Super User
کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا نے شام پر حملے کی مخالفت کی
پوپ فرانسس نے ہفتے کے روز امريکي منصوبے کي مخالفت کرتے ہوئے دنيا کے ممالک سے مطالبہ کيا کہ بشريت کو غم و اندوہ اور قتل و غارت سے نجات دلائيں ـ انہوں نے کہا کہ جنگ ہميشہ بشريت کي شکست شمار ہوتي ہےـ شہر ويٹيکن کے سينٹ پيٹر اسکوائر پر ايک لاکھ افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے کہا کہ تشدد اور جنگ کا خاتمہ موت پر ہوتا ہےـ
انہوں نے کہا کہ جنگ امن و چين کي شکست ہےـ پوپ فرانسس نے کہا کہ اسلحے فروغ پا رہے ہيں، ضمير سوئے ہوئے ہيں اور نابودي و رنج و موت کے منصوبوں کي توجيہ کي جا رہي ہےـ کيتھوليک پيشوا کي درخواست پر ويٹيکن اور دنيا کے مختلف ملکوں ميں بحران شام کے حل کے لئے دعائيہ تقريبيں منعقد ہوئيں ـ ياد رہے کہ امريکا شام پر حملے کے لئے عالمي اتحاد قائم کرنے کي کوشش کر رہا ہے۔
نبیل العربی: شام پر امریکہ کے ممکنہ حملے سے پورے خطے میں آگ لگ جائےگی
عرب لیگ کے جنرل سکریٹری نبیل العربی نے مصر کے اخبار الاہرام کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام پر امریکہ کے ممکنہ فوجی حملے سے پورے خطے میں آگ لگ جائے گی ۔ نبیل العربی نے دہشت گردوں کے ہولناک جرائم کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت کے اشتباہات زيادہ ہیں لیکن اس کے باوجود شام پر فوجی کارروائی سے پورے خطے میں جنگ کے شعلے بلند ہوجائیں گے۔ نبیل العربی نے عرب ليگ کی طرف سے امریکہ کی ہمنوائی کے بارے میں سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا اور عرب ممالک کے مسائل کو حل کرنے میں عرب لیگ کی ناکامی کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا عرب ذرائع کے مطابق عرب لیگ کا وجود عملی طور پر ختم ہوگیا ہے کہ یہ عربی تنظیم عملی طور پر امریکہ کی حامی تنظيم میں تبدیل ہوگئی ہے۔
آیت اللہ طاہری خرم آبادی کی تدفین، رہبر معظم کی تعزیت
رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آیت اللہ سید حسن طاہری خرم آبادی کے انتقال پر تعزیت پیش کی ہے۔ مرحوم آیت اللہ سید حسن طاہری ایران کے مغربی صوبے لرستان سے فقہاء کی کونسل یعنی مجلس خبرگان کے رکن تھے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا ہے کہ تقوا، اخلاص اور ہوشیاری و متانت اس مجاہد عالم دین کی اہم خصوصیات تھیں۔ آپ نے اپنے اس تعزیتی پیغام میں حضرت امام خمینی قدس سرہ کی تحریک میں آیت اللہ سید حسن طاہری خرم آبادی کے کردار اور انقلاب کی کامیابی کے بعد انقلاب کے ساتھ ان کی وفاداری کی قدر دانی کی۔ آیت اللہ سید حسن خرم آبادی کچھ مہینوں تک علیل رہنے کے بعد سنیچر سات ستمبر کو قم کے شہید بہشتی اسپتال میں انتقال کرگئے۔ آیت اللہ حسن طاہری خرم آبادی کو آج قم مقدسہ میں حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیھا کے روضہ اقدس میں سپرد خاک کیا گيا۔ آیت اللہ شبیر زنجانی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائي، مرحوم آیت اللہ طاہری خرم آبادی کی نماز جنازہ میں رہبرانقلاب اسلامی کے دفتر کے سربراہ محمدی گلپائيگانی، آیت اللہ جنتی، سید حسن خمینی، تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری محسن رضائي، مراجع عظام کے نمائندوں، مجریہ، مقننہ اور عدلیہ کے نمائندوں، اور دیگر سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔
گیارہ ممالک ایرانی صنعت پٹرولیم سے تجارت سے مستثنیٰ
امریکہ نے گيارہ ملکوں کو ایران کی صنعت تیل سے خرید و فروخت پر عائد پابندی سے مزید چھے ماہ تک کے لئے مستثنی کیا ہے۔ ان ملکوں میں جاپان اور یورپی یونین کے دس ممالک شامل ہیں۔ ادھر ایک غیر ملکی خبررساں ادارے نے خبردی ہے کہ امریکہ نے ایران کے چھے افراد اور چار کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ واضح رہے امریکہ اور یورپی یونین نے ایران کے تیل پر بھی پابندیاں عائد کردی ہیں اور اس طرح ایران کو پرامن ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔
شام کے خلاف امریکی اقدامات، عالمی دہشتگردی
حزب اللہ کے سینئر رہنماوں نے شام کے خلاف امریکہ کے جارحانہ عزائم کو عالمی دہشتگردی کا منصوبہ قراردیا جس کا مقصد علاقے اور دنیا کی حریت پسند اور خود مختار قوموں کو نقصان پہنچانا ہے۔ واضح رہے حزب اللہ اور تحریک امل نے جنوبی لبنان میں ایک مشترکہ بیان جاری کرکے کہا ہےکہ شام پرامریکہ کے حملوں سے عالمی امن تباہ ہوجائے گا۔ ان بیان میں آیا ہے کہ یہ حملے صیہونی حکومت کی حمایت اور صیہونی حکومت کے خلاف جاری مزاحمت کو نابود کرنے کی غرض سے ہونگے۔ اس بیان میں آیا ہےکہ علاقے میں صیہونی حکومت کےخلاف علاقے میں مزاحمت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مزاحمت صیہونی حکومت کے اھداف کی راہ میں رکاوٹ ہے جر قوموں کے ذخائر لوٹنا چاہتی ہے۔
آزاد خود مختار ملک پر حملے کا کوئی حق نہیں
جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے امریکہ کو یہ حق نہیں کہ خود ہی ہتھیار اٹھا کر شام پر چڑھائی کر دے ان کا کہنا تھا اقوام متحدہ امریکہ کو شام پر حملے کی اجازت دے یا نہ دے، کانگریس سے اجازت ملے یا نہ ملے اور امریکی صدر جو بھی اختیارات رکھتا ہو، اسے کسی بھی آزاد خود مختار ملک پر حملے کا کوئی حق نہیں۔
، جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ہم امریکہ کے اس کردار کی مخالفت کرتے ہیں اور عالمی برداری سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے امریکہ کو کسی بھی قسم کی جارحیت کرنے کی اجازت نہ دے۔ “
ان کا کہنا تھا امریکہ دنیا کا گاڈ فادر نہیں، اسکی غلامی میں ساری دنیا نہیں آسکتی۔ امریکہ کے اس کردار سے عالمی امن تباہ ہوسکتا ہے، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ پوری دنیا میں انصاف پسند اور اقدار پر یقین رکھنے والی قوتوں کو شام کے خلاف حملے کے امریکی موقف کی مخالفت کرنی چاہیے۔ اس سے پہلے مصر میں شب خون مارا گیا، افغانستان اور عراق کو تہہ تیغ کیا گیا اور اب شام میں ایسا کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
لیاقت بلوچ نے یہ بات زور دے کر کہی کہامریکہ اس وقت بدمست ہاتھی بنا ہوا ہے، اس لیے تمام مظلوم ملکوں کو اب متحد ہونا ہوگا
