Super User

Super User

جنیوا ٹو کانفرنس، ایرانی شرکت کے بغیر ناکام

تہران کے خطیب نماز جمعۂ تہران نے کہا ہےکہ شام سے متعلق جنیوا ٹو کانفرنس اسلامی جمہوریۂ ایران کی شرکت کے بغیر ناکام رہے گي ۔ تہران کے خطیب نماز جمعہ آیۃ اللہ سید احمد خاتمی نے شام کے بحران کے حل کے منعقد کی جانے والی جنیوا دو کانفرنس میں شرکت کے لئے اسلامی جمہوریۂ ایران کو دعوت نہ دیئے جانے کے سلسلے میں امریکی دباؤ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس کانفرنس میں شرکت کی کوئی خواہش نہیں ہے لیکن ایران کی شرکت کے بغیر بین الاقوامی جنیوا ٹو کانفرنس کا کوئی نتیجہ بھی نہيں نکلے گا ۔ آيۃ اللہ خاتمی نےاس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران عالم اسلام کی ایک عظیم طاقت ہے اور ہر اجلاس میں اس کی موجودگي با اقتدار اور منطقی ہوتی ہے کہا کہ تسلط پسندانہ نظام کویہی بات پسند نہیں ہے ۔تہران کے خطیب نماز جمعہ نے اسی طرح عراق کے صوبۂ الانبار میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے حکومت عراق کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ علاقے ميں امریکہ کی حمایت سے تکفیری دہشت گرد گروہ بڑی بڑي جارحانہ کاروائیو ں کے مرتکب ہورہے ہيں ۔ آیۃ اللہ خاتمی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک عالم اسلام کو نا امن دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ علاقے میں جارحانہ اقدامات کے ذریعے اپنے شیطانی اہداف کو حاصل کرنے کے درپے ہيں ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے علماء اہل سنت سے اپیل کی کہ وہ بھی علاقے کے ملکوں میں تکفیریوں کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی مذمت کریں ۔ آیۃ اللہ خاتمی نے نو دی بمطابق 30 دسمبر 2009 کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دن ایرانی عوام نے ایک بار پھر پورے ایران ميں اسلامی جمہوریۂ ایران کے نظام اور ولایت فقیہ کے ساتھ تجدید بیعت کیا ۔

بلاول بھٹو زرداری کی کوئٹہ میں زائرین کی بس پر خودکش حملے کی شدید مذمت

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایران سے کوئٹہ آنے والی زائرین کی بس پر خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے غیر انسانی فعل قرار دیتے ہوئے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر غم و غصہ کا اظہار کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشتگردانہ کارروائیوں پر صرف احتجاج کافی نہیں بلکہ حکومت خون کی ہولی کے سلسلے کو روکنے کیلئے فی الفور اقدامات کرے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یوٹیوب پر پابندی عائد کی جا چکی ہے مگر لشکر جھنگوی کی ویب سائٹس کس طرح آزادانہ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب دہشگرد ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرچکے ہیں تو حکومت کو انکے خلاف فوری ایکشن لینا چاہئے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر حکومت اب بھی دہشتگردوں کو پکڑنے میں ناکام رہی تو عوام قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیں گے جو کہ ملک کو انتشار کی طرف لے جائے گا، لہٰذا حکومت احتجاج نہیں، اقدامات کرے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حملے میں زخمی ہونے والوں کے بروقت علاج کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے واقعہ میں شہید افراد کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

Saturday, 04 January 2014 04:40

مسجد گلاسکو - اسکاٹ لینڈ

مسجد گلاسکو - اسکاٹ لینڈ

مسجد گلاسکو ۔۔۔ اسلامی اور مغربی معماری کی ایک ترکیب

اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسکو کی مرکزی مسجد، دریائے کلاید کے جنوبی ساحل پر شہر کے مرکز میں واقع ہے۔ یہ مسجد اسلامی معماری اور اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسکو کی تعمیرات کی خصوصیات کی ایک ترکیب ہے، اور آج اس شہر کے ثقافتی امتیازات کے عنوان سے پہچانی جاتی ہے۔

اس مسجد کی تعمیر کا کام بارہ سال میں مکمل ھوا ہے اور یہ مسجد ١٦١۸ مربع میٹر مساحت پر پھیلی ھوئی ہے۔

مسجد گلاسکو - اسکاٹ لینڈ

گلاسکو کی اس سب سے بڑی مسجد کی تعمیر کا کام ١۹۸۳ عیسوی میں مکمل ھوا اور اتحاد یہ عرب کے جنرل سیکریٹری، عبداللہ عمر نسیف نے اس کا با ضابطہ افتتاح کیا۔ اس مسجد میں عام پروگراموں کے لئے کئی ہال ہیں، جن میں ورزش کا ہال، سہولیات کا مرکز، کانفرنس ہال، کتاب خانہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ اس مسجد میں مسلمانوں کے لئے تعلیم و تربیت اور سماجی امور کے پروگرام چلانے کے لئے سہولیات بھی فراہم ہیں۔

اس مسجد کی تعمیر پر تقریبا تیس لاکھ پونڈ کا خرچہ آیا ہے۔ اس مسجد کا بیرونی احاطہ اسلامی طرز کی ٹائیلوں سے سجایا گیا ہے، جو ایک جانب باغ کی طرف اور دوسری جانب محراب نما کھڑکیوں سے ملحق ھوتا ہے۔ اس مسجد کے صدر دروازہ کو نقاشی شدہ محراب نما شیشوں سے مزین کیا گیا ہے۔ اگر ہم اس مسجد پر باہر سے نظر ڈالیں، تو اس کا کنکریٹ کا نیا مینار اس کے امتیازات، میں شمار ھوتا ہے۔

مسجد گلاسکو - اسکاٹ لینڈ

گلاسکو کی اس مرکزی مسجد کی عمارت، رجینٹ پارک لندن کی مسجد سے بڑی ہے اور مجموعی طور پر شہر گلاسکو کی نمایاں زیبائی اور امتیازات میں شمار ھوتی ہے۔

مسجد گلاسکو - اسکاٹ لینڈ

ملکی اور غیر ملکی طالب علموں کے گروہ، مختلف تنظیموں کے گروہ، مسلمان، اسلام کی شناخت پیدا کرنے کا شوق رکھنے والے افراد اس مسجد کو دیکھنے کے لئے روزانہ جوق در جوق آتے ہیں۔

نماز قائم کرنے کے ہال کے اوپر نصب کیا گیا اس مسجد کا شیشون سے مزین کیاگیا گنبد، دن کو قدرتی نور کو بخوبی منعکس کرتا ہے اور یہ منظر دیکھنے کے قابل ھوتا ہے۔

اس مسجد کی اسلامی معماری کو سرخ ریت کے استعمال سے چار چاند لگ گئے ہیں اور یہ سرخ ریت گلاسکو کے شہر کی دوسری عمارتوں میں بھی استعمال ھوتی ہے۔

اس مسجد کی عمارت، شہر گلاسکو کی دوسری ١۳ مسجدوں میں سب سے بڑی عمارت ہے۔ اس میں بیک وقت ۲۵۰۰ افراد نماز پڑھ سکتے ہیں۔

مسجد گلاسکو - اسکاٹ لینڈ

اس مسجد کے ساتھ ہی مرکز اسلامی کی عمارت ہے جو ۲۰۰۴ء میں تعمیر کی گئی ہے اور مسجد میں اضافہ کی گئی ہے۔ اس مرکز میں مسلمانوں کے لئے ثقافتی، دینی، فلاح و بہبود اور اجتماعی امور سے متعلق سہولیات فراہم کئے جاتے ہیں۔ یہ مرکز اسلامی معاشرہ کے مرکزی ادارہ کے عنوان سے فعالیت کرتا ہے اور مغربی اسکاٹ لینڈ میں سب سے بڑا دینی مرکز ہے۔

اس مرکز کی فعالیتیں اور خدمات صرف مسلمانوں کے عمر رسیدہ افراد، بوڑھوں، جوانوں، اور بچوں تک ہی محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ مرکز اسلام کے بارے میں غیر مسلموں میں پیدا کی جانے واکی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے سلسلہ میں بھی خدمات انجام دیتا ہے۔ اس مرکز نے اپنی فعالیتوں کو اس علاقہ میں رہنے والوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے متمرکز کیا ہے۔

مولانا سمیع الحق، طالبان سے مذاکرات کرنے کیلئے تیا

اسلام آباد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق جمیعت علماء اسلام (س) کے رہنمامولانا سمیع الحق نے اس ملک کے وزیر اعظم نواز شریف کی دعوت پر وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ون ٹو ون ملاقات کی۔ جس کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن اور کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات سے متعلق مولانا سمیع الحق کو اعتماد میں لیا جب کہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ طالبان سے مذاکرات کے لئے وزیر اعظم کی جانب سے مولانا سمیع الحق سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی استدعا کی گئی جس پر مولانا سمیع الحق نے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ملاقات کے دوران ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو طالبان سے مذاکرات کرے گی جب کہ جو طالبان ہتھیار پھینک کر حکومتی رٹ تسلیم کرنا چاہتے ہیں انہیں مذاکرات کے میز پر لایا جائے گا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ اس وقت تک طالبان کا حکومت پر اعتماد بحال نہیں ہوسکتاجب تک ڈرون حملے بند نہیں ہوتے۔

واضح رہے کہ امریکی ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد طالبان نے حکومت کی مذاکراتی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے امیر کالعدم تحریک طالبان کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

صہیونی طیاروں کی غزہ کی پٹی پر نچلی پروازیں

فلسطین میڈیا سیل کی رپورٹ کے مطابق غاصب صہیونی حکومت کے جنگی طیاروں نے آج غزہ کے علاقے میں نچلی پروازین کیں ، جس کی بنا پر اس علاقے کے عوام میں خوف و وحشت پھیل گئی۔ غاصب صہیونی حکومت کے ایف 16 جنگی طیاروں کی غزہ کے علاقے پر نچلی پروازیں ایسی صورت حال میں جاری ہیں کہ صہیونی حکومت کے فوجیوں نے آج مسلسل ساتویں روز غرب اردن میں جنین کے علاقے میں چالس ہزار کی آبادی پر مشتمل "یعبد" کالونی کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس علاقے کو فوجی ممنوعہ علاقہ قرار دے رکھا ہے۔ دوسری جانب غاصب صہیونی حکومت کے فوجیوں نے غرب اردن میں آٹھ فلسطینی منجملہ تین بچوں اور الخلیل شہر میں پانچ فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ غاصب صہیونی حکومت کے جنگی طیاروں کے چند دنوں پہلے کے ہوائی حملوں میں تین فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

 

 

عیسائیوں کی نظر میں عشق حسینی کی تجلی

اس مضمون میں ہم حضرت امام حسین(‏ع) کے بارے میں عیسائی محققین اور مصنفین کے چنندہ مضامین اوراشعار کے ترجمے پیش کرنے جارہے ہيں ۔

تاریخ انسانیت ، عظیم واقعات اور رزمیہ کارناموں سے سرشار ہے ۔ ان واقعات میں بعض ایسے ہیں جو جغرافیائی ، قومی ، نسلی ، لسانی اور مذہبی تمام حدود پار کرگئے ہیں اور انہیں عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہے اس طرح سےکہ ان واقعات نے دانشوروں ، حقیقت کے متلاشیوں اور مختلف مذاہب کے محققوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے ۔ ان جاوداں رزمیہ کارناموں میں سب سے بلندی پر واقعۂ عاشورا متجلی ہے کہ جس کی روشنی سے ہر زمانے میں تمام نسلیں مستفید ہوتی رہی ہیں ۔ حضرت امام حسین (ع) کی مسلمان ، ہندو ، سکھ ، عیسائی اور دیگر ادیان کے ماننے والوں نے اپنے اپنےادراک کے مطابق تعریف کی ہے کیوں کہ جو کام امام (ع) نے اپنی شہادت کے ذریعے انجام دیا اس نے بشریت کو اعلی انسانی اقدار سے آشنا کردیا ۔ اس درمیان عیسائیوں نے جو حضرت امام حسین (ع) سے اظہار عقیدت کیا ہے وہ قابل غور اور لائق تعریف ہيں ۔

کتاب " پدر ، پسر اور روح القدس " ، اہل بیت پیغمبر علیھم السلام کےبارے میں ایک عیسائي شاعر کے گرانبہا اشعار کا مجموعہ ہے ۔ اس کتاب کے محقق " محمد رضا زائری " کتاب کے مقدمے میں لکھتےہيں کہ ہماری احادیث اور روایات میں ذکر ہوا ہےکہ " کوئی بھی اہل بیت علیھم السلام کی مدح میں اس وقت تک شعر نہیں کہہ سکتا کہ جب تک کہ اسے غیبی مدد حاصل نہ ہو ۔ لبنان کی فرانسیسی یونیورسٹی میں اسلام اور عیسائيت کے تعلقات کی نئی راہ کے حوالے سے مطالعے اور معلومات کے حصول نے یہ موقع فراہم کردیا کہ ہم تاریخی تجربات سے مزید آشنائی حاصل کریں چنانچہ ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ عیسائي شعراء نے اگر امت کے باپ حضرت علی ( ع) اور ان کے بیٹے حضرت امام حسین (ع) کے لئے اشعار کہے ہیں اور طبع آزمائی کی ہے تو یہ بھی بلا شبہ روح القدس کی عنایت کے سبب ہے ۔

وہ اس کتاب کو " عیسائي شاعروں اور مصنفین کی کتابوں میں محبت علی کی تجلی اور عشق حسینی کا جلوہ " اور اسے پیغمبر اسلام اور ان کے اہل بیت سے ، عیسائی شاعروں اور مصنفین کی عقیدت و محبت کا مظہر قرار دیتےہیں ۔ ہم اس مرحلے میں ان اشعار ميں سے چند شعر کا ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں ۔

انسان کی زندگي ميں ایسے ایام بہت ہی شاذ ونادر ہیں کہ جن میں پوری تاریخ یکجا اور مجسم ہوجائے ۔ ان تاریخوں میں سےایک ، روز عاشورا ہے ۔ روز عاشور جن چیزوں کو مجسم کرتا ہے وہ صرف تاریخ شیعہ نہیں ہے بلکہ شہداء کی تاریخ اور تاریخ شہادت ہے جو باعث بنتی ہے کہ ان کی یادیں انسانوں کی روحوں کی گہرائیوں میں اتر جائيں اور ہر انسان علم وآگہی کے ساتھ ان سے ہمدردی اوراظہار محبت کرے ۔ امام حسین (ع) کا ایمان اور ان کے اصحاب باوفا کی وفاداری ، ظلم کے خلاف قیام اور اہل بیت کی جاں نثاری ، وہ اقدار ہیں جو کربلا میں مجسم ہو گئي ہیں ۔ کربلا کے مصائب ، زمان و مکان کی سرحدوں سےماوراء ہیں جو انسانی اقدار کی دہلیز پر دستک دیتے ہوئے ایک اعلی ترین نمونہ بن گئے ہیں ۔ اور درس کربلا صرف شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام انسانیت کےلئے ہے تاکہ ہر کوئي اس سے درس حاصل کرے اور فیضیاب ہو ۔

یہ بیان ممتاز عیسائي ادیب و قانونداں اور لبنان کی سابقہ تین حکومتوں کے وزیر " ادمون رزق" کا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت امام حسین (ع) کی محبت ایک شعلہ ہے جو ہر حق پسند انسانوں کے دلوں میں شعلہ ور ہے ۔

" آہ ، واحسرتا حسین کی شجاعت و بہادری پر " یہ جناب زینب کی صدا تھی کہ جس میں اتنی للکار تھی کہ جیسے تلواریں آپس میں ٹکرا رہی ہوں ۔۔۔ غمزدہ لیکن کوہ استقامت بن کر دربار یزيد میں یزید کو للکارتے ہوئے فرماتی ہیں اے یزید تو چاہتا تھا کہ جن پر غلبہ حاصل کرلے آج وہی تجھ پر غالب آگئے ہیں تو مکر و فریب سے کام لے کر خود پسندانہ رویہ اختیار کررہا ہے ۔گناہوں کے سنگين بوجھ سانپوں کی مانند تیری گردن میں حلقہ زن ہیں ۔ تو جانوں اور ضمیروں کو خریدتا اور خود پر فخر کرتا ہے لیکن ہمیشہ یہ یاد رہے اور اسے بھول مت جانا کہ اہل بیت کی کوئي قیمت نہیں ہے ۔ تو ہرگز ہماری وحی کے نور کو بجھا نہیں سکتا اور ہمارے خاندان کے درخت کو خشک نہيں کرسکتا اس لئے کہ ہماری یادیں عاشقوں کے دلوں میں جاوداں ہیں ۔ ہم نے اس عظیم دن ميں تیرےتخت حکمرانی کو لرزہ بر اندام کردیا ۔ یاد رکھ کہ بہشت کی نعمتیں میرے لئے ہیں اور آتش جہنم اور بدبختی تیرا مقدر ہے ۔

یہ منتخب بیان ، لبنانی تاریخ تمدن اور عربی ادب کے استاد " جارج شکور" کا ہے ۔ وہ ان جملہ عیسائی دانشوروں ميں سے ہیں جن کی متعدد کتابیں اہل بیت پیغمبر علیھم السلام سے متعلق شائع ہوچکی ہیں ۔ جارج شکور کی 2001 میں کتاب " حسینی کارنامہ " اور 2007 میں کتاب " امام علی (ع) کا جہاد " کے عنوان سے شائع ہوئي ۔ شکور، معاشروں میں پھیلی بیداری اور جوانوں میں پائے جانے والے جراتمندانہ جذبے کو خون حسین (ع) کا رہین منت قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں ۔ " اے حیسن آپ لائق ستائش ہیں ، آپ نے کتاب کربلا میں اپنے خون سے جو تاریخ رقم کردی ہے ساری دنیا اس کے بارے میں شرح لکھتی رہے گي ۔ بغض وکینے میں آپ کا سر تن سے جدا کردیا گيا اورآپ اور آپ کے عزیزوں کے سروں کونیزوں پر بلند کرکے کشاں کشاں پھرایا گيا ۔ اور حسین کی عورتیں اور بچے ، جنہیں دیکھ کر خون کے آنسو بہاتے رہ گئے اور ان کا جگر کباب ہورہا تھا ۔ لیکن اے زمانہ دیکھ لے کہ کربلا کے شہداء کا خون آج بھی ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی طرح رواں دواں ہے ۔امام حسین (ع) کی تحریک اور انقلاب جاوداں ہوگيا اور آج ان کا پیغام دلوں میں نقش ہوگيا ہے ۔ جس زمانے سے لبنان جورو جفا کی بھینٹ چڑھا ہے اور ستمگروں نے سر غرور اٹھایا ہے مکتب حسین (ع) کے پروانوں نے اپنی جانیں ہاتھوں پر لے کر جرات و بہادری کے ساتھ اپنی غصب شدہ زمینوں کو آزاد کرایا اور ببانگ دہل امام حسین کا یہ جملہ دہرایا کہ حق کبھی بھی ضائع نہیں ہوسکتا ۔

کتاب " پدر ، پسر اور روح القدس " کے ایک اور حصے میں بعض اشعار کا ترجمہ اس طرح سے ذکر کیا گيا ہے ۔

میں حسینی کارنامے کو اس سے بالا تر سمجھتا ہوں کہ اس پر آنسو بہاؤں بلکہ ایسی شہادت کہ جس نےحق کو دوبارہ زندہ کردیا اس پر خوش ہونا چاہئے اور اس کی تکریم کرنی چاہئے ۔ ان کا خون ابھی بھی ضمیروں کو بے قرار کئے ہوئے ہے ۔۔۔ اور جب مقتول حق ہے ، تو قاتل جو بھی ہو وہ کافر اور باطل کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ حسین شہید کا خون ، کریم اور بخشنے والا ہے ۔ یہ خون ضائع نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ حق اور حقیقت کی رہنمائی کے لئے روشنی بکھیر رہا ہے ۔ شہادت ایک ایسی چاشنی ہے جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی سوائے ان عظیم انسانوں کے جنہوں نے قسم کھائی ہے کہ وہ ستم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور ظالم سےانتقام لیں گے ۔ حقیقیت بیانی وہ ہے جسے کہنے میں کوئی ہچک نہ ہو۔ آپ ہی بتائیے کیا حسین (ع) پیغمبر کی آغوش کے پررودہ نہیں تھے ؟ کیا پیغمبر کے دل میں ان کی محبت ، سب سے زیادہ نہیں تھی اور سب سے زيادہ ان ہی کو نہیں چاہتے تھے ؟ کیا انہیں جوانوں کے سید و سردار کے لقب سے نہیں نوازا کہ جن کی خوشبو سے مشام بہشت سرشار ہے ۔ کیا ان کے لبوں کے بوسے نہيں لئے اور انہیں اپنے سینے سے نہیں لگایا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

" پولس سلامہ " ایک اور شاعر ہیں جنہوں نے اہل بیت علیھم السلام خاص طور پر امام حسین (ع) کی مصیبت میں بہت زيادہ اشعار کہے ہیں ۔محمد رضا زائری اپنی کتاب میں امام حسین (ع) سے پولس سلامہ کی عقیدت و محبت کا ذکر کرتے ہوئے خود ان ہی کی زبانی لکھتے ہيں " میں بچپنے سے قرآن مجید اور تاریخ اسلام کا شیفتہ تھا ۔ اور جب بھی شہادت حضرت علی اور ان کے فرزند امام حسین علیھماالسلام کی بات آتی تھی تو حق کی نصرت اور باطل کے خلاف جنگ کا شعلہ میرے سینے میں روشن ہوجاتا ۔ ممکن ہے کوئی یہ اعتراض کرے کہ ایک مسیحی کو اسلام کی تاریخ بیان کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے تو میں یہی کہوں گا کہ میں ایک عیسائي ضرور ہوں لیکن تنگ نظر عیسائی نہیں ہوں ۔ اگر علی اور آل علی کی محبت تشیع ہے اور ظلم کے خلاف قیام اور حسین اور ان کے بچوں پر جو ظلم ہوا اس پر اظہار ہمدردی کرنا ہی شیعہ ہونا ہے ، اگر شیعہ یہی ہیں تو میں اعلان کرتا ہوں کہ میں شیعہ ہوں ۔

سلامہ نے ایک منظوم کلام ميں واقعۂ کربلا ، امام حسین (ع) کی تحریک کے آغاز اور اس تحریک کے مختلف مراحل اور حضرت امام حسین (ع) کی شہادت کو تفصیل سے بیان کیا ہے وہ اس منظوم کلام کے ایک حصے میں لکھتے ہیں " ميں نے اس قدر گریہ کیا کہ میرا تکیہ آنسوؤں سے تر ہوگيا اور میرے قلم سے گریہ کی آواز بلند ہوگئي ۔ حسین تیرے غم نے مجھ مسیحی کوبھی رلادیا دیا اور آنسوؤں کے قطرے میرے آنکھوں سے جاری ہوئے اور تابندہ ہوگئے ۔ ہرگز اس شخص کی کیفیت جو دور سے آگ کا نظارہ کرتا ہے اس جیسی نہیں ہوسکتی جو خود آگ میں جل رہا ہے ۔

کتاب پدر ، پسر اور روح القدس میں اسی طرح "سلامہ" کے وہ اشعار جو انہوں نے عاشورا کے سلسلے میں کہے ہیں اورامام حسین (ع) سے مخصوص ہیں اس طرح سے ہیں " شمر چلا رہاتھا دوڑو اور اسے قتل کردو۔ بد ترین شقی زرعہ بن شریک نے تلوار کھینچی اور امام حسین (ع) کے شانے اور گردن پرایسی ضرب ماری جس سے امام (ع ) عرش زین سے فرش زمین پر آگئے شمر دوڑا تاکہ سر کو بدن سے جدا کرے اے کاش اسی وقت اس کا ہاتھ خشک ہوگيا ہوتا ، شمر نے پیغمبر کے نواسے کے سر مبارک کو تن سے جدا کیا اور پنجتن پاک کا خاتمہ کردیا۔ مظلوم امام کے بدن سے لباس بھی اتار لئے اور ان کی لاش پر گھوڑے دوڑادیئے ۔

سلامہ مزید کہتے ہيں ۔ آج عالم عرب اپنے جیالوں اور بہادروں کو پہچاننے اور پیروی کرنےکا محتاج ہے لیکن جیسی بہادری و شجاعت علی (ع) میں موجود تھی عرب کےکسی بھی بہادر میں نہیں تھی ۔ جس طرح سے کہ کوئ بھی آج تک امام حسین (ع) سے زیادہ ظالموں کے مقابلےمیں شجاعت و بہادری کا مظاہرہ نہیں کرسکا ہے ۔ اور کیوں نہ ایسا ہو کہ علی (ع) محمد (‏ص) کے پروردہ اور حسین (ع) محمد (ص) کے دل کا ٹکڑا ہیں ۔

ملک میں جاری دہشتگردی اور خودکش حملے ڈرون حملوں کا ردعمل ہیں، مولانا سمیع الحق

جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ طالبان ملک کے آئین کے خلاف نہیں بلکہ انکا مطالبہ آئین پاکستان پر عمل درآمد کرنے کا ہے، قبائلی علاقوں میں غیر اعلانیہ آپریشن جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات ہونے چاہئیں، امریکی خواہشات کے مطابق وہاں آپریشن ہوا تو ملک کو ایسی آگ لگے گی جو بجھائے نہ بجھے گی، آئین کی رو سے کوئی بھی غیر مسلم ملک کا صدر یا وزیراعظم نہیں بن سکتا، بھارت لائن آف کنٹرول پر دیوار بنا رہا ہے اور بنگلہ دیش میں بھارتی سازشوں کے نتیجہ میں پاکستان کے حامیوں کو پھانسی دی جا رہی ہے جبکہ وزیراعظم نواز شریف ان سے دوستی کی باتیں کرتے ہیں، پاکستان عوامی تحریک کے آج کو ہونیوالے احتجاج کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، دہشت گردی، مہنگائی کی ماری قوم کو احتجاج کا مکمل حق حاصل ہے، بانی پاکستان قائداعظم کو سیکولر کہنے والے ان کی توہین کر رہے ہیں۔ اس امر کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز جامعہ مسجد کبریٰ میں جے یو آئی کی رکنیت سازی اور تنظیم نو کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

مولانا سمیع الحق نے کہا کہ امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ رونما ہونے کے بعد ہماری تمام حکومتیں غیر ملکی تسلط میں چلی گئیں، وزیراعظم نواز شریف نے بھی انتخابی مہم کے دوران اعلان کیا تھا کہ ملک کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرائیں گے لیکن اب موجودہ حکومت بھی امریکی ایجنڈے کو چھوڑنے کے بجائے ان کی طرف جا رہی ہے۔ حکومت سے لوگوں کی امیدیں ختم ہوگئی، حکومت سے لوگ مایوس ہوچکے۔ بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ وہ ملک کا وزیراعظم کسی غیر مسلم کو دیکھنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ آئین سے انحراف ہے کیونکہ آئین کی رو سے کوئی بھی غیر مسلم ملک کا صدر یا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ پاکستانی طالبان کا ہے، امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان میں امن قائم ہو۔ آل پارٹیز کانفرنس میں بھی امریکی جنگ سے نکلنے اور مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا، اس کے باوجود قبائلی علاقوں میں غیر اعلانیہ آپریشن جاری ہے، اگر آپریشن نہ ہو رہا ہوتا تو اب تک طالبان سے مذاکرات شروع ہوچکے ہوتے، طالبان سے مذاکرات ہونے چاہئیں اور اس سے پہلے انہیں تحفظ دیا جائے کہ امریکہ ڈرون حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری دہشتگردی اور خودکش حملے ڈرون حملوں کا ردعمل ہیں، امریکہ سے دوٹوک بات کریں کہ ہم مذاکرات کر رہے ہیں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ملک اور قوم کو امریکی غلامی دے نجات دلانے کے لئے ایک بڑی قوت کے طور پر اپناکردار اداکرے گی، اور اس سلسلے میں جمعیت کی رکنیت سازی کا عمل جاری ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ مذہبی ہم آہنگی اور ضابطہ اخلاق کا نفاذ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ 17 نکات پر کاربند رہیں گے۔ طالبان مذاکرات کیلئے تیار ہیں، حکومت سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہی ہے۔

لاہور میں امریکی قونصل خانے کی توسیع خطرے کی گھنٹی ہے

طالبان کے حمایتی ملک و قوم کے دشمن ہیں، سمیع الحق طالبان کو سرنڈر کرنیکا مشورہ دیں، حامد رضا

چیئرمین سنی اتحاد کونسل کا کہنا تھا کہ ملک کی نظریاتی اساس ہی قومی بقا کی ضمانت ہے، سمیع الحق قوم کو طالبان سے ڈرانے کی بجائے انہیں ہتھیار پھینکنے اور آئین و قانون کو ماننے پر قائل کریں۔

طالبان کے حمایتی ملک و قوم کے دشمن ہیں، سمیع الحق طالبان کو سرنڈر کرنیکا مشورہ دیں، حامد رضا سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے اعلان کیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل 4 جنوری کو ’’یومِ حمایتِ ممتاز قادری‘‘ منائے گی۔ اس موقع پر ملک بھر میں ممتاز قادری کی رہائی کے لیے ریلیاں نکالی جائیں گی اور اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ ملک کی نظریاتی اساس ہی قومی بقا کی ضمانت ہے، طالبان کے حمایتی ملک و قوم کے دشمن ہیں۔ سمیع الحق قوم کو طالبان سے ڈرانے کی بجائے انہیں ہتھیار پھینکنے اور آئین و قانون کو ماننے پر قائل کریں۔ لاہور میں امریکی قونصل خانے کی توسیع خطرے کی گھنٹی ہے۔ حکمرانوں نے ملک کو غربت کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ عذاب بن چکی ہے۔ بلدیاتی الیکشن کو ٹال مٹول کی پالیسی سے مذاق بنا دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں بیرونی مداخلت بدامنی کا سبب ہے۔

مولانا سمیع الحق کا بیان شہداء کے خون سے غداری ہے، ایم ڈبلیو ایم

ترجمان ایم ڈبلیو ایم کا کہنا ہے کہ مولانا سمیع الحق نے خودکش حملے کرنیوالے دہشتگردوں کو فدایان کہہ کر ان ظالموں کی بربریت کا نشانہ بننے والوں کے خانوادگان کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔

مولانا سمیع الحق کا بیان شہداء کے خون سے غداری ہے، ایم ڈبلیو ایم

مجلس وحدت مسلمین کے ترجمان نے مولانا سمیع الحق کی طرف سے خودکش دہشت گردوں کو فدایان کہنے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے شہدائے پاکستان جو ان ظالموں کی بربریت کا نشانہ بنے، کے پاکیزہ لہو سے غداری اور شہداء کے خانوادگان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف قرار دیا ہے۔ طالبان اور دہشت گردوں کی نرسری لگانے والوں کا کھلے عام ایسا بیان ملکی سالمیت کیلئے سنگین خطرے سے کم نہیں، پاکستان میں دہشت گردی کی اصل جڑ وہی مدارس ہیں جہاں ان کی تربیت ہوتی ہے اور دہشت گرد مولانا صاحب کو اپنا باپ بھی مانتے ہیں۔ ترجمان مجلس وحدت مسلمین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کیخلاف 5 جنوری کو مجلس وحدت مسلمین، سنی اتحاد کونسل اور وائس آف شہدائے پاکستان کا اسلام آباد میں ہونے والا اجتماع ریفرنڈم ثابت ہوگا، ہمیں قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان چاہیے دہشت گردوں اور قیام پاکستان کے دشمنوں کا ملک نہیں۔

ریلی کو روکا گیا تو حکومت کے پاس مہلت کم ہوجائیگی، علامہ طاہر القادری

انہوں نے کہا کہ ايک ہزار ارب روپے کے نوٹ چھاپ کر مہنگائی کا بوجھ عوام پر ڈالا گيا۔ قومی اداروں کي نجکاری کے نام پر حکمران طبقہ اپنے اثاثوں ميں اضافہ کر رہا ہے۔ عوام حکومتی پاليسيوں کے خلاف انتيس دسمبر کی ريلی ميں بھرپور شرکت کريں۔ منہاج القرآن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس بار ان کا لانگ مارچ عوام کے حق حکمرانی کے لئے ہوگا جو اس نظام کے خلاف فائنل راونڈ ثابت ہوگا۔ علامہ طاہر القادری نے مطالبہ کيا کہ سپريم کورٹ ٹيکس نادہندہ ارکان اسمبلی کا نوٹس لے اور نجکاری روک کر قومی اثاثے بچائے جائیں۔

ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ پرحماس کی تاکید

فلسطین کے اطلاع رسانی کے مرکز کی رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے کل، اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو میں ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت پیش کی اور ایران کے ساتھ تحریک حماس کے گہرے روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ خالد مشعل نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایران کی کامیاب ڈپلومیسی کو سراہا اور فلسطین کی اسلامی مزاحمت کے لئے، ملت ایران کی پیہم اور مضبوط حمایت کی قدردانی کی۔

اس ٹیلیفونی گفتگو میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی فلسطینی عوام اور مزاحمت کی حمایت کے سلسلے میں ایران کے ٹھوس موقف پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ملت ایران اور فلسطین، دونوں ہی متحدہ محاذ پر اسرائيل کے خلاف نبرد آزما ہیں۔

مسجد نصیرالملک – شیراز ؛ ايران

مسجد نصیرالملک ، شیراز کی قدیم مساجد میں سے ایک مسجد ہے جو شہر شیراز کے “ گود عربان” نامی محلہ میں، خیابان لطف علی خان زند کے جنوب میں امام زادہ شاہ چراغ کے قریب واقع ہے۔

مسجد نصیرالملک – شیراز ؛ ايران

اس عمارت کو سلسلہ قاچار کے ایک نامور شخص، میرزا حسن علی المعروف نصیرالملک کے حکم سے تعمیر کیا گیا ہے اور اس کی معماری، محمد حسن معمار نامی ایک مشہور معمار نے انجام دی ہے۔ اس مسجد کو تعمیر کرنے میں ١۲۵۵ سے ١۲٦۷شمسی﴿ ١۸۷٦ء سے ١۸۸۸ء تک﴾، یعنی بارہ سال کا عرصہ لگ گیا ہے۔

مسجد نصیرالملک – شیراز ؛ ايران

مذکورہ مسجد کا ایک وسیع و عریض صحن ہے، جو مسجد کے شمال میں واقع ہے۔ اس مسجد کا صدر دروازہ ایک بڑا محراب نما ہے جس کی چھت رنگ برنگ ٹائیلوں سے مزین کی گئی ہے۔ اس مسجد میں داخل ھونے کے دو دروازے ہیں، جو لکڑی کے بنے ھوئے ہیں۔ ان دونوں دروازوں کے اوپر سنگ مرمر پر شوریدہ شیرازی کے چند اشعار لکھے گئے ہیں، جن میں مسجد کو تعمیر کرانے والے اور اسکی تعمیر مکمل ھونے کے سال کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس مسجد کے مشرقی شبستان اور مغربی شبستان کے نام سےدو شبستان ہیں۔

مسجد نصیرالملک – شیراز ؛ ايران

مغربی شبستان کی چھت اینٹوں کی بنی ھوئی ہے اور اس پر کافی تزین کاری کا کام ھوا ہے اور زیبا ہے، اس شبستان کا محراب پتھر کے ستونوں پر قرار پایا ہے، یہ ستون مخروطی شکل کے ہیں اور ان کی تعداد بارہ اماموں کی نیت سے بارہ ہے۔ اس شبستان کی سات دھلیزیں ہیں جو لکڑی کے بنے ھوئے سات دروازوں کے ذریعہ مسجد کے صحن سے ملتی ہیں اور ان دروازوں کر رنگ برنگ شیشوں سے مزین کیا گیا ہے۔ اس شبستان کی سنگ تراشی اور تزئین کاری، مسجد وکیل شیراز کے مانند ہے۔ اس شبستان کے محراب اور دیواریں خوبصورت ٹائیلوں سے مزین کی گئی ہیں۔ اور اس کے فرش پر فیروزی رنگ کی ٹائلیں بچھائی گئی ہیں اور اس کی چھت کو پھول، پودے اور قرآن مجید کی آیات نقش کرکے سجایا گیا ہے، حقیقت میں یہ شبستان، موسم گرما کا شبستان شمار ھوتا ہے۔

مشرقی شبستان، موسم سرما کا شبستان شمارھوتا ہے، اس کے بالکل سادہ سات ستون ہیں اور یہ ساتوں ستون ایک ہی لائن میں شبستان کے بیچ میں قرار پائے ہیں۔ مشرقی شبستان کے سامنے ایک ایوان ہے جو آٹھ محرابوں کے ذریعہ صحن سے جدا ھوا ہے۔ اس شبستان میں ایک ایسا دروازہ ہے، جو ایک کنویں کی طرف کھلتا ہے۔

مسجد نصیرالملک – شیراز ؛ ايران

اس کے علاوہ اس جگہ پر ایک چھوٹا حوض اور ایک ڈالان بھی ہے۔ عمارت کے لئے قبلہ کی سمت مشخص کرنے کے لئے دونوں شبستان معمول کے خلاف قبلہ کی امتداد میں قرار پائے ہیں۔ شمالی ڈالان پر ایک پتھر ہے، جس پر مندرجہ ذیل شعر منقش کیا گیا ہے:

غرض نقشی است کز ما بازماند کہ ھستی را نمی بینم بقایی

مگر صاحبدلی روزی بہ رحمت کند در حق استادان دعایی

مسجد نصیرالملک – شیراز ؛ ايران

اس مسجد کے دوایوان ہیں، جن کے نام شمالی ایوان اور جنوبی ایوان ہیں یہ دونوں ایوان ایک دوسرے کے مشابہ نہیں ہیں۔ شمالی ایوان، جنوبی ایوان کی بہ نسبت خوبصورت تر ہے۔ شمالی ایوان کے تین جانب تین نیم محراب ہیں اور چوتھی طرف صحن کی طرف دروازہ ہے، اسی طرح اس ایوان کے چار کمرے ہیں اور اس کی درمیانی سقف محراب نما اور زیبا ہے۔ جنوبی ایوان کے بھی دو گل دستے ہیں اور اس کے صحن میں بھی ایک مستطیل شکل کا حوض ہے اور اس کے درمیان پتھر کا بنا ہوا فوارہ ہے۔

مسجد نصیرالملک – شیراز ؛ ايران

مسجد کے شمال کی طرف ایک محراب ہے جس کا نام محراب مروارید ہے۔ اس کی پوری سقف کو اندر اور باہر سے رنگ برنگ ٹائیلوں سے مزین کیا گیا ہے اور ان پر قرآن مجید کی آیات لکھی گئی ہیں اور اس محراب کے دونوں طرف دو چھوٹے محراب نما ہیں۔ اس کے جنوب میں بھی ایک محراب ہے، جو محراب مروارید سے قدر ے پست تر ہے۔

اس کی بیرونی اور اندرونی سطح پر ٹائیل نصب کئے گئے ہیں اور اس کی سقف کو بھی شمالی محراب کی سقف کے مانند چھوٹے چھوٹے محرابوں سے سجایا گیا ہے۔