سلیمانی

سلیمانی

سپاہ پاسداران انقلابِ اسلامی کی فضائیہ کے کمانڈر جنرل سید مجید موسوی نے کہا ہے کہ آج شب جنوبی مقبوضہ علاقوں کا آسمان مسلسل کئی گھنٹوں تک روشن رہے گا۔  

جنرل موسوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اس لمحے سے مقبوضہ فلسطین کے فضائی حدود پر ایرانی جوانوں کی میزائلی برتری کا اعلان کرتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آنے والی موجوں میں استعمال ہونے والی نئی حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی امریکی اور اسرائیلی کمانڈروں کو حیران کرنے کے لیے کافی ہوگی۔

ایک امریکی عہدیدار نے موقر امریکی ویب سائٹ "Semafor" کو بتایا کہ تل ابیب نے امریکہ کو مطلع کیا ہے کہ اس کے میزائل شکن ذخائر، جو بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، ختم ہو رہے ہیں۔

اس امریکی عہدیدار نے اتوار کے روز کہا کہ امریکہ کئی مہینوں سے اسرائیل کی میزائل دفاعی صلاحیت میں کمی سے آگاہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا واشنگٹن اپنے میزائل شکن ذخائر مقبوضہ علاقوں میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس سلسلے میں، امریکی خبر رساں ایجنسی بلومبرگ نے زور دیا کہ ایران دانستہ طور پر امریکی فضائی دفاعی نظام اور میزائل ذخائر کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

واضح رہے امریکہ سالانہ بہت کم اور محدود تعداد میں دفاعی میزائل بنا سکتا ہے، جو ایک ممکنہ کمزوری پیدا کرتا ہے۔

یرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ایف-35 کو ایک ایسی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جو کسی بھی آنکھ سے پوشیدہ اور ہر طاقت سے برتر ہے، تاہم خدا کی قدرت اس سے بھی بالاتر ہے۔

محمد باقر قالیباف نے کہا کہ دنیا میں پہلی بار اس علامت کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ ایک نظام کے زوال کا لمحہ ہے۔

واضح رہے گزشتہ روز ایرانی دفاعی نظام نے ایک امریکی ایف 35 طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایک ایف 35 اسٹیلتھ طیارے کو مبینہ نشانہ بنائے جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فضائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔

 

بسم‌الله الرحمن الرحیم

یا مقلب القلوب والابصار یا مدبّر اللیل و النهار یا محوِّل الحول و الاحوال، حَوِّل حالَنا الی احسن الحال

اس سال روحانیت کی بہار اور فطرت کی بہار یعنی عیدالفطر اور نوروز کا قدیم تہوار ایک ساتھ آیا ہے۔ میں ان دو مذہبی اور قومی عیدوں پر قوم کے ہر فرد کو  اور خاص طور پر دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں یہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مجاہدین اسلام کی شاندار فتوحات کے موقع پر سب کو مبارکباد پیش کروں اور دوسری مسلط کردہ جنگ، جنوری کی بغاوت اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے شہداء، سیکورٹی اداروں، سرحدی محافظوں اور انٹیلی جینس سروسز کے شہیدوں کے اہل خانہ اور پسماندگان کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کروں۔

شمسی سال 1405 کی آمد کے موقع پر مندرجہ ذیل عرائض پیش کرنا چاہوں گا۔

سب سے پہلے ہم گزشتہ سال کے چند اہم واقعات پر مختصراً  نظر ڈالیں گے۔ پچھلے سال، ہمارے عزیز ہم وطنوں نے تین فوجی اور سیکورٹی جنگوں کا تجربہ کیا۔ پہلی جنگ جون کی جنگ تھی جس میں صیہونی دشمن نے امریکہ کی خصوصی مدد سے اور مذاکرات کے درمیان ایک بزدلانہ حملے میں ملک کے چند بہترین کمانڈروں اور نامور سائنسدانوں اور پھر ہمارے ایک ہزار کے قریب ہم وطنوں کو شہید کیا۔ اپنے غلط حساب کتاب کی وجہ سے دشمن یہ سمجھ رہاتھا کہ ایک دو دن بعد یہی لوگ اسلامی نظام کا تختہ الٹ دیں گے۔ بہرحال آپ لوگوں کی چوکسی اور مجاہدین اسلام  کی بے مثال بہادری اور  بے شمار قربانیوں سے جلد ہی دشمن کے اندر بے بسی اور لاچارگی کے آثار نمودار ہوئے اور اس نے ثالثی ذریعے اور جنگ روک کر کسی طرح اپنے آپ کو پاتال کے کنارے سے بچا لیا۔