اورہم عالمی برداری سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شام پر حملے کے حوالے سے امریکہ کو کسی بھی قسم کی جارحیت کرنے کی اجازت نہ دے۔ ۔
حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ ماجده جناب " یوکابد" اور آپ کی بہن جناب کلثوم اور آپ كي بيوي جناب صفورا
جناب عمران کی زوجہ اور حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ " یوکابد" کے یہاں جب حضرت موسی کی ولادت ہوئی تو آپ بہت زیادہ مضطرب و پریشان ہوئیں کیونکہ فرعون نجومیوں کی بیان کردہ تعبیر کے مطابق اس خبر سے بے حد پریشان تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس کے قصر ظلم کو نیست و نابود کردے گا اسی بناء پر فرعون نے حکم دیدیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی بچہ پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے اور یوکابد کا بچہ بھی اسی برے زمرے میں شامل تھا لیکن ایسے گھٹن کے ماحول میں جو چیز ان کے سکون و اطمینان کا سہارا تھی وہ خداوندعالم پر ان کا ایمان تھا اور آپ اپنے بیٹے کی جان کی حفاظت کے لئے ہمیشہ اسی سے التجا و فریاد کرتی تھیں ۔ ایسے حساس ماحول میں پروردگار عالم نے یوکابد کے بچے کی حفاظت کے لئے ان کی طرف وحی کی جس کو قرآن کریم نے سورہ قصص کی ساتویں آیت میں بڑے ہی خوبصورت انداز سے بیان کیا ہے ارشاد ہوتا ہے : اور ہم نے مادر موسی کی طرف وحی کی کہ اپنے بچے کو دودھ پلاؤ اور اس کے بعد جب اس کی زندگی کا خوف پیدا ہو تو اسے دریا میں ڈال دو اور بالکل ڈرو نہیں اور پریشان نہ ہو کہ ہم اسے تمہاری طرف پلٹا دینے والے اور اسے مرسلین میں سے قرار دینے والے ہیں ۔
حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کا ایمان اور خدا پراعتماد اس بات کا سبب بنا کہ انہوں نے الہام الہی کے بعد کسی بھی طرح کی کوئی استقامت و مخالفت ظاہرنہیں کی بلکہ ماں کی محبت و ممتا اور احساس و جذبات کے باوجود خداوندمتعال کے حکم کی اطاعت کی اور اپنے بیٹے کو لکڑی کے صندوق میں رکھ کر دریائے نیل کی موجوں کے حوالے کردیا ۔
یوکابد ایک متقی و پرہیزگار خاتون تھیں اور ان کا دل ایمان الہی سے مملو تھا خداوندعالم کی ذات پر ان کا مکمل بھروسہ واعتماد اس بات کی علامت ہے کہ عورتوں میں احساس و جذبات کے ذریعے خدا سے قریب ہونے کا ذریعہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے ۔ جب یوکابد نے خدا پر اعتماد رکھتے ہوئے اپنے نور نظر کو دریائے نیل کی موجوں کے حوالے کردیا تو دریا کی موجوں نے حضرت موسی کو قصر فرعون تک پہنچادیا پروردگار عالم نے یوکابد کے بیٹے پر اپنا لطف و کرم کیا اور فرعون نے بھی آسیہ کی نصیحتوں کی بناء پر نہ صرف یہ کہ موسی کو قتل نہیں کیا بلکہ انہیں اپنے محل میں رہنے تک کی اجازت بھی دیدی ۔
