مغربی کنارے میں مسلح قیام، قدس شریف کی آزادی کا ضامن

Rate this item
(0 votes)
مغربی کنارے میں مسلح قیام، قدس شریف کی آزادی کا ضامن

خداوند متعال کی نظر میں سب سے بڑا گناہ ظلم و ستم ہے جو بعض انسانی معاشروں میں قبیح ترین عمل بھی جانا جاتا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث معصومین علیہم السلام میں بھی بہت مقامات پر ظلم کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اس کے خلاف جدوجہد اور قیام واجب قرار دیا گیا ہے۔ مسئلہ فلسطین بھی ظلم و ستم کا ایک واضح مصداق ہے جو مغربی استعماری قوتوں کی جانب سے غاصب صیہونی رژیم جیسی جعلی ریاست کی تشکیل سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔ اس ناجائز ریاست کو تشکیل پائے 70 برس کا عرصہ گزر چکا ہے جس میں فلسطین کے مقامی باشندوں کی تاریخ، تشخص اور آزادی پر مسلسل ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ لیکن خدا کا وعدہ ہے ظلم کبھی بھی ہمیشہ کیلئے باقی نہیں رہتا جبکہ انسانی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے۔

خداوند متعال نے تمام انسانوں کو آزاد، برابر اور برادر پیدا کیا ہے اور ان کی ایکدوسرے پر برتری کا واحد معیار تقوی ہے۔ تقوی کے علاوہ کوئی چیز کسی انسان کی دوسرے انسان پر برتری کا معیار قرار نہیں پا سکتی چاہے وہ دین ہو، مذہب ہو، نسل ہو یا ثقافت ہو۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ خداوند متعال کی جانب سے بھیجے گئے انبیاء کا ایک اہم ترین مقصد ظلم و ستم کا مقابلہ کرنا تھا۔ اسی مقصد کو مدنظر قرار دیتے ہوئے امام خمینی رح نے ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کو “روز قدس” قرار دیا اور اس دن پوری امت مسلمہ پر مظلوم فلسطینی قوم کے حق میں آواز اٹھانے کی تاکید کی۔ امام خمینی رح کے اس اقدام کا مقصد امت مسلمہ میں اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ گذشتہ چالیس برس سے اسلامی دنیا میں ہر سال روز قدس بھرپور مذہبی جوش اور جذبے سے منایا جاتا ہے۔

روز قدس وہ دن ہے جب باطل کے مقابلے میں حق کا محاذ استقامت اور پائیداری کا مظاہرہ کرتا ہے اور یوں اسلام دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ یہ دن، دنیا بھر میں حریت پسند افراد کی وحدت کا مرکز اور جہاد فی سبیل اللہ کا واضح مصداق ہے۔ اس دن دنیا بھر میں عدل و انصاف کے حامی انسان مظلوم فلسطینی قوم کا دفاع کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی طرح یوم القدس کے دن دنیا بھر میں غاصب صیہونی رژیم کے ظالمانہ اقدامات کی مذمت کی جاتی ہے اور اس سے بیزاری کا اظہار کیا جاتا ہے۔ آج روز قدس کے انعقاد کو چالیس برس کا عرصہ بیت چکا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی برکت سے پوری دنیا میں مسئلہ فلسطین اجاگر ہوا ہے اور نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی مظلوم فلسطینی قوم کے حق میں آواز اٹھی ہے۔

ابتدا میں مظلوم فلسطینیوں کے پاس اپنے جائز حقوق کا دفاع کرنے کیلئے کوئی وسائل نہیں تھے۔ دھیرے دھیرے اسے عالمی سطح پر حمایت حاصل ہونا شروع ہوئی اور اقوام متحدہ میں بھاری اکثریت سے فلسطین کی خودمختار ریاست کو تسلیم کر لیا گیا۔ فلسطینی جوان شروع میں غاصب صیہونی رژیم کے ظلم کا مقابلہ کرنے کیلئے پتھروں کا سہارا لیتے تھے جبکہ آج وہ جدید ترین فوجی ہتھیاروں سے لیس ہو چکے ہیں۔ اسی طرح خطے کے دیگر ممالک میں بھی اس سرطانی غدے سے مقابلہ کرنے کی جرات پیدا ہوئی۔ جیسا کہ گیس اور تیل کے قدرتی ذخائر پر مبنی اپنے حقوق کا دفاع کرنے کیلئے لبنان نے اسرائیل سے ٹکر لی یا فٹبال ورلڈ کپ کے دوران قطر نے ملک میں صیہونیوں اور صیہونی میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ منسوخ کئے جانا بھی ایک مثال ہے۔

ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امام خمینی رح اور ان کے بعد امام خامنہ ای مدظلہ العالی نے ہمیشہ سے مسئلہ فلسطین کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا ہے۔ یہ کام صرف نعرے کی حد تک نہیں رہا بلکہ عملی میدان میں بھی ایران نے فلسطینی مجاہدین کی ہر لحاظ سے بھرپور مدد کی۔ یہی وجہ ہے کہ غاصب صیہونی رژیم نے اسرائیل کو دنیا میں اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دے رکھا ہے اور آئے دن ایران کے خلاف نت نئی سازشیں کرتا رہتا ہے۔ دوسری طرف خطے کے بعض حکمران بھی بظاہر فلسطین کی حمایت کا دعوی کرتے ہیں لیکن جب ان کے مفادات خطرے میں پڑتے ہیں تو فوراً پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ چند سال پہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا تھا کہ فلسطین کی آزادی کیلئے مغربی کنارے میں بھی غزہ کی طرح مسلح جدوجہد کا آغاز ضروری ہے۔

گذشتہ کچھ ماہ سے مغربی کنارے میں بھی مسلح مزاحمت میں تیزی آئی ہے اور کئی اسلامی مزاحمتی گروہ تشکیل پائے ہیں۔ اس وقت موجودہ صیہونی حکومت کئی بحرانوں سے روبرو ہے۔ خطے کے بعض ممالک سے اس کے تعلقات کشیدہ ہیں جبکہ اندرونی سطح پر بھی وہ شدید بحران کا شکار ہے۔ لہذا مقبوضہ فلسطین میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کی تشکیل اور پھیلاو کیلئے یہ مناسب ترین موقع ہے۔ اگر غزہ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں بھی مسلح جدوجہد کی شدت میں تیزی آتی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطین کی آزادی یقینی ہو جائے گی۔ اگرچہ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای مدظلہ العالی نے چند سال پہلے یہ پیشن گوئی کی تھی کہ اسرائیل آئندہ 25 سال میں نابود ہو جائے گا لیکن مقبوضہ فلسطین میں بڑھتی ہوئی مزاحمتی کاروائیوں کے تناظر میں یوں دکھائی دیتا ہے کہ یہ پیشن گوئی بہت جلد حقیقت کا روپ دھار لے گی۔ انشاءاللہ

تحریر: ڈاکٹر محمد مہدی جہان پرور

Read 192 times