سلیمانی
وزارت خارجہ ایران: پابندیاں سخت کرنے کے امریکی اقدامات قبول نہیں کریں گے
ارنا کے مطابق وزارت خارجہ نے پابندیاں جاری رکھنے اور سخت تر کرنے پر امریکی اصرار کو غیر قانونی قرار دیا ہے ۔
اس رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی کے نام امریکی صدر کے خط کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے پر امن ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اورغیر ضروری اور جعلی بحران کے حل کی غرض سے سفارتی راستے کے انتخاب کے لئے آمادگی کا اعلان کیا اور قومی اعتماد و پشت پناہی کی بدولت حسن نیت کے ساتھ امریکا سے بالواسطہ مذاکرات شروع کئے۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ، مذاکرات کے تین ادوار میں، جو انجام پائے ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے مذکرات کاروں نے، ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی توانائی سے پر امن استفادے کے حق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے مطابق ملت ایران کے بر حق مطالبات اور موقف بیان کئے اور معقول نیز پائیدار اور منصفانہ سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ کوشش کی ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران سفارتی راستے پر چلنے کے اپنے عہد اور مذاکرات جاری رکھنے کے لئے اپنی آمادگی پر زور دیتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ دھمکی اور دباؤ پر مبنی اقدامات کو جو سب کے سب اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں اوران کا مقصد، ایرانی ہم وطنوں کے انسانی حقوق کو ضائع کرنا اور ان کے ملی مفادات کو نقصان پہنچانا ہے، ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
وزارت خارجہ کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران، غیر قانونی پابندیوں کے دوام اوراپنے تجارتی اور اقتصادی حلیفوں پر دباؤ ڈالے جانے کے اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہے اور انہیں سفارتی راستے میں، امریکا کی سنجیدگی کی نسبت ایرانی عوام کی بدگمانی اور سوء ظن کے حق بجانب ہونے کا ثبوت سمجھتا ہے۔
اس بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ اس غیر قانونی طرز عمل کے جاری رہنے سے بین الاقوامی قوانین پر مبنی ایران کے قانونی اور معقول موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور ناکام طرز عمل اور چالوں کو دوبارہ آزمانے کا نتیجہ ماضی کی سنگین ناکامی کی تکراری کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگا۔
ایران کا فرانسیسی الزامات پر شدید ردعمل: جوہری ہتھیاروں کا دعوی بے بنیاد قرار
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے فرانسیسی وزیر خارجہ کی جانب سے ایران پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور غیرذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ایروانی نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش کو ایک رسمی مراسلہ ارسال کیا، جس میں کہا گیا کہ ایران نہ کبھی جوہری ہتھیاروں کے حصول کا خواہاں رہا ہے اور نہ ہی اپنی دفاعی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی کی ہے۔
انہوں نے فرانسیسی وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات کو سیاسی مقاصد پر مبنی اور حقائق کے منافی قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے دعوے دانستہ طور پر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہیں۔
ایروانی نے کہا کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) ک بانی رکن کی حیثیت سے اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے، اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اس کے پرامن جوہری پروگرام کی مسلسل نگرانی اور تصدیق کررہی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ایران نے جوہری معاہدے پر پوری طرح عمل کیا۔ اس کی ناکامی کی ذمہ داری امریکا کی غیر قانونی علیحدگی اور یورپی ممالک کی وعدہ خلافیوں پر عائد ہوتی ہے۔ ایران نے ان حالات میں شفاف انداز میں اپنے اقدامات محدود کیے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ سخت پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی پر ایروانی نے کہا کہ یہ کھلی سیاسی و اقتصادی بلیک میلنگ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر فرانس اور اس کے اتحادی واقعی سفارتی حل کے خواہاں ہیں، تو انہیں دھمکیوں سے باز آنا ہوگا اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا۔
