علامہ سید ساجد علی نقوی: امام حسینؑ کی دین کی بقا کیلئے جدوجہد قیامت تک نمونہ عمل ہے

Rate this item
(0 votes)
علامہ سید ساجد علی نقوی: امام حسینؑ کی دین کی بقا کیلئے جدوجہد قیامت تک نمونہ عمل ہے

رپورٹ کے مطابق شیعہ علما کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ خاندان رسالت کے ہر فرد کا اسوہ رہتی دنیا تک نہ صرف عالم اسلام بلکہ عالم انسانیت کی رشد و ہدایت کا سامان فراہم کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ خانوادہ عصمت و طہارت نے دین اسلام اور عالم انسانیت کے تحفظ، استحکام اور بقاء کیلئے نامساعد حالات اور کٹھن مراحل کی پرواہ کئے بغیر ہر دور میں اپنی سیرت اور عمل و کردار کے ذریعہ ایسے انمٹ نقوش چھوڑے جو آج بھی سسکتی اور بھٹکتی ہوئی انسانیت کی نجات کا سامان فراہم کر رہے ہیں۔
نواسہ رسول اکرم امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام اور پسر امیر المومنین حضرت عباس ؑ کی ولادت باسعادت کے پر مسرت موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام نے دین حق کے غلبے، اسلامی شعائر و اقدار کے فروغ، بقائے اسلام، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیلئے ایسی لہو رنگ جدوجہد کی جو تاقیامت ہر حریت مند اور صاحب عمل کیلئے رہنمائی کا مینار قرار پاتی رہے گی۔ اس جدوجہد کا اثر ہے کہ دنیائے عالم میں حریت و استقلال پر مبنی تمام تحریکوں نے تحریک کربلا سے درس حریت حاصل کیا اور اپنی جدوجہد کا مرکزی اور محوری نکتہ تحریک کربلا کو قرار دیا اور جب حریت پسندوں کو اپنی جدوجہد کیلئے بہترین قیادت کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی لازوال شخصیت کی طرف رجوع کیا اور ان کی سیرت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی جدوجہد آگے بڑھاکر کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے کہا کہ محسن انسانیت حضرت امام حسین ؑ کی ذات گرامی جملہ اوصاف حمیدہ کی حامل ہے۔ آپ کی سیرت کا ہر پہلو عالم انسانیت کی رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ کیونکہ آپ کی حیات مبارکہ رسول معظم سے اکتساب کا فیض ہے اور جو زندگی سیرت رسول کا عین عکس اور مجسمہ ہو اس کا ہر فعل اور اقدام احکام الہی کے تابع ہوتا ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ حضرت عباس ابن علی ؑ دنیا میں وفا شعاری اور جانثاری کا اعلی نمونہ تھے، جس طرح امیر المومنین علی ابن ابی طالب نے پیغمبر گرامی کے ساتھ وفا شعاری کی داستانیں رقم کیں اسی طرح حضرت عباس ؑ نے نواسہ پیغمبر کے ساتھ وفا اور محبت کے تمام تقاضے پورے کئے۔ ان کی شخصیت جبر و آمریت اور ظلم و بربریت کیخلاف قیام کا استعارہ ہے اور حق پرستوں اور وفا شعاروں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ اور روشنی کا مینار ہے، واقعہ کربلا میں لشکر حسینی ؑ کے سپہ سالار کی حیثیت سے جرات و بہادری اور دلیری و وفاشعاری کی جو لازوال داستان حضرت عباس ؑ نے رقم کی وہ درحقیقت ان کے والد گرامی امیر المومنین علی ابن ابی طالب ؑ کی پاکیزہ اور بے مثال تربیت کا عظیم نمونہ تھی۔
حضرت عباس ؑ نے اپنے والد گرامی کی سرپرستی میں کفار و مشرقین اور منافقین کیخلاف ہر محاذ پر صف اول میں مجاہدانہ کردار ادا کیا اور شجاعت و بہادری کیساتھ ساتھ علم و حکمت کے بھی جوہر دکھائے جن پر عمل پیرا ہوکر آج بھی اپنی انفرادی واجتماعی زندگیوں کو سنوارا جا سکتا ہے۔

 

Read 124 times

Add comment


Security code
Refresh