سلیمانی

سلیمانی

ایران کا دشمن کے خلاف آئندہ جنگ میں ڈرون کا استعمال ایک ایسے سیاسی حیاتِ نو (Life-world) کو ظاہر کرتا ہے جس میں برتری ایران کی ہے۔ "وعدہ صادق 4" میں فوجی حملوں کے دوران ایران کا ڈرونز (اور میزائلوں) کے وسیع پیمانے پر استعمال نے ایران کے لیے بڑی فتح حاصل کی ہے اور دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ اس مختصر مضمون میں میں اس نکتے کو بیان اور تجزیہ کروں گا کہ اس واقعہ کو محض ایک فوجی فتح نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ یہ ایک نیا عالمی نظام تشکیل دیتا ہے جو خطے اور دنیا میں نئی سیاسی اور سماجی مساواتیں لائے گا۔ اس جنگ میں ڈرون محض ایک فوجی ہتھیار نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسے سیاسی حیاتِ نو (Life-world) کو ظاہر کرتا ہے جس میں برتری ایران کی ہے۔
 
جدید دنیا میں ڈرونز کو مختلف مقاصد جیسے امدادی کاموں، تصویر کشی وغیرہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان استعمالات کے ساتھ ساتھ، تاریخ میں انہیں فوجی مقاصد کے لیے بھی تیار کیا گیا ہے۔ روایتی جغرافیائی سیاست (Geopolitics) میں، سرحد کا مطلب زمین پر کنٹرول ہے۔ لیکن ڈرونز نے سرحد کو قابلِ عبور اور پوشیدہ بنا دیا ہے۔ ریاستیں بغیر کسی انسانی فوجی کو دوسرے ملک کی سرزمین میں داخل کیے، آسمان میں یا دور سے جاسوسی، نگرانی یا حملہ کر سکتی ہیں۔ جنگ کی تاریخ کا یہ واقعہ "علاقائی سالمیت" کے کلاسیکی تصور کو کمزور کرتا ہے۔ اسی وجہ سے، آج کی جغرافیائی سیاست زمین کے محور سے آسمان، خلا اور ڈیٹا پر کنٹرول کے محور کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔ ڈرونز نے ممالک کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ کم لاگت پر فوجی مسابقت کی اعلی سطح میں داخل ہو سکیں۔ مثلاً، ایران اور چین نے ڈرون انڈسٹری کی ترقی کے ساتھ بحرانی علاقوں (قفقاز، مشرق وسطیٰ، بحیرہ احمر) میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح، طاقت چند سپر پاورز (جیسے امریکہ اور روس) کے انحصار سے نکل کر عالمی جغرافیائی سیاست کی کثیر قطبی ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ڈرونز "طاقت کا نیا جغرافیہ" تشکیل دے رہے ہیں — جہاں فضائی اور ڈیجیٹل سرحد، زمینی سرحد سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔
 
لیکن ایرانی دفاع میں ڈرونز کی چند اہم خصوصیات اور اثرات ہیں:
 
1.ثقافتی تعمیر: ایران کے دفاع میں ڈرونز کو مکمل طور پر ثقافتی تناظر میں استعمال کیا جاتا ہے اور وہ ایک طرح کی ثقافتی تعمیر میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ ایسی دنیا میں جہاں امریکہ کی سپر پاور اور بدعنوان نظام، مقبوضہ صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر، جدید ترین ہتھیاروں اور اسٹیلتھ بمبار طیاروں کی بے شمار اقسام رکھتے ہیں، ایران اپنے ڈرون کی برتری دکھا کر اس سخت فوجی محاذ آرائی میں اپنی تمام ثقافتی اقدار کو انہی ڈرونز کے ذریعے دنیا والوں کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ آج کوئی بھی ایرانی ڈرونز کی برتری کو محض فوجی برتری نہیں سمجھتا بلکہ اسے اسلامی انصاف اور ظلم کے خلاف نظام کی برتری اور عالمی آزاد لوگوں کی علامت کے طور پر دیکھتا ہے۔ جب ہم خطے کے معلوماتی نیٹ ورکس کو دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ لوگ ان ہتھیاروں میں ایک گہرا ثقافتی پیغام اور انسانی اقدار کا پیکج دیکھتے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کی طاقت کو چیلنج کرتا ہے۔
 
2. ثقافتی حیات نو: اس جنگ میں بغیر پائلٹ کے طیارے (ڈرون) ایک نیا "ثقافتی-سیاسی حیاتِ نو" (Life-world) پیش کرتے ہیں۔ اس حیاتِ نو میں، مظلوم کی ثقافت، ظالم کی ثقافت کے مقابلے میں، براہ راست انسانی عامل کی موجودگی کے بغیر ابھرتی ہے اور اسے پوری طرح چیلنج کرتی ہے اور اس کی نااہلی کو بے نقاب کرتی ہے۔ ایرانی ڈرونز محض جنگی ہتھیار نہیں ہیں، بلکہ وہ اسلامی ایرانی ثقافت کی نوآبادیاتی اور قابض ثقافت پر برتری کی علامت ہیں۔
 
3. نفسیاتی اثرات: خاص ثقافتی پہلو کے علاوہ، ڈرونز ایک خاص نفسیاتی اثر بھی رکھتے ہیں۔ اس قسم کا ہتھیار نہ صرف استعماری نظام اور اس کے حامیوں کے لیے خوف لاتا ہے، بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے لیے دنیا پرستوں اور تاریخ کے بدنام زمانہ مجرموں کے مقابلے میں سکون اور اطمینان کا ایک ہالہ (ہالۂ نور) بھی پیش کرتا ہے۔
 
4. تاریخ میں الٰہی وعدے کی تکمیل کی علامت: اللہ کا صریح وعدہ ہے کہ نصرت ان لوگوں کے لیے ہے جو اس کی مدد کرتے ہیں۔ ایرانی قوم، خواہ ظالم پہلوی دور میں ہو یا انقلاب کے بعد کے دور میں، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بہت زیادہ ظلم سہہ چکی ہے۔
 
ڈرونز کے ذریعے ایران کی برتری اور نئے عالمی نظام کی تشکیل:
1. مغرب کی اجارہ داری کا خاتمہ: بیسویں صدی میں، ہتھیاروں کی اجارہ داری چند مغربی ممالک کے پاس تھی، لیکن ایران نے ڈرون سسٹمز کی داخلی ترقی سے دکھا دیا کہ مغربی ٹیکنالوجی تک رسائی کے بغیر بھی جدید اور درست ہتھیار تیار اور استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ نتیجتاً، یک قطبی عالمی نظام کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔
 
