلعہ کا دروازہ نہ کھول سکا اور دونوں سرداروں کي سرداري کچھ کام نہ آسکي تو نبي پاك نے اعلان فرمايا کہ اب ميں اس کو سردار بناؤ ں گا جس کے ھاتھ پر اللہ فتح عنايت فر مائے گا چناچہ آپ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے ارشاد فرمايا: ”‌ميں کل علم اس کو دوں گا جس کو اللہ اور اس کا رسول دوست رکھتے ھوں گے اور وہ اللہ اور رسول کو دوست رکھتا ھوگا اور وہ اس وقت تک واپس نھيں آئے گا جب تک اللہ اس کے ھاتھ پر فتح نہ ديدے ---“-

 

لشکر انتھائي بے چيني کے عالم ميں ايسے سردار کو علم دئے جانے سے آگاہ ھوا جس کے ھاتھ پر اللہ فتح عنايت کرے، اس کے گمان ميں بھي نھيں تھا کہ اس عھدہ پرامام (ع) فائز ھوں گے، اس لئے کہ آپ آشوب چشم ميں مبتلا تھے، جب صبح نمودار ھوئي تو نبي (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے علي (ع) کو بلايا جب آپ نبي اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کي خدمت ميں حاضر ھوئے تو آپ کي آنکھوں ميں آشوب تھا آنحضرت (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے اپنا لعاب دھن لگايا تو آنکھيں بالکل ٹھيک ھوگئيں اور آپ (ع) نے علي (ع) سے فرمايا:”‌خذْ ھٰذِہِ الرّايَةَ حَتَيّٰ يَفْتَحَ اللّٰہ عَلَيْکَ ---“- ”‌ يہ علم ليجئے يھاں تک کہ خدا آپ کو فتح عنايت کرے گا---“-

 

شاعر مو ھوب يزدي نے اس واقعہ کو يوں نظم کيا ھے :

 

وَلَہ يَوْمَ خَيْبَرفَتکات

کَبرَتْ مَنْظَراً عليٰ مَنْ رَآھا

يَوْمَ قَالَ النَّبِيْ اِنِّيْ لَاعْطِي

رَاَيْتِيْ لَيْثَھَاوَحَامِي حِمَاھَا

فَاسْتَطَالَتْ اَعْنَاق کلِّ فَرِيْق

لِيَرَوْا اَيَّ مَاجِديعْطَاھَا

فَدَعَا اَيْنَ وَارِث الْعِلْمِ وَالْحِدْمِ

مجِيْر الايَّامِ مِنْ بَاسَاھَا؟

اَيْنَ ذوْالنَّجْدَةِ الَّذِيْ لَوْ دَعَتْہ

فِيْ الثّرَيَّامَرَوْعَةً لَبَّاھَا

فَاتَاہ الوَصِيّ اَرْمَدَ عَيْن

فَسَقَاہ مِنْ رِيْقِہِ فَشَفَاھَا

وَمَضيٰ يَطْلب الصّفوْفَ فَوَلَّتْ

عَنْہ عِلْماً بِاَنَّہ اَمْضَاھَا

 

”‌خيبر ميں آپ (ع) نے ايسے حملے کئے جو ششدر کرنے والے تھے -

جس دن نبي(صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے فرمايا کہ ميں پرچم بھادر اور محافظ شخص کو دوں گا -

اسي لئے ھر فريق يہ ديکھنے کا منتظر تھا کہ پرچم کس کو ملے گا -

ان ھي لمحات ميں نبي (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے آواز دي کہ علم و حلم کا وارث اور ايام کي قسمت پھيرنے والا کھاں ھے ؟

وہ مدد گار کھاں ھے جس کو اگر کو ئي ثريا ميں مدد کے لئے پکارے تو وہ لبيک کہہ دے گا -

اس وقت علي (ع) آپ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کے پاس اس عالم ميں آئے کہ آشوب چشم ميں مبتلا تھے آپ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے اپنے لعاب دھن کے ذريعہ ان کو شفا بخشي-

اس وقت علي (ع) نے کفار کي صفوں پر حملہ کيا يہ ديکھ کر کفار پيٹھ پھرا کر بھاگ گئے چونکہ وہ جانتے تھے کہ علي (ع) انھيں زندہ نھيں چھوڑيں گے “-

 

اسلام کے بھادر نے بڑي طاقت عزم و ھمت و ثبات قد مي کے ساتھ علم ليااور رسول (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) اللہ سے عرض کيا : ”‌اقَاتِلھمْ حَتّيٰ يَکوْنوامِثْلَنَا؟ “کيا ميں ان سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ ھماري طرح مسلمان نہ ھو جا ئيں “رسول (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) اللہ نے فرمايا: ”‌انفذْ عَليٰ رَسْلِکَ حتّيٰ تَنْزِلَ بِسَاحَتِھِمْ ، ثمَّ ادْعھمْ اِليٰ الاِسْلَامِ ، وَاَخْبِرْھمْ بِمَايَجِب اِلَيْھِمْ مِنْ حَقِّ اللّٰہِ ، فَوَاللّٰہِ لَاَنْ يَھْدِيَ اللّٰہ بِکَ رَجلاًوَاحِداًخَيْرٌلَّکَ مِنْ اَنْ يَّکوْنَ لَکَ حمْر النِّعَمِ“-

”‌اپنا پيغام لے کر جا ؤيھاں تک کہ ان کے علاقہ ميں پھنچ جا ؤ، ان کو اسلام کي دعوت دو اوران کو خدا کے اس حق سے آگاہ کرو جو ان کے ذمہ واجب ھے ، کيونکہ خدا کي قسم اگر تمھارے ذريعہ خدا ايک انسان کي ھدايت کر دے وہ تمھارے لئے سرخ چو پايوں سے بہتر ھے “-

 

آج لشکر کا سردار بڑے ھي اطمينان کے ساتھ بغير کسي رعب و خوف کے تيزي سے چلا، جبکہ اس کے ھاتھوں ميں فتح کا پرچم لھرا رھا تھا اس نے باب خيبر فتح کيا اور اس کو اپني ڈھال بناليا جس کے ذريعہ اس نے يھوديوں سے اپنا بچاؤ کيا- خوف کي وجہ سے يھوديوں کے کليجے منھ کو آگئے وہ بہت زيادہ سھم گئے، کہ يہ کون بھادر ھے جس نے قلعہ کے اس دروازہ کوکھول کر اپني ڈھال بناليا ھے جسے چاليس آدمي کھولتے تھے يہ بڑے تعجب کي بات ھے -

 

قلعہ خيبر ايك منظر

 

Saturday, 04 August 2012 05:37

قوم لوط (ع) كا اخلاق

حضرت لوط عليه السلام كي مزار - قریه کفر – مسجدالخلیل كے نزديك - فلسطين

 

اسلامى روايات وتواريخ ميں جنسى انحراف كے ساتھ ساتھ قوم لوط (ع) كے برے اور شرمناك اعمال اور گھٹيا كردار بھى بيان ہواہے _

كہا گيا ہے كہ ان كى مجالس اور بيٹھكيں طرح طرح كے منكرات اور برے اعمال سے آلودہ تھيں وہ آپس ميں ركيك جملوں، فحش كلامى اور پھبتيوں كا تبادلہ كرتے تھے ايك دوسرے كى پشت پر مكے مارتے تھے قمار بازى كرتے تھے بچوں والے كھيل كھيلتے تھے گزرنے والوں كو كنكرياں مارتے تھے طرح طرح كے آلات موسيقى استعمال كرتے تھے اور لوگوں كے سامنے برہنہ ہو جاتے تھے اور اپنى شرمگاہوں كو ننگاكرديتے تھے _

واضح ہے كہ اس قسم كے گندے ماحول ميں ہر روز انحراف اور بدى نئي شكل ميں رونما ہوتى ہے اور وسيع سے وسيع تر ہوتى چلى جاتى ہے ايسے ماحول ميں اصولى طور پر برائي كا تصور ختم ہوجاتاہے اور لوگ اس طرح سے اس راہ پر چلتے ہيں كہ كوئي كام ان كى نظر ميں برا اور قبيح نہيں رہتا ان سے زيادہ بد بخت وہ قوميں ہيں جو علم كى پيش رفت كے زمانے ميں انہى راہوں پر گا مزن ہيں، بعض اوقات تو ان كے اعمال اس قدر شرمناك اور رسوا كن ہوتے ہيں كہ قوم لوط كے اعمال بھول جاتے ہيں _

 

حضرت لوط (ع) كى بيوى كافروں كے لئے مثال

قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے ''خدا نے كافروں كے لئے ايك مثال بيان كى ہے'' نوح عليہ السلام كى بيوى كى مثال اور لوط عليہ السلام كى بيوى كى مثال ''وہ دونوں ہمارے دوصالح بندوں كے ما تحت تھيں ليكن انہوں نے ان سے خيانت كي، ليكن ان دو عظيم پيغمبر وں سے ان كے ارتباط نے عذاب الہى كے مقابلہ ميں انھيں كوئي نفع نہيں ديا اور ان سے كہا گيا كہ تم بھى آگ ميں داخل ہونے والے لوگوں كے ساتھ آگ ميں داخل ہوجائو_ ''

حضرت نوح كى بيوى كا نام ''والھہ'' اور حضرت لوط كى بيوى كا نام ''والعة''تھا اور بعض نے اس كے برعكس لكھا ہے يعنى نوح كى بيوى كانام''والعة'' اورلوط كى بيوى كا نام ''والھہ'' يا ''واہلہ'' كہا ہے_

بہرحال ان دونوں عورتوں نے ان دونوں عظيم پيغمبروں كے ساتھ خيانت كى ،البتہ ان كى خيانت جائدہ عفت سے انحراف ہرگزنہيں تھا كيونكہ كسى پيغمبر كى بيوى ہرگز بے عفتى سے آلودہ نہيں ہوتى جيسا كہ پيغمبر اسلام سے ايك حديث ميں صراحت كے ساتھ بيان ہواہے :

