سلیمانی
جمعہ تک حج کی ادائیگی کے لیے 15 لاکھ سے زائد زائرین ملک میں داخل ہو چکے ہیں
- خبر رساں ایجنسی آناتولی نیوز کے مطابق حج پاسپورٹ فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر صالح المربع نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اب تک بیرونِ ملک سے 15 لاکھ سے زیادہ حجاج سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، جن میں 14 لاکھ سے زائد فضائی راستے سے، تقریباً 45 ہزار زمینی سرحدوں کے ذریعے، جبکہ قریب 6 ہزار سمندری راستے سے آئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں حجاج کی آمد کی آخری مہلت اب اختتام کے قریب ہے۔
سعودی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ حج سیزن 2025 میں اندرون اور بیرونِ سعودی عرب سے مجموعی طور پر 16 لاکھ 73 ہزار 230 حجاج نے حج ادا کیا تھا۔
حج کا آغاز 8 ذی الحجہ، بروز پیر 25 مئی سے ہوگا، جبکہ مناسکِ حج چھ دن تک 13 ذی الحجہ (30 مئی) تک جاری رہیں گے۔ ان مناسک میں عرفات میں قیام، مزدلفہ میں شب بیداری، رمیِ جمرات، طوافِ افاضہ اور طوافِ وداع شامل ہیں۔/
ایران کی وفادار فوج کے سامنے کوئی ظالم طاقت نہیں ٹھہر سکتی، قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کے مخلص اور وفادار سپاہیوں کے سامنے کوئی بھی ظالم طاقت ٹھہر نہیں سکتی۔ انہوں نے خرمشہر کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر ایرانی جنگجوؤں کی بہادری کو سراہا۔
اتوار کے روز جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ 24 مئی 1982 کو جنوبی شہر خرمشہر کی آزادی نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ امام خمینیؒ کے وفادار مجاہدین عزم، شجاعت اور قربانی کے جذبے سے سرشار تھے۔
اسپیکر پارلیمنٹ نے ممتاز فوجی کمانڈروں احمد کاظمی اور علی صیاد شیرازی سمیت دیگر شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان بہادر کمانڈروں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا اور یہ سبق دیا کہ ایمان، منصوبہ بندی، جرات اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کامیابی کی ضمانت ہیں۔
محمد باقر قالیباف نے موجودہ ایرانی مسلح افواج کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ آج کے فوجی اہلکار ماضی کے عظیم کمانڈروں کے راستے پر گامزن ہیں اور ملک کے بہادر محافظوں کی یاد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ 1982 میں ایرانی مسلح افواج نے شدید لڑائی کے بعد صوبہ خوزستان میں واقع شہر خرمشہر کو صدام کی فوج سے واپس لے لیا تھا۔
ایران_امریکہ معاہدے میں جوہری پروگرام شامل نہیں، رائٹرز
رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ابتدائی معاہدے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا جوہری پروگرام شامل نہیں ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے سے انکار کیا ہے۔
اس سے قبل ایک باخبر ذریعے نے مہر کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے صہیونی ویب سائٹ آکسیوس کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ کی تردید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام نکات امریکی فریق کے دعوے اور بیانیے پر مبنی ہیں اور ایرانی فریق ان کی تصدیق نہیں کر سکتا۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے آکسیوس نے ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔
اس رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے دوبارہ کھولنے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نصب بحری بارود کو ہٹانے جیسے نکات شامل ہیں۔
ایران_امریکہ معاہدے میں جوہری پروگرام شامل نہیں، رائٹرز
رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ابتدائی معاہدے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا جوہری پروگرام شامل نہیں ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے سے انکار کیا ہے۔
اس سے قبل ایک باخبر ذریعے نے مہر کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے صہیونی ویب سائٹ آکسیوس کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ کی تردید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام نکات امریکی فریق کے دعوے اور بیانیے پر مبنی ہیں اور ایرانی فریق ان کی تصدیق نہیں کر سکتا۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے آکسیوس نے ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔
اس رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے دوبارہ کھولنے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نصب بحری بارود کو ہٹانے جیسے نکات شامل ہیں۔
جارحیت دہرائی گئی تو تباہ کن ردعمل دیں گے، ایرانی فوج کی بڑی وارننگ
خاتم الانبیاء مرکزی قرارگاہ کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ ملک کی طاقتور مسلح افواج کسی بھی نئی جارحیت کا سخت جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
میجر جنرل علی عبداللہی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے ایک پیغام میں دشمن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی طاقتور مسلح افواج ملک کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کا ایسا جواب دیں گی جس پر دشمن کو شدید پچھتاوا ہوگا۔
