Super User

Super User

Monday, 30 December 2013 07:18

جناب " ام وھب "

جناب

جناب واقعہ کربلا میں شریک عظیم خواتین میں سے ایک جناب " ام وھب " بھی ہیں

وہ ایک بہادر خاتون تھیں جو اپنے شوہر عبد اللہ بن عمیر کلبی کے ہمراہ کربلا میں شہادت کے درجے پر فائز ہوئیں۔ قابل ذکر ہے کہ کربلا کے دلخراش واقعے میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے قافلے میں تین ایسی شجاع و بہادر خاتون تھیں جنہوں نے یزيدیوں سے مقابلہ کیا جن میں سے دو عورتیں حضرت امام حسین علیہ السلام کے حکم سے میدان جنگ سے خارج ہوگئیں لیکن ام وھب کربلا کی جنگ میں موجود تھیں اور شہادت کے اعلی درجے پر فائز ہوئیں ۔

ام وھب کا شمار ان معدودے چند خواتین میں ہوتا ہے جو اپنے شوہر سے والہانہ عشق و محبت کے علاوہ امام وقت حضرت امام حسین علیہ السلام سے بے پناہ عقیدت رکھتی تھیں اور ان کا شمار خالص شیعوں میں ہوتا تھا اس طرح کی عظیم خواتین کا وجود نہ صرف دنیا کی تاریخ بلکہ تاریخ اسلام میں بھی بہت ہی کم دیکھنے کو ملتا ہے

روایت میں ہے کہ جب عبداللہ میدان کارزار میں گئے تو ام وہب نے ایک لکڑی اٹھائی اور ان کے پیچھے پیچھے میدان جنگ کی طرف گئیں تاکہ اپنے شوہر کی مدد اور دشمنوں سے جنگ کریں جب عبد اللہ نے ام وہب کو میدان میں دیکھا تو ان کے قریب آئے اور کہا کہ تم فورا خیمے میں واپس چلی جاؤ اور جنگ کو مردوں کے لئے چھوڑدو لیکن ام وہب نے اپنے شوہر نامدار سے کہا : میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتی یہاں تک کہ تمہارے ساتھ اپنی جان قربان کردوں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام جو پیار و محبت کے اس حسین منظر کا مشاہدہ کررہے تھے عبد اللہ بن عمیر کلبی کی شریک حیات ام وھب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے ام وہب ، خدا تجھے اجر دے ، تم خیمے میں جاکر خواتین کے ساتھ بیٹھ جاؤ ، کیونکہ خواتین پر جہاد واجب نہیں ہے۔ ام وہب نے جب امام حسین علیہ السلام کے اس فرمان کو سنا تو حکم امام کی اطاعت کرتے ہوئے خیمے میں واپس چلی گئیں لیکن خیمہ گاہ سے اپنے شوہر کی شجاعت و بہادری کا نظارہ کرتی رہیں لیکن جب عبداللہ نے جام شہادت نوش کیا تو دوڑتے ہوئے اپنے شوہر کے سرہانے پہنچ گئیں اور کہا " اے میرے سرتاج تمہیں بہشت مبارک ہو ، میں اس خدا سے جس نے تمہیں جنت کی نعمت سے سرافراز کیا ہے التجا کرتی ہوں کہ مجھے بھی تمہارے ساتھ جنت میں ہم نشیں قرار دیدے"۔

ام وہب کی شجاعت و بہادری اور حضرت امام حسین علیہ السلام اور اپنے شوہر سے ان کی وفاداری کو دیکھ کر شمر حیران و پریشان ہوگیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ابن زياد کے کچھ سپاہی لشکر حسینی میں شامل ہوجائیں اس لئے اس نے اپنے غلام رستم کو حکم دیا کہ فورا ام وہب کے سر پر ایسا گرز مارو کہ وہ ختم ہوجائیں۔ رستم نے بھی ایسا ہی کیا اور اس طرح عبد اللہ عمیر کلبی کی شجاع و بہادر شریک حیات ام وھب اپنے شوہر کی شہادت کے کچھ ہی لمحوں بعد وہ شہادت کے درجے پر فا‏ئز ہوگئیں اور اپنا مدعا حاصل کرلیا ۔

بنگلہ دیش: پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیںبنگلہ دیش میں احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی سیکیورٹی فورسز نے ڈھاکہ میں احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ان پر واٹر کینن اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے بھی پولیس کے خلاف دیسی ساختہ بم استعمال کئے ہیں۔ ان جھڑپوں میں اب تک ایک شخص کے ہلاک ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ ڈھاکہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق پولیس کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا ہے مظاہرین سے نمٹنے کے لئے پولیس کے گیارہ ہزار اہلکار ڈھاکہ کے مختلف علاقوں میں تعینات کئے گئے ہیں۔ پولیس نے مظاہروں کو روکنے کے لئے ایک ہزار سے زائد افراد کو مظاہرے سے ایک دن پہلے گرفتار بھی کر لیا تھا۔ بنگلہ دیش کی اپوزیشن جماعتوں نے پانچ فروری کو ہونے والے انتخابات کو ملتوی کروانے کے لئے احتجاج کی کال دی تھی۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی تمام اولادوں میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے علاوہ حضرت فاطمہ کبری معصومہ سلام اللہ علیہا بھی عظیم فضائل و کمالات اور اعلی و ارفع مقام پر فا‏‏ئز تھیں۔

فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت کو پچیس سال گذر چکے تھے کہ پہلی ذیقعدہ سن ایک سو ایکہتر ہجری قمری کو حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں آپ اپنے والدین حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اور جناب نجمہ خاتون کی پاکیزہ آغوش میں پروان چڑھیں ایسے گھر میں کہ جس کے تمام افراد علم و عمل سے مالامال اور تقوی و پرہیزگاری سے سرشار تھے آپ نے اپنے والد گرامی اور عظیم المرتبت بھائی کی ولایت و تربیت میں رہ کر الہی تعلیم حاصل کی اور رسول اسلام اور آپ کے اہلبیت کی احادیث پر تسلط حاصل کیا البتہ آپ کے بابا اپنی عمر کے اواخر میں ہمیشہ ہارون الرشید کے قید خانے میں رہے بالآخر قید خانے میں ہی کہ جس وقت حضرت معصومہ کی عمر دس برس تھی آپ کو شہید کردیا گیا اس کے بعد سے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا اپنے بھائی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زیر تربیت رہیں ۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا عبادت و زہد میں شہرہ آفاق اور فضائل و کمالات میں بلندترین مقام پر فائز تھیں آپ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی تمام اولادوں میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے بعد علمی و اخلاقی کمالات میں سب سے زيادہ اعلی و ارفع مرتبے پر فائز تھیں۔ یہ حقیقتیں حضرت معصومہ کے القاب اور آپ کے بارے میں علماء و دانشوروں کے بیان کردہ صفات سے بخوبی واضح ہوجاتی ہیں۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے بے شمار صفات و القاب جس کی وجہ سے آپ بہت معروف ہوئیں ہیں وہ ان کے اخلاق کریمانہ پر دلالت کرتے ہیں آپ کی زيارت میں آپ کے بہت سے القابات مثلا طاہرہ، حمیدہ ، مرضیہ ، محدثہ اور شفیعہ کا ذکر ہوا ہے لیکن امام علی رضا علیہ السلام کے فرمان کے مطابق آپ کا سب سے مشہور لقب " معصومہ " ہے ۔ان میں سے ہرایک القاب و صفات آپ کی عظمت و کرامت اور اعلی مقام کے عکاس ہیں ایسی شخصیت کہ جس کی تمام رفتار و گفتار پاکیزگی ، صداقت اور دین و عرفان کے سانچے میں ڈھلی تھی آپ کے اعلی صفات کو اجاگر کررہی تھی ۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا نے جو علوم و فضائل اپنے بابا اور اپنے بھائی حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے کسب کیا تھا اس کے ذریعے معاشرے کی ہدایت و رہنمائی کرتی تھیں تاریخ میں منقول ہے کہ جب حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام مدینے میں تشریف نہیں رکھتے تھے تو حضرت معصومہ لوگوں کے سوالات کا جوابات دیا کرتی تھیں اور ان کے مشتبہ افکار کی اصلاح فرمایا کرتی تھیں ایک دن امام علیہ السلام کے کچھ چاہنے والے آپ سے ملاقات کے لئے مدینہ تشریف لائے تاکہ اپنے سوالات کا اطمینان بخش جواب حاصل کرسکیں مگر اس وقت امام کاظم علیہ السلام مدینے سے باہر سفر پر گئے ہوئے تھے ان لوگوں نے اپنے سوالات لکھ کر حضرت معصومہ کے پاس بھیجوایا اور قیام گاہ واپس چلے گئے پھر دوسرے دن بھی وہ لوگ امام علیہ السلام کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے لیکن امام علیہ السلام موجود نہ تھے امام کے چاہنے والوں نے اپنے سوالات واپس مانگے تاکہ پھرکبھی امام علیہ السلام سے آکر جواب معلوم کریں گے مگر ان لوگوں کو اس وقت بہت زيادہ حیرت ہوئی جب انہوں نے دیکھا کہ معصومہ سلام اللہ علیہا نے تمام سوالات کے جوابات لکھ کر ارسال کئے ہیں اور وہ جوابات بھی اتنے جامع تھے کہ وہ لوگ قانع ہوگئے جب امام علیہ السلام سفر سے واپس آئے اور اس واقعے سے باخبر ہوئے تو آپ نے باکمال افتخار فرمایا : فداھا ابوھا فداھا ابوھا تیرا باپ تجھ پر نثار ہو ،تیرا باپ تجھ پر نثار ہو۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا متقی و پرہیزگار ، عالمہ اور محدثہ خاتون تھیں یہی وجہ ہے کہ شیعہ اور اہل سنت کی بہت سی کتابوں میں آپ سے نقل کردہ روایتیں موجود ہیں آپ نقل احادیث کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی و ہدایت فرماتی تھیں۔ آپ اپنے والد ماجد اور بھائی سے جو بے شمار حدیثیں سنتی تھیں ان کو لوگوں کے سامنے بیان فرماتی تھیں اور انہی میں سے ایک وہ روایت ہے جسے آپ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علہا سے نقل کیا ہے آپ نے فرمایا: جو شخص محمد و آل محمد کی محبت پر مرجائے وہ شہید مرا ہے ۔

