ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال

Rate this item
(0 votes)
ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال

ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال
واضح رہے کہ ماہ رجب، شعبان اور رمضان بڑی عظمت اور فضیلت کے حامل ہیں اور بہت سی روایات میں ان کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ جیساکہ حضرت محمد کا ارشاد پاک ہے کہ ماہ رجب خداکے نزدیک بہت زیادہ بزرگی کا حامل ہے۔ کوئی بھی مہینہ حرمت و فضیلت میں اس کا ہم پلہ نہیں اور اس مہینے میںکافروں سے جنگ و جدال کرنا حرام ہے۔آگاہ رہو رجب خدا کا مہینہ ہے شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔ رجب میںایک روزہ رکھنے والے کو خدا کی عظیم خوشنودی حاصل ہوتی ہے‘ غضب الہی اس سے دور ہوجاتا ہے‘ اور جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ اس پر بند ہوجاتا ہے۔ امام موسٰی کاظم -فرماتے ہیں کہ ماہ رجب میںایک روزہ رکھنے سے جہنم کی آگ ایک سال کی مسافت تک دور ہوجاتی ہے اورجو شخص اس ماہ میں تین دن کے روزے رکھے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ نیز حضرت فرماتے ہیں کہ رجب بہشت میںایک نہر ہے جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے اور جو شخص اس ماہ میں ایک دن کا روزہ رکھے تو وہ اس نہر سے سیراب ہوگا۔
امام جعفر صادق -سے مروی ہے کہ حضرت رسول اکرم نے فرمایا: کہ رجب میری امت کے لیے استغفار کامہینہ ہے۔ پس اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ طلب مغفرت کرو کہ خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔ رجب کو اصبّ بھی کہاجاتا ہے کیونکہ اس ماہ میںمیری امت پر خدا کی رحمت بہت زیادہ برستی ہے۔ پس اس ماہ میں بہ کثرت کہا کرو:
اَسْتَغْفِرُ ﷲ وَ اَسْءَلُهُ التَّوْبَةَ
ابن بابویہ نے معتبر سند کے ساتھ سالم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں اوخر رجب میں امام جعفر صادق -کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت نے میری طرف دیکھتے ہوئے فرمایا کہ اس مہینے میںروزہ رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! وﷲ نہیں! تب فرمایا کہ تم اس قدر ثواب سے محروم رہے ہوکہ جسکی مقدارسوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا کیونکہ یہ مہینہ ہے جسکی فضیلت تمام مہینوں سے زیادہ اور حرمت عظیم ہے اور خدا نے اس میں روزہ رکھنے والے کا احترام اپنے اوپرلازم کیا ہے۔ میںنے عرض کیا اے فرزند رسول ! اگرمیں اسکے باقی ماندہ دنوں میں روزہ رکھوں توکیا مجھے وہ ثواب مل جائیگا؟
آپ نے فرمایا: اے سالم!
جو شخص آخر رجب میں ایک روزہ رکھے تو خدا اسکو موت کی سختیوں اور اس کے بعدکی ہولناکی اورعذاب قبر سے محفوظ رکھے گا۔جوشخص آخر ماہ میں دوروزے رکھے وہ پل صراط سے آسانی کے ساتھ گزرجائے گا اور جو آخررجب میں تین روزے رکھے اسے قیامت میں سخت ترین خوف‘تنگی اورہولناکی سے محفوظ رکھا جائے گا اور اس کوجہنم کی آگ سے آزادی کاپروانہ عطا ہوگا۔
واضح ہوکہ ماہ رجب میں روزہ رکھنے کی فضیلت بہت زیادہ ہے جیساکہ روایت ہوئی ہے اگر کوئی شخص روزہ نہ رکھ سکتاہو وہ ہرروز سو مرتبہ یہ تسبیحات پڑھے تو اس کو روزہ رکھنے کاثواب حاصل ہوجائے گا۔
سُبْحانَ الْاِلهِ الْجَلِیلِ سُبْحانَ مَنْ لاَ یَنْبَغِی التَّسْبِیحُ إلاَّ لَهُ سُبْحانَ الْاَعَزِّ الْاَکْرَمِ سُبْحانَ مَنْ لَبِسَ الْعِزَّ وَهُوَ لَهُ أَهْلٌ
پاک ہے جو معبود بڑی شان والا ہے پاک ہے وہ کہ جس کے سوا کوئی لائق تسبیح نہیں پاک ہے وہ جو بڑا عزت والا اور بزرگی والا ہے
پاک ہے وہ جولباس عزت میں ملبوس ہے اور وہی اس کا اہل ہے۔

ماہ رجب کے مشترکہ اعمال
۱-