اعمال ماه ذیالقعده اور رزق میں اضافے کی نوید
ماہ ذی القعدہ کی فضیلت اور اعمال
ماہ ذی القعدہ کا آغاز حضرت معصومہؑ کے مبارک یوم ولادت سے ہوتا ہے۔ یہ مہینہ اُن بابرکت بہن بھائیوں (حضرت معصومہؑ و امام رضاؑ) کی ولادت سے منسوب ہے جو ایرانیوں کے مہمان بنے، ایران کو اپنے مقدس وجود سے سرفراز فرمایا اور تمام زمانوں اور نسلوں کے لیے بے شمار نعمتیں اور برکتیں لے کر آئے۔
یہ مہینہ حج کی نوید بھی دیتا ہے۔ جیسے ہی ذی القعدہ کا چاند طلوع ہوتا ہے، حاجی اپنے روحانی سفر کی تیاری شروع کر دیتے ہیں، ایسا سفر جس میں ان کا امتحان لیا جاتا ہے، اور اگر وہ قبول ہو جائیں تو پاک ہو کر لوٹتے ہیں اور اس پاکیزگی کو پھیلانے والے بنتے ہیں۔
ذی القعدہ صلح و امن کا مہینہ بھی ہے؛ قرآن کریم کے حکم کے مطابق یہ پہلا حرمت والا مہینہ ہے، جس میں حتیٰ کہ دشمنوں کے ساتھ بھی جنگ کرنا ممنوع ہے۔ سید ابن طاووس اس مہینے کی فضیلت کے بارے میں فرماتے ہیں: "ذی القعدہ کا مہینہ سختیوں اور مشکلات کے وقت دعا کرنے کے لیے بہت مناسب ہے۔ یہ ظلم کے خاتمے اور ظالموں کے خلاف دعا کے لیے بھی مؤثر ہے۔ اسی وجہ سے اس مہینے کو دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ کہا گیا ہے، لہٰذا اس کے اوقات کو غنیمت جاننا چاہیے اور اس میں حاجات کے لیے روزے رکھنا مستحب ہے۔"
ماہ ذی القعدہ کے مستحب اعمال:
پہلے دن کا عمل: ماہ ذی القعدہ کا پہلا دن بابرکت ہے، اس دن روزہ رکھنا اسی (80) مہینے کے روزوں کے برابر ثواب رکھتا ہے۔ اس دن حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مخصوص نماز پڑھنا مستحب ہے، جو چار رکعت ہے: ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک مرتبہ اور سورہ اخلاص (قل ہو اللہ احد) پچاس مرتبہ پڑھی جاتی ہے، نماز کے بعد تسبیح حضرت فاطمہؑ ادا کی جاتی ہے۔
ایک خاص اتوار کا عمل (رزق میں وسعت): روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے ذی القعدہ کے ایک اتوار کو فرمایا: "اے لوگو! تم میں سے کون توبہ کرنا چاہتا ہے؟" ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سب توبہ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: غسل کرو، وضو کرو، پھر چار رکعت نماز پڑھو۔ ہر رکعت میں:
· سورہ فاتحہ ایک بار
· سورہ اخلاص تین بار
· معوذتین (قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس) ایک ایک بار پڑھو۔ پھر ستر بار استغفار کرو اور آخر میں یہ دعا پڑھو:
"لا حول و لا قوة الا بالله" "یا عزیز یا غفار، اغفر لی ذنوبی و ذنوب جمیع المؤمنین و المؤمنات، فانہ لا یغفر الذنوب الا انت۔"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص حرمت والے مہینے میں تین دن – جمعرات، جمعہ اور ہفتہ – روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اسے ایک سال کی عبادت کا اجر عطا فرماتا ہے۔"
دیگر مستحب اعمال:
· روزانہ 100 بار صلوات (درود بر محمد و آل محمد) بھیجی جائے۔
· روزانہ 360 بار "الحمد لله رب العالمين" کہا جائے۔
· روزانہ 70 بار استغفار (استغفرالله)
· 70 بار توبہ (أتوب إلى الله)
· 100 بار سبحان الله
· 100 بار الحمدلله
· 100 بار لا إله إلا الله
· 100 بار الله أكبر
· 100 بار لا إله إلا الله الملك الحق المبين
· 100 بار لا حول ولا قوة إلا بالله
· نماز جعفر طیار کم از کم ہفتے میں ایک بار پڑھی جائے۔
· نماز شب اور روزانہ نوافل کا اہتمام کیا جائے۔
· ہر فرض نماز کے بعد آیة الکرسی پڑھی جائے۔
· ہر جمعرات اور جمعہ کی شب و دن 1000 بار صلوات بھیجی جائے۔/
جولانی اسرائیل سے دوستانہ تعلقات کا خواہاں
شام کا نیا صدر احمد الشرع اسرائیل سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کا خواہش مند ہو گیا ہے۔ یاد رہے احمد الشرع وہی ابو محمد الجولانی ہے جو کئی سالوں تک القاعدہ اور اس کے ذیلی گروہوں النصرہ فرنٹ اور ھیئت تحریر الشام میں سرگرم کمانڈر کے طور پر دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دے چکا ہے۔ شام پر امریکہ نے عرصہ دراز سے شدید اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں جو صدر بشار الاسد کی حکومت ختم ہو جانے اور ابو محمد الجولانی کا نام بدل کر احمد الشرع کے طور پر شام کے نئے صدر کے طور پر اقتدار سنبھال لینے کے باوجود جوں کی توں ہیں۔ اب احمد الشرع ان پابندیوں کو ختم کروانے کی کوشش میں مصروف ہے اور اس نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اگر اس مقصد کے لیے ابراہیم معاہدے میں شامل ہو کر اسرائیل سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے پڑے تو وہ اس سے دریغ نہیں کرے گا۔
احمد الشرع نے ایک امریکی ماہر قانون سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام "مناسب حالات" کی صورت میں ابراہیم معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ مڈل ایسٹ آئی نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی کانگریس کے ریپبلکن رکن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی کوری ملز نے گذشتہ ہفتے شام کا دورہ کیا اور دمشق میں 90 منٹ تک احمد الشرع سے ملاقات کی۔ یہ دورہ شام نژاد امریکی شہریوں کی حمایت سے انجام پایا اور اس کا مقصد زمینی حقائق کا قریب سے جائزہ لینا بتایا گیا ہے۔ کوری ملز نے بلوم برگ کو بتایا کہ محمد الشرع سے ملاقات کے دوران شام پر امریکی پابندیاں مرحلہ وار ختم کرنے کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔ کوری ملز کے بقول اس نے احمد الشرع پر زور دیا ہے کہ وہ سابق صدر بشار اسد کے زمانے میں موجود کیمیکل ہتھیاروں کی باقیات کو ختم کرے۔
کوری ملز نے اسی طرح احمد الشرع پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمسایہ ممالک سے تعاون کرے اور ھیئت تحریر الشام میں شامل غیر ملکی جنگجو عناصر کا مقابلہ کرے۔ ملز نے احمد الشرع سے یہ بھی کہا کہ اسے اسرائیل کو کچھ چیزوں کے بارے میں گارنٹی فراہم کرنی پڑے گی۔ یاد رہے جب سے شام میں صدر بشار اسد حکومت کا خاتمہ ہوا ہے اس وقت سے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے شام پر شدید فضائی اور زمینی فوجی جارحیت شروع کر رکھی ہے۔ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے حکم پر صیہونی فوج نے شام کی حدود میں گھس کر جنوب مغربی علاقوں میں واقع پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا ہے جہاں سے اسے دارالحکومت دمشق پر بھی مکمل احاطہ حاصل ہے۔ اسرائیل کی جانب سے شام پر غاصبانہ قبضہ محمد الشرع کی سربراہی میں شام کی نئی حکومت کو درپیش ایک اور چیلنج ہے۔
امریکہ نے شام پر اس وقت سے شدید اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں جب خطے میں مختلف عرب ممالک میں احتجاجی تحریکیں جنم لے رہی تھیں اور شام میں بھی تکفیری عناصر نے صدر بشار اسد کے خلاف بغاوت کا اعلان کر رکھا تھا۔ امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا کر شام پر یہ پابندیاں عائد کی تھیں۔ اسی طرح امریکہ نے 1979ء سے شام کو دہشت گردی کی حامی حکومتوں کی فہرست میں بھی شامل کیا تھا۔ شام کے خلاف امریکہ کی عائد کردہ پابندیاں "قیصر" نامی قانون کے تحت لگائی گئی تھیں جن کا بنیادی مقصد خطے میں ایسے تمام ممالک کو کمزور کرنا تھا جو کسی نہ کسی طرح اسرائیل کے مخالف اور دشمن تصور کیے جاتے تھے۔ چونکہ شام خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کا حصہ تصور کیا جاتا تھا لہذا اسے امریکی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شام پر امریکی پابندیوں کا نتیجہ خلیجی ریاستوں اور ترکی کی جانب سے شام میں سرمایہ کاری میں اہم رکاوٹ ثابت ہوئی ہیں۔ یہ وہ ممالک ہے جن کے بارے میں قوی امکان ہے کہ شام میں تعمیر نو پراجیکٹس انہیں سونپے جائیں گے۔ ٹرمپ حکومت نے شام پر اقتصادی پابندیاں ہٹانے میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی لیکن اس مقصد کے لیے کچھ چھوٹے چھوٹے اقدامات انجام پائے ہیں۔ مارچ میں رویٹرز نے رپورٹ دی تھی کہ امریکہ نے قطر کو اردن کی گیس پائپ لائن کے ذریعے شام کو گیس فراہمی کی اجازت دی ہے۔ اسی طرح اپریل کے شروع میں رویٹرز نے ایک اور رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب عالمی بینک میں شام کے قرضے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں شام میں تعمیر نو کے لیے کئی ملین ڈالر جمع ہو سکیں گے۔
احمد الشرع جو پہلے ابو محمد الجولانی کے نام سے معروف تھے نے 2000ء میں القاعدہ میں شمولیت اختیار کی اور 2003ء میں عراق پر امریکہ کی فوجی جارحیت کے دوران عراق میں سرگرم کردار ادا کیا۔ کوری ملز ٹرمپ کے سخت حامی ہیں جو عراق پر امریکہ کی فوجی جارحیت کے دوران فوج میں تھے اور اسنائپر شوٹر کے طور پر جنگ میں شامل تھے۔ اس کے بعد وہ فوجی ٹھیکیدار بن گئے۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق ملز نے احمد الشرع کو بتایا کہ وہ ان سے ایسے بات چیت کرنا چاہتا ہے جیسے "ایک سپاہی سپاہی سے بات کرتا ہے"۔ احمد الشرع کی جانب سے ابراہیم معاہدے میں شمولیت کی خواہش کے اظہار نے اسے متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے ساتھ لا کھڑا کیا ہے جنہوں نے 2020ء میں اس معاہدے میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
تحریر: علی احمدی
بندر عباس میں شہید رجائی پورٹ پر پیش آنے والے دردناک واقعے پر رہبر انقلاب اسلامی ایران کا پیغام
بندر عباس میں شہید رجائی پورٹ پر پیش آنے والے اندوھناک واقعے پر رہبر انقلاب اسلامی ایران نے اپنے پیغام میں سیکورٹی اور عدالتی عہدیداروں کو واقعے کا سبب بننے والی غفلت یا نیت کا پتہ لگانے اور باضابطہ کاروائی کا حکم دیا ہے۔ آپ نے کہا کہ میں ان بہادر لوگوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس مشکل وقت میں زخمیوں کو خون دینے کے لیے آمادہ رہے۔
بندر عباس کی شہید رجائی پورٹ میں آتشزدگی کے دردناک واقعے کے بعد آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں سوگوار خاندانوں سے تعزیت پیش کرتے ہوئے سیکیورٹی اور عدالتی عہدیداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کریں اور کسی بھی غفلت یا ارادے کا پردہ فاش کریں اور باضابطہ کاروائی کریں۔
رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن حسب ذیل ہے:
بسم الله الرّحمن الرّحیم
انا اللہ و انا الیہ راجعون
شہید رجائی پورٹ پر آتشزدگی کا دردناک واقعہ انتہائی افسوس اور تشویش کا باعث ہے۔
سیکورٹی اور عدالتی عہدیداروں پر فرض ہے کہ وہ مکمل چھان بین کریں، کسی غفلت یا نیت کا پردہ فاش کریں اور ضابطے کے مطابق کاروائی کریں۔۔
تمام عہدیدار اپنے آپ کو ہر حادثے اور تلخ واقعات کی روک تھام کا ذمہ دار سمجھیں۔
میں خدائے بزرگوار سے اس جانگداز واقعہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے رحمت و مغفرت اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبر و سکون اور اس المناک واقعے میں زخمی ہونے والوں کے لیے جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔
میں ان تمام لوگوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس مشکل وقت میں زخمیوں کو خون دینے کے لیے تیار رہے۔
والسلام علیکم و رحمةالله
سیّدعلی خامنهای
دنیا کی خاموشی، فلسطینی بچوں کا مزید قتل
امام صادق علیہ السلام نے امت اسلامیہ میں اعتدال پسند عقلیت کو متعارف کرایا
مہر خبررساں ایجنسی - گروہ دین و تفکر - عصمت علی آبادی: آج شیخ الائمہ حضرت امام جعفر بن محمد الصادق علیہ السلام کا یوم شہادت ہے۔ آپ علیہ السلام کی علمی وسعت کا سب سے بڑا مظہر یہ تھا کہ چار ہزار طلباء آپ کے علم کے سمندر سے سیراب ہوئے، تمام اسلامی تہذیبوں میں علم و ثقافت کی ترویج کی اور دینی علم اور احکام کا پرچم بلند کیا۔
اس سلسلے میں مہر ٹیم نے حجۃ الاسلام والمسلمین سید محمد باقر علم الہدیٰ سے گفتگو کی ہے جسے قارئین کے لئے ذیل میں پیش کیا جارہا ہے:
انہوں نے کہا کہ امام صادق علیہ السلام کے دور کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی حالات کا مختلف زاویوں سے بغور جائزہ لینا چاہیے۔

عباسی خاندان کے دور میں اس زمانے میں جو اہم ترین مسائل اور واقعات رونما ہوئے ان میں ثقافتی انحرافات، وسیع تر بدعتوں اور غلط عقائد کا وجود تھا جو اموی دور حکومت میں لوگوں میں رواج پا چکے تھے۔
امام نے محسوس کیا کہ انہیں معاشرے کی عمومی ثقافت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ خالص اسلام لوگوں کے دلوں میں داخل ہوسکے اور لوگوں کے دلوں کو ان بدعات سے پاک کیا جا سکے جو اسلام کے دور میں رونما ہوئی تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امام صادق علیہ السلام کے زمانے میں یہ موقع امامت کے بہترین سنہری دنوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا، یہ بے وجہ نہیں ہے کہ سب سے زیادہ علمی توسیع امام باقر اور خاص طور پر امام صادق علیہما السلام کے زمانے میں ہوئی۔ امام صادق علیہ السلام سماجی حالات کو بہترین طریقے سے منظم کرنے میں کامیاب ہوئے۔
ان شرائط کے لیے امام کو لوگوں کے سامنے ایک تعلیمی منصوبہ پیش کرنے کی ضرورت تھی اور اس نئے منصوبے میں انہوں نے عمومی افکار کو بدعتوں اور معاشرتی انحرافات سے دین کی حقیقت کی طرف موڑ دیں۔
امام صادق ع کے تعلیمی نظام میں عرفان اور خدا محوری
علم الہدی نے بتایا کہ امام صادق علیہ السلام کا تعلیمی نظام کئی اہم اصولوں پر مبنی تھا: اول، عرفان اور خدا کی بحث امام صادق کے تعلیمی نظام میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی، امام نے فرمایا کہ میں نے لوگوں کا تمام علم چار چیزوں میں پایا ہے: اپنے خدا کی معرفت، یہ جاننا کہ اس نے تمہیں کس طرح پیدا کیا، وہ تم سے کیا چاہتا ہے، اور یہ جاننا کہ کون سی چیز انسان کو دین سے خارج کر دیتی ہے۔
یہ امام صادق علیہ السلام کے مکتب کے تعلیمی اور تربیتی نظام کا مرکزی ڈھانچہ ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے انسانوں کو حقیقی کمال اور حقیقی بندگی تک پہنچنے کے لیے ان چار اہم اصولوں کو متعارف کرایا ہے۔ سیکولر نظاموں کے برخلاف، امام صادق (ع) نے لوگوں کے دلوں کو آخرت کی طرف راغب کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امام صادق علیہ السلام ایک ایسے دور میں آئے جب بعض فتنہ انگیز افکار نے لوگوں کی زندگیوں میں عقل کی چھٹی کرائی اور لوگوں کی زندگیوں کو صرف اور صرف روایات اور احادیث کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ، امام نے آکر معاشرے میں عقل کے مقام کو متعارف کرایا اور فرمایا کہ ایسا نہیں ہے کہ علم کے میدان میں عقل کی کوئی قدر نہیں ہے، حالانکہ اس زمانے میں دو مکتب فکر تھے۔ ایک مکتب عقلیت کا مخالف تھا جب کہ دوسرا عقلیت محض کا قائل تھا لیکن امام نے آکر لوگوں کے سامنے ایک معتدل عقلیت کا تعارف کرایا۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ میں منقول ہے کہ مالک بن انس سے کسی نے رحمن علی عرش الستوی کے بارے میں پوچھا تو مالک نے کہا کہ عرش پر غلبہ معلوم ہے اور اس کا معیار نامعلوم ہے۔ اس آیت پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے معیار کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگوں نے علم الٰہیات کی مخالفت کی۔
شافعی اور احمد بن حنبل جیسے لوگوں نے علم الٰہیات کی مسلسل مخالفت کی۔ اخباریوں کے مقابلے میں معتزلہ کے نام سے ایک اور گروہ نکلا۔ وہ انتہائی عقلیت پسند بھی تھے اور کہتے تھے کہ آیات و روایات میں جو چیز ظہور کے خلاف ہے اس پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔
اگر انہیں بہت سے مسائل کا کوئی عقلی جواز مل جائے تو وہ اسے قبول کر لیں گے۔ دوسری صورت میں، وہ ان کو مسترد کر دیں گے. یہ دونوں گروہ انتہا پر چلے گئے تھے۔
علم الہدی نے مزید کہا کہ یہیں پر امام صادق علیہ السلام نے لوگوں کے سامنے ایک معتدل عقلیت کو اس طرح متعارف کرایا کہ روایت اور عقل کے مقام اور حیثیت کو محفوظ رکھا اور دینی تعلیمات کو سمجھنے میں استدلال کے کردار کو اہمیت دی۔
ایک بیان میں امام صادق نے مفضل سے فرمایا کہ جو شخص عقل نہیں رکھتا وہ نجات نہیں پائے گا۔ پھر فرمایا کہ علم کے بغیر عقلیت بھی ممکن نہیں۔
عالم الھدی نے مزید کہا کہ امام صادق علیہ السلام کی تعلیمی خدمات میں سے ایک جس نے اس زمانے کے معاشرے کے نظم و نسق پر سب سے زیادہ اثر ڈالا مختلف علوم میں بلاتفریق مسلک ہزاروں شاگردوں کی تربیت تھی۔
ہم دیکھتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں بہت سے سنی مفکرین اور فقہا اور مختلف مکاتب فکر کے رہنما اور دانشور تھے۔" درحقیقت امام صادق علیہ السلام کا تعلیمی نظام ایک اعلیٰ انسانی یونیورسٹی کا حامل تھا جس نے ہر جگہ سے تمام فکری دھاروں کو قبول کیا اور اس وجہ سے ایران، شام، عراق سمیت مختلف مقامات کے طلباء ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر، چار سنی امام تھے جو امام صادق کے شاگرد تھے، اور ہر کوئی اپنے خیالات اور رائے کا اظہار کرنے میں مکمل طور پر آزاد تھا۔ امام صادق نے مخالف نظریات کا خیر مقدم کیا اور اپنے مخالفین کے ساتھ بہترین انداز میں بحث کی اور سائنسی مباحث کے ذریعے انہیں قائل کیا۔
علم الہدی نے مزید کہا کہ امام صادق علیہ السلام کے شاگردوں کا ایک قابل قدر اثر یہ تھا کہ لوگ رفتہ رفتہ خصوصی علوم کی طرف بڑھے اور امام صادق علیہ السلام کا تعلیمی نظام درحقیقت اس وقت اسلامی تمدن و تمدن کی تاریخ میں ایک جامع نمونہ تھا، یعنی امام نے مختلف علوم جیسے کیمسٹری، فزکس، فلکیات، ریاضی وغیرہ پر بھی توجہ دی۔
ان طلباء کے وجود نے امام صادق علیہ السلام کے عصری معاشرے کو ایک متحرک اور تحقیقی معاشرہ بنا دیا۔ اس لیے دشمنوں نے آہستہ آہستہ خطرہ محسوس کیا اور بالآخر امام کو شہید کر دیا۔
پاک بھارت کشیدگی، ایران کی ثالثی کی پیشکش
پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر خطے کے ممالک کی سفارتی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان ایران کے دو برادر اور ہمسایہ ممالک ہیں جن کے ساتھ ہمارے تعلقات کی تاریخ صدیوں پر مشتمل ہے۔ ہم انہیں دیگر ہمسایوں کی طرح اپنی اولین ترجیحات میں شمار کرتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں انہوں نے پیشکش کی کہ تہران اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان کشیدگی کے نازک موڑ پر نیک نیتی اور خیرسگالی کے تحت مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پیغام کے آخر میں فارسی شاعر سعدی شیرازی کے مشہور اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے:
بنی آدم اعضای یک پیکرند
که در آفرینش ز یک گوهرند
چو عضوی به درد آورد روزگار
دگر عضوها را نماند قرار
"بنی نوع انسان ایک جسم کے اعضا کی مانند ہیں
جو خلقت میں ایک ہی گوہر سے بنے ہیں
جب کسی بھی وقت ایک عضو کو درد ہوتا ہے
تو دوسرے اعضا بھی بے قرار ہو جاتے ہیں"
دہشت گردی کا کوئی دین، مذہب، یا مسلک نہیں ہوتا
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پہلگام، کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے خلاف ہندوستان میں ولی فقیہ کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الہی نے ایک مذمتی بیان جاری کیا ہے جس کا متن حسب ذیل ہے:
پہلگام، کشمیر میں معصوم عوام پر وحشیانہ اور دہشت گردانہ حملے کی خبر نے دل کو گہرے رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہم، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای (مدّ ظلّه العالی) کی حکیمانہ رہنمائیوں کی روشنی میں، یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایسے بزدلانہ اور دہشت گردانہ اقدامات انسانیت، اخلاق اور آسمانی ادیان کی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں۔
یہ غیر انسانی اور بے رحمانہ حملے نہ صرف ہندوستان کے شریف عوام کے خلاف ہیں بلکہ پوری انسانیت اور عالمی ضمیر کے خلاف بھی ہیں۔ یہ بات ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دہشت گردی کا کوئی دین، مذہب، یا مسلک نہیں ہوتا۔ ایسے انسانیت دشمن عناصر ان مجرمانہ اقدامات کے ذریعے دنیا کے امن و استحکام کو تہ و بالا کرنے کے درپے ہیں۔
آج پہلے سے کہیں زیادہ، ہمیں بیداری، اتحاد، محبت اور بھائی چارے کے ساتھ ان سازشوں کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے اور انسانوں کی عزت و حرمت اور امن کے تحفظ کی راہ پر گامزن رہنا ہوگا۔
میں اس جانسوز سانحے پر حکومت اور شریف ہندوستانی عوام، بالخصوص متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت پیش کرتا ہوں، اور خداوند متعال سے زخمیوں کی جلد شفا اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا گو ہوں۔
ان سخت لمحوں میں، ہم ہندوستان کے عزیز عوام اور حکومت کے ساتھ اپنی مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، اور پروردگار سے دعا گو ہیں کہ وہ اس سرزمین کو امن، سکون، بقائے باہمی اور صلح و آشتی کا گہوارہ بنائے۔
والسلام
عبدالمجید حکیم الهي
نمایندہ ولی فقیہ در ھند
امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم شہادت پر رہبر انقلاب اسلامی کا بصیرت افروز بیان؛
امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم شہادت کی مناسبت سے 24 اپریل 2025 کو مجلس عزا کے بعد رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے امام جعفر صادق علیہ السلام اور مسئلہ امامت کے موضوع پر بڑی اہم گفتگو کی جس کے کچھ اقتباسات حسب ذیل ہیں؛
...امام صادق (علیہ السلام) کے زمانے میں 'تقدیر الہی' کی بنا پر، نہ کہ حتمی قضائے الہی کے طور پر، ائمہ ہدی (علیہم السلام) کے حق میں ایک تبدیلی واقع ہونے والی تھی۔ متعدد روایات سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔ ایک روایت امام صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے جس میں آپ فرماتے ہیں: "بے شک اللہ تعالیٰ نے اس امر (یعنی حقیقی معنوں میں امامت) کو اپنی تقدیر میں سن 70 ہجری کے لیے مقرر کیا تھا۔" (کافی جلد صفحہ 368 قدرے فرق کے ساتھ)
دیکھیے! جب امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) نے معاویہ کے ساتھ صلح کی تو کچھ لوگ آ کر شکایت اور اعتراض کرتے تھے۔ حضرت فرماتے تھے: "تم نہیں جانتے، شاید یہ تمہارے لیے ایک آزمائش ہے اور ایک وقت تک کے لیے مفید ہے" یعنی یہ ایک عارضی دور ہے۔ امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کے کلمات سے اشارہ ملتا ہے کہ کفر ونفاق کا یہ غلبہ دائمی نہیں ہے، بلکہ تقدیر الہی میں یہ عارضی ہے۔ لیکن کب تک؟ سن 70 ہجری تک۔ یعنی اس روایت کے مطابق سن 70 ہجری میں اہل بیت میں سے جو بھی زندہ ہو گا، قیام کرے گا اور حکومت سنبھالے گا، اور حقیقی امامت قائم ہو جائے گی۔
پھر حضرت فرماتے ہیں: "لیکن جب امام حسین (علیہ السلام) شہید ہوئے، تو اہل زمین پر اللہ کا غضب شدت اختیار کر گیا اور اس نے اس تقدیر کو مؤخر کر کے سن 140 ہجری تک کے لیے ٹال دیا۔" یعنی واقعہ کربلا، لوگوں کی دینی اقدار سے بے اعتنائی اور ان کی روگردانی کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ تقدیر الہی مؤخر ہو گئی اور سن 140 تک کے لیے ملتوی ہو گئی۔ سن 140 ہجری امام صادق (علیہ السلام) کا زمانہ ہے کیونکہ آپ کی شہادت 148 ہجری میں ہوئی۔ شیعہ اس بات کو جانتے تھے، بلکہ شیعہ خواص کو اس کا علم تھا۔ اسی لیے ایک روایت میں ہے کہ زُرارہ جو امام کے قریبی اصحاب میں سے تھے، اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں: "تم اس تخت (خلافت) پر جعفر کے سوا کسی اور کو نہیں دیکھو گے۔"( رجال کشّی، صفحہ 156) اس روایت میں "اعواد" سے مراد منبرِ خلافت کی بنیادیں ہیں، یعنی میں دیکھ رہا ہوں کہ جعفر (علیہ السلام) ہی اس منبر پر متمکن ہوں گے۔ بات یہ ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ زُرارہ نے ہی جو کوفہ میں رہتے تھے، امام صادق (علیہ السلام) کو پیغام بھیجا اور عرض کیا: "ہمارے ایک شیعہ دوست پر قرض چڑھ گیا ہے، اور قرض خواہ اس کا پیچھا کر رہے ہیں۔ وہ رقم نہ ہونے کی وجہ سے شہر چھوڑ کر بے گھر ہو گیا ہے۔ اگر یہ معاملہ (یعنی خلافت کا قیام) ایک دو سال میں ہونے والا ہے — روایت کے الفاظ ہیں: 'هذا الأمر' یعنی اگر یہ واقع ہونے ہی والا ہے — تو وہ صبر کر لے، جب آپ حکومت سنبھال لیں گے تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ لیکن اگر یہ معاملہ طول پکڑنے والا ہے، تو دوست چندہ کر کے اس کا قرض ادا کر دیں۔" (رجال کشّی، صفحہ 157)
یعنی زُرارہ جیسے افراد کو توقع تھی کہ یہ واقعہ ایک دو سال میں رونما ہو جائے گا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ لوگ امام صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر بار بار پوچھتے تھے: "آقا! آپ قیام کیوں نہیں کرتے؟" یہ سب اس لیے تھا کہ وہ کسی چیز کے منتظر تھے — انہوں نے کوئی بات سن رکھی تھی، کوئی خبر ان تک پہنچی تھی۔
اس روایت کے بعد جس میں سن 140 ہجری کا تعین کیا گیا تھا، امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: "تم لوگوں نے (اس راز کو) افشا کر دیا، تو اللہ نے اسے مؤخر کر دیا۔" یعنی اگر شیعہ اپنی زبانوں پر قابو رکھتے اور اس راز کو فاش نہ کرتے، شاید اسی وقت مقررہ پر یہ واقعہ پیش آ جاتا۔ غور کیجئے! تاریخ کتنی بدل جاتی! بنی نوع انسان کا راستہ ہی کچھ اور ہوتا اور آج کی دنیا بالکل مختلف ہوتی۔
یعنی ہماری کوتاہیاں، کبھی ہماری بے احتیاط گفتگو، کبھی ہمارا ساتھ نہ دینا، کبھی بے جا اعتراضات، کبھی ہمارا صبر سے کام نہ لینا، کبھی حالات کی غلط تشریح - یہ سب کبھی کبھی ایسے تاریخی اثرات مرتب کرتے ہیں کہ پورا راستہ ہی بدل جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔
بے شک امام صادق (علیہ السلام) کی زندگی ایک غیر معمولی، حیرت انگیز اور کامیاب زندگی تھی، خاص طور پر اللہ کے احکام کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے حوالے سے۔ ہمارے پاس آپ (علیہ السلام) اور آپ کے اصحاب سے روایات کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ البتہ جب آپ کے چار ہزار(4000) شاگردوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو سننے والے کے ذہن میں یہ تصور آتا ہے کہ گویا حضرت نے کوئی درس شروع کیا ہو اور چار ہزار افراد ایک ہی وقت میں بیٹھ کر سبق حاصل کر رہے ہوں۔ معاملہ درحقیقت یوں نہیں ہے۔
دراصل، امام صادق (علیہ السلام) کی پوری زندگی میں مختلف اوقات میں آپ سے علم حاصل کرنے والے شاگردوں کی مجموعی تعداد چار ہزار تک پہنچتی ہے – جیسا کہ تاریخی کتابوں میں درج ہے۔ یعنی آپ کے چار ہزار راوی ہیں، یہی چار ہزار شاگردوں کا مطلب ہے۔ یہ نہیں کہ ایک ہی وقت میں چار ہزار افراد آپ کے درس میں شریک ہوتے تھے اور آپ انہیں تعلیم دیتے تھے۔
ہم ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی زندگی سے بہت کم واقف ہیں – نہ ہمیں ان کے کلمات کا مکمل علم ہے، نہ بیانات کا، نہ روایات کا اور نہ ہی ان کی زندگی کے حالات کا۔
جن روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ امام صادق (علیہ السلام) کو منصور کے سامنے پیش کیا گیا اور منصور نے آپ پر سخت غصہ کا اظہار کیا، پھر امام (علیہ السلام) نے کہا: "اے میرے چچا زاد! بڑے بڑے پیغمبر مظلوم واقع ہوئے، انہوں نے درگزر کیا، تم بھی ہمیں معاف کر دو" – میں بالکل واضح طور پر کہتا ہوں کہ یہ تمام باتیں جھوٹ ہیں، قطعی طور پر یہ واقعات حقیقت نہیں رکھتے۔ امام (علیہ السلام) کسی سے بھی اس طرح گفتگو نہیں کرتے، چاہے قتل ہو جانے کا خطرہ ہو یا نہ ہو، کسی بھی صورت میں۔ امام (علیہ السلام) کا اندازِ کلام ہی ایسا نہیں ہوتا۔ یہ روایت کس نے نقل کی ہے؟ ربیع نے – جو منصور کا خادم اور اس کا ہرکارہ تھا، ایک درباری جھوٹا شخص جس نے یہ قصہ گڑھ لیا۔
یہ روایت دراصل شیعوں کے جذبے کو کمزور کرنے کے لیے ایک ہتھکنڈہ ہے، اس لیے ایسی روایات کو نقل کرنے سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔ بعض لوگ بلاوجہ انہیں دہراتے ہیں، حالانکہ یہ صحیح روایات نہیں ہیں۔ ائمہ (علیہم السلام) ہمیں استقامت، ثابت قدمی اور منطق کی تعلیم دیتے ہیں – وہ اپنی گفتگو میں دلیل اور برہان سے کام لیتے ہیں، مخالف کو اس کی ہی باتوں میں الجھا دیتے ہیں۔
آپ غور کریں کہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) نے ابنِ زیاد کے دربار میں اور یزید کے سامنے کیسے حق گوئی اور بے خوفی کا مظاہرہ کیا! یہی سچا خطاب ہے، یہی ائمہ معصومین (علیہم السلام) کا اصل طریقہ ہے۔ جو کوئی بھی حق پر ڈٹ جاتا ہے، وہ درحقیقت ان ہستیوں کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔
آج بھی غزہ اور لبنان میں جو مجاہدین استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ عملاً انہی ائمہ ہدیٰ (علیہم السلام) کے راستے پر گامزن ہیں۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