دوسری جنگ جنوری کی بغاوت تھی، جس میں امریکہ اور صیہونی حکومت نے یہ سوچتے ہوئے کہ ایرانی عوام مسلط کردہ اقتصادی مسائل کی وجہ سے دشمن کی خواہشات کو عملی جامہ پہنائیں گے، اپنے زرخرید ایجنٹوں کو استعمال کرتے ہوئے  بے شمار سانحات رقم کیے  اور پچھلی جنگ کی نسبت ہمارے عزیز ہم وطنوں کی زیادہ تعداد کو شہید کرنے کے علاوہ ملک کو بہت زیادہ نقصان بھی پہنچایا۔

تیسری جنگ، جس سے ہم اس وقت دوچار ہیں، اس جنگ کے پہلے دن ہم نے قوم کے مہربان باپ، اپنے عظیم القدر رہبر اعلی اللہ مقامہ کو، جو شہیدوں کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے، اپنے سفر آسمانی کے دوران اس مقام کی جانب جانے کے لیے بے تاب تھے کہ جو رحمت  الہی کے سائے اور قرب انوار طیبہ اور عداد صدیقین اور شہدا میں ان کے لیے مختص تھا، اشکبار آنکھوں اور غمزدہ اور ٹوٹے ہوئے دلوں کے ساتھ رخصت کیا۔

نیز اس دن کے بعد سے ہم نے بتدریج،  اس جنگ کے دیگر شہداء بشمول میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے نونہالوں ،  دنا بحری جہاز کے بہادر اور مظلوم ستاروں، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، فوج، پولیس بسیج، انٹیلی جینس اور سرحدی فورس کے بہادر جوانوں اور بچوں اور بوڑھوں سمیت قوم کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو، جو ہماری نگاہوں کے سامنے قافلہ نور شامل ہوئے، الوداع کہا۔ 

یہ جنگ، اپنے حق میں نمایاں عوامی تحریک سے دشمن کی ناامیدی اور اس وہم کے ساتھ شروع ہوئی کہ اگر سربراہ نظام اور بعض اہم فوجی کمانڈروں کو شہید کر دیا جائے تو وہ آپ عزیز ھم وطنوں میں خوف اور مایوسی پیدا کر دے گا، جس کی وجہ سے آپ میدان چھوڑ دیں گے، اور اس طرح ایران پر تسلط اور پھر اسے تقسیم کرنے کا خواب پورا ہو جائے گا۔لیکن آپ نے اس بابرکت مہینے میں روزے کو جہاد کے ساتھ ملاکر  ایک ملک گیر وسیع دفاعی زنجیر فراہم کی اور ملک بھر کے چوراہوں، محلوں اور مساجد تک مضبوط محاذ قائم کیا اور اس طرح دشمن پر چکرا دینے والی ایسی ضرب لگائي کہ وہ تضاد بیانی اور ہرزہ سرائي پر اتر آیا جو اس کے ہوش اڑجانے اور زوال عقل کی علامت ہے۔

آپ نے اس سے پہلے 12 جنوری کو ہونے والی بغاوت کو کچل دیا اور 11 فروری کو آپ نے ایک بار پھرعالمی استکبار کے خلاف نہ ختم ہونے والی مخالفت کا اظہار کیا، پھر 12  مارچ کو یوم قدس کے موقع پر آپ نے دشمن پر وار کر کے واضح کر دیا کہ تمہارا مقابلہ صرف  میزائلوں، ڈرونز، تارپیڈو اور فوجی معاملات سے نہیں، ایران کی فرنٹ لائن دشمن کے حقیر اور کوتاہ دماغ سے کہیں زیادہ وسیع تر ہے۔

میں اس عظیم کارنامے کی تخلیق پر قوم کے ایک ایک فرد کا اور اسی طرح بہادر، سچے اور عوامی صدر نیز ان تمام عہدیداروں کا جو کسی پروٹوکول کے بغیر عوام کے ساتھ یوم قدس کے جلوس میں شامل ہوئے، شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ یہ اقدام اور اسطرح کی دیگر کاوشیں اپنی جگہ پر لائق تحسین ہیں کیونکہ ان سے عوام اور حکومت کے درمیان اتحاد کو مزید تقویت ملے گی۔