محمد بن ذکو ان،آپ اس لئے سجاد کے نام سے معروف ہیں کہ انہوں نے اتنے سجدے کیے اور خوف خدا میں اس قدر روئے کہ نابینا ہوگئے تھے، سید بن طاؤس نے محمد بن ذکوان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ پر قربان ہو جاؤں یہ ماہ رجب ہے، مجھے کوئی دعا تعلیم کیجئے کہ حق تعالیٰ اس کے ذریعے مجھے فائدہ عطا فرمائے ۔ آپ نے فرمایا کہ لکھوبسم اللہ الرحمن الرحیم اور رجب کے مہینے میں ہر روزصبح وشام کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرو:
۲-
رسول ﷲ سے مروی ہے کہ جو شخص ماہ رجب میں سو مرتبہ کہے :
اَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِیْ لَااِلٰهَ اِلَّاهُوَ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ واَتُوْبُ اِلَیْهَ
 اور جو اسے چار سو مرتبہ پڑھے گا تو خدا اسے سو شہیدوں کا اجر دے گا ۔
۳-
رسول ﷲ سے روایت ہوئی کہ ماہ رجب میں جو شخص ہزار مرتبہ
" لَااِلٰهَ اِلَّاﷲ "
کہے تو حق تعالیٰ اس کیلئے ہزار نیکیاں لکھے گا اور جنت میں اس کیلئے سو شہر بنائیگا۔
۴-
روایت ہوئی ہے کہ جو شخص رجب کے مہینے میں صبح شام ستر، ستر مرتبہ
"اَسْتَغْفِرُ ﷲ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہَ "
پڑھے اور پھر اپنے ہاتھوں کو بلند کرکے
" اَلَّلهُمَّ اغْفَرْلِیْ وَ تُبْ عَلَیَّ "
کہے تو اگر وہ اس مہینے میں مر جائے تو حق تعالیٰ اس ماہ کی برکت سے اس پر راضی ہوگا اور آتش جہنم اسے نہ چھوئے گی۔
۵-
رجب کے پورے مہینے میں ہزار مرتبہ پڑھے تاکہ حق تعالیٰ اس کو بخش دے۔
"اَسْتَغْفِرُ ﷲ ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِکْرَامِ مِنْ جَمِیْعِ الذَّنُوْبِ وَ الْآثَامِ"
بخشش چاہتا ہوں خدا سے جو صاحب جلالت و بزرگی ہے اپنے تمام گناہوں اور خطاؤں پر طالب عفو ہوں۔
۶-
سید نے اقبال میں رسول ﷲ سے نقل کیا ہے کہ ماہ رجب میں سورہ اخلاص کے دس ہزار مرتبہ یا ایک ہزار مرتبہ یا ایک سو مرتبہ پڑھنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے ۔ نیز یہ روایت بھی ہے کہ ماہ رجب میں جمعہ کے روز جو شخص سو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے تو قیامت میں اس کیلئے ایک خاص نور ہوگا جو اسے جنت کی طرف لے جائے گا ۔
۷-
سید نے روایت نقل کی ہے کہ جو شخص ماہ رجب میں ایک دن روزہ رکھے اور چار رکعت نماز ادا کرے کہ جس کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سو مرتبہ آیۃ الکرسی اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد دو سو مرتبہ قُلْ ھُوَ ﷲ پڑھے تو وہ شخص مرنے سے پہلے جنت میں اپنا مقام خود دیکھ لے گا۔ یا اسے جنت میںاس کا مقام دکھایا جائے گا۔
۸-
سید نے رسول ﷲ سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ جو شخص رجب میں جمعہ کے روز نماز ظہر و عصر کے درمیان چار رکعت نماز پڑھے جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سات مرتبہ آیت الکرسی اور پانچ مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور نماز کے بعد دس مرتبہ کہے:
"اَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِیْ لَا اِلَهَ اِلَّا هُوَ وَ اَسْءَلُهُ التَّوْبَةَ"
پس حق تعالیٰ اس نماز کے ادا کرنے کے دن سے اس کی موت تک ہر روز اس کیلئے ہزار نیکیاں لکھے گا ، ہر آیت جو اس نے نماز میں پڑھی ہے اس کے بدلے میں اسے جنت میں یاقوت سرخ کا شہر عنائت کرے گا ۔ ہر ہر حرف کے عوض سفید موتیوں کا محل عطا کرے گا ، حورالعین سے اس کی تزویج کرے گا ، خدا ئے تعالیٰ اس سے راضی و خوشنود ہوگا، اس کا نام عبادت گزاروں میںلکھا جائے گا اور خدا اس کا خاتمہ بخشش اور نیک بختی پر کرے گا ۔
۹-
رجب کے مہینے میں تین دن یعنی جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھے کیونکہ روایت ہوئی ہے کہ جو محترم مہینوں کے ان دنوں میں روزہ رکھے تو حق تعالیٰ اس کو نو سوبرس کی عبادت کا ثواب عطا فرمائے گا ۔
۱۰-
پورے ماہ رجب میں ساٹھ رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہر شب میں دو رکعت بجالائے جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد ایک مرتبہ، سورہ کافرون تین مرتبہ اور سورہ قل ھو ﷲ ایک مرتبہ پڑھے اور جب سلام دے چکے تو اپنے ہاتھ بلند کر کے یہ پڑھے :
"لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، یُحْیِی وَیُمِیتُ وَهُوَحَیٌّ  لاَ یَمُوتُ بِیَدِهِ الْخَیْرُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ وَ إلَیْهِ الْمَصِیرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الاَُْمِّیِّ وَآلِهِ،
یہ دعا پڑھنے کے بعد دونوں ہاتھ اپنے منہ پر پھیرے۔
حضرت رسول ﷲ سے روایت ہوئی ہے کہ جو شخص یہ عمل انجام دے حق تعالیٰ اس کی دعا قبول کرے گا اور اسے ساٹھ حج اور ساٹھ عمرہ کا ثواب عطا فرمائے گا۔
۱۱-
حضرت رسول ﷲ سے روایت کی گئی ہے کہ جو شخص رجب کے مہینے کی ایک رات میں دو رکعت نماز ادا کرے کہ اس میں سو مرتبہ سورہ قُلْ ھُو ﷲ پڑھے تو وہ ایسے ہے کہ جیسے اس نے حق تعالیٰ کیلئے سو سال کے روزہ رکھے ہوں۔ پس ﷲ تعالیٰ اس کو بہشت میں ایسے سو محلات عنایت کرے گا کہ جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی نبی کی ہمسائیگی میں واقع ہوگا۔
۱۲-
حضرت رسول ﷲ سے مروی ہے کہ جو شخص ماہ رجب کی ایک رات میں دس رکعت نماز پڑھے کہ جس کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ و سورہ کافرون ایک ایک مرتبہ اور سورہ قل ھو ﷲ تین مرتبہ پڑھے تو ﷲ تعالیٰ اس کا ہر وہ گناہ بخش دے گا جو اس نے کیا ہو گا۔
۱۳-
علامہ مجلسی رحمه‌الله نے زاد المعاد میں ذکر فرمایا کہ مولا امیر-سے نقل کیا گیا ہے کہ رسولخدا نے فرمایا ہے کہ جو شخص رجب، شعبان اور رمضان کی ہر رات اور دن میں سورہ حمد، آیۃ الکرسی، سورہ کافرون، سورہ فلق اور سورہ ناس میں سے ہر ایک تین تین مرتبہ پڑھے اور پھر تین مرتبہ کہے :
سُبْحَانَ ﷲ، وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَﷲ أَکْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَقوّ َةَ إلاَّ بﷲ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِتین مرتبه کهے : اَللَّهُمَّ صَلَّی ﷲ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اَلَّلهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤمِنَاتِ
اور چارسو مرتبه کهے :
" اَسْتَغْفر ﷲ وَ اَتُوْبُ اِلَیْهِ"
اور مومن عورتوں کو بخش دے میں خدا سے بخشش چاہتا ہوں اور اسی کی طرف پلٹتا ہوں
پس خدا تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا چاہے وہ بارش کے قطروں، درختوں کے پتوں اور دریاؤں کی جھاگ جتنے ہی کیوںنہ ہوں۔ نیز علامہ مجلسی رحمه‌الله فرماتے ہیں کہ اس مہینے کی ہر رات میں ہزار مرتبہ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ کہنا بھی نقل ہوا ہے ۔
واضح ہو کہ ماہ رجب کی پہلی شبِ جمعہ کو لیلۃ الرغائب (رغبتوں والی رات) کہا جاتا ہے اس شب کیلئے رسولخدا سے ایک نماز نقل ہوئی ہے کہ جس کے فضائل بہت زیادہ ہیں جنہیں سیدنے اقبال اور علامہ مجلسی نے اجازہ بنی زہرہ میںذکر کئے ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس نماز کی برکت سے کثیر گناہ معاف ہو جائیں گے اور قبر کی پہلی رات یہ نماز بحکم خدا خوبصورت بدن، خندہ چہرہ اور صاف و شیرین زبان کے ساتھ آکر کہے گی اے میرے حبیب خوشخبری ہو تجھے کہ تو نے ہر تنگی و سختی سے نجات پالی ہے وہ شخص پوچھے گا تو کون ہے؟خدا کی قسم میں نے تجھ سے خوبصورت اور شیرین کلام اور خوشبو والا کوئی نہیں دیکھا؟ وہ جواب دے گی میں تیری وہ نماز اور اس کا ثواب ہوں جو تونے فلاں رات فلاں ماہ اور فلاں سال میں پڑھی تھی آج میں تیرے حق کی ادائیگی کیلئے حاضر اور اس وحشت و تنہائی میں تیری ہمدم و غمخوار ہوں کل روز قیامت جب صور پھونکا جائے گا ۔
تو اس وقت میں تیرے سر پر سایہ کروں گی پس خوش و خرم رہ کہ خیر و نیکی کبھی تجھ سے دور نہیں ہوگی اس با برکت نماز کی ترکیب یہ ہے کہ ماہ رجب کی پہلی جمعرات کو روزہ رکھے اور شب جمعہ میں مغرب و عشاءکے درمیان بارہ رکعت دو دو رکعت کر کے نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد تین مرتبہ انا انزلناہ اور بارہ مرتبہ قُلْ ھُو ﷲ پڑھے ، فارغ ہو کر ستر مرتبہ کہے:
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النبیِ الاُمِّیِ وَ عَلیٰ آلِهٰ
پھر سجدے میں جا کر ستر مرتبہ کہے:سُبُّوْحُ،
اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم امی پر اور ان کی آلعليه‌السلام پررحمت نازل فرما فرشتوں اور
قُدُّوْسُ، رَبُ الْمَلائِکَةِ وَ الرُّوْح سجدے سے سر اٹھا کر ستر مرتبہ کہے:رَبِّ اغْفَرْ وَارْحَمْ وَ
روح کا رب بے عیب پاک تر ہے پالنے والے بخش دے رحم فرما اور
تَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ أَنَّکَ اَنْتَ العَلِیُّ الْاَعْظَمُ
پھر سجدے میں جائے اور ستر مرتبہ کہے:سُبُّوْحُ ، قُدُّوْسُ، رَبُ الْمَلائِکَةِ وَ الرُّوْحِ
اس کے بعد اپنی حاجت بھی طلب کرے گا ان شاء ﷲ تعالیٰ وہ پوری ہوگی۔
یاد رہے کہ ماہ رجب میں امام علی رضا -کی زیارت کو جانا مستحب ہے ، جیساکہ اس ماہ میں عمرہ ادا کرنے کی بھی زیادہ فضیلت ہے اور عمرہ کی فضیلت حج کے قریب قریب ہے روایت ہوئی ہے کہ امام زین العابدین -ماہ رجب میں عمرہ ادا فرماتے، خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھتے شب و روز سجدے میں رہتے اور سجدے میں یہ کلمات ادا فرماتے۔
عَظُمَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِکَ فُلْیَحْسُنِ الْعَفْوُ مَنْ عِنْدِکَ

یہ ماہ رجب کے اعمال میں پہلی قسم ہے یہ وہ اعمال ہیں جومشترکہ ہیں اورکسی خاص دن کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں اور یہ چند اعمال ہیں۔

 ماہ رجب  کے  روزانہ کی نماز کے بعد پڑھی جانے والی دعاء
محمد بن ذکو ان،آپ اس لئے سجاد کے نام سے معروف ہیں کہ انہوں نے اتنے سجدے کیے اور خوف خدا میں اس قدر روئے کہ نابینا ہوگئے تھے، سید بن طاؤس نے محمد بن ذکوان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام جعفر صادق -کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ پر قربان ہو جاؤں یہ ماہ رجب ہے، مجھے کوئی دعا تعلیم کیجیئے کہ حق تعالیٰ اس کے ذریعے مجھے فائدہ عطا فرمائے ۔ آپ نے فرمایا کہ لکھوبسم اللہ الرحمن الرحیم اور رجب کے مہینے میں ہر روزصبح وشام کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرو
" يَا مَنْ أَرْجُوهُ لِكُلِّ خَيْرٍ ، وَ آمَنُ سَخَطَهُ عِنْدَ كُلِّ شَرٍّ ، يَا مَنْ يُعْطِي الْكَثِيرَ بِالْقَلِيلِ ، يَا مَنْ يُعْطِي مَنْ سَأَلَهُ ، يَا مَنْ يُعْطِي مَنْ لَمْ يَسْأَلْهُ وَ مَنْ لَمْ يَعْرِفْهُ تُحَنُّناً مِنْهُ وَ رَحْمَةً ، أَعْطِنِي بِمَسْأَلَتِي إِيَّاكَ جَمِيعَ خَيْرِ الدُّنْيَا ، وَ جَمِيعَ خَيْرِ الْآخِرَةِ ، وَ اصْرِفْ عَنِّي بِمَسْأَلَتِي إِيَّاكَ جَمِيعَ شَرِّ الدُّنْيَا وَ شَرِّ الْآخِرَةِ ، فَإِنَّهُ غَيْرُ مَنْقُوصٍ مَا أَعْطَيْتَ ، وَ زِدْنِي مِنْ فَضْلِكَ يَا كَرِيمُ "
راوی کہتا ہے کہ اس کے بعد امام  أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السَّلام )نے اپنی ریش مبارک کو داہنی مٹھی میں لیا اور اپنی انگشت شہادت کو ہلاتے ہوئے نہایت گریہ و زاری کی حالت میں یہ دعا پڑھی:
" يَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْإِكْرَامِ ، يَا ذَا النَّعْمَاءِ وَ الْجُودِ ، يَا ذَا الْمَنِّ وَ الطَّوْلِ ، حَرِّمْ شَيْبَتِي عَلَى النَّارِ "

:۱-
رجب کے پورے مہینے میں یہ دعا پڑھتا رہے اور روایت ہے کہ یہ دعا امام زین العابدین -نے ماہ رجب میں حجر کے مقام پر پڑھی:

يَا مَنْ يَمْلِكُ حَوائِجَ السَّائِلِينَ، وَيَعْلَمُ ضَمِيرَ الصَّامِتِينَ، لِكُلِّ مَسْأَلَةٍ مِنْكَ سَمْعٌ حَاضِرٌ، وَجَوَابٌ عَتِيدٌ . اللّهُمَّ وَمَواعِيدُكَ الصَّادِقَةُ، وَأَيادِيكَ الْفَاضِلَةُ، وَرَحْمَتُكَ الْوَاسِعَةُ، فَأَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّىَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَقْضِىَ حَوائِجِى لِلدُّنْيا وَالْآخِرَةِ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ.