فقہاء کی نظر میں آپ کا معروف لقب " کریمہ اہل بیت " ہے اہلبیت علیہم السلام کی خواتین کے درمیان یہ لقب صرف اور صرف آپ ہی کی ذات اقدس سے مخصوص ہے ۔کریمہ کے معنی بہت ہی سخی و مہربان عورت کے ہیں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا نے قرآن کریم اور اسلام کی تعلیمات کی پیروی ميں بسر ہونے والی زندگی کو سعادتمند زندگی سے تعبیر فرمایا اور اپنی پوری زندگی ذکر خدا اور یاد خدا میں بسر کی یہی وجہ ہے کہ آپ دین اسلام کی مکمل پیروی اور راہ ہدایت پر چل کر کمال انسانی کے سب سے اعلی مرتبے پر فائز ہوئیں روایتوں میں آپ کے روضہ انور کی زيارت کی بہت زيادہ تاکید ہوئی ہے اور یہ بات خود آپ کی منزلت، شرف و فضیلت اورآپ کے علو درجات کو نمایاں کرتی ہے ائمہ معصومین علیہم السلام نے مسلمانوں کو آپ کی زيارت کی بہت زیادہ تشویق و ترغیب دلائی ہے ۔

فرزند رسول حضرت امام محمد تقی علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا : جو میری پھوپھی کی قم میں زيارت کرے گا اس پر جنت واجب ہے ۔آپ کی زیارت پر اتنا زیادہ اجر و ثواب ، جی ہاں کیونکہ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی اولادوں میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے بعد کسی کے بارے میں بھی اتنی فضیلت بیان نہیں ہوئی ہے ۔

مامون کی خلافت کے آغاز سے ہی اس مکار و عیاش عباسی خلیفہ نے اپنے ظالم وستمگر آباؤ و اجداد کی مانند اہل بیت و عصمت وطہارت علیہم السلام کی روز افزوں مقبولیت کے سبب نئی چالیں اور حربے استعمال کرنا شروع کردیئے اور امام علی رضا علیہ السلام کو اپنے دارالحکومت "مرو " بلا لیا امام علیہ السلام نے مجبورا اس کی دعوت قبول کی اور اپنے اہل بیت اور اعزہ و احباب کو لئے بغیر ہی تنہا مرو چلے گئے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے مرو جانے کے ایک برس بعد سن دو سو ایک ہجری میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا اپنے بھائی کی زيارت کے لئے اپنے چار بھائیوں اوربہت سے چاہنے والوں کے ہمراہ ایران کی جانب روانہ ہوئیں جب یہ مختصر سا قافلہ شہر ساوہ کے قریب پہنچا تو مامون عباسی کے حکم سے کچھ دشمنان اہل بیت نے آپ لوگوں کا راستہ روک لیا اور ان پر حملہ کرکے خاندان پیغمبر کے تقریبا تیئیس افراد کو شہید کردیا اس دلخراش واقعہ کا حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا پر اتنا زيادہ اثر ہوا کہ آپ بیمار پڑ گئیں یا ایک روایت کی بنیاد پر آپ کو زہر دیا گیا حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے باقی بچے ہوئے افراد سے پوچھا یہاں سے قم کتنی دور ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا بہت ہی نزدیک ہے آپ نے فرمایا مجھے فورا قم لے چلو کیونکہ ہم نے اپنے بابا سے بارہا سنا ہے کہ قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے اور اس طرح مرو کی جانب جانے والا قافلہ قم کی طرف روانہ ہوگیا اور تیئیس ربیع الاول سن دو سو ایک ہجری کو قم پہنچ گیا قم میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی آمد کی خبر تمام لوگوں کے لئے بہت ہی مسرت بخش تھی بزرگان قم اور وہاں کے عوام حضرت کے استقبال کے لئے نکل پڑے انہوں نے محبت و عقیدت سے سرشار آپ کو اپنے جھرمٹ میں لے لیا استقبال کرنے والوں سے پہلے شہر قم کی معروف شخصیت موسی بن خزرج پہنچ گئے اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا سے خواہش ظاہر کی کہ اے معصومہ آپ ہمارے گھر میں قیام کیجئے آپ نے ان کی درخواست کو قبول کرلیا ۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا اپنے بھائی امام علی رضا علیہ السلام کے غم جدائی اور اپنے بھائیوں کی شہادت یا ایک قول کی بناء پر آپ کو جو زہر دیا گیا تھا اس کی وجہ سے بیمار پڑگئیں اور صرف سترہ دن زندہ رہیں اور دس ربیع الثانی دوسو ایک ہجری کو اپنے بھائی کے دیدار کی تمنا دل میں لئے ہوئے غربت کے عالم میں اٹھائیس برس کی عمر میں اس دارفانی سے بقائے جاودانی کی طرف رخصت ہوگئیں اور اپنے چاہنے والوں کو گریہ و زاری میں مبتلا کردیا اور قم کے جس گھر میں آپ نے سترہ دن قیام کے دوران عبادت پروردگار اور اپنے معبود حقیقی سے راز و نیاز کیا تھا آج وہ جگہ بیت النور کے نام سے معروف اور مسلمانوں کی زیارت گاہ بنا ہوا ہے ۔

آپ کی وفات کے بعد آپ کو نہایت ہی ادب و احترام سے غسل و کفن دیا گيا اور بڑی شان و شوکت سے آپ کا جنازہ اٹھا اور اسی مقام پر جہاں آج روضہ منور ہے سپرد خاک کردیاگیا-

ہمارا سلام ہو اس عظیم خاتون پر جس نے ثانی زہرا سلام اللہ علیہا کے نقش قدم پر چل کر دین اسلام کی آبیاری کی ۔

Saturday, 28 December 2013 08:20

مسجد سئول - جنوبی کوریا

مسجد سئول - جنوبی کوریا

جنوبی کوریا کے شہر سئول کی مرکزی مسجد نے اس شہر کے “ایتائہ وون” علاقہ میں ١۹۷٦ء میں فعالیت شروع کی ہے۔ یہ مرکزی مسجد، شہر سئول کی واحد مسجد کے عنوان سے سیاحوں کو اپنی طرف جذب کرنے والی جگہ شمار ھوتی ہے، کہ کوریا کے بہت سے باشندے ہفتہ کے آخر پر اسلام کے بارے میں تقریر سننے کے لئے اس مسجد میں حاضر ھوتے ہیں۔

مسجد سئول - جنوبی کوریا

اس کے علاوہ اس مسجد میں جمعہ کے دن نماز جمعہ قائم ھوتی ہے اور نماز جمعہ کے خطبے تین زبانوں، یعنی انگریزی، عربی اور کوریایی میں بیان کئے جاتے ہیں۔ تقریبا ۸۰۰ نماز گزار جمعہ کے دن ایک بجے ظہرکو نماز جمعہ میں شرکت کرنے کے لئے اس مسجد میں حاضر ھوتے ہیں، ان میں سے اکثر کوریا میں مقیم عرب، ھندستانی، پاکستانی اور ترکیہ کے باشندے ھوتے ہیں۔

مسجد سئول - جنوبی کوریا

سئول کی مرکزی مسجد، مسجد کے علاوہ اداری دفاتر، درس کے کلاسوں، کانفرنس ہال اور اجتماعات کے حال پر مشتمل ہے۔

مسجد سئول - جنوبی کوریا

اس مسجد کے طبقہ اول اور دوم میں کوریا میں غیر ملکی کام کرنے والے مسلمانوں کے لئے ہفتہ کے آخری دن عارضی سکونت کے لئے چند کمرے تعمیر کئے گئے ہیں۔

مسجد سئول - جنوبی کوریا

اس مسجد کے اسلامی مدرسہ کی عمارت کا نام “ شہزادہ سلطان” ہے اور یہ حصہ مسجد کی اصلی عمارت سے جدا ہے۔ اس مسجد کے دو خوبصورت میناروں نے جنوبی کوریا کے دارالخلافہ سئول کے جنوبی علاقہ کو رونق بخشی ہے۔

مسجد سئول - جنوبی کوریا

اس مسجد کے صدر دروازہ کو انتہایی ظرافت اور خوبصورتی کے ساتھ نیلے اور سفید ٹائیلوں سے سجایا گیا ہے۔

یہ مسجد کوریا کے دارالخلافہ سئول کے “ ہان نام دونگ، یونگسان گو“ نامی محلہ میں واقع ہے۔