2. ٹیکنالوجی کے مرکز ثقل کی مغرب سے ایران منتقلی: ایرانی ڈرونز نہ صرف قومی دفاع میں، بلکہ بین الاقوامی اتحادوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایران مغربی ایشیا، افریقہ اور یہاں تک کہ لاطینی امریکہ کے ممالک اور افواج کو ڈرون اور اس کی ٹیکنالوجی برآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔
 
3. محدود (ذیلی حد) روک تھام کی نئی تعریف: روایتی دنیا میں، روک تھام کی تعریف میزائلوں اور ایٹم بم سے کی جاتی تھی۔ لیکن ایران نے اپنے ماورائے علاقہ ڈرون نیٹ ورک (جس میں سینسرز، جاسوسی، آپریشنز اور درست حملے شامل ہیں) کے ذریعے روک تھام کی ایک نئی شکل تشکیل دی ہے: ذیلی حد کی روک تھام۔ دوسرے لفظوں میں، ایران بغیر کسی مکمل جنگ میں داخل ہوئے، دشمن کے ہر اقدام کی لاگت بڑھا سکتا ہے۔ یہ نمونہ تیزی سے عالمی نظام میں مثال بن رہا ہے۔
 
4. ٹیکنالوجی بطور سیاسی شناخت: ایران نے ڈرون کو نہ صرف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے، بلکہ خود انحصاری، مقامی علم اور تزویراتی بصیرت کے اظہار کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔ اس نے دکھایا ہے کہ ٹیکنالوجی خود انحصاری، مقامی علم اور تزویراتی دانش کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ اس تحریک کا ایک ثقافتی اور تمدنی پہلو بھی ہے — کیونکہ اس سے جو نیا عالمی نظام ابھرتا ہے، وہ طاقت کے متعدد مراکز اور مغربی ٹیکنالوجی کے استعماری ڈھانچے سے آزادی پر قائم ہے۔
 
5. مزاحمتی جغرافیائی سیاست کی تشکیل: اگر پہلے کا عالمی نظام نیٹو، ڈالر، اور ٹیکنالوجی کی اجارہ داری پر قائم تھا، تو اب ایک نیا نظام تشکیل پا رہا ہے جو ٹیکنالوجیکل اتحادوں، علاقائیت، اور وکندریقرت مزاحمت پر قائم ہے۔ ایرانی ڈرونز اس منتقلی کی کنجی ہیں، کیونکہ انہوں نے ان ممالک اور گروہوں کو، جو پہلے فضائی صلاحیت سے محروم تھے، فعال جغرافیائی سیاسی کھلاڑی بنا دیا ہے۔
 
6. نئے عالمی نظام کے لیے نتیجہ: ماضی میں، بین الاقوامی طاقت کی تعریف بڑی فوجوں، اسٹریٹجک بمبار طیاروں، اور مہنگے ہتھیاروں سے کی جاتی تھی۔ یہ نمونہ خاص طور پر ان ممالک کے لیے تھا جن کے پاس وسیع صنعتی اور مالی صلاحیت تھی؛ طاقت دنیا میں انتہائی مرتکز تھی اور ٹیکنالوجی کا کنٹرول چند سپر پاورز کے پاس رہتا تھا۔ لیکن ایرانی ڈرونز کے ظہور کے ساتھ — سستے، ذہین، اور مقامی — عالمی طاقت کی مساوات اندر سے ٹوٹ گئی۔
 
ایران نے دکھایا ہے کہ محدود وسائل لیکن تکنیکی اور تزویراتی ذہنیت کے ساتھ، روک تھام کی اس سطح تک پہنچا جا سکتا ہے جو پہلے صرف بڑی طاقتوں کے لیے ممکن تھی۔ یہی حقیقت پرانے نظام کو چیلنج کرتی ہے اور نئے نظام کی طرف منتقلی کو جاری رکھتی ہے؛ ایک ایسا نظام جس میں فائدہ صرف بھاری ہتھیاروں سے نہیں آتا، بلکہ چستی، ذہانت، اور تکنیکی نیٹ ورکنگ سے حاصل ہوتا ہے۔ اس نئے نظام میں، آسمان کا کنٹرول اب مغرب کی اجارہ داری نہیں رہا اور نئے کھلاڑی مسابقت اور تعاون کے نئے اصول تشکیل دے رہے ہیں۔
 
زیادہ دقیق الفاظ میں، ایرانی ڈرون کی فتح عالمی پیراڈائم میں تبدیلی کا آغاز ہے: طاقت نے تمرکز سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے اور کثیر مرکزی شکل میں تقسیم ہو رہی ہے۔ مستقبل کی دنیا وہ ہے جس میں قومی اقتدار علم، جدت، اور ذہین ٹیکنالوجیز کی ساخت بندی کی صلاحیت سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے ایران کی ڈرون کے میدان میں کامیابی نہ صرف ایک ہتھیاروں کا کارنامہ ہے، بلکہ طاقت کے ہندسے (Geometry of Power) میں تاریخی تبدیلی اور عالمی نظام میں برتری کے معنیٰ کی نئی تعریف کی علامت ہے۔
تجزیہ: حجت الاسلام والمسلمین علی رضا قائمی نیا


ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت میں سب سے نمایاں مقام رکھنے والے علی لاریجانی کو بے خوف نڈر اور بہادر رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شہید آیت اللہ سید عیلی خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکا کو للکارنے والے علی لاریجانی کو اسرائیل نے ہٹ لسٹ میں سرفہرست رکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود غیور و دلیر رہنما عوامی مقامات پر بھی اکثر نظر آتے تھے۔ شہید ڈاکٹر علی لاریجانی اسرائیلی و امریکی قتل کی دھمکیوں کے باوجود شہادت سے چند ہی روز قبل یوم القدس کی ریلی میں ہزاروں شرکاء کے ہمراہ ہاتھ ملاتے اور سیلفیاں لیتے نظر آئے۔ وہ مطمئن، پُرعزم اور بے خوف تھے۔ علی لاریجانی سیاست کے میدان کے بھی شہہ سوار تھے۔ طویل عرصے تک پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے اور ساتھ ہی ایران کے جوہری مذاکرات اور قومی سلامتی کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہادت پر علی لاریجانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے دشمنوں کو اس عمل پر پچھتانے پر مجبور کردیں گے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ان پر حملہ ایک دن پہلے ہونا تھا لیکن آخری لمحے میں اسے مؤخر کر دیا گیا۔ بعد ازاں ان کے ایک خفیہ ٹھکانے پر حملہ کیا گیا جہاں وہ اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھے۔ اور اس حملہ میں وہ جام شہادت نوش کرگئے۔ شہید کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ 1958ء میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ بعد میں وہ ایران منتقل ہوئے اور تہران میں تعلیم حاصل کی۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد انہوں نے ریاستی اداروں میں تیزی سے ترقی کی اور مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔ اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران ڈاکٹر علی لاریجانی کئی اہم عہدوں پر رہے، وزیر ثقافت بنے، سرکاری نشریاتی ادارے کی سربراہی کی، ایک دہائی تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور ایران کے چیف نیوکلیئر مذاکرات کار کی کلیدی ذمہ داری بھی نبھائی۔