جنگ رمضان کے شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ملک کی طاقتور مسلح افواج کی عظیم مزاحمت اور کامیابی نے ثابت کر دیا کہ قوم کا خدا کی قدرت پر ایمان، اعتماد اور مقامی دفاعی صلاحیتوں پر انحصار عالمی سطح پر عزت، وقار اور اسٹریٹجک طاقت کے حصول کی راہ ہموار کرتا ہے۔
انہوں نے مزاحمت، استقامت، بیداری اور امریکی و صہیونی دشمن کے مقابلے میں ہوشیاری جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی طاقتور مسلح افواج اور رہبر انقلاب کی رہنمائی کی بدولت خلیج فارس کے خطے کو محفوظ بنائے گا اور اس آبی گزرگاہ کے خلاف دشمن کی سازشوں اور جارحیت کا خاتمہ کرے گا۔
میجر جنرل علی عبداللہی نے مزید کہا کہ ہم دشمنوں کو خبردار کرتے ہیں کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق رہبر انقلاب کی حکمت عملی اور منصوبہ بندی خطے کے مستقبل کی ضمانت بنے گی۔
انہوں نے تاکید کی کہ ملک کی طاقتور مسلح افواج ماضی کے تلخ تاریخی تجربات کو دوبارہ نہیں دہرانے دیں گی اور کسی بھی جارحیت کا جہنم جیسا اور پچھتاوے سے بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
غلط اور بے دینی پر مبنی ثقافت، آبادی کی ترقی میں رکاوٹوں کی بنیاد ہے
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم علامہ مصباح یزدی نے اپنے ایک بیان میں "آبادی، ایک کثیر الجہتی مسئلہ" کے موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے۔
علامہ مصباح یزدی آبادی کے بحران کو محض ایک طبی مسئلہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کی جڑ کو غلط اور بے دینی ثقافت میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، ثقافتی سرمایہ کاری کے ذریعے دین کو زندہ کیا جانا چاہیے کیونکہ اگر خدا اور انسانی اقدار پر اعتقاد درست ہو جائے تو دوسرے مسائل بھی اس کے سائے میں حل ہو سکتے ہیں۔
آبادی کا مسئلہ اور بحران صرف ایک طبی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس مزید سنگین مسائل بھی ہیں جن کے معاشرے کے لیے کبھی کبھی فائدے بھی ہوتے ہیں۔
ایک طرف، حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگ اسی حالت پر خوش ہیں اور دوسری طرف، بہت سے نوجوان بچے پیدا کرنے کے خواہشمند نہیں ہیں، وہ آرام سے اور بغیر مشقت کے زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ آج معاشرے کی ثقافت یہی ہے۔
آبادی کی ترقی کی راہ میں متعدد رکاوٹیں ہیں جن کی جڑ سب کی سب غلط اور بے دینی ثقافت ہے۔
ہمیں ایسا کام کرنا چاہیے کہ جس سے دین زندہ ہو جائے، خدا پر اعتقاد، معنویت، ابدی زندگی اور انسانی اقدار کو نمایاں کیا جائے۔ اگر یہ حصہ درست ہو گیا تو دوسرے مسائل بھی درست ہو سکتے ہیں لیکن اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو ہمارا کوئی کام نتیجہ خیز نہیں ہو گا کیونکہ ہو سکتا ہے کوئی قانون بھی بنا دیں اور کچھ دن اس مسئلے پر توجہ بھی دیں لیکن کچھ عرصے بعد یہ سب بھول جائے گا اور وہی پرانی حالت رہے گی۔
میرے خیال میں ہمیں ثقافتی کام کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے، یہ پہلا قدم ہے۔ اگر یہ مسئلہ درست ہو گیا تو دوسرے مسائل اس کے سائے میں درست ہو سکیں گے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلی دہائیوں سے دینی اقدار شدت سے کمزور ہو رہی ہیں۔ یہ کام خاص طور پر ان ویب سائٹس، چینلز اور پروگراموں کے ذریعے کیا جا رہا ہے جو مسلسل نوجوانوں اور حتیٰ کہ بچوں کو نہ صرف دین سے بلکہ خاندانی اقدار سے بھی بے رغبت کر رہے ہیں۔ ان مسائل کا اسکریننگ وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ ثقافت بدل گئی ہے۔
(مرحوم علامہ مصباح یزدی کے بیانات سے ماخوذ، 6/10/1397 شمسی بمطابق 27 دسمبر 2018ء)
ایران اپنے حق کا خواہاں ہے: صدر مملکت کی پاکستان کی فوج کے سربراہ سے ملاقات اور گفتگو
صدر مملکت ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ہفتے کی صبح کو تہران میں پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات اور گفتگو کی۔
صدر مملکت نے اس موقع پر خطے میں قیام امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکام ایران کے برادر ہیں اور ہمارے رشتے مضبوط ہیں۔
انہوں نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک جسم کا اعضا قرار دیا اور کہا کہ امت مسلمہ کے سامنے اتحاد اور تعاون کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور اس کے لیے معاشی، سماجی، سیاسی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور اختلاف اور محاذآرائیاں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے عالمی قوانین کی اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے مکمل پابندی کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کی فوج کے سربراہ سے زور دیکر کہا کہ ہم اپنے عوام کے مسلمہ حقوق کے خواہاں ہیں لیکن امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور ماضی کے تجربات کے پیش نظر ہم سوچ سمجھ کر قدم اٹھا رہے ہیں۔
صدر مملکت نے صاف انداز میں کہا کہ امریکہ اس تنازعے سے کامیاب ہوکر باہر نہیں نکل سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں علاقے اور دنیا کے ملکوں کو بھاری نقصان پہنچے گا اور بس صیہونی حکومت ہے جو اس جنگ کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے زور دیکر کہا کہ امریکہ کے ہاتھوں مسلسل عہدشکنی اور مذاکرات کے بیچ جارحیت اور اعلی عہدے داروں کے قتل کے نتیجے میں ایرانی عوام کو واشنگٹن پر ذرہ برابر بھروسہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے دوست اور برادر ملک کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر مذاکرات کو قبول کیا ہے لیکن تہران کا اصل ٹارگیٹ مناسب راستوں سے ایرانی عوام کے مفادات کو پورا کرنا ہے۔
اس موقع پر پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے دوبارہ ملاقات پر اظہار مسرت کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر کا سلام صدر ایران کو پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ بقول ان کے بخوبی آگے بڑھ رہا ہے۔
پاکستان کی فوج کے سربراہ نے صدر مسعود پزشکیان کے اس موقف کی تعریف کرتے ہوئے کہ اسرائیل مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور محاذآرائی کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے کہا کہ اسرائیل پاکستان سمیت جھڑپوں کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والے ہر کسی کا سنجیدہ دشمن ہے۔
انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کو خطے میں استحکام اور سلامتی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ وہ خطے میں صرف استحکام اور جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات کا نتیجہ، ایران اور خطے کے تمام ممالک اور مسلمانوں کے حق میں ثابت ہو۔
شہنشاہ کو حقیقت تسلیم کرنی پڑی، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا معنی خیز پیغام
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر ایک معنی خیز پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے تاریخ کے آئینے میں موجودہ عالمی صورتحال پر تبصرہ کیا ہے۔
بقائی نے ساسانی بادشاہ شاپور اول کی رومی شہنشاہ پر فتح کی تاریخی تصویر (سنگ تراشی) شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "شہنشاہ کو بالآخر حقیقت تسلیم کرنی پڑی۔"
ترجمان نے وضاحت کی کہ قدیم زمانے میں رومیوں کا یہ ماننا تھا کہ 'روم' ہی کائنات کا مرکز ہے، لیکن ایرانیوں نے ان کے اس غرور اور توہم کو چکنا چور کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رومی شہنشاہ 'فلپ عرب' کا ساسانی سلطنت کے خلاف مشرقی لشکر کشی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا، بلکہ یہ مہم شاپور اول کی شرائط پر ہونے والے ایک ایسے امن معاہدے پر ختم ہوئی جہاں شہنشاہ کو زمینی حقائق تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑا
ٹرمپ کے پاس ایرانی قوم کے حقوق اور مطالبات تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، جنرل طلائی نیک
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ ٹرمپ اب ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جہاں ان کے پاس ایرانی قوم کے جائز حقوق اور مطالبات کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔
میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میدان جنگ ہو یا سفارت کاری، ایرانی قوم کے جائز مطالبات کا حصول ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے امریکی اور صیہونی حکومت اس تیسری مسلط کردہ جنگ سے جان چھڑا سکتے ہیں۔
وزارت دفاع کے ترجمان نے واضح کیا کہ اگر دشمن نے ایرانی قوم کے مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو یہ ٹرمپ اور صیہونی حکومت کے لیے مزید سنگین ناکامیوں اور بھاری قیمت چکانے کا سبب بنے گا۔ ٹرمپ کو ایران کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو قبول کرنا پڑے گا تاکہ امریکی عوام اور عالمی برادری کو جنگ کے مزید نقصانات اور بھاری اخراجات سے بچایا جا سکے۔
جنرل طلائی نیک نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی طرف سے امریکی قومی مفادات کو نظر انداز کرنا، صیہونی حکومت کی اندھی پیروی کرنا اور ان کا متکبرانہ رویہ، امریکہ کو جنگ کے اس دلدل میں مزید گہرائی تک دھکیلتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
گزشتہ 24 گھنٹے میں 31 جہاز، سپاہ پاسداران انقلاب کی ہماہنگی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرے
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ مذکورہ 31 جہاز تیل بردار، کنٹینر بردار اور دیگر نوعیت کے تجارتی جہاز تھے جنہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملی۔
سپاہ پاسداران کی بحریہ کے مطابق، امریکی دہشت گرد فوج کی جارحیت اور واشنگٹن کے ہاتھوں خلیج فارس بالخصوص آبنائے ہرمز میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں کے باوجود، سپاہ پاسداران نے عالمی تجارت کے لیے ایک مخصوص اور پرامن کوریڈور فراہم کردیا ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