حضرت عیسی علیہ السلام ،خدا کے عظیم پیغمبر

آج اس پیغمبر کا یوم ولادت ہے جس نے حضرت مریم جیسی عظیم خاتون کی آغوش عصمت میں آنکھ کھولی وہ پیغمبر جو اقوام عالم کے لئے مہربانی اور عدالت وانصاف کی بشارت دینے والا اور پیغام رساں تھا

جس نے گہوارے میں گفتگو کی اور غفلت کے شکار لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: میں خدا کا بندہ ہوں، خدانے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے ۔ اور جہاں بھی رہوں بابرکت قرار دیاہے اور جب تک زندہ رہوں نماز و زکوٰٰۃ کی وصیت کی ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا بنایا ہے۔ اور ظالم وبد نصیب نہیں بنایاہے اور سلام ہے مجھ پر اس دن جب میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن دوبارہ زندہ اٹھایا جاؤں گا۔

حضرت عیسی مسیح علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے دنیا کے عدل نوازوں اور انصاف پسندوں کی خدمت میں مبارک باد پیش کررہے ہیں۔

حضرت عیسی علیہ السلام خداوند عالم کے اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں اور قرآن نے بڑے احترام کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے ۔ آپ کی ولادت کی داستان بھی بڑی حیرت انگیز ہے اور قرآن کریم نے اس کی جانب اشارہ کیا ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو حضرت حق نے بغیر باپ کے پیداکیا آپ کی والدۂ گرامی حضرت مریم(س) کو خدائے قادر وتوانا نے شادی اور شوہر کے بغیر ماں کے عظیم مرتبہ پر فائز کیا قرآن کریم میں مریم بنت عمران کے بارے میں خدا فرماتاہے کہ وہ بڑی پرہیز گار اور پاک دامن خاتون تھیں۔

بچپن سے ہی معرفت الہی اور عبودیت و تہذیب نفس کے اس مرتبے پر فائز تھیں کہ ان کے لئے آسمانی غذائیں اور نعمتیں آتی تھیں ایک روز حضرت مریم (س) اپنے معبود سے راز ونیاز میں مشغول تھیں کہ دفعتا سید الملائکہ جبریل نازل ہوئے اور آپ کو ایک پاکیزہ بچے کی پیدائش کی بشارت دی۔خدا وند کریم نے سورۂ مریم کی سولہ سے اکیس تک کی آیات میں اس داستان کو بیان فرمایاہے ۔قرآن کریم نے حضرت عیسی (ع) اور ان پر نازل ہونے والی کتاب انجیل کی تصدیق کرتے ہوئے موجودہ مسیحیت میں رائج بعض اعتقادات کی نفی کی ہے جن میں تثلیث اور اس کے اصول و معیارات شامل ہیں۔

تثلیث کے معنی ، کسی چیز کو تین حصّوں میں تقسیم کیا جانا ہے۔موجودہ دین مسیحیت کے اعتقادات میں، تثلیث بنیادی عقیدہ ہے جو تین خداؤں یعنی باپ بیٹا اور روح القدس کی الوہیت کی بنیاد پر استوار ہے۔ نظریۂ تثلیث ، ایک سہ گانہ حقیقت کی حیثیت سے خدا کو درک کرنے اور اس کی معرفت حاصل کرنے کی تبلیغ کرتاہے ۔اس عقیدہ کی بنیاد پر خدا کی ذات یگانہ ہے لیکن تین جداگانہ ہستیوں باپ ، بیٹا روح القدس سے ملکر ایک ہے ۔یہ تینوں جداگانہ تشخص کے باوجود ایک ذات ہے اور ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں تثلیث کے عقیدے میں عیسی وہی ذات الہی ہے جو پیکر بشر میں ظاہر ہوئی ہے ۔اور حضرت مریم کے بطن مبارک میں زیور جسم سے آراستہ ہوئی ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ چاروں انجیلوں میں سے کسی میں بھی مسئلۂ تثلیث کی جانب اشارہ نہیں کیا گیاہے ۔اسی لئے مسیحی محققین کا کہناہے کہ انجیلوں میں عقیدۂ تثلیث کا سرچشمہ واضح نہیں ہے ۔ جیسا کہ بعض مورخین نے بھی لکھاہے کہ پہلے کے مسیحی تثلیث کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے ۔عقیدۂ تثلیث تیسری صدی عیسوی کے بعد عیسائیوں کے درمیان رائج ہوا۔در حقیقت یہ بدعت، تھی جو حضرت عیسی کے بارے میں غلو اور اسی طرح مسیحیوں کے دیگر اقوام وملل میں شمولیت کے نتیجے میں مسیحیت میں شامل ہوگئی ۔خداوند کریم سورۂ مائدہ کی 77 ویں آیت میں ارشاد فرماتاہے کہ اے پیغمبر کہدو کہ اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو اور زیادہ روی سے کام نہ لو اور حق بات کے سوا کچھ نہ کہو اور ایسوں کی پیروی نہ کرو کہ جو خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ۔دین مسیحیت میں خدا کی یکتائی کی جانب اشارہ کیا گیا ہے لیکن تثلیث کےعقیدے کے ساتھ خدا کا یگانہ و یکتا ہونا ، تضاد پائے جانے کے باعث درک وفہم میں شدید مشکلات کا باعث بناہے ۔یہ نظریہ، عقیدۂ تثلیث کو راز سربستہ اور عقل وفہم کی دسترس سے بالاتر سمجھتاہے۔غیر مسیحی دانشوروں کا کہنا ہے کہ صرف نظریۂ تثلیث قابل اثبات نہیں ہے بلکہ عہد جدید کی کتاب میں بھی ایسی باتیں ملتی ہیں جو عقیدۂ تثلیث کی بیخ کنی کرتی ہیں۔ ان دانشوروں کا کہنا ہے کہ انجیل میں ایسی عبارتیں موجود ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے ایسی باتیں منقول ہیں جو مکمل طور سے عقیدۂ تثلیث کے منافی ہیں۔مثال کے طور پر انجیل یوحنّا میں آیاہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ حیات جاودانی یہ ہے کہ لوگ تجھے اس حیثیت سے کہ تو خدائے یکتاہے اور عیسی مسیح کو مبعوث کیا ہے ، پہچانیں اور معرفت حاصل کریں۔ اس بیان کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام معرفت خدائے واحد و یکتا اور خدا کے رسول کی حیثیت سے مسیح کی معرفت کے حصول کو حیات جاوید سے تعبیر کرتے ہیں۔ جب کہ اس بات اور عقیدۂ تثلیث میں تضاد پایاجاتاہے۔اس لئے کہ حضرت مسیح نے یہ نہیں کہا ہے کہ تین وجہ تثلیث کی جداگانہ صورت میں معرفت حاصل کرنا حیات جاوید ہے یا یہ بھی نہیں فرمایاکہ عیسی پیکر بشری میں خدا کی ہی ذات ہے بلکہ وہ اپنےکو خدا کا رسول اور فرستادہ سمجھتے تھے۔

Saturday, 28 December 2013 08:08

حضرت سکینہ

حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا حضرت امام حسین علیہ السلام اور جناب رباب سلام اللہ علیہا کی صاحبزادی تھیں تاريخ میں آپ کا تین نام امینہ ، امنیہ اور آمنہ اور لقب سکینہ یعنی وقار و سکون درج ہے آپ ایمان کے اعلی مرتبے پر فائز تھیں۔ امام حسین علیہ السلام آپ کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ سکینہ اپنے پورے وجود کے ساتھ جمال ازلی میں محو رہتی ہیں اور دن بھر عبادت پروردگار میں غرق ہوکر خداسے راز و نیاز کرتی ہیں ۔

حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا اپنے کمال اخلاق اور حمیدہ صفات کی وجہ سے اپنے بابا کی نظر میں بہت زیادہ عزيز تھیں اور جب یہ درخشاں ستارہ آسمان خاندان پیغمبر پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا تو امام نے ، جو انسان کے ضمیروں اور اعمال سے آگاہ ہیں سکینہ کو عظیم و خوبصورت لقب " خیرۃ النساء " سے ملقب کیا اور ان کے مقام و منزلت کو لوگوں پر واضح و آشکار کردیا ۔

حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا نے کربلا کے دلخراش مناظر کو نہایت ہی صبرو حوصلے سے برداشت کیا آپ واقعہ کربلا کی چشم دید گواہ تھیں آپ نے اپنے بابا کی آواز استغاثہ کو سنا اور پورے وجود کے ساتھ ماں ، بہن ، پھوپھیوں اور دیگر اسیر خواتین کے درد و الم کو بخوبی درک کیا یہی نہیں بلکہ اپنے سے چھوٹے بچوں کی سرپرستی اور دلجوئی کی، حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا جانتی تھیں کہ ان کے بابا امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے نفاذ ، بدعت اور دینی انحرافات کے خاتمہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے یہی وجہ ہے کہ کربلا کے خونین مناظر اور نیزہ پر اپنے بابا امام حسین علیہ السلام کا سربریدہ دیکھنے کے باوجود آپ کے ثبات و عزم میں ذرہ برابر بھی تزلزل پیدا نہ ہوا لیکن جب گیارہ محرم کو اہل بیت حرم کو قیدی بنا کر لے جایا جانے لگا اور نامحرموں کی نظریں خاندان عصمت و طہارت پر پڑیں تو آپ نےبہت سعی و کوشش کی کہ ان کی ناپاک نظروں سے اپنے کو بچا لیں لہذا فرمایا : میرے بابا کے سر کو قافلے کے آگے لے جاؤ تاکہ لوگ اس کو دیکھیں اور خواتین عصمت و طہارت پر ان کی نظریں نہ پڑیں۔