حضرت موسی علیہ السلام بہت زیادہ بھوکے تھے اور دھیرے دھیرے ان کی بھوک میں شدت آرہی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت ہی بے چین و مضطرب ہوکر بار بار گریہ کررہے تھے ان کے رونے کی آواز فرعون کے محل میں گونجتی ہوئی ملکہ تک پہنچی جسے سن کر ملکہ لرز گئی ۔ فرعون کے سپاہیوں نے اس روتے ہوئے بچے کو سیراب کرنے کے لئے بہت سی دایہ کا انتظام کیا لیکن موسی نے کسی بھی دایہ کا دودھ نہیں پیا اگر چہ حضرت موسی کی والدہ نے خدا پر اعتماد و توکل کے ذریعے خود کو مطمئن کرلیا تھا لیکن حضرت موسی کے مستقبل کے حالات سے باخبر ہونا چاہتی تھیں اس لئے آپ نے موسی کی بہن کلثوم سے کہا کہ ان کے حالات پر نظر رکھیں اور انہوں نے ماں کے حکم کو بہترین طریقے سے نبھایا اور خود کو فرعون کے محل میں پہنچادیا تاکہ اپنے بھائی کے حالات معلوم کرسکیں ۔فرعون کے سپاہی کلثوم کو نہیں پہچانتے تھے فرعون کے مخصوص سپاہی بچے کو لے کر محل سے باہر آگئے تھے تاکہ ان کے لئے کوئی دایہ تلاش کریں عین اسی وقت موسی کی بہن کلثوم نے دور سے حضرت موسی کو دیکھا اور بہت ہی فراست وعقلمندی سے کہا کہ : " ميں ایک ایسی عورت کو پہچانتی ہوں جو اس بچے کو دودھ پلا سکتی ہے کیونکہ اس کا نومولود بچہ اس سے بچھڑ گیا ہے اور وہ آپ کے بچے کو دودھ پلانے کے لئے آمادہ ہے ۔ فرعون کے سپاہی بہت زیادہ خوش ہوگئے اور ان سے کہا کہ فورا اس عورت کو محل میں لے کر آؤ کلثوم کو جیسے ہی سپاہیوں نے اجازت دی وہ خوشی خوشی اپنی مادر گرامی کے پاس آئیں اور حضرت موسی کی سلامتی کی خبر دیتے ہوئے انہیں فرعون کے محل میں لے کر آگئیں ۔
یوکابد نے جب پروردگارعالم کے وعدے کو پورا ہوتے ہوئے دیکھا تو شکر الہی بجالاتے ہوئے خدا کے اولوالعزم پیغمبر کو آغوش میں لے لیا اور اپنے نورنظر کو دودھ پلاکر سیراب کردیا ۔ جی ہاں صرف یوکابد جیسی ماں ہی سزاوار تھیں جو خدا کے عظیم پیغمبر موسی کو دودھ پلاکر سیراب کریں کیونکہ خداوندعالم نہیں چاہتا تھا کہ موسی علیہ السلام حرام دودھ سے سیراب ہوں بلکہ وہ اپنے ماں کےطیب و طاہر اور پاکیزہ دودھ سے پروان چڑھیں تاکہ دشمنان خدا کے خلاف قیام کرسکيں اور مشرکوں اور ظالموں سے جنگ کریں اور اس طرح حضرت موسی علیہ السلام اپنی ماں کی آغوش عطوفت میں واپس پہنچ گئے ۔
فرزند رسول حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: کہ موسی کو ماں سے جدا ہوئے صرف ابھی تین ہی دن گذرے تھے کہ خدا نے بچے کو ماں سے ملا دیا ۔یوکابد نے دودھ بڑھائی کے بعد موسی کو آسیہ کے سپرد کردیا اور حضرت موسی فرعون کے محل میں آسیہ کے پاس پروان چڑھنے لگے ۔ یوکابد جیسی عظیم خاتون کی داستان زندگی ایمان ، یقین اور خدا پر کامل اعتماد سے پر تھی اور ہر زمانے و ہرنسل میں کمال و بلندی چاہنے والوں کے لئے لائق پیروی ہے ۔
حضرت موسی علیہ السلام کی زندگی سنوارنے اورنکھارنے میں جن دوسری خواتین نے اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ان میں سے ایک حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی اور آپ کی شریک حیات جناب صفورا تھیں حضرت موسی ابھی جوانی کی بہاریں ہی دیکھ رہے تھے کہ فرعون کی جانب سے دھمکیاں شروع ہوگئیں اور موسی نے مصر کو ترک کرکے خدا پر امید و اعتماد رکھتے ہوئے سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے مدین کی طرف روانہ ہوگئے وہ کئ دنوں تک برہنہ پا چلتے رہے اور جب اس سرزمین پر پہنچے تو وہاں دو لڑکیوں کو دیکھا جو کنویں کے پاس کھڑی تھیں اور اپنی بکریوں کے لئے پانی بھرنا چاہتی ہیں لیکن مردوں کی بھیڑ کی وجہ سے وہ کنویں تک نہیں پہنچ پارہی ہیں حضرت موسی نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ اس بیابان میں کیا کررہی ہو انہوں نے کہا کہ کچھ مجبوریوں کی وجہ سے ہم بکریاں چرانے نکلے ہیں کیونکہ میرے والد بہت ہی ضعیف ہیں اور ہمارے علاوہ ان کا کوئی نہیں ہے۔