Super User

Super User

جنیوا سمھجوتہ ملت اسلامیہ کی عظمت کی ٹیکٹیکخطیب نماز جمعہ تہران حجۃ الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی نے کہا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے سمجھوتے کا سبب کمزور پوزیشن نہیں ہے اور یہ سمجھوتہ گروپ پانچ جمع ایک کی صداقت کی کسوٹی اور اسلامی دنیا کی عظمت و سربلندی کے لۓ ایک ٹیکٹک [Tactic] ہے۔

تہران کی مرکزی نماز جمعہ حجۃ الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی کی امامت میں ادا کی گئي۔ حجۃ الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب کے دوران آئندہ دنوں میں جنیوا سمجھوتے پر عملدرآمد کے آغاز کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ ایران کی ثابت قدم ملت نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تمام خطرات اور چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کردیا ہے۔

حجۃ الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی نے ملت ایران کی جانب سے ایران کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے تاکید کی کہ ملت ایران کبھی بھی کسی کی دھکمیوں میں نہیں آئے گي اور نہ ہی کوئي منہ زوری قبول کرے گی۔ خطیب نماز جمعہ تہران نے اس کے ساتھ ساتھ ایران کی ایٹمی مذاکرات کار ٹیم کو نصیحت کی کہ وہ ان مذاکرات کے دوران پوری احتیاط سے کام لے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی ریڈ لائنز اور مفادات کا تحفظ کرے۔

حجۃ الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی اپنے حالیہ دورے کے دوران حزب اللہ لبنان کے سینئر کمانڈر شہید عماد مغنیہ کے مزار پر حاضری کو بھی سراہا اور کہا کہ سامراجی دنیا اور اسرائیل کے خلاف لبنان کی استقامت اسلامی دنیا اور انسانیت کے لۓ باعث فخر ہے۔

خطیب نماز جمعہ تہران نے مزید کہا کہ حزب اللہ لبنان سب سے پہلا ایسا گروہ ہے جس نے اسرائیل کے ناقبل شکست ہونے کا طلسم توڑ دیا اور استقامت کا اعجاز ساری دنیا پر واضح کردیا۔

حجۃ الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی نے حزب اللہ کے رہنماؤں کے قتل اور صبرا و شتیلا میں صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم ایریل شیرون کے مظالم کی جانب اشارہ کیا اور یورپی حکام کی جانب سے اس ظالم کی موت پر کۓ جانے والے اظہار تعزیت پر افسوس کا ظاہر کیا اور کہا کہ اب وقت آگیا ہےکہ یورپ کے لوگ بیدار ہوجائيں اور جان لیں کہ ان کے رہنما کس طرح کے گروہوں اور عناصر کی حمایت کرتے ہیں۔

خطیب نماز جمعہ تہران نے ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے مشترکات کو اسلامی دنیا کے اتحاد کی ضمانت قرار دیا اور کہا کہ سارے مسلمان خدائے واحد ، پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی ص اور آپ کے ابدی معجزے کے طور پر قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں۔

عید میلادالنبی(ص) اور ہفتہ وحدت

عید میلادالنبی(ص) اور ہفتہ وحدت

عاشقان رسول کی جانب سے ہندوستان سمیت دنیا کے گوشہ و کنارمیں گزشتہ روز نماز مغرب کے ساتھ ہی خاتم النبین، سید المرسلین آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشیاں منانے کا سلسلہ شروع ہوا۔اس موقع پرپاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہروں قصبے اور گلیوں، کوچے، بازار اور چوراہوں پر سبز پرچموں کی بہار ہے جبکہ اہم عمارات، مارکیٹوں، بازاروں اور چوراہوں کو برقی قمقموں اور آرائشی سامان کے ذریعے انتہائی خوبصورتی سے سجایا گیا ہے،اس کے علاوہ گھروں میں چراغاں کیا گیا ہے، مساجد میں رسول اللہ کی سیرت مبارکہ اور سنتوں کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جارہی ہے، کئی مقامات پر محافل نعت و سلام کی تقاریب منعقد کی جارہی ہیں جس میں رسول اللہ کی شان میں نذرانہ عقیدت کے پھول نچھاور کئے جارہے ہیں اور ہفتہ وحدت کی اہمیت پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔

پاکستان میں اس مرتبہ عید میلادالنبی(ص) کے جلوسوں میں مسلمانوں اور علماء کرام کی بڑے پیمانے پر شرکت،استقبالیہ کیمپ اور جلوس کے راستوں پر سبیلیں لگانے جیسے اقدامات نے اس ملک میں اتحاد و وحدت کی ایک مثالی فضا بنا دی تھی۔

عید میلادالنبی(ص) کے موقع پرامن وامان کی مخدوش صورتحال کے باعث پاکستان بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ سیکیورٹی الرٹ کے مطابق کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں موبائل فون سروس بند کردی گئی تھی۔

رسول خدا (ص) کی ولادت با سعادت ہر چند ماہ ربیع الاول میں ہوئی تاہم اہلسنت12ربیع الاول اورشیعہ 17ربیع الاول کو عید میلادالنبی(ص) کا جشن مناتے ہیں لیکن بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد واتفاق کیلئے12 ربیع الاول سے17ربیع الاول تک کے ایام کو ہفتہ وحدت کا نام دیا۔اوراس کے بعد سے دنیا بھر میں ہفتہ وحدت کے موقع پر مختلف قسم کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ اور مسلمانوں کے مابین اتحاد و وحدت پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اور اسی سلسلسے میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ مسلمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکت کو اپنے اتحاد کا محور قراردیں۔

حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اپنی پوری زندگی درس وحدت دیتے رہے اور لوگوں کو اسلامی اتحاد کی طرف بلاتے رہے اور آخری سانسیں بھی اسلامی اتحاد کی بقاء کی فکر میں لیتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے بعد رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سیدعلی خامنہ ای نے بھی امام خمینی کی پیروی میں مسلمانوں کو اتحاد کی تلقین کا فریضہ انجام دیاآپ نے اتحاد اسلامی کے لئے وہ کارنامے انجام دئیے جس کی وجہ سے آج خود آپ کی شخصیت رمز وحدت کے طور پر دنیا میں ابھر کر سامنے آئی ہے ۔

بارہ سے سترہ ربیع الاول تک کے ایام یعنی ہفتۂ وحدت میں پورے عالم اسلام میں مختلف پروگرام منعقد کئیے جاتے ہیں اور اس پورے ہفتے میں عید میلادالنبی (ص) کے سلسلے میں جشن اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اسی حوالے سے تہران میں ہر سال عالمی وحدت کانفرنس کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔اس موضوع پرہندوستان کے اہلسنت عالم دین مفتی عبدالباطن کہتے ہیں۔

اللہ تعالی نے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے اوراتحاد کو الہی نعمت سے تعبیر کیا ہے اور ان کو تفرقے اور فرقہ واریت سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد پروردگار ہوتا ہے کہ اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کی اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گۓ۔

ایسے وقت میں جب اسلام کے بارے میں اسلام دشمن طاقتیں فرقہ واریت اورمذہبی تعصبات کو ہوا دے کر شیعہ، سنی اختلافات سے اپنے مذموم اھداف حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ آج پاکستان، افغانستان، شام اورعراق سمیت کئی ممالک میں وہابیت اورانتھا پسندی کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے اور جسطرح انفرادی اور اجتماعی سطح پر دین اسلام اور مسلمانوں کو دہشتگرد کے طورپر متعارف کرایا جارہا ہے اس میں بنیادی کرداران طاقتوں کا ہے جنہوں نے پہلے مرحلے میں اسلام کے اندر فرقہ واریت کو فروغ دیا ہے اور بعد میں اسلام کی من مانی تشریح کرکے سامراجی اھداف کو پروان چڑھایا ۔ آج مغربی طاقتیں مسلمان ملکوں میں بالخصوص شام، پاکستان، عراق اوربحرین میں فرقہ واریت نیز لڑاواورتقسیم کرو کے سامراجی فارمولے کے تحت خطے میں اپنا اثرونفوذ بڑھانے کی کوشش کررہی ہیں۔ ایسی صورت حال میں ہفتہ وحدت منانا اوراسلامی وحدت کے لئے غوروفکر کرنا اسکی حقیقی تعلیمات کو فروغ دینے میں نہایت اہم کردارادا کرسکتا ہے۔

مسلمان ممالک میں قدرتی ذخائر کی کمی نہیں ہے۔اوراغیار ہمارے ہی ذخائر سے ہمیں دبوچنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے بھی اسلامی ممالک بڑی اہمیت کا حامل ہیں، تیل اور گیس کی دریافتوں نے اس کی سیاسی اہمیت کے نئے دروازے کھول دیئے اس پس منظر میں اگر مسلم دنیا اسلامی اقدار و اخوت کی بنیاد پر متحّد ہو گئی ہوتی، تواس کو سیاسی استحکام حاصل ہوا ہوتا اورعلمی پیش رفت میں ماضی کی طرح اس خطہ کا حصہ قابل تقلید ہوتا،اوراس صورت میں کسی بھی غیرملکی طاقت کو یہ جرات نہ ہوتی کہ وہ اسلامی ممالک پراپنا تسلط قائم کرتا۔

بد قسمتی سے مسلمانوں کے فرقوں اور مسلکوں کے درمیان نفرت و تفرقہ کے نتیجہ میں مغربی طاقتوں کو مسلم بلاک کے اندرانتشار پھیلانے کا موقعہ ملا، اُن کی کوششیں امّت مسلمہ کو پارہ پارہ کر نے پر مرکوز رہیں، جن کے پیچھے ان کے رذیّل مفادات و مقاصد کار فرما تھے،

آج جب امت مسلمہ عدم اتحاد و وحدت کی شکار ہو رہی ہے، ایسے میں بعض استعماری و استکباری زرخرید و نام نہاد مسلمانوں کی طرف سے امت واحدہ کے ساتھ خیانت ہورہی ہے۔ امت کے سنجیدہ طبقات، باشعور شخصیات اور مخلص افراد کو ایسے خائنوں کو خود سے اور اپنے معاشرے سے الگ کرنا ہو گا، حقیقت یہ ہے کہ فکری ارتقاء اور اسوہ رسول (ص) میں حسن تدبر کا مشاہدہ کرکے متفقہ سیرت سے استفادہ کرکے آج اور ہر دور کے مسلمان، رنگ و نسل، زبان اور قومیت کی دیواروں کو گرا کرایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرکے اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں، ورنہ عام طور پرمشرکانہ جاہلیت اور جماعتی عصبیت کی جھوٹی جلوہ نمائیوں سے انتشار کا مرض بڑھتا ہی جائے گا، اتحاد ہی سب سے بڑی طاقت ہے اور وحدت ہی واحد راستہ ہے جو امت مسلمہ کو اپنا کھویا ہوا مقام واپس دلوا سکتا ہے ۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کو زبردست چیلنجوں کا سامنا ہےاوراسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی سازشیں تیار کر رہی ہیں اورانہیں نیست ونابود کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں، مسلم اتحاد واتفاق وقت کا تقاضہ ہے کہ مختلف تنظیمی، جماعتی اور مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے ۔

عالم اسلام کو درپیش تمام اندورنی اور بیرونی مسائل کی جڑ اتحاد کا فقدان ہے۔ اگر مسلمان جسد واحد کی طرح ہوتے اور ایک دوسرے کے خلاف مسلکی اور جزوی اختلافات کو محاذ جنگ نہ بناتے تو دنیائے کفروالحاد اورہنود ویہود کی جرات نہ ہوتی کہ مسلمانوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کریں۔

اگرعالم اسلام رواداری اوراخوت کےعظیم الہٰی حکم پرعمل کرتے تو نہ مسئلہ فلسطین پیش آتا نہ مسلمانوں کا اسطرح خون بہتا، نہ شام و عراق و افغانستان اور پاکستان خاک وخون میں غلطاں ہوتا یہ سب مسلمانوں کے باہمی اختلافات کے سبب ہے۔

بہرحال جس طرح ابھی ہندوستان کے اہلسنت عالم دین مفتی عبدالباطن نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہفتہ وحدت اورعید میلادالنبی(ص) کا پیغام یہ ہے کہ تمام مسلمانان عالم حضور پاک (ص ) کی سیرت پرعمل پیرا ہوکراورحبل المتین کو تھام کرتمام اسلام کے دشمنوں سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں اور دنیا میں امن و امان اور اخلاقی اقدار کا بول بالا کر سکتے ہیں

عید میلاد النبی اور ہفتہ وحدت کے موقع پر علامہ ساجد نقوی کا پیغام

علامہ سید ساجد علی نقوی نے عید میلا دالنبی اور ہفتہ وحدت کے موقع پر عالم ارسال کردہ پیغام میں کہا: پیغمبر اکرم ص کی زندگی کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ عالم اسلام کے اتحاد کا مرکز اور نبی وحدت ہیں آپ کی حیات مبارکہ ہمیں اخوت، بھائی چاری، وحدت اور محبت کا درس دیتی ہے آپ نے ہمیشہ مختلف النسل اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے صحابہ کرام کے درمیان محبت، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیا۔

انہوں نے مزید کہا: انحضرت نے ہر قسم کے لسانی، علاقائی، فروعی اور جزوی و ذاتی اختلافات و تعصبات کی نفی کی اور انہیں نظر انداز کرنے کا حکم فرمایا ۔

شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے دور حاضر میں سیرت نبوی کے اس پہلو کو خاص طور پر اجاگر کرنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: یہ سنت الہیہٰ ہے کہ خداوند کریم اپنے انبیاء و مرسلین اور آئمہ و صالحین کو بھجوا کر انسانوں کو ظلمتوں اور تاریکیوں سے نکال کر نور اور روشنی کی طرف لاناہے اور انہیں ہدایت جیسی عظیم اور اعلی و ارفع نعمت سے سرفراز فرماناہے۔

انہوں نے مزید کہا: اسی تناظر میں خداوند تعالی نے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی کو رحمت اللعالمین اور خاتم المرسلین بناکر انسانوں کے درمیان بھجوایا تاکہ انسانیت کو ظلم و ناانصافی اور جہالت و گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر ہدایت و حکمت اور عدل و مساوات کی کمال بلندیوں تک پہنچادے لہذا حضور اکرم کی آمد سے خدا کا وعدہ یقینی طور پر پورا ہوا اور کائنات ہدایت کے نور سے منور ہوئے۔

سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے یہ کہتے ہوئے کہ ایک طرف امت مسلمہ کی خوش بختی کا پہلو یہ ہے کہ انہیں سرور کائنات جیسی ہستی کے ساتھ منسلک ہونے اور ان کی سیرت و سنت سے استفادہ کرنے کے مواقع نصیب ہوئی۔ دوسری طرف امت مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ سیرت رسول پر مکمل طور پر عمل پیرا نہیں کہا: ذاتی و اجتماعی سطح پر مختلف برائیوں، گناہوں، کوتاہیوں اور انتشار و افتراق کا شکار ہے۔

انہوں نے قرآنی احکامات اور اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیئے جانے کی جانب اشارہ کیا اور کہا: عید میلاد النبی اور ہفتہ وحدت ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہم ان مبارک ایام میں اپنے داخلی، خارجی، مقامی اور عالمی مسائل کے حل کے لئے اتحاد و اخوت کے ساتھ پیغمبر اکرم کی سیرت سے صحیح استفادہ کریں اور تمام اسلامی مکاتب اور مسالک کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے باہم مل کر سینکڑوں مشترکات کو بنیاد بناکر اجتماعی پروگرام کریں۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے باہمی محبت و رواداری کو فروغ دینے، نفرتوں، بغض و عداوت اور عناد کا خاتمہ کرنے، فروعی مسائل اور فرقہ وارانہ تنازعات اور تعصبات کو ہوا دینے سے گریز ، مشترکات پر جمع ہوکر عملی وحدت کا مظاہرہ کی تاکید تاکہ پاکستان سمیت پورا عالم اسلام سیرت پیغمبر گرامی کی روشنی میں ہدایت پر عمل پیرا ہوسکے۔ شیعہ علماء کونسل کے

رہبر معظم سے تہران کے میئر اور تہران اسلامی کونسل کے سربراہ اور اراکین کی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ نے تہران اسلامی کونسل کے سربراہ و اراکین ، تہران کے میئر اور تہران کے مختلف علاقوں کے میونسپلٹی افسروں و اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں تہران میں اسلامی طرز زندگی کے پیش نظرتعمیر و ترقی اور معماری پر خصوصی توجہ مبذول کرنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: تہران کے بڑے شہرکی مدیریت اور اسی طرح ملکی مدیریت میں خلوص نیت کے ساتھ عوام کی خدمت اور علم و درایت پر تکیہ کے ساتھ جہادی مدیریت کا جذبہ حکمفرما ہونا چاہیے تاکہ مشکلات سے عبور کرکے آگے کی سمت قدم بڑھایا جا سکے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی کونسل کے نئے ارکان اور تہران کے میئر کو بھی عوام کی خدمت کرنے کا موقع حاصل کرنے کی بنا پرمبارکباد پیش کی اور تہران کی اہمیت کو ایک بڑے شہر سے ماوراء قراردیتے ہوئے فرمایا: تہران ایک طرف آبادانی ، معماری ، صلاح و سعادت اور ملک میں طرز زندگی کی علامت ہے اور دوسری طرف تہران پورے ملک کے دوسرے شہروں کے لئے اہم نمونہ بھی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تہران میونسپلٹی کی حالیہ برسوں میں خدمات کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: تہران میں بڑھتی ہوئی آبادی ، ٹریفک و حمل و نقل اور ہوا کی آلودگی جیسی مشکلات کے باوجود شہر کی صفائی، سبز فضا، باغات ، پلوں، میٹرو ، بڑی شاہراہوں کی تعمیراور ورزش کے شعبوں میں ممتاز اور نمایاں خدمات انجام دی گئی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ان کامیابیوں کی رمز کو جہادی مدیریت اور جہاد جذبہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر جہادی مدیریت کا سلسلہ اسی تلاش و کوشش، جد وجہد ، خلوص نیت اور علم و درایت پر مبنی رہے تو عالمی طاقتوں کے موجود دباؤ اور دوسرے شرائط میں ملکی مشکلات قابل حل ہیں اور ملک کی ترقی اور پیشرفت آگے کی سمت جاری رہےگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شہری کونسل میں مختلف سیاسی نظریات کے حامل افراد کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی کونسل کے اراکین کی نیت جب تک عوامی خدمت اور عوام کے لئےکام کرنے پراستوار رہےگی اس وقت تک اس اعلی ہدف کی راہ میں نظریات میں کوئی فرق نہیں پڑےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے چوتھی اسلامی کونسل کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: آب کام اور خدمت کے سلسلے میں ہمت و تلاش کے ساتھ اچھا تجربہ یادگار کے طور پر چھوڑیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی اپنے خطاب میں تہران میونسپلٹی کے سلسلے میں چند نکات پیش کئے ۔