بطور چیف نیوکلیئر مذاکرات کار 2005ء سے 2007ء کے دوران انھوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ 2015ء کے جوہری معاہدے کی حمایت بھی کی جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔ 2025ء میں انھیں دوبارہ ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل یعنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ اس عہدے کے بعد وہ جنگ کے دوران تہران کی قیادت میں مرکزی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ امریکا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اعلیٰ شخصیات کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر تک انعام کا اعلان بھی کیا تھا، جس میں علی لاریجانی کا نام بھی شامل تھا۔ علی لاریجانی کا خاندان بھی ایران کی سیاست میں خاص اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی بھی اسلامی جمہوریہ کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

صادق لاریجانی اس وقت مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہیں، جو ایران کا ایک اہم ادارہ ہے اور پارلیمنٹ اور آئینی نگران ادارے گارڈین کونسل کے درمیان اختلافات کی صورت میں آخری فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کو ایران کے ان رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے جو ریاستی اداروں، پارلیمنٹ اور سکیورٹی ڈھانچے کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں ایران کی پالیسی سازی کے اہم چہروں میں شامل کیا جاتا ہے۔ شہید کے بارے میں بتایا گیا ہے رہبر معظم کی شہادت کے بعد سے ڈاکٹر علی لاریجانی ان مخصوص رہنماوں میں شامل تھے جو اس جنگ کی قیادت کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، ایسے صورتحال میں دشمن شہید علی لاریجانی کے بھرپور تعقب میں تھا۔ علی لاریجانی کا شمار شہید رہبر معظم کے انتہائی قریبی اور باعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔

رپورٹ: سید عدیل عباس

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں فلسطینی خواتین اور لڑکیاں جنگ، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور انسانی امداد کی شدید قلت کے باعث بیک وقت کئی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال ان کی زندگی اور صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

جنوبی غزہ کے علاقے المواصی میں ایک خستہ حال خیمے کے اندر 22 سالہ ہند اپنے نومولود بچے کو شدید سردی سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کا بچہ شدید پھیپھڑوں کے انفیکشن کے ساتھ پیدا ہوا اور اب بھی غزہ کے چند فعال اسپتالوں میں سے ایک کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیرِ علاج ہے۔

ہند کا کہنا ہے کہ زچگی کے وقت اس کا وزن صرف تقریباً ۴۳ کلوگرام تھا کیونکہ حمل کے دوران اسے شدید غذائی قلت کا سامنا رہا۔ وہ اپنے دوسرے بچے کے بارے میں بھی بتاتی ہے جو ابھی دو سال کا بھی نہیں ہوا اور ایک سرد اور نم خیمے میں رہنے کے باعث بیمار رہتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ہند کی کہانی غزہ میں ہزاروں خواتین کی حالت کی صرف ایک مثال ہے۔ جنگ اور انسانی بحران کے کئی پہلوؤں نے فلسطینی خواتین کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر ٹوٹنے کے قریب پہنچا دیا ہے۔

 ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے پندرہویں دن ایرانی مسلح افواج نے کہا ہے کہ اس کے میزائلوں کی ہدف پر لگنے کی صلاحیت میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دو گنا اضافہ ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے آپریشن “وعدہ صادق 4” کے تسلسل میں اسرائیل کے نواتیم فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔

سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر سردار سید مجید موسوی نے میدانِ جنگ سے جاری ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں ایرانی میزائلوں کی ہدف تک پہنچنے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ایرانی میزائل اب پہلے سے کہیں زیادہ درستگی کے ساتھ دشمن کے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

امریکہ کو آخری انتباہ

دراین اثناء خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کی تیل، توانائی یا اقتصادی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود ان تمام تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا جن میں امریکی کمپنیوں کا حصہ ہے اور تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے، ایرانی بحریہ

ایرانی بحریہ کے مطابق خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کشتیوں کی آمد و رفت پر مکمل نگرانی کی جا رہی ہے۔ امریکی جنگی جہازوں کی ساحلی علاقوں سے دوری اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایران کے ممکنہ ردعمل سے محتاط ہیں۔


دنیا بھر میں رمضان المبارک کا آخری جمعہ قبلہ اول بیت المقدس یعنی القدس شریف کے نام سے منسوب ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس دن کو یوم القدس مناتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جانے والا یوم القدس صرف ایک علامتی دن نہیں ہے بلکہ ایک عالمی بیداری، مزاحمت اور مظلوموں سے یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔ اس دن کا آغاز ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی ؒ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔ امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس ایک دن کو فلسطین کی آزادی اور قدس کی بازیابی کے لئے متحد ہو کر ہم آواز ہو جائیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ فلسطین کی آزادی خواہ دنیا بھر میں متحد ہیں۔ امام خمینی ؒ کی اس اپیل پر آج بھی دنیا بھر میں بالخصوص فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بھی رمضان کے آخری جمعہ یوم القدس منایا جاتا ہے۔ یہ دن مسلمانوں کے لئے اتحاد کی علامت بن چکا ہے اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کے لئے ایک مرکز ی دن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان اور آزادی پسند افراد فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھیں اور مقبوضہ فلسطین و القدس کی آزادی کے لئے اپنی آواز بلند کریں۔

امام خمینی نے اپنے فرامین میں لوگوں کو تاکید کی کہ یوم القدس ایک عام دن نہیں بلکہ یوم اللہ اور یوم رسول اللہ ہے۔ انہوں نے اس دن کو ظالم طاقتوں کی نابودی کا دن قرار دیا۔ انہوں نے یوم القدس کو فلسطین کی آزادی کا دن قرار دیااور کہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب میں ایک خنجر کی مانند ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یوم القدس دنیا کے مختلف ممالک میں جلسوں، ریلیوں اور کانفرنسوں کی صورت میں منایا جاتا رہا ہے، تاہم 7 اکتوبر 2023ء کے بعد اس دن کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس تاریخ کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف شروع ہونے والی بڑی دفاعی کاروائی جسے طوفان الاقصیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے پورے خطے کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔ اس کے بعد غزہ میں جاری جنگ نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر فلسطین کے مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا۔ 7 اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی صورتحال نے یہ واضح کر دیا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔ غزہ میں جاری جنگ، ہزاروں شہریوں کی شہادت اور انسانی بحران نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم القدس اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کیونکہ یہ دن صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ظلم کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

حالیہ رمضان المبارک میں آنے والا یوم القدس جو کہ 23 رمضان المبارک کو دنیا بھر میں منایا جائے گا۔ ایسے حالات میں آئے گا کہ جب دنیا کی شیطانی قوتیں امریکہ و اسرائیل اور مغربی دنیا نے فلسطین اور لبنان میں نسل کشی کے بعد اب ایران کا رخ کر رکھا ہے۔ ایران خطے میں گریٹر اسرائیل کے راستے کا ایک مضبوط پتھر اور رکاوٹ ہے جسے امریکہ و اسرائیل اور ان کے حواری گرانا چاہتے ہیں۔ اگر آج ایران کو شکست ہوئی تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلسطین پر اسرائیل کا مکمل قبضہ آسان ہو جائے گا اور ساتھ ساتھ خطے میں دیگر ممالک میں بھی گریٹر اسرائیل کی سرحدیں کھینچ دی جائیں گی۔ یوم القدس کا اصل پیغام مزاحمت، استقامت اور عوامی بیداری ہے۔ فلسطینی عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جس صبر اور حوصلے کے ساتھ اپنی سرزمین کے دفاع کی جدوجہد جاری رکھی ہے، وہ دنیا کے مظلوم عوام کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے کے عوام سمیت لبنان کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ آج غزہ وفلسطین سمیت لبنان اور یمن کے عوام نے القدس کی آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ حال ہی میں ان قربانیوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے رفقاء اور اہل و عیال بھی بھی اس راستے میں جام شہادت نوش کر لیا ہے۔

یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عوامی شعور اور عالمی رائے عامہ میں بھی طے ہوتی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطین کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ یورپ، امریکہ، ایشیا اور افریقہ کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ عالمی بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ یوم القدس کا پیغام سرحدوں سے بالاتر ہو چکا ہے۔ عوام کا کردار اس جدوجہد میں انتہائی اہم ہے۔ حکومتوں کی پالیسیوں کے باوجود عوامی دباؤ اکثر بین الاقوامی سیاست کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسی لئے یوم القدس کو منانے کا مقصد صرف احتجاج نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا، نئی نسل کو مسئلہ فلسطین سے آگاہ کرنا اور عالمی ضمیر کو بیدار رکھنا بھی ہے۔

جب دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تو یہ پیغام واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ حق کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔یہ بات ہمارے تمام شہداء نے تکرار کی ہے کہ حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ آج یوم القدس حق کی آواز ہے جو گونج رہی ہے اور دنیا کے با ضمیر انسانوں کو بیدار کرنے کا کام کر رہی ہے۔ اگرچہ آج ہمارے درمیان امام خمینی اور امام خامنہ ای کی شخصیات موجود نہیں ہیں لیکن ان کے افکار موجو دہیں۔ ان کا راستہ ہمارے لئے واضح ہے۔ اگرا ٓج اس راستے میں اسماعیل ہانیہ، یحیٰ سنوار، محمد ضیف اور حسن نصر اللہ سمیت ہاشم صفی الدین اور دیگر اہم رہنماؤں نےاپنی جان قربان کر دی ہے لیکن پھر بھی راستہ وہی ہے اور ہدف بھی واضح اور دقیق ہے کہ اس خون کی برکت سے اسرائیل کی نابودی۔ یوم القدس حقیقت میں شہدائے اسلام کے خون کا تسلسل ہے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں یوم القدس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ آج یوم القدس صرف ایک مذہبی یا سیاسی دن نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی بیداری کا دن بن چکا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر جاری ظلم کے خلاف خاموش رہنا دراصل ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آج جب دنیا ایک نئے سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، ایسے میں یوم القدس کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے: ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلوموں کے ساتھ یکجہتی اور انصاف کے لئے اجتماعی جدوجہد جاری رکھی جائے یہی یوم القدس اور امام خمینی کا عالمگیر پیغام ہے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے ممالک میں یوم القدس کی تقریبات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ پاکستان میں یہ دن تمام شہروں میں بھرپور مذہبی عقیدت اور جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے غیور عوام فلسطین اور مزاحمت کے ساتھ ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

"بے شک تمہاری یہ اُمت ایک ہی اُمت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری ہی عبادت کرو۔"یہ سورہ انبیاء کی اس آیت کا ترجمہ ہے جو شہید آیت اللہ العظمٰی رہبر معظم سید علی خامنہ ای اپنے اکثر خطابات میں بیان فرماتے تھے۔ ہم ہمیشہ یہی سمجھتے رہے کہ اس عظیم شہید نے ساری زندگی  مسلمانوں کی وحدت کے لئے کوششوں میں صرف کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی میں مسلمانوں میں وحدت پیدا کرنے کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ بے مثال اور ناقابل فراموش ہیں۔ لیکن ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ ان کی شہادت نے بکھری ہوئی امتِ مسلمہ کو ایک تسبیح کے دانوں کی طرح  ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔ ان کی شہادت کے بعد  وحدت کا ایک عملی مظاہرہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہر کوئی اس شہید کے گُن گاتا نظر آ رہا ہے۔
 
خامنہ ایؒ کون تھے دشمن ان سے اتنا خائف کیوں تھا؟ کیوں کہ وہ دشمنوں کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیتے تھے اور ان کے ہر اس عمل میں رکاوٹ ڈال دیتے تھے جس کے تحت دشمن مسلمانوں کو کمزور کرکے آپس میں لڑوا کر فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ شروع میں تو دشمن اس میں کافی کامیاب بھی رہا لیکن رہبر کی قیادت نے بہت جلد تمام مسلمانوں کے سامنے ان سازشوں کو آشکار کیا اور دشمن کے خوابوں کو چکنا چُور کر دیا۔ جب دشمن کی سازشوں کا شکار  ہو کر عالم اسلام کے مختلف فرقے اور مسالک دست و گریبان تھے تو 2010 میں خامنہ ای صاحب نے عالم اسلام کے لئے  ایک ایسا تاریخی فتوٰی دیا جس نے مسلمانوں کے درمیان کشیدگی اور کدورتوں کو ختم کرکے انھیں امت واحدہ بنا دیا۔

یہ تاریخی فتویٰ اہلسنت کے مقدسات کے بارے میں تھا۔ انھوں نے فتوٰی دیا کہ اہلسنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے۔ یہ ایک ایسا تاریخی فتویٰ تھا کہ جس کا عالم اسلام میں زبردست انداز میں خیر مقدم کیا گیا۔ اس فتوے کے عملی اور عالمی اثرات کا میں خود شاہد ہوں کیونکہ اس سلسلے میں خانہ فرہنگ ایران لاہور نے ایک کتاب چھاپی جسے ایڈٹ کرنے کا اعزاز مجھے حاصل ہے۔ بعد میں اس کتاب کو دوبارہ اسلامی ثقافتی قونصلیٹ اسلام آباد نے شائع کیا۔ اس سے مسلمانوں کے درمیان کدورتیں ختم ہوگئیں۔ اور وہ ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے۔ اور انھیں آپس میں لڑانے کی اس سازش کو بھی سمجھ گئے۔ غرض یہ فتویٰ ان کی زندگی کا وہ اہم ترین موڑ ہے، جس نے فرقہ واریت کی آگ بجھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 

رہبر معظم نے مسلمانوں کو دشمن کے ایک بہت ہی باریک نکتے اور وار  سے خبردار کیا۔ وہ فرماتے تھے کہ وہ شیعہ جو لندن سے بیٹھ کر اشتعال انگیزی کرتا ہے اور وہ سنی جو امریکہ کی شہ پر نفرت پھیلاتا ہے، دونوں اسلام کے دشمن اور استعمار کے ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے "خالص محمدی اسلام" بمقابلہ "امریکی اسلام" کی اصطلاح متعارف کرائی۔ انہوں نے ایک بہت بڑا اور آسان  کلیہ دیا کہ "ہر وہ آواز جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرے، وہ چاہے کسی بھی گلے سے نکلے، وہ شیطان کی آواز ہے۔ ان کا یہ نظریہ امت کو فرقہ وارانہ تعصب سے نکال کر 'بصیرت' کی اس بلندی پر لے گیا جہاں دشمن کی ہر چال بے نقاب ہو گئی۔"

مجمع تقریب مذاہب اسلامی ادارے کا قیام بھی ان کے وحدت اسلامی کی کوششوں کا عملی اقدام ہے۔ "مجمع تقریب مذاہب اسلامی محض ایک ادارہ نہیں، بلکہ شہید سید علی خامنہ ای کے اس عالمی وژن کا عملی مظہر ہے جس کا مقصد امتِ مسلمہ کو مسلکی جنگوں سے نکال کر ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے۔ رہبر بننے کے بعد وحدت اسلامی کی ان کا یہ پہلا اقدام تھا، جب ۱۹۹۰ء میں انہوں نے اس عالمی ادارے کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد علماء کو قریب لانا اور اسلامی فقہ کے درمیان مشترکات کو تلاش کرنا ہے۔ ہر سال "ہفتہ وحدت" کے موقع پر تہران میں ایک عظیم الشان "بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس" منعقد کی جاتی ہے۔ جس میں دنیا بھر سے سینکڑوں مفتیانِ کرام، سکالرز اور دانشور شرکت کرتے ہیں۔ یہ کانفرنس اس بات کا ثبوت بنتی ہے کہ خلافت ہو یا امامت، تمام مسلمان "کلمہ توحید" پر ایک ہیں۔ رہبر کے نزدیک مسئلہ فلسطین بھی وحدت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔

انہوں نے مسلمانوں کو دعوت دی کہ مسلکی تفریق سے بالاتر ہو کر حماس اور جہاد اسلامی کی حمایت کی جائے۔ ان کا یہ موقف ثابت کرتا ہے کہ ایران کی حمایت کا معیار "مسلک" نہیں بلکہ "مظلومیت اور اسلام" ہے۔ مسئلہ فلسطین شہید سید علی خامنہ ای کی نگاہ میں"اسلامی غیرت" اور "عملی وحدت" کا سب سے بڑا امتحان تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جب بات اسلام کے قبلہ اول کی ہو، تو شیعہ اور سنی کا فرق مٹ جاتا ہے۔ رمضان المبارک کا آخری جمعہ یوم القدس، وحدت کا عالمی دن مسلمانوں کے "نفسیاتی وحدت" کی وہ لہر ہے، جس کی آبیاری شہید خامنہ ای نے زندگی بھر حتٰی اپنے خون سے کی ہے۔ اس لئے مسلمانوں پر اس دن کی اہمیت اب کئی گنا اور بڑھ جاتی ہے۔

میری اپنی نظر میں رہبر کی تمام زندگی وحدت کا عملی نمونہ بنی رہی لیکن ان کی شہادت نے اس کو ایک نیا اور بھرپور موڑ دے دیا ہے۔ ان کی شہادت پر تمام عالم اسلام کا نہ صرف غم و غصے کا دیکھنے میں آیا بلکہ حقیقی طور پر عملی وحدت کا مظاہر ہ  بھی نظر آیا۔ موجودہ دور میں جس طرح اسلام کے اس واحد شیر نے دشمن کو للکارا بھی اور لتاڑا بھی اس کی مثال نہیں ملتی اور بے اختیار بلا تفریق و مسلک  تمام مسلمان رہبر کے معترف ہو گئے ہیں۔ شہادت کے واقعے نے مسلمانوں کو یہ تلخ حقیقت ایک بار پھر یاد دلائی کہ صیہونی اور استعماری طاقتیں کسی خاص مسلک کی دوست یا دشمن نہیں، بلکہ ہر اس آواز کی دشمن ہیں جو "لا الہ الا اللہ" کی بنیاد پر بلند ہوتی ہے۔

سید علی خامنہ ای نے اپنی  شہادت سے اس کلمے کی آبیاری کی ہے کہ ان کے بعد، ان کے صاحبزادے سید مجتبیٰ خامنہ ای کا بطور نئے رہبرِ انتخاب بلاشبہ ایک تاریخی اقدام ہے۔ منصب سنبھالنے کے بعد ان کے ابتدائی بیانات اور پیغامات میں اسی "وحدت" پر زور دیا گیا ہے جو ان کے والد کا خاصہ تھا۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں فلسطین اور اتحادِ اسلامی کی اہمیت پہلے کی طرح برقرار رہے گی۔ اس دور کے تیسرے خمینی تقریبی نظریات کو ہی آگے بڑھائیں گے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان شااللہ دشمن کبھی سکون کی نیند نہیں سو سکے گا۔

تحریر: حاجی شبیر احمد شگری

امریکہ اور صیہونی حکومت کے ہاتھوں رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت کی خبر سن کر اپنے قائد کے لیے سوگوار ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ تہران میں عزاداروں کا سب سے بڑا اجتماع انقلاب اسکوائر پر دیکھا گیا جہاں دسیوں ہزار شہریوں نے اکٹھا ہوکر رہبر انقلاب اسلامی کے لیے عزاداری کی اور ان کی راہ پر گامزن رہتے ہوئے دنیا کے مظلوموں کی حمایت اور ظالم طاقتوں کے مقابلے کا عہد کیا۔ تہران کے اجتماع کی تصویر پیش خدمت ہے۔

 
1 مارچ، 2026، 9:32 AM
 
 
 

 روسی ویب سائٹ رشیا ٹوڈے نے ایک رپورٹ میں ایران کے اُن طاقت کے عوامل یا ’’ٹرمپ کارڈز‘‘ کا جائزہ لیا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کی جانے والی جنگ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ رپورٹ میں روسی اکیڈمی آف ملٹری سائنسز کے ماہر ولادیمیر پروخوواتیلوف کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جو جنگ چھیڑی ہے وہ آسان یا برق رفتار فوجی کارروائی ثابت نہیں ہوگی۔

روسی عسکری اور اسٹریٹیجک ماہر کے مطابق اس تصادم میں کئی ایسے عوامل موجود ہیں جو اسے امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور مہنگی مہم جوئی بناسکتے ہیں۔ پروخوواتیلوف کا کہنا ہے کہ ایران کی حکومت کا خاتمہ یا اس کے اسٹریٹیجک اہداف کے مکمل حصول کا امکان بہت کم ہے اور تہران کسی شکست یا داخلی انہدام سے بہت دور ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی قومی انٹیلی جنس کی جائزہ رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس مشرق وسطی کا سب سے بڑا بیلسٹک میزائل ذخیرہ موجود ہے، جن میں سے بعض میزائلوں کی رینج دو ہزار کلومیٹر تک پہنچتی ہے۔

اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے اس وسیع ہتھیاروں کے ذخیرے میں کئی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل شامل ہیں۔ ان میزائلوں میں سجیل (2000کلومیٹر)، عماد (۱۷۰۰ کلومیٹر)، قدر (۲۰۰۰ کلومیٹر)، شهاب ۳ (۱۳۰۰ کلومیٹر)، خرمشهر (۲۰۰۰ کلومیٹر) اور ہویزه (۱۳۵۰ کلومیٹر) شامل ہیں۔

پروخوواتیلوف نے ایران کے ایک اہم دفاعی عنصر کے طور پر ہائپرسونک میزائل ’’خرمشهر-۴‘‘ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ میزائل غیر معمولی رفتار کے ساتھ تقریباً ۲۰۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ صرف ۱۲ منٹ میں طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام ’’آئرن ڈوم‘‘ کے لیے اس کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

روسی ماہر کا کہنا ہے کہ بعض بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے اس دعوے پر بھی شکوک ظاہر کیے ہیں کہ ایران کے میزائل پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر طویل مدت تک بمباری جاری رکھنا بھی آسان نہیں ہوگا، کیونکہ انہیں فضائی دفاعی میزائلوں اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے پاس اہم دفاعی میزائلوں کے محدود ذخائر موجود ہیں اور یہی عنصر کسی بھی ممکنہ حملے کے حجم اور مدت کا تعین کر سکتا ہے۔ اس تشویش کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ گذشتہ سال ۱۲ روزہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے اپنے فضائی دفاعی میزائلوں کا غیر معمولی استعمال کیا۔

پروخوواتیلوف کے مطابق اس ۱۲ روزہ جنگ میں امریکہ نے اسرائیل کے دفاع کے لیے تھاد (THAAD) نظام کے تقریباً ۱۵۰ میزائل استعمال کیے۔ اس بڑے پیمانے پر استعمال کے باعث اس نظام کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی، حالانکہ اس نظام کے لیے ۲۰۱۰ کے بعد سے مجموعی طور پر ۶۵۰ سے بھی کم میزائل فراہم کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چند ہی دنوں میں امریکہ نے اپنے مہنگے میزائل ذخیرے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ استعمال کر لیا۔

فنانشل ٹائمز نے ایک اور مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی گائیڈڈ میزائلوں سے لیس جنگی بحری جہازوں کو دوبارہ اسلحہ بھرنے کے لیے بندرگاہوں پر واپس جانا پڑتا ہے کیونکہ تکنیکی اور لاجسٹک وجوہات کی بنا پر سمندر میں انہیں دوبارہ لوڈ کرنا ممکن نہیں۔ اس صورتحال کے باعث امریکی بحریہ کی مسلسل اور بلا تعطل فوجی کارروائی کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔

روسی ماہر نے مزید کہا کہ جنگی طیارے اگرچہ مضبوط فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتے ہیں اور عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرسکتے ہیں، لیکن وہ کسی ملک کی داخلی سیاست کو تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

انہوں نے اسٹیمسن سینٹر کی ممتاز تجزیہ کار کیلی گریکو کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ ایک صدی کے تجربات اور مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بمباری لازمی طور پر عوامی بغاوت کو جنم نہیں دیتی، بلکہ اکثر ایسے حالات میں بیرونی حملے کے خلاف عوام حکومت کے ساتھ زیادہ متحد ہوجاتے ہیں۔

آخر میں پروخوواتیلوف نے پیش گوئی کی کہ اگر امریکہ اس طرح کی عسکری مہم جوئی میں ناکام ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کو داخلی سیاست میں شدید انتخابی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے اور وہ خود کو ایک امن پسند رہنما کے طور پر پیش کرنے میں بھی ناکام رہیں گے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام جاری۔ پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

مَا نَنسَخْ مِنْ ءَآیَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِها.

اَلسَّلامُ‌عَلَیکَ یا داعِیَ‌اللهِ وَ رَبّانِیَّ آیاتِهِ، اَلسَّلامُ‌عَلَیکَ یا بابَ‌اللهِ وَ دَیّانَ دینِهِ، اَلسَّلامُ‌عَلیکَ یا خَلیفَةَ‌اللهِ و ناصِرَ حَقِّهِ، اَلسَّلامُ‌عَلیکَ یا حُجَّةَ‌اللهِ وَ دَلیلَ اِرادَتِه؛ اَلسَّلامُ‌عَلیکَ اَیُّهَا المُقَدَّمُ المَأمُول؛ اَلسَّلامُ‌عَلیکَ بِجَوامِعِ السَّلام؛ اَلسّلامُ‌عَلیکَ یا مَولایَ صاحِبَ الزَّمان.

آغاز گفتگو میں، سب سے پہلے اپنے آقا و سرور (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ) کی خدمت میں، عظیم رہبرِ انقلاب، خامنہ ای عزیز و حکیم کی دلخراش شہادت پر تعزیت پیش کرتا ہوں اور آپ سے پوری ایرانی قوم، بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں، اسلام اور انقلاب کے تمام خدمت گزاروں، ایثار کرنے والوں، شہداء کی جدوجہد میں شریک ہونے والوں خصوصا حالیہ جنگ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین اور خود اپنی حقیر ذات کے لیے دعائے خیر کا طلبگار ہوں۔

دوسری بات میری ملتِ عظیم ایران سے ہے۔ سب سے پہلے لازمی سمجھتا ہوں کہ محترم مجلسِ خبرگان کی رائے کے بارے میں اپنی رائے اور موقف مختصر طور پر بیان کروں۔  

آپ کا یہ خادم، سید مجتبی حسینی خامنہ ای آپ سب کے ساتھ اور اسلامی جمہوری کے ٹیلی وژن کے ذریعے مجلسِ خبرگان کے فیصلے سے مطلع ہوا۔  

میرے لیے اس منصب پر بیٹھنا، جہاں دو عظیم پیشوا یعنی امام خمینی کبیر اور شہید خامنہ ای تشریف فرما ہوچکے ہیں، بہت دشوار کام ہے۔  

کیونکہ یہ کرسی اس شخصیت کی نشست گاہ رہی ہے، کہ جس نے 60 سال سے زائد خدا کی راہ میں جدوجہد کی، ہر طرح کی لذت اور آرام کو چھوڑا اور نہ صرف اپنے دور بلکہ اس ملک کی تاریخ کے حکمرانوں میں ایک منفرد و تابناک ہستی کے طور پر ابھرے۔ ان کی زندگی بھی اور ان کی شہادت بھی شکوہ اور عزت کے ساتھ وابستہ تھی، جو صرف اللہ تعالی پر توکل اور حق کے سہارے ممکن ہوئی۔

مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ میں ان کی شہادت کے بعد ان کے جسم کی زیارت کروں۔ جو کچھ میں نے دیکھا وہ استقامت کا پہاڑ تھا اور جو سنا، وہ یہ تھا کہ ان کے صحیح ہاتھ کی مٹھی بند تھی۔  

ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر اہل علم کو طویل مدت تک گفتگو کرنی ہوگی۔  

اس موقع پر میں اتنے ہی پر اکتفا کرتا ہوں اور تفصیلات کو موزوں مواقع کے لیے چھوڑتا ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ اس منصب پر بیٹھنا میرے لیے بھاری ہے، اور اس عظیم ہستی کے بعد اس خلاء کو صرف خدا کے سہارے اور آپ عوام کی مدد سے پورا کیا جاسکتا ہے۔

اس کے بعد ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک ایسے نکتے پر زور دوں جس کا میری اصل گفتگو سے براہ راست تعلق ہے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ شہید رہبر اور ان کے عظیم پیشرو کے نمایاں کارناموں میں سے ایک یہ تھا کہ انہوں نے عوام کو ہر میدان میں شریک کیا، مسلسل انہیں بصیرت اور آگاہی دی اور عملی طور پر ان کی قوت پر اعتماد کیا۔ اسی طرح انہوں نے حقیقت میں “عوام” اور “جمہوریت” کے مفہوم کو عملی شکل دی، اور دل کی گہرائی سے اس پر ایمان رکھتے تھے۔

اس حقیقت کا واضح اثر ان چند دنوں میں نظر آیا جب ملک رہبر اور بغیر سپریم لیڈر کے بغیر تھا۔ حالیہ واقعے میں عظیم ایرانی قوم کی بصیرت اور دانائی، ثابت قدمی، شجاعت اور میدان میں بھرپور موجودگی نے دوستوں کو تحسین پر مجبور اور دشمنوں کو حیران کر دیا۔ یہ آپ ہی لوگ تھے جنہوں نے ملک کی رہنمائی کی اور اس کے اقتدار کو یقینی بنایا۔

وہ آیت جسے میں نے اس تحریر کے آغاز میں ذکر کیا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی نشانی ایسی نہیں جس کی مدت ختم ہو جائے یا جو فراموش کر دی جائے، مگر یہ کہ اللہ جلّ و علا اس کے بدلے اس جیسی یا اس سے بہتر نشانی عطا فرما دیتا ہے۔

اس آیتِ مبارکہ کے ذکر کی مناسبت یہ ہرگز نہیں کہ یہ بندہ خود کو شہید رہبر کے برابر سمجھے، چہ جائے کہ خود کو ان سے برتر تصور کرے؛ بلکہ اس آیت کو ذکر کرنے کا مقصد آپ عزیز ملت کے بروقت اور نمایاں کردار کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اگر وہ عظیم نعمت ہم سے سلب ہوگئی، تو اس کے بدلے ایک بار پھر ملت عمار یاسر کی طرح ایران کی میدان میں موجودگی اس نظام کو عطا ہوئی۔

یہ بات جان لیجیے کہ اگر میدان میں آپ کی قوت اور موجودگی ظاہر نہ ہو تو نہ قیادت اور نہ ہی مختلف ادارے، جن کی حقیقی شان عوام کی خدمت ہے، اپنی مطلوبہ کارکردگی دکھاسکیں گے۔

تاکہ یہ حقیقت بہتر طور پر عملی شکل اختیار کرے، سب سے پہلے اللہ تبارک و تعالیٰ کی یاد، ان پر توکل، اور انوارطیبہ معصومین علیہم الصلوٰۃ والسلام سے توسل کو ایسا اکسیرِ اعظم اور کبریت احمر سمجھنا چاہیے جو ہر قسم کی کشادگی اور دشمن پر یقینی فتح کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ ایک عظیم برتری ہے جو آپ کے پاس ہے اور آپ کے دشمن اس سے محروم ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ قوم کے تمام افراد اور طبقات کے درمیان اتحاد کو کسی بھی طرح نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ عام طور پر مشکل حالات میں یہی اتحاد زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ اس اتحاد کو برقرار رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اختلافی باتوں کو نظر انداز کیا جائے۔

تیسری بات یہ ہے کہ میدان میں عوام کی مؤثر موجودگی برقرار رہنی چاہیے؛ چاہے وہ اسی طرح ہو جیسے آپ نے ان جنگی دنوں اور راتوں میں ثابت قدمی دکھائی، یا پھر سماجی، سیاسی، تعلیمی، ثقافتی اور حتیٰ کہ سکیورٹی کے میدانوں میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی صورت میں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر شخص اپنا درست کردار سمجھے اور سماجی اتحاد کو نقصان پہنچائے بغیر اسے عملی طور پر ادا کرے۔

قیادت اور بعض دوسرے ذمہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے مختلف افراد اور طبقات کو ان ذمہ داریوں اور کرداروں کی طرف متوجہ کریں۔ اسی لیے میں یوم القدس کی ریلیوں میں بھرپور شرکت کی اہمیت یاد دلانا چاہتا ہوں، اور اس بات پر زور دیتا ہوں کہ اس میں دشمن کے خلاف مضبوط پیغام سب کے سامنے نمایاں ہونا چاہیے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ ایک دوسرے کی مدد اور تعاون سے غفلت نہ کریں۔ الحمدللہ اکثر ایرانیوں کی ہمیشہ یہی عادت رہی ہے، اور توقع ہے کہ ان خاص دنوں میں جب قدرتی طور پر قوم کے کچھ افراد دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، یہ جذبہ اور بھی زیادہ نمایاں ہو۔

اسی موقع پر میں خدمات انجام دینے والے سرکاری اداروں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ قوم کے ان عزیز افراد اور عوامی امدادی تنظیموں کی ہر ممکن مدد اور تعاون کریں اور اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں۔

اگر ان باتوں کا خیال رکھا جائے تو آپ عزیز ملت کے لیے عظمت اور سربلندی تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ اس کی سب سے قریب مثال، ان شاء اللہ، حالیہ جنگ میں دشمن پر کامیابی ہوسکتی ہے۔

میری بات کے تیسرے حصے میں، میں دل سے اپنے بہادر مجاہدوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ایسے وقت میں جب ہماری قوم اور ہمارا پیارا وطن بڑی طاقتوں کے سرغنوں کی طرف سے ناحق حملوں کا سامنا کر رہا ہے، ہمارے مجاہدین نے مضبوط اور مؤثر جواب دے کر دشمن کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ انہوں نے دشمن کو یہ غلط فہمی بھی ختم کر دی کہ وہ ایران پر قابو پا سکتا ہے یا اسے تقسیم کرسکتا ہے۔

عزیز مجاہد بھائیو! عوام کی صاف اور واضح خواہش یہ ہے کہ دشمن کو روکنے والا اور اسے پشیمان کرنے والا دفاع جاری رکھا جائے۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا دباؤ بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے رہنا چاہیے۔  

کچھ دوسرے محاذوں کے بارے میں بھی غور کیا گیا ہے جہاں دشمن کمزور ہے اور زیادہ نقصان اٹھا سکتا ہے۔ اگر جنگی حالات جاری رہیں اور مصلحت کا تقاضا ہوا تو ان محاذوں کو بھی فعال کیا جائے گا۔

میں محاذ مزاحمت کے تمام مجاہدوں کا بھی دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم مقاومتی محاذ کے ملکوں کو اپنے قریبی اور مخلص دوست سمجھتے ہیں۔ مزاحمت اور مقاومتی محاذ، اسلامی انقلاب کی بنیادی اقدار کا لازمی حصہ ہیں اور ان سے الگ نہیں ہوسکتے۔ یقینا اگر اس محاذ کے تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلیں تو صیہونی فتنہ سے نجات کا راستہ مزید آسان ہوجائے گا۔  

ہم نے دیکھا کہ یمن کے بہادر مؤمنین نے غزہ کے مظلوم عوام کا دفاع ترک نہیں کیا، جانثار حزب اللہ نے تمام مشکلات کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کا ساتھ دیا، اور عراق کی مزاحمتی قوتیں بھی اسی راستے پر دلیری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔

چوتھے حصے میں میری بات ان لوگوں سے ہے جو ان چند دنوں میں کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے ہیں؛ چاہے وہ لوگ ہوں جنہوں نے اپنے کسی عزیز کی شہادت کا دکھ سہا ہو، یا وہ جو زخمی ہوئے ہوں، یا وہ افراد جن کے گھروں یا کاروبار کو نقصان پہنچا ہو۔

سب سے پہلے میں شہداء کے معزز خاندانوں کے ساتھ اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ میں یہ احساس اس لیے بھی سمجھتا ہوں کیونکہ اس درد کا ذاتی تجربہ میرے پاس بھی ہے۔ میرے والد کی شہادت کا غم تو ایک قومی غم بن چکا ہے، لیکن اس کے علاوہ میں نے اپنی عزیز اور وفادار اہلیہ کو بھی کھویا جن سے مجھے بڑی امیدیں تھیں، اپنی فداکار بہن کو کھویا جو اپنی زندگی والدین کی خدمت کے لیے وقف کیے ہوئے تھی اور آخرکار شہادت کا مقام پایا، اسی طرح اس کے چھوٹے بچے کو بھی، اور اپنی دوسری بہن کے شوہر کو بھی جو ایک عالم اور شریف انسان تھے۔ میں نے ان سب کو شہداء کے قافلے کے سپرد کیا ہے۔

لیکن جو چیز انسان کو ان مصیبتوں پر صبر کرنے کے قابل بناتی ہے، بلکہ کبھی کبھی اسے آسان بھی کر دیتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا وہ یقینی وعدہ ہے کہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ اس لیے صبر کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور رحمت پر امید اور بھروسا رکھنا چاہیے۔

دوسری بات یہ ہے کہ میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم آپ کے شہداء کے خون کا بدلہ لینے سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔ یہ بدلہ صرف رہبر معظم انقلاب کی شہادت تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ ہماری قوم کا ہر وہ فرد جو دشمن کے ہاتھوں شہید ہوا ہے، اس کے خون کا بدلہ بھی ہمارے ذمے ہے۔

اب تک اس انتقام کا ایک محدود حصہ عملی طور پر لیا جاچکا ہے، لیکن جب تک مکمل طور پر پورا نہیں ہوجاتا، یہ معاملہ ہمارے سامنے باقی رہے گا۔ خاص طور پر ہمارے بچوں اور معصوموں کے خون کے معاملے میں ہماری حساسیت اور بھی زیادہ ہوگی۔ اسی لیے دشمن نے میناب کے شجرہ طیّبہ اسکول اور اسی طرح کے کچھ دوسرے مقامات پر جو جان بوجھ کر جرائم کیے ہیں، ان کی خصوصی طور پر تحقیق اور حساب لیا جائے گا۔

تیسری بات یہ کہ ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو لازماً مناسب اور مفت طبی سہولیات دی جائیں اور انہیں کچھ دوسری ضروری سہولتیں اور مراعات بھی فراہم کی جائیں۔

چوتھی بات یہ کہ جہاں تک موجودہ حالات اجازت دیں، لوگوں کی ذاتی جائیداد اور املاک کو ہونے والے مالی نقصان کے ازالے کے لیے واضح اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور انہیں عملی طور پر نافذ کیا جائے۔ یہ دونوں امور متعلقہ ذمہ داران کے لیے لازمی ذمہ داری ہیں، جنہیں پورا کرکے اس کی رپورٹ مجھے پیش کی جائے۔

میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم ہر حال میں دشمن سے اس نقصان کا ہرجانہ وصول کریں گے۔ اگر وہ انکار کرے تو جتنا ہم مناسب سمجھیں گے اتنی مالیت اس کی املاک سے لے لیں گے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوا تو اتنی ہی مقدار میں اس کی املاک کو تباہ کر دیں گے۔