حضرت موسی نے لوگوں سے کہا تم لوگ کتنے خود غرض ہو کہ صرف اپنی ہی فکر میں مست و مگن ہو اور ذرہ برابر بھی ان عورتوں کی مدد نہیں کررہے ہو ؟ پھر حضرت موسی علیہ السلام ان کی مدد کے لئے گئے اور ان کی بکریوں کے لئے کنویں سے پانی نکالا ۔
لڑکیوں نے گھر آکر پورا ماجرا اپنے والد سے بیان کیا حضرت شعیب نے اپنی بیٹی صفورا سے کہا کہ جاؤ اور موسی کو گھر آنے کی دعوت دو صفورا کمال شرم و حیا کے ساتھ حضرت موسی کے پاس گئیں اور نہایت ہی ادب و احترام کے ساتھ پیغمبر خدا حضرت موسی کوگھر آنے کی دعوت دی ۔حضرت موسی کے دل میں امید کی ایک کرن جاگ اٹھی اور احساس کیا کہ ضرور کوئی اہم واقعہ رونما ہونے والا ہے بلکہ ایک عظیم شخصیت کے سامنے حاضرہونا ہے ۔حضرت موسی علیہ السلام حضرت شعیب کے گھر آئے، پورا گھر نور نبوت سے منور تھا حضرت موسی نے حضرت شعیب سے اپنا پورا واقعہ بیان کیا ادھر صفورا نے ایک پاک و پاکیزہ ، فاضل واسوہ اور بہترین شناخت و معرفت کے عنوان سے اپنے کو پیش کیا اور حضرت موسی کی رفتار وگفتار اور ان کے شریفانہ طرز عمل کا مشاہدہ کرکے انہیں نیک اور امین قراردیا ۔قرآن کریم سورہ قصص کی چھبیسویں آیت میں اس واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ان دونوں میں سے ایک لڑکی نے کہا کہ بابا آپ انہیں نوکر رکھ لیجئیے کہ آپ جسے بھی نوکر رکھنا چاہیں ان میں سب سے بہتر وہ ہوگا جو صاحب قوت بھی ہو اور امانتدار بھی ہو ۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے بھی اپنی بیٹی کے اس صحیح نظریہ کی تائید کی اور احساس کیا کہ صفورا ، حضرت موسی کو اپنے شوہر کے عنوان سے منتخب کرنا چاہتی ہیں لہذا آپ نے اس نیک امر کا استقبال کیا اور موسی سے کہا : کہ میں ان دونوں میں سے ایک بیٹی کا عقد آپ سے کرنا چاہتا ہوں بشرطیکہ آپ آٹھ سال تک میری خدمت کریں پھر اگر دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے احسان ہوگا اور میں آپ کو کوئی زحمت نہیں دینا چاہتاہوں انشاء اللہ آپ مجھے نیک بندوں میں سے پائیں گے ۔
حضرت موسی نے بھی آپ کی درخواست قبول کرلی اور معنویت و نورانیت سے معطر ماحول میں بڑی ہی سادگی کے ساتھ حضرت شعیب کے داماد بن گئے اور نہ صرف یہ کہ انہیں ایک باوفا بیوی نصیب ہوئی بلکہ پیغمبر خدا شعیب کے پاس ہی رہنے لگے اور ان سے بہت سےعلوم و معارف بھی سیکھے ۔ جب موسی مصر واپس جانے لگے تو صفورا بھی ان کے ساتھ مصر گئیں اور سخت حالات میں بھی اپنے شوہر کی معاون و مدد گار رہیں اور ایک بہترین و اسوہ خاتون کے عنوان سے اپنا عظیم کردار تاریخ کے دامن میں ثبت کردیا ۔
فلسفہ اور اسرار حج کیا ہیں؟
حج کے یہ عظیم الشان مناسک در اصل چار پہلو رکھتے ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسرے سے اہم اور مفید تر ہے:
۱۔ حج کا اخلاقی پہلو: حج کا سب سے مہم ترین فلسفہ یہی اخلاقی انقلاب ہے جو حج کرنے والے میںرونما ہوتا ہے، جس وقت انسان ”احرام“ باندھتا ہے تو ظاہری امتیازات، رنگ برنگ کے لباس اور زر و زیور جیسی تمام مادیات سے باہر نکال دیتا ہے، لذائذ کا حرام ہونا اور اصلاح نفس میں مشغول ہونا (جو کہ مُحرِم کا ایک فریضہ ہے) انسان کو مادیات سے دور کردیتا ہے اور نور و پاکیزگی اور روحانیت کے عالم میں پہنچا دیتا ہے اور عام حالات میں خیالی امتیازات اور ظاہری افتخارات کے بوجھ کو اچانک ختم کردیتا ہے جس سے انسان کو راحت اور سکون حا صل ہوتاہے۔
اس کے بعد حج کے دوسرے اعمال یکے بعد دیگرے انجام پاتے ہیں، جن سے انسان ،خدا سے لمحہ بہ لمحہ نزدیک ہوتا جاتا ہے اور خدا سے رابطہ مستحکم تر ہوتا جاتا ہے، یہ اعمال انسان کوگزشتہ گناہوں کی تاریکی سے نکال کر نور وپاکیزگی کی وادی میں پہنچا دیتے ہیں۔
حج کے تمام اعمال میں قدم قدم پر بت شکن ابراہیم، اسماعیل ذبیح اللہ اور ان کی مادر گرامی جناب ہاجرہ کی یاد تازہ ہوتی ہے جس سے ان کا ایثار اور قربانی انسان کی آنکھوں کے سامنے مجسم ہوجاتی ہے ، اور اس بات پر بھی توجہ کہ رہے سرزمین مکہ عام طور پر اور مسجد الحرام و خانہ کعبہ خاص طور پر پیغمبر اسلام (ص) ،ائمہ علیہم السلام اور صدر اسلام کے مسلمانوں کے جہاد کی یاد تازہ کردیتے ہیں،چنانچہ یہ اخلاقی انقلاب عمیق تر ہوجاتا ہے گویا انسان مسجد الحرام اور سر زمین مکہ کے ہر طرف اپنے خیالات میں پیغمبر اکرم (ص) ،حضرت علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ علیہم السلام کے نورانی چہروں کی زیارت کرتا ہے اور ان کی دل نشین آواز کو سنتا ہے۔
جی ہاں! یہ تمام چیزیں مل کر انسان کے دل میں ایک روحی اور اخلاقی انقلاب پیدا کردیتی ہیں گویا انسانی زندگی کی ناگفتہ بہ حالت کے صفحہ کو بند کردیا جاتا ہے اور اس کی بہترین زندگی کا نیا صفحہ کھل جاتا ہے۔
یہ بات بلا وجہ اسلامی روایات میں بیان نہیں ہوا ہے کہ ”یُخْرِجُ مِنْ ذُنُوبِہِ کَھَیئَتہ یَوم وُلِدتُّہُ اٴُمُّہُ!“(1) ”حج کرنے والا اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جیسے ابھی شکم مادر سے پیدا ہوا ہو“۔
جی ہاں! حج مسلمانوں کے لئے ایک نئی پیدائش ہے جس سے انسان کی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔
البتہ یہ تمام آثار و برکات ان لوگوں کے لئے نہیں ہیں جن کا حج صرف ظاہری پہلو رکھتا ہے جو حج کی حقیقت سے دور ہبں، اور نہ ہی ان لوگوں کے لئے جو حج کو ایک سیر و تفریح سمجھتے ہیں یا ریاکاری اور سامان کی خرید و فرو خت کے لئے جاتے ہیں ، اور جنھیں حج کی حقیقت کا علم نہیں ہے، ایسے لوگوں کا حج میں وہی حصہ ہے جو انھوں نے حاصل کرلیا ہے!
۲۔ حج کا سیاسی پہلو: ایک عظیم الشان فقیہ کے قول کے مطابق : حج در عین حال کہ خالص ترین اور عمیق ترین عبادت ہے، اس کے ساتھ اسلامی اغراض و مقاصد تک پہنچنے کے لئے بہترین وسیلہ ہے۔
روحِ عبادت ،خدا پر توجہ کرنا،روحِ سیاست یعنی خلق خدا پر توجہ کرنا ہے اور یہ دونوں چیزیں حج کے موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہیں!