حکومت اور تہران میونسپلٹی کے درمیان دو طرفہ تعامل پہلا موضوع تھا جس کے بارے میں رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: یہ موضوع میری دائمی سفارش کا حصہ رہا ہے لیکن افسوس کہ بعض ادوار میں اس پر عمل نہیں ہوا جس کی وجہ سے بعض مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن تہران میونسپلٹی کو حکومت کے ساتھ تعامل کے سلسلے میں اپنی تمام کوششوں کو بروی کار لانا چاہیےالبتہ تہران میونسپلٹی اور اسلامی کونسل کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں حکومت کو بھی سفارش کی گئی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تہران اسلامی کونسل کے سربراہ کی طرف سے کونسل کے اجلاس میں وزراء کی شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تعاون اور تعامل کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تہران کی تعمیر و ترقی اور معماری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حقیقت میں تہران کی معماری ایک اسلامی شہر کی معماری کا مظہر نہیں ہےاور میونسپلٹی اور تہران کی اسلامی کونسل کو اس مسئلہ کو اپنے سب سے اہم مسائل کا حصہ قراردینا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے طرز زندگی پر شہری تعمیر اور معماری کے اثرات مرتب ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جتنا جلد ممکن ہوسکے شہری زندگی کے ماحول کو اس طرح مرتب اور منظم بنانا چاہیے تاکہ اسلامی طرز زندگی کا تحقق آسان تر اور ممکن بن جائے۔

میونسپلٹی کے ثقافتی مراکز ، ان ثقافتی مراکز کے اوپر بہت سنجیدہ توجہ دوسرا موضوع تھا جس کو رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بیان فرمایا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ثقافتی اقدامات اور کام دو لبہ تلوار کی مانند ہیں ، اگر یہ اچھے مواد اور متن کے ہمراہ ہوں تو معاشرے میں اصلاح کا باعث ہوں گے لیکن اگر غیر مناسب مواد اور متن کے ہمراہ ہوں تو انحراف اور گمراہی کا باعث بنیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صحیح اور قوی ثقافتی مواد سے استفادہ پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسی طرح ثقافتی مراکز میں اہل ثقافت افراد سے بھی استفادہ کرنا چاہیےجو حقیقت میں دیندار، سیاسی اسلام کے معتقد اور دینی عوامی حکومت کے طرفدار ہوں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے میونسپلٹی میں غلط کاموں سے پرہیز اور درست و امانتداری کے ساتھ کام کرنے پر تاکید کی اور میونسپلٹی اور شہری کونسل کے روابط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: شہری کونسل کو میونسپلٹی پر نگرانی اور ہدایت کے علاوہ اس کی حمایت بھی کرنی چاہیےاور تمام امور کو مشترکہ ذمہ داری، اخوت و ہمدلی اور باہمی تفاہم کی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تہران کے باغات اور درختوں کی قدر و قیمت جاننے اور اس قومی ثروت و دولت کی حفاظت پر تاکید کی اور تہران کے اونچے علاقوں میں قدرتی ماحولیات کو تعمیرات میں تبدیل کرنے کی طرف اشارہ بھی کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیسری شہری کونسل کے اراکین اور اس کے سربراہ انجینئر چمران کی خدمات کا شکریہ ادا کیا۔

اس ملاقات میں تہران کے میئر جناب قالیباف نے تہران میونسپلٹی کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ پیش کی جس میں عدل و انصاف قائم کرنے، شہر میں طبقاتی فاصلوں کو کم کرنے، جہادی جذبے کے فروغ اور کام و تلاش پر تاکید ، علمی، تحقیقاتی اور اجتماعی کاموں پر تاکید، شہر کے امور میں معزز شہریوں اور عوام کی شراکت ، دفاتر میں مالی بد عنوانیوں کے ساتھ مقابلہ ، مساجد، امامبارگاہوں اور حوزات علمیہ پر خصوصی توجہ اور شہری کونسل کے اراکین کے ساتھ تعاون ، تعامل، ہمدلی ، شفافیت اور قانونمداری کو تہران میونسپلٹی کے اہم اقدامات میں شمار کیا۔

تہران کے میئر نے گذشتہ آٹھ برسوں میں میونسپلٹی کے اقدامات میں 235 کلو میٹر بڑی شاہراہ کی تعمیر، 330 پلوں کی تعمیر، سنیما کی دس ہزار کرسیوں کی ساخت، دفاع مقدس باغ میوزیم کی تعمیر ، باغ کتاب اور محلہ سراؤں کو اہم اقدامات شمار کیا۔

اسی طرح تہران کی اسلامی کونسل کے سربراہ جناب مسجد جامعی نے اس کونسل میں نگرانی ، سلامت اور معماری و شہرسازی کے تین خصوصی کمیشنوں کی تشکیل اور اسلامی کونسل میں شہری مشکلات کو برطرف کرنے کے اقدامات کی طرف اشارہ کیا۔

تہران اسلامی کونسل کے سربراہ نے کونسل کے اراکین کے گذشتہ ایثار اور حکومت و پارلیمنٹ کے ساتھ قریبی اور اچھے تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلامی کونسل کے ارکان کے درمیان تعاون و ہمدلی کی اچھی اور گرانقدر فضا قائم ہے جو مشکلات کو برطرف کرنے میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

پاکستان، عید میلاد النۖبی کے جلوس

پاکستان میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ملک بھر میں نکالے گئے جلوس اپنی اپنی منزلوں پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگئے۔عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ملک بھر میں جلوس اور محافل کا انعقاد کیا گیا، عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محبوب خدا کا ذکر کیا، درود و سلام اور نعتیں پڑھیں۔ بیشتر شہروں میں مرکزی جلوس اپنی منزلوں پر پہنچ گئے۔ ملک بھر میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتہائی عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ ملک بھر میں محافل ہوئیں اور جلوس نکالے گئے۔ کراچی میں عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرکزی جلوس اپنے روایتی راستوں پر ہوتا ہوا اختتام پذیر ہوا۔ کوئٹہ میں عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جلوس روایتی راستوں سے ہوتا ہوا منان چوک پر ختم ہوا۔ اسلام آباد میں مرکزی جلوس روایتی راستوں سے ہوتا ہوا آبپارہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ لاہور میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا داتا دربار پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ ملتان میں 12 ربیع الاول کا مرکزی جلوس اختتام پذیر ہوگیا، جس کے بعد شہر میں نعت کی محافل کا اہتمام کیا گیا۔قابل ذکر ہے کہ عید میلادالنبیۖ کے جشن و سرور کی محفلوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے جن میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے افراد شرکت کررہے ہیں اور آنحضرت(ص) کی شان اقدس میں نذرانۂ عقیدت پیش کررہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ کی سید حسن نصر اللہ سے ملاقات

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد ظریف نے اپنے لبنان کے سفر کے دوران آج صبح حزب اللہ کے جنرل سکریٹری سید حسن نصر اللہ سے ملاقات کی ہے۔

المنار ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ اور حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے لبنان اور علاقے کے حالات پر گفتگو کی ہے۔

ایران کے خلاف عائد پابندیوں کو فوری ختم کیا جائےمتحدہ عرب امارات کے نائب سربراہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف عائد پابندیوں کو فوری ختم کیئے جانے پر تاکید کی ہے۔ فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے نائب سربراہ شیخ "محمد بن راشد آل مکتوم" نے کہا ہے کہ عالمی برادری ، متحدہ عرب امارات کے روایتی و قدیمی اہم ترین شریک ، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف عائد پابندیوں کو فوری ختم کرے۔ متحدہ عرب امارات کے نائب سربراہ نے "بی بی سی" کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ، متحدہ عرب امارات کا ہمسایہ ہے اور ہمارے ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور ایران کے خلاف پابندیوں کے خاتمے سے سب کو فائدہ ہوگا۔ اس وقت چار لاکھ سے زیادہ ایرانی متحدہ عرب امارات کے معاشرے کا حصہ ہیں اور ایرانیوں کی بڑی تعداد دبئی میں مقیم ہے اور متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات ہیں۔یادرہے کہ ایران و گروپ پانچ جمع ایک کے ماہرین کی سطح کے مذاکرات میں اختلافی موارد کے حل کے بعد ، 20 جنوری 2014 سے جنیوا سمجھوتے پر عمل درآمد کا آغاز ہوجائے گا۔

Monday, 13 January 2014 08:40

دعائے جوشن کبیر

تر جمہ : حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی دام ظلہ

اے معبود میں تجھ سے تیرے نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے الله اے بخشنے والے اے مہربان اے کرم کرنے والے اے ٹھہرنے والے اے بڑائی والے اے سب سے پہلے اے علم والے اے بردبار اے حکمت والے ۔ تو پاک ہے اے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں فریاد سن فریاد سن ہمیں آگ سے نجات دے اے پروردگار

 

﴿۱﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْئَلُکَ بِاسْمِکَ یَا اللهُ، یَا رَحْمنُ، یَا رَحِیمُ، یَا کَرِیمُ، یَا مُقِیمُ یَا عَظِیمُ یَا قَدِیمُ یَا عَلِیمُ یَا حَلِیمُ یَا حَکِیمُ سُبْحانَکَ یَا لاَ إِلہَ إِلاَّ أَنْتَ، الْغَوْثَ الْغَوْثَ خَلِّصْنا مِنَ النَّارِ یَا رَبِّ

 

 

 

اے سرداروں کے سردار اے دعائیں قبول کرنے والے اے درجات بلند کرنے والے اے نیکیوں میں مدد دینے والے اے گناہوں کے بخشنے والے اے حاجات پوری کرنے والے اے توبہ قبول کرنے والے اے آوازوں کے سننے والے اے چھپی چیزوں کے جاننے والے اے بلائیں دور کرنے والے

 

﴿۲﴾ یَا سَیِّدَ السَّاداتِ یَا مُجِیبَ الدَّعَواتِ، یَا رَافِعَ الدَّرَجَاتِ یَا وَ لِیَّ الْحَسَناتِ، یَا غَافِرَ الْخَطِیئاتِ، یَا مُعْطِیَ الْمَسْأَلاتِ، یَا قابِلَ التَّوْباتِ، یَا سَامِعَ الْاَصْواتِ، یَا عَالِمَ الْخَفِیِّاتِ،یَا دَافِعَ الْبَلِیِّاتِ

 

 

 

اے بخشنے والوں میں بہتر اے فتح کرنے والوں میں بہتراے مدد کرنے والوں میں بہتر اے حاکموں میں بہتر اے رزق دینے والوں میں بہتر اے وارثوں میں بہتر اے تعریف کرنے والوں میں بہتر اے ذکر کرنے والوں میں بہتر اے میزبانوں میں بہتراے احسان کرنے والوں میں بہتر۔

 

﴿۳﴾ یَا خَیْرَ الْغافِرِینَ، یَا خَیْرَ الْفاتِحِینَ، یَا خَیْرَ النَّاصِرِینَ یَا خَیْرَ الْحَاکِمِینَ یَا خَیْرَ الرَّازِقِینَ یَا خَیْرَ الْوَارِثِینَ یَا خَیْرَ الْحَامِدِینَ، یَا خَیْرَ الذَّاکِرِینَ یَا خَیْرَ الْمُنْزِلِینَ، یَا خَیْرَ الْمُحْسِنِینَ،

 

 

 

اے وہ جس کیلئے عزت اور جمال ہے اے وہ جس کے لیے قدرت اور کمال ہے اے وہ جسکے لیے ملک اور جلال ہے اے وہ جو بڑائی والا بلند تر ہے اے بھرے بادلوں کے پیدا کرنے والے اے وہ جو بہت زیادہ قوت والا ہے اے وہ جو تیز تر حساب کرنے والا ہے اے وہ جوسخت عذاب دینے والا ہے اے وہ جسکے ہاں بہترین ثواب ہے اے وہ جسکے پاس لوح محفوظ ہے۔

 

﴿۴﴾ یَا مَنْ لَہُ الْعِزَّةُ وَالْجَمالُ، یَا مَنْ لَہُ الْقُدْرَةُ وَالْکَمالُ، یَا مَنْ لَہُ الْمُلْکُ وَالْجَلالُ، یَا مَنْ ھُوَ الْکَبِیرُ الْمُتَعالِ، یَا مُنْشِیَ السَّحابِ الثِّقالِ، یَا مَنْ ھُوَ شَدِیدُ الْمِحالِ،یَامَنْ ھُوَ سَرِیعُ الْحِسابِ، یَا مَنْ ھُوَ شَدِیدُ الْعِقابِ، یَا مَنْ عِنْدَھُ حُسْنُ الثَّوابِ، یَا مَنْ عِنْدَھُ أُمُّ الْکِتابِ

 

 

 

اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے محبت والے اے احسان کرنیوالے اے بدلہ دینے والے اے دلیل روشن اے صاحب سلطنت اے راضی ہونے والے اے بخشنے والے اے پاکیزگی والے اے مدد کرنے والے اے صاحب احسان وبیان۔

 

﴿۵﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا حَنَّانُ، یَا مَنَّانُ، یَا دَیَّانُ، یَا بُرْہانُ، یَا سُلْطانُ،یَا رِضْوانُ،یَا غُفْرانُ، یَا سُبْحانُ،یَا مُسْتَعانُ،یَا ذَا الْمَنِّ وَالْبَیانِ

 

 

 

اے وہ جس کی عظمت کے آگے سب چیزیں جھکی ہوئی ہیں اے وہ جسکی قدرت کے سامنے ہر شے سرنگوں ہے اے وہ جسکی بڑائی کے سامنے ہر چیز پست ہے اے وہ جسکے خوف سے ہر چیز دبی ہوئی ہے اے وہ جسکے ڈر سے ہر چیز فرمانبردار بنی ہوئی اے وہ جسکے خوف سے پہاڑ پھٹ جاتے ہیں اے وہ جسکے حکم سے آسمان کھڑے ہیں اے وہ جسکے اذن سے زمینیں ٹھہری ہوئی ہیں اے وہ کہ کڑکتی بجلی جسکی تسبیح خواں ہے اے وہ جو اپنے زیر حکومت لوگوں پر ظلم نہیں کرتا

 

﴿۶﴾ یَا مَنْ تَواضَعَ کُلُّ شَیْءٍ لِعَظَمَتِہِ، یَا مَنِ اسْتَسْلَمَ کُلُّ شَیْءٍ لِقُدْرَتِہِ، یَا مَنْ ذَلَّ کُلُّ شَیْءٍ لِعِزَّتِہِ، یَا مَنْ خَضَعَ کُلُّ شَیْءٍ لِھَیْبَتِہِ، یَا مَنِ انْقادَ کُلُّ شَیْءٍ مِنْ خَشْیَتِہِ، یَا مَنْ تَشَقَّقَتِ الْجِبالُ مِنْ مَخافَتِہِ، یَا مَنْ قامَتِ السَّمَاوَاتُ بِأَمْرِھِ یَا مَنِ اسْتَقَرَّتِ الْاَرَضُونَ بِإِذْنِہِ، یَا مَنْ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِھِ، یَامَنْ لاَ یَعْتَدِی عَلی أَھْلِ مَمْلَکَتِہِ

 

 

 

اے گناہوں کے بخشنے والے اے بلائیں دور کرنے والے اے امیدوں کے آخری مقام اے بہت عطاؤں والے اے تحفے عطا کرنے والے اے مخلوق کو رزق دینے والے اے تمنائیں پوری کرنے والے اے شکایتیں سننے والے اے مخلوق کو زندہ کرنے والے اے قیدیوں کو آزاد کرنے والے

 

﴿۷﴾ یَا غافِرَ الْخَطایا یَا کاشِفَ الْبَلایا یَا مُنْتَھَی الرَّجایَا یَا مُجْزِلَ الْعَطایَا،یَا واھِبَ الْھَدایَا، یَا رازِقَ الْبَرایا، یَا قَاضِیَ الْمَنایا، یَا سَامِعَ الشَّکَایا،یَا بَاعِثَ الْبَرایا یَا مُطْلِقَ  الَاُساری

 

 

 

اے تعریف و ثناء کرنے والے اے فخر و خوبی والے اے بزرگی و بلندی والے اے عہد اور وفا والے اے معافی دینے والے اور راضی ہونے والے اے عطا و بخشش کرنے والے اے فیصلے اور انصاف والے اے عزت اور بقاء والے اے عطاء و سخاوت والے اے رحمتوں اور نعمتوں والے

 

﴿۸﴾ یَا ذَا الْحَمْدِ وَالثَّناءِ، یَا ذَا الْفَخْرِ وَالْبَہاءِ، یَا ذَا الْمَجْدِ وَالسَّناءِ، یَا ذَا الْعَھْدِ وَالْوَفاءِ، یَا ذَا الْعَفْوِ وَالرِّضاءِ، یَا ذَا الْمَنِّ وَالْعَطَاءِ، یَا ذَا الْفَصْلِ وَالْقَضاءِ، یَا ذَا الْعِزِّ وَالْبَقاءِ، یَا ذَا الْجُودِ وَالسَّخاءِ، یَا ذَا الاَْلاَءِ وَالنَّعْمَاءِ

 

 

 

اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے روکنے والے اے ہٹانے والے اے بلندکرنے والے اے بنانے والے اے نفع والے اے سننے والے اے جمع کرنے والے اے شفاعت کرنے والے اے کشادگی والے اے وسعت دینے والے

 

﴿۹﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مانِعُ، یَا دافِعُ، یَا رافِعُ، یَا صانِعُ، یَا نافِعُ، یَا سامِعُ، یَا جامِعُ، یَا شافِعُ، یَا واسِعُ، یَا مُوسِعُ

 

 

 

اے ہر مصنوع کے صانع اے ہر مخلوق کے خالق اے ہررزق پانے والے کے رازق اے ہر مملوک کے مالک اے ہر دکھی کا دکھ دور کرنے والے اے ہر پ اے ہر بے سہار کے مددگار اے ہربرائی پر پردہ ڈالنے والے اے ہر راندے گئے کی پناہ گاہ ۔اے سختی کے وقت میرے سرمایہریشان کی پریشانی مٹانے والے اے ہر رحم کیے گئے پر رحم کرنے والے  اے مصیبت میں میری امید گاہ

 

﴿۱۰﴾ یَا صانِعَ کُلِّ مَصْنُوعٍ، یَا خالِقَ کُلِّ مَخْلُوقٍ یَا رازِقَ کُلِّ مَرْزُوقٍ یَا مالِکَ کُلِّ مَمْلُوکٍ یَا کَاشِفَ کُلِّ مَکْرُوبٍ یَا فَارِجَ کُلِّ مَھْمُومٍ، یَا رَاحِمَ کُلِّ مَرْحُومٍ، یَا نَاصِرَ کُلِّ مَخْذُولٍ،یَا سَاتِرَ کُلِّ مَعْیُوبٍ، یَا مَلْجَأَ کُلِّ مَطْرُودٍ

اے وحشت کے وقت میرے ہمدم اے میری تنہائی میں میرے ساتھی اے نعمت میں میری کفالت کرنے والے اے دکھ درد میں میرے مددگار اے حیرت کے وقت میرے رہنما اے محتاجی کے وقت میرے سرمایہ اے برقراری کے وقت میری پناہ گاہ اے فریاد کے وقت میرے مددگار ۔

 

﴿۱۱﴾ یَا عُدَّتِی عِنْدَ شِدَّتِی، یَا رَجَائِی عِنْدَ مُصِیبَتِی، یَا مُؤْ نِسِی عِنْدَ وَحْشَتِی، یَا صَاحِبِی عِنْدَ غُرْبَتِی، یَا وَ لِیِّی عِنْدَ نِعْمَتِی، یَا غِیاثِی عِنْد کُرْبَتِی، یَا دَلِیلِی عِنْدَ حَیْرَتِی، یَا غَنائِی عِنْدَ افْتِقارِی، یَا مَلْجَیِی عِنْدَ اضْطِرارِی، یَا مُعِینِی عِنْدَ مَفْزَعِی

 

 

 

اے ہر غیب کے جاننے والے اے گناہوں کے بخشنے والے اے عیبوں کے چھپانے والے اے مصیبتیں دور کرنے والے اے دلوں کو پلٹنے والے اے دلوں کے معالج اے دلوں کے روشن کرنے والے اے دلوں کے ہمدم اے غموں کی گرہ کھولنے والے اے غموں کو دور کرنے والے۔

 

﴿۱۲﴾ یَا عَلاَّمَ الْغُیُوبِ یَا غَفَّارَ الذُّنُوبِ یَا سَتَّارَ الْعُیُوبِ یَا کَاشِفَ الْکُرُوبِ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ یَا طَبِیبَ الْقُلُوبِ یَا مُنَوِّرَ الْقُلُوبِ یَا أَنِیسَ الْقُلُوبِ، یَا مُفَرِّجَ الْھُمُومِ، یَا مُنَفِّسَ الْغُمُومِ

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے اے جلال والے اے جمال والے اے کارساز اے سرپرست اے رہنما اے قبول کرنے والے اے رواں کرنے والے

 

﴿۱۳﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا جَلِیلُ، یَا جَمِیلُ، یَا وَکِیلُ، یَا کَفِیلُ، یَا دَلِیلُ، یَا قَبِیلُ، یَا مُدِیلُ، یَا مُنِیلُ، یَا مُقِیلُ، یَا مُحِیلُ

 

 

 

اے بخشنے والے اے معاف کرنے والے اے جگہ دینے والے اے سرگردانوں کے رہنما اے پکارنے والوں کی مدد کرنے والے اے فریادیوں کی فریاد کو پہنچنے والے اے پناہ طلب کرنے والوں کی پناہ اے ڈرنے والوں کی ڈھارس اے مومنوں کے مددگار اے بے چاروں پر رحم کرنے والے اے گنہگاروں کی پناہ اے خطاکاروں کے بخشنے والے اے بے قراروں کی دعا قبول کرنے والے

 

﴿۱۴﴾ یَا دَلِیلَ الْمُتَحَیِّرِینَ، یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، یَا جارَ الْمُسْتَجِیرِینَ، یَا أَمانَ الْخَائِفِینَ، یَا عَوْنَ الْمُؤْمِنِینَ، یَا رَاحِمَ الْمَساکِینَ، یَا مَلْجَأَ الْعَاصِینَ، یَا غافِرَ الْمُذْنِبِینَ یَا مُجِیبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ

 

 

 

اے صاحب جود و احسان اے صاحب فضل و منت اے صاحب امن و امان اے طہارت و پاکیزگی والے اے حکمت و بیان والے اے رحمت و رضا والے اے حجت اور روشن دلیل والے اے عظمت و سلطنت والے اے مہربانی کرنے اور مدد دینے والے اے معافی دینے اور بخشنے والے۔

 

﴿۱۵﴾ یَا ذَا الْجُودِ وَالْاِحْسانِ یَا ذَا الْفَضْلِ وَالْاِمْتِنانِ یَا ذَا الْاَمْنِ وَالْاَمانِ یَا ذَا الْقُدْسِ وَالسُّبْحانِ یَا ذَا الْحِکْمَةِ وَالْبَیانِ یَا ذَا الرَّحْمَةِ وَالرِّضْوانِ یَا ذَا الْحُجَّةِ وَالْبُرْہانِ یَا ذَا الْعَظَمَةِ وَالسُّلْطَانِ یَا ذَا الرَّأْفَةِ وَالْمُسْتَعانِ یَا ذَا الْعَفْوِ وَالْغُفْرانِ

 

 

 

اے وہ جو ہر چیز کا پروردگار ہے اے وہ جو ہرشے کامعبود ہے اے وہ جو ہر چیز کا خالق ہے اے وہ جو ہرچیز کابنانے والا ہے اے وہ جو ہر شے سے پہلے تھا اے وہ جو ہر شے کے بعد رہے گا اے وہ جو ہر شے سے بلند ہے اے وہ جو ہر چیز کاجاننے والا ہے اے وہ جو ہر چیز پر قادر ہے اے وہ جو باقی رہے گا جب ہر چیز فنا ہو جائے گی۔

 

﴿۱۶﴾یَا مَنْ ھُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ یَا مَنْ ھُوَ إِلہُ کُلِّ شَیْءٍ یَا مَنْ ھُوَ خالِقُ کُلِّ شَیْءٍ یَا مَنْ ھُوَ صَانِعُ کُلِّ شَیْءٍ، یَا مَنْ ھُوَ قَبْلَ کُلِّ شَیْءٍ ، یَا مَنْ ھُوَ بَعْدَ کُلِّ شَیْءٍ، یَا مَنْ ھُوَ فَوْقَ کُلِّ شَیْءٍ، یَا مَنْ ھُوَ عَالِمٌ بِکُلِّ شَیْءٍ  یَا مَنْ ھُوَ قادِرٌ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ یَا مَنْ ھُوَ یَبْقی وَیَفْنی کُلُّ شَیْءٍ

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے امن دینے والے اے نگہبان اے کائنات بنانے والے اے تلقین کرنے والے اے ظاہر کرنے والے اے آسان کرنے والے اے قدرت دینے والے اے زینت دینے والے اے اعلان کرنے والے اے باٹنے والے ۔

 

﴿۱۷﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مُوْمِنُ، یَا مُھَیْمِنُ، یَا مُکَوِّنُ، یَا مُلَقِّنُ، یَا مُبَیِّنُ، یَا مُھَوِّنُ، یَا مُمَکِّنُ، یَا مُزَیِّنُ،یَا یَا مُعْلِنُ، یَا مُقَسِّمُ

 

 

 

اے وہ جو اپنے اقتدار پر میں پائیدار ہے اے وہ جو اپنی سلطنت میں قدیم ہے اے وہ جو اپنی شان میں بلند تر ہے اے وہ جو اپنے بندوں پر مہربان ہے اے وہ جوہر چیز کا جاننے والا ہے اے وہ جو نافرمان سے نرمی کرنے والا ہے اے وہ جو امیدوارپر کرم کرنے والا ہے اے وہ جو اپنی صنعت میں حکمت والا ہے اے وہ جو اپنی حکمت میں باریک بین ہے اے وہ جس کا احسان قدیم ہے۔

 

﴿۱۸﴾ یَا مَنْ ھُوَ فِی مُلْکِہِ مُقِیمٌ،یَا مَنْ ھُوَ فِی سُلْطانِہِ قَدِیمٌ یَا مَنْ ھُو فِی جَلالِہِ عَظِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ عَلَی عِبادِھِ رَحِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ بِمَنْ عَصاھُ حَلِیمٌ یَا مَنْ  ھُوَ بِمَنْ رَجاھُ کَرِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی صُنْعِہِ حَکِیمٌ، یَا مَنْ ھُوَ فِی حِکْمَتِہِ لَطِیفٌ، یَا مَنْ ھُوَ فِی لُطْفِہِ  قَدِیمٌ

 

 

 

اے وہ جس سے اس کے فضل کی امید کی جاتی ہے اے وہ جس کی بخشش کاسوال کیا جاتا ہے اے وہ جس سے بھلائی کی آس ہے اے وہ جسکے عدل سے خوف آتا ہے اے وہ جسکی حکومت ہمیشہ رہے گی اے وہ جسکی سلطنت کے سوا کوئی سلطنت نہیں اے وہ جسکی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اے وہ جسکی رحمت اسکے غضب سے آگے ہے اے وہ جسکا علم ہر چیز پر حاوی ہے اے وہ کہ جس جیسا کوئی نہیں ہے۔

 

﴿۱۹﴾ یَا مَنْ لاَ یُرْجی إِلاَّ فَضْلُہُ، یَا مَنْ لاَ یُسْأَلُ إِلاَّ عَفْوُھُ، یَا مَنْ لاَ یُنْظَرُ إِلاَّ بِرُّھُ،یَا مَنْ لاَ یُخافُ إِلاَّ عَدْلُہُ، یَا مَنْ لاَ یَدُومُ إِلاَّ مُلْکُہُ، یَا مَنْ لاَ سُلْطانَ إِلاَّ سُلْطانُہُ، یَا مَنْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ رَحْمَتُہُ،یَا مَنْ سَبَقَتْ رَحْمَتُہُ غَضَبَہُ یَا مَنْ أَحاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمُہُ، یَا مَنْ لَیْسَ أَحَدٌ مِثْلُہُ

 

 

 

اے اندیشے ہٹا دینے والے اے غم دور کرنے والے اے گناہ معاف کرنے والے اے توبہ قبول کرنے والے اے مخلوقات کے خالق اے وعدے میں سچے اے عہد پورا کرنے والے اے راز کے جاننے والے اے دانے کو چیرنے والے اے لوگوں کے رازق۔

 

﴿۲۰﴾ یَا فارِجَ الْھَمِّ، یَا کَاشِفَ الْغَمِّ، یَا غَافِرَ الذَّنْبِ، یَا قَابِلَ التَّوْبِ، یَا خَالِقَ الْخَلْقِ، یَا صَادِقَ الْوَعْدِ یَا مُوفِیَ الْعَھْدِ، یَا عَالِمَ السِّرِّ، یَا فَالِقَ الْحَبِّ، یَا رَازِقَ الْاَنامِ ۔

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے تیرے نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے بلند اے وفادار اے بے نیاز اے مہربان اے احسان کرے والے اے پسندیدہ اے پاکیزہ اے ابتدا کرنے والے اے قوت والے اے حاکم۔

 

﴿۲۱﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا عَلِیُّ یَا وَفِیُّ، یَا غَنِیُّ، یَا مَلِیُّ، یَا حَفِیُّ، یَا رَضِیُّ، یَا زَکِیُّ، یَا بَدِیُّ، یَا قَوِیُّ یَا وَ لِیُّ

 

 

 

اے وہ جس نے نیکی کو ظاہر کیا اے وہ جس نے بدی کو ڈھانپا اے وہ جس نے جرم پر گرفت نہیں فرمائی اے وہ جس نے پردہ فاش نہیں کیا اے بہت معاف کرنے والے اے بہترین درگزر کرنے والے اے وسیع مغفرت والے اے دونوں ہاتھوں سے رحمت کرنے والے اے ہر سرگوشی کے مالک اے شکایت سننے والے۔

 

﴿۲۲﴾ یَا مَنْ أَظْھَرَ الْجَمِیلَ یَا مَنْ سَتَرَ الْقَبِیحَ یَا مَنْ لَمْ یُوَاخِذْ بِالْجَرِیرَةِ یَا مَنْ لَمْ یَھْتِکِ السِّتْرَ، یَا عَظِیمَ الْعَفْوِ، یَا حَسَنَ التَّجاوُزِ، یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ، یَا بَاسِطَ الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَةِ یَا صَاحِبَ کُلِّ نَجْوی یَا مُنْتَہی کُلِّ شَکْوی

 

 

 

اے کامل نعمت کے مالک اے وسیع رحمت والے اے احسان میں پہل کرنے والے اے بھرپور حکمت والے اے کامل قدرت والے اے قاطع دلیل والے اے کھلی سخاوت والے اے ہمیشہ کی عزت والے اے مضبوط قوت والے اے سب سے زیادہ عظمت والے۔

 

﴿۲۳﴾ یَا ذَا النِّعْمَةِ السَّابِغَةِ یَا ذَا الرَّحْمَةِ الْواسِعَةِ، یَا ذَا الْمِنَّةِ السَّابِقَةِ، یَا ذَا الْحِکْمَةِ الْبَالِغَةِ، یَا ذَا الْقُدْرَةِ الْکَامِلَةِ،یَا ذَا الْحُجَّةِ الْقَاطِعَةِ یَا ذَا الْکَرامَةِ الظَّاھِرَةِ یَا ذَا الْعِزَّةِ الدَّائِمَةِ، یَا ذَا الْقُوَّةِ الْمَتِینَةِ، یَا ذَا الْعَظَمَةِ الْمَنِیعَةِ

 

 

 

اے آسمانوں کے بنانے والے اے تاریکیوں کو وجود میں لانے والے اے آنسوؤں پر رحم کرنے والے اے لغزشوں کےمعاف کرنے والے اے عیبوں کے چھپانے والے اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے آیات کے نازل کرنے والے اے نیکیوں کو دوچند کرنے والے اے گناہوں کے مٹانے والے اے سخت بدلہ لینے والے۔

 

﴿۲۴﴾ یَا بَدِیعَ السَّمَاواتِ یَا جَاعِلَ الظُّلُماتِ یَا رَاحِمَ الْعَبَراتِ یَا مُقِیلَ الْعَثَراتِ، یَا سَاتِرَ الْعَوْراتِ، یَا مُحْیِیَ الْاَمْواتِ، یَا مُنْزِلَ الاَْیاتِ، یَا مُضَعِّفَ الْحَسَنَاتِ،یَا مَاحِیَ السَّیِّئاتِ، یَا شَدِیدَ النَّقِماتِ

 

 

 

اے معبود! میں تجھ سے تیرے ہی نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے صورت ساز اے تقدیر بنانے والے اے تدبیر کرنے والے اے پاک کرنے والے اے روشن کرنے والے اے آسان کرنے والے اے بشارت دینے والے اے سب سے پہلے اے سب سے آخری

 

﴿۲۵﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا مُصَوِّرُ،یَا مُقَدِّرُ یَا مُدَبِّرُ یَا مُطَہِّرُ یَا مُنَوِّرُ یَا مُیَسِّرُ، یَا مُبَشِّرُ، یَا مُنْذِرُ، یَا مُقَدِّمُ، یَا مُوََخِّرُ

 

 

 

اے مقدس گھر کے رب اے مقدس مہینے کے رب اے مقدس شہر کے رب اے رکن و مقام کے رب اے معشر الحرام کے رب اے مسجد الحرام کے رب اے حلال و حرام کے رب اے روشنی و تاریکی کے رب اے درود و سلام کے رب اے لوگوں میں زیادہ توانائی پیدا کرنے والے۔

 

﴿۲۶ یَا رَبَّ الْبَیْتِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الشَّھْرِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الْبَلَدِ الْحَرامِ، یَا رَبَّ الرُّکْنِ وَالْمَقامِ یَا رَبَّ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الْحِلِّ وَالْحَرامِ یَا رَبَّ النُّورِ وَالظَّلامِ  یَا رَبَّ التَّحِیَّةِ وَالسَّلامِ یَا رَبَّ الْقُدْرَةِ فِی الْاَنامِ۔

 

 

 

اے حاکموں میں بڑے حاکم اے عادلوں میںزیادہ عادل اے سچوں میں زیادہ سچے اے پاکوں میں پاک تر اے خالقوں میں بہترین خالق اے حساب کرنے والوں میں زیادہ تیز اے سننے والوں میں زیادہ سننے والے اے دیکھنے والوں میں زیادہ دیکھنے والے اے شفاعت کرنے والوں میں بڑے شفیع اے بزرگی والوں میں بڑے بزرگ۔

 

﴿۲۷﴾ یَا أَحْکَمَ الْحاکِمِینَ، یَا أَعْدَلَ الْعادِلِینَ یَا أَصْدَقَ الصَّادِقِینَ یَا أَطْھَرَ الطَّاھِرِینَ یَا أَحْسَنَ الْخالِقِینَ یَا أَسْرَعَ الْحاسِبِینَ یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ، یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ، یَا أَشْفَعَ الشَّافِعِینَ، یَا أَکْرَمَ الْاَکْرَمِینَ ۔

 

 

 

اے اسکا آسراجسکا کوئی آسرا نہیں اے اسکے سہارے جسکا کوئی سہارا نہیں اے اسکے سرمایہ جسکا کوئی سرمایہ نہیں اے اسکی پناہ جسکی کوئی پناہ نہیں اے اسکے فریاد رس جسکا کوئی فریاد رس نہیں اے اسکی بڑائی جسکا کوئی فخرنہیں اے اسکی عزت جس کیلئے عزت نہیں اے اسکے مددگار جسکا کوئی مددگار نہیں اے اسکے ساتھی جسکا کوئی ساتھی نہیں اے اسکی پناہ جسکی کوئی پناہ نہیں ۔ اے معبود میں تجھ سے تیرے نام کیواسطے سے سوال کرتا ہوں اے

 

﴿۲۸ یَا عِمادَ مَنْ لاَ عِمادَ لَہُ، یَا سَنَدَ مَنْ لاَ سَنَدَ لَہُ، یَا ذُخْرَ مَنْ لاَ ذُخْرَ لَہُ، یَا حِرْزَ مَنْ لاَ حِرْزَ لَہُ، یَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَہُ، یَا فَخْرَ مَنْ لاَ فَخْرَ لَہُ، یَا عِزَّ مَنْ لاَ عِزَّ لَہُ، یَا مُعِینَ مَنْ لاَ مُعِینَ لَہُ یَا  أَنِیسَ مَنْ لاَ أَنِیسَ لَہُ یَا أَمانَ مَنْ لاَ أَمانَ لَہُ

 

 

 

پناہ دینے والے اے پائیدار اے ہمیشگی والے اے رحم کرنے والے اے بے عیب اے حکومت کے مالک اے علم والے اے تقسیم کرنے والے

 

﴿۲۹﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا عَاصِمُ، یَا قائِمُ، یَا دائِمُ، یَا راحِمُ، یَا سالِمُ، یَا حاکِمُ، یَا عالِمُ، یَا قاسِمُ، یَا قابِضُ، یَا باسِطُ ۔

 

 

 

اے بند کرنے والے اے کھولنے والے۔ اے اسکے نگہدار جو نگہداری چاہے اے اس پر رحم کرنے والے جو رحم کا طالب ہو اے اسکے بخشنے والے جو طالب ِبخشش ہو اے اسکی نصرت کرنے والے جو نصرت چاہے اے اسکی حفاظت کرنے والے جو حفاظت چاہے اے اسکو بڑائی دینے والے جو بڑائی طلب کرے اے اسکی رہنمائی کرنے والے جو رہنمائی چاہے اے اسکے داد رس جو دادرسی چاہے اے اسکے مددگار جو مددطلب کرے اے اسکے فریاد رس جو فریادکرے۔

 

﴿۳۰ یَاعاصِمَ مَنِ اسْتَعْصَمَہُ، یَا راحِمَ مَنِ اسْتَرْحَمَہُ، یَا غافِرَ مَنِ اسْتَغْفَرَھُ، یَا ناصِرَ مَنِ اسْتَنْصَرَھُ، یَاحافِظَ مَنِ اسْتَحْفَظَہُ، یَا مُکْرِمَ مَنِ اسْتَکْرَمَہُ، یَا مُرْشِدَ مَنِ اسْتَرْشَدَھُ یَا صَرِیخَ مَنِ اسْتَصْرَخَہُ یَا مُعِینَ مَنِ اسْتَعانَہُ یَا مُغِیثَ مَنِ اسْتَغاثَہُ

 

 

 

اے وہ غالب جو ظلم نہیں کرتا اے وہ باریک جو نظر انداز نہیں ہوتا اے وہ نگہبان جو سوتا نہیں اے وہ جاوداں جو مرتا نہیں اے وہ زندہ جسے موت نہیں اے وہ بادشاہ جسے زوال نہیں اے وہ باقی جو فانی نہیں اے وہ عالم جس میں جہل نہیں اے وہ بے نیاز جو کھاتا نہیں اے وہ قوی جسے ضعف نہیں۔

 

﴿۳۱﴾یَا عَزِیزاً لاَ یُضامُ، یَا لَطِیفاً لاَ یُرامُ، یَا قَیُّوماً لاَ یَنامُ، یَا دائِماً لاَ یَفُوتُ، یَا حَیّاً لاَ یَمُوتُ، یَا مَلِکاً لاَ یَزُولُ یَا باقِیاً لاَ یَفْنی یَا عالِماً لاَ یَجْھَلُ یَا صَمَداً لاَ یُطْعَمُ یَا قَوِیّاً لاَ یَضْعُفُ

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے یکتا اے یگانہ اے حاضر اے بزرگوار اے تعریف والے اے رہنما اے اٹھانے والے اے وارث اے خسارہ دینے والے اے نفع دینے والے۔

 

﴿۳۲﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا أَحَدُ، یَا واحِدُ،یَا شاھِدُ، یَا ماجِدُ، یَا حامِدُ، یَا راشِدُ، یَا باعِثُ یَا وارِثُ یَا ضارُّ یَا نافِعُ

 

 

 

اے سب بڑوں سے بڑے اے سب بزرگوں سے بزرگ تر اے سب مہربانوں سے مہربان اے ہر عالم سے بڑے عالم اے ہر حکیم سے بڑے حکیم اے ہر قدیم سے قدیم تر اے ہر بزرگ سے بزرگ تر اے ہر لطیف سے زیادہ لطیف اے ہر جلال والے سے زیادہ جلال والے اے ہرزبردست سے زیادہ زبردست۔

 

﴿۳۳﴾ یَا أَعْظَمَ مِنْ کُلِّ عَظِیمٍ یَا أَکْرَمَ مِنْ کُلِّ کَرِیمٍ یَا أَرْحَمَ مِنْ کُلِّ رَحِیمٍ یَا أَعْلَمَ مِنْ کُلِّ عَلِیمٍ یَا أَحْکَمَ مِنْ  کُلِّ حَکِیمٍ یَا أَقْدَمَ مِنْ کُلِّ قَدِیمٍ یَا أَکْبَرَ مِنْ کُلِّ کَبِیرٍ یَا أَلْطَفَ مِنْ کُلِّ لَطِیفٍ یَا أَجَلَّ مِن کُلِّ جَلِیلٍ یَا أَعَزَّ مِنْ کُلِّ عَزِیزٍ

 

اے بہتر درگزر کرنے والے اے بڑے احسان  والے اے زیادہ خیروالے اے قدیم فضل والے اے ہمیشہ کے لطف والے اے خوبصورت صنعت والے اے سختی دور کرنے والے اے دکھ دور کرنے والے

 

﴿۳۴﴾ یَا کَرِیمَ الصَّفْحِ یَا عَظِیمَ الْمَنِّ یَا کَثِیرَ الْخَیْرِ، یَا قَدِیمَ الْفَضْلِ،یَا دائِمَ اللُّطْفِ،یَا لَطِیفَ الصُّنْعِ یَا مُنَفِّسَ الْکَرْبِ یَاکاشِفَ الضُّرِّ،یَا مالِکَ الْمُلْکِ،یَا قاضِیَ الْحَقِّ

 

 

 

اے ہر ملک کے مالک اے حق کا فیصلہ دینے والے۔اے وہ جو اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہے اے وہ جو اپنی وفا میں قوی ہے اے وہ جو اپنی قوت میں بلند ہے اے وہ جو اپنی بلندی میں قریب ہے اے وہ جو اپنے قرب میں مہربان ہے اے وہ جو اپنے لطف میں کریم ہے اے وہ جو اپنی کرم میں عزت دار ہے اے وہ جو اپنی عزت میں عظیم ہے اے وہ جو اپنی عظمت میں بلند مرتبہ ہے اے وہ جو اپنے مرتبے میں تعریف والا ہے

 

﴿۳۵﴾یَا مَنْ ھُوَ فِی عَھْدِھِ وَفِیٌّ، یَا مَنْ ھُوَ فِی وَفائِہِ قَوِیٌّ، یَا مَنْ ھُوَ فِی قُوَّتِہِ  عَلِیٌّ ، یَا مَنْ ھُوَ فِی عُلُوِّھِ قَرِیبٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی قُرْبِہِ لَطِیفٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی لُطْفِہِ شَرِیفٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی شَرَفِہِ عَزِیزٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی عِزِّھِ عَظِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی عَظَمَتِہِ مَجِیدٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی مَجْدِھِ حَمِیدٌ

 

 

 

اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے کفایت کرنے والے اے شفادینے والے اے وفاداراے عافیت دینے والے ایہدایت دینے والے اے بلانے والے اے فیصلے کرنے والے اے خوشنودی والے اے بلندی والے اے باقی رہنے والے۔

 

﴿۳۶﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا کافِی، یَا شافِی، یَا وافِی، یَا مُعافِی، یَاہادِی،یَا داعِی، یَا قاضِی، یَا راضِی، یَا عالِی، یَا باقِی

 

 

 

اے وہ جسکے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے اے وہ جسکے آگے ہر چیز خوف زدہ ہے اے وہ جس سے ہر چیز کو وجود ملا ہے اے وہ جسکے ذریعے ہر چیز موجود ہوئی ہے اے وہ جسکی طرف ہر چیز کی بازگشت ہے اے وہ جس سے ہرچیز ڈرتی ہے اے وہ جسکے ذریعے ہر چیز باقی ہے اے وہ جسکی طرف ہر چیز لوٹتی ہے اے وہ کہ ہر چیز جسکی حمد میں مصروف ہے اے وہ کہ جسکے جلوے کے سوا ہر چیز ناپید ہو جائے گی۔

 

﴿۳۷﴾ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ خاضِعٌ لَہُ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ خاشِعٌ لَہُ، یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ کائِنٌ لَہُ، یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ مَوْجُودٌ بِہِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ مُنِیبٌ إِلَیْہِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ خائِفٌ مِنْہُ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ قائِمٌ بِہِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ صائِرٌ إِلَیْہِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ  یُسَبِّحُ بِحَمْدِھِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ ہالِکٌ إِلاَّ وَجْھَہُ

 

 

 

اے وہ جسکے سوا کوئی جائے فرار نہیں ہے اے وہ جسکے سوا کوئی جائے پناہ نہیں اے وہ جسکے سوا کوئی منزلِ مقصود نہیں اے وہ جسکے علاوہ کوئی جائے نجات نہیں اے وہ جسکے بغیر کسی شئی میں رغبت نہیں ہو سکتی اے وہ کہ نہیں ہے طاقت و قوت مگر اسی سے اے وہ جسکے سوا کہیں سے مدد نہیں مل سکتی اے وہ جسکے سواکسی پر بھروسہ نہیں ہو سکتا اے وہ جسکے سوا کسی سے امید نہیں ہوسکتی اے وہ جسکے سوا کسی کی عبادت نہیں ہو سکتی۔

 

﴿۳۸﴾ یَا مَنْ لاَ مَفَرَّ إِلاَّ إِلَیْہِ یَا مَنْ لاَ مَفْزَعَ إِلاَّ إِلَیْہِ یَا مَنْ لاَ مَقْصَدَ إِلاَّ إِلَیْہِ یَا مَنْ لاَ مَنْجَیً مِنْہُ إِلاَّ إِلَیْہِ،یَا مَنْ لاَ یُرْغَبُ إِلاَّ إِلَیْہِ، یَا مَنْ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِہِ،یَا مَنْ لاَ یُسْتَعان إِلاَّ بِہِ،یَا مَنْ لاَ یُتَوَکَّلُ إِلاَّ عَلَیْہِ یَا مَنْ لاَ یُرْجی إِلاَّ ھُوَ یَا مَنْ لاَ  یُعْبَدُ إِلاَّ ھُوَ

 

 

 

اے بہترین ذات جس سے ڈرا  جائے اے بہترین لبھانے والے اے بہترین طلب کیے جانے والے اے بہترین سوال کیے جانے والے اے بہترین قصد کیے جانے والے اے بہترین ذکر کیے جانے والے اے بہترین شکرکیے جانے والے اے بہترین محبت کیے جانے والے اے بہترین پکارے جانے والے اے بہترین مانوس کیے جانے والے۔

 

﴿۳۹﴾ یَا خَیْرَ الْمَرْھُوبِینَ یَا خَیْرَ الْمَرْغُوبِینَ، یَا خَیْرَ الْمَطْلُوبِینَ، یَا خَیْرَ الْمَسْؤُولِینَ،یَا خَیْرَ الْمَقْصُودِینَ یَا خَیْرَ الْمَذْکُورِینَ یَا خَیْرَ الْمَشْکُورِینَ یَا خَیْرَ الْمَحْبُوبِین یَا خَیْرَالْمَدْعُوِّینَ یَا خَیْرَالْمُسْتَأْنِسِینَ

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام سے اے معاف کرنے والے اے چھپانے والے اے قدرت والے اے غلبے والے اے پیدا کرنیوالے اے توڑنے والے اے جوڑنے والے اے ذکر کرنیوالے اے دیکھنے والے اے مدد کرنے والے۔

 

 

﴿۴۰﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا غافِرُ یَا ساتِرُ یَا قادِرُ یَا قاھِرُ یَا فاطِرُ یَا کاسِرُ یَا جابِرُ یَا ذاکِرُ، یَا ناظِرُ، یَا ناصِرُ

 

 

 

اے وہ جس نے پیدا کیا پھر درست کیا اے وہ جس نے تقدیر بنائی پھرہدایت دی اے وہ جو بلائیں دور کرتا ہے اے وہ جو سرگوشیاں سنتا ہے اے وہ جو ڈوبنے والوں کو بچاتا ہے اے وہ جو ہلاکتوں سے نجات دیتا ہے اے وہ جو مریضوں کو شفا دیتا ہے اے وہ جو ہنساتا اور رلاتا ہے اے وہ جو مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے اے وہ جس نے نر اور مادہ جوڑے بنائے

 

﴿۴۱﴾ یَا مَنْ خَلَقَ فَسَوَّی،یَا مَنْ قَدَّرَ فَھَدی، یَا مَنْ یَکْشِفُ الْبَلْوی ، یَا مَنْ یَسْمَعُ النَّجْوی، یَا مَنْ یُنْقِذُ الْغَرْقی،یَا مَنْ یُنْجِی الْھَلْکی یَا مَنْ یَشْفِی الْمَرْضی یَا مَنْ أَضْحَکَ وَأَبْکی، یَا مَنْ أَماتَ وَأَحْیی یَا مَنْ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثیٰ

 

 

 

اے وہ جس نے خاک و آب میں راستے بنائے اے وہ جس نے فضا میں اپنی نشانیاں بنائیں اے وہ جسکی نشانیوں میں قوی دلیل ہے اے وہ کہ موت میں جسکی قدرت ظاہرہے اے وہ جس نے قبروں میں عبرت رکھی ہے اے وہ کہ قیامت میں جسکی بادشاہت ہے اے وہ کہ حساب میں جسکی ہیبت ہے اے وہ کہ میزان عمل میں جسکی منصفی ہے اے وہ کہ جس کیطرف سے ثوابِ جنت ہے اے وہ کہ جسکا عذاب دوزخ ہے

 

﴿۴۲﴾ یَا مَنْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ سَبِیلُہُ یَا مَنْ فِی الْآفاقِ آیاتُہُ یَا مَنْ فِی الْاَیاتِ بُرْہانُہُ،یَا مَنْ فِی الْمَماتِ قُدْرَتُہُ،یَا مَنْ فِی الْقُبُورِعِبْرَتُہُ،یَا مَنْ فِی الْقِیامَةِ مُلْکُہُ، یَا مَنْ فِی الْحِسابِ ھَیْبَتُہُ، یَا مَنْ فِی الْمِیزانِ قَضاؤُہُ، یَا مَنْ فِی الْجَنَّةِ ثَوابُہُ یَا مَنْ فِی النَّارِ عِقابُہُ

 

 

 

اے وہ کہ خوف زدہ جسکی طرف بھاگتے ہیں اے وہ کہ گنہگار جسکی پناہ لیتے ہیں اے وہ کہ توبہ کرنے والے جسکا قصد کرتے ہیں اے وہ کہ جسکی طرف پرہیز گار رغبت کرتے ہیں اے وہ کہ پریشان لوگ جسکی پناہ چاہتے ہیں اے وہ کہ ارادہ کرنے والے جس سے مانوس ہیں اے وہ کہ جس پر محبت کرنے والے فخر کرتے ہیں اے وہ کہ خطاکار جسکے عفو کی خواہش رکھتے ہیں اے وہ جسکے ہاں یقین والے سکون پاتے ہیں اے وہ کہ توکل کرنے والے جس پر توکل کرتے ہیں۔

 

﴿۴۳﴾یَا مَنْ إِلَیْہِ یَھْرَبُ الْخائِفُونَ، یَا مَنْ إِلَیْہِ یَفْزَعُ الْمُذْنِبُونَ یَا مَنْ إِلَیْہِ یَقْصِدُ الْمُنِیبُونَ یَا مَنْ إِلَیْہِ یَرْغَبُ الزَّاھِدُونَ یَا مَنْ إِلَیْہِ یَلْجَأُ الْمُتَحَیِّرُونَ یَا مَنْ بِہِ یَسْتَأْنِسُ الْمُرِیدُونَ یَا مَنْ بِہِ یَفْتَخِرُالْمُحِبُّونَ یَا مَنْ فِی عَفْوِہِ یَطْمَعُ الْخاطِئُونَ یَا مَنْ إِلَیْہِ یَسْکُنُ الْمُوقِنُونَ یَا مَنْ عَلَیْہِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُونَ

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے محبوب اے چارہ گر اے نزدیک تر اے نگہدار اے حساب رکھنے والے اے ہیبت والے اے ثواب دینے والے اے دعا قبول کرنے والے اے با خبر اے بینا۔

 

﴿۴۴ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا حَبِیبُ یَا طَبِیبُ یَا قَرِیبُ یَا رَقِیبُ یَا حَسِیبُ یَا مُھِیبُ یَا مُثِیبُ یَا مُجِیبُ یَا خَبِیرُ یَا بَصِیرُ

اے ہر قریب سے زیادہ قریب اے ہر محب سے زیادہ محبت کرنے والے اے ہر دیکھنے والے سے زیادہ بینا اے ہر باخبر سے زیادہ خبر والے اے ہر بزرگ سے زیادہ بزرگ اے ہر بلند سے زیادہ بلند اے ہر توانا سے زیادہ توانا اے ہر باثروت سے زیادہ باثروت اے ہر داتا سے زیادہ دینے والے اے ہر مہربان سے زیادہ مہربان۔

 

﴿۴۵﴾یَا أَقْرَبَ مِنْ کُلِّ قَرِیبٍ یَا أَحَبَّ مِنْ کُلِّ حَبِیبٍ یَا أَبْصَرَ مِنْ کُلِّ بَصِیرٍ یَا أَخْبَرَ مِنْ کُلِّ خَبِیرٍ یَا أَشْرَفَ مِنْ کُلِّ شَرِیفٍ یَا أَرْفَعَ مِنْ کُلِّ رَفِیعٍ یَا أَقْوی مِنْ کُلِّ قَوِیٍّ یَا أَغْنی مِنْ کُلِّ غَنِیٍّ یَا أَجْوَدَ مِنْ کُلِّ جَوادٍ یَا أَرْأَفَ مِنْ کُلِّ رَؤُوفٍ

 

 

 

اے وہ غالب جس پر کوئی غالب نہیں اے وہ صانع جسے کسی نے نہیں بنایا اے وہ خالق جو خلق نہیں ہوا اے وہ مالک جسکا کوئی مالک نہیں اے وہ زبردست جو کسی کے زیر نگیں نہیں اے وہ بلند جسے کسی نے بلند نہیں کیا اے وہ نگہبان جسکا کوئی نگہبان نہیں اے وہ مددگار جسکا کوئی مددگار نہیں اے وہ حاضر جو کہیں بھی غائب نہیں اے وہ قریب جو کبھی دور نہیں ہوا۔

 

﴿۴۶ یَا غالِباً غَیْرَ مَغْلُوبٍ یَا صانِعاً غَیْرَ مَصْنُوعٍ یَا خالِقاً غَیْرَ مَخْلُوقٍ یَا مالِکاً غَیْرَ مَمْلُوکٍ یَا قاھِراً غَیْرَ مَقْھُورٍ، یَا رافِعاً غَیْرَ مَرْفُوعٍ، یَا حافِظاً غَیْرَ مَحْفُوظٍ، یَا ناصِراً غَیْرَ مَنْصُورٍ یَا شاھِداً غَیْرَ غائِبٍ یَا قَرِیباً غَیْرَ بَعِیدٍ

 

 

 

اے نور کی روشنی اے نور روشن کرنے والے اے نور پیدا کرنے والے اے نور کا بندوبست کرنے والے اے نور کی اندازہ گیری کرنے والے اے نور کی روشنی اے ہر نور سے اولین نوراے ہر نور کے بعد روشن رہنے والے اے ہرنور سے بالاتر نور اے وہ نور جسکی مثل کوئی نور نہیں۔

 

﴿۴۷﴾ یَا نُورَ النُّورِ، یَا مُنَوِّرَ النُّورِ، یَا خالِقَ النُّورِ یَا مُدَبِّرَ النُّورِ، یَا مُقَدِّرَ النُّورِ، یَا نُورَ کُلِّ نُورٍ، یَا نُوراً قَبْلَ کُلِّ نُورٍ، یَا نُوراً بَعْدَ کُلِّ نُورٍ یَا نُوراً فَوْقَ کُلِّ نُورٍ یَا نُوراً لَیْسَ کَمِثْلِہِ نُورٌ

 

 

 

اے وہ جسکی عطا بلند تر ہے اے وہ جسکا فعل باریک تر ہے اے وہ جسکا لطف پائندہ ہے اے وہ جسکا احسان قدیم ہے اے وہ جسکا قول حق ہے اے وہ جسکا وعدہ سچا ہے اے وہ جسکی عفو میں احسان ہے اے وہ جسکے عذاب میں عدل ہے اے وہ جسکا ذکر شیریں ہے اے وہ جسکا احسان عام ہے۔

 

﴿۴۸﴾ یَا مَنْ عَطَاؤُہُ شَرِیفٌ یَا مَنْ فِعْلُہُ لَطِیفٌ یَا مَنْ لُطْفُہُ مُقِیمٌ یَا مَنْ إِحْسانُہُ قَدِیمٌ یَا مَنْ قَوْلُہُ حَقٌّ یَا مَنْ وَعْدُہُ صِدْقٌ یَا مَنْ عَفْوُہُ فَضْلٌ، یَا مَنْ عَذابُہُ عَدْلٌ، یَا مَنْ ذِکْرُہُ حُلْوٌ، یَا مَنْ فَضْلُہُ عَمِیمٌ

اے معبودمیں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے ہموار کرنے والے اے جدا کرنے والے اے تبدیل کرنے والے اے پست کرنیوالے اے اتارنے والے اے عطا کرنے والے اے نعمت دینے والے اے احسان کرنیوالے اے مہلت دینے والے اے نیکوکار۔

 

﴿۴۹﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مُسَہِّلُ، یَا مُفَصِّلُ، یَا مُبَدِّلُ، یَا مُذَلِّلُ، یَا مُنَزِّلُ، یَا مُنَوِّلُ، یَا مُفْضِلُ،یَا مُجْزِلُ،یَا مُمْھِلُ،یَا مُجْمِلُ

 

 

 

اے وہ جو دیکھتا ہے خود نظر نہیں آتا اے وہ جو خلق کرتا ہے اور خلق نہیں ہوا اے وہ جو ہدایت دیتا ہے اور ہدایت طلب نہیں کرتا اے وہ جو زندہ کرتا ہیاور زندہ نہیں کیا گیا اے وہ جومسئول ہے اور سائل نہیں اے وہ جو کھلاتا ہے اور کھاتا نہیں اے وہ جو پناہ دیتا ہے اور محتاجِ پناہ نہیں ہے اے وہ جو فیصلے کرتا ہے اور طالبِ فیصلہ نہیں ہے اے وہ جو حکم دیتا ہے اور اس پر کسی کا حکم نہیں اے وہ جسکا کوئی بیٹا نہیں نہ وہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کوئی اسکا ہمسر ہے۔

 

﴿۵۰﴾یَا مَنْ یَری وَلاَ یُری،یَا مَنْ یَخْلُقُ وَلاَ یُخْلَقُ،یَا مَنْ یَھْدِی وَلاَ یُھْدی، یَا مَنْ یُحْیِی وَلاَ یُحْیی، یَا مَنْ یَسْأَلُ وَلاَ یُسْأَلُ، یَا مَنْ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ،یَا مَنْ یُجِیرُ وَلاَ یُجارُ عَلَیْہِ، یَامَنْ یَقْضِی وَلاَ یُقْضی عَلَیْہِ، یَا مَنْ یَحْکُمُ وَلاَ یُحْکَمُ عَلَیْہِ،یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً أَحَدٌ۔

 

 

 

اے بہترین حساب کرنے والے اے بہترین چارہ گر اے بہترین نگہبان اے بہترین قریب اے بہترین دعا قبول کرنے والے اے وہ جو بہترین محبوب ہے اے وہ جو بہترین سرپرست ہے اے وہ جو بہترین کارساز ہے اے بہترین آقا اے بہترین یاور۔

 

﴿۵۱﴾ یَا نِعْمَ الْحَسِیبُ، یَا نِعْمَ الطَّبِیبُ،یَا نِعْمَ الرَّقِیبُ،یَا نِعْمَ الْقَرِیبُ یَا نِعْمَ الْمُجِیبُ، یَا نِعْمَ الْحَبِیبُ، یَا نِعْمَ الْکَفِیلُ، یَا نِعْمَ الْوَکِیلُ، یَا نِعْمَ الْمَوْلیٰ،یَا نِعْمَ النَّصِیرُ

 

 

 

اے عارفوں کی شادمانی اے حب داروں کی تمنا اے ارادت مندوں کے ہمدم اے توبہ کرنے والوں کے محبوب اے بے مایہ لوگوں کے رازق اے گناہگاروں کی آس اے عبادت کرنے والوں کی آنکھوں کی ڈھنڈک اے دکھیاروں کے دکھ دور کرنے والے اے غمزدوں کا غم مٹانے والے اے اولین و آخرین کے معبود۔

 

﴿۵۲﴾ یَا سُرُورَ الْعارِفِینَ یَا مُنَی الْمُحِبِّینَ یَا أَنِیسَ الْمُرِیدِینَ، یَا حَبِیبَ التَّوَّابِینَ، یَا رازِقَ الْمُقِلِّینَ، یَا رَجاءَ الْمُذْنِبِینَ، یَا قُرَّ ةَ عَیْنِ الْعابِدِینَ ، یَا مُنَفِّساً عَنِ الْمَکْرُوبِینَ،یَا مُفَرِّجاً عَنِ الْمَغْمُومِینَ، یَا إِلہَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ہی نام کے واسطے سے اے ہمارے رب اے ہمارے معبود اے ہمارے سردار اے ہمارے آقا اے ہمارے یاور اے ہمارے محافظ اے ہمارے رہنما اے ہمارے مددگار اے ہمارے محبوب اے ہمارے چارہ گر۔

 

﴿۵۳﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا رَبَّنا، یَا إِلھَنا،یَاسَیِّدَنا، یَا مَوْلانا، یَا ناصِرَنا، یَا حافِظَنا، یَا دَلِیلَنا، یَا مُعِینَنا، یَا حَبِیبَنا، یَا طَبِیبَنا

 

 

 

اے انبیاء و صالحین کے پروردگار اے صدیقوں اورنیک لوگوں کے پروردگار اے جنت و دوزخ کے مالک اے چھوٹے بڑے کے رب اے دانہ و ثمرکے پروان چڑھانے والے اے دریاؤں اور درختوں کے مالک اے صحراؤں اوربستیوں کے مالک اے صحراؤں اور سمندروں کے مالک اے دن اور رات کے مالک اے کھلی اور چھپی باتوں کے مالک۔

 

﴿۵۴ یَا رَبَّ النَّبِیِّینَ وَ الْاَبْرارِ، یَا رَبَّ الصِّدِّیقِینَ وَالْاَخْیارِ، یَا رَبَّ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، یَا رَبَّ الصِّغارِ وَالْکِبارِ،یَا رَبَّ الْحُبُوبِ وَالثِّمارِ، یَا رَبَّ الْاَ نْہارِ وَالْاَشْجارِ، یَا رَبَّ الصَّحارِی وَالْقِفارِ، یَا رَبَّ  الْبَرارِی وَالْبِحارِ، یَا رَبَّ اللَّیْلِ وَالنَّہارِ، یَا رَبَّ الْاِعْلانِ وَالْاِسْرارِ

 

 

 

اے وہ جسکا حکم ہر چیز پر نافذ ہے اے وہ جسکا علم ہر چیز پر حاوی ہے اے وہ جسکی قدرت ہر چیز تک پہنچی ہوئی ہے اے وہ جسکی نعمتوں کوبندے گن نہیں سکتے اے وہ کہ مخلوقات جسکاشکریہ ادا نہیں کر سکتیں اے وہ کہ جسکی جلالت سمجھ میں نہیں آسکتی اے وہ کہ جسکی حقیقت کو وہم پا نہیں سکتے اے وہ کہ بزرگی اور بڑائی جسکا لباس ہے اے وہ جسکی قضا کو بندے ٹال نہیں سکتے اے وہ جسکے سوا کسی کی حکومت نہیں اے وہ جسکی عطا کے سوا کوئی عطا نہیں۔

 

﴿۵۵﴾ یَا مَنْ نَفَذَ فِی کُلِّ شَیْءٍ أَمْرُھُ، یَا مَنْ لَحِقَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمُہُ، یَا مَنْ بَلَغَتْ إِلی کُلِّ شَیْءٍ قُدْرَتُہُ، یَا مَنْ لاَیُحْصِی الْعِبادُ نِعَمَہُ، یَا مَنْ لاَ تَبْلُغُ الْخَلائِقُ شُکْرَہُ، یَا مَنْ لاَتُدْرِکُ الْاَفْہامُ جَلالَہُ، یَا مَنْ لاَ تَنالُ الْاَوْہامُ کُنْھَہُ، یَا مَنِ الْعَظَمَةُ وَالْکِبْرِیَاءُ رِداؤُہُ، یَا مَنْ لاَ یَرُدُّ الْعِبادُ قَضائَہُ، یَا مَنْ لاَ مُلْکَ إِلاَّ مُلْکُہُ،یَا مَنْ لاَ عَطاءَ إِلاَّ عَطاؤُہُ

 

 

 

اے وہ جسکے لئے اعلٰی نمونہ ہے اے وہ جسکے لیے بلند صفات ہیں اے وہ دنیا و آخرت جسکی ملکیت ہیں اے وہ جو جنت الماویٰ کا مالک ہے اے وہ جسکی نشانیاں عظیم ہیں اے وہ جسکے نام پسندیدہ ہیں اے وہ جو حکم و فیصلے کا مالک ہے اے وہ کہ ہوا و فضا جسکی ملک ہیں اے وہ جو عرش وفرش کا مالک ہے اے وہ جو بلند آسمانوں کا مالک ہے۔

 

 

﴿۵۶﴾ یَا مَنْ لَہُ الْمَثَلُ الْاَعْلی، یَا مَنْ لَہُ الصِّفاتُ الْعُلْیا، یَا مَنْ لَہُ الاَْخِرةُ وَالْاُولی، یَا مَنْ لَہُ جَنَّةُ الْمَأْوی، یَا مَنْ لَہُ الاَْیاتُ الْکُبْری، یَا مَنْ لَہُ الْاَسْماءُ الْحُسْنی، یَا مَنْ لَہُ الْحُکْمُ وَالْقَضاءُ، یَا مَنْ لَہُ الْھَواءُ وَالْفَضاءُ، یَا مَنْ لَہُ الْعَرْشُ وَالثَّری، یَا مَنْ لَہُ السَّمَاوَاتُ الْعُلی

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے معافی دینے والے اے بخشنے والے اے بہت صبر والے اے بہت شکر والے اے مہربان اے نرم خو اے مسئول اے محبت والے اے پاک تر اے پاکیزہ۔ اے وہ کہ آسمان میں جسکی بڑائی ہے

 

 

﴿۵۷﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا عَفُوُّ، یَا غَفُورُ، یَا صَبُورُ، یَا شَکُورُ، یَا رَؤُوفُ، یَا عَطُوفُ، یَا مَسْؤُولُ، یَا وَدُودُ، یَا سُبُّوحُ، یَا قُدُّوسُ ۔

 

 

 

اے وہ کہ زمین میں جسکی نشانیاں ہیں اے وہ ہر چیز میں جسکی دلیلیں ہیں اے وہ کہ سمندروں میں جسکی انوکھی چیزیں ہیں اے وہ پہاڑوں میں جسکے خزانے ہیں اے وہ جس نے خلق کو ظاہر کیا پھر جاری رکھا اے وہ جسکی طرف ہر امر کی بازگشت ہے اے وہ جسکا لطف ہر چیز میں عیاں ہے اے وہ جس نے ہرچیز کو خوبی سے خلق کیا اے وہ جسکی قدرت مخلوقات میں اثراندازی کر رہی ہے۔

 

 

﴿۵۸﴾ یَا مَنْ فِی السَّماءِ عَظَمَتُہُ، یَا مَنْ فِی الْاَرْضِ آیاتُہُ، یَا مَنْ فِی کُلِّ شَیْءٍ دَلائِلُہُ، یَا مَنْ فِی الْبِحارِ عَجائِبُہُ، یَا مَنْ فِی الْجِبالِ خَزائِنُہُ، یَا مَنْ یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ، یَا مَنْ إِلَیْہِ یَرْجِعُ الْاَمْرُ کُلُّہُ، یَا مَنْ أَظْھَرَ فِی کُلِّ شَیْءٍ  لُطْفَہُ، یَا مَنْ أَحْسَنَ کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہُ، یَا مَنْ تَصَرَّفُ فِی الْخَلائِقِ قُدْرَتُہُ

 

 

 

اے اسکے ساتھی جسکا کوئی ساتھی نہیں اے اسکے چارہ گر جسکا کوئیچارہ گر نہیں اے اسکی دعا قبول کرنے والے جسکی کوئی قبول کرنے والا نہیں اے اسکے مہربان جس پرکوئی مہربان نہیں اے اسکے ہمراہی جس کا کوئی ہمراہی نہیں اے اسکے فریاد رس جسکا کوئی فریاد رس نہیں اے اسکے رہنما جسکا کوئی رہنمانہیں اے اسکے ہمدم جسکا کوئی ہمدم نہیں اے اس پر رحم کرنے والے جس پر رحم کرنے والا کوئی نہیں اے اسکے ساتھی جسکاکوئی ساتھی نہیں۔

 

 

﴿۵۹﴾ یَا حَبِیبَ مَنْ  لاَ حَبِیبَ لَہُ،یَا طَبِیبَ مَنْ لاَ طَبِیبَ لَہُ، یَا مُجِیبَ مَنْ لاَ مُجِیبَ لَہُ، یَا شَفِیقَ مَنْ لاَ شَفِیقَ لَہُ، یَا  رَفِیقَ مَنْ لاَ رَفِیقَ لَہُ، یَا مُغِیثَ مَنْ لاَ مُغِیثَ لَہُ، یَا دَلِیلَ مَنْ لاَ دَلِیلَ لَہُ، یَا أَنِیسَ مَنْ لاَ أَنِیسَ لَہُ، یَا راحِمَ مَنْ لاَ راحِمَ لَہُ، یَا صاحِبَ مَنْ لاَ صاحِبَ لَہُ

 

 

 

اے طالبِ کفایت کی کفایت کرنے والے اے ہدایت طلب کی ہدایت کرنے والے اے نگہبانی چاہنے والے کے نگہبان اے حفاظت چاہنے والے کی حفاظت کرنے والے اے شفا مانگنے والے کو شفادینے والے اے فیصلہ چاہنے والے کا فیصلہ کرنے والے اے ثروت خواہ کو ثروت دینے والے اے وفا طلب سے وفا کرنے والے اے قوتکے طالب کو قوت عطا کرنے والے اے طالب سرپرستی کی سرپرستی کرنے والے۔

 

﴿۶۰﴾ یَا کافِیَ مَنِ اسْتَکْفاہُ، یَا ہادِیَ مَنِ اسْتَھْداہُ، یَا کالِیََ مَنِ اسْتَکْلاہُ، یَا راعِیَ مَنِ اسْتَرْعاہُ، یَا شافِیَ مَنِ اسْتَشْفاہُ، یَا قاضِیَ مَنِ اسْتَقْضاہُ، یَا مُغْنِیَ مَنِ اسْتَغْناہُ، یَا مُوفِیَ مَنِ اسْتَوْفاہُ ،یَا مُقَوِّیَ مَنِ اسْتَقْواہُ، یَا وَ لِیَّ مَنِ اسْتَوْلاہُ

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ہی نام کے واسطے سے اے خلق کرنے والے اے رزق دینے والے اے بولنے والے اے صدق والے اے شگافتہ کرنے والے اے جداکرنے والے اے توڑنے والے اے جوڑنے والے اے سب سے پہلے اے بلندی والے ۔

 

﴿۶۱﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا خالِقُ، یَا رازِقُ، یَا ناطِقُ، یَا صادِقُ، یَا فالِقُ، یَا فارِقُ، یَا فاتِقُ، یَا راتِقُ، یَا سابِقُ، یَا سامِقُ

 

 

 

اے رات اور دن کو پلٹانے والے اے روشنیوں اور تاریکیوں کے پیدا کرنے والے اے وہ جس نے سایہ اور دھوپ کو پیدا کیا اے وہ جسنے سورج اور چاند کو پابند کیا اے وہ جس نے نیکی و بدی کا اندازہ ٹھہرایا اے وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا اے وہ جسکے ہاتھ میں خلق و امر ہے اے وہ جسکی نہ کوئی زوجہ اور نہ فرزند ہے اے وہ جسکی حکومت میں کوئی شریک نہیں اے وہ جوعاجز نہیں کہ اسکاکوئی مددگار ہو۔

 

﴿۶۲﴾ یَا مَنْ یُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَالنَّہارَ، یَا مَنْ جَعَلَ  الظُّلُمَاتِ وَالْاَ نْوارَ، یَا مَنْ خَلَقَ الظِّلَّ وَالْحَرُورَ، یَا مَنْ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ، یَا مَنْ قَدَّرَ الْخَیْرَ وَالشَّرَّ، یَا مَنْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیاةَ، یَا مَنْ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ، یَا مَنْ لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً  وَلاَ وَلَداً، یَا مَنْ لَیْسَ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ، یَا مَنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ وَ لِیٌّ مِنَ الذُّلِّ

 

 

 

اے وہ جو ارادہ کرنے والوں کی مراد کو جانتا ہے اے وہ جو خاموش لوگوں کے دل کی باتیں جانتا ہے اے وہ جوکمزوروں کی زاری کو سنتا ہے اے وہ جو ڈرنے والے لوگوںکا رونا دیکھ لیتا ہے اے وہ جو سائلین کی حاجتوں کا مالک ہے اے وہ جو توبہ کرنے والوں کا عذرقبول کرتا ہے اے وہ جو فسادیوں کے عمل کو اچھا نہیں سمجھتا اے وہ جو نیکوکاروں کے اجر کوضائع نہیں کرتا اے وہ جو عارفوں کے دلوں سے دور نہیں رہتا اے سب داتاؤں سے بڑے داتا

 

﴿۶۳﴾یَا مَنْ  یَعْلَمُ مُرادَ الْمُرِیدِینَ، یَا مَنْ یَعْلَمُ ضَمِیرَالصَّامِتِینَ، یَا مَنْ یَسْمَعُ أَنِینَ الْواھِنِینَ، یَا مَنْ یَری بُکاءَ الْخائِفِینَ، یَا مَنْ یَمْلِکُ حَوائِجَ السَّائِلِینَ، یَا مَنْ یَقْبَلُ عُذْرَ التَّائِبِینَ، یَا مَنْ لاَ یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِینَ، یَا مَنْ لاَ یُضِیعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِینَ، یَا مَنْ لاَ یَبْعُدُ عَنْ قُلُوبِ الْعارِفِینَ، یَا أَجْوَدَ  الْاَجْوَدِینَ

 

 

 

اے ہمیشہ باقی رہنے والے اے دعا کے سننے والے اے  بہت زیادہ عطا کرنے والے اے خطا کے بخشنے والے اے آسمان کے بنانے والے اے بہترین آزمائش کرنے والے اے بھلی تعریف والے اے قدیمی بلندی والے اے بہت وفاداری کرنے والے اے بہترین جزادینے والے

 

﴿۶۴﴾یَا دائِمَ الْبَقاءِ، یَا سامِعَ الدُّعاءِ، یَا واسِعَ الْعَطاءِ، یَا غافِرَ الْخَطاءِ، یَا بَدِیعَ  السَّماءِ، یَا حَسَنَ الْبَلاءِ، یَا جَمِیلَ الثَّناءِ، یَا قَدِیمَ السَّناءِ، یَا کَثِیرَ الْوَفاءِ، یَا شَرِیفَ الْجَزاءِ

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے پردہ پوش اے بخشنے والے غلبہ والے اے زور والے اے بہت صبروالے اے نیکی والے اے اختیار والے اے کھولنے والے اے نفع دینے والے اے شاداں۔

 

﴿۶۵ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا سَتَّارُ، یَا غَفَّارُ، یَا قَہَّارُ، یَا جَبَّارُ، یَا صَبَّارُ، یَا بارُّ، یَا مُخْتارُ،یَا فَتَّاحُ، یَا نَفَّاحُ، یَا مُرْتاحُ

 

 

 

اے وہ جس نے مجھے پیدا کیا اور سنوارا اے وہ جس نے مجھے رزق دیا اور پالااے وہ جس نے مجھے طعام دیا اور سیراب کیا اے وہ جس نے مجھے قریب کیا اور قربت عطا کیاے وہ جس نے میری نگہداشت کی اور کفالت کی اے وہ جس نے میری حفاظت کی اور حمایت کی اے وہ جس نے مجھے عزت دیاور دولتمند بنایا اے وہ جس نے میری مدد کی اور ہدایت عطا کی اے وہ جس نے مجھ سے انس کیا اور پناہ دی اے وہ جس نے مجھے موت دی اور زندہ کیا۔

 

﴿۶۶﴾ یَا مَنْ خَلَقَنِی وَسَوَّانِی، یَا مَنْ رَزَقَنِی وَرَبَّانِی، یَا مَنْ أَطْعَمَنِی  وَسَقانِی، یَا مَنْ قَرَّبَنِی وَأَدْنانِی ، یَا مَنْ عَصَمَنِی وَکَفانِی، یَا مَنْ حَفِظَنِی وَکَلانِی، یَا مَنْ أَعَزَّنِی   وَأَغْنانِی، یَا مَنْ وَفَّقَنِی وَھَدانِی، یَا مَنْ آنَسَنِی وَآوانِی، یَا مَنْ أَماتَنِی وَأَحْیانِی ۔

 

 

 

اے وہ جو اپنے کلام سے حق کو ثابت کرتا ہے اے وہ جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اے وہ جو انسان اور اسکے دل کے درمیان حائل ہوتاہے اے وہ جسکے اذن کے بغیرشفاعت کچھ نفع نہیں پہنچاتی اے وہ جو راہ سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو خوب جانتا ہے اے وہ جسکے حکم کو کوئی ہرگز نہیں ٹال سکتا اے وہ جسکے فیصلے کو کوئی پلٹا نہیں سکتا اے وہ جسکے امرکے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے اے وہ جسکی قدرت سے آسمان باہم لپٹے ہوئے ہیں اے وہ جو اپنی رحمت سے ہواؤں کی خوشخبری دے کربھیجتاہے۔

 

﴿۶۷﴾ یَا مَنْ  یُحِقُّ الْحَقَّ بِکَلِماتِہِ، یَا مَنْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبادِہِ، یَا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہِ، یَا مَنْ لاَ تَنْفَعُ الشَّفاعَةُ إِلاَّ بِإِذْنِہِ، یَا مَنْ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیلِہِ، یَا مَنْ لاَ مُعَقِّبَ لِحُکْمِہِ، یَا مَنْ لاَ رَادَّ  لِقَضائِہِ، یَا مَنِ انْقادَ کُلُّ شَیْءٍ لاََِمْرِہِ یَا مَنِ السَّمَاوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ، یَا مَنْ یُرْسِلُ الرِّیاحَ  بُشْراً بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہِ

 

 

 

اے وہ جس نے زمین کوفرش بنایا اے وہ جس نے پہاڑوں کو میخیں بنایااے وہ جس نے سورج کو چراغ بنایا اے وہ جس نے چاند کو روشن کیا اے وہ جس نے رات کو پردہ پوشی کے لیے بنایا اے وہ جس نے دن کو کام کاج کا وقت ٹھہرایا اے وہ جس نے نیند کو ذریعہ راحت بنایا اے وہ جس نے آسمان کا شامیانہ لگایا اے وہ جس نے چیزوں میں جوڑے مقرر کیے اے وہ جس نے آتش دوزخ کوکمین گاہ بنایا۔

 

﴿۶۸﴾ یَا مَنْ جَعَلَ الْاَرْضَ مِہاداً، یَا مَنْ جَعَلَ الْجِبالَ أَوْتاداً، یَا مَنْ  جَعَلَ الشَّمْسَ سِراجاً، یَا مَنْ جَعَلَ الْقَمَرَ نُوراً، یَا مَنْ جَعَلَ اللَّیْلَ لِباساً، یَا مَنْ جَعَلَ النَّہارَ مَعَاشاً، یَا مَنْ جَعَلَ النَّوْمَ سُباتاً یَا مَنْ جَعَلَ السَّمَاءَ بِناءً، یَا مَنْ جَعَلَ الْأَشْیاءَ أَزْواجاً، یَا مَنْ جَعَلَ النَّارَ مِرْصاداً

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے سننے والے اے شفاعت والے اے بلندی والے اے محفوظ اے جلدی کرنے والے اے ابتداکرنے والے اے بڑائی والے اے قدرت والے اے خبر والے اے پناہ دینے والے۔

 

﴿۶۹﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا سَمِیعُ، یَا شَفِیعُ، یَا رَفِیعُ، یَا مَنِیعُ، یَا سَرِیعُ، یَا بَدِیعُ، یَا کَبِیرُ، یَا قَدِیرُ، یَا خَبِیرُ، یَا مُجِیرُ

 

 

 

اے ہرزندہ سے پہلے زندہ ہو اے ہرزندہ کے بعد زندہ اے وہ زندہ جسکی مثل کوئی اور زندہ نہیں اے وہ زندہ جسکا کوئی زندہ شریک نہیں اے وہ زندہ جو کسی زندہ کامحتاج نہیں اے وہ زندہ جو سب زندوں کو موت دیتا ہے اے وہ زندہ جو سب زندوں کو رزق دیتا ہے اے وہ زندہ جس نے کسی زندہ سے زندگی نہیں پائی اے وہ زندہ جو زندوں کو موت دیتا ہے اے وہ نگہبان جسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ۔

 

﴿۷۰﴾ یَا حَیّاً قَبْلَ کُلِّ حَیٍّ، یَا حَیّاً بَعْدَ کُلِّ حَیٍّ، یَا حَیُّ الَّذِی لَیْسَ کَمِثْلِہِ حَیٌّ، یَا حَیُّ الَّذِی لاَ یُشارِکُہُ حَیٌّ، یَا حَیُّ الَّذِی لاَ یَحْتاجُ إِلی حَیٍّ، یَا حَیُّ الَّذِی یُمِیتُ کُلَّ حَیٍّ، یَا حَیُّ الَّذِی یَرْزُقُ کُلَّ حَیٍّ، یَا حَیّاً لَمْ یَرِثِ الْحَیاةَ  مِنْ حَیٍّ، یَا حَیُّ الَّذِی یُحْیِی الْمَوْتیٰ یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ لاَ تَأْخُذُہُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ

 

 

 

اے وہ جسکا ذکر بھلایا نہیں جا سکتااے وہ جسکے نور کو بجھایا نہیں جا سکتا اے وہ جسکی نعمتوں کوشمار نہیں کیا جا سکتا اے وہ جسکی بادشاہی ختم ہونے والی نہیں اے وہ جسکی تعریف کی کوئی حد نہیں اے وہ جسکے جلال کی کیفیت بے بیان ہے اے وہ جسکے کمال کو سمجھا نہیں جا سکتا اے وہ جسکا فیصلہ ٹالا نہیں جا سکتا اے وہ جسکی صفات میں تبدیلی نہیں آسکتی اے وہ جسکے وصفوں میں تبدیلی نہیں۔

 

﴿۷۱﴾ یَا مَنْ لَہُ ذِکْرٌ لاَ یُنْسی یَا مَنْ لَہُ نُورٌ لاَ یُطْفیٰ، یَا مَنْ لَہُ نِعَمٌ لاَ تُعَدُّ، یَا مَنْ لَہُ مُلْکٌ لاَ یَزُولُ، یَا مَنْ لَہُ ثَنَاءٌ لاَ یُحْصیٰ، یَا مَنْ لَہُ جَلالٌ لاَ یُکَیَّفُ، یَا مَنْ لَہُ کَمالٌ لاَ یُدْرَکُ، یَا مَنْ لَہُ قَضاءٌ لاَ یُرَدُّ، یَا مَنْ لَہُ صِفَاتٌ لاَ تُبَدَّلُ، یَا مَنْ لَہُ نُعُوتٌ لاَ تُغَیَّرُ

 

 

 

اے عالمین کے پروردگار اے روز جزا کے مالک اے طالبوں کے مقصود اے پناہ لینے والوں کی پناہ گاہ اے بھاگنے والوں کو پالینے والے اے وہ جو صبر والوں کودوست رکھتا ہے اے وہ جو توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اے وہ جو پاکیزگی والوں کو پسندکرتا ہے اے وہ جونیکوکاروں کو پسند کرتا ہے اے وہ جو ہدایت یافتہ لوگوں کو جانتا ہے۔

 

﴿۷۲﴾ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ، یَا مالِکَ یَوْمِ الدِّینِ، یَا غایَةَ الطَّالِبِینَ، یَا ظَھْرَ اللاَّجِینَ، یَا مُدْرِکَ الْہارِبِینَ، یَا مَنْ یُحِبُّ الصَّابِرِینَ، یَا مَنْ  یُحِبُّ التَّوَّابِینَ، یَا مَنْ یُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِینَ، یَا مَنْ یُحِبُّ الُْمحْسِنِینَ، یَا مَنْ ھُوَ أَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِینَ

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے مہربان اے ہمدم اے نگہدار اے احاطہ کرنے والے اے رزق دینے والے اےفریاد رس اے عز ت دینے والے اے ذلت دینے والے اے پیدا کرنے والے اے لوٹانے والے ۔

 

﴿۷۳﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأِسْمِکَ یَا شَفِیقُ، یَا رَفِیقُ، یَا حَفِیظُ، یَا مُحِیطُ، یَا مُقِیتُ، یَا  مُغِیثُ، یَا مُعِزُّ، یَا مُذِلُّ، یَا مُبْدِیٴُ، یَا مُعِیدُ ۔

 

 

 

اے وہ جو ایسا یگانہ ہے جس کا کوئی مقابل نہیں اے وہ جو ایسا یکتا ہے جسکا شریک نہیں اے وہ جو بے نیاز ہے جس میں کوئی عیب نہیں اے وہ جوایسا فرد ہیجس میں کوئی کیفیت نہیں اے وہ جسکا فیصلہ خلاف حق نہیں ہوتا اے وہ رب جسکا کوئی وزیرنہیں ہے اے وہ عزت دار جسے ذلت نہیں اے وہ ثروت مند جو محتاج نہیں اے وہ بادشاہ جسے ہٹایا نہیں جا سکتا اےایسے صفتوں والے جسکی کوئی مثال نہیں۔

 

﴿۷۴﴾ یَا مَنْ ھُوَ أَحَدٌ بِلا ضِدٍّ، یَا مَنْ ھُوَ فَرْدٌ بِلا نِدٍّ، یَا مَنْ ھُوَ صَمَدٌ بِلا عَیْبٍ، یَا مَنْ ھُوَ وِتْرٌ بِلا کَیْفٍ، یَا مَنْ ھُوَ قاضٍ بِلا حَیْفٍ، یَا مَنْ ھُوَ رَبٌّ بِلا وَزِیرٍ، یَا مَنْ ھُوَ عَزِیزٌ بِلا ذُلٍّ، یَا مَنْ ھُوَ غَنِیٌّ بِلا فَقْرٍ، یَا مَنْ ھُوَ مَلِکٌ بِلا عَزْلٍ، یَا  مَنْ ھُوَ مَوْصُوفٌ بِلا شَبِیہٍ

 

 

 

اے وہ جسکا ذکر ذاکروں کے لیے وجہ بزرگی ہے اے وہ جسکاشکر شاکروں کے لیے کامیابی ہے اے وہ جسکی حمد، حمدکرنے والوں کے لیے وجہ عزت ہے اے وہ جسکی فرمانبرداری فرمانبرداروں کے لیے وجہ نجات ہے اے وہ جسکا دروازہ طلبگاروں کے لیے کھلا رہتا ہے اے وہ جسکا راستہ توبہ کرنے والوں کیلئے ظاہر و واضح ہے اے وہ جسکی نشانیاں دیکھنے والوں کیلئے پختہ دلیل ہیں اے وہ جسکی کتاب پرہیزگاروںکے لیے نصیحت ہے اے وہ جسکا رزق فرمانبرداروں اور نافرمانوں کے لیے یکساں ہے اے وہ جسکی رحمت نیکوکاروں کے نزدیک تر ہے۔

 

﴿۷۵﴾ یَا مَنْ ذِکْرُھُ شَرَفٌ لِلذَّاکِرِینَ، یَا مَنْ شُکْرُہُ فَوْزٌ لِلشَّاکِرِینَ،یَا مَنْ حَمْدُہُ عِزٌّ لِلْحامِدِینَ، یَا مَنْ طَاعَتُہُ نَجاةٌ لِلْمُطِیعِینَ، یَا مَنْ بابُہُ مَفْتُوحٌ لِلطَّالِبِینَ، یَا مَنْ سَبِیلُہُ واضِحٌ لِلْمُنِیبِینَ، یَا مَنْ آیاتُہُ بُرْہانٌ لِلنَّاظِرِینَ، یَا مَنْ کِتابُہُ تَذْکِرَةٌ لِلْمُتَّقِینَ، یَا مَنْ رِزْقُہُ عُمُومٌ لِلطَّائِعِینَ وَالْعاصِینَ، یَا مَنْ رَحْمَتُہُ قَرِیبٌ مِنَ الُْمحْسِنِینَ

 

 

 

اے وہ جسکا نام برکت والا ہے اے وہ جسکی شان بلند ہے اے وہ جسکے سوا کوئی معبود نہیں اے وہ جسکی تعریف روشن ہے اے وہ جسکے نام پاک وپاکیزہ ہیں اے وہ جسکی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اے وہ کہ بزرگی جسکا جلوہ ہے اے وہ کہ بڑای جسکا لباس ہے اے وہ جسکی نعمتوں کی حد نہیں اے وہ جسکی نعمتوں کا شمار نہیں۔

 

﴿۷۶﴾ یَا مَنْ تَبارَکَ اسْمُہُ، یَا مَنْ تَعالی جَدُّہُ، یَا مَنْ لاَ إِلہَ غَیْرُہُ، یَا مَنْ جَلَّ ثَناؤُہُ، یَا مَنْ تَقَدَّسَتْ أَسْماؤُہُ، یَا مَنْ یَدُومُ بَقاؤُہُ، یَا مَنِ الْعَظَمَةُ بَہاؤُہُ، یَا مَنِ الْکِبْرِیاءُ رِداؤُہُ، یَا مَنْ لاَ تُحْصی آلاؤُہُ، یَا مَنْ لاَ تُعَدُّ نَعْماؤُہُ

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے مددگار اے امانتدار اے آشکار اے سنجیدہ اے قدرت والے اے ہدایت والے اے تعریف والے اے بزرگی والے اے محکم اے گواہ۔

 

﴿۷۷﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مُعِینُ، یَا أَمِینُ، یَا مُبِینُ، یَا مَتِینُ، یَا مَکِینُ، یَا رَشِیدُ، یَا  حَمِیدُ، یَا مَجِیدُ، یَا شَدِیدُ، یَا شَھِیدُ

 

 

 

اے عرش عظیم کے مالک اے سچے قول والے اے پختہ تر کام کرنے والے اے سخت گرفت کرنے والے اے وعدہ کرنے اور دھمکی دینے والے اے وہ جو قابل تعریف سرپرست ہے اے وہ جو چاہے کر گزرتا ہے اے وہ جو ایسا قریب ہے کہ دور نہیں ہوتا اے وہ جو ہر چیز کا دیکھنے والا ہے اے وہ جوبندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔

 

﴿۷۸﴾ یَا ذَا الْعَرْشِ الَْمجِیدِ، یَا ذَا الْقَوْلِ السَّدِیدِ، یَا ذَا  الْفِعْلِ الرَّشِیدِ، یَا ذَا الْبَطْشِ الشَّدِیدِ، یَا ذَا الْوَعْدِ وَالْوَعِیدِ، یَا مَنْ ھُوَ الْوَ لِیُّ الْحَمِیدُ، یَا مَنْ ھُوَ  فَعَّالٌ لِما یُرِیدُ، یَا مَنْ ھُوَ قَرِیبٌ غَیْرُ بَعِیدٍ، یَا مَنْ ھُوَ عَلی کُلِّ شَیْءٍ شَھِیدٌ، یَا مَنْ ھُوَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیدِ

 

 

 

اے وہ جسکا نہ کوئی شریک ہے نہ وزیر اے وہ جسکی نہ کوئی مثل ہے نہ ثانی اے سورج اور روشن چاند کے خالق اے نادار و بے نوا کو ثروت دینے والے اے ننھے بچے کو رزق دینے والے اے بڑے بوڑھے پر رحم کرنے والے اے ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑنے والے اے خوفزدہ کو پناہ دینے والے اے وہ جو خود اپنے بندوں کو جانتا اوردیکھتا ہے اے وہ جو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔

 

﴿۷۹﴾ یَا مَنْ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَلاَ وَزِیرَ، یَا مَنْ لاَ شَبِیہَ لَہُ وَلاَ نَظِیرَ، یَا خالِقَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِالْمُنِیرِ، یَا مُغْنِیَ الْبائِسِ الْفَقِیرِ، یَا رازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِیرِ، یَا راحِمَ الشَّیْخِ الْکَبِیرِ، یَا جابِرَ الْعَظْمِ الْکَسِیرِ، یَا عِصْمَةَ الْخائِفِ الْمُسْتَجِیرِ، یَا مَنْ ھُوَ بِعِبادِھِ خَبِیرٌ بَصِیرٌ، یَا مَنْ ھُوَ عَلی  کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ

 

 

 

اے نعمتوں والے سخی ایفضل و کرم کرنے والے اے لوح و قلم کے پیدا کرنے والے اے انسانوں اور حشرات کے خلق کرنے والے اے سخت گیر اور بدلہ لینے والے اے عرب و عجم کو الہام کرنے والے اے درد و غم کو دور کرنے والے اے راز و نیت کے جاننے والے اے کعبہ و حرم کے پروردگار اے وہ جس نے چیزوں کو عدم سے پیدا کیا

 

﴿۸۰﴾ یَا ذَا الْجُودِ وَالنِّعَمِ ، یَا ذَا الْفَضْلِ وَالْکَرَمِ، یَا خالِقَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ،  یَا بارِیٴَ الذَّرِّ وَالنَّسَمِ ، یَا ذَا الْبَأْسِ وَالنِّقَمِ، یَا مُلْھِمَ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ، یَا کَاشِفَ الضُّرِّ وَالْاَلَمِ، یَا  عَالِمَ السِّرِّ وَالْھِمَمِ، یَا رَبَّ الْبَیْتِ وَالْحَرَمِ، یَا مَنْ خَلَقَ الْاَشْیاءَ مِنَ الْعَدَمِ

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے کام کرنے والے اے بنانے والے اے قبول کرنے والیاے کامل اے جداکرنے والے اے ملانے والے اے عدل کرنے والے اے غلبہ والے اے طلب کرنے والے اے عطا کرنے والے

 

﴿۸۱﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی  أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا فاعِلُ، یَا جاعِلُ، یَا قابِلُ، یَا کامِلُ، یَا فاصِلُ، یَا واصِلُ، یَا عادِلُ، یَا غالِبُ،یَا طالِبُ، یَا واھِبُ

 

 

 

اے وہ جس نے اپنے فضل سے نعمت بخشی اے وہ جو سخاوت میں بلند ہے اے وہ جس نے مہربانی سے عطافرمایا اے وہ جس نے اپنی قدرت سے عزت دی اے وہ جس نے حکمت سے اندازہ ٹھہرایا اے وہ جس نے اپنی رائے سے حکم دیا اے وہ جس نے اپنے علم سے نظم قائم کیا اے وہ جو اپنی بردباری سے معاف کرتا ہے اے وہ جو بلند ہوتے ہوئے بھی قریب ہے   اے وہ جو نزدیکی میں بھی بلند ہے۔

 

﴿۸۲﴾ یَا مَنْ أَ نْعَمَ بِطَوْ لِہِ، یَا مَنْ أَکْرَمَ بِجُودِہِ، یَا مَنْ جادَ بِلُطْفِہِ،یَا مَنْ تَعَزَّزَ بِقُدْرَتِہِ، یَا مَنْ قَدَّرَ بِحِکْمَتِہِ، یَا مَنْ حَکَمَ بِتَدْبِیرِہِ، یَا مَنْ دَ بَّرَ بِعِلْمِہِ، یَا مَنْ تَجاوَزَ بِحِلْمِہِ، یَا مَنْ دَنَا فِی عُلُّوِہِ، یَا مَنْ عَلا فِی دُ نُوِّہِ

 

 

 

اے وہ کہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اے وہ کہ جو چاہے کرگزرتاہے اے وہ کہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے عذابدیتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے بخشتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے عزت دیتا ہے اے وہ کہ جسے چاہیذلت دیتا ہے اے وہ کہ شکموں میں جیسی چاہے صورت بناتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے۔

 

﴿۸۳﴾ یَا مَنْ یَخْلُقُ ما یَشَاءُ، یَا مَنْ یَفْعَلُ ما یَشَاءُ، یَا  مَنْ یَھْدِی مَنْ یَشَاءُ، یَا مَنْ یُضِلُّ مَنْ یَشَاءُ، یَا مَنْ یُعَذِّبُ مَنْ یَشَاءُ، یَا مَنْ یَغْفِرُ لِمَنْ یَشَاءُ، یَا  مَنْ یُعِزُّ مَنْ یَشَاءُ، یَا مَنْ یُذِلُّ مَنْ یَشَاءُ، یَا مَنْ یُصَوِّرُ فِی الْاَرْحامِ مَا یَشَاءُ، یَا مَنْ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہِ مَنْ یَشَاءُ ۔

 

 

 

اے وہ جس نے نہ بیوی کی اور نہ اولاد والا ہوا اے وہ جس نے ہر چیز کاایک انداز ٹھہرایا اے وہ جس کی حکومت میں کوئی حصہ دار نہیں اے وہ جس نے فرشتوں کو قاصد قرار دیا اے وہ جس نے آسمان میں برج ترتیب دیے اے وہ جس نے زمین کو رہنے کی جگہ بنایا اے وہ جس نے انسان کو قطرہ آب سے پیدا کیا اے وہ جس نے ہر چیز کی مدت مقرر فرمائی اے وہ جسکا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اے وہ جس نے سب چیزوں کا شمار کر رکھا ہے۔

 

﴿۸۴﴾ یَا مَنْ لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلاَ وَلَداً، یَا مَنْ جَعَلَ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْراً،یَا مَنْ لاَ یُشْرِکُ فِی حُکْمِہِ أَحَداً، یَا مَنْ جَعَلَ الْمَلائِکَةَ رُسُلاً، یَا مَنْ جَعَلَ فِی السَّماءِ بُرُوجاً،یَا مَنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَراراً، یَا مَنْ خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَراً، یَا مَنْ جَعَلَ لِکُلِّ شَیْءٍ أَمَداً، یَا مَنْ أَحاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْماً، یَا مَنْ أَحْصی کُلَّ شَیْءٍ عَدَداً

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے اول اے آخر اے ظاہر اے باطن اے نیک اے حق اے یکتا اے یگانہ اے بے نیاز اے دائم۔

 

﴿۸۵﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا أَوَّلُ، یَا آخِرُ، یَا ظاھِرُ، یَا باطِنُ، یَا بَرُّ، یَا حَقُّ، یَا فَرْدُ، یَا وِتْرُ، یَا صَمَدُ، یَا سَرْمَدُ

 

 

 

اے پہچانے ہوؤں میں بہترین پہچانے ہوئے اے بہترین معبود کہ جسکی عبادت کی جائے اے شکر کیے ہو ؤں میں بہترین شکر کیے گئے اے ذکر کئے ہوؤں میں بلندتر  اے تعریف کیے ہوؤں میں بالاتر اے ہر موجود سے قدیم جو طلب کیا گیا اے ہر موصوف سیاعلٰی جس کی توصیف کی گئی اے ہرمقصود سے بلند کہ جسکا قصد کیا گیا اے ہر سوال شدہ سے باعزت جس سے سوال ہوا اے بہترین محبوب۔

 

﴿۸۶﴾ یَا خَیْرَ مَعْرُوفٍ عُرِفَ، یَا أَ فْضَلَ مَعْبُودٍ عُبِدَ، یَا أَجَلَّ مَشْکُورٍ شُکِرَ، یَا أَعَزَّ مَذْکُورٍ ذُکِرَ، یَا  أَعْلی مَحْمُودٍ حُمِدَ، یَا أَقْدَمَ مَوْجُودٍ طُلِبَ، یَا أَرْفَعَ مَوْصُوفٍ وُصِفَ، یَا أَکْبَرَ مَقْصُودٍ قُصِدَ، یَا أَکْرَمَ مَسْؤُولٍ سُئِلَ، یَا أَشْرَفَ مَحْبُوبٍ عُلِمَ

 

 

 

اے رونے والوں کے دوست اے توکل کرنے والوں کے سردار اےگمراہوں کو ہدایت دینے والے اے مومنوں کے سرپرست اے یادکرنے والوں کے ہمدم اے دل جلوں کی پناہ گاہ اے سچے لوگوں کو نجات دینے والے اے قدرت والوں میں بڑے باقدرت اے علم والوں سے زیادہ علم رکھنے والے اے ساری مخلوق کے معبود۔

 

﴿۸۷﴾یَا حَبِیبَ الْباکِینَ، یَا سَیِّدَ الْمُتَوَکِّلِینَ، یَا ہادِیَ الْمُضِلِّینَ، یَا وَ لِیَّ الْمُئْومِنِینَ، یَا أَنِیسَ الذَّاکِرِینَ، یَا مَفْزَعَ الْمَلھُوفِینَ، یَا مُنْجِیَ الصَّادِقِینَ، یَا أَقْدَرَ الْقادِرِینَ، یَا أَعْلَمَ الْعالِمِینَ، یَا إِلہَ الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ

 

 

 

اے وہ جو بلند اور مسلط اے وہ جو مالک و توانا ہے اے وہ جونہاں اور خبردار ہے  ہے اے وہ جو معبود ہے تو شاکر بھی ہے اے وہ جسکی معصیت ہو تو بخش دیتا ہے اے وہ جسکو فکر پا نہیں سکتی اے وہ جسے آنکھ دیکھ نہیں سکتی اے وہ جس پر کوئی نشان مخفی نہیں ہے اے بشر کوروزی دینے والے اے ہر اندازے کے مقرر کرنے والے۔

 

﴿۸۸﴾ یَا مَنْ عَلا فَقَھَرَ،یَا مَنْ مَلَکَ فَقَدَرَ، یَا مَنْ بَطَنَ فَخَبَرَ، یَا مَنْ عُبِدَ فَشَکَرَ، یَا مَنْ عُصِیَ فَغَفَرَ، یَا مَنْ لاَ تَحْوِیہِ الْفِکَرُ، یَا مَنْ لاَ یُدْرِکُہُ بَصَرٌ، یَا مَنْ لاَ یَخْفی عَلَیْہِ أَثَرٌ یَا رازِقَ الْبَشَرِ، یَا مُقَدِّرَ کُلِّ قَدَرٍ

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے نگہبان اے پیدا کرنے والے اے ظاہر کرنے والے اے بلندی والے اے کشائش دینے والے اے کھولنے والے اے نمایاں کرنے والے اے ذمہ دار اے حکم کرنے والے اے روکنے والے۔

 

﴿۸۹﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا حافِظُ، یَا بارِیٴُ، یَا ذارِیٴُ یَا باذِخُ، یَا فارِجُ، یَا فاتِحُ،یَا کاشِفُ، یَا ضامِنُ، یَا آمِرُ، یَا ناھِی

 

 

 

اے وہ جسکے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا اے وہ جس کے سوا کوئی دکھ دور نہیں کرسکتا اے وہ جسکے سوا کوئی بھی خلق نہیں کر سکتااے وہ جسکے سواکوئی گناہ معاف نہیں کرتا اے وہ جسکے سوا کوئی نعمت تمام نہیں کرتا اے وہ جسکے سوا کوئی دلوں کونہیں پلٹاتا اے وہ جسکے سوا کوئی کام پورے نہیں کرتا اے وہ جسکے سوا کوئی بارش نہیں برساتا

 

﴿۹۰﴾ یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ الْغَیْبَ إِلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یَصْرِفُ السُّوءَ إِلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یَخْلُقُ الْخَلْقَ إِلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یَغْفِرُ الذَّنْبَ إِلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یُتِمُّ النِّعْمَةَ إِلاَّ ھُوَ، یَا  مَنْ لاَ یُقَلِّبُ الْقُلُوبَ إِلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ إِلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ إِلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ إِلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یُحْیِی الْمَوْتی إِلاَّ ھُوَ

 

 

 

اے وہ جسکے سوا کوئی روزی نہیں بڑھاتا اے وہ جسکے سوا کوئی مردے زندہ نہیں کرتا۔اے کمزوروں کے مددگار اے مسافروں کے ہمدم اے دوستوں کی مدد کرنے والے اے دشمنوں پر غلبہ پانے والے اے آسمان کو بلند کرنے والے اے خواص کے ساتھی اے پرہیزگاروں کے دوست اے بے مایوں کے خزانے اے دولتمندوں کے معبود اے کریموں سے زیادہ کریم۔

 

﴿۹۱﴾ یَا مُعِینَ الْضُعَفاءِ، یَا صاحِبَ الْغُرَباءِ، یَا ناصِرَ الْاَوْ لِیاءِ، یَا قاھِرَ الْاَعْداءِ، یَا رافِعَ السَّماءِ، یَا أَنِیسَ الْاَصْفِیاءِ، یَا حَبِیبَ الْاَتْقِیاءِ، یَا کَنْزَ الْفُقَراءِ، یَا إِلہَ الْاَغْنِیاءِ، یَا أَکْرَمَ الْکُرَماءِ ۔

 

 

 

اے ہر چیز سے کفایت کرنے والے اے ہر چیز کی نگرانی کرنے والے اے وہ جسکی مثل کوئی چیز نہیں اے وہ جسکی حکومت میں کوئی چیز اضافہ نہیں کر سکتی اے وہ جس سے کوئی چیز مخفی نہیں اے وہ جسکے خزانوں میں کسی شئی سے کمی نہیں آتی اے وہ جسکی مثل کوئی چیز نہیں اے وہ جسکے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اے وہ جو ہر چیز کی خبر رکھتا ہے اے وہ جسکی رحمت ہر چیز تک وسیع ہے۔

 

﴿۹۲﴾ یَا کافِیاً مِنْ کُلِّ شَیْءٍ، یَا قائِماً عَلَیٰ کُلِّ شَیْءٍ، یَا مَنْ لاَ یُشْبِھُہُ شَیْءٌ، یَا مَنْ لاَ یَزِیدُ فِی مُلْکِہِ شَیْءٌ، یَا مَنْ لاَ یَخْفی  عَلَیْہِ شَیْءٌ، یَا مَنْ لاَ یَنْقُصُ مِنْ خَزائِنِہِ شَیْءٌ، یَا مَنْ لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْءٌ، یَا مَنْ لاَ یَعْزُبُ عَنْ عِلْمِہِ شَیْءٌ، یَا مَنْ ھُوَ خَبِیرٌ بِکُلِّ شَیْءٍ، یَا مَنْ وَسِعَتْ رَحْمَتُہُ کُلَّ شَیْءٍ

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے عزت دینے والے اے کھانا دینے والے اے نعمت دینے والے اے عطا کرنے والے اے غنی بنانے والے اے ذخیرہ کرنے والے اے فنا کرنے والے اے زندہ کرنے والے اے بیماری دینے والے اے نجات دینے والے۔

 

﴿۹۳﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی  أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مُکْرِمُ، یَا مُطْعِمُ، یَا مُنْعِمُ، یَا مُعْطِی، یَا مُغْنِی، یَا مُقْنِی، یَا مُفْنِی، یَا مُحْیِی، یَا مُرْضِی، یَا مُنْجِی

 

 

 

اے ہر چیز سے پہلے اور اسکے بعد اے ہرچیز کے معبود اور اسکے مالک اے ہر چیز کے پروردگار اور اسے بنانے والے اے ہر چیز کے پیدا کرنے والے اوراندازہ ٹھہرانے والے اے ہرچیز کو بند کرنے اور کھولنے والے اے ہر چیزکا آغاز کرنے والے اور اسے لوٹانے والے اے ہر چیز کو بڑھانے اور اسکا اندازہ کرنے والے اے ہر چیز کو بنانے اور اسے تبدیل کرنے والے اے ہر چیز کو زندہ کرنے اور اسے موت دینے والے اے ہر چیز کے خالق و وارث۔

 

﴿۹۴﴾ یَا أَوَّلَ کُلِّ شَیْءٍ وَآخِرَہُ، یَا إِلہَ کُلِّ شَیْءٍ وَمَلِیکَہُ، یَا رَبَّ کُلِّ شَیْءٍ وَصانِعَہُ، یَا بارِیٴَ کُلِّ شَیْءٍ وَخالِقَہُ، یَا قابِضَ کُلِّ شَیْءٍ وَباسِطَہُ، یَا مُبْدِیٴَ کُلِّ شَیْءٍ وَمُعِیدَہُ، یَا مُنْشِیٴَ کُلِّ شَیْءٍ وَمُقَدِّرَہُ، یَا مُکَوِّنَ کُلِّ شَیْءٍ وَمُحَوِّلَہُ، یَا مُحْیِیَ کُلِّ شَیْءٍ  وَمُمِیتَہُ، یَا خالِقَ کُلِّ شَیْءٍ وَوارِثَہُ

 

 

 

اے بہترین ذکر کرنے والے اور ذکر کیے ہوئے اے بہترین شکر کرنے والے اور شکرکیے ہوئے اے بہترین حمد کرنے والے اور حمد کیے ہوئے اے بہترین گواہ اور گواہی دیے ہوئے اے بہترین بلانے والے اور بلائے ہوئے اے بہترین جواب دینے والے اور جواب دیئے ہوئے اے بہترین انس کرنے والے اور انس کیے ہوئے اے بہترین رفیق اور ہم نشین اور بہترین قصد کیے ہوئے اور طلب کئے گئے اے بہترین دوست اوردوست رکھے ہوئے۔

 

﴿۹۵﴾ یَا خَیْرَ ذاکِرٍ وَمَذْکُورٍ، یَا خَیْرَ شاکِرٍ وَمَشْکُورٍ، یَا خَیْرَ حامِدٍ وَمَحْمُودٍ، یَا خَیْرَ شاھِدٍ وَمَشْھُودٍ، یَا خَیْرَ داعٍ وَمَدْعُوٍّ، یَا خَیْرَ مُجِیبٍ وَمُجابٍ، یَا خَیْرَ  مُؤْنِسٍ وَأَنِیسٍ، یَا خَیْرَ صاحِبٍ وَجَلِیسٍ، یَا خَیْرَ مَقْصُودٍ وَمَطْلُوبٍ، یَا خَیْرَ حَبِیبٍ وَمَحْبُوبٍ

 

 

 

اے وہ جسے پکارا جائے توجواب دیتا ہے اے وہ جسکی اطاعت کی جائے تومحبت کرتا ہے اے وہ جو محبت کرنے والے کے قریب ہوتا ہے اے وہ جو طالبِ حفاظت کا نگہبان ہے اے وہ جو امیدوار پر کرم کرتا ہے اے وہ جو نافرمان کے ساتھ نرمی کرتا ہے اے وہ جو اپنی بڑائی کے باوجود مہربان ہے اے وہ جو اپنی حکمت میں بلند ہے اے وہ جو قدیم احسان والا ہے اے وہ جو ارادہ رکھنے والے کو جانتا ہے۔

 

﴿۹۶﴾ یَا مَنْ ھُوَ لِمَنْ دَعاھُ مُجِیبٌ، یَا مَنْ ھُوَ لِمَنْ أَطاعَہُ حَبِیبٌ، یَا مَنْ ھُوَ إِلَی مَنْ أَحَبَّہُ قَرِیبٌ،یَا مَنْ ھُوَ بِمَنِ اسْتَحْفَظَہُ رَقِیبٌ، یَا مَنْ ھُوَ بِمَنْ رَجاہُ کَرِیمٌ، یَا مَنْ ہُوَ بِمَنْ عَصاہُ حَلِیمٌ،یَا مَنْ ھُوَ فِی عَظَمَتِہِ رَحِیمٌ، یَا مَنْ ھُوَ فِی حِکْمَتِہِ عَظِیمٌ، یَا مَنْ ھُوَ فِی إِحْسانِہِ قَدِیمٌ، یَا مَنْ ھُوَ بِمَنْ أَرادَہُ عَلِیمٌ

 

 

 

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے سبب بنانے والے اے شوق دلانے والے اے پلٹانے والے اے پیچھا کرنے والے اے تربیت کرنے والے اے خوف دلانے والے اے ڈرانے والے اے یادکرنے والے اے پابند کرنے والے اے بدلنے والے۔

 

﴿۹۷﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مُسَبِّبُ، یَا مُرَغِّبُ، یَا مُقَلِّبُ، یَا مُعَقِّبُ، یَا مُرَتِّبُ، یَا مُخَوِّفُ، یَا مُحَذِّرُ، یَا مُذَکِّرُ، یَا مُسَخِّرُ، یَا مُغَیِّرُ

 

 

 

اے وہ جسکا علم سبقت رکھتا ہے اے وہ جسکا وعدہ سچا ہے اے وہ جسکا لطف ظاہر ہے اے وہ جسکا حکم غالب ہے اے وہ جسکی کتاب محکم ہے اے وہ جسکا فیصلہ نافذ ہے اے وہ جسکا قرآن شان والا ہے اے وہ جسکی حکومت قدیمی ہے اے وہ جسکا فضل عام ہے اے وہ جسکا عرش عظیم ہے۔

 

﴿۹۸﴾ یَا مَنْ عِلْمُہُ سابِقٌ، یَا مَنْ وَعْدُہُ صادِقٌ، یَا مَنْ لُطْفُہُ ظاھِرٌ، یَا مَنْ أَمْرُہُ غالِبٌ، یَا مَنْ کِتابُہُ مُحْکَمٌ، یَا مَنْ قَضاؤُہُ کائِنٌ، یَا مَنْ قُرْآنُہُ مَجِیدٌ، یَا مَنْ مُلْکُہُ قَدِیمٌ، یَا مَنْ فَضْلُہُ عَمِیمٌ، یَا مَنْ عَرْشُہُ عَظِیمٌ

 

 

 

اے وہ جسے ایک سماعت دوسری سماعت سے غافل نہیں کرتی اے وہ جس کیلئے ایک فعل دوسرے فعل سے مانع نہیں ہوتا اے وہ جس کیلئے ایک قول دوسرے قول میں خلل نہیں ڈالتا اے وہ جسے ایک سوال دوسرے سوال میں غلطی نہیں کراتا اے وہ جسکے لیے ایک چیز دوسری چیز کے آگے حائل نہیں ہوئی اے وہ جسے اصرار کرنے والوں کااصرار تنگ دل نہیں کرتا اے وہ جو ارادہ کرنے والوں کے ارادے کی انتہا ہے اے وہ جو عارفوں کی امنگوں کا نقطئہ آخر ہے اے وہ جو طلبگاروں کی طلب کی انتہا ہے اے وہ جسکے لیے سارے جہانوں میں سے ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں۔

 

﴿۹۹﴾ یَا مَنْ لاَ یَشْغَلُہُ سَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ، یَا مَنْ لاَ یَمْنَعُہُ فِعْلٌ عَنْ فِعْلٍ، یَا مَنْ لاَ یُلْھِیہِ قَوْلٌ عَنْ قَوْلٍ، یَا مَنْ لاَ یُغَلِّطُہُ سُوَالٌ عَنْ سُوَالٍ، یَا مَنْ لاَ یَحْجُبُہُ شَیْءٌ عَنْ شَیْءٍ، یَا مَنْ لاَ یُبْرِمُہُ إِلْحاحُ الْمُلِحِّینَ، یَا مَنْ ھُوَ غایَةُ مُرادِ الْمُرِیدِینَ، یَا مَنْ ھُوَ مُنْتَہی ھِمَمِ الْعارِفِینَ، یَا مَنْ ھُوَ مُنْتَہی  طَلَبِ الطَّالِبِینَ، یَا مَنْ لاَ یَخْفی عَلَیْہِ ذَرَّةٌ فِی الْعالَمِینَ

 

 

 

اے وہ بردبار جو جلدی نہیں کرتا اے وہ داتا جو ہاتھ نہیں کھینچتا اے وہ صادق جو خلاف ورزی نہیں کرتا اے وہ دینے والا جو تھکتا نہیں اے زبردست جو مغلوب نہیں ہوتا اے بے بیان عظمت والے اے وہ عادل جو ظالم نہیں اے وہ دولت والے جو کسی کا محتاج نہیں اے وہ بڑا جو چھوٹا نہیں اے وہ نگہبان جو غافل نہیں تو پاک ہے اے وہ کہ سوائے تیرے کوئی معبود نہیں اے فریاد رس اے فریاد رس ہمیں آتش جہنم سے بچالے اے پالنے والے

 

﴿۱۰۰﴾ یَا حَلِیماً لاَ یَعْجَلُ، یَا جَوَاداً یَا جَوَاداً لاَ یَبْخَلُ، یَا صادِقاً لاَ یُخْلِفُ، یَا وَہَّاباً لاَ یَمَلُّ، یَا قاھِراً لاَ یُغْلَبُ، یَا عَظِیماً لَا  یُوصَفُ، یَا عَدْلاً لاَ یَحِیفُ، یَا غَنِیّاً لاَ یَفْتَقِرُ، یَا کَبِیراً لاَ یَصْغُرُ، یَا حافِظاً لاَ یَغْفُلُ، سُبْحانَکَ  یَا لاَ إِلہَ إِلاَّ أَ نْتَ، الْغَوْثَ الْغَوْثَ خَلِّصْنا مِنَ النَّارِ یَا رَبِّ۔

حزب اللہ: میزائل ٹیکنالوجی میں ترقی، پورا اسرائیل نشانے پر آگیا

لبنان کی عسکری ملیشیا حزب اللہ نے میزائل ٹیکنالوجی میں ترقی کرتے ہوئے اسرائیل میں کسی بھی جگہ کو اپنے متعین اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔

خبر کے مطابق "حزب اللہ کی عسکری طاقت میں حالیہ برسوں کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اب حزب اللہ اس پوزیشن میں آگئی ہے کہ اسرائیل کے اندر جہاں چاہے کامیابی سے ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے۔"

تاہم اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اس امر پر تشویش ظاہر کی ہے کہ حزب اللہ نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے اسرائیلی مراکز کو نشانہ بنانے کیلیے تیاری کر رکھی ہے۔

اس بارے میں امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ حزب اللہ نے یہ میزائل شام سے حاصل کیے ہیں۔ حزب اللہ شام کے صدر بشارالاسد کی اتحادی ہے اور اس کے عسکریت پسند شامی دہشتگردوں کیخلاف شام میں لڑ رہے ہیں۔

Sunday, 12 January 2014 12:46

مسجد ولایت - ملیشیا

مسجد ولایت - ملیشیا

ملیشیا کی بین الاقوامی نمائش گاہ کے علاقہ میں “ فیڈرل مسجد” واقع ہے جو مسجد ولایت کے نام سے مشہور ہے۔ اس مسجد کے ۲۲ گنبد ہیں اور یہ مشرق وسطی کی معماری کا نمونہ ہے۔

یہ مسجد ۴ﺍ١۳ ہیکٹر رقبہ زمین میں، ۳۷ ہزار مربع میٹر پر تعمیر کی گئی ہے اور ملیشیا کی آزادی کے بعد یہ چوالیسویں﴿۴۴﴾ مسجد ہے جسے ملیشیا کی حکمومت نے تعمیر کیا ہے ۔ یہ مسجد، ملیشیا کے دارالخلافہ کولالمپور کے سیاحت کی دلکش عمارتوں میں شمار ھوتی ہے۔

مسجد ولایت - ملیشیا

اس مسجد کی سنگ بنیاد ١۵ مارچ ١۹۹٦ء میں ڈالی گئی اور ۳۰ اگست ۲۰۰۰ء میں اس کا افتتاح کیا گیا۔

اس مسجد کے نقشہ اور پلان میں مشرق وسطی کی ثقافت، خاص کر ترکیہ کی مساجد سے الہام لینا مشہود ہے۔ یہ خصوصیت ۲۲ گنبدوں پر مشتمل ہے، اور یہ بائیس گنبد، اصلی گنبد سے منشعب ھوئے ہیں اس کے علاوہ اس میں چند نیم گنبد اور محراب نما سقف موجود ہیں۔

مسجد ولایت - ملیشیا

ان گنبدوں کو تعمیر کرنے میں ہلکے مواد اور مصنوعی ریشوں اور فائبر سے استفادہ کیا گیا ہے تاکہ سمیٹ کے گنبدوں کے برعکس، زیادہ مستحکم اور پائدار ھوں اور ان میں شگاف پیدا ھونا کم تر ممکن ھو۔ یہ گنبد الگ الگ تعمیر کئے گئے ہیں اور مسجد ہر ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ نصب کئے گئے ہیں ۔

مسجد ولایت - ملیشیا

اس مسجد کی بلندی ۲۷ میٹر ہے اور سنگ تراشوں نے اسے بڑی ہنرمندی کے ساتھ حیرت انگیز اور دلکش انداز میں تعمیر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کی آیات کو محراب کے اطراف میں ایرانی ہنر مندوں نے قیمتی پتھروں سے بڑی خوبصورتی کے ساتھ لکھا ہے، جس سے اس مسجد کے اندرونی حصہ اور شبستان کو چار چاند لگ گئے ہیں۔

مسجد ولایت - ملیشیا

اس کے علاوہ اس مسجد میں ایک مدرسہ اسلامی بھی تاسیس کیا گیا ہے، جس میں پرائمری کلاس سے پہلے بچوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے اس سے اس اسلامی مرکز کو اہمیت حاصل ھوئی ہے اس مدرسہ میں قرآن مجید، دینی فرائض اور اخلاقی اور اعتقادی دروس پڑھائے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ اس مسجد میں ایک بڑی اسلامی لائبریری، کانفرنس ہال، ازدواج کے مراسم کے لئے خاص ہال، اور ایک ریسٹورانٹ کے علاوہ دوسرے امکانات بھی موجود ہیں۔