۲-
یہ دعا پڑھے کہ جسے امام جعفر صادق -رجب میں ہر روز پڑھا کرتے تھے۔
" خَابَ الْوَافِدُونَ عَلَى غَيْرِكَ ، وَ خَسِرَ الْمُتَعَرِّضُونَ إِلَّا لَكَ ، وَ ضَاعَ الْمُلِمُّونَ إِلَّا بِكَ ، وَ أَجْدَبَ الْمُنْتَجِعُونَ إِلَّا مَنِ انْتَجَعَ فَضْلَكَ ، بَابُكَ مَفْتُوحٌ لِلرَّاغِبِينَ ، وَ خَيْرُكَ مَبْذُولٌ لِلطَّالِبِينَ ، وَ فَضْلُكَ مُبَاحٌ لِلسَّائِلِينَ ، وَ نَيْلُكَ مُتَاحٌ لِلْآمِلِينَ ، وَ رِزْقُكَ مَبْسُوطٌ لِمَنْ عَصَاكَ ، وَ حِلْمُكَ مُعْتَرِضٌ لِمَنْ نَاوَاكَ ، عَادَتُكَ الْإِحْسَانُ إِلَى الْمُسِيئِينَ ، وَ سَبِيلُكَ الْإِبْقَاءُ عَلَى الْمُعْتَدِينَ ،
اللَّهُمَّ فَاهْدِنِي هُدَى الْمُهْتَدِينَ ، وَ ارْزُقْنِي اجْتِهَادَ الْمُجْتَهِدِينَ ، وَ لَا تَجْعَلْنِي مِنَ الْغَافِلِينَ الْمُبْعَدِينَ ، وَ اغْفِرْ لِي يَوْمَ الدِّينِ "

۳-
شیخ نے مصباح میں فرمایا ہے کہ معلٰی بن خنیس نے امام جعفرصادق -سے روایت کی ہے۔ آپعليه‌السلام نے فرمایا کہ ماہ رجب میں یہ دعا پڑھا کرو:
اللّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صَبْرَ الشَّاكِرِينَ لَكَ وَعَمَلَ الخائِفِينَ مِنْكَ وَيَقِينَ العابِدِينَ لَكَ ، اللّهُمَّ أَنْتَ العَلِيُّ العَظِيمُ وَأَنا عَبْدُكَ البائِسُ الفَقِيرُ أَنْتَ الغَنِيُّ الحَمِيدُ وَأَنا العَبْدُ الذَّلِيلُ ، اللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَامْنُنْ بِغِناكَ عَلى فَقْرِي وَبِحِلْمِكَ عَلى جَهْلِي وَبِقُوَّتِكَ عَلى ضَعْفِي يا قَوِيُّ يا عَزِيزُ ، اللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الأَوْصِياء المَرْضِيِّينَ وَاكْفِنِي ما أَهَمَّنِي مِنْ أَمْرِ الدُّنْيا وَالآخرةِ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ
۴-

شیخ  طوسي" مصباح المتهجد" میں فرماتے ہیں کہ اس دعا کو ہر روز پڑھنا مستحب ہے۔
"اللَّهُمَّ يَا ذَا الْمِنَنِ‏ السَّابِغَةِ، وَ الْآلَاءِ الْوَازِعَةِ، وَ الرَّحْمَةِ الْوَاسِعَةِ، وَ الْقُدْرَةِ الْجَامِعَةِ، وَ النِّعَمِ الْجَسِيمَةِ، وَ الْمَوَاهِبِ الْعَظِيمَةِ، وَ الْأَيَادِي الْجَمِيلَةِ، وَ الْعَطَايَا الْجَزِيلَةِ.
يَا مَنْ لَا يُنْعَتُ بِتَمْثِيلٍ، وَ لَا يُمَثَّلُ بِنَظِيرٍ، وَ لَا يُغْلَبُ بِظَهِيرٍ.
يَا مَنْ خَلَقَ فَرَزَقَ، وَ أَلْهَمَ فَأَنْطَقَ، وَ ابْتَدَعَ فَشَرَعَ، وَ عَلَا فَارْتَفَعَ، وَ قَدَّرَ فَأَحْسَنَ، وَ صَوَّرَ فَأَتْقَنَ، وَ احْتَجَّ فَأَبْلَغَ، وَ أَنْعَمَ فَأَسْبَغَ، وَ أَعْطَى فَأَجْزَلَ، وَ مَنَحَ فَأَفْضَلَ.
يَا مَنْ سَمَا فِي الْعِزِّ فَفَاتَ خَوَاطِرَ الْأَبْصَارِ، وَ دَنَا فِي اللُّطْفِ فَجَازَ هَوَاجِسَ الْأَفْكَارِ.
