Super User

Super User

شام میں بیرونی مداخلت کے اثرات پورے خطہ پر مرتب ہونگے

رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام سید ساجد نقوی نے شام کی حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: دنیا بخوبی واقف ہوچکی ہے کہ سامرجی قوتوں کے سامنے اپنے مفادات ہوتے ہیں ۔

حجت الاسلام نقوی نے مسلمانوں کو اپنا نفع و نقصان خود پہچاننے کی تاکید کرتے ہوئے کہا: شام کا مسئلہ وہاں کی عوام پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ جو فیصلہ کریں وہ سب کے لئے قابل قبول ہو کیونکہ وہ ہی اس ملک کے مالک اور مختار ہیں طاقت سے حکومت تبدیل کرنے سے پورا خطہ متاثر ہوگا ۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ امریکہ حیلے اور بہانوں سے شام میں داخل ہونا چاہتا ہے جس کے نتائج سوائے تبائی کے کچھ نہیں ہیں کہا: اس مداخلت کا سارا نقصان عالم اسلام کو ہوگا اور اس سے خطے کے تمام ممالک متاثر ہوں گے ، دنیا جان چکی ہے کہ سامراجی طاقتوں کے سامنے اپنے مفادات ہوتے ہیں ، مسلمان اپنے نفع و نقصان کو پہنچاہیں، بین الاقوامی ادا رے ، جمہوریت کے چمپیئن اور انسانی حقوق کی تنظیمیں امریکہ کی دھمکیوں پر کیوں خاموش نہ رہیں ۔

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے قائم مقام سربراہ نے جامعہ الازہر کے بیان کو سراہتے ہوئے کہا: اسلامی ممالک کو متحد ہوکر مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایک سازش کے تحت پہلے شام کے حالات خراب کرنے اور تشدد کے ذریعے ایسے عناصر کو استعمال کیا جنہوں نے جاہلانہ تعصابات کی بنیاد پر بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا فرقہ وارانہ فسادات کا رنگ دینے کی کوشش کی اور اس کے بعد اب وہ حیلے بہانوں سے شام میں داخل ہوکر تباہی پھیلانا چاہتا ہے کہا: یہ تباہی شام تک محددو نہیں رہے گی بلکہ دوسرے ممالک کا بھی اس لپیٹ میں آنے کے خطرات موجود ہیں۔

سرزمین پاکستان کے اس نامور عالم دین نے یہ کہتے ہوئے کہ عراق کے حوالے سے بھی امریکہ اور اس کے حواریوں نے یہ ہی ڈھنڈورا پیٹا تھا کہ وہاں کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں مگر پوری دنیا نے دیکھا کہ یہ صرف امریکہ کا ڈھونگ تھا کہا: امریکہ اپنی طاقت کے نشے میں اس قدر بدمست ہاتھی بن چکا ہے کہ وہ اب اقوام متحدہ جیسے ادارے کو بھی خاطر میں نہیں لاتا جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سابقہ کردار سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ امریکی لونڈی بن چکی ہے اور اسی کے اشاروں پر ناچ رہی ہے ۔

انہوں نے اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم (او آئی سی) ، عرب لیگ پر بھی زور دیتے ہوئے کہ وہ اتحاد امت کا شیرازہ بکھرنے سے بچائیں اور شام کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف آواز بلند کرے کہا: مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل صرف اتحاد میں مضمر ہے اور دشمن وحدت کے شیرازے کو پارا پارا کرنا چاہتا ہے ہمیں اپنے مشترکہ دشمن کو پہنچاننا ہوگا ۔

شام کی صورتحال، امریکہ کی لبرل ڈیموکریسی کا شاخسانہتہران کی مرکزی نماز جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی کی امامت میں ادا کی گئي۔ خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں کہا کہ شام کی صورتحال مغربی ملکوں اور سب سے زیادہ بڑھ کر امریکہ کی لبرل ڈیموکریسی کا شاخسانہ ہے ۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے شام کے خلاف دشمن ملکوں بالخصوص امریکہ کی دھکمیوں اور شام میں جاری قتل و غارت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شام میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مغرب کی لبرل ڈیموکریسی کی شرمناک فکر کا نتیجہ ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ تقریبا تیس مہینوں سے شام، امریکہ، صیہونی حکومت سعودی عرب، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کی لگائي ہوئي آگ میں جل رہا ہے اور اس میں ہزاروں بے گناہ انسان جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں مارے جارہے ہیں۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے امریکی وزیرخارجہ کے اس بیان کو بڑا سفید جھوٹ قراردیا کہ امریکہ اس وقت شام میں القاعدہ دہشتگرد گروہ کے ساتھ کوئي تعاون نہیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موثق اطلاعات و شواہد کے مطابق القاعدہ دہشتگرد گروہ کو امریکہ اور اس کے حامی بعض علاقائي ملکوں کی طرف سے مالی اور فوجی مدد مل رہی ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ القاعدہ شام میں امریکہ کی پالیسیوں پر عمل کررہی ہے اور آج امریکہ شام میں اپنے اھداف حاصل کرنے کے لئے القاعدہ کی حمایت کررہا ہے اور اسی امریکہ نے کچھ برسوں قبل القاعدہ کے خلاف جدوجہد کے بہانے افغانستان پرحملہ کیا تھا۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے امریکی حکام کے اس دعوے کو مضحکہ قراردیا کہ شام کے صدر بشار اسد نے انسانیت کے خلاف تمام حدوں کو عبور کرلیا ہے اور کہا کہ گوانتانامو اور افغانستان و عراق میں امریکہ کی دیگر خفیہ جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک سے امریکہ دنیا میں انسانی حقوق پامال کرنے والا سب سے بڑا ملک بن جاتا ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے شام پر امریکہ کے خلاف امریکہ کے جارحانہ عزائم کے بارے میں کہا کہ امریکہ نے بشار اسد کی حکومت گرانے کے لئے اپنی سازشوں اور ہتھکنڈوں کی ناکامی کے بعد اب یہ یقین کرلیا ہے کہ شام میں اپنے اہداف حاصل کرنے کے لئے شام پرحملہ کرنے کےعلاوہ کوئي چارہ نہیں ہے۔ انہوں نےکہا کہ شام کو کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا ذمہ دار ٹھہرانا محض ایک بہانہ ہے کیونکہ جس فوج نے حالیہ مہینوں میں دہشتگردوں کےخلاف پے در پے کامیابیاں حاصل کی ہیں اسے کیمیاوی ہتھیار استمعال کرنے کی کوئي ضرورت نہیں ہے۔

رہبر معظم سے خبرگان کونسل کے سربراہ اور ارکان کی ملاقات

۲۰۱۳/۰۹/۰۵ -

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح (بروز جمعرات ) خبرگان کونسل کے سربراہ اور ارکان کے ساتھ ملاقات میں اپنے اہم خطاب میں ملک کے اہم مسائل ، علاقائي اور عالمی امور کے بارے میں جامع اور بلند مدت نگاہ کے سلسلے میں اسلامی نظام کے مختلف عہدوں پر کام کرنے والے اور منصوبہ بنانے والے تمام حکام کو بصیرت اور فراست کے ساتھ مؤقف اختیار کرنے اور انفعال سے دور رہنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: تمام حکام کو چاہیے کہ وہ اہداف ، کلی اور عمومی اسٹراٹیجک اور حقائق کے تین عناصر کے پیش نظر فیصلہ اور درست اور ٹھوس مؤقف اختیار کریں ،اور امید افزا مستقبل کے بارے میں عقلمندی اور خردمندی کے ہمراہ نظام کی اندرونی ساخت کو مضبوط بنانے، مشکلات حل کرنے اور اہداف کی سمت استقامت کے ساتھ آگے بڑھیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسائل اور حوادث کے بارے میں ہمہ گير، جامع اور بلند مدت نگاہ پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ان حوادث و واقعات میں ایک واقعہ اسلامی جمہوری نظام کی تشکیل کا واقعہ ہے، جو اسلام کے سہارے اس مادی دنیا میں تند و تیز طوفانوں کے باوجود رونما ہوا اور یہ عظیم واقعہ زیادہ تر معجزہ سے شباہت رکھتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز سے لیکر آج تک اسلامی نظام کے ساتھ عداوتوں اور دشمنیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ان تمام عداوتوں کی اصلی وجہ بھی اسلام ہی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی نظام کے مقابلے میں موجود دھڑے بندیوں، علاقائي اور عالمی مسائل کے بارے میں صحیح تجزيہ و تحلیل کو بھی ہمہ گير، بلند مدت اور حقائق پر مبنی نگاہ پر مشتمل قراردیتے ہوئے فرمایا: مغربی ایشیا کا علاقہ کئی برسوں سے استکبار کے حملوں کی زد میں رہا ہے لیکن ایسے شرائط کے باوجود اسلامی بیداری رونما ہوگئي جو ان کی مرضی اور منشاء کےبالکل خلاف ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی بیداری کے ختم ہونے کا تصور بالکل غلط تصور ہے کیونکہ اسلامی بیداری صرف کوئی سیاسی واقعہ نہیں تھا کہ جو بعض افراد کے آنے یا ان کے جانے سے ختم ہوجائے گا بلکہ اسلامی بیداری ، ہوشیاری ، تنبہ ، خود اعتمادی اور اسلام پر تکیہ واعتماد پر مشتمل ہےجسے اسلامی معاشرے میں کافی فروغ مل چکا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جو کچھ آج ہم علاقہ میں مشاہدہ کررہے ہیں یہ در حقیقت اسلامی بیدار کے خلاف استکبار، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا رد عمل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے استکبار کی جانب سے اپنے مفادات کی بنا پر علاقہ کے مسائل کو حل کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: علاقہ میں استکبار کی موجودگی جارحانہ ، تسلط پسندانہ ، منہ زوری اور اپنی موجودگی کے مقابلے میں ہر قسم کی استقامت کو ختم کرنے پر مشتمل ہے لیکن استکباری محاذ اس استقامت کو ختم نہین کرسکا ہے اور اس کے بعد بھی اسے ختم نہیں کرپائے گا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صہیونی حکومت کے محور پر اس علاقہ پر تسلط کو استکبار کا اصلی ہدف قراردیتے ہوئے فرمایا: شام کے حالیہ واقعات میں کیمیائی ہتھیاروں کو بہانہ بنانے کا مقصد بھی یہی ہے لیکن امریکی حکام لفاظی اور بیان بازی کے ذریعہ اپنے جارحانہ عزائم کو ایک انسانی مقصد کے لئےقراردے رہے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جو چیز امریکی سیاستدانوں کی نظر میں اہمیت نہیں رکھتی وہ انسانی مسائل ہی ہیں اور امریکیوں کا انسانی حمایت کا دعوی بالکل جھوٹا اور بے بنیاد ہے کیونکہ گوانتانامو، ابوغریب جیسی خوفناک جیلیں، صدام کی طرف سے حلبچہ اور ایرانی شہروں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر امریکہ کی خاموشی، افغانستان، پاکستان اور عراق میں بےگناہ عوام کے قتل عام کے ہولناک واقعات امریکی حکام کی سیاہ فائل میں موجود ہیں۔

رہبر معظم نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کو انسان اور انسانیت سے نہ کوئی دلچسپی تھی ، نہ ہے اور نہ ہی وہ اس کے پیچھے ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ہمارا اس بات پر یقین ہے کہ امریکہ شام میں بہت بڑی خطا کا مرتکب ہونے جارہا ہے اور اسی لئے وہ کاری ضرب کا احساس کررہا ہے اور وہ یقینی طور پر نقصان اٹھائے گا ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےتاکید کرتے ہوئے فرمایا: گذشتہ تیس سال کے عرصہ میں اسلامی نظام عداوتوں ، سازشوں اور دشمنیوں کے باوجود نہ صرف کمزور نہیں ہوا بلکہ اس کی قدرت، اقتدار اور استحکام میں نمایاں پیشرفت حاصل ہوئی ہے اور علاقائی اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےعلاقائی اور عالمی سطح پر تمام دھڑے بندیوں اور عداوتوں کے باوجود اسلامی جمہوری نظام کی تشکیل اور اس کے روز افزوں اقتدار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تمام حکام کو چاہیے کہ وہ اپنے فیصلے اور مؤقف بیان کرنے میں تین عناصر پر اپنی خاص توجہ مبذول کریں ۔1) اہداف و اصول،2) کلی و عمومی اسٹراٹیجک ، 3) حقائق و واقعیات۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اصولوں اور اہداف کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کا ہدف مادی اور معنوی لحاظ سے ترقی یافتہ اور پیشرفتہ اسلامی معاشرے کی تشکیل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ان اہداف تک پہنچنے کے لئے اسٹراٹیجک بھی واضح اور مشخص ہیں جن میں اسلامیت پر تکیہ، گوناگوں باہمی روابط میں نہ ظالم ہونا نہ مظلوم واقع ہونا، عوام کی آراء پر اعتماد کی اسٹراٹیجک ، عام تلاش و کام کی اسٹراٹیجک، قومی اتحاد کی اسٹراٹیجک شامل ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیسرے عنصر کے عنوان سے حقائق اور واقعیات پر دقیق اور درست نگاہ کو بہت ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: اصول و اہداف کے ہمراہ حقائق پر نگاہ بھی ضروری ہے اور حقائق پر نگاہ بھی صحیح، دقیق اور ہمہ گیر ہونی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے معاشرے میں اچھے و برے اور شیریں و تلخ حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملک کے مسائل پر نگاہ کرتے وقت صرف تلخ حقائق کو مد نظر نہیں رکھنا چاہیے بلکہ معاشرے میں موجود ممتاز افکار، فعال اور خلاق جوانوں ، دین کی جانب عوام بالخصوص جوانوں کی رغبت ، اسلامی اور دینی نعروں کی بقا اور علاقائی اور عالمی سطح پر اسلامی نظام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے اور ان اچھے اور شیریں حقائق کی بنیاد پر معاشرے میں موجود تلخ حقائق کو کم کرنے یا ختم کرنے کی تلاش و کوشش کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: بعض تلخ حقائق جو رکاوٹ کی شکل میں موجود ہیں انھیں ہدف کی جانب گامزن رہنے میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے بلکہ صحیح نگاہ کے ساتھ انھیں راستے سے ہٹانا چاہیے یا ان سے عبور کرجانا چاہیے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عشرہ اول میں حضرت امام خمینی (رہ) کی روش کو بھی اسی نہج پر قراردیتے ہوئے فرمایا: حضرت امام (رہ) نے حقائق پر کبھی اپنی آنکھیں بند نہیں کیں اور وہ کبھی ہدف اور اصول سے پیچھے نہیں ہٹے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: امام خمینی (رہ) وہی شخص ہیں جنھوں نے غاصب صہیونی حکومت کو کینسر کا غدد قراردیا تھا اور انھوں نے کبھی بھی اسرائیل کے بارے میں تقیہ سے کام نہیں لیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) نے کبھی امریکہ کی شرارتون کے مقابلے میں بھی تقیہ نہیں کیا اور اپنے معروف جملے میں فرمایا کہ " امریکہ بڑا شیطان ہے" ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: یہ جملہ بھی حضرت امام خمینی (رہ) کا ہے جس میں انھوں نے فرمایا" امریکی سفارتخانہ پر قبضہ دوسرا انقلاب اور شاید پہلے انقلاب سے اہم انقلاب ہے"۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کے پہلے عشرے میں حضرت امام خمینی (رہ) کی رفتار اور بیان میں مسلط کردہ جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جس دور میں سب یہ نعرہ " جنگ جنگ تا کامیابی " لگاتے تھے ،حضرت امام خمینی (رہ) فرماتے تھے" جنگ تا رفع فتنہ"

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس حصہ میں اپنے خطاب کو سمیٹتے ہوئے فرمایا: یہ حضرت امام خمینی (رہ) کی استقامت تھی جس نے اسلامی نظام کی بنیادوں کو مضبوط و مستحکم کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ان افراد اور ان ممالک کی حالت زار ہمارے سامنے ہے جو سامراجی طاقتوں کا دل جیتنے کے لئے اپنے اصول و اہداف سے منحرف ہوگئے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اگر مصر میں اسرائیل کے ساتھ مقابلہ کا نعرہ موجود ہوتا اور امریکی وعدوں کے مقابلے میں مصری پیچھے نہ ہٹتے یقینی طور پر مصر کی صورتحال ایسی نہ ہوتی کہ مصری عوام کو ذلیل کرنے والا ڈکٹیٹر جیل سے آزاد اور مصری عوام کا منتخب صدر جیل میں چلا جائے اور اس پر مقدمہ چلایا جائے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اگر مصر میں اصول پر استقامت دکھائی جاتی تو وہ مظاہرین جو قوم کے منتخبین کے مقابلے میں صف آرا تھے وہ بھی انھیں کے ساتھ آجاتے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اس حصہ میں ایک اہم نکتہ کی یاد دلاتے ہوئے فرمایا: دشمن علاقہ میں مذہبی اور گروہی اختلاف پیدا کرکے اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش میں ہے اور اختلاف ڈالنا دشمن کی اصلی اسٹراٹیجک ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دشمن تفرقہ کی اسٹراٹیجک پر عمل کرنے اور فتنہ کی آگ کو شعلہ ور کرنے کے لئے دو قسم کے مزدوروں اور غلاموں سے استفادہ کرتا ہے ایک تکفیری غلام اور مزدور ہیں جو اہلسنت کے پرچم کے سائے میں سرگرم عمل ہیں اور دوسرے شیعہ مزدور اور غلام ہیں جو شیعہ پرچم کے سائے میں کام کرتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دشمن کی اس عظیم سازش میں آنے والے افراد اور حکومت یقینی طور پر اسلام کو چوٹ پپہنچاتے ہیں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: شیعہ اور سنی بزرگ علماء کو ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ اسلامی گروہوں کے درمیان محاذ دشمن کی پالیسی کا حصہ ہے اور دشمن اس طرح اساسی مسئلہ سے توجہ منحرف کرنا چاہتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے معاشرے کے حقائق اور مسائل پر جامع اور بلند مدت نگاہ اور ملک میں موجود بعض مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملک کی مشکلات کو حل کرنے کا اصلی راستہ ، عقلمندی و خرد مندی کی بنیاد پر نظام کی اندرونی ساخت کو مضبوط بنانا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اقتصادی شعبہ میں درست مدیریت اور علمی و سائنسی پیشرفت کے ذریعہ ملک کی اندرونی ساخت کو مضبوط بنانا ممکن ہے۔

ایران، ترکمنستان کے ساتھ تعاون کرنے کا خواہاںاسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے ترکمنستان کے دارالحکومت عشق آباد میں ترکمنستان کے صدر قربان قلی بردی محمد اف سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں ان تعلقات میں توسیع لانے کی راہوں کا جائزہ لیا۔ ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر لاریجانی نے صدر قربان قلی بردی محمد اف سے کہا کہ ایران ترکمنستان کے ساتھ خاص طور سے بنیادی تنصیبات کی تعمیر جیسے سڑکوں، ریفائنریوں اور بجلی گھروں کی تعمیر نیز دیگر بڑے منصوبوں میں تعاون کرنے کا خواہاں ہے۔ ڈاکٹر لاریجانی نے علاقے میں امن و سکیورٹی کی برقراری کے بارے میں ایران و ترکمنستان کے مشترکہ مواقف کی طرف اشارہ کرتےہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کے تعاون میں مزید فروغ آتا رہے گا، اس ملاقات میں ترکمنستان کے صدر قربان قلی بردی محمد اف نے کہا کہ ان کاملک اپنی تمام تر توانائیوں کو بروئےکار لاتے ہوئے ایران کے ساتھ تعلقات میں توسیع لانے کی کوشش کرے گا۔ اس ملاقات میں یہ اتفاق کیا گیا کہ ایران اور ترکمنستان کا مشترکہ اقتصادی کمیشن باہمی تعاون بالخصوص تیل اور گيس کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی غرض سے منصوبہ بندی کرے گا۔

امریکی ڈرون حملے، پاکستان کے قومی اقتدار کی خلاف ورزیپاکستان نے ایک بار پھر امریکہ کی ڈرون جارحیت پر احتجاج کیا ہے۔ ڈان ویب سائٹ کے مطابق پاکستانی وزارت خارجہ نے آج ایک بیان میں قبائيلی علاقے شمالی وزیرستان پر امریکہ کے ڈرون طیاروں کے حملوں کی مذمت کی۔ اس بیان میں امریکہ کی ڈرون جارحیت کو پاکستان کے قومی اقتدار کی خلاف ورزی قرادیتے ہوئے ان حملوں کے فوری روکے جانے پر تاکید کی گئي ہے۔ واضح رہے امریکی ڈرون طیاروں نے جمعرات کو شمالی وزیرستان کے علاقے پرحملے کئے تھے جن میں چھے افراد کے ہلاک اور تین کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ دوسری طرف ریڈیو تہران کی پشتو سروس نے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ کے ڈرون حملے میں حقانی دہشتگرد گروہ کا ایک کمانڈر مارا گيا ہے۔

Wednesday, 04 September 2013 05:34

مسجد شہنشاہ - سرائيوو

مسجد شہنشاہ - سرائيوو

مسجد شہنشاہ (Emperor's Mosque) (بوسنیائی: Careva Džamija، ترکی: Hünkâr Camii) سرائیوو، بوسنیا و ہرزیگوینا میں ایک اہم تاریخی مقام ہے۔ یہ بوسنیا کی عثمانی فتح کے بعد تعمیر ہونے والی پہلی مسجد ہے جو 1457 میں تعمیر کی گئی۔

اسے عیسیکووچ ہرانوشک (Isaković-Hranušić) نے تعمیر کرایا اور اسے فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد فاتح سے منسوب کیا۔ اسے بلقان میں سلطنت عثمانیہ دور کی سب سے خوبصورت مساجد میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔

 

ہر صورت میں پورا ہوگا ایران - پاکستان گیس منصوبہپاکستان کے وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان - ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ہر صورت عمل ہو گا ۔

انہوں نے اسلام آباد میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سردیوں میں گھریلو صارفین کو کھانے پکانے کے اوقات میں گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ پاکستان کے وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ وہ اِسی ماہ ایران جائیں گے اور اپنے ایرانی ہم منصب سے گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد اور گیس کی قیمت پر بات کریں گے۔

وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ سردیوں میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی اولین ترجیح ہو گی ،گیس چوری کی روک تھام کیلئے بھاری سزاوٴں پر مبنی آرڈیننس جلد آجائے گا۔ ایک سوال پروزیر پٹرولیم نے کہا کہ عمران خان پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج کی بجائے قابل عمل حل بتائیں ، اس پر عمل درآمد کرنے کو تیار ہیں، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر حقیقت پسندانہ رویہ اپنایا ہے، ورنہ نئے نوٹ چھاپنا پڑتے جس سے مہنگائی بڑھتی۔

پاکستان اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیںپاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اسلحے کی دوڑ میں کمی اور ایٹمی عدم پھیلاوٴ کے اصول پر سختی سے کاربند ہے اور ایٹمی اثاثوں کی حفاظت اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کا بہترین نظام وضع کررکھاہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ پر رد عمل میں جاری ایک بیان میں ترجمان اعزاز احمد چودھری نے کہا ہے کہ ایٹمی صلاحیت جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام قائم رکھنے کیلئے ہے۔ ایٹمی طاقت کی حیثیت سے پاکستان کی پالیسی ضبط اور ذمہ داری کی ہے۔

پاکستان کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں پر پابندی کے بین الاقوامی معاہدوں پر سختی سے کاربند ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایٹمی مواد کی برآمد روکنے کیلئے جامع اور موثر اقدامات کیے ہیں، جن کا معیار انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے معیار کے مطابق ہے۔

یوم شہادت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام

روایات کے مطابق 25 شوال المکرم فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا یوم شہادت ہے۔ آپ نے اپنے والد بزرگوار حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے بعد اکتیس سال کی عمر میں ایک سو چودہ ہجری قمری کو لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کا فریضہ سنبھالا اور منصب امامت پر فائز ہوئے آپ کا دور امامت چونتیس برسوں پر محیط ہے۔ سن ایک سو چودہ سے ایک سو بتیس ہجری قمری تک اموی دور حکومت تھا جبکہ ایک سو بتیس سے لے کر ایک سو اڑتالیس ہجری قمری یعنی آپ کی شہادت تک عباسی حکمراں برسراقتدار تھے۔

جب آپ منصب امامت پر فائز ہوئے تو امویوں اور عباسیوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی جس کی بناپر اموی حکمرانوں کی توجہ خاندان رسالت سے کسی حد تک ہٹ گئی اور خاندان رسالت کے افراد نے امویوں کے ظلم و ستم سے کسی حد تک سکون کا سانس لیا ۔ اسی دور میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لئے بے پناہ کوششیں انجام دیں اور مدینے میں مسجد نبوی اور کوفہ شہر میں مسجد کوفہ کو یونیورسٹی میں تبدیل کردیا جہاں انہوں نے ہزاروں شاگردوں کی تربیت کی اور ایک عظیم علمی و فکری تحریک کی بنیاد ڈالی اس تحریک کو خوب پھلنے پھولنے کے مواقع ملے ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ‌زمانہ علوم و فنون کی توسیع اور دوسری ملتوں کے عقائد و نظریات اور تہذیب و ثقافت کے ساتھ اسلامی افکار و نظریات اور تہذیب و ثقافت کے تقابل اور علمی بحث و مناظرے کے اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ اسی زمانے میں ترجمے کے فن کو بڑی تیزی سے ترقی حاصل ہوئی اور عقائد و فلسفے دوسری ‌زبانوں سے عربی میں ترجمہ ہوئے ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا زمانہ تاریخ اسلام کا حساس ترین دور کہا جاسکتاہے ۔ اس زمانے میں ایک طرف تو امویوں اور عباسیوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی اور دوسری علویوں کی بھی مسلح تحریکیں جاری تھیں ۔ آپ نے ہمیشہ عوام کو حکمرانوں کی بدعنوانیوں اور غلط حرکتوں نیز غیراخلاقی و اسلامی سرگرمیوں سے آگاہ کیا ۔

آپ نے عوام کے عقائد و افکار کی اصلاح اور فکری شکوک و شبہات دور کرکے اسلام اور مسلمانوں کی فکری بنیادوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کی اور اہل بیت علیہم السلام کی فقہ و دانش کو اس قدر فروغ دیا اور اسلامی احکام کو دنیا میں اتنا پھیلایا کہ آپ کی تعلیمات نے جعفری مذہب کے نام سے شہرت اختیار کرلی ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے جتنی احادیث راویوں نے نقل کی ہیں اتنی کسی اور امام سے نقل نہیں کیں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کسب فیض کرنے والے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں بیان کی جاتی ہے جن میں ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ آپ کے ممتاز شاگردوں میں ہشام بن حکم، محمد بن مسلم ، ابان بن تفلب ، ہشام بن سالم ، مفصل بن عمر اور جابربن حیان کا نام خاص طور سے لیا جا سکتا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑا نام پیداکیا مثال کے طور پر ہشام بن حکم نے اکتیس کتابیں اور جابربن حیان نے دو سو ‌زائد کتابیں مختلف علوم و فنون میں تحریر کی ہیں۔ جابربن حیان کو علم کیمیا میں بڑی شہرت حاصل ہوئی اور وہ بابائے علم کیمیا کے نام سے مشہور ہیں۔ اہل سنت کے درمیان مشہور چاروں مکاتب فکر کے امام بلاواسطہ یا بالواسطہ امام جعفر صادق علیہ السلام کےشاگردوں میں شمار ہوتے ہیں خاص طور پر امام ابوحنیفہ نے تقریبا" دوسال تک براہ راست آپ سے کسب فیض کیا۔ آپ کے علمی مقام کا اعتراف کرتے ہوئے امام ابوحنیفہ نے کہاہے : " میں نے جعفر ابن محمد سے زیادہ پڑھا لکھا کوئی اور شخص نہیں دیکھا۔" ایک اور مقام پر امام ابوحنیفہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں گزارے ہوئے دو سالوں کے بارے میں کہا :

لولا السنتان ۔ لھک نعما

اگر یہ دوسال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہوجاتا

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت اور اخلاقی کمالات کے بارے میں مورخین نے بہت کچھ لکھاہے ۔

آپ کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ آپ لوگوں کے ساتھ انتہائی محبت اور مہربانی کے ساتھ پیش آتے تھے اور حاجت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کیا کرتے تھے اور لوگوں کو بھی اپنی باتوں کی نصیحت کرتے تھے ۔ آپ فرماتے ہیں : اپنے رشتے داروں کے ساتھ احسان کرو اور اپنے بھائیوں کے ساتھ نیکی کرو چاہے وہ سلام کرنے یا خندہ پیشانی کے ساتھ سلام کا جواب دینے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو ۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ‌زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتاہے ۔ پہلا دور وہ ہے جو آپ نے اپنے دادا امام زین العابدین علیہ السلام اور والد امام محمد باقر علیہ السلام کے زیر سایہ گزارا یہ دور سن تراسی ہجری سے لے کر ایک سو چودہ ہجری قمری تک پھیلا ہوا ہے ۔ دوسرا دور ایک سو چودہ ہجری سے ایک سو چالیس ہجری قمری پر محیط ہے اس دور میں امام جعفر صادق علیہ السلام کو اسلامی علوم و معارف پھیلانے کا بھرپور موقع ملا جس سے آپ نے بھرپور فا‏ئدہ اٹھایا ۔ اس دور میں آپ نے چارہزار سے زائد شاگردوں کی تربیت کی اور مکتب کو عروج پر پہنچایا ۔ تیسرا دور امام کی آخری آٹھ سال کی زندگی پر مشتمل ہے ۔ اس دور میں آپ پر عباسی خلیفہ منصور دوانیقی کی حکومت کا سخت دباؤ تھا اور آپ کی ہر قسم کی نقل و حرکت پر مستقل نظر رکھی جاتی تھی ۔ عباسیوں نے چونکہ خاندان پیغمبر کی حمایت و طرفداری کے نعرے کی آڑ میں اقتدار حاصل کیا تھا شروع شروع میں عباسیوں نے امام پر دباؤ نہیں ڈالا لیکن آہستہ آہستہ اپنے قدم جمانے اور اقتدار مضبوط کرنے کے بعد انہوں نے بھی امویوں کی روش اپنالی اور ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے محبین اور ان پر ظلم و ستم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا اور اس میں وہ امویوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے۔

ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کے بارے میں تبادلۂ خیالپاکستان میں ہندوستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر راگھون نے اسلام آباد میں پاکستانی وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز سے ملاقات کی۔اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں فریقین نے دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر کشیدگی سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں پاکستان اور ہندوستان کے مذاکراتی عمل سے متعلق اہم امور پر بھی غور کیا گیا جبکہ نیویارک میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور لندوستان کے وزیر اعظم منموہن کے درمیان ممکنہ ملاقات سے متعلق بھی امور زیر غور آئے۔

قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد میں ہندوستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر راگھون اور پاکستانی وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کے درمیان یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں انجام پائی ہے کہ حایہ دنوں کے دوران دونوں ملکوں کے مابین کشمیر کی کنٹرول لائن پر فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا ہے اور دونوں ہی جانب سے ایک دوسرے پر کنٹرول لائن پر فائر بندی کے سمجھوتے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