اس وقت ہم وطنوں کے درمیان تمام ترمذہبی، فکری، ثقافتی اور سیاسی تفاوت کے باجود جو حیرت انگیز اتحاد پیدا ہوا ہے، اس نے دشمن کو شکست و ریخت سے دوچار کردیا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص نعمت سمجھنا چاہیے اور زبان سے، دل سے اور عمل سے اس کا بہت شکر ادا کرنا چاہیے۔ ناقابلِ تنسیخ اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب بھی کسی نعمت کا شکر ادا کیا جاتا ہے تو اس کی جڑیں، ادائے  شکر کے تناسب سے مضبوط یا بلند ہوجاتی ہیں اور شکر گزار پر زیادہ احسانات ہوتے ہیں۔عملی طور پر شکرگزاری کے لحاظ سے فی الحال جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس عظیم نعمت کو محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت سمجھیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائيں۔ اس طرح یہ اتحاد یقیناً مضبوط اور مستحکم ہوگا اورآپ کے دشمن ذلیل و خوار ہو جائیں گے۔

 یہ تو تھا سن  1404 ہجری شمسی کے چند اہم واقعات کا جائزہ۔

لیکن اب جب کہ ہم سن 1405  ہجری شمسی کی دہلیز پر ہیں، ہمیں کئی چیزوں کا سامنا ہے۔ ایک یہ کہ ہم اپنے پیارے مہمان، رمضان المبارک 1447 کے بابرکت مہینے کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ رہے ہیں۔ وہ مہینہ جس میں لیلۃ القدر میں آپ کے دل عالم بالا کی  طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے خدائے رحمان کو پکارا اور اس نے بھی اپنی نظر رحمت تمہاری جانب موڑ دی۔ 

آپ نے ہم سب کے آقا (امام زمانہ) عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف اور ان کے خدا سے فتح وظفر، خیر و عافیت اور ہر قسم کی نعمتیں طلب کی ہیں، یقینا اس نظام اور اس قوم پر اس کی سابقہ عنایتوں کے پیش نظر، انشااللہ آپ کی طلب قلبی کے مطابق یا اس بھی زیادہ نتیجہ آپ کے شامل حال ہوگا۔

ماہ رمضان کو الوداع کہتے ہوئے کہ اگرچہ انسانوں کی معرفت جتنی زیادہ ہوگی، اس ماہ کا فراق اتناہی تلخ اور غمگین ہوگا،  ہم شوال المکرم کے بابرکت چاند کا گرمجوشی سے خیر مقدم  کرتے ہیں اور خوف اور امید کے ساتھ حضرت حق تبارک و تعالی کی جانب سے عیدی کے منتظر ہیں۔ 

 میں امید کرتا ہوں کہ آپ عزیز ہم وطنوں کی ذمہ دارانہ اور شبانہ روز حاضری اور یوم قدس کے جلوسوں میں عظیم الشان شرکت  کے نتیجے میں حق تعالی ہمارے ساتھ اپنے کرم و حلم اور عفو و لطف عمیم کے سوا، کہ جس کے ہم عادی ہوچکے ہیں، کوئی سلوک نہیں کرے گا اور خاص کر ہمارے آقا حضرت ولی اللہ الاعظم کے امر ظہور عام کا راستہ ہموار ہونے کی جلد بشارت دے کر آنجناب کے قلب مبارک کو سرور عطا فرمائے گا کہ جس کے بعد اس کی منت و کرم سے اہل دنیا پر متنوع برکتیں نازل ہوں گی۔ 

ایک اور چیز جو ہمارے سامنے ہے وہ نوروز کا اہم او قدیمی تہوار ہے۔ایک ایسا تہوار جو اپنے ساتھ فطرت کی طرف سے تجدید، تازگی اور زندگی کا تحفہ لاتا ہے، اور خوشی اور جشن منانے کے لیے انتہائي موزوں ہے۔

دوسری طرف قوم کے لیے یہ پہلا سال ہے کہ جب ہمارے شہید قائد اور دیگر اعلیٰ ترین شہداء ہمارے درمیان موجود نہیں۔ خاص طور پر شہداء کے اہل خانہ اور پسماندگان کے دل اپنے پیاروں کے غم میں سوگوار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، اپنی طرف سے، اور ایک عام شہری کی حیثیت سے کہ جس حصے  میں بھی چند شہادتیں آئیں ہیں، میں سجھتا ہوں کہ اگرچہ ہم عزادار ہیں اور ہمارے دل اپنے تمام شہیدوں کے غم سے لبریز ہیں، مجھے خوشی ہوگی کہ ان ایام میں، نوبیاہتی دلہنیں اور دولہے اپنی مشترکہ زندگي کا آغاز کریں انشااللہ ہمارے شہید رہبر اور اس جنگ کے دیگر شہدا کی دعائيں ان کے ساتھ ہیں۔

میں پوری قوم کو سفارش کرتا ہوں کہ وہ شہیدوں کے اہل خانہ کے احترام کو ملحوظ خاطر اور ان کے حالات کا خیال رکھتے ہوئے ان ایام میں ملنے  ملانے کا سلسلہ جاری رکھیں اور کیا ہی اچھا ہو کہ ہر محلے کے لوگ ضروری ہم آہنگی کے ذریعے  اپنے محلے کے شہیدوں کے احترام کے ساتھ سال نو کی ملنے ملانے کا آغاز کریں۔ بلاشبہ حکومت نے ہمارے محبوب رہبر کی شہادت کے غم کی جو مدت مقرر کی ہے وہ اپنی جگہ باقی ہے اور اس کا احترام  اس نظام اور ملک کی عظمت کا ایک ستون شمار ہوتا ہے۔

ان عرائض کے بعد چند اور باتیں گوش گزار کرنا چاہوں گا۔

سب سے پہلے، مجھے ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا ہے جو، شاہراہوں، محلوں اور مساجد میں اپنی موجودگی کے ساتھ ساتھ اپنے سماجی کردار کو بھی بھرپور طریقے سے نبھانے میں مصروف ہیں۔جن میں پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر کے بعض پیداواری یونٹ اور انڈسٹریاں بھی شامل ہیں۔اور خاص طور پر وہ لوگ جو عوام کو مفت میں مفید خدمات فراہم کر رہے ہیں اگر چہ یہ ان کا پیشہ بھی نہیں ہے، اور الحمدللہ ایسے لوگوں کی تعداد ہمارے ملک میں کم نہیں۔

دوم، دشمن کا ایک راستہ اس کی میڈیا کارروائیاں ہیں، جو ان دنوں خاص طور پر افراد کے ذہنوں اور نفسیات کو نشانہ بنا کر قومی یکجہتی اور نتیجتاً قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ کہیں ہماری اپنی غفلت سے  دشمن کے مذموم ارادے پورے نہ ہوں۔ لہٰذا، ملکی میڈیا کو میرا مشورہ ہے کہ وہ ممکنہ فکری، سیاسی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود کمزویوں کو اجاگر کرنے سےگریز کریں بصورت دیگر دشمن کے مقاصد پورے ہونے کا اندیشہ ہے۔

سوم، دشمن کی امیدوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ان معاشی اور انتظامی کمزوریوں سے فائدہ اٹھائے جو طویل عرصے سے چلی آرہی ہیں۔ ہمارے شہید رہبر، اعلیٰ اللہ مقامہ نے مختلف برسوں  میں سال کا بنیادی فوکس اور نعرہ معیشت پر مرکوز رکھا تھا۔ اس عاجز کی رائے میں لوگوں کی روزی روٹی کو محفوظ بنانا، زندگی اور فلاحی انفراسٹرکچر کو بہتر کرنا اور عام لوگوں کے لیے دولت پیدا کرنا دشمن کی طرف سے شروع کی گئی معاشی جنگ کے خلاف مرکزی نقطہ ہی نہیں بلکہ اسے ایک طرح کا دفاع اور پیشقدمی کا راستہ سمجھنا چاہیے۔

میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے مختلف سماجی طبقوں سے تعلق رکھنے والے عزیز ہم وطنوں کی باتیں سننے کا موقع ملا۔ مثال کے طور پر، میں آپ کے ساتھ ایک نامعلوم شخص کی طرح تہران کی سڑکوں پر ایک ٹیکسی میں سفر کرتا رہا ہوں جو میری ہی درخواست پر مہیا گئی تھی اور میں آپ کی باتیں سنتا رہا ہوں، اور میں اس طرح کے رابطے کو رائے عامہ کے جائزوں سے کہیں زیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔ بہت سے معاملات میں آپ کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں، جن کا اظہار عام طور پر معاشی اور انتظامی معاملات پر تنقیدوں کی شکل میں کیا جاتا رہا ہے۔ اس دوران، میں نے آپ لوگوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور آئندہ بھی سیکھنے کی کوشش کروں گا۔ مثال کے طور پر ان دنوں میں 19 رمضان سے پہلے اور بعد کے ایام میں، جو لوگ سڑکوں اور اہم اسکوائر پر موجود تھے، میں نے ان لوگوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں آئندہ بھی اس نعمت سے محروم نہیں رہوں گا۔ سیکھنے،  سننے اور دیگر مطالعات کے نتیجے میں، ایک قابل عمل اور کارساز منصوبہ تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ممکنہ حد تک جامع ہو۔بحمداللہ یہ مقصد کافی حد تک پورا ہوگيا ہے اور انشاء اللہ جلد ہی ملک کے اعلیٰ ہمت حکام اور عوام  کے تعاون سے اس پر عملدرآمد کا آغاز  کیا جائے گا۔   

اپنے پیغام کے اس حصے کے آخر میں عظیم شہید رہبر کی تاسی کرتے ہوئے میں اس سال کے نعرے کا اعلان کرتا ہوں ’’قومی اتحاد اور قومی سلامتی کے سائے میں مزاحمتی معیشت‘‘۔

چوتھی اور آخری بات، میں نے اپنے پہلے بیان میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حکومت کے نقطہ نظر اور پالیسی کے بارے میں جو باتیں کہی تھیں وہ ایک سنجیدہ اور حقیقی معاملہ ہے۔ ہمسائیگی کے رشتے سے ہٹ کر بھی، دوسرے روحانی عناصر ہمارے پیش نظر ہیں، اور تمام  اشترکات میں دین اسلام پر تدین سرفہرست ہے، اور ان میں سے بعض ممالک میں مشاہد مشرفہ اور مقامات مقدسہ واقع ہیں جبکہ بعض دیگر ممالک میں ایرانیوں کی بڑی تعداد مقیم یا کام کاج کرتی ہے، جبکہ بعض ممالک کے ساتھ ہمارے نسلی اور لسانی رشتے ہیں یا مشترکہ اسٹریٹجک مفادات ہیں، خاص طور سے سامراجی محاذ کے خلاف جدوجہد حوالے سے، کہ ان میں سے ہر ایک عنصر اپنی جگہ، اچھے تعلقات کی تقویت کا باعث بن سکتاہے۔

ہم اپنے مشرقی پڑوسیوں کو اپنے بہت قریب سمجھتے ہیں۔ میں طویل عرصے سے پاکستان کو ایسے ملک کے طور پر جانتا ہوں جو ہمارے شہید رہبر کا خاص پسندیدہ ملک تھا، جس کی مثال اس تباہ کن سیلاب کے بعد نماز عید کے خطبوں میں آپ کی غمگین آواز میں دکھائی دی تھی، وہ سیلاب جس نے ہمارے دینی بھائيوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ مختلف دلائل کی بنا پر میری سوچ بھی ہمیشہ یہی رہی ہے اور مختلف ملاقاتوں میں نے اس کے اظہار سے گریز نہیں کیا۔ یہاں میں یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ ہمارے دو برادر ممالک افغانستان اور پاکستان رضائے الہی کی خاطر اور مسلم امہ کو تقسیم سے بچانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنائيں اور یہ حقیر اس مقصد کے لیے اپنے حصے کے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہے۔

یہاں میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ترکی اور عمان میں کہ جن کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات قائم اور ان کے ممالک کے بعض حصوں میں جو حملے کیے گئے وہ اسلامی جمہوریہ ایرن کی مسلح افواج یا مزاحمی محاذ کی دیگر قوتوں نے ہرگز نہیں کیے۔ یہ صیہونی دشمن کی ایک چال ہے کہ فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے اسلامی جمہوریہ اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان تفرقہ پیدا کیا جائے اور ہوسکتا ہے کہ بعض دیگر ممالک میں بھی اسی طرح کی صورتحال دکھائی دے۔ اس سے متعلق باقی باتیں میں پہلے ہی بیان کرچکا ہوں۔

میں امید کرتاہوں کہ ہمارے آقا عجل اللہ تعالی فرجہ کی دعاؤں اور حضرت باری تعالی کی نظر کرم سے آنے والا سال ہماری قوم، ہمارے تمام پڑوسیوں اور مسلم اقوام  کے لیے اور خاص طور پر مزاحمتی محاذ کے لوگوں کے لیے فتوحات اور ہر قسم کے مادی اور روحانی مواقع سے بھرپور سال ثابت ہوگا جبکہ اسلام اور انسانیت کے دشمنوں کے لیے نیک شگون نہیں ہوگا۔ 

 وَ نُرِیدُ اَن نَمُنَّ عَلَی الَّذینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّهً وَ نَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِینَ وَ نُمَکِّنَ لَهُمْ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامَانَ وَ جُنُودَهُمَا مِنْهُم ما کانُواْ یَحْذَرُون. صدق‌ الله العلی العظیم و صدق رسوله الکریم و نَحنُ عَلی ذلکَ مِنَ الشّاهدین.

 و السلام علیکم و رحمه الله و برکاته

 ایران کی وزارت ثقافت و سیاحت نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ امریکی اور صہیونی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں تاریخی اور ثقافتی ورثے کو ہونے والے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔

وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تازہ فیلڈ جائزوں اور ماہرین کی رپورٹس کے بعد متاثرہ تاریخی مقامات کی تعداد بڑھ کر 108 ہو گئی ہے۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق تہران میں سب سے زیادہ 60 تاریخی مقامات متاثر ہوئے ہیں، جبکہ اصفہان میں 19 اور کردستان میں 12 آثار کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ لرستان اور کرمانشاہ میں 4، 4 جبکہ بوشہر اور قم میں 2، 2 مقامات متاثر ہوئے۔ مزید برآں ایلام، مشرقی آذربائیجان، مغربی آذربائیجان، مازندران اور سیستان و بلوچستان میں بھی ایک ایک تاریخی مقام کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔

بیان کے مطابق متاثرہ مقامات میں عالمی ورثے کی فہرست میں شامل آثار، قومی تاریخی یادگاریں اور دیگر اہم تاریخی عمارتیں اور مقامات شامل ہیں جو ایران کی تہذیبی تاریخ کے ساتھ ساتھ عالمی ثقافتی ورثے کا بھی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران، اصفہان، سنندج، کرمانشاہ، قم اور خوانسار کے چھ تاریخی شہری علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزارت کے مطابق تازہ واقعے میں تہران کے سعدآباد ثقافتی و تاریخی کمپلیکس کے اطراف میں دھماکوں سے بعض عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ اس کمپلیکس کے عجائب گھروں کی قیمتی اشیا کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا، تاہم دھماکوں کی شدت سے عمارتوں کے اندرونی حصوں اور تاریخی تزئین و آرائش کو نمایاں نقصان پہنچا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں قاجار اور ابتدائی پہلوی دور کی گچ کاری، آئینہ کاری اور سنگ تراشی جیسے تاریخی فن پارے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

وزارتِ ثقافت نے بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 1954 کے ہیگ کنونشن سمیت بین الاقوامی قوانین کے تحت ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی 110 اہم خصوصیات 

تحریر: ایس ایم شاہ

1. جامع الشرائط مجتہد

2. علم اصول فقہ پر کامل گرفت

3. فقہِ اہلِ بیتؑ پر عمیق دسترس

4. فقہِ حکومتی میں صاحب نظر

5. جدید فقہی مسائل پر اجتہادی بصیرت

6. علومِ قرآنی پر وسیع گرفت

7. تفسیرِ قرآن میں گہری مہارت

8. احادیث اہلِ بیتؑ سے دقیق واقفیت

9. تاریخِ اسلام کا گہرا مطالعہ

10. ائمہ معصومین علیہم السلام کے 250 سالہ دور کی جامع فہم اور ان کو عصری تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت

11. دین و سیاست میں وحدانی نگاہ

12. دینی عقلانیت کے داعی

13. اسلامِ نابِ محمدی ﷺ کے مبلّغ

14. مشرق و مغرب کے فکری مکاتب سے آگاہی

15. فکری خود مختاری

16. مسائل کا تجزیاتی و منطقی حل نکالنا

17. علمی نظم و استدلال

18. فصیح و بلیغ بیان

19. فکری استقلال

20. مسلسل مطالعہ و تحقیق

21. تقوائے الٰہی سے سرشار

22. خلوصِ نیت

23. سادہ طرزِ زندگی اور دیگر علما کو بھی سادہ زیستی کی تلقین کرنا

24. زہد کا عملی پیکر

25. اقتدار کے باوجود تواضع

26. دیگر مراجع عظام کا احترام

27. صبر و تحمل

28. استقامت اور عالمی نام نہاد سپر طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملانا

29. جذبہ شہادت سے سرشار ہوکر عوامی اجتماعات میں حاضری

30. اخلاقی جرأت

31. حق گوئی

32. نڈر مزاج

33. معنویت سے گہرا تعلق

34. دعا اور توسل پر یقین

35. قرآن سے خاص انس

36. سیرتِ اہلِ بیتؑ کی عملی پیروی

37. دنیاوی لالچ سے بے نیازی

38. اللہ کو حقیقی سپر پاور سمجھنا

39. ذمہ داری کو امانتِ الٰہی جاننا

40. امام زمانہؑ سے قلبی تعلق

41. غیر معمولی قائدانہ صلاحیت

42. حکیمانہ فیصلہ سازی

43. دور اندیشی

44. مستقبل نگری

45. بحران مینجمنٹ

46. برمحل فیصلے

47. اسٹریٹجک منصوبہ بندی

48. واضح ریڈ لائنز کا تعین

49. ٹائم مینجمنٹ

50. نظم و ضبط

51. قومی ترجیحات کی درست شناخت

52. حالات کی نزاکت کا عمیق ادراک

53. دو ٹوک موقف

54. لچک کے ساتھ اصول پسندی

55. فرنٹ لائن قیادت

56. ادارہ سازی

57. نخبہ پروری یعنی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے میدان فراہم کرنا

58. ملک کے اعلی عہدوں پر باصلاحیت افراد کا درست انتخاب

59. ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم

60. قومی وسائل کا مؤثر استعمال

61. استکبار دشمنی

62. استعمار مخالف سوچ

63. مظلوموں کا بھرپور دفاع

64. فلسطین کی غیر متزلزل حمایت

65. محورِ مقاومت کی مسلسل پشت پناہی

66. قومی خود مختاری کا ہر فورم پر دفاع

67. غیر ملکی تسلط کی نفی

68. اسلامی اقدار کا تحفظ

69. عوام دوستی

70. عوامی شعور پر اعتماد

71. عوام کے درمیان براہِ راست موجودگی

72. نوجوان نسل پر خصوصی توجہ

73. جوانوں کی فکری تربیت

74. معاشرے کے کمزور طبقات کی حمایت

75. اتحاد بین المسلمین کے علمبردار

76. بصیرت افزائی

77. نفوذ اور دشمن کی دقیق شناخت

78. قوم کو بحرانوں سے آگاہ کرنا

79. بحران سے نکلنے کے راستے دکھانا

80. عالمی پلیٹ فارمز پر مؤثر نمائندگی

81. دینی ثقافت کے محافظ

82. اسلامی طرزِ زندگی کے مروّج

83. ثقافتی یلغار کا مقابلہ

84. متعہد فنون کی سرپرستی

85. علم و تحقیق پر خصوصی توجہ

86. نخبگان اور سائنسدانوں کی سرپرستی

87. سائنسی ترقی پر زور

88. خود کفالت کی حوصلہ افزائی

89. اسلامی، ایرانی شناخت کا تحفظ

90. فارسی زبان و ادب سے گہرا تعلق

91. تمدنی نگاہ

92. مستقبلِ اسلام کا واضح تصور

93. جدید اسلامی تمدن کا ہدف

94. سماجی عدل پر تاکید

95. اخلاقی اقدار کی ترویج

96. معنوی پروگراموں کی سرپرستی

97. قوم کو امید دلانا

98. اعتمادِ نفس کی ترویج

99. رشتہ داروں کو اقتدار سے دور رکھنا

100. عوام کے دلوں پر حکومت

101. عالمی استعماری لیڈروں کی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکارنا اور ان کے جرائم کو دنیا کے سامنے فاش کرنا

102. ہر اہم مشکل پر حرم امام رضا علیہ السلام، حرم حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام اور مسجد جمکران میں ہنگامی حاضری کے ذریعے وقت کے حجت اللہ سے توسل کرنا

103. مرجعیت کی اہمیت اور طاقت سے دنیا کو روشناس کرانا

104. لوگوں کو اپنی طرف جذب کرنے کی خداد صلاحیت

105. ملکی اہم فیصلوں میں اقدار اسلامی کو ملحوظ خاطر رکھنا

106. مستقبل کے حوالے سے قوم کو باخبر رکھنے کے ساتھ پرامید رکھنا

107. تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی ان کے اپنے شعبے کے مطابق حوصلہ افزائی

108. ملک سے وفاداری

109۔ پوری دنیا سے باصلاحیت طلبہ کا انتخاب کرکے جمہوریہ اسلامی ایران میں ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبستی کرکے دنیا میں علم کی ضو فشانی کرنا

110. حالیہ ایران اسرائیل 12 روزہ جنگ میں مکمل اسلامی اور عالمی قوانین کی رعایت کرنا آپ کی چند بارز خصوصیات ہیں۔

آج امریکہ، اسرائیل اور دیگر مغربی استکباری و شیطانی قوتیں عالمِ اسلام کے اس عظیم اور باوقار رہبر کے بالمقابل صف آرا ہیں۔ مگر ہمیں کامل یقین ہے کہ ان شاء اللہ یہ مردِ مجاہد اپنی بصیرت افروز قیادت، ایمانی استقامت اور علوی جرأت کے ذریعے یہود و ہنود کو ایک بار پھر خیبر کی تاریخ یاد دلائیں گے اور فاتحِ خیبر، مولائے متقیان حضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام کے حقیقی وارث ہونے کا عملی اور ناقابلِ تردید ثبوت دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔

تاریخ گواہ ہے کہ باطل، ظلم اور استکبار کی قوتوں کے مقدر میں ہمیشہ ذلت، رسوائی اور شکست ہی لکھی گئی ہے۔ ان شاء اللہ اس بار بھی یہی ظالم طاقتیں اس عظیم مردِ حق کے ہاتھوں ایک اور عبرتناک اور ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوں گی اور حق کی فتح ایک بار پھر عالمِ انسانیت پر آشکار ہو جائے گی۔

 

قرآنِ کریم سورۂ فتح کی آیات 22 اور 23 میں ارشاد فرماتا ہے: اور اگر کافر تم سے جنگ کریں تو یقیناً وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر وہ نہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔ یہ اللہ کی وہ سنت ہے جو پہلے سے جاری ہے، اور تم اللہ کی سنت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔

سنتِ الٰہی کا مطلب ایک یقینی اور قطعی قانون ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں تاکید کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ یہ وہ جاری اصول ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں آئے گی۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ اگر دشمن تم پر حملہ کرے اور تم میدان سے فرار نہ کرو بلکہ ثابت قدم رہو تو اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ دشمن کو لازماً پسپا کر دیتا ہے۔ یہ عقیدہ تمام جنگوں میں ایک اصول کے طور پر کارفرما ہوتا ہے۔

البتہ اگر مؤمن خود جنگ کا آغاز کریں تو اس صورت میں اللہ کی سنت کے طور پر قطعی فتح کی ضمانت نہیں دی گئی؛ یعنی نصرت تو ہو سکتی ہے مگر فتح اور کامل غلبہ یقینی نہیں ہوتا۔ لیکن اگر دشمن حملہ آور ہو تو اس وقت یہ سنتِ الٰہی جاری ہوتی ہے۔ آیت کا اندازِ بیان بھی بہت دقیق ہے؛ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ دشمن مکمل شکست کھائے گا بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ پسپا ہو جائے گا۔

 جنگِ احزاب کے موقع پر جب مؤمنوں نے دیکھا کہ کفار مختلف گروہوں کی صورت میں حملہ آور ہو گئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ وہی وعدہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا اور یقیناً دشمن پر غلبہ ہوگا:

اور جب مؤمنوں نے لشکروں کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؛ اور اس سے ان کے ایمان اور تسلیم میں اضافہ ہی ہوا۔ (احزاب: 22)

لہٰذا مؤمن اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں کی تکمیل کو یقینی سمجھتے ہیں، اور جب یہ وعدے پورے ہوتے ہیں تو ان کے ایمان اور یقین میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

- روایات میں آیا ہے کہ قرآن کریم "یجری مجری الشمس" ہے، یعنی قرآن سورج کی طرح ہے جو ہر روز ایک نئے انداز سے طلوع ہوتا ہے۔ آج کے حالات کے تجزیے میں قرآن کی آیات میں سب سے قریب مثال جنگِ احزاب اور اس سے پہلے جنگِ بدر کے واقعات میں ملتی ہے۔

جب مسلمانوں کا لشکر روانہ ہوا تو ان کے سامنے دو قافلے تھے: ایک تجارتی قافلہ اور دوسرا قریش کا مسلح لشکر۔ قرآن فرماتا ہے:

وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ (الأنفال: 7)

مسلمانوں کی تعداد کفار کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی تھی اور ان کے پاس زیادہ جنگی ساز و سامان بھی نہیں تھا۔ فطری طور پر مسلمان چاہتے تھے کہ تجارتی قافلہ ان کے ہاتھ لگ جائے، لیکن اللہ کی مشیت یہ تھی کہ وہ دشمن کے لشکر کے سامنے آئیں، تاکہ حق کو اپنی ہدایات کے ذریعے مضبوط کرے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے:

وَيُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ (الأنفال: 7)

لفظ "يُرِيدُ اللَّهُ" اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ اللہ کی حکمت اور تدبیر تھی، تاکہ فیصلہ کن مرحلہ آئے اور دشمن کی جڑ کاٹ دی جائے" وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ"۔

آج کے ایران کے حالات میں بھی دو راستے موجود تھے مذاکرات یا جنگ۔ عقل اور جنگ کے منفی نتائج کے پیش نظر مذاکرات کا راستہ ایران اور پورے خطے کے لیے زیادہ پسندیدہ تھا، لیکن اللہ کی تقدیر یہ بنی کہ دشمن نے عقل کے خلاف مذاکرات کی میز کو الٹ دیا اور انقلاب اسلامی کے رہبر، ایرانی کمانڈروں، بچوں اور خواتین کو شہید کرنے کا اقدام کیا۔

حالانکہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ عزت اور سربلندی اہلِ ایمان کے ساتھ ہوتی ہے اور بالآخر دشمنوں اور بچوں کے قاتل صہیونی نظام کی عسکری قوت اور اس کے تمام سہارے ختم و نابود ہو جاتے ہیں۔