يَا مَنْ تَوَحَّدَ بِالْمُلْكِ فَلَا نِدَّ لَهُ فِي مَلَكُوتِ سُلْطَانِهِ، وَ تَفَرَّدَ بِالْآلَاءِ وَ الْكِبْرِيَاءِ فَلَا ضِدَّ لَهُ فِي جَبَرُوتِ شَأْنِهِ.
يَا مَنْ حَارَتْ فِي كِبْرِيَاءِ هَيْبَتِهِ دَقَائِقُ لَطَائِفِ الْأَوْهَامِ، وَ انْحَسَرَتْ دُونَ إِدْرَاكِ عَظَمَتِهِ خَطَائِفُ أَبْصَارِ الْأَنَامِ.
يَا مَنْ عَنَتِ الْوُجُوهُ لِهَيْبَتِهِ، وَ خَضَعَتِ الرِّقَابُ لِعَظَمَتِهِ، وَ وَجِلَتِ الْقُلُوبُ مِنْ‏ خِيفَتِهِ، أَسْأَلُكَ بِهَذِهِ الْمِدْحَةِ الَّتِي لَا تَنْبَغِي إِلَّا لَكَ، وَ بِمَا وَأَيْتَ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ لِدَاعِيك مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَ بِمَا ضَمِنْتَ الْإِجَابَةَ فِيهِ عَلَى نَفْسِكَ لِلدَّاعِينَ، يَا أَسْمَعَ السَّامِعِينَ، وَ أَبْصَرَ النَّاظِرِينَ، وَ أَسْرَعَ الْحَاسِبِينَ.
يَا ذَا الْقُوَّةِ الْمَتِينَ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَ اقْسِمْ لِي فِي شَهْرِنَا هَذَا خَيْرَ مَا قَسَمْتَ، وَ احْتِمْ لِي فِي قَضَائِكَ خَيْرَ مَا حَتَمْتَ، وَ اخْتِمْ لِي بِالسَّعَادَةِ فِيمَنْ خَتَمْتَ، وَ أَحْيِنِي مَا أَحْيَيْتَنِي مَوْفُوراً، وَ أَمِتْنِي مَسْرُوراً وَ مَغْفُوراً، وَ تَوَلَّ أَنْتَ نَجَاتِي مِنْ مُسَاءَلَةِ الْبَرْزَخِ، وَ ادْرَأْ عَنِّي مُنْكَراً وَ نَكِيراً، وَ أَرِ عَيْنِي‏ مُبَشِّراً وَ بَشِيراً، وَ اجْعَلْ لِي إِلَى رِضْوَانِكَ وَ جِنَانِكَ مَصِيراً، وَ عَيْشاً قَرِيراً، وَ مُلْكاً كَبِيراً، وَ صَلِ‏ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ كَثِيراً (مصباح المتهجد: 2 / 802)
مولف کہتے ہیں کہ یہ دعا مسجد صعصعہ میں بھی پڑھی جاتی ہے جو مسجدکوفہ کے قریب ہے۔
۵-

شیخ طوسی نے روایت کی ہے کہ ناحیہ مقدسہ (اما م زمان(عج) کی جانب) سے امام العصرعليه‌السلام کے وکیل شیخ کبیر ابو جعفر محمد بن عثمان بن سعید(قدس الله روحه) کے ذریعے سے یہ توقیع یعنی مکتوب آیا ہے۔
رجب کے مہینے میں یہ دعا ہرروزپڑھاکرو:
بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ
اللّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَعانِي جَمِيعِ مايَدْعُوكَ بِهِ وُلاةَ أَمْرِكَ المَأْمُونُونَ عَلى سِرِّكَ المُسْتَبْشِرُونَ بِأَمْرِكَ الواصِفُونَ لِقُدْرَتِكَ المُعْلِنُونَ لِعَظَمَتِكَ ، أَسْأَلُكَ بِما نَطَقَ فِيهِمْ مِنْ مَشِيَّتِكَ فَجَعَلْتَهُمْ مَعادِنَ لِكَلِماتِكَ وَأَرْكانا لِتَوْحِيدِكَ وَآياتِكَ وَمَقاماتِكَ الَّتِي لاتَعْطِيلَ لَها فِي كُلِّ مَكانٍ يَعْرِفُكَ بِها مَنْ عَرَفَكَ ، لافَرْقَ بَيْنَكَ وَبَيْنَها إِلاّ أَنَّهُمْ عِبادُكَ وَخَلْقُكَ فَتْقُها وَرَتْقُها بِيَدِكَ بَدْؤُها مِنْكَ وَعَوْدُها إِلَيْكَ ، أَعْضادٌ وَأَشْهادٌ وَمُناةٌ وَأَذْوادٌ وَحَفَظَةٌ وَرُوَّادٌ فَبِهِمْ مَلأتَ سَمائَكَ وَأَرْضَكَ حَتّى ظَهَرَ أَنْ لا إِلهَ إِلاّ أَنْتَ ؛ فَبِذلِكَ أَسْأَلُكَ وَبِمَواقِعِ العِزِّ مِنْ رَحْمَتِكَ وَبِمَقاماتِكَ وَعَلاماتِكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ تَزِيدَنِي إِيْماناً وَتَثْبِيتاً ، يا باطِناً فِي ظُهُورِهِ وَظاهِراً فِي بُطُونِهِ وَمَكْنُونِهِ يا مُفَرِّقاً بَيْنَ النُّورِ وَالدَّيْجُورِ يا مَوْصُوفاً بِغَيْرِ كُنْهٍ وَمَعْرُوفاً بِغَيْرِ شِبْهٍ ، حادَّ كُلِّ مَحْدُودٍ وَشاهِدَ كُلِّ مَشْهُودٍ وَمُوجِدَ كُلِّ مَوْجُودٍ وَمُحْصِيَ كُلِّ مَعْدُودٍ وَفاقِدَ كُلِّ مَفْقُودٍ لَيْسَ دُونَكَ مِنْ مَعْبُودٍ أَهْلَ الكِبْرِياءِ وَالجُودِ ، يا مَنْ لايُكَيَّفُ بِكَيْفٍ وَلايُؤَيَّنُ بِأَيْنٍ يا مُحْتَجِباً عَنْ كُلِّ عَيْنٍ يا دَيْمُومُ يا قَيُّومُ وَعالِمَ كُلِّ مَعْلُومٍ ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَ 2 عَلى عِبادِكَ المُنْتَجَبِينَ وَبَشَرِكَ المُحْتَجِبِينَ وَمَلائِكَتِكَ المُقَرَّبِينَ وَالبُهْمِ الصَّافِّينَ الحافِّينَ ، وَبارِكْ لَنا فِي شَهْرِنا هذا المُرَجَّبِ المُكَرَّمِ وَما بَعْدَهُ مِنَ الاَشْهُرِ الحُرُمِ وَأَسْبِغْ عَلَيْنا فِيهِ النِّعَمَ وَأَجْزِلْ لَنا فِيهِ القِسَمَ ، وَأَبْرِزْ لَنا فِيهِ القَسَمَ بِإسْمِكَ الأعْظَمِ الأعْظَمِ الأَجَلِّ الأَكْرَمِ الَّذِي وَضَعْتَهُ عَلى النَّهارِ فَأَضاءَ وَعَلى اللَّيْلِ فَأَظْلَمَ ، وَاغْفِرْ لَنا ماتَعْلَمُ مِنَّا وَما 3 لا نَعْلَمُ وَاعْصِمْنا مِنَ الذُّنُوِب خَيْرَ العِصَمِ واكْفِنا كَوافِيَ قَدَرِكَ وَامْنُنْ عَلَيْنا بِحُسْنِ نَظَرِكَ وَلا تَكِلْنا إِلى غَيْرِكَ وَلا تَمْنَعْنا مِنْ خَيْرِكَ وَبارِكْ لَنا فِيما كَتَبْتَهُ لَنا مِنْ أَعْمارِنا وَأَصْلِحْ لَنا خَبِيئَةَ أَسْرارِنا وَأَعْطِنا مِنْكَ الاَمانَ وَاسْتَعْمِلْنا بِحُسْنِ الاِيمانِ وَبَلِّغْنا شَهْرَ الصِّيامِ وَما بَعْدَهُ مِنَ الاَيَّامِ وَالاَعْوامِ يا ذا الجَلالِ وَالاِكْرامِ(مصباح المتهجّد : 803.)
۶-
شیخ  طوسی (قدس الله روحه)نے روایت کی ہے کہ ناحیہ مقدسہ سے شیخ ابوالقاسم(قدس الله روحه) کے ذریعے سے رجب کی دنوں میں پڑھنے کے لیے یہ دعا صادر ہوئی۔
اللّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِالمَولُودِينَ فِي رَجَبٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الثَّانِي وَابْنِهِ عَلِيٍّ بْنِ مُحَمَّدٍ المُنْتَجَبِ ، وَأّتَقَرَّبُ بِهما إِلَيْكَ خَيْرَ القُرَبِ يا مَنْ إِلَيْهِ المَعْرُوفُ طُلِبَ وَفِيما لَدَيْهِ رُغِبَ ، أَسْأَلُكَ سُؤالَ مُقْتَرِفٍ مُذْنِبٍ قَدْ أَوْبَقَتْهُ ذُنُوبُهُ وَأَوْثَقَتْهُ عُيُوبُهُ فَطَالَ عَلى الخَطايا دُؤُوبُهُ وَمِنَ الرَّزَايا خُطُوبُهُ ؛ يَسْأَلُكَ التَّوْبَةَ وَحُسْنَ الاَوْبَةِ وَالنُّزُوعَ عَنْ الحَوْبَةِ وَمِنَ النَّارِ فَكاكَ رَقَبَتِهِ وَالعَفْوَ عَمَّا فِي رِبْقَتِهِ ، فَأَنْتَ مَوْلايَ أَعْظَمُ أَمَلِهِ وَثِقَتِهِ. اللّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ بِمَسائِلِكَ الشَّرِيفَةِ وَوَسائِلكَ المُنِيفَةِ أَنْ تَتَغَمَّدَنِي فِي هذا الشَّهْرِ بِرَحْمَةٍ مِنْكَ وَاسِعَةٍ وَنِعْمَةٍ وَازِعَهٍ وَنَفْسٍ بِما رَزَقْتَها قانِعَةٍ إِلى نُزُولِ الحافِرَةِ وَمَحَلِّ الآخرةِ وَما هِيَ إِلَيْهِ صائِرَةٌ( مصباح المتهجّد : 805)
زیارت رجبیہ
۷-
شیخ  طوسی (قدس الله روحه)نے حضرت امام العصر (عج)کے نائب خاص ابو القاسم حسین بن روح سے روایت کی ہے کہ رجب کے مہینے میں آئمہ میں سے جس امام عليه‌السلام کی ضریح مبارکہ پر جائے تو اس میں داخل ہوتے وقت یہ زیارت ماہ رجب پڑھے:

الحَمْدُ للهِ الَّذِي أَشْهَدَنا مَشْهَدَ أَوْلِيائِهِ فِي رَجَبٍ وَأَوْجَبَ عَلَيْنا مِنْ حَقِّهِمْ ما قَدْ وَجَبَ ، وَصَلَّى اللهُ عَلى مُحَمَّدٍ المُنْتَجَبِ وَعَلى أَوْصِيائِهِ الحُجُبِ ، اللّهُمَّ فَكَما أَشْهَدْتَنا مَشْهَدَهُمْ  فَانْجِزْ لَنا مَوْعِدَهُمْ وَأَوْرِدْنا مَوْرِدَهُمْ غَيْرَ مُحَلَّئِينَ عَنْ وِردٍ فِي دارِ المُقامَةِ وَالخُلْدِ وَالسَّلامُ عَلَيْكُمْ ؛ إِنِّي قد  قَصْدُتُكْم وَاعْتَمَدْتُكُمْ بَمَسْأَلَتِي وَحاجَتِي وَهِيَ فَكاكُ رَقَبَتِي مِنَ النَّار وَالمَقَرُّ مَعَكُمْ فِي دارِ القَرارِ مَعَ شِيعَتِكُمْ الاَبْرارِ ، وَالسَّلامُ عَلَيْكُمْ بِما صَبَرْتُمْ فنِعْمَ عُقْبى الدَّارِ أَنا سائِلُكُمْ وَآمِلُكُمْ فِيما إِلَيْكُمْ التَّفْوِيضُ وَعَلَيْكُمْ التَّعْوِيضُ ، فَبِكُمْ يُجْبَرُ المَهيضُ وَيُشْفى المَرِيضُ وَماتَزْدادُ الأَرْحامُ وَماتَغِيضُ. إِنِّي بِسِرِّكُمْ مُؤْمِنٌ 3، وَلِقَوْلِكُمْ مُسَلِّمٌ وَعَلى الله بِكُمْ مُقْسِمٌ فِي رَجْعِي بِحَوائِجِي وَقَضائِها وَإِمْضائِها وَإِنْجاحِها وَإِبْراحِها 4 وَبِشُؤُونِي لَدَيْكُمْ وَصَلاحِها، وَالسَّلامُ عَلَيْكُمْ سَلامَ مُوَدِّعٍ وَلَكُمْ حَوَائِجَهُ مُودِعٌ يَسْأَلُ الله إِلَيْكُمْ المَرْجِعَ وَسَعْيَهُ إِلَيْكُمْ غَيْرَ مُنْقَطِعٍ وَأَنْ يَرْجِعَنِي مِنْ حَضْرَتِكُمْ خَيْرَ مَرْجِعٍ إِلى جَنابٍ مُمْرِعٍ وَخَفْضِ مُوَسِّعٍ وَدَعَةٍ وَمَهَلٍ إِلى حِينِ الاَجَلِ وَخَيْرِ مَصِيرٍ وَمَحَلٍّ فِي النَّعِيمِ الاَزَلِ وَالعَيْشِ المُقْتَبَلِ وَدَوامِ الاُكُلِ وَشُرْبِ الرَّحِيقِ وَالسَّلْسَلِ  وَعَلٍّ وَنَهلٍ لاسَأَمَ مِنْهُ وَلا مَلَلَ وَرَحْمَةُ الله وَبَرَكاتُهُ ، وَتَحِيَّاتُهُ عَلَيْكُمْ حَتَّى العَوْدِ إِلى حَضْرَتِكُمْ وَالفَوْزِ فِي كَرَّتِكُمْ وَالحَشْرِ فِي زُمْرَتِكُمْ وَرَحْمَةُ الله وَبَرَكاتُهُ عَلَيْكُمْ وَصَلَواتُهُ وَتَحِيَّاتُهُ وَهُوَ حَسْبُنا وَنِعْمَ الوَكِيلُ

(مصباح المتهجّد : 821 - بحار الأنوار ( الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار ( عليهم السلام ) ) : 95 / 390 ، للعلامة الشيخ محمد باقر المجلسي- ضائل الأشهر الثلاثة: 24، للشيخ أبي جعفر محمد بن علي بن حسين بن بابويه القمي المعروف بالشيخ الصدوق،- ابن طاووس في الاقبال 3 / 211 ، فصل 23.-  المصدر: مفاتيح الجنان للشيخ عباس القمي قدس سره.)

Read 120 times