''كسى بھى پيغمبر كى بيوى ہرگز منافى عفت عمل سے آلودہ نہيں ہوئي''_

حضرت لوط كى بيوى كى خيانت يہ تھى كہ وہ اس پيغمبر كے دشمنوں كے ساتھ تعاون كرتى تھى اور ان كے گھر كے راز انھيں بتاتى تھى اور حضرت نوح (ع) كى بيوى بھى ايسى ہى تھى _

 

قصص القرآن - منتخب از تفسير نمونه

تاليف : حضرت آيت الله العظمي مکارم شيرازي

مترجم : حجة الاسلام و المسلمين سيد صفدر حسين نجفى مرحوم

 

 

 

آیت الله مکارم شیرازی نے حرم حضرت معصومہ قم کے زائرین کے مجمع میں اھل سیاست اورمیڈیا کو تقوی الھی کی نصیحتیں کی اور کہا : تقوی انسان کو بے دینی کے کھنڈر میں گرنے سے محفوظ رکھتا ہے ۔

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے اپنے سلسلہ وار تفسیر قران کریم کی نشست میں جو شبستان امام خمینی (رہ) ، حرم حضرت معصومہ قم میں زائرین ومجاورین کے شرکت میں منعقد ہوئی، اھل سیاست اورمیڈیا کو تقوی الھی کی نصیحتیں اور سیاست و میڈیا میں سلائق کو استفادہ نہ کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ تقوی الھی کے بہت سارے معیارات ہیں کہا : اس کا ایک میعار اخلاقیات ہیں، تقوی کی ایک قسم، سیاسی تقوی ہے، کہ جب انسان سیاسی مقام تک پہونچ جائے تو جھوٹ نہ بولے، ووٹ لینے کے لئے غیر قانونی کام نہ کرے، ووٹ لینے کے لئے پیسہ خرچ نہ کرے اور لوگوں کو جھوٹے وعدے نہ دے بلکہ صحیح راستہ پر گامزن ہو ۔

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے تقوی میڈیا کو تقوی کے ایک دوسرے مصادیق میں بیان کرتے ہوئے اخباروں اور سماجی میڈیا کو تقوی الھی کی نصیحتیں کی اور کہا : چھوٹی سے چھوٹی خبر اگر ان کے فائدہ کی ہو تو اس بڑی اوراگر ان کے نقصان میں ہو تو کاٹ کر چھوٹی پیش کرتے ہیں، جو کچھ بھی ان کی سیاسی پارٹی کے حق میں فائدہ مند ہو اسے بڑا اور جو کچھ بھی پارٹیوں کے نقصان میں اسے چھوٹا بناکر پیش کرتے ہیں، بے گناہ یا جرم ثابت نشدہ افراد کے اسامی منتشر کرنا تقوی الھی کے مطابق نہیں ہے ۔ اس مرجع تقلید نے ابتداء سوره احزاب کی آیات کے شان نزول کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : جنگ احد کے بعد مشرکین مکہ کے نے احساس کیا کہ کامیاب ہوگئے ہیں اور انہوں نے سوچا کہ شاید اس طرح پیغمبر(ص) کو اپنی ھمراہی پر مجبور کرسکتے ہیں، مشرکین مکہ کے کمانڈر ابوسفیان نے مدینہ کے قریب اکر پیغمبر(ص) سے امان کی درخواست کی تو حضرت نے انہیں امان دے دیا، جب وہ مدینہ پہونچے تو کچھ لوگ ان کےساتھ تھے ، وہ پیغمبر اسلام (ص) کی خدمت میں پہونچے اورعرض کیا کہ اپ کو اپنے خدا کے بارے جو کچھ بھی کہنا ہے کہیں ، مگرھمارے خداوں (بتوں ) کو برا نہ کہیں ۔

آپ نے مزید کہا : مشرکین مکہ کا تصور تھا وہ طاقت کے بل بوتہ پر گفتگو کررہے ہیں لھذا مرسل اعظم(ص) ان کی باتیں مان لیں گے، مگر ایت نازل ہوئی اورخدا نے پیغمبر(ص) کو چار باتوں کا حکم دیا کہ تقوی اختیار کریں، کفار کی تجویزنہ مانیں، منافقین کی اطاعت نہ کریں اوراگاہ رہیں کہ خداوند متعال ان کی سازشوں سے بخوبی واقف ہے، نیز حکم ہوا کہ ھماری وحی کے تابعداررہئے اور بتوں کے سلسلے میں جو کچھ بھی بتایا ہے وہی کہیں، خدا بہتر جانتا ہیں کہ اپ کے خلاف کس قسم کا اقدام کریں گے، اپ خدا پر بھروسہ کریں اور جان لیں کہ خدا اپ کا حامی ومددگار ہے ۔ حضرت آیت‌الله مکارم شیرازی نے یہ کہتے ہوئے کہ اگر تقوی نہ ہو تو انسان منحرف اور گمراہ ہوجائے گا یاد دہانی کی : تقوی نفسانی خواہشات کی ڈگراور شیطانی وسوسوں سے نجات کا راستہ ہے، نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسے انسان کو گمراہیوں کی جانب لے جاتے ہیں کہ اگر تقوی نہ ہو تو انسان بہک جائے ۔

انہوں نے تقوی کے مراتب کی جانب اشارہ کیا اور کہا : تقوی کی ایک قسم، مولائے متقیان حضرت امام علی(ع) کے مانند تقوی ہے کہ اگر پوری دنیا بھی ان کے قدموں میں ڈال دی جائے اور اس کے عوض چنیوٹی کے منھ سے ایک دانہ بھی چھیننے کو کہا جائے تو نہیں چھینیں گے، متقی اپنے تقوی کے ھمراہ ھرگز تنہائی کا احساس نہیں کرتا اگر چہ تنہا ہی کیوں نہ ہو ۔ اس مرجع تقلید نے تقوا کو اثار روزہ میں سے شمار کرتے ہوئے کہا : کوشش کریں کہ روز بروز ھمارے اندر ان جزبات کو استحکام حاصل ہو اور منحرف کرنے والے مسائل ھمیں منحرف نہ کرسکیں۔

ہندوستان زیر انتظام کشمیر کی معروف شخصیت اور دوردرشن سرینگر کی سابقہ ڈائریکٹر محترمہ شہزادی سائمن نے تعلیم نسواں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام واحد ایسا مذہب ہے کہ جس نے خواتین کو بہت اہم اور عظیم رتبہ بخشا ہے۔

- کشمیری دارالحکومت سرینگر میں ڈیموکریٹک پارٹی نیشنلسٹ کی ترجمان اعلیٰ اور جموں و کشمیر پیس فاؤنڈیشن کے خواتین ونگ کی سربراہ محترمہ شہزادی سائمن نے کہا : اسلام نے عورت کو بہت اونچا اور پروقار مقام دیا ہے۔ اسلام کا سب سے پہلا قانون لڑکیوں کو زندہ دفنائے جانے کے خلاف تھا۔ اسلام نے باقاعدہ اس جاہلانہ اور وحشتناک عمل کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ آج کے زمانہ میں آپ دیکھئے کس طرح لڑکیوں کو ماں کے پیٹ میں ہی ختم کیا جاتا ہے۔ اسلام اس چیز کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اس وبا کو روکنے کے لئے ڈاکٹر اور سرکار سے زیادہ عورتوں کو خود آگے آنا ہوگا۔ کیونکہ صرف عورتیں ہی اس وبا کو پوری طرح سے ختم کرسکتی ہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گی تو ایک زمانہ ایسا آئے گا جب خدانخواستہ عورت ہی نہیں ملے گی۔ گھر میں بیٹی ، بہن ، ماں کا نام نہیں ہوگا۔ کہنے سے مراد یہ ہے کہ کیا عورت کے بغیر دنیا ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی شروعات مرد اور عورت سے کی ہے۔ لڑکیوں کو ماں کے پیٹ میں ہی مار کر ہم قدرت کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں۔

دوردرشن سرینر کی سابقہ ڈائریکٹر نے کہا کہ ان کی نظر میں عورت کی حقیقی آزادی اس کی روح اور ذہن کی آزادی میں ہے۔

انہوں نے کہا: اگر عورت تعلیم کے زیور سے آراستہ ہے اور اقتصادی طور پر آزاد ہے تو وہ کسی بھی ظلم کے خلاف لڑ سکتی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ عورت کے خلاف جو مظالم ہوہرے ہیں ان کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کو تعلیم سے دور رکھا گیا ہے خاص کر عالم اسلام کی عورتوں کو۔ میری نظر میں ایک عورت کے لئے تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور عورت صرف اپنے حقوق کے لئے ہی نہیں بلکہ دوسری عورتوں کے حقوق کے لئے بھی لڑ سکتی ہے۔

اسلام میں عورت کا رتبہ اتنا اہم اور اتنا عظیم ہے کہ مسلمان عورت ہرگز مظلوم نہیں ہوسکتی۔ یہ اسلام کو بدنام کرنے کے لئے اسلام دشمن عناصر کی سازشیں ہیں۔ آپ دیکھئے پیغمبر اکرم (ص) نے عورت کو کیا درجہ دیا ہے۔ اسی طرح مولائے کائنات حضرت علی مرتضیٰ (ع) جو پیکر شجاعت تھے انہوں نے عورت کو کیا رتبہ دیا۔ کس طرح وہ ایک عورت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ عورت اگر دین کے حدود میں رہے تو وہ بہت کچھ کر سکتی ہے۔

شہزادی سائمن نے مزید کہا: دشواریاں باہری اور بناوٹی ہوتی ہیں۔ اگر عورت ارادہ کرے کہ مجھے ان حدود کے اندر رہکر یہاں تک پہنچنا ہے تو میں نہیں سمجھتی کہ اس کو زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک مسلمان عورت حیا کے دائرے میں رہ کر کامیاب ہوسکتی ہے اور اپنا لوہا بھی منوا سکتی ہے۔ وہ دنیا کو دکھا سکتی ہے کہ وہ ذہنی طور پر ایک مرد سے کم نہیں۔ ہان وہ جسمانی طور کمزور ضرور ہوسکتی ہے مگر اپنے دائرے میں رہ کر عورت کیا کچھ نہیں کرسکتی۔

انہوں نے عالم اسلام کی خواتین کو اپنے پیغام میں کہا کہ دین کے دائرہ کے اندر رہکر اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں۔

 

 

سلطان عمر علی سیف الدین مسجد سلطنت برونائی کے دارالحکومت بندری سری بیگوان میں واقع شاہی مسجد ہے۔ یہ خطۂ ایشیا بحر الکاہل کی خوبصورت ترین مساجد اور ملک کے معروف سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ مسجد برونائی کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔

یہ مسجد برونائی کے 28 ویں سلطان سے موسوم ہے۔ اس کی تعمیر 1958ء میں 5،000،000$ کی لاگت سے تیار کی گئی تھی اور یہ جدید اسلامی طرز تعمیر کا شاندار نمونہ سمجھی جاتی ہے جس پر اسلامی اور اطالوی طرز تعمیر کی گہری چھاپ ہے۔

یہ مسجد دریائے برونائی کے کناروں پر واقع ایک مصنوعی تالاب پر تعمیر کی گئی۔ مسجد سنگ مرمر کے میناروں، سنہرے گنبدوں، صحنوں اور سر سبز باغات پر مشتمل ہے۔

مسجد کا مرکزی گنبد پر خالص سونے سے کام کیا گیا ہے۔ مسجد 52 میٹر بلندی پر واقع ہے اور بندر سری بیگوان شہر کے کسی بھی حصے سے با آسانی دیکھی جا سکتی ہے۔

میناروں میں جدید برقی سیڑھیاں نصب ہیں جو اوپر جانے کے کام آتی ہیں۔ مسجد کے میناروں سے شہر کا طائرانہ منظر قابل دید ہے۔

رات کے وقت ایک خوبصورت منظر

شہید ڈاکٹر حیدر کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی پلیٹ فارم کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کیا جائے اور یہ تمام مومنین کا فریضہ ہے۔ ملک کے ہر گوشہ میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ جاری ہے، باعزت قوم کو شہادتیں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں۔

سید ساجد علی نقوی نے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی (رہ) کے زمانے میں موجود مشکلات اور دشواریوں کا تذکرہ کیا اور ان مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے کئے گئے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ہم اسی قومی پلیٹ فارم کا حصہ اور تسلسل ہیں اور اسی اعلٰی مقاصد کیلئے گامزن ہیں۔

علامہ ساجد نقوی نے ملک میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کے ہر گوشہ میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ جاری ہے۔ کراچی، کوئٹہ، پاراچنار، ہنگو، گلگت بلتستان اور پنجاب کی سرزمین ہمارے لئے کربلا بنی ہوئی ہے۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے تمام مشکلات کا سامنا کیا ہے اور ان تمام سانحات اور واقعات کے خلاف بھرپور طریقے سے قدم اٹھایا ہے، لیکن ملک کی صورتحال ہی بگڑی ہوئی ہے، یہاں کسی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک باوقار اور باعزت قوم کے سفر کے سامنے مشکلات بھی آتی ہیں اور انہیں شہادتیں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں ۔ انہوں نے اس جانب اشارہ فرماتے ہوئے قوم کو متوجہ کیا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی پلیٹ فارم کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کیا جائے اور یہ تمام مومنین کا فریضہ ہے۔

احادیث مبارکہ میں ارشاد ہوا ہے کہ ’’روئے زمین پر علماء آسمان میں ستاروں کی مانند ہیں جن سے خشکی اور دریا کی تاریکیوں میں ہدایت حاصل کی جاتی ہے۔‘‘ ان ہی چمکتے علماء میں سے ایک عالم باعمل، مجاہد، مبارز، بے نظیر سخن ور اور داعی اتحاد بین المسلمین حضرت علامہ سید علی الموسوی تھے۔ حجۃ الاسلام و المسلمین آغا سید علی الموسوی اپنی تمام عمر اسلام کی خدمت، ارض پاکستان میں افکار خمینی (رہ) کے پرچار میں گزار کر اپنے عقیدت مندوں کو دس رمضان المبارک کی صبح داغ مفارقت دے گئے۔ ان کی رحلت سے مکتب آل محمد (ع) بالخصوص ملت بلتستان ایک مایہ ناز اور قابل فخر عالم دین سے محروم ہوگئی۔ ان کی ناقابل تردید خدمات رہتی دنیا تک قائم و دائم رہیں گی۔ آپ نے اپنی تمام آسائش و الائش کو قربان کرکے اسلام کی تبلیغ اور ترویج کو ترجیح دی، بلکہ یوں کہا جائے تو مناسب ہے کہ آپ زمان و مکان کے تمام قیود سے بالاتر ہو کر دین مبین اسلام کی خدمت کرتے رہے۔

آپ کے والد محترم بھی اپنے دور کے انتہائی بزرگ اور قابل احترام باعمل عالم دین تھے۔ آپ کم عمری میں ہی اپنے والد محترم حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن الموسوی کے ساتھ علوم آل محمد (ع) کے حصول کی خاطر حوزہ علمیہ نجف اشرف چلے گئے، جہاں آپ نے اس دور کے بزرگ مجتہدین آیت اللہ ابولحسن اصفہانی، آیت اللہ سید حسین بروجردی، آیت اللہ محسن الحکیم اور دیگر اساتید سے کسب فیض کیا۔ حسین آباد کے کچھ بزرگوں کے اصرار پر تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والد محترم کے ساتھ پاکستان چلے آئے، دوران سفر جب آپ لاہور پہنچے تو آپ دونوں (سید حسن موسوی اور سید علی موسوی) کے علم و عمل اور زہد و تقوی سے متاثر ہو کر لاہور کے مومنین نے لاہور میں ہی دینی خدمات انجام دینے پر زور دیا۔ آپ انہیں مایوس نہیں کرسکتے تھے، اس لئے مشقتوں کو تحمل کرکے لاہور اور حسین آباد دونوں جگہوں پر تبلیغی خدمات انجام دینے پر کمربستہ ہوگئے۔ اگرچہ ان دونوں جگہوں پر تبلیغ کرنا مسافت کی دوری اور ان دنوں کی مخصوص سفری مشکلات کے پیش نظر آسان نہ تھا، لیکن دین کی خاطر آپ نے تمام سختیوں کو برداشت کیا۔

شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی (رہ) کے شانہ بشانہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے سرگرم رہے۔ مختلف فلاحی ادارے بھی آپ کی زیر سرپرستی چل رہے ہیں، جن میں آل عمران لاہور نمایاں ہیں۔

Wednesday, 01 August 2012 05:09

جامع مسجد قرطبہ - اسپين

اندلس (Spain) میں مسلمانوں کے فن تعمیر کا عرصہ تقریباً سات سو برس پر محیط ہے ۔ جو آٹھویں صدی عیسوی میں جامع قرطبہ (ہسپانوی: Mezquita) کی تعمیر شروع کئے جانے سے لے کر پندرھویں صدی عیسوی میں غرناطہ کے قصر الحمراء کے مکمل ہونے کے زمانہ پر پھیلا ہوا ہے ۔ اس دوران سینکڑوں عمارات مثلاً حمام ، محلات ، مساجد، مقابر ، درس گاہیں اور پل وغیرہ تعمیر ہوئے جن کی اگر تفصیل لکھی جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے ۔

اندلس میں مسلمانوں کے فن تعمیر کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ یہاں کے مسلمان حکمران اور عوام کی اکثریت پرانی ثقافت کی کورانہ تقلید کے قائل نہیں تھے ۔ بلکہ یہاں ایک نئی تہذیب نے جنم لیا تھا اور اس کے نتیجہ میں ایک نیا معاشرہ وجود میں آیا تھا۔ اس نئی تہذیب کے آثار ان کی تعمیر ات کے ہر انداز سے جھلکتے نظر آتے ہیں ۔

عرب فاتحین کا یہ قائدہ رہا تھا کہ وہ جہاں کہیں فاتح بن کر جاتے وہاں کی علاقائی تہذیب و ثقافت کو اپنا لیتے اور اپنی تعمیرات میں اس علاقہ کی طرز تعمیر کے خدو خال کو شامل کر لیتے ۔ چنانچہ سندھ سے لے کر مراکش تک کی تعمیرات میں عربوں کی یہ خصوصیت واضح طور پر جلوہ گر نظر آتی ہے۔ لیکن اندلس میں انہوں نے یکسر ایک نیا رویہ اپنایا اور ایک ایسی نئی طرز تعمیر کے موجد بنے جس میں عرب، ہسپانوی (Visigothic)، صیہونی، اور اندلس کی دیگر اقوام کی خصوصیات یکجا نظر آتی ہیں۔ ہم یہاں پر اسی طرز تعمیر کی زندہ مثال جامع مسجد قرطبہ کا ذکر کرنے جا رہے ہیں۔ اس مسجد کی طرز تعمیر میں قدیم اسلامی طرز تعمیر صیہونی اور عیسائی طرز تعمیر کے پہلو بہ پہلو ایک نئے امتزاج کے ساتھ ملتا ہے۔

 

اے حرم قرطبہ ! عشق سے تیرا وجود

عشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بود

تیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیل

وہ بھی جلیل و جمیل ، تو بھی جلیل و جمیل

اقبال کی شہرہ آفاق نظم مسجد قرطبہ میں انہوں نے اس مسجد کی جو تصویر کھینچی ہے وہ دل کو چھو لینے والی اور ساتھ ہی دل کو چیر دینے والی ہے ۔ اقبال وہ پہلا شحض ہیں جنہوں نے کئی صدیوں بعد 1931ء میں اس مسجد میں اذان دینے اور نماز ادا کرنے کا شرف حاصل کیا۔

 

مسجد کے صحن کا منظر

یوں تو سر زمین اندلس پر مسلمانوں کے عہد زریں میں بہت سی دلکش و دلفریب عمارات تعمیر ہوئیں لیکن جو نفاست اور پاکیزگی جامع مسجد قرطبہ کے حصہ میں آئی وہ نہ تو الفاظ میں بیان کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی اور ذریعہ اظہار سے اس کے حسن و جمال ، تزئین و آرائش ، نسخی گل کاریوں اور پچی کاریوں کی تفصیل پیش کی جا سکتی ہے ۔ وہ ایسی چیز تھی جودیکھنے کی چیز تھی اور بار بار دیکھنے کی چیز تھی۔ اگرچہ گردش ایام کے تھپیڑوں نے اسے آج کچھ کا کچھ بنا دیا ہے لیکن پھر بھی اس کے حسن و خوبی اور جدت تعمیر و ندرت آرائش کے جو آثار زمانہ کی دستبرد سے بچ سکے ہیں اب بھی اپنے شاندار ماضی کی داستان زبان حال سے سناتے نظر آتے ہیں۔

اس مسجد کی تعمیر کا خیال امیر عبدالرحمن اول المعروف الداخل (756-788) کو سب سے پہلے اس وقت دامن گیر ہوا جب اس نے ایک طرف اندرونی شورشوں پر قابو پا لیا اور دوسری طرف بیرونی خطرات کے سد باب کا بھی مناسب بندوبست کر دیا۔ اس نے اپنی وفات سے صرف دو سال پہلے یہ کام شروع کرایا۔ امیر چاہتا تھا کہ مسجد کو اموی جامع مسجد دمشق کا ہم پلہ بنا کر اہل اندلس و مغرب کو ایک نیا مرکز عطا کرے ۔ یہی وجہ تھی کی اس کی تعمیر کی نگرانی اس نے خود

کی۔

یہ عظیم مسجد وادی الکبیر (ہسپانوی: Guadalquivir)میں دریا پر بنائے گئے قدیم ترین پل(اس پل کو رومی Claudius Marcellus نے تعمیر کروایا تھا) کے قریب اس جگہ واقع ہے جہاں پہلے سینٹ ونسنٹ (St. Vincent of Saragossa) کی یاد میں تعمیر کردہ ایک گرجا قائم تھا اور جس کا ایک حصہ پہلے ہی سے بطور مسجد مسلمانوں کے زیر تصرف تھا (الرازی)۔

السمح بن مالک الخولانی کے عہد میں جب قرطبہ دارالسلطنت بنا تو مسلمانوں نے مسجد کی توسیع کے لئے عیسائیوں سے باقی ماندہ حصہ خریدنے کی خواہش ظاہر کی مگر وہ مسلمانوں کی تمام تر رواداری کے باوجود اسے فروخت کرنے پر تیار نہ ہوئے ۔ لیکن جب عبدالرحمن الداخل کا زمانہ آیا تو اس نے بہت بھاری قیمت ادا کرکے پورا گرجا خریدلیا۔ قبضہ حاصل کرلینے کے بعد 786ء میں امیر نے اسے گرا کر اس کی جگہ ایک دیدہ زیب مسجد کی دیواریں کھڑی کر دیں۔ تعمیر کا کام جس ذوق و شوق سے شروع ہوا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امیر نے دو سال کی قلیل مدت میں اس مسجد کی تعمیر پر 80ہزار دینار خرچ کر دئے ۔

مسجد کی بیرونی چار دیواری اتنی بلند و بالا اور مضبوط تھی کہ وہ شہر کی فصیل نظر آتی تھی ۔ اس فصیل نما چاردیواری کو مزید مضبوط کرنے کے لئے اس کے باہر کی جانب تھوڑے تھوڑے فاصلوں پر پہل پشتیبان (Buttressess) بنائے گئے تھے جن پرکنگرے بنے ہوئے تھے۔

مسجد کی چھت بے شمار ستونوں پر قائم ہے جن کی ترتیب کچھ اس وضع پر ہے کہ ان کے تقاطع سے دونوں طرف کثرت سے متوازی راستے بن گئے ہیں ۔ ان ستونوں پر نہایت ہی پر تکلف نعلی محرابیں (Horseshoe Arches) قائم ہیں۔ یہ نعلی محرابیں نہ صرف اس عظیم مسجد کا وجہ امتیاز ہیں بلکہ ہسپانوی طرز تعمیر کی پہچان بن چکی ہیں ۔ جامع قرطبہ کے ان ستونوں پر دوہری محرابیں بنی ہوئی ہیں ۔ یعنی ایک محراب پر دوسری قائم کر کے انہیں چھت سے ملا دیا گیا ہے ۔ ان محرابوں پر کہیں کہیں قبےّ بنائے گئے تھے جن میں سے چند ایک ابھی تک باقی ہیں ۔ چھت زمین سے تیس فٹ کے قریب بلند تھی ۔ جس کی وجہ سے مسجد میں ہوا اور روشنی کا حصول آسان ہو گیا تھا۔ چھت پر دو سو اسی جگمگاتے ستارے بنائے گئے تھے ۔ جن میں سے اندرونی دالان کے ستارے خالص چاندی کے تھے ۔ اس کے علاوہ چھت مختلف چوبی پٹیوں (Panells) سے آراستہ تھی۔ ہر پٹی پر نقش ونگار کا انداز محتلف تھا ۔ مسجد کے وسط میں تانبے کا ایک بہت بڑا جھاڑ معلق تھا جس میں بیک وقت ہزار چراغ جلتے تھے۔ خاص دالان کے دروازہ پر سونے کا کام کیا گیا تھا۔ جبکہ محراب اور اس سے متصل دیوار سونے کی تھی ۔ سنگ مر مر کے ستونوں پر سونے کے کام سے ان کی تزئین و آرائش کا کام نہایت نفاست سے کیا گیا تھا۔

عبد الرحمن الداخل کے بعد امیر ہشام اول (788-796)مسند امارت پر متمکن ہوا ۔ اس نے بھی اس مسجد کی تعمیر و توسیع کا کام جاری رکھا ۔ اس نے تو اپنے دور حکومت کے سات سالوں میں تمام مال غنیمت کا پانچواں حصہ مسجد کی تعمیر پر خرچ کیا۔ اس عظیم الشان مسجد کا وہ عظیم مینار جو چہار پہلو تھا اسی کے زمانے میں تعمیر ہوا۔ اس مینار کا شمار عجائبات عالم میں ہوتا تھا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اس یکتائے زمانہ مسجد کی تکمیل پر ماہ و سال نہیں صدیاں خرچ ہوئیں ۔ ہر امیر نے اپنی بساط اور ذوق کے مطابق اس پر بے دریغ خرچ کیا۔ ہزاروں مزدوروں نے سینکڑوں معماروں کی معیت میں اس مسجد کی تعمیر و آرائش پر اپنا خون پسینہ ایک کیا تب جا کر اسے وہ مقام حاصل ہوا جو بہت کم عمارتوں کو حاصل ہے ۔

ذیل میں اس مسجد کے بعض اہم حصوں پر الگ الگ روشنی ڈالی گئی ہے ۔

 

محراب و منبر

مسجد میں محراب و منبر کو ایک ممتاز مقام حاصل ہوتا ہے ۔ کیونکہ جہاں باہر سے دیکھنے والوں کے لئے مسجد کا مینار اور گنبد مرکز نگاہ بن جاتے ہیں وہاں مسجد کے اندر محراب و منبر ہی وہ دو مقام ہیں جو ہر ایک کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ مسجد قرطبہ کی محراب (Niche) جس سنگ مر مر سے تیار کی گئی تھی وہ دودھ سے زیادہ اجلا اور برف سے زیادہ چمکیلا تھا ۔ صناعوں نے اسے ہفت پہلو کمرہ بنا دیا تھا جس کے اندر کی جانب سنگ تراشی کے ذریعے خوبصورت گل کاری کا کام کیا گیا تھا۔

اس کے سامنے کی طرف قوس کی شکل کی جو محراب (Arch) بنائی گئی ہے اسے دونوں طرف سے دو ستونوں نے سہارا دے رکھا ہے ۔ ہر جانب ایک ستون نیلگوں اور ایک سرخ ہے ۔ اس محراب پر قوس ہی کی شکل میں پچی کاری (Inlay work)کے ذریعے خوبصورت رنگین نقش ونگار(Arabsque) بنائے گئے ہیں جس کے گرداگرد کوفی رسم الخط میں قرآنی آیات لکھی گئی ہیں۔ محراب کی چھت ایک بہت بڑے صدف سے آراستہ ہے ۔ قبلہ کی دیوار کے ساتھ ساتھ پچی کاری سے مزین تین بڑے بڑے دروازے ہیں جن میں سے درمیانی دروازے میں مسجد کی محراب واقع ہے ۔ محراب کے قریب قبلہ کی دیوار نے تین عظیم قبوں (Vaults or Cupolas) کو تھام رکھا ہے ۔ جن میں سے درمیانی قبے کے اندر پچی کاری کا خوبصورت کام کیا گیا ہے ۔ قبلہ کی دیوار کے ساتھ جو دروازہ ”ساباط“پر بنایا گیا ہے اس کی ایک جانب وہ منبر تھا جو خوشبو دار اور قیمتی لکڑی کے 36ہزار ٹکڑوں سے بنایا گیا تھا۔ ٹکڑوں کو جوڑنے کے لئے سونے اور چاندی کے کیل لگائے گئے تھے ۔ لکڑی کے ہر ٹکڑے پر سات درہم نقرئی خرچ آئے تھے (ابن بشکوال : نفخ الطیب) ۔ جو لکڑی استعمال کی گئی تھی اس میں صندل ، بقم ، حدنگ، آبنوس، اور شوحط شامل ہیں ۔ یہ منبر آٹھ فنکاروں نے سات برس کی طویل مدت میں مکمل کیا تھا ۔ منبر میں زیادہ آب و تاب پیدا کرنے کے لئے اسے جواہرات سے مرصع کیا گیاتھا۔ انقلابات زمانہ کی دستبرد سے اگر مسجد کا کوئی حصہ صحیح حالت میں بچ سکا ہے تو وہ یہی محراب ہے جس کی چمک اور تابانی آج بھی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے ۔

 

ستون

امیر عبد الرحمن الداخل اور امیر ہشام اول کے عہد میں جو ستون مسجد قرطبہ میں استعمال کئے گئے وہ یا تو قرطاجنہ(Cartagena) سے لائے گئے تھے یا اربونہ(Arbonne) اور اشبیلیہ (Seville)سے ۔

لیکن یہ ستون تعداد میں اس قدر زیادہ نہ تھے کہ آئندہ کی تمام ضروریات کو پورا کر سکتے ۔ لہذا عبدالرحمن الناصر (912-961)نے اندلسی سنگ مرمر سے مختلف رنگوں کے ستون ترشوائے ۔ سنگ مر مر کے یہ ستون سفید ، نیلگوں، سرخ، سیاہ، سبز، گلابی اور رنگ برنگ کی چتیوں والے تھے۔ سنگ سماق، سنگ رخام ، اور زبر جد سے بنائے گئے ان ستونوں پر سونے کی مینا کاری اور جواہرات کی پچی کاری کی گئی تھی ۔ مجموعی طور پر ان ستونوں کی تعداد 1400سے زائد تھی۔ ان ستونوں پر نعلی محرابیں اس طرح سے بنائی گئی ہیں کہ یہ ستون کھجور کے تنے اور ان پر بنے چھوٹے بڑے محاریب کھجور کی شاخیں معلوم ہوتی ہیں۔ جس ترتیب اور وضع سے انہیں نسب کیا گیا تھا اس کی بناءپر کسی بھی زاویہ سے انہیں دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کسی دل فریب نخلستان میں کھڑا ہے اور اس کے سامنے ہزار ہا کھجور کے درخت صف بستہ کھڑے ہیں ۔ چھت کو سہارا دینے والے ستونوں پر قائم محرابوں کے علاوہ بہت سی چھوٹی بڑی آرائشی محرابیں بھی بنائی گئی تھیں جو ایک دوسرے کو قطع کرتی نظر آتی ہیں۔ یہ زیادہ تر بند محرابیں (Blind Arches) ہیں جن کے درمیانی حصوں کو گچ کاری (Stucco work)، پچی کاری (Inlay work)اور ٹائلوں کے کام سے آراستہ کیا گیا ہے۔

 

دروازے

مسجد میں توسیع کے نتیجہ میں اس کے دروازوں کی تعداد نو سے بڑھ کر اکیس تک پہنچ گئی تھی ۔ نو دروازے مشرق کی جانب اور نو مغرب کی جانب تھے۔ ان میں ہر طرف کے آٹھ دروازے مردوں کے لئے اور ایک ایک دروازہ عورتوں کے لئے مخصوص تھا۔ شمال کی جانب تین دروازے تھے ان تمام دروازوں کے کواڑوں پر صیقل شدہ پیتل کی پتریاں چڑھائی گئی تھیں جو سورج کی روشنی میں خوب چمکتی تھیں۔ اس کے علاوہ جنوب کی طرف سونے کے کواڑوں والا ایک بڑا دروازہ بھی تھا جو قصر خلافت سے ملانے والی ”ساباط“ نامی مسقف گزرگاہ پر بنا ہوا تھا۔ اسی راستے سے گزر کر امراءاندلس مقصورہ میں داخل ہوتے تھے ۔ ساباط کے دروازے کی محراب پر گنجان پچی کاری کا کام کیا گیا ہے حتی کہ کوفی رسم الخط میں تحریر عبارتیں تک پچی کاری سے لکھی گئی ہیں۔

پانی اور روشنی کا انتظام

مسجد میں فانوسوں اور موم بتیوں کی روشنی کے سبب رات کو بھی دن کا گمان گزرتا تھا ۔ اگرچہ اس میں جلنے والے چراغوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں مگر پھر بھی وہ ساڑھے سات ہزار سے کسی طرح کم نہ تھے ۔ سال بھر میں ساڑھے تین من موم کے علاوہ تین سو من تیل جلایا جاتا تھا۔

شروع میں وضو کرنے کے لئے پانی مسجد کے باہر کے ایک کنویں سے میضاة (وضو خانہ) میں پکھالوں کے ذریعہ لا کر بھرا جاتا تھا۔ لیکن بعد میں الحکم نے چار میضاة بنوائے جن میں سے دو بڑے اور دو چھوٹے تھے ۔ ان میں پانی بھرنے کے لئے ایک پختہ نہر جبل قرطبہ کو کاٹ کر مسجد تک لائی گئی تھی ۔ اس کا پانی نہایت عمدہ اور شیریں تھااور ہر وقت رواں رہتا تھا ۔ مسجد کی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد یہ پانی تین زمین دوز نالیوں کے ذریعہ مسجد سے باہر نکل جاتا تھا۔

 

مینار

مسجد قرطبہ میں مینار کا اضافہ سب سے پہلے ہشام اول نے کیا تھا ۔ یہ مینار چہار پہلو تھا اور اس کے اوپر جانے کے لئے صرف ایک زینہ تھا۔ اس کی بلندی بھی عمارت کی مناسبت سے رکھی گئی تھی۔

888ءمیں ایک زلزلہ سے اس عمارت کو شدید نقصان پہنچا تھا ۔ لہذا عبدالرحمن الناصر جب سریر آرائے خلافت ہوا تو اس نے پرانے مینار کی جگہ دوسرا مینار بنوایا جو پہلے مینار کی بہ نسبت کہیں زیادہ رفیع الشان تھا ۔ اس مینار کے بارے میں نفخ الطیب میں ابن بشکوال کی جو عبارت نقل ہوئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی بلندی بہتر ہاتھ تھی ۔ زمین سے چون ہاتھ کی بلندی پر ایک چھجہ تھا ۔ جس پر ستون قائم کرکے ان پر ایک برج بنا دیا گیا تھا جہاں مؤذن اذان دیتا تھا ۔ پہلے مینار کے برعکس اس میں اوپر جانے کے لئے دو زینے بنا دئے گئے تھے ۔ برج کے اوپر کلس تھا جو سیب کی شکل کے تین گولوں پر مشتمل تھا جو ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے بیچ کا گولہ چاندی کا اور دوسرے دونوں سونے کے تھے ۔ ان سیبوں کے اوپر چھ پنکھڑیوں والا سوسن کا پھول تھا جس پر نہایت خوبصورت سونے کا انار بنا دیا گیاتھا۔

 

مقصورہ

الحکم نے جو مقصورہ تیار کرایا تھا اس کے بارے میں نفخ الطیب میں ابن بشکوال کا قول ابن سعید کے حوالے سے اس طرح نقل ہوا ہے کہ دیوار قبلہ سے متصل دالان کے گیارہ دروں میں سے بیچ کے پانچ دروں کو گھیر کر یہ مقصورہ بنایا گیا تھا۔

مقصورہ سے کچھ دور لکڑی کی دیوار بنا دی گئی تھی جس پر نہایت ہی عمدہ کام کیا گیا تھا۔ اس مقصورہ کا فرش مسجد کے باقی فرش سے کسی قدر اونچا رکھا گیا تھا۔ اس میں داخل ہونے کے لئے تین دروازے تھے۔ ایک دروازہ قبلہ کی دیوار میں جبکہ ایک مشرق و مغرب کے سمت میں تھا۔ مقصورہ کا فرش چاندی کا اور تمام دیواروں پر جڑاؤ کا کام بلّور کے ٹکڑوں اور قیمتی رنگین نگینوں سے کیا گیا تھا۔ ان بلّور کے ٹکڑوں اور نگینوں پر بھی سونے کی مینا کاری تھی۔ مقصورہ میں ایک ستون کی جگہ چار ستون کھڑے کر کے ان پر متعدد الجہت محاریب (Polygon Arches) والے تاج قائم کئے گئے تھے۔ ان ستونوں پر اوپر سے نیچے تک فیروزے جڑ کر کے سونے کے پھول بوٹے بنائے گئے تھے۔hfkjfchj ;

یہ مستطیل مسجد لمبائی میں 180میٹر اور چوڑائی میں 135میٹر ہے ۔ اس رقبہ میں مسجد کا قبلہ کی سمت دالانوں والا حصہ ، صحن مسجد اور تین طرف کے دالانوں کے علاوہ اس مینار کو بھی شامل کیا گیا ہے جو مسجد کے مینار کی جگہ بنایا گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ :

 

"رنگ ہو یا خشت وسنگ ، چنگ ہو یا حرف وصوت

معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود!"

 

مسلمانوں کا مطالبہ

دسمبر 2006ء میں اسپین کے مسلمانوں نے پوپ بینیڈکٹ سے اپیل کی کہ انہیں مسجد قرطبہ میں عبادت کی اجازت دی جائے۔ اسپین کے اسلامک بورڈ نے پوپ کے نام خط میں لکھا ہے کہ سپین کے کلیسا نے ان کی درخواست مستردکردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقدس جگہ کی حوالگی کی درخواست نہیں بلکہ وہ تمام مذاہب کے ساتھ مل کر عبادت کر کے عیسائی دنیا میں ایک اچھوتی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں۔ دسمبر 2006ء کے اوائل میں ہسپانوی کیتھولک چرچ نے مسلمانوں کو جامع قرطبہ میں نماز کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس عبادت گاہ میں مشترکہ عبادت کیلئے دیگر مذاہب سے بات چیت کیلئے تیار نہیں۔ مسلم بورڈ کے جنرل سیکرٹری منصور ایکسڈیرو کے مطابق قبل ازیں سیکورٹی گارڈز نے اندرونی حصے میں پرانی مسجد میں مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روک دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رومن کیتھولک چرچ کے بعض عناصر اسپین میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ گرجا جو دنیا بھر میں مسجد کے طور پر جانا جاتا ہے اور اسے دیکھنے کیلئے دنیا بھر کے مسلمان یہاں آتے ہیں۔

قرآن، کعبہ، سیرت پیغمبر اسلام (ص) اور اھلبیت اطھار(ع) سے تمسک سامراجیت کے پنجے سے نجات کا سبب ہے۔ آیت الله سبحانی

 

حضرت آیت الله سبحانی نے قرآن، کعبہ، سیرت پیغمبر اسلام (ص) اور اھلبیت اطھار(ع) سے تمسک مسلمانوں کو سامراجیت کے خون آشام پنجے سے نجات کا سبب جانا اور کہا : اسلام دشمن عناصر کے بقول جب تک مسلمانوں کے درمیان یہ معیار موجود ہے ان پر قبضہ ناممکن ہے ۔

رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله جعفر سبحانی نے اپنی سلسلہ وار تفسیر کی نشست میں جو مدرسہ حجتیہ قم میں طلاب و افاضل کی موجودگی میں منعقد ہوئی انگلینڈ کے سابق وزیر خارجہ کے سن 1888 کے بیان کا تجزیہ کرتے ہوئے یاد دہانی کی : تمام چرچ کو بھیجے گئے اس پیغام میں لکھا تھا کہ جب تک قرآن، کعبہ، سیرت پیغمبر اسلام (ص) اور اھلبیت اطھار(ع) مسلمانوں کے درمیان ہے ان پر قبضہ ناممکن ہے اور نصیریت کو خطرہ لاحق ہے ۔ انہوں نے عید مبعث وغدیر اور ولادت ائمہ کے موقع پر محفلوں کے انعقاد کو سوره الشرح کی چوتھی ایت کے ائینے میں مسلمانوں کیلئے ضروری جانا اور کہا : وہابیت اس کے عین مخالف ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام کام بدعتیں ہیں کیوں کہ اصحاب پیغمبر اسلام (ص) نے اس کام انجام نہیں دیا تھا ۔

اس مرجع تقلید نے وہابیوں کے شبھہ کا جواب دیتے ہوئے کہا : ترک عمل مبادی شریعت میں سے نہیں ہے، یعنی ھرگز پیغمبر اسلام (ص) کی جانب سے کسی کام کو انجام نہ دینا اس کی حرمت پر دلیل نہیں ہے، پیغمبر اسلام (ص) اور صحابہ کرام نے بہت سارے وہ کام انجام نہیں دئے ہیں جسے ھم سبھی اج انجام دیتے ہیں، نتیجتا وہابیت کے لحاظ سے تمام کے تمام مسلمان حرام کام میں مبتلا ہیں ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے سوره مائده کی اخری آیاتوں کو وہابیت کے ان نظریات کا رد جانا اورکہا : جس دن خداوند متعال نے حضرت عیسی(ع) کے حواریوں کیلئے مائدہ آسمانی بھیجا اس دن کو حضرت عیسی(ع) نے عید کا دن اعلان کیا؛ کیا مبعث پیغمبر اسلام (ص) کی اھمیت مائده آسمانی سے کم ہے جسے وہابیت کہتی ہے کہ اس دن عید نہیں منانی چاھئے ۔

سرکار دو عالم (ص) :

من أحب الحسن والحسين عليهما السلام فقد أحبني

(جس نے حسنین علیہما السلام سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی)

 

آپ کی ولادت

آپ ۱۵/ رمضان ۳ ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں پیداہوئے ۔ ولادت سے قبل ام الفضل نے خواب میں دیکھا کہ رسول اکرم(ص) کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا میرے گھر میں آ پہنچا ہے ۔ خواب رسول کریم سے بیان کیا آپ نے فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے کہ میری لخت جگر فاطمہ کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیداہوگا جس کی پرورش تم کرو گی۔ مورخین کا کہنا ہے کہ رسول کے گھر میں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی۔ آپ کی ولادت نے رسول کے دامن سے مقطوع النسل ہونے کا دھبہ صاف کردیا اور دنیا کے سامنے سورئہ کوثرکی ایک عملی اور بنیادی تفسیر پیش کردی۔

 

آپ کانام نامی

ولادت کے بعداسم گرامی حمزہ تجویز ہو رہاتھا لیکن سرورکائنات نے بحکم خدا، موسی کے وزیرہارون کے فرزندوں کے شبر و شبیر نام پرآپ کانام حسن اور بعد میں آپ کے بھائی کانام حسین رکھا-

 

آپ کا عقیقہ

آپ کی ولادت کے ساتویں دن سرکارکائنات نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ( اسدالغابة جلد ۳ ص ۱۳) ۔

علامہ کمال الدین کابیان ہے کہ عقیقہ کے سلسلے میں دنبہ ذبح کیا گیاتھا (مطالب السؤل ص ۲۲۰) کافی کلینی میں ہے کہ سرورکائنات نے عقیقہ کے وقت جو دعا پڑھی تھی اس میں یہ عبارت بھی تھی ” اللہم عظمہا بعظمہ، لحمہا بلحمہ دمہابدمہ وشعرہابشعرہ اللہم اجعلہا وقاء لمحمد والہ“ خدایا اس کی ہڈی مولود کی ہڈی کے عوض، اس کا گوشت اس کے گوشت کے عوض، اس کاخون اس کے خون کے عوض، اس کابال اس کے بال کے عوض قرار دے اور اسے محمد و آل محمد کے لیے ہر بلا سے نجات کا ذریعہ بنا دے ۔

امام شافعی کا کہنا ہے کہ آنحضرت نے امام حسن کاعقیقہ کرکے اس کے سنت ہونے کی دائمی بنیاد ڈل دی (مطالب السؤل ص ۲۲۰) ۔

 

کنیت و القاب

آپ کی کنیت صرف ابو محمد تھی اور آپ کے القاب بہت کثیر ہیں : جن میں طیب ،تقی ، سبط اور سید زیادہ مشہور ہیں-

 

امام حسن پیغمبر اسلام کی نظر میں

سرورکائنات نے بے شمار احادیث آپ کے متعلق ارشادفرمائی ہیں:

ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ میں حسنین کو دوست رکھتا ہوں اور جو انہیں دوست رکھے اسے بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

ایک صحابی کابیان ہے کہ میں نے رسول کریم کو اس حال میں دیکھاہے کہ وہ ایک کندھے پرامام حسن کو اور ایک کندھے پر امام حسین کو بٹھائے ہوئے لیے جارہے ہیں اور باری باری دونوں کا منہ چومتے جاتے ہیں ایک صحابی کابیان ہے کہ ایک دن آنحضرت نماز پڑھ رہے تھے اور حسنین آپ کی پشت پرسوار ہو گئے کسی نے روکناچاہا تو حضرت نے اشارہ سے منع کردیا(اصابہ جلد ۲ ص ۱۲) ۔

ایک صحابی کابیان ہے کہ میں اس دن سے امام حسن کو بہت زیادہ دوست رکھنے لگا ہوں جس دن میں نے رسول کی آغوش میں بیٹھ کر انہیں داڈھی سے کھیلتے دیکھا (نورالابصارص ۱۱۹) ۔

امام نسائی عبداللہ ابن شداد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن نمازعشاء پڑھانے کے لیے آنحضرت تشریف لائے آپ کی آغوش میں امام حسن تھے آنحضرت نماز میں مشغول ہوگئے ، جب سجدہ میں گئے تو اتنا طول دیا کہ میں یہ سمجھنے لگا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہونے لگی ہے اختتام نماز پر آپ سے اس کا ذکر کیا گیا تو فرمایا کہ میرا فرزند میری پشت پر آ گیا تھا میں نے یہ نہ چاہا کہ اسے اس وقت تک پشت سے اتاروں ،جب تک کہ وہ خود نہ اترجائے ، اس لیے سجدہ کو طول دیناپڑا ۔

 

امام حسن کی سرداری جنت

آل محمدکی سرداری مسلمات سے ہے علماء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ سرورکائنات نے ارشاد فرمایا ہے ”الحسن والحسین سیداشباب اہل الجنة و ابوہما خیر منہما“ حسن اورحسین جوانان جنت کے سردار ہیں اور ان کے والد ان دونوں سے بہترہیں۔

جناب حذیفہ یمانی کابیان ہے کہ میں نے آنحضرت کو ایک دن بہت زیادہ مسرور پاکرعرض کی مولا آج افراط شادمانی کی کیا وجہ ہے ارشادفرمایا کہ مجھے آج جبرئیل نے یہ بشارت دی ہے کہ میرے دونوں فرزندحسن و حسین جوانان بہشت کے سردارہیں اور ان کے والد علی ابن ابی طالب ان سے بھی بہتر ہیں (کنزالعمال ج ۷ ص ۱۰۷ ،صواعق محرقہ ص ۱۱۷)

 

امام حسن کابچپن اور مسائل علمیہ

1 ۔ ایک روز امیرالمومنین مقام رحبہ میں تشریف فرماتے تھے اور حسنین بھی وہاں موجود تھے ناگاہ ایک شخص آ کر کہنے لگا کہ میں آپ کی رعایا اور اہل بلد(شہری) ہوں حضرت نے فرمایا کہ تو جھوٹ کہتا ہے تونہ میری رعایا میں سے ہے اورنہ میرے شہرکاشہری ہے بلکہ تو بادشاہ روم کافرستادہ ہے تجھے اس نے معاویہ کے پاس چند مسائل دریافت کرنے کے لیے بھیجاتھا اوراس نے میرے پاس بھیج دیاہے اس نے کہایا حضرت آپ کاارشاد بالکل درست ہے مجھے معاویہ نے پوشیدہ طورپرآپ کے پاس بھیجاہے اوراس کاحال خداوند عالم کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہے مگرآپ بہ علم امامت سمجھ گئے، آپ نے فرمایاکہ اچھا اب ان مسائل کے جوابات ان دوبچوں میں سے کسی ایک سے پوچھ لے وہ امام حسن کی طرف متوجہ ہواچاہتاتھا کہ سوال کرے امام حسن نے فرمایا:

یے شخص تویہ دریافت کرنے آیاہے کہ ۱ ۔ حق و باطل کتنا فاصلہ ہے ۲ ۔ زمین و آسمان تک کتنی مسافت ہے

۳ ۔ مشرق و مغرب میں کتنی دوری ہے ۔ ۴ ۔ قوس قزح کیاچزہے ۵ ۔ مخنث کسے کہتے ہیں ۶ ۔ وہ دس چیزیں کیاہیں جن میں سے ہرایک کوخداوندعالم نے دوسرے سے سخت اورفائق پیدا کیاہے۔

سن، حق و باطل میں چار انگشت کا فرق و فاصلہ ہے اکثر و بیشتر جوکچھ آنکھ سے دیکھاحق ہے اورجوکان سے سنا باطل ہے(آنکھ سے دیکھاہوایقینی ۔ کان سے سناہوامحتاج تحقیق )۔

زمین اور آسمان کے درمیان اتنی مسافت ہے کہ مظلوم کی آہ اورآنکھ کی روشنی پہنچ جاتی ہے ۔

مشرق و مغرب میں اتنافاصلہ ہے کہ سورج ایک دن میں طے کرلیتاہے ۔

اور قوس و قزح اصل میں قوس خداہے اس لئے کہ قزح شیطان کانام ہے ۔ یہ فراوانی رزق اوراہل زمین کے لیے غرق سے امان کی علامت ہے اس لئے اگریہ خشکی میں نمودارہوتی ہے توبارش کے حالات میں سے سمجھی جاتی ہے اوربارش میں نکلتی ہے تو ختم باران کی علامت میں سے شمارکی جاتی ہے ۔

مخنث وہ ہے جس کے متعلق یہ معلوم نہ ہوکہ مردہے یا عورت اور اس کے جسم میں دونوں کے اعضاء ہوں اس کا حکم یہ ہے کہ تا حد بلوغ انتظارکریں اگرمحتلم ہو تو مرد اورحائض ہو اور پستان ابھرائیں تو عورت ۔

اگراس سے مسئلہ حل نہ ہوتو دیکھناچاہئے کہ اس کے پیشاب کی دھاریں سیدھی جاتی ہیں یا نہیں اگرسیدھی جاتی ہیں تو مرد، ورنہ عورت ۔

اوروہ دس چیزیں جن میں سے ایک دوسرے پرغالب و قوی ہے وہ یہ ہیں کہ خدانے سب سے زائدسخت قوی پتھرکوپیداکیاہے مگراس سے زیادہ سخت لوہا ہے جوپتھرکوبھی کاٹ دیتاہے اوراس سے زائدسخت قوی آگ ہے جولوہے کوپگھلادیتی ہے اورآگ سے زیادہ سخت قوی پانی ہے جوآگ کوبجھادیتاہے اوراس سے زائد سخت وقوی ابرہے جوپانی کواپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتاہے اوراس سے زائد وقوی ہواہے جوابرکواڑائے پھرتی ہے اورہواسے زائد سخت وقوی فرشتہ ہے جس کی ہوامحکوم ہے اوراس سے زائدسخت وقوی ملک الموت ہے جوفرشتہ بادکی بھی روح قبض کرلیں گے اورموت سے زائد سخت وقوی حکم خداہے جوموت کوبھی ٹال دیتاہے۔یہ جوابات سن کرسائل پھڑک اٹھا۔

2۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے دیکھاکہ ایک شخص کے ہاتھ میں خون آلودچھری ہے اوراسی جگہ ایک شخص ذبح کیاہوا پڑاہے جب اس سے پوچھاگیاکہ تونے اسے قتل کیاہے،تواس نے کہا ہاں ،لوگ اسے جسدمقتول سمیت جناب امیرالمومنین کی خدمت میں لے چلے اتنے میں ایک اور شخص دوڑتاہواآیا،اورکہنے لگا کہ اسے چھوڑدو اس مقتول کاقاتل میں ہوں ۔ ان لوگوں نے اسے بھی ساتھ لے لیااورحضرت کے پاس لے گئے ساراقصہ بیان کیا آپ نے پہلے شخص سے پوچھاکہ جب تواس کاقاتل نہیں تھاتوکیاوجہ ہے کہ اپنے کواس کاقاتل بیان کیا،اس نے کہایامولا میں قصاب ہوں گوسفندذبح کررہاتھا کہ مجھے پیشاب کی حاجت ہوئی ،اس طرح خون آلود چھری میں لیے ہوئے اس خرابہ میں چلاگیا وہاں دیکھاکہ یہ مقتول تازہ ذبح کیاہواپڑاہے اتنے میں لوگ آگئے اورمجھے پکڑلیا میں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ اس وقت جبکہ قتل کے سارے قرائن موجودہیں میرے انکارکوکون باور کرے گا میں نے اقرارکرلیا ۔

پھرآپ نے دوسرے سے پوچھاکہ تواس کاقاتل ہے اس نے کہا جی ہاں، میں ہی اسے قتل کرکے چلاگیاتھا جب دیکھاکہ ایک قصاب کی ناحق جان چلی جائے گی توحاضرہوگیا آپ نے فرمایامیرے فرزندحسن کوبلاؤ وہی اس مقدمہ کافیصلہ سنائیں گے امام حسن آئے اور سارا قصہ سنا، فرمایا دونوں کوچھوڑدو یہ قصاب بے قصورہے اور یہ شخص اگرچہ قاتل ہے مگراس نے ایک نفس کو قتل کیاتودوسرے نفس (قصاب) کو بچاکر اسے حیات دی اور اسکی جان بچالی اور حکم قرآن ہے کہ ”من احیاہافکانما احیاالناس جمیعا“ یعنی جس نے ایک نفس کی جان بچائی اس نے گویا تمام لوگوں کی جان بچائی لہذا اس مقتول کاخون بہا بیت المال سے دیاجائے۔

 

امام حسن اور تفسیر قرآن

علامہ ابن طلحہ شافعی بحوالہ تفیر و سیط واحدی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس اور ابن عمرسے ایک آیت سے متعلق ”شاہد و مشہود“ کے معنی دریافت کئے ابن عباس نے شاہد سے یوم جمعہ اور مشہود سے یوم عرفہ بتایا اور ابن عمرنے یوم جمعہ اور یوم النحر کہا اس کے بعدوہ شخص امام حسن کے پاس پہنچا، آپ نے شاہدسے رسول خدا اور مشہود سے یوم قیامت فرمایا اور دلیل میں آیت پڑھی :

۱ ۔ یاایہاالنبی اناارسلناک شاہدا ومبشرا ونذیرا ۔ائے نبی ہم نے تم کو شاہد و مبشر اور نذیر بناکر بھیجاہے ۔

۲ ۔ ذالک یوم مجموع لہ الناس وذالک یوم مشہود۔ قیامت کا وہ دن ہوگا جس میں تمام لوگ ایک مقام پرجمع ہوں کردیے جائیں کے، اور یہی یوم مشہود ہے ۔ سائل نے سب کاجواب سننے کے بعد کہا ”فکان قول الحسن احسن“ امام حسن کا جواب دونوں سے کہیں بہترہے (مطالب السؤل ص ۲۲۵) ۔

 

امام حسن کی عبادت

امام زین العابدین فرماتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام زبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایا پیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثرموت، عذاب، قبر، صراط اور بعثت و نشور کو یاد کرکے رویاکرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے تو آپ کے چہرہ کا رنگ زرد ہوجا یاکرتاتھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے آپ کامعمول تھاکہ جب دروازہ مسجد پر پہنچتے تو خدا کو مخاطب کرکے کہتے میرے پالنے والے تیراگنہگاربندہ تیری بارگاہ میں آیاہے اسے رحمن و رحیم اپنے اچھائیوں کے صدقہ میں مجھ جیسے برائی کرنے والے بندہ کومعاف کردے آپ جب نماز صبح سے فارغ ہوتے تھے تواس وقت تک خاموش بیٹھے رہتے تھے جب تک سورج طالع نہ ہوجائے (روضة الواعظین بحارالانوار)۔

 

آپ کا زہد

امام شافعی لکھتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام نے اکثر اپنا سارا مال راہ خدا میں تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایاہے وہ عظیم و پرہیزگارتھے۔

 

آپ کی سخاوت

مورخین لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت امام حسن علیہ السلام سے کچھ مانگا دست سوال دراز ہوناتھا کہ آپ نے پچاس ہزار درہم اور پانچ سو اشرفیاں دے دیں اور فرمایا کہ مزدور لاکر اسے اٹھوالے جا اس کے بعد آپ نے مزدور کی مزدوری میں اپنا چغابخش دیا (مراة الجنان ص ۱۲۳) ۔

ایک مرتبہ آپ نے ایک سائل کو خدا سے دعا کرتے دیکھا خدایا مجھ دس ہزار درہم عطا فرما آپ نے گھرپہنچ کر مطلوبہ رقم بھجوادی (نورالابصار ص ۱۲۲) ۔

آپ سے کسی نے پوچھاکہ آپ توفاقہ کرتے ہیں لیکن سائل کو محروم واپس نہیں فرماتے ارشاد فرمایاکہ میں خدا سے مانگنے والاہوں اس نے مجھے دینے کی عادت ڈال رکھی ہے اور میں نے لوگوں کو دینے کی عادت ڈالی رکھی ہے میں ڈرتاہوں کہ اگر اپنی عادت بدل دوں ، تو کہیں خدا بھی نہ اپنی عادت بدل دے اور مجھے بھی محروم کردے (ص ۱۲۳) ۔

 

توکل کے متعلق آپ کا ارشاد

امام شافعی کا بیان ہے کہ کسی نے امام حسن سے عرض کی کہ ابوذرغفاری فرمایاکرتے تھے کہ مجھے توانگری سے زیادہ ناداری اورصحت سے زیادہ بیماری پسندہے آپ نے فرمایا کہ خدا ابوذر پر رحم کرے ان کا کہنا درست ہے لیکن میں تو یہ کہتاہوں کہ جو شخص خدا کے قضا و قدر پر توکل کرے وہ ہمیشہ اسی چیزکوپسند کرے گا جسے خدا اس کے لیے پسندکرے (مراة الجنان جلد ۱ ص ۱۲۵) ۔

 

امام حسن حلم اور اخلاق کے میدان میں

علامہ ابن شہرآشوب تحریرفرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام حسن علیہ السلام گھوڑے پرسوارکہیں تشریف لیے جارہے تھے راستہ میں معاویہ کے طرف داروں کاایک شامی سامنے آپڑا اس نے حضرت کو گالیاں دینی شروع کردیں آپ نے اس کا مطلقا کوئی جواب نہ دیا جب وہ اپنی جیسی کرچکا توآپ اس کے قریب گئے اوراس کو سلام کرکے فرمایا کہ بھائی شاید تو مسافر ہے، سن اگرتجھے سواری کی ضرورت ہو تو میں تجھے سواری دیدوں، اگرتو بھوکاہے توکھاناکھلادوں، اگرتجھے کپڑے درکارہوں تو کپڑے دیدوں، اگرتجھے رہنے کو جگہ چاہئے تو مکان کاانتظام کردوں، اگر دولت کی ضرورت ہے تو تجھے اتنا دیدوں کہ تو خوش حال ہوجائے یہ سن کرشامی بے انتہا شرمندہ ہوا اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ آپ زمین خدا پر اس کے خلیفہ ہیں مولا میں تو آپ کو اور آپ کے باپ دادا کو سخت نفرت اور حقارت کی نظرسے دیکھتاتھا لیکن آج آپ کے اخلاق نے مجھے آپ کاگردیدہ بنادیا اب میں آپ کے قدموں سے دور نہ جاؤں گا اورتا حیات آپ کی خدمت میں رہوں گا (مناقب جلد ۴ ص ۵۳ ،وکامل مبروج جلد ۲ ص ۸۶) ۔

 

بعض اقوال حضرت امام حسن علیہ السلام

 

حدیث-۱

قال الامام الحسن علیہ السلام:” عجبت لمن یتفکر فی ماکولہ کیف لا یتفکر فی معقولہ فیجنب بطنہ ، ما یوء ذیہ و یودع صدرہ ما یردیہ“

ترجمہ:

حضرت امام حسن علیہ السلام فرماتے ھیں :” مجھے تعجب ھے اس شخص پر کہ جو جسمانی غذا کے متعلق توغور و فکر کرتا ھے لیکن روحانی غذا کے لئے نھیں ۔ نقصان دہ غذاؤں کو اپنے شکم سے دور رکھتا ھے لیکن ھلاک کرنے والے مطالب کو اپنے قلب میں جگہ دیتا ھے “۔

حدیث -۲

قال الامام الحسن علیہ السلام :”القریب من قربتہ المودة و ان بعد نسبہ و البعید من باعدتہ المودة و ان قرب نسبہ “

ترجمہ:

حضرت امام حسن علیہ السلام فرماتے ھیں :” رشتہ داروں میں قریب ترین افراد وہ ھیں جن کے اندر محبت زیادہ ھے اگر چہ نسب کے لحاظ سے دور ھوں ۔ اور رشتہ داروں میں دورترین افراد وہ ھیں جن کے اندر محبت کم ھے اگر چہ وہ نسب کے لحاظ سے قریب ھوں “۔

حدیث -۳

قال الامام الحسن علیہ السلام” ما تشاور قوم الا ھدوا الی رشدھم “

ترجمہ:

حضرت امام حسن علیہ السلام فرماتے ھیں : ” کوئی بھی گروہ اپنے امور میں ایک دوسرے سے مشورہ نھیں کرتا مگر یہ کہ اس میں انکے لئے خیر و صلاح ھو “۔

حدیث -4

قال الامام الحسن علیہ السلام:” اللوٴم ان لا تشکر النعمة “

ترجمہ ۔

حضرت امام حسن علیہ السلام فرماتے ھیں : ” انسان کی پستی و ذلت یہ ھے کہ نعمت کا شکر ادا نہ کرے “ ۔

حدیث -5

قال الامام الحسن علیہ السلام:” العار اھون من النار “

ترجمہ:

حضرت امام حسن علیہ السلام فرماتے ھیں :” ذلت دوزخ کی آگ سے بھتر ھے “۔

حدیث -۶

قال الامام الحسن علیہ السلام:” الخیر الذی لا شر فیہ : الشکر مع النعمة و الصبر علی النازلة “

ترجمہ:

حضرت امام حسن علیہ السلام فرماتے ھیں : ” ایک خیر ایسا ھے جس میں کسی طرح کا کوئی شر نھیں ھے : وہ یہ ھے کہ نعمت ملنے پر شکر ،اور مصیبت کے وقت صبر کیا جائے“۔

حدیث -۷

قال الامام الحسن علیہ السلام:”اذا لقی احدکم اخاہ فلیقبل موضع النور من جبھتہ “

ترجمہ:

حضرت امام حسن علیہ السلام فرماتے ھیں :” جب تم میں سے کوئی اپنے دینی بھائی سے ملاقات کرے تو اسکی نورانی پیشانی کا بوسہ لے

صحیفہ امام حسن علیہ السلام میں آنحضرت کی دعائیں

1۔ آنحضرت کی دعا خدا کی تسبیح اور پاکیزگی کے متعلق

پاک و پاکیزہ ہے وہ جس نے اپنی مخلوقات کو اپنی قدرت کے ذریعے پیدا کیا اور اُن کو اپنی حکمت کے تحت محکم اور مضبوط خلق فرمایا۔ اپنے علم کی بنیاد پر ہرچیز کو اپنے مقام پر قرار دیا۔ پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات جو آنکھوں کی خیانت اور جو کچھ دلوں میں ہے، جانتا ہے۔ اُس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

2۔ مہینے کی دس اور گیارہ تاریخ کو خدا کی تسبیح اور تقدیس میں آنحضرت کی دعا

پاک و پاکیزہ ہے نورکو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے تاریکی کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے پانیوں کو خلق کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے آسمانوں کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے زمینوں کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے ہواؤں کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے سبزے کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے زندگی اور موت کو پید اکرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے مٹی اور بیابانوں کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے خدا اور تعریف و ثناء اُسی کیلئے ہے۔

3۔ آنحضرت کی دعا خدا کے ساتھ مناجات کرنے کے متعلق

اے اللہ! تیری بارگاہ میں کھڑا ہوں اور اپنے ہاتھ تیری طرف بلند کئے ہیں، باوجود اس کے کہ میں جانتا ہوں کہ میں نے تیری عبادت میں سستی کی ہے اورتیری اطاعت میں کوتاہی کی ہے۔ اگر میں حیاء کے راستے پر چلا ہوتا تو طلب کرنے اور دعا کرنے سے ڈرتا۔

لیکن اے پروردگار! جب سے میں نے سنا ہے کہ تو نے گناہگاروں کو اپنے دربار میں بلایا ہے اور اُن کو اچھی طرح بخشنے اور ثواب کا وعدہ دیا ہے، تیری ندا پر لبیک کہنے کیلئے آیا ہوں اور مہربانی کرنے والوں کے مہربان کی محبت کی طرف پناہ لئے ہوئے ہوں۔

اور تیری رسول کے وسیلہ سے جس کو تو نے اہلِ اطاعت پر فضیلت عطا کی ہے، اپنی طرف سے قبولیت اور شفاعت اُس کو عطا کی ہے، اس کے چنے ہوئے وصی کے وسیلہ سے کہ جو تیرے نزدیک جنت اور جہنم کے تقسیم کرنے والامشہور ہے، عورتوں کی سردار فاطمہ کے صدقہ کے ساتھ اور ان کی اولاد جو رہنما اور اُن کے جانشین ہیں، کے وسیلہ سے، اُن تمام فرشتوں کے وسیلہ سے کہ جن کے وسیلہ سے تیری طرف جب متوجہ ہوتے ہیں اور تیرے نزدیک شفاعت کیلئے وسیلہ قرار دیتے ہیں، وہ تیرے دربار کے خاص الخاص ہیں، میں تیری طرف متوجہ ہوا ہوں۔

پس ان پر درود بھیج اور مجھے اپنی ملاقات کے خطرات سے محفوظ فرما۔ مجھے اپنے خاص اور دوست بندوں میں سے قرار دے۔ اپنے سوال اور گفتگو میں سے میں نے اُس کو مقدم کیا ہے۔

جو تیری ملاقات اور دیدار کا سبب بنے اور اگر ان تمام چیزوں کے باوجود میری دعاؤں کو رد کردے گا تو میری اُمیدیں نااُمیدی میں تبدیل ہوجائیں گی۔ اس طرح جیسے ایک مالک اپنے نوکر کے گناہوں کو دیکھے اور اُسے اپنے دربار سے دور کردے۔ ایک مولا اپنے غلام کے عیوب کا ملاحظہ کرے اور اُس کے جواب سے اپنے آپ کو روک لے۔افسوس ہے مجھ پر۔