حج مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کا بہترین سبب ہے۔
حج نسل پرستی اور علاقائی طبقات کے فرق کو ختم کرنے کے لئے بہترین ذریعہ ہے۔
حج اسلامی ممالک میں فوجی ظلم و ستم کے خاتمہ کا وسیلہ ہے۔
حج اسلامی ممالک کی سیاسی خبروں کو دوسرے مقامات تک پہنچانے کا وسیلہ ہے، خلاصہ یہ کہ حج؛ مسلمانوں پر ظلم و ستم اور استعمار کی زنجیروں کو کاٹنے اور مسلمانوں کو آزادی دلانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ حج کے موسم میں بنی امیہ اور بنی عباس جیسی ظالم و جابر حکومتیں اس موقع پر حجاج کی ملاقاتوں پر نظر رکھتی تھیں تاکہ آزادی کی تحریک کو وہیں کچل دیا جائے، کیونکہ حج کا موقع مسلمانوں کی آزادی کے لئے بہترین دریچہ تھا تاکہ مسلمان جمع ہوکر مختلف سیاسی مسائل کو حل کریں۔
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام جس وقت فرائض اور عبادات کا فلسفہ بیان کرتے ہیں تو حج کے بارے میں فرماتے ہیں: ”الحَجُّ تَقْوِیَةُ لِلدِّینِ“(2) (خداوندعالم نے حج کو آئین اسلام کی تقویت کے لئے واجب قرار دیا ہے)
بلا وجہ نہیں ہے کہ ایک غیر مسلم سیاست داں اپنی پُر معنی گفتگو میں کہتا ہے: ”وائے ہو مسلمانوں کے حال پر اگر حج کے معنی کو نہ سمجھیں اور وائے ہو اسلام کے دشمنوں پر کہ اگر حج کے معنی کوسمجھ لیں“!
یہاں تک اسلامی روایات میں حج کو ضعیف او رکمزور لوگوں کا جہاد قرار دیا گیا ہے اور ایک ایسا جہاد جس میں کمزور ضعیف مرد اور ضعیف عورتیں بھی حاضر ہوکر اسلامی شان و شوکت میں اضافہ کرسکتی ہیں، اور خانہ کعبہ میں نماز گزراوں میں شامل ہوکر تکبیر اور وحدت کے نعروں سے اسلامی دشمنوں کو خوف زدہ کرسکتے ہیں۔
۳۔ ثقافتی پہلو: مسلمانوں کا ایام حج میں دنیا بھر کے مسلمانوں سے ثقافتیرابطہ اور فکر و نظر کے انتقال کے لئے بہترین اور موثر ترین عامل ہوسکتا ہے۔
خصوصاً اس چیز کے پیش نظر کہ حج کا عظیم الشان اجتماع دنیا بھر کے مسلمانوں کی حقیقی نمائندگی ہے (کیونکہ حج کے لئے جانے والوں کے درمیان کوئی مصنوعی عامل موثر نہیں ہے، اور تمام قبائل، تمام زبانوں کے افراد حج کے لئے جمع ہوتے ہیں)
جیسا کہ اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے کہ حج کے فوائد میں سے ایک فائد ہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث اور اخبار ؛عالم اسلام میں نشر ہوں۔
”ہشام بن حکم“ حضرت امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہیں کہتے ہیں: میں نے امام علیہ السلام سے فلسفہٴ حج اور طواف کعبہ کے بارے میں سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”خداوندعالم نے ان تمام بندوں کو پیدا کیا ہے اور دین و دنیا کی مصلحت کے پیش نظر ان کے لئے احکام مقرر کئے، ان میں مشرق و مغرب سے (حج کے لئے) آنے والے لوگوں کے لئے حج واجب قرار دیا تاکہ مسلمان ایک دوسرے کو اچھی طرح پہچان لیں اور اس کے حالات سے باخبر ہوں، ہر گروہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں تجارتی سامان منتقل کرے اور پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث و آثار کی معرفت حاصل ہو اور حجاج ان کو ذہن نشین کرلیں ان کو کبھی فراموش نہ کریں، (اور دوسروں تک پہونچائیں)(3)
اسی وجہ سے ظالم و جابