سلیمانی
حضرت ابو طالبؑ۔۔۔ دُعا اور دفاع کا حسین امتزاج
تبدیلی کے بغیر انقلاب کا تصوّر ممکن نہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کہیں انقلاب آئے اور تبدیلی نہ آئے۔ تاریخ کے بڑے انقلابات ہمیشہ ہوم ورک یعنی خاموش کمروں، سماجی ذمہ داریوں اور معاشرتی توازن کی باریک تدبیروں میں پروان چڑھے ہیں۔ ساتویں صدی کا مکہ اسی نوع کا ایک انقلابی مرکز تھا۔ اگر اسے اُس عہد کا خطے کا سب سے حساس اور مؤثر مرکز کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ عرب کے تجارتی راستے، قبائلی اتحاد، مذہبی روایات اور معاشی مفادات سب اسی شہر میں ایک دوسرے سے گُندھے ہوئے تھے۔ ساتویں صدی کا شہرِ مکہ محض ریگزاروں میں گھرا ہوا ایک شہر نہ تھا، وہ عرب کے جغرافیے، تجارت، قبائلی سیاست اور مذہبی مرکزیت کا نقطۂ اتصال بھی تھا۔ یہاں قافلوں کی گرد بھی اٹھتی تھی اور بتکدوں کی گونج بھی سنائی دیتی تھی۔ یہ طاقت کی تمام مرئی و غیر مرئی رگوں کا سنگم تھا۔ یہ ایک ایسا مرکز تھا، جہاں سے ہونے والا کوئی ایک اعلان اطراف کے پورے نظام کو ہلا سکتا تھا۔
اسی منطقے میں ختمِ نبوّت کا علان ہوا۔ یہ اعلان کبھی خاموش کمروں میں اور کبھی مستضعف افراد کے صبر کی صورت میں، کبھی حضرت بلالؓ کی احد احد کی صدا بن کر اور کبھی حضرت عمّار یاسر ؓ کی سرگوشی بن کر گونجتا رہا۔ اُس زمانے میں ختمِ نبوت پر ایمان لانا ہماری طرح فقط کلمہ پڑھنا نہیں تھا۔ اُس وقت ختمِ نبوّت پر ایمان لانے کا مطلب دراصل اللہ کے آخری نبیؐ کی حرمت، بقا اور تحفظ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لینا تھا۔ تاریخ میں کہیں اگر ایسے ایمان کی عملی تفسیر تلاش کرنی ہو تو حضرت ابو طالبؑ ؑ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیجئے۔ ان کے ختمِ نبوّت پر ایمان لانے کی کیفیّت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اُس شہر کی فضا کو محسوس کیا جائے کہ جس کے دامن میں حضرت ابو طالبؑ نے نبی ؐ کیلئے دُعا اور دفاع کا حسین امتزاج قائم کیا۔
ایسے شہر میں عامُ الفیل سے پینتیس برس قبل ایک طفل پیدا ہوا، جسے تاریخ نے حضرت ابو طالبؑ کے نام سے محفوظ کیا۔ ان کے والد عبدالمطلبؑ قریش کے رئیس تھے۔ انہی کے وصال کے بعد جب محمدﷺ کی عمر آٹھ برس تھی تو اُن کی کفالت کی ذمہ داری حضرت ابو طالبؑ کے سپرد ہوئی۔ یہ کفالت جہاں ایک خاندانی ذمہ داری وہیں یہ ایک الہیٰ امانت کی حفاظت بھی تھی۔ ایسی امانت جو آنے والے زمانوں کے لیے آخری نبوت کی صورت میں ظاہر ہونے والی تھی۔ جب حضرت محمدﷺ کو نبوت عطا ہوئی تو یہ طاقت کے توازن میں ایک گہری لرزش تھی۔ اس سے مکّے میں ایک نئی دعوت اُبھری۔ توحید کا نعرہ بلند ہوا اور اب اس پیغام کو اپنی تبلیغ و بقا کیلئے محض لوگوں کے ایمان لانے کی نہیں، بلکہ تحفظ کی ضرورت بھی تھی۔ ایسی فضا میں حضرت ابو طالبؑ نے اپنے بھتیجے کو اپنی اولاد سے بڑھ کر چاہا۔ سفر ہو یا حضر، دونوں ساتھ ساتھ رہے۔
بُصریٰ کے سفر میں راہب بحیرا کے سامنے حضرت ابو طالبؑ نے حضورؐ کو اپنا بیٹا کہا۔یہ محبت فقط چچا اور بھتیجے کی محبت نہ تھی۔ پھر وہ لمحہ آیا، جب محمدﷺ کا منصبِ نبوّت اہلِ مکہ کیلئے چیلنج بن گیا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ رہی ہے اور اب ہدایت کی آخری کڑی ظاہر ہوچکی ہے۔ ختمِ نبوت کا تقاضا تھا کہ اس پیغام کو تحفظ ملے اور اس تحفظ کیلئے کوئی ڈھال درکار تھی۔ وہ ڈھال حضرت ابو طالبؑ ؑ بنے۔ انہوں نے طاقت کی مختلف اکائیوں قبائلی وقار، سماجی اثر، مذہبی مقام اور اخلاقی اعتبار کو اس مہارت سے ہم آہنگ رکھا کہ ایک نوزائیدہ تحریک کو سانس لینے کی مہلت مل گئی۔ اُس وقت اگر قریش کی مذکورہ بالا اکائیاں بکھر جاتیں تو پھر دشمن کئی سمتوں سے حملہ آور ہوسکتے تھے۔ حضرت ابو طالبؑ نے ایک طرف پیغمبرﷺ کا دفاع کیا اور دوسری طرف قریش کے داخلی اتحاد کو ٹوٹنے نہ دیا۔ یوں اختلاف کو تصادم میں بدلنے سے روکا۔ یہی وہ حکمتِ عملی تھی، جس نے خطرات کو محدود رکھا اور دشمنی کو چاروں طرف سے حملہ کرنے کی مہلت نہیں دی۔
قریش کی دھمکیاں، لالچ، دباؤ۔۔۔ سب سامنے آئے۔ کبھی کہا گیا کہ دعوت چھوڑ دو، کبھی متبادل پیش کیے گئے، کبھی قتل کی سازشیں ہوئیں۔ یہ سب اپنی جگہ جاری رہا، لیکن حضرت ابو طالبؑ نے قریش کے دباؤ کا قبائلی روایات سے مقابلہ کیا۔ جب مسلمانوں پر معاشی پابندیاں لگائی گئیں تو حضرت ابو طالبؑ نے شعبِ ابیطالب میں داخلی وسائل کو بروئے کار لا کر خود انحصاری کی مثال قائم کی۔ جب بھی شدت پسندی کا اندیشہ پیدا ہوا تو انہوں نے سفارتی نرمی اختیار کر لی۔ حضرت ابو طالبؑ کی مزاحمت و استقامت جامد نہ تھی۔ وہ حالات کے مطابق اپنی سفارت کاری کو جاری رکھتے تھے۔ کبھی رعب سے، کبھی دلیل سے اور کبھی خاموشی سے۔ انہوں نے بنو ہاشم کو نبی ؐ کے گرد ایک دفاعی دیوار کی شکل میں کھڑا کر دیا۔ ایسی دفاعی دیوار جسے گرانے کی قیمت سارے قبائل کو چکانی پڑتی۔
انہوں نے اپنی مدبرانہ سفارت کاری کے ذریعے بنو ہاشم کو جمع کرکے حضورؐ کے لئے ایک مضبوط اور غیر لچکدار دفاعی حصار تشکیل دے دیا۔ اس دوران مکے میں قبائلی توازن کو بھی برقرار رکھا، تاکہ دعوت کا عمل مسلسل جاری رہے۔ وقت آگے بڑھتا رہا اور نت نئے امتحانات سامنے آتے رہے۔ انہوں نے شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں فاقے برداشت کیے، لیکن امتحانات میں کبھی رسولﷺ کی حوصلہ افزائی و سرپرستی سے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ انہوں نے اِن تین سالوں کے دوران داخلی روابط اور عزم و ہمّت سے مسلمانوں کی جماعت کو قائم رکھا۔ انہوں نے اس بحران میں ایک بہترین قائد ہونے کا ثبوت دیا۔ آپ کی مدبرانہ قیادت کی بدولت بغیر کسی رسمی معاہدے یا تحریری دستور کے شعب ابیطالب کا محاصرہ ختم ہوا۔
قریش کی اندرونی تمام تر مشکلات کے باوجود حضرت ابو طالبؑ قریش کے سب سے بڑے سردار تھے۔ ان کی شخصیت ایک اخلاقی اتھارٹی تھی، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے مخالفین اپنی حدود میں رہنے پر مجبور رہے اور قریش کا غیض و غضب ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ان کی قیادت و حکمت کا مرکز ایک ہی تھا کہ رسولِ خداﷺ کا تحفظ ہر قیمت پر ہونا چاہیئے۔ چنانچہ انہوں نے قریش کے قدیم نظام کو یکدم منہدم کرنے کے بجائے اسی نظام کے اندر شمع نبوّت کے روش ہونے کی جگہ بنائی۔ ان کی ایک نمایاں خصوصیت بہترین سفارتکاری تھی۔ وہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتے، لیکن مخالفین کو کسی مشترکہ نتیجے پر نہ پہنچنے دیتے۔ قریش جانتے تھے کہ اگر حضرت ابو طالبؑ کو راستے سے ہٹا دیا جائے تو پیغمبرﷺ تک پہنچنا آسان ہو جائے گا، لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ایسا کرنے سے سارا قبائلی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
مقامِ تعجب ہے کہ قریشِ مکّہ جس شخص کے خون کے پیاسے تھے، اُس کی موجودگی اُن کیلئے ناگزیر بن گئی تھی۔ جب بعثت کے دسویں سال میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور چند ہی دن بعد حضرت خدیجہ بنت خویلدؑ بھی دنیا سے چلی گئیں تو اس سال کو نبی ؐ کی طرف سے "عامُ الحزن" کہا گیا۔ ان کی رحلت نے واضح کر دیا کہ تحریکیں صرف نظریات کے سہارے آگے نہیں بڑھتیں، انہیں پس منظر میں موجود مدبر نگہبانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام اگر اپنی ابتدائی ساعتوں میں محفوظ رہا تو اس کے پیچھے کسی لشکر یا فوج کی محافظت نہ تھی، بلکہ ایک مردِ دانا کی خاموش بصیرت تھی۔ حضرت ابو طالبؑ نے قدیم دنیا کو توڑے بغیر اسی کے اندر ایک نئی دنیا کیلئے جگہ پیدا کی۔ وہ عبوری عہد کے معمار تھے۔ ایسے معمار جنہوں نے اپنے وقار، تدبر اور اخلاقی قوت سے ختمِ نبوّت کے چراغ کو آندھیوں سے بچائے رکھا۔
حضرت ابو طالبؑ نے کوئی سلطنت قائم نہیں کی، کوئی لشکر کشی نہیں کی، کوئی فرمان جاری نہیں کیا۔۔۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے غیر متزلزل ایمان کے ساتھ ایک ایسی دعوت کو زندہ رکھا کہ جس نے انسانی تہذیب و تمدّن کا رخ بدل دیا۔ حضرت ابو طالبؑ ہمیں یہ سبق دے کر گئے کہ دفاع کی سب سے مضبوط دیوار وہ ہوتی ہے، جس پر نام نہیں لکھا جاتا اور سب سے بڑی قربانی وہ ہوتی ہے، جس کا دعویٰ نہیں کیا جاتا۔ کبھی کبھی تاریخ کا سب سے فیصلہ کن کردار وہ ہوتا ہے، جو خود مرکز میں نہیں ہوتا، لیکن وہ مرکز کو گرنے نہیں دیتا۔ حضرت ابو طالبؑ نے ہمیں سکھایا کہ ختمِ نبوّت پر ایمان یہ ہے کہ ہر لمحے دُعا اور دفاع کے ساتھ رسولؐ کی ہمراہی کی جائے۔
تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
امریکہ و اسرائیل کی تاریخی بربریت
دوسری جنگ عظیم کا زمانہ تھا۔ یورپی ممالک نے دنیا کے بڑے حصے کو خون میں نہلا دیا تھا۔ شہر کے شہر کھنڈر بن چکے تھے۔ ساحلوں سے لے کر شہروں کے قلب تک لاشوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ ہر طرف آگ اور خون کا بازار گرم تھا، لیکن اس تباہی کے باوجود انسانیت کے دشمن مطمئن نہ تھے۔ لاکھوں انسان لقمۂ اجل بن چکے تھے، مگر جنگی جنون رکھنے والے افراد پلک جھپکنے میں لاکھوں اور انسانوں کو نیست و نابود کرنا چاہتے تھے۔ اسی مقصد کے تحت امریکہ اور جرمنی دونوں ایٹم بم بنانے کی دوڑ میں شامل ہوچکے تھے۔ دونوں جانب جان لیا گیا تھا کہ جو فریق یہ ہلاکت خیز ہتھیار پہلے بنائے گا اور استعمال کرے گا، وہی اس جنگ کا فاتح ٹھرے گا۔
ہٹلر کی نگاہوں میں جرمنی کے یہودی دشمن تصور کیے جاتے تھے۔ اسی سوچ کے تحت اُس نے ان کے خلاف سخت پالیسیاں اختیار کیں۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں 3 جون 1933ء کو 26 ممتاز جرمن سائنسدانوں میں سے 14 نے ملک چھوڑ دیا۔ ان میں البرٹ آئن اسٹائن بھی شامل تھے، جنہوں نے بعد ازاں امریکہ میں ایٹمی تحقیق کے سلسلے کو آگے بڑھایا اور ایٹم بم کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی ٹیم میں میکس بورن، جیمز فرانک، ماریا گوپرٹ مایر اور دیگر اہم سائنسدان شامل تھے۔ یوں دوسری جنگِ عظیم میں امریکہ کو کامیاب بنانے اور عالمی طاقت بنانے میں ان سائنسدانوں، خصوصاً یہودی سائنسدانوں کا اہم کردار رہا۔ جرمنی سے ہجرت کرنے والے بعض یہودی سائنسدان برطانیہ اور بعض فرانس چلے گئے۔ یہودی سائنسدانوں کی اس خدمات اور اتحاد کا اثر ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے اختتام کے قریب، 16 جولائی 1945ء کو امریکہ نے نیو میکسیکو میں فزکس کے ممتاز سائنسدان رابرٹ اوپن ہائیمر کی سربراہی میں ایٹم بم کا پہلا تجربہ کیا۔ ایٹم بم کی ایجاد کے بعد، 6 اگست 1945ء کو صبح 8 بج کر 15 منٹ پر امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا، جس سے لاکھوں جاپانی شہری لقمہ اجل بنے اور پورا شہر تباہ ہو گیا۔ تین دن بعد، 9 اگست کو ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرایا گیا، جس نے مزید لاکھوں جانیں لیں اور شہر کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ یہ وہی امریکہ ہے جس نے اب تک تیس کے قریب ملکوں پر حملے کیے ہیں۔ لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارا، اور آج خود کو "عالمی امن کا علمبردار" قرار دیتا ہے۔
امریکہ کے بعد اگر دنیا میں کسی ملک نے سب سے زیادہ مظالم ڈھائے ہیں تو وہ اسرائیل ہے۔ غزہ میں بچوں، عورتوں، اسپتالوں، خیمہ بستیوں اور حتیٰ کہ میڈیا سینٹرز تک کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل چھ عرب ممالک کے ساتھ جنگ کر چکا ہے اور اب فلسطین، لبنان، شام اور حال ہی میں ایران میں مختلف تنصیبات پر حملے کر چکا ہے۔ ان حملوں میں جیلوں، تعلیمی اداروں، گھریلو مقامات، حتیٰ کہ ہسپتال اور خیمہ بستیاں بھی محفوظ نہیں رہے۔ اگر دنیا اسرائیل اور امریکہ کی اس جارحیت پر خاموش رہی تو یہ دونوں ممالک دنیا میں کسی ملک کو پُرامن نہیں رہنے دیں گے۔
وقت ہے کہ عالمی برادری جاگے، اس سے پہلے کہ سب کچھ کچلا جائے۔ امریکہ و اسرائیل عالمی قوانین کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرنے والے لاپرواہ ممالک ہیں۔ دونوں ممالک نے خود کئی ایٹم بم بنا رکھے ہیں اور ایٹم بم سمیت انتہائی کیمیائی اور مہلک ہتھیار استعمال کرچکے ہیں۔ دونوں ممالک کو ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام اور حق قبول نہیں ہے۔ آج سے سات سال قبل جوہری ہتھیاروں کے بارے میں یہ رپورٹ عام تھی جس کے مطابق دنیا میں ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک کی تعداد 9 ہے، جن کے پاس مجموعی طور پر ہزاروں ایٹم بم ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق:
امریکہ اور روس کے پاس سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ہیں، جن کی تعداد بالترتیب تقریباً 330 سے زائد ہے۔
چین کے پاس تقریباً 280
برطانیہ کے پاس 225 کے قریب
پاکستان کے پاس 150 کے لگ بھگ
بھارت کے پاس 140 کے قریب
شمالی کوریا کے پاس 30 سے 40
اسرائیل کے پاس بھی تقریباً 40 سے 90 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔
پاکستان، ایران اور دیگر 35 ممالک انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے رکن ہیں، جو عالمی قوانین کے مطابق اپنی جوہری پالیسیز کو پُرامن انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ اسرائیل نہ صرف IAEA کا رکن نہیں ہے، بلکہ اُس پر کوئی عالمی دباؤ بھی نہیں کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیار ظاہر کرے یا پُرامن رویہ اختیار کرے۔ اُسے کھلی چھوٹ ہے کہ چاہے غزہ پر حملہ کرے یا شام و لبنان پر، کوئی اسے روکنے والا نہیں۔ دوسری طرف ایران، جو IAEA کے ساتھ تعاون کر رہا ہے، اُس پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں 12 جون کو امریکہ نے IAEA میں ایک قرار داد پیش کی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو "دنیا کے لیے خطرہ" قرار دیا گیا۔ روس، چین اور برکینا فاسو نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ امریکہ و اسرائیل عالمی دہشت گرد اس وقت ایک اور عالمی بربریت کے قریب ہیں۔
تحریر: محمد بشیر دولتی
الزامات ثبوت کے ساتھ پیش کریں، عراقچی کا ٹرمپ کو دوٹوک جواب
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں بدامنی کے دوران ہلاکتوں سے متعلق دعوے ثبوت کے ساتھ پیش کیے جائیں۔
یہ ردعمل امریکی صدر کی جانب سے ایران میں بدامنی سے متعلق ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر سوال اٹھانے کے بعد سامنے آیا۔
ایرانی حکام نے ان واقعات کو دہشت گرد کارروائیاں قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار پہلے ہی عوام کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ حکومت نے عوام کے سامنے مکمل شفافیت کے وعدے کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تہران پہلے ہی حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے تمام 3,117 متاثرین کی جامع فہرست جاری کر چکا ہے، جس میں تقریباً 200 قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی شامل ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کی اشاعت حکومت کی شفافیت اور جوابدہی کی پالیسی کا مظہر ہے۔
سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اپنے عوام کے ساتھ مکمل شفافیت کے وعدے کی تکمیل کرتے ہوئے ایران کی حکومت حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے تمام 3,117 متاثرین کی جامع فہرست پہلے ہی جاری کر چکی ہے، جن میں تقریباً 200 افسران شامل ہیں۔ اگر کوئی ہمارے اعداد و شمار کی درستگی پر سوال اٹھاتا ہے تو براہ کرم اپنے شواہد پیش کرے۔
حقیقتِ روزہ، ترک یا حصول
عربی زبان میں صوم یا صیام کا معنی امساکِ فعل ہے، یعنی کسی کام کو ترک کرنا، اس سے رک جانا اور اسے انجام نہ دینا۔ گویا صوم کی بنیاد رکنے اور باز رہنے پر ہے۔ قرآن مجید میں حضرت مریمؑ کے حوالے سے ارشاد ہوتا ہے: "فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنسِيًّا" (سورہ مریم: 26) یہاں صوم سے مراد خاموشی ہے، یعنی کلام کو ترک کرنا اور باتوں سے اجتناب کرنا، نہ کہ محض بھوکا رہنا۔ یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ صوم کا اصل معنی رکنا (Abstention) ہے، نہ کہ صرف کھانے پینے سے اجتناب کرنا۔ کھانے، پینے اور خواہشات سے اجتناب بھی دراصل اسی اصل مفہوم کے مختلف مظاہر ہیں۔ اسی بنا پر شرعی روزہ بھی حقیقت میں رکنے اور اجتناب کی ایک عملی مشق ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا روزہ صرف ترک کا نام ہے۔؟
اگرچہ ظاہری طور پر صوم ترک ہے، لیکن حقیقت میں صوم حصول ہے۔ روزہ میں انسان ترک کرتا ہے:
غذا کو
خواہش کو
لذت کو
لیکن اسی ترک کے نتیجے میں وہ حاصل کرتا ہے:
ارادہ کی قوت
تقویٰ کی کیفیت
روحانی بالیدگی
اسی حقیقت کی طرف قرآن مجید نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" (سورہ البقرہ: 183) یعنی روزے کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔
درحقیقت روزہ انسان کو خدا کی صفت الصمد کا جزوی مظہر بناتا ہے اور اسے بے نیازی کی مشق سکھاتا ہے۔ انسان، جو ہمیشہ اپنی خواہشات کا محتاج نظر آتا ہے، روزے کے ذریعے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ خواہشات کا غلام نہیں بلکہ ان پر حاکم بن سکتا ہے۔ پس صوم حقیقت میں بھوک کا نام نہیں بلکہ خواہش سے آزادی کا نام ہے۔ یہ ترک کے پردے میں حصول کا سفر ہے۔۔۔ ایسا سفر جس میں انسان حیوانیت کو ترک کرکے انسانیت تک پہنچتا ہے اور اپنی کمزوری سے نکل کر اپنے ارادہ کی قوت کو پا لیتا ہے۔
تحریر: ساجد علی گوندل
شَهْرُ رَمَضانَ الَّذی أُنْزِلَ فیهِ الْقُرْآنُ
ماہ رمضان کے فضائل و اعمال
شیخ صدوقرحمهالله نے معتبر سند کیساتھ امام علی رضا -سے اور حضرت نے اپنے آبائ طاہرین + کے واسطے سے امیرالمومنین -سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک روز رسول اللہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! تمہاری طرف رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ آرہا ہے۔ جس میںگناہ معاف ہوتے ہیں۔ یہ مہینہ خدا کے ہاں سارے مہینوں سے افضل و بہتر ہے۔ جس کے دن دوسرے مہینوں کے دنوںسے بہتر، جس کی راتیں دوسرے مہینوں کی راتوں سے بہتر اور جس کی گھڑیاں دوسرے مہینوں کی گھڑیوں سے بہتر ہیں۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں حق تعالیٰ نے تمہیں اپنی مہمان نوازی میں بلایا ہے اور اس مہینے میںخدا نے تمہیں بزرگی والے لوگوںمیں قرار دیا ہے کہ اس میں سانس لینا تمہاری تسبیح اور تمہارا سونا عبادت کا درجہ پاتا ہے۔ اس میں تمہارے اعمال قبول کیے جاتے اور دعائیںمنظور کی جاتی ہیں۔
پس تم اچھی نیت اور بری باتوں سے دلوں کے پاک کرنے کے ساتھ اس ماہ میںخدا ئے تعالیٰ سے سوال کرو کہ وہ تم کو اس ماہ کے روزے رکھنے اور اس میں تلاوتِ قرآن کرنے کی توفیق عطا کرے کیونکہ جو شخص اس بڑائی والے مہینے میں خدا کی طرف سے بخشش سے محروم رہ گیا وہ بدبخت اور بدانجام ہوگا اس مہینے کی بھوک پیاس میں قیامت والی بھوک پیاس کا تصور کرو، اپنے فقیروں اور مسکینوںکو صدقہ دو، بوڑھوںکی تعظیم کرو، چھوٹوں پر رحم کرواور رشتہ داروںکے ساتھ نرمی و مہربانی کرو اپنی زبانوں کو ان باتوں سے بچاؤ کہ جو نہ کہنی چاہئیں، جن چیزوں کا دیکھنا حلال نہیں ان سے اپنی نگاہوں کو بچائے رکھو، جن چیزوں کا سننا تمہارے لیے روا نہیں ان سے اپنے کانوں کو بند رکھو، دوسرے لوگوں کے یتیم بچوں پر رحم کرو تا کہ تمہارے بعد لوگ تمہارے یتیم بچوں پر رحم کریں ،اپنے گناہوں سے توبہ کرو، خدا کی طرف رخ کرو، نمازوں کے بعد اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھاؤ کہ یہ بہترین اوقات ہیںجن میں حق تعالیٰ اپنے بندوںکی طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور جو بندے اس وقت اس سے مناجات کرتے ہیں وہ انکو جواب دیتا ہے اور جو بندے اسے پکارتے ہیں ان کی پکار پر لبیک کہتا ہے اے لوگو! اس میں شک نہیں کہ تمہاری جانیںگروی پڑی ہیں۔ تم خدا سے مغفرت طلب کرکے ان کو چھڑانے کی کوشش کرو۔ تمہاری کمریں گناہوںکے بوجھ سے دبی ہوئی ہیں تم زیادہ سجدے کرکے ان کا بوجھ ہلکا کرو کیونکہ خدا نے اپنی عزت و عظمت کی قسم کھارکھی ہے کہ ا س مہینے میں نمازیںپڑھنے اور سجدے کرنے والوںکو عذاب نہ دے اور قیامت میںان کو جہنم کی آگ کا خوف نہ دلائے اے لوگو! جو شخص اس ماہ میںکسی مؤمن کا روزہ افطار کرائے تو اسے گناہوںکی بخشش اور ایک غلام کو آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب میںسے بعض نے عرض کی یا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ! ہم سب تو اس عمل کی توفیق نہیں رکھتے تب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ تم افطار میں آدھی کھجور یا ایک گھونٹ شربت دے کر بھی خود کو آتشِ جہنم سے بچا سکتے ہو۔ کیونکہ حق تعالیٰ اس کو بھی پورا اجر دے گا جو اس سے کچھ زیادہ دینے کی توفیق نہ رکھتا ہو۔ اے لوگو! جو شخص اس مہینے میں اپنے اخلاق درست کرے تو حق تعالیٰ قیامت میں اس کو پل صراط پر سے با آسانی گزاردے گا۔ جب کہ لوگوں کے پاؤں پھسل رہے ہوں گے۔ جو شخص اس مہینے میںاپنے غلام اور لونڈی سے تھوڑی خدمت لے تو قیامت میں خدا اس کا حساب سہولت کے ساتھ لے گا اور جو شخص اس مہینے میں کسی یتیم کو عزت اور مہربانی کی نظر سے دیکھے تو قیامت میں خدا اس کو احترام کی نگاہ سے دیکھے گا۔ جوشخص اس مہینے میں اپنے رشتہ داروں سے نیکی اور اچھائی کا برتاؤ کرے تو حق تعالیٰ قیامت میںاس کو اپنی رحمت کے ساتھ ملائے رکھے گا اور جو کوئی اپنے قریبی عزیزوںسے بدسلوکی کرے تو خدا روز قیامت اسے اپنے سایہ رحمت سے محروم رکھے گا۔ جوشخص اس مہینے میںسنتی نمازیں بجا لائے تو خدا ئے تعالیٰ قیامت کے دن اسے دوزخ سے برائت نامہ عطا کرے گا۔ اور جو شخص اس ماہ میں اپنی واجب نمازیں ادا کرے توحق تعالیٰ اس کے اعمال کا پلڑا بھاری کردے گا۔ جبکہ دوسرے لوگوںکے پلڑے ہلکے ہوںگے۔ جو شخص اس مہینے میں قرآن پاک کی ایک آیت پڑھے تو خداوند کریم اس کے لیے کسی اور مہینے میں ختم قرآن کا ثواب لکھے گا، اے لوگو! بے شک اس ماہ میںجنت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ انہیںتم پر بند نہ کرے۔ دوزخ کے دروازے اس مہینے میں بند ہیں۔ پس خدائے تعالیٰ سے سوال کرو کہ وہ انہیں تم پر نہ کھولے اور شیطانوں کو اس مہینے میںزنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ پس خدا سے سوال کرو کہ وہ انہیںتم پر مسلط نہ ہونے دے الخ
شیخ صدوقرحمهالله نے روایت کی ہے کہ جب ماہِ رمضان داخل ہوتا تو رسول اللہ تمام غلاموں کو آزاد فرمادیتے اسیروں کو رہا کردیتے اور ہر سوالی کو عطا فرماتے تھے۔
مؤلف کہتے ہیں کہ رمضان مبارک خدائے تعالیٰ کا مہینہ ہے اور یہ سارے مہینوں سے افضل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میںآسمان جنت اور رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیںاور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ اس مہینے میںایک رات ایسی بھی ہے، جس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ پس اے انسانو! تمہیں سوچنا چاہیئے کہ تم اس مہینے کے رات دن کس طرح گزارتے ہو اور اپنے اعضائے بدن کو خدا کی نافرمانی سے کیونکر بچاسکتے ہو، خبردار کوئی شخص اس مہینے کی راتوں میںسوتا نہ رہے اور اس کے دنوںمیں حق تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ رہے کیونکہ ایک روایت میں آیا ہے کہ ماہِ رمضان میں دن کا روزہ افطار کرنے کے وقت اللہ تعالیٰ ایک لاکھ انسانوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے اور شبِ جمعہ یا جمعہ کے دن ہر گھڑی میںخدائے تعالیٰ ایسے ہزاروں انسانوں کو آتشِ دوزخ سے رہائی بخشتا ہے جو دوزخی بن چکے ہوتے ہیں۔نیز اس مہینے کی آخری رات اور دن میںحق تعالیٰ اپنے اتنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے جتنے کہ پورے رمضان میں آزاد کرچکا ہے۔ پس اے عزیزو! توجہ کرو کہ مبادا یہ مبارک مہینہ تمام ہوجائے اور تمہاری گردن پر گناہوں کا بوجھ باقی رہ جائے اور جب روزہ دار اپنے روزوں کا اجر پارہے ہوں تو تم ان لوگوںمیںگنے جاؤ جن کو محروم کیا جارہا ہو۔ تمہیںتلاوتِ قرآن کرکے افضل وقت میںنمازیں بجا لاکر دیگر عبادتوں میں سعی کرکے اور توبہ واستغفار کرکے خدا کا تقرب حاصل کرنا چاہیئے، کیونکہ امام جعفر صادق -سے روایت ہے کہ جو شخص اس بابرکت مہینے میں نہیںبخشا گیا تو وہ آیندہ رمضان تک نہیںبخشا جائیگا سوائے اس کے کہ وہ عرفہ میں حاضر ہوجائے۔ پس تمہیں ان چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیئے جن کو خدائے تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔ یعنی حرام چیزوں سے روزہ افطار نہیںکرناچاہیئے، اور تمہیں اس طرح رہنا چاہیئے جیسے امام جعفر صادق علیہ السلام نے وصیت فرمائی ہے کہ جب تم روزہ رکھو تو تمہارے کانوں آنکھوں بدن کے رونگٹوںاور جلد اور دوسرے سب اعضائ کو بھی روزہ دار ہونا چاہیئے یعنی ان کو حرام بلکہ مکروہ چیزوں اور کاموں سے بچائے رکھو۔ نیز فرمایا کہ تمہارا روزہ دار ہونے کادن اس طرح کا نہ ہو جیسے تمہارا روزہ دار نہ ہونے کا دن تھا۔پھر فرمایا کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے تک ہی نہیں۔ بلکہ حالتِ روزہ میں اپنی زبانوں کو جھوٹ سے اور آنکھوں کو حرام سے دور رکھو۔ روزے کی حالت میں کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرو، کسی سے حسد نہ رکھو۔ کسی کا گلہ شکوہ نہ کرو اور جھوٹی قسم نہ کھاؤ۔ بلکہ سچی قسم سے بھی پرہیز کرو، گالیاںنہ دو، ظلم نہ کرو، جہالت کا رویہ نہ اپناؤ۔ بیزاری ظاہر نہ کرو اور یاد خدا اور نماز سے غفلت نہ برتو ۔ ہر وہ بات جو نہ کہنی چاہیئے۔ اس سے خاموشی اختیار کرو ، صبر سے کام لو ، سچی بات کہو برے آدمیوں سے الگ رہو بری باتوں، جھوٹ بولنے، بہتان لگانے، لوگوں سے جھگڑنے ، گلہ کرنے اور چغلی کھانے جیسی سب چیزوں سے پرہیز کرو ۔ اپنے آپ کو آخرت کے قریب جانو ۔ حضرت قائم آلِ محمدعليهالسلام کے ظہور کے انتظار میں رہو، آخرت کے ثواب کی امید رکھو، آخرت کیلئے اچھے اعمال کا ذخیرہ تیار کرو۔ تمہیں خدا کے خوف میں اس طرح عاجز وخوار رہنا چاہیئے، جیسے وہ غلام کہ جو اپنے آقا سے ڈرتا ہے۔ اس کا دل رکا ہوا اور جسم سہما ہوا ہوتا ہے۔ خدا کے عذاب سے ڈرو اور اس کی رحمت کی امید رکھو۔ اے روزہ دارو! تمہارے دل عیبوں سے تمہارے باطن مکر و فریب سے اور تمہارے بدن آلودگیوں سے پاک ہونے چاہیے۔ ﷲ کے سوا دوسرے خداؤں سے بیزاری اختیار کرو اور روزے کی حالت میں اپنی محبت و نصرت کو ﷲ کیلئے خالص کرو۔ ہر وہ چیز ترک کردو جس سے خدا نے ظاہر و باطن میں روکا ہے خدا وند قہار سے ظاہر و باطن میں ایسا خوف رکھو جو خوف رکھنے کا حق ہے اور روزے کی حالت میں اپنا بدن اور روح خدا کے حوالے کردو اور اپنے دل کو صرف اس کی محبت اور یاد کیلئے یکسو کر لو اور اپنے جسم کو ہر اس چیز کیلئے فرمان بردار بناؤ جس کا خدا نے حکم دیا ہے ۔ اگر تم ان سب چیزوں پر عمل کر لو جو روزے کیلئے مناسب ہیں توپھر تم نے خدا کی فرمائشوں پر عمل کیا ہے اور جن چیزوں کا میں نے تذکرہ کیا ہے اگر ان میں سے کچھ کم کر دوگے تو تمہارے ثواب اور فضیلت میں کمی آجائے گی ۔ بے شک میرے والد بزرگوار نے فرمایاکہ:رسول ﷲ نے سنا کہ ایک عورت بحالت روزہ اپنی کنیز کو گالیاں دے رہی ہے تو حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کھانا منگوایا اور اس عورت سے کہا کہ یہ کھانا کھا لو ۔ اس نے عرض کی کہ میں روزے سے ہوں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ یہ کس طرح کا روزہ ہے جبکہ تونے اپنی کنیز کو گالیاں دی ہیں ۔ روزہ محض کھانے پینے سے رکنے ہی کا نام نہیں بلکہ حق تعالیٰ نے تو روزے کو تمام قبیح کاموں یعنی بد کرداری و بد گفتاری وغیرہ سے محفوظ قرار دیا ہے پس اصل و حقیقی روزے دار بہت کم اور بھوکے پیاسے رہنے والے بہت زیادہ ہیں امیر المؤمنین -نے فرمایا کہ کتنے ہی روزہ دار ہیں کہ جن کے لئے اس میں بھوکا پیاسا رہنے کے سوا کچھ نہیں اور کتنے ہی عبادت گزار ہیں کہ جن کا حصہ ان میں سوائے بدن کی زحمت اور تھکن کے کچھ نہیں ہے ۔ کیا کہنا اس عقل مند کی ننید کا جو جاہل کی بیداری سے بہتر ہے اور کیا کہنا اس صاحب فراست کا جس کا روزے سے نہ ہونا روزداروں سے بہتر ہے جابر بن یزید نے امام محمد باقر -سے روایت کی ہے کہ رسول ﷲ نے جابر ابن عبد ﷲ(رض) سے فرمایا: اے جابر! یہ رمضان مبارک کا مہینہ ہے ، جو شخص اس کے دنوں میں روزہ رکھے اور اس کی راتوں کے کچھ حصے میں عبادت کرے۔ اپنے شکم اور شرمگاہ کو حرام سے بچائے رکھے اپنی زبان کو روکے رکھے تو وہ شخص گناہوں سے اس طرح باہر آئے گا جیسے یہ مہینہ جلدی ختم ہو گیا ہے ۔ جناب جابر (رض) نے عرض کی یا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ﷲ! آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بہت اچھی حدیث فرمائی ہے ، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا وہ شرطیں کتنی سخت ہیں جو میں نے روزے کیلئے بیان کی ہیں ۔ مختصر یہ کہ اس ماہ مبارک کے اعمال دو مطالب اور ایک خاتمہ میں ذکر کیئے جائیں گے ۔
(ماخوذ از مفاتیح الجنان)
مجتہدین کے فتاوی کے مطابق روزےکی نیت پورے مہینہ کا ایک ہی دن کیا جاسکتا ہے لیکن افضل ہے کہ ہر روز سحری کے وقت نیت کی جائے اور رات کے کسی بھی وقت روزہ کی نیت کرنا جائز ہے،
اور کافی ہےکہ نیت اس طرح کی جائے کہ پروردگار کی خشنودی کےارادہ سے مفطرات روزہ(روزہ توڑنے والی چیزوں) سے پرہیز کرے، اور(نماز تہجد)نماز شب کی ادائیگی میں بھی کوتاہی نہ کرے۔
- مؤلف:
- شیخ عباس بن محمد رضا قمی (رح)
- ذرائع:
- ماخوذ از مفاتیح الجنان
اسرائیلی فوج میں نیا بحران، ایک تہائی اہلکار دوہری شہریت کے حامل
عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت نے اسرائیلی فوج کو درپیش ایک نئے بحران سے پردہ اٹھاتے ہوئے فوج میں دوہری شہریت رکھنے والے اہلکاروں کی بڑی تعداد سے متعلق تفصیلی اور سرکاری اعداد و شمار شائع کیے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فوج کے 50 ہزار 632 اہلکار ایسے ہیں جو اسرائیلی شہریت کے ساتھ ساتھ کسی اور ملک کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ ان میں سے 12 ہزار 135 اہلکار امریکی، 6 ہزار 100 فرانسیسی اور 5 ہزار سے زائد روسی شہریت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی، یوکرین، برطانیہ، کینیڈا اور لاطینی امریکا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں اہلکار بھی فوج میں شامل ہیں، جبکہ محدود تعداد میں بعض عرب ممالک کی شہریت رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں۔ مزید یہ کہ 4 ہزار 440 اہلکار دو غیر ملکی شہریتوں کے حامل ہیں اور تقریباً 162 افراد کے پاس تین یا اس سے زائد شہریتیں ہیں۔
فوجی امور کے ماہر نضال ابو زید نے الجزیرہ میں اپنے تجزیے میں کہا کہ یہ اعداد و شمار اسرائیلی فوج کی صفوں میں شدید کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں، جس کے باعث اسے دوہری شہریت رکھنے والے فوجیوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقل اہلکاروں میں ان کی شرح تقریباً ایک تہائی تک پہنچ چکی ہے، جو فوج میں وفاداری کے بحران کو مزید گہرا کرتی ہے۔
ابو زید کے مطابق اسرائیلی فوج بنیادی طور پر اپنے ریزرو اور مستقل اہلکاروں پر انحصار کرتی ہے، تاہم یہ اعداد و شمار انسانی وسائل کی محدود صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں، جس کے باعث فوج کو دوہری شہریت رکھنے والوں کو بھرتی کرنا پڑ رہا ہے اور وہ وسیع زمینی کارروائیوں کے بجائے گوریلا طرز کی حکمت عملی، محدود آپریشنز، ڈرونز اور خصوصی دستوں کے استعمال پر زور دے رہی ہے۔
ماہر نے مزید کہا کہ ان سرکاری اعداد و شمار کی اشاعت دراصل اسرائیلی فوج کی کمزوری کا اعتراف ہے، کیونکہ ماضی میں ایسی معلومات شائع کرنے پر پابندی تھی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں دوہری شہریت رکھنے والے اہلکاروں اور حتیٰ کہ مقامی مسلح گروہوں کے استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج وسیع زمینی کارروائیوں کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتی، جو موجودہ اور آئندہ آپریشنز میں کمانڈرز پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
ایران اور امریکہ کشیدگی، نتائج کیا ہوں گے؟
ایران اور امریکہ کی کشیدگی تا حال جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر فوجی دبائو بڑھاتے ہوئے مزید ایک بحری بیڑہ خلیج فارس کی جانب روانہ کیا ہے اور اس بات کا اظہار انہوں نے گذشتہ دنوں میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب میں بھی کیا تھا۔ اس تمام تر صورتحال میں ایک سوال بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا امریکہ اس جنگ کے نتائج کو بھگت پائے گا۔؟ اگر امریکہ ایران پر حملہ بھی کر لے تو کیا ایران کو اس قدر نقصان پہنچا پائے گا کہ جو امریکہ کے اہداف ہیں؟ یا پھر یہ کہ ایران کے مقابلہ میں امریکہ کو متعدد نقصانات ہوں گے۔؟ اسی طرح یہ بات بھی بہت اہمیت اختیار کرتی چلی جا رہی ہے کہ امریکہ کو اس کشیدگی سے نکلنے کے لئے کیا کوئی Face Saving مل سکتی ہے؟ اور یہ کس نوعیت کی ہوسکتی ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں اسرائیل کی جانب سے ایران کو کیا پیغام بھیجا گیا ہے اور امریکہ نے کیا پیغام دیا ہے، یہ ساری باتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ صورتحال بتا رہی ہے کہ خطے کی ایک نئی صف بندی یا ترتیب ہونے جا رہی ہے۔ اب اگر امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے تو پھر کیا امریکہ اس کے نتائج کو برداشت کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔ حال ہی میں سابق برطانوی سفارت کار اور انٹیلی جنس افسر Alastair Crooke نے اپنے حالیہ تجزیے میں، جو جریدہ Geopolitika میں شائع ہوا، ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران کو حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دو مختلف نوعیت کی پیشکشیں کی گئیں، مگر تہران نے دونوں کو مسترد کر دیا۔ کروک کے مطابق یہ انکار محض سفارتی ردِعمل نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت ہے۔
کروک کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایک محدود فوجی کارروائی کی تجویز سامنے آئی، جس میں ایران سے بھی محدود اور کنٹرولڈ جواب کی توقع رکھی گئی تھی، تاکہ تصادم کو ایک منظم سطح پر رکھا جا سکے۔ تاہم تہران نے اس تصور کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کا حملہ مکمل جنگ کے آغاز کے مترادف ہوگا۔ یہ مؤقف ایران کی دفاعی حکمت عملی کا عکاس ہے، جسے برسوں سے ڈیٹرنس کی بنیاد پر استوار کیا گیا ہے۔ ایرانی قیادت کا مؤقف رہا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہ سکتا اور کسی بھی جارحیت کا جواب وسیع تر دائرے میں دیا جائے گا۔ کروک نے اپنے مقالہ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بھی کچھ ثالثوں کے ذریعے ایران کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اسرائیل ممکنہ امریکی حملے میں براہِ راست شریک نہیں ہوگا اور ایران سے بھی اسرائیل کو نشانہ نہ بنانے کی درخواست کی گئی۔ مگر ایران کا جواب سخت تھا، اگر فوجی کارروائی ہوئی تو اسرائیل براہِ راست ہدف ہوگا۔
اس تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کو داخلی اور خارجی سطح پر ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔ اسرائیل کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اس امر سے آگاہ ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کا مطلب صرف دو ریاستوں کا تصادم نہیں بلکہ پورے خطے میں محاذوں کا کھل جانا ہوسکتا ہے۔ اسی طرح عرب ریاستوں سے متعلق ایران کے موقف کے بارے میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ایران نے خلیجی اور عرب ممالک کو بھی واضح طور پر آگاہ کیا کہ اگر ان کی سرزمین یا فضائی حدود کسی حملے کے لیے استعمال ہوئیں تو انہیں بھی جنگ کا فریق سمجھا جائے گا۔ یہ پیغام دراصل خطے میں امریکی عسکری موجودگی کے تناظر میں دیا گیا، جہاں متعدد اڈے موجود ہیں۔ معروف امریکی ماہرِ سیاسیات John Mearsheimer کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن اب روایتی اتحادوں سے ہٹ کر ریجنل ڈیٹرنس نیٹ ورک کی شکل اختیار کرچکا ہے، جہاں کسی ایک ملک پر حملہ پورے بلاک کو متحرک کرسکتا ہے۔ اس صورتحال نے بھی عرب ممالک کی حکومتوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ امریکہ کو ایران پر فوجی کارروائی سے دور رکھیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو بھیجے گئے پیغامات اور پیشکش کو دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہوچکی ہے۔ امریکہ، جس کی قیادت اس وقت Donald Trump کے ہاتھ میں ہے، ایک ایسی حکمت عملی تلاش کر رہا ہے، جس میں طاقت کا مظاہرہ بھی ہو اور مکمل جنگ سے بھی بچا جا سکے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آسان جنگوں کا دور ختم ہوچکا ہے۔ افغانستان اور عراق کے تجربات نے امریکی عسکری حکمت عملی پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ ایران جیسے ملک کے ساتھ تصادم فوری، محدود یا کنٹرولڈ نہیں رہ سکتا۔ ایران نے پہلے دن سے واضح کر رکھا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا۔
دوسری طرف ایران کے بارے میں عالمی منظرنامہ پر ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ مختصر مگر شدید کشیدگی (یعنی 12 روزہ جنگ) کے بعد ایران ایک نسبتاً مضبوط اسٹریٹجک پوزیشن میں کھڑا ہے۔ ایرانی قیادت نے یہ تاثر قائم کیا ہے کہ وہ نہ صرف دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں بلکہ مستقبل کے فریم ورک میں اپنی شرائط منوانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ تبدیلی صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی اور سفارتی سطح پر بھی نمایاں ہے۔ معروف عرب تجزیہ کار ماہر امور فلسطین اور غرب ایشیاء عبد الباری عطوان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کشیدگی میں اس وقت امریکہ جنگ شروع کرنے سے پہلے ہی جنگ میں شکست کھا چکا ہے اور جو کچھ اب ہو رہا ہے، وہ سب نفسیاتی جنگ حصہ ہے، جبکہ حقیقیت یہ ہے کہ ایران نے یہ جنگ بغیر جنگ کے ہی جیت لی ہے۔
دنیا بھر میں ماہرین کا ایران کے بارے میں یہ تجزیہ کرنا کہ ایران مستحکم پوزیشن میں ہے، اس عنوان سے ایران کی حکمت عملی اور اب تک سفارتی سطح پر بہترین اقدامات کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود امریکی فوجوں کا ایرانی ہدف ہونا بھی شامل ہے۔ خطے میں امریکی افواج کی بڑے پیمانے پر موجودگی، سخت بیانات اور بحری و فضائی نقل و حرکت نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اگر کوئی محدود جھڑپ وسیع تصادم میں تبدیل ہوتی ہے تو اس میں بڑی طاقتوں کے شامل ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، جس کے بعد حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔ برطانوی مؤرخ اور مشرقِ وسطیٰ کے ماہر David Hearst کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے، جہاں غلط اندازہ (miscalculation) کسی بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں امریکہ کے پاس نکلنے کے راستے کم ہیں۔ چاہتے ہوئے بھی امریکی صدر اب ایران پر حملہ کا حکم نہیں دے سکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ جنگ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان نہیں بلکہ ایک خطے کی بڑی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی اور اس میں سب سے زیاد ہ جانی و مالی نقصان بھی امریکہ کو اٹھانا ہوگا۔ آج امریکہ اور اسرائیل کے لیے اصل مسئلہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے تصادم کے دائرے سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس مرحلے پر خطے میں فیصلہ کن عنصر ایران کا ردعمل اور اس کی حکمت عملی ہے۔ یہ صورتحال اس مفروضے کو تقویت دیتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہا۔ اب ہر قدم کا حساب ہے، ہر کارروائی کا ردعمل متوقع ہے اور ہر فیصلہ ممکنہ طور پر ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی شرائط کو مسترد کرنا محض سفارتی ضد نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹجک پیغام ہے۔ یعنی ایران نے خطے کے تمام ممالک کے لئے بھی یہ راستہ کھول دیا ہے کہ خطے کا مستقبل اب یکطرفہ فیصلوں سے طے نہیں ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جہاں جنگ کا خطرہ حقیقی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک نئے توازنِ طاقت کا امکان بھی موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بڑی طاقتیں اس نئے توازن کو قبول کریں گی، یا خطہ ایک اور بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔؟ بہر صورت اگر جنگ شروع ہوتی ہے یا شروع ہوئے بغیر ختم ہوتی ہے، دونوں صورتوں میں خطے میں طاقت کا توازن امریکہ کے حق میں نہیں رہے گا۔
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
درست فرمایا رہبر انقلاب اسلامی نے
برطانوی تجزیہ کار نے امریکی بحری بیڑے کے خلاف ایرانی میزائل نظام کو ایک بڑے خطرے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ سابق برطانوی سفارت کار نے ایران کی میزائل، دفاعی اور بحری طاقت کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امریکی بحری بیڑے کے پاس ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری دفاعی طاقت نہیں ہے۔ ججنگ فریڈم پروگرام کے ساتھ ایک انٹرویو میں بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اور ریٹائرڈ برطانوی سفارت کار نے امریکی بحری بیڑے کے ایران کی فائرنگ رینج سے دور ہونے کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ الیسٹر کروک نے اس حوالے سے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کو خطرے سے باہر نکلنے کے لیے ایران کی ساحلی پٹی سے مزید دور جانے پر مجبور کیا گیا ہے، کیونکہ یہ (بحری بیڑہ) کافی فضائی دفاعی میزائلوں سے لیس نہیں ہے۔ اس طرح کے ہر ڈسٹرائر کے پاس تقریباً 50 سے 100 میزائل ہوتے ہیں، لیکن آپ ایک وقت میں صرف دو یا تین میزائل استعمال کرسکتے ہیں۔"
تجزیہ کار نے مزید کہا کہ "اگر ڈرونز کے ایک غول، مثال کے طور پر 300 ایرانی ڈرونز بیک وقت فائر کئے جاتے ہیں تو انہیں امریکی بحری بیڑے کو اپنے تقریباً تمام فضائی دفاع کو استعمال کرنا پڑے گا، جس سے وہ دفاعی حوالے سے کمزور ہو جائے گا۔ الیسٹر نے مزید کہا البتہ یہ صرف زمینی حملوں کا معاملہ نہیں ہے اور یہ کہ "ایران کے پاس ایک آبدوز کا بیڑا ہے، جو 25 سے 30 چھوٹی آبدوزوں سے لیس ہے، جن میں سے ہر ایک اینٹی شپ میزائلوں سے لیس ہے۔ اس کے علاوہ تیز رفتار کشتیاں بھی ہیں، جن کو نشانہ بنانا مشکل ہے اور وہ اینٹی شپ میزائلوں سے بھی لیس ہیں۔ برطانوی ماہر کے مطابق "لہذا یہ پورا بحری بیڑہ مکمل طور پر ایرانی فائر رینج میں ہے۔اسی طرح العدید اور امریکہ کے دیگر اڈے بھی ایران کی میزائل رینج میں ہیں۔
حالیہ مہینوں میں، امریکی فوج نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔ ایرانی حکام نے بارہا خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی فوجی مہم جوئی کا خطے میں فیصلہ کن ایرانی جواب دیا جائے گا۔ اسی تناظر میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم یہ کہہ رہے ہو کہ ہم نے ایران کی طرف بحری بیڑے بھیجے ہیں، اگرچہ یہ بحری بیڑہ خطرناک ہے، لیکن اس سے زیادہ خطرناک ہمارے وہ ہتھیار ہیں، جو ان کو سمندر میں غرق کر دیں گے۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سترہ فروری انیس سو اناسی میں صوبہ مشرقی آذربائیجان کے عوام کے قیام کی سالگرہ کی مناسبت سے مختلف طبقات سے خطاب کیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے اس خطاب میں فرمایا کہ امریکہ کے صدر مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ہماری فوج دنیا کی سب سے مضبوط فوج ہے، لیکن دنیا کی سب سے مضبوط فوج بھی کبھی ایسا تھپڑ کھا سکتی ہے کہ دوبارہ کھڑی نہ ہوسکے۔ وہ مسلسل کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کی طرف بحری بیڑے بھیجے ہیں۔ ٹھیک ہے، بحری بیڑا یقیناً ایک خطرناک چیز ہے، لیکن اس سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے، جو اس جہاز کو سمندر کی تہہ میں غرق کرسکتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکی صدر نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں کہا کہ سینتالیس برس سے امریکہ، اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کرسکا اور اس بات کی شکایت انہوں نے اپنے عوام سے کی۔ سینتالیس برس سے اسلامی جمہوریہ کو ختم نہ کرسکنے کا ٹرمپ یہ اعتراف ایک اہم اعتراف ہے اور میں کہتا ہوں کہ تم بھی یہ کام نہیں کرسکو گے۔
تحریر: محمد رضا جعفری
دہشت گرد عناصر کا کوئی مذہب نہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے: علامہ محمد رمضان توقیر
ڈیرہ اسماعیل خان قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے حکم پر سانحہ ترلائی اسلام آباد کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر کی قیادت میں بعد از نماز جمعہ کوٹلی امام حسین ڈیرہ سے سانحہ ترلائی اسلام اباد کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔احتجاجی ریلی میں کثیر تعداد میں نماز جمعہ کے شرکاء نے شرکت کی۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے خطاب کرتے ہوئے سانحہ اسلام اباد ترلائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ترلائی انتہائی دلخراش واقعہ تھا جس نے پورے ملک کی فضا سوگوار کر دیا ہے اس سانحے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے اور درجنوں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔مسجد میں دھماکہ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ان کا اسلام اور دین سے کوئی تعلق نہیں ہے شروع دن سے موقف رہا ہے کہ دہشت گرد عناصر کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یہ الہ کار ہیں اور کرائے کے لوگ ہیں۔اسلام اباد سانحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گرد عناصر وطن عزیز میں دہشت گردانہ کاروائی میں مصروف عمل ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے ان کی سرکوبی کے لیے سست روی کا شکار ہیں ائے روز ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے چند دن پہلے ڈیرہ میں دہشت گردی کے واقعات بالخصوص پولیس پارٹی پر ہونے والی دہشت گردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا دہشت گرد عناصر وطن عزیز کے امن کی فضا کو دن بدن خراب کر رہے ہیں۔
پولیس کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کی یہ قربانی ڈیرہ کے عمل کے لیے کافی موثر ثابت ہوگی۔ مقتدر سیکیورٹی اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ شہریوں اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان دہشت گرد عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درامد کرتے ہوئے بے رحمانہ کاروائیوں کی جائیں تاکہ وطن عزیز میں امن قائم ہو۔
























![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