امام حسین علیہ السلام کی چہیتی بیٹی سکینہ نہایت ہی شجاع و بہادر تھیں انہوں نے ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی حقانیت کو ثابت کیا حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کی عظمت و منزلت اور کلام کی فصاحت و بلاغت نے کسی میں اتنی جرات پیدا نہ کی جو گستاخی و توہین کرتا بلکہ ہرایک اپنی اپنی جگہ مبہوت بیٹھا رہا بالکل اسی طرح جس طرح سے آپ کی پھوپھی حضرت زينب سلام اللہ علیہا نے جب دربار یزيد میں خطبہ دیا تو تمام اہل شام مبہوت وحیران رہ گئے تھے۔ چنانچہ حضرت سکینہ نے یزيد بن معاویہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : اے یزید ، میرے بابا کو قتل کرکے خوش نہ ہو کیونکہ وہ خدا و رسول کے مطیع وفرماں بردار تھے ، دعوت الہی کو قبول کرتے ہوئے اور شہادت کے درجے پر فائز ہوکر "سید الشہداء" بن گئے لیکن اے یزيد جان لے کہ ایک دن ایسا آئےگا کہ تجھے عدالت الہی کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اس لئے اس دن کے جواب کی تیاری کر، لیکن تو کس طرح جواب دے سکے گا ؟

حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا جب تک زندہ رہیں امام حسین علیہ السلام کے مشن کو عام کرتی رہیں اور ایک دن قیدخانہ شام میں اپنے بابا کو یاد کرتے کرتے خالق حقیقی سے جا ملیں اور غربت کے عالم میں بے کس و مظلوم بھائی امام سجاد علیہ السلام نے اسی زندان میں آپ کو دفن کردیا اور آج آپ کا روضہ مرجع خلائق بنا ہوا ہے ۔

Saturday, 28 December 2013 08:06

جناب رباب

جناب رباب

تاریخ اسلام کی ایک بہت ہی مشہور و معروف اور فضائل و کمالات ، وفا و صبر سے سرشار خاتون جناب رباب ہیں جو امرؤ القیس کی صاحبزادی ، حضرت امام حسین علیہ السلام کی شریک حیات اور جناب حضرت علی اصغر و جناب سکینہ کی مادر گرامی ہيں جن کا نام تاریخ کے اوراق پر سنہرے حروف میں لکھا گیا ہے ۔

تاریخ اسلام کے مشہور مورخ ہشام کلبی نے جناب رباب کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ کا شمار بہترین اور بافضیلت خواتین میں ہوتا تھا۔ امرؤ القیس نے جو ایک نہایت مشہور و معروف شخصیت کے حامل تھے خلیفہ دوم کے زمانے میں اسلام لائے اور مستقل طور پر مدینے میں سکونت اختیار کرلی جن کی تین لڑکیاں تھیں آپ نے خاندان اہل بیت عصمت و طہارت سے بے پناہ الفت و محبت کی وجہ سے اپنی تینوں لڑکیوں کی شادی اسی گھرانے یعنی ایک بیٹی کی شادی حضرت علی علیہ السلام ، دوسری بیٹی کی شادی حضرت امام حسن علیہ السلام اور تیسری بیٹی کی شادی جن کا نام رباب تھا امام حسین علیہ السلام سے کردی جناب رباب کی دو اولادیں ہوئیں ایک حضرت سکینہ اور دوسرے حضرت علی اصغر . حضرت علی اصغر میدان کربلا میں چھ مہنیے کی عمر میں اسلام اور اپنے امام وقت کا دفاع کرتے ہوئے باپ کے ہاتھوں پر شہید ہوگئے اور جناب سکینہ سلام اللہ علیہا بھی واقعہ کربلا میں موجود تھیں اور کربلا سے کوفہ و شام پر رنج و الم راہوں میں یزيدیت کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتی رہیں آپ کا شمار بھی عالم اسلام کی عظیم خواتین میں ہوتا ہے ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام اور جناب رباب سلام اللہ علیہا کی محبت و الفت کا تذکرہ ہر خاص و عام کی زبان پر ہے اور آپ کی سیرت دنیا میں موجود افراد کے لئے شریک حیات کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لئے بہترین نمونہ ہے ۔اسی طرح شوہر کی خدمت و اطاعت میں جناب رباب کا کردار قیامت تک آنے والی عورتوں کے لئے بہترین اسوہ و نمونہ ہے ۔حضرت امام حسین علیہ السلام نے جناب رباب سے اپنی الفت و محبت کا ذکر بہت سے اشعار میں کیا ہے آپ اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں : تمہاری قسم میں اس گھر سے بہت محبت کرتا ہوں جس میں سکینہ و رباب ہوں ۔

جناب رباب بھی حضرت امام حسین علیہ السلام سے والہانہ محبت کرتی تھیں امام علیہ السلام کی شہادت کے بعد جناب رباب نے اپنی وفاداری و خلوص کا اظہار عملی کردار اور اشعار کی زبان میں کیا ہے۔ جب اسیروں کے ہمراہ آپ دربار ابن زياد میں داخل ہوئیں اور آپ کی نظريں امام حسین علیہ السلام کے سر بریدہ پر پڑی تو آپ اسیروں کے درمیان سے نکل کر سر مبارک کی طرف گئیں اور حاکم کوفہ ابن زیاد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سرمبارک کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگایا اور کہا: میں ہرگز امام حسین کو فراموش نہیں کرسکتی ، ہاں یہ حسین مظلوم جنہیں دشمنوں نے کربلا کے میدان میں تین دن کا بھوکا پیاسا شہید کردیا اور ان کے سر کو نیزہ پر بلند کیا۔

جناب رباب کربلا کے دلخراش مناظر اور راہ کوفہ و شام میں پڑنے والے مصائب و آلام کو برداشت کرتے ہوئے جب رہا ہوکر مدینے پہنچیں تو امام حسین علیہ السلام سے وفا و خلوص اور سچی محبت و الفت کی بناء پر کبھی بھی سایہ میں نہ بیٹھیں بلکہ جب تک زندہ رہیں سورج کے نیچے بیٹھی رہیں اور رات کی تاریکی میں کبھی بھی چراغ روشن نہیں کیا۔

آپ نے اپنے باوفا شوہر کے غم میں بہت سے اشعار کہے ہیں جن میں سے کچھ کا ترجمہ یہ ہے :

وہ نور جس سے لوگ بہرہ مند ہوتے تھے اسے دشمنوں نے کربلا کے میدان میں خاموش کردیا اور دفن کرنے کے بجائے ان کی لاش کو کربلا کے تپتے ہوئے صحرا میں چھوڑ دیا۔ پھر امام حسین علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتی ہیں اے میرے سید و سردار، آپ عظمت و شرافت کی عظیم چٹان تھے جس میں میں پناہ حاصل کرتی تھی اورآپ محبت و الفت اور دین مبین کے ساتھ میرے ہمراہ تھے آپ کی شہادت کے بعد اب کون ہے جو یتیموں اور اسیروں کی خبر گیری کرے گا ؟ خدا کی قسم آپ کے بعد میں ہرگز سائے میں نہیں بیٹھوں گی یہاں تک کہ قبر میں چلی جاؤں ،

جناب رباب امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد ایک برس سے زيادہ زندہ نہ رہیں اور حضرت کے غم میں آنسو بہاتے بہاتے اس دنیا سے عالم جاوداں کی طرف رخصت ہوگئیں ۔

Saturday, 28 December 2013 08:05

جناب ام کلثوم

جناب ام کلثوم

تاریخ اسلام کی مثالی اور عظیم خواتین میں سے ایک جلیل القدر خاتون حضرت علی علیہ السلام کی بیٹی زینب صغری سلام اللہ علیہا ہیں جنہیں ام کلثوم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے آپ حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمه زہرا سلام اللہ علیہا کی چوتھی اولاد اور دوسری بیٹی ہیں آپ حضرت امام حسن ، امام حسین اور حضرت زینب علیہم السلام کے بعد شہر مدینہ میں آٹھویں صدی ہجری میں پیداہوئیں۔

حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا نے انہیں عظیم شخصیتوں کے دامن میں پرورش پائی اور ان کے فضائل و کمالات اور تعلیمات سے بہت زيادہ کسب فیض کیا حضرت ام کلثوم کی شادی جناب عون بن جعفر بن ابی طالب سے ہوئی لیکن چند ہی ماہ بعد جناب عون بن جعفر کا انتقال ہوگیا تو پھر آپ کی شادی محمد بن جعفر بن ابی طالب سے ہوئی ۔

حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا ایک بہادر اور عقلمند خاتون تھیں جو کربلا کے دلگداز واقعے میں مدینے سے کربلا اور وہاں سے شام تک موجود تھیں درحقیقت حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا کی زندگی کے تمام اہم واقعات میں سے سب سے اہم واقعہ ، کربلا کا دلخراش واقعہ تھا جس میں آپ اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلا میں موجود رہیں آپ واقعہ عاشورہ کے بعد اپنی بہن حضرت زينب سلام اللہ علیہا کے ہمراہ اسیران آل محمد کی قافلہ سالار تھیں واقعات کربلا پر مشتمل کتابوں میں آپ کے ان تمام خطبوں کا ذکر ہے جو کربلا کے دلخراش واقعے کے بعد آپ نے راہ کوفہ و شام ، بعلبک، سیبور اور نصیبین میں دیئے تھے آپ کے ان آتشیں خطبوں نے حکومت بنی امیہ کی بنیادیں ہلاکر رکھ دیں ۔

چودہویں صدی کے عظیم الشان مورخ و محدث علامہ شیخ عباس قمی تحریر کرتے ہیں : جس وقت اہل بیت علہیم السلام کے قافلے کو کوفہ میں داخل کیا گیا اس وقت کوفہ کے تمام لوگ ان قیدیوں کا تماشہ دیکھنے کے لئے گھروں سے باہر جمع تھے اور رحمدلی اور افسوس کے ساتھ بچوں کو روٹی اور خرما دے رہے تھے حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا نے ان چیزوں کو بچوں کے ہاتھوں سے لیا اور بلند آواز سے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے اہل کوفہ تم لوگ اس طرح کی چیزیں دینے سے پرہیز کرو کیونکہ ہم اہل بیت رسول ہیں اور صدقہ ہم پر حرام ہے اس وقت کوفہ کی ایک ضعیفہ اس منظر کودیکھ کر زار و قطار رونے لگی حضرت ام کلثوم نے محمل سے سر نکالا اور فرمایا : اے اہل کوفہ ، تمہارے مرد ہم پر ظلم و ستم کررہے ہیں اور تمہاری عورتیں ہم پر گریہ و زاری کررہی ہیں خداوندعالم قیامت کے دن ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا ،،

حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا اپنی بہن زینب سلام اللہ علیہا کا بہت زیادہ احترام کرتی تھیں نہ کبھی ان کے آگے قدم بڑھاتیں تھیں اور نہ ہی ان سے پہلے کبھی کلام کرتی تھیں لیکن جہاں پر حضرت زينب سلام اللہ علیہا بیہوش ہوجاتی تھیں آپ ان کے کلام کو مکمل پایہ تکمیل تک پہنچاتی تھیں ۔

یہ عظيم و با فضیلت خاتون جس نے حضرت علی علیہ السلام اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے دامن عصمت و طہارت میں پرورش پائی تھی اور شجاعت و بصیرت اور فصاحت و بلاغت کوان انوارطاہرین سے ورثے میں حاصل کیا تھا واقعہ کربلا کے چند برسوں بعد ہی اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں پہنچ گئیں اور آپ کو مدینہ منورہ میں دفن کردیا گیا ۔

Saturday, 28 December 2013 08:03

فلسفہ نماز کیا ہے؟

فلسفہ نماز کیا ہے؟

سورہ عنکبوت میں نماز کا سب سے اہم فلسفہ بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے کہ نماز انسان کو برائیوں اور منکرات سے روکتی ہے: " إِنَّ الصَّلاةَ تَنْہَی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَر"(1)

" (اور نماز قائم کروکہ) یقینا نماز ہر برائی اور بدکاری سے روکنے والی ہے"

حقیقت نماز چونکہ انسان کو قدرتمند روکنے والے عامل یعنی خدا اور قیامت کے اعتقاد کی یاد دلاتی ہے، لہٰذا انسان کو فحشاو منکرات سے روکتی ہے۔

جب انسان نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو پہلے تکبیر کہتا ہے، خدا کو تمام چیزوں سے بلند و بالا مانتا ہے، پھر اس کی نعمتوں کو یاد کرتا ہے، اس کی حمد و ثنا کرتا ہے، اس کو رحمن اور رحیم کے نام سے پکارتا ہے، اور پھر قیامت کو یاد کرتا ہے ، خدا کی بندگی کا اعتراف کرتا ہے، اور اسی سے مدد چاہتا ہے، صراط مستقیم پر چلنے کی درخواست کرتا ہے اور غضب خدا نازل ہونے والے اور گمراہوں کے راستہ سے خدا کی پناہ مانگتا ہے۔ (مضمون سورہ حمد )

بے شک ایسے انسان کے دل و جان میں خدا ، پاکیزگی اور تقوی کی طرف رغبت ہوتی ہے۔

خدا کے لئے رکوع کرتا ہے ، اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے اس کی عظمت میں غرق ہوجاتا ہے، اور خود غرضی اور تکبر کو بھول جاتا ہے۔

خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت کی گواہی دیتا ہے۔

اپنے نبی پر درود و سلام بھیجتا ہے، اور خدا کی بارگاہ میں دست بدعا ہوتا ہے کہ پالنے والے! مجھے اپنے نیک اور صالح بندوں میں قرار دے۔ (تشہد و سلام کا مضمون)

چنانچہ یہ تمام چیزیں انسان کے وجود میں معنویت کی لہر پیدا کردیتی ہیں، ایک ایسی لہر جو گناہوں کا سدّ باب کرتی ہے۔

اس عمل کو انسان رات دن میں کئی مرتبہ انجام دیتا ہے جب صبح اٹھتا ہے تو خدا کی یاد میں غرق ہوجاتا ہے، دوپہر کے وقت جب انسان مادی زندگی میں غرق رہتا ہے اور اچانک موٴذن کی آواز سنتا ہے تو اپنے کاموں کو چھوڑ دیتا ہے اور خدا کی بارگاہ کا رخ کرتا ہے، یہاں تک دن کے اختتام اور رات کی شروع میں بستر استراحت پر جانے سے پہلے خدا سے راز و نیاز کرتا ہے، اور اپنے دل کو اس کے نور کا مرکز قرار دیتا ہے۔

اس کے علاوہ جب نماز کے مقدمات فراہم کرتا ہے تو اپنے اعضا بدن کو دھوتا ہے ان کو پاک کرتا ہے، حرام چیزیں اور غصبی چیزوں سے دوری کرتا ہے اور اپنے محبوب کی بارگاہ میں حاضر ہوجاتا ہے، یہ تمام چیزیں اس کو برائی سے روکنے کے لئے واقعاً موثر واقع ہوتی ہیں۔

لیکن نماز میں جس قدر شرائطِ کمال اور روحِ عبادت پائی جائے گی اسی مقدار میں برائیوں سے روکے گی، کبھی مکمل طور پر برائیوں سے روکتی ہے اور کبھی جزئی طور پر،(یعنی نماز کی کیفیت کے لحاظ سے انسان برائیوں سے پرہیز کرتا ہے) یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی شخص نماز پڑھے اور اس پر کوئی اثر نہ ہو، اگرچہ اس کی نماز صرف ظاہری لحاظ سے ہو یا نمازی گنہگار بھی ہو، البتہ اس طرح کی نماز کا اثر کم ہوتا ہے، کیونکہ اگر اس طرح کے لوگ اس طرح نماز نہ پڑھتے تو اس سے کہیںزیادہ گناہوں میں غرق ہوجاتے۔

واضح الفاظ میں یوں کہیں کہ فحشا و منکر سے نہی کے مختلف درجے ہوتے ہیں، نماز میں جتنی شرائط کی رعایت کی جائے گی اسی لحاظ سے وہ درجات حاصل ہوں گے۔

پیغمبر اکرم (ص) سے منقول حدیث میں وارد ہوا ہے کہ قبیلہٴ انصار کا ایک جوان آنحضرت (ص) کے ساتھ نماز ادا کررہا تھا لیکن وہ گناہوں سے آلودہ تھا، اصحاب نے پیغمبر اکرم کی خدمت میں اس کے حالات بیان کئے تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: " إنَّ صَلاتَہُ تَنہَاہُ یَوماً" (آخر کار ایک روز اس کی یہی نماز اس کو ان برے کاموں سے پاک کردے گی)(2) نماز کا یہ اثر اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ بعض احادیث میں نماز کے قبول ہونے یا قبول نہ ہونے کا معیار قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے: " مَنْ اٴحَبَّ اٴنْ یَّعلَم اٴقْبَلَت صَلٰوتُہ اٴمْ لَم تَقْبَل؟ فَلیَنْظُر: ہَلْ مَنَعْتَ صَلٰوتَہُ عَنِ الفَحْشَاءِ وَالمُنْکِر؟ فبقدر ما منعہ قبلت منہ!" (3)(اگر کوئی یہ جاننا چا ہے کہ اس کی نماز بارگاہ الٰہی میں قبول ہوئی ، یا نہیں؟ تو اس کو دیکھنا چاہئے کہ نماز اس کو برائیوں سے روکتی ہے یا نہیں؟ جس مقدار میں برائیوں سے روکا ہے اسی مقدار میں نماز قبول ہوئی ہے)۔

اور اس کے بعد مزید ارشاد فرمایا کہ " ذکر خدا اس سے بھی بلند و بالاتر ہے" : " وَلَذِکْرُ اللهِ اٴکبَرْ"

مذکورہ جملہ کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نماز کے لئے یہ اہم ترین فلسفہ ہے، یہاں تک فحشا و منکر کی نہی سے بھی زیادہ اہم ہے اور وہ اہم فلسفہ یہ ہے کہ انسان کو خدا کی یاد دلائے کہ جو تمام خیر و سعادت کا سر چشمہ ہے، بلکہ برائیوں سے روکنے کی اصلی وجہ یہی " ذکر اللہ " ہے ، در اصل اس اثر کی برتری اور عظمت اسی وجہ سے ہے کیونکہ یہ اُس کی علت شمار ہوتا ہے۔

اصولی طور پر خدا کی یاد انسان کے لئے باعثِ حیات ہے اور اس سلسلہ میں کوئی بھی چیز اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ، "اٴَلا بِذِکْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب" ، " آگاہ ہوجاؤ کہ یادِ خدا دل کو اطمینان و سکون عطا کرتی ہے" ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ تمام عبادتوں (چاہے نماز ہو یا اس کے علاوہ) کی روح یہی ذکر خدا ہے، اقوال نماز، افعال نماز، مقدمات نماز اور تعقیبات نماز سب کے سب در اصل انسان کے دل میں یادِ خدا زندہ کرتے ہیں۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ سورہ طٰہ ، آیت نمبر ۱۴/ میں نماز کے اس بنیادی فلسفہ کی طرف اشارہ ہوا ہے، جناب موسیٰ علیہ السلام سے خطاب ہوتا ہے: " اَقِمِ الصَّلاَة لِذِکْرِي " ، (میری یاد کے لئےنماز قائم کرو ) .

معاذ بن جبل سے منقول ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ عذاب الٰہی سے بچانے والے اعمال میں "ذکر اللہ " سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں ہے، سوال کیا گیا : راہ خدا میں جہاد بھی نہیں؟ جواب دیا: ہاں ، کیونکہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے: (وَلذکْرِ اللهِ اٴکْبَرْ)

انسان اور معاشرہ کی تربیت میں نماز کا کرداراگرچہ نماز کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا فلسفہ کسی پر پوشیدہ ہو لیکن قرآنی آیات اور احادیث ِمعصومین علیہم السلام میں مزید غور و فکر کرنے سے بہت ہی اہم چیزوں کی طرف رہنمائی ہوتی ہے:

۱۔ روح نماز اور نماز کا فلسفہ ذکر خدا ہی ہے ، وہی " ذکر اللہ " جو مذکورہ آیت میں بلندترین نتیجہ کے عنوان سے بیان ہوا ہے۔

البتہ ایسا ذکر جو غور و فکر کا مقدمہ، اور ایسی فکر جو عمل کا سبب بنے، جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے " وَلذکْرِ اللهِ اٴکْبَر" کی تفسیر میں فرمایا: " ذکر الله عند مااحل و حرم " (4) "حلال و حرام کے وقت یاد خدا کرنا" (یعنی یاد خدا کریں اور حلال کام انجام دیں اور حرام کاموں سے پرہیز کریں) .

۲۔ نماز، گناہوں سے دوری اور خدا کی طرف سے رحمت و مغفرت حاصل ہونے کا سبب ہے، کیونکہ نماز انسان کو توبہ اور اصلاح نفس کی دعوت دیتی ہے، اسی وجہ سے ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے ایک صحابی سے سوال کیا: اگر تمہارے مکان کے پاس پاک و صاف پانی کی نہر جاری ہو اور تم روزانہ پانچ مرتبہ اس میں غوطہ لگاؤ تو کیا تمہارے بدن میں گندگی اور کثافت باقی رہے گی؟

اس نے جواب دیا: نہیں (یا رسول اللہ!) ، آپ نے فرمایا: نماز بالکل اسی جاری پانی کی طرح ہے کہ جب انسان نماز پڑھتا ہے تو گنا ہوں کی گند گی دور ہو جا تی ہے اور دو نمازوں کے درمیان انجام دئے گئے گناہ پا ک ہو جا تے ہیں۔(5) گویا نمازانسان کے بدن میں گناہوں کے ذریعہ وارد ہونے والے زخموں کے لئے مرہم کا کام کرتی ہے اور انسان کے دل پر لگے ہوئے زنگ کو چھڑا دیتی ہے۔

۳۔ نماز ، آئندہ گناہوں کے لئے سدّ باب بن جا تی ہے ، کیونکہ نماز انسان میں ایمان کی روح کو مضبوط کرتی ہے اور تقویٰ کے پودے کی پرورش کرتی ہے، اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ "ایمان" اور " تقویٰ" گناہوں کے بالمقابل دو مضبوط دیواریں ہیں، اور یہ وہی چیز ہے جس کو مذکورہ آیت میں " نہی از فحشاء و منکر" کے نام سے بیان کیا گیا ہے، اور یہ وہی چیز ہے جس کو متعدد حدیثوںمیں پڑھتے ہیں کہ جب گنہگار لوگوں کے حالات ائمہ علیہم السلام کے سامنے بیان کئے گئے تو فرمایا: غم نہ کرو نماز ان کی اصلاح کردے گی، اور کردی۔

۴۔ نماز؛ انسان کو خواب غفلت سے بیدار کردیتی ہے، راہ حق پر چلنے والوں کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ وہ اپنی غرض خلقت کو بھول جاتے ہیں اور مادی دنیا اور زودگزر لذتوں میں غرق ہوجاتے ہیں ، لیکن نماز چونکہ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر اور شب و روز میں پانچ بار پڑھی جاتی ہے ، مسلسل انسان کو متو جہ اور متنبہ کرتی رہتی ہے اور اس کو غرض خلقت یاد دلاتی رہتی ہے، اور اس دنیا میں اسے اس کی حیثیت سے آگاہ کرتی رہتی ہے، یہ انسان کے پاس ایک عظیم نعمت الٰہی ہے کہ شب و روز پانچ مرتبہ اس کو بھر پور طریقہ پر ہوشیار کرتی ہے۔

۵۔ نماز ؛ خود پسندی اور تکبر کو ختم کرتی رہتی ہے کیونکہ انسان ۲۴ گھنٹوں میں ۱۷/ رکعت نماز پڑھتا ہے اور ہر رکعت میں دو بار اپنی پیشانی کو خدا کی بارگاہ میں رکھتا ہے، اور خدا کی عظمت کے مقابل اپنے کو ایک ذرہ شمار کرتا ہے بلکہ خدا کی عظمت کے مقابل اپنے کو صفر شمار کرتا ہے۔ نماز غرور و خود خواہی کے پردوں کو چاک کردیتی ہے ، تکبر اور برتری کو ختم کردیتی ہے۔

اسی وجہ سے حضرت امام علی علیہ السلام نے اپنی اس مشہور و معروف حدیث میں بیان فرمایا ہے کہ جس میں عبادت کے فلسفہ کو بیان کیا ہے اور ایمان کے بعد سب سے پہلی عبادت کو " نماز" قرار دیتے ہوئے اس مطلب کو واضح فرمایا ہے: " فَرضَ الله الإیمَان تَطھِیْراً مِنَ الشِّرکِ وَالصَّلٰوة تَنْزِیْھاً عَنِ الکِبْرِ"(6) خداوندعالم نے انسان کے لئے ایمان کو شرک سے پاک کرنے کے لئے واجب قرار دیا ہے اور نماز کو غرورو تکبر سے پاک کرنے کے لئے (واجب قرار دیا ہے)

۶۔ نماز ؛ انسان کے لئے معنوی تکامل اور فضائل اخلاقی کی پرورش کا ذریعہ ہے، کیونکہ یہی نماز انسان کو مادہ کی محدودیت اور عالم طبیعت کی چہار دیواری سے باہر نکال کر عالم ملکوت کی طرف دعوت دیتی ہے، جس سے انسان فرشتوں کا ہم صدا اور ہمراز ہوجاتا ہے، اور انسان اپنے کو بغیر کسی واسطہ کے خدا کے حضور میں پاتا ہے اور اس سے گفتگو کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

ہر روز اس عمل کی تکرار خداوندعالم کے صفات جیسے رحمانیت اور رحیمیت اور اس کی عظمت کے پیش نظرخصوصاً سورہ حمد کے بعد دوسرے سوروں سے مدد لیتے ہوئے جو نیکیوں اور خوبیوں کی طرف دعوت دیتے ہیں، یہ سب چیزیں انسان میں اخلاقی فضائل کی پرورش کے لئے بہترین اور موثرہیں۔

لہٰذا حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے نماز کے فلسفہ کو اس طرح بیان کیا:" الصَّلاٰةُ قُربَانُ کُلَّ تَقِي " ، (نماز ہر پرہیزگار کے لئے خدا سے تقرب کا وسیلہ ہے) (7)

۷۔ نماز انسان کے دوسرے اعمال کو (بھی) روح اور اہمیت عطا کرتی ہے اس لئے کہ نماز سے اخلاص پیدا ہوتا ہے، کیونکہ نماز خلوص نیت، نیک گفتار اور مخلصانہ اعمال کا مجموعہ ہے، ہر روز یہ عمل انسان کے اندر دوسرے اعمال کا بیج ڈالتا ہے اور روح اخلاص کو مضبوط کرتا ہے۔

لہٰذا ایک مشہور و معروف حدیث میں بیان ہوا ہے کہ حضرت امیر ا لمومنین علی علیہ السلام نے اس وقت اپنی وصیت میں فرمایا جب آپ ابن ملجم کی تلوار سے زخمی ہوچکے تھے اور آپ کا آخری وقت تھا، فرماتے ہیں:

" الله الله فِي الصَّلٰوةِ فَإنَّھَا عَمُودُ دِینِکُمْ " (8)

" خدا را ! خدا را! میں تم کو نماز کی سفارش کرتا ہوں کیونکہ یہی تمہارے دین کا ستون ہے"۔

ہم لوگ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب کسی خیمہ کا ستون ٹوٹ جائے یا گرجائے تو اطراف کی رسّیوں اور کیلوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے خواہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، اسی طرح جب نماز کے ذریعہ خدا سے بندوں کا رابطہ ختم ہوجائے تو دوسرے اعمال کا اثر بھی ختم ہوجاتا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بیان ہوا ہے: " اٴوَّلُ مَا یُحاسِبُ بِہِ العَبْدَ الصَّلٰوة فَإنْ قُبِلَتْ قَبلَ سَائرُ عَمَلِہِ ، وَاِنْ رُدَّت رُدَّ عَلَیْہِ سَائرُ عَمَلِہُ " (روز قیامت بندوں میں جس چیز کا سب سے پہلے حساب ہوگا وہ نماز ہے، اگر نماز قبول ہوگئی تو دوسرے اعمال بھی قبول ہوجائیں گے اور اگر نماز ردّ ہوگئی تو دوسرے اعمال بھی ردّ ہوجائیں گے!)

شاید اس کی دلیل یہ ہو کہ نماز خالق و مخلوق کے درمیان ایک راز ہے اگر صحیح طور پر بجالائی جائے تو انسان کے اندر نیت ،اخلاص اور قرب الٰہی پیدا ہوتا ہے جو دوسرے اعمال قبول ہونے کا ذریعہ ہے، ورنہ دوسرے اعمال کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ اپنا اعتبار کھو دیتے ہیں۔

۸۔نماز میں پائے جانے والے مطالب اور مضمون سے قطع نظراگر اس کے شرائط پر توجہ کریں تو وہ بھی اصلاح اور پاکیزگی کی دعوت دیتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ نمازی کی جگہ، نماز ی کے کپڑے، جس فرش پر نماز پڑھتا ہے، جس پانی سے وضو یا غسل کیا ہے، جس جگہ وضو یا غسل کیا ہے ، یہ تمام چیزیں غصبی نہیں ہونی چاہئے اور ان کے حوالے سے کسی دوسرے پر ظلم اور تجاوز نہ کیا گیا ہو، جو شخص ظلم و ستم ، سود خوری ، غصب ، ناپ تول میں کمی ، رشوت خوری اور حرام روزی وغیرہ جیسی چیزوں سے آلودہ ہو تو ایسا شخص نماز کے مقدمات کس طرح فراہم کرسکتا ہے ؟ لہٰذا ہر روز پانچ مرتبہ اس نماز کی تکرار دوسروں کے حقوق کی رعایت کی دعوت دیتی ہے۔

۹۔ نماز صحیح ہونے کے شرائط کے علاوہ ، شرائطِ قبول یا بالفاظ دیگر شرائطِ کمال بھی پائے جاتے ہیں جن کی رعایت خود بہت سے گناہوں کو ترک کرنے کا سبب بنتی ہے۔

فقہ اور حدیث کی کتابوں میں بہت سی چیزوں کو " موانع نماز" کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے جن میں سے ایک مسئلہ شراب پینا ہے، روایات میں بیان ہوا ہے کہ " لا تُقبّل صلوٰة شَاربُ الخَمْر اٴرْبعِینَ یَوماً إلاَّ اٴنْ یَتُوبَ"(9) " شراب پینے والے کی نماز، چالیس دن تک قبول نہیں ہوتی، مگر یہ کہ توبہ کرلے"۔

متعدد روایات میں بیان ہوا ہے کہ جن لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی ان میں سے ایک ظالم افراد کا رہبر ہے ۔ (10)

بعض دوسری روایات میں تصریح کی گئی ہے کہ جو شخص زکوٰة ادا نہیں کرتا اس کی نماز قبول نہیں ہے، اسی طرح دوسری روایات میں بیان ہوا ہے کہ حرام لقمہ کھانے والے یا خود پسندی کرنے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ لہٰذا ان تمام احادیث کے پیش نظر یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ ان تمام شرائط کا فراہم کرنا انسان کی اصلاح کے لئے بہت مفید ہے۔

۱۰۔ نماز کے ذریعہ انسان میں نظم و نسق کی روح طاقتور ہوتی ہے کیونکہ نماز معین وقت پر پڑھی جاتی ہے ، یعنی اگر انسان نماز کو وقت سے پہلے یا وقت کے بعد پڑھے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے ، اسی طرح نماز کے دیگر آداب و احکام جیسے نیت ، قیام ، قعود ، رکوع اور سجود وغیرہ کی رعایت سے انسان کے لئے دوسرے کاموں میں بھی نظم کا لحاظ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

نماز کے یہ تمام فائدے اس وقت ہیں جب نماز جماعت سے نہ پڑھی جائے اور اگر نماز کے ساتھ جماعت کی فضیلت کا اضافہ بھی کردیا جائے (کیونکہ نماز کی روح ، جماعت ہے) تو پھر

بے شمار برکتیں نازل ہوتی ہیں ، جس کی تفصیل یہاں بیان نہیں کی جاسکتی ، کم و بیش اکثر مومنین نماز جماعت کی فضیلت سے آگاہ ہیں۔

ہم فلسفہٴ نماز اور اسرارِ نماز کے سلسلہ میں اپنی گفتگو کو حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی ایک بہترین حدیث پر ختم کرتے ہیں:

امام علیہ السلام نے اس خط کے جواب میں اس طرح فرمایا جس میں فلسفہ نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تھا:

نماز کو اس لئے واجب قرار دیا گیا ہے کہ اس میںخداوندعالم کی ربوبیت کا اقرار پایا جاتا ہے، اس میں شرک و بت پرستی کا مقابلہ ہوتا ہے ، خدا کی بارگاہ میں مکمل خضوع و خشوع پایا جاتا ہے، انسان اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے اورخداوندعالم سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہے ، انسان ہر روز عظمت ِپروردگار کے سامنے اپنی پیشانی کو خم کرتا ہے۔

اور نماز کا مقصد یہ ہے کہ انسان ہمیشہ ہوشیار اور متوجہ رہے انسان کے دل پر، بھول چوک کی گرد و غبار نہ بیٹھے ، مست اور مغرور نہ ہو، خاشع اور خاضع رہے ، انسان دین و دنیا کی نعمتوں کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کرے۔

جب انسان ہر روز نماز کے ذریعہ ذکر خدا کرتا ہے تویہ سبب بنتا ہے کہ وہ اپنے مولا و آقا ، مدبر اور خالق کو نہ بھولے اور اس پر سرکشی اور غلبہ کرنے کا تصور تک نہ کرے۔

خداوندعالم پر توجہ رکھنا اور خود کو اس کے سامنے حاضر سمجھنا ؛ انسان کو گناہوں سے دور رکھتا ہے اور مختلف برائیوں سے روکتا ہے۔ (11)(12)

**********************************

(1) سورہٴ عنکبوت ، آیت ۴۵

(3،2) مجمع البیان، سورہٴ عنکبوت ، آیت نمبر ۴۵ کے ذیل میں

(4) بحا الانوار ، جلد ۸۲، صفحہ ۲۰۰

(5) وسائل الشیعہ ، جلد ۳، صفحہ ۷ (باب ۲ / از ابواب اعداد الفرائض حدیث۳)

(6) نہج البلاغہ ، کلمات قصار، نمبر ۲۵۲

(7) نہج البلاغہ ، کلمات قصار ، نمبر ۱۳۶

(8) نہج البلاغہ ، خطوط (مکتبوب)(وصیت )۴۷

(9) بحار الانوار ، جلد۸۴، صفحہ ۳۱۷ و۳۲۰

(10) بحار الانوار، جلد۸۴، صفحہ ۳۱۸

(11) وسائل الشیعہ ، جلد ۳، صفحہ ۴

(12) تفسیر نمونہ ، جلد۱۶، صفحہ ۲۸۴

فاتح شام و کوفہ کا کربلا میں ورود

انسانی تاریخ میں ابتدا سے آج تک حق وباطل کے درمیان بہت سی جنگیں ہوئی ہیں لیکن ان تمام جنگوں میں وہ معرکہ اور واقعہ اپنی جگہ پر بے مثل ہے جو کربلا کے میدان میں رونما ہوا، یہ معرکہ اس اعتبار سے بھی بے مثال ہے کہ اس میں تلواروں پر خون کی دھاروں نے، برچھیوں پر سینوں نے اور تیروں پر گلوں نے فتح وکامیابی حاصل کی، اس طرح اس جنگ کا مظلوم آج تک محترم فاتح اور ہر انصاف پسند انسان کی آنکھوں کا تارا ہے جب کہ ظالم ابد تک کے لئے شکست خوردہ اور انسانیت کی نگاہ میں قابل نفرت ہے۔

اس معرکہ میں یزید جیسے فاسق وفاجر حاکم سلطنت کے مقابل خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھوٹے نواسے سید الشھدا امام حسین علیہ السلام نے اس کی بیعت سے انکار کرتے ہوئے اعلان کیا: ”ہم اہل بیت نبوت ہیں ہم رسالت کے معدن ہیں، ہمارے گھروں میں فرشتوں کی آمد ورفت رہی ہے، خدا نے ہم سے ہی دنیا کا آغاز کیا ہے اور ہم ہی پر اس کائنات کا خاتمہ کرنے والا ہے جب کہ یزید فاسق وفاجر ہے، شراب پیتا ہے، محترم اور بے گناہ انسانوں کا خون بہاتا ہے اور کھلم کھلا گناہ اور برائیاں کرتا ہے لہٰذا میرے جیسے لوگ اس جیسے کی بیعت نہیں کرتے“ اس طرح امام حسین علیہ السلام نے اس اعلان کے ذریعے اپنے ساتھ ماضی اور مستقبل کے تمام حق پسند انسانوں اور ایمان وحقانیت کا پرچم بلند کرنے والوں کی حیثتوں کو واضح کرکے کسی بھی عہد میں ان کے باطل کے آگے نہ جھکنے کا اعلان کردیا۔

بظاہر اس کی بڑی سخت سزا امام حسین علیہ السلام کو دی گئی، آپ کوفہ والوں کی دعوت پر مکہ سے عراق کی طرف روانہ ہوئے، لیکن ابن زیاد جو یزید کی جانب سے کوفہ کا نیا گورنر مقرر ہوا تھا، اس کی سفاکانہ چالوں، شدت پسندی اور مال و دولت اور منصب کی لالچ اور وعدوں کو فریب نیز اس کی طرف سے پھیلائے جانے والے عام خوف وہراس نے اہل کوفہ سے تاریخ کی وہ سب سے بڑی غلطی کرائی جس کے برے اثرات عراق پر آج تک باقی ہیں، دنیا بھی اس کے مکروہ نتائج سے اب تک سرگرداں ہے اور مستقبل میں بھی خدا جانے کب تک اس کا شکار رہے ۔

اہل کوفہ کی اکثریت نے نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام سے بے وفائی کی اور شام کے لشکر کے علاوہ آپ کو قتل کرنے کے لئے کربلا پہنچ گئے امام مظلوم نے اپنے ہمراہ کوئی لشکر نہیں لیا بلکہ اپنے چند باوفا ساتھیوں ، اپنے بھائیوں، بھتیجوں اور بھانجوں کے ہمراہ قربانی دی، قربانی کی حکمت کی اپنی مظلومانہ روش کو اختیار کیا جواب میں ظالم اور سفاک وجری ہوگئے اور انہوں نے تین دن تک آپ پر پانی بند کرکے انتھائی درندگی کے ساتھ آپ اور آپ کے ساتھیوں اور اہل خاندان کو شہید کرڈالا، اس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان نام نھاد امتیوں نے رسول اسلام کی چشم مبارک کے بند ہونے کے چند ہی برسوں بعد آپ کے خاندان کو بڑی درندگی کے ساتھ قتل کردیا بلکہ آنحضرت کی عظمت وحرمت کو بھی امام حسین علیہ السلام کی لاش کے ہمراہ کربلا میں گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کرڈالا۔

قتل حسین مظلوم کے بعد ان کے خیموں میں آگ لگائی گئی، اور نواسہ رسول اسلام کے گھر کو بڑی بے باکی کے ساتھ لوٹ لیا گیا، رسول زادیوں کے سروں سے چادریں اتار لی گئیں اور امام حسین علیہ السلام کے بیمار بیٹے امام زین العابدین علیہ السلام جو اس معرکہ میں بچ گئے تھے ان کے ہاتھوں اور پیروں میں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں اور گلے میں طوق پہنایا گیا، اور انھیں سربرہنہ رسول زادیوں کے ھمراہ کربلا سے اسیر کرکے کوفہ اور وہاں سے شام لے جایا گیا۔

ان مقامات پر اگرچہ امام زین العابدین علیہ السلام بظاہر قیدی تھے لیکن اس کے باوجود اپنی مظلومیت کے ہمراہ اپنے بابا امام حسین علیہ السلام کی بے مثال قربانی اور ان کی مظلومیت اور ان کی حقانیت کا ہر موقع پر اعلان کرتے رہے اور فریضہ امامت کو ادا کرتے رہے، جس کی صرف ایک جھلک یہاں ذکر کر رہے ہیں کہ جب آپ کو اور ایک ہی رسی میں تمام اہل حرم کو باندھ کر یزید لعین کے دربار میں جہاں سات سو کرسی نشینوں کا مجمع تھا، لایا گیا تو آپ نے یزید سے خطاب کرکے فرمایا: اے یزید یہ بتا اگر اس وقت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے دربار میں آجائیں تو وہ کہاں بیٹھنا پسند کریں گے، تیرے پاس، یا اپنی ان اولاد کے پاس جنھیں تو نے اس طرح رسیوں میں جکڑ کر خاک پر بٹھارکھا ہے؟

لیکن مظلومیت کے اس اسیر شدہ قافلہ کی قیادت و سرداری جس شخصیت کے ہاتھوں میں تھی وہ کربلا کی شیر دل خاتون اور علی جیسے شجاع انسان کی بہادر بیٹی جناب زینب تھیں،اگرچہ آپ کا دل کربلا کے دردناک واقعہ سے ٹکڑے ٹکڑے تھا او راپنی نگاہوں کے سامنے عزیزوں کا اتنہائی سفاکانہ قتل اور اپنے عزیز ترین بھائی یعنی حسین کا گلا شمر لعین کے ہاتھوں کٹتے ہوئے دیکھ کر آپ کی آنکھیں خون کے آنسو رو رہی تھیں اور خاص طور سے آپ کی بے پردگی نے آپ کو نیم جاں بنارکھا تھا، اس کے باوجود آپ نے خاندان رسالت کی مظلومیت، اپنے بھائی حسین کی حقانیت اور بنی امیہ کے ظلم وستم کو آشکار کرنے کے کسی بھی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔

اہل کوفہ نے جب آل محمد کی اس بے کس بیبیوں کی سربرہنہ اسیری نیز حسین اور ان کی اولاد اور انصار کے کٹے ہوئے سروں کو نیزوں پر بلند دیکھا تو رونے لگے اس وقت جناب زینب نے ان کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا: اب تم رورہے ہو، اے اہل کوفہ تمھیں ہمیشہ رونا نصیب ہو پہلے تم نے ہی میرے بھائی کو خط لکھ کر بلایا اور جب وہ آئے تو ان کے ساتھ دغا کی اور انھیں کربلا میں تین دن کا بھوکا پیاسا قتل کرڈالا، ان کے عزیزوں کو تہہ تیغ کیا اور ان کے بچو ں اور خواتین کو اسیر کرکے بازاروں اور درباورں میں پھرا رہے ہو او رو بھی رہے ہو۔

جب کوفہ اور شام کے بازاروں میں ان اسیروں کی طرف صدقہ کے خرمے پھینکے جارہے تھے تو اس وقت آپ ان نادانوں سے اپنا تعارف کراتے ہوئے فرماتی تھیں: ہماری طرف صدقے کے خرمے نہ پھیکو، ہم آل محمد ہیں اور ہم پر صدقہ حرام ہے۔

اپنے بیمار بھتیجے امام زین العابدین علیہ السلام کے ساتھ ساتھ آپ نے بھی قرآنی آیات اور احادیث رسول اکرم (ص) سے استدلال کرتے ہوئے یزید کے دربار میں ایسی تقریر فرمائی جس نے یزید کو اس کے ہمنواؤں کے سامنے اس طرح بے نقاب کردیا کہ وہ یزید جو اہل حرم کو پہلے دن اپنے دربار میں دیکھ کر غرور کے عالم میں وہ اشعار پڑھنے لگا تھا جس کا مطلب تھا کہ ”بنی ھاشم نے حکومت کے لئے ایک کھیل کھیلا تھا ورنہ نہ تو کوئی وحی آئی اور نہ کوئی رسول آیا اے کاش بدر میں قتل ہونے والے میرے بزرگ زندہ ہوتے اور دیکھتے کہ میں نے بنی ہاشم سے ان کے قتل کا کیسا سخت انتقام لیا ہے“ اب وہی یزید جناب زینب کے خطبوں کے سامنے بغلیں جھانکنے لگا اور اپنا الزام ابن زیاد اور شمر کے سر ڈالنے لگا، جناب زینب کے آتشیں خطبوں اور ان کی مظلومانہ فریاد نے چند دونوں میں ہی حقیقت کھول کر رکھ دی اور اہل شام کو یزید کی کرتوتوں کا پتہ چل گیا، کہ خلیفۃ المسلیمن بن کر وہ باغیوں کے قتل کا مرتکب ہوا ہے وہ کوئی خارجی نہیں بلکہ ان کے رسول کا نواسہ اور ان کی پارہ جگر فاطمہ زہرا کا بیٹا ہے اور یہ قیدی خود آنحضرت کے بچے ہیں جن کے ساتھ اس نے یہ بدسلوکی کی ہے۔ شام کی بدلتی ہوئی فضا نے یزید کو مجبور کردیا کہ وہ جلد از جلد اہل حرم کو رہا کردے اور یہ جناب زینب کی سب سے پہلی کامیابی تھی کہ آپ نے رہائی کے فوراً بعد خود یزید کے گھر یعنی شام میں اپنے بھائی کی صف عزا بچھائی اور وہ اربعین کا دن تھا جب یہ دکھیا بہن اپنے بھائی کا چھلم کرنے کربلا پہنچی تھی اور اپنے بھائی کی قبر پر روتے ہوئے شام کی فتح کا اعلان کیا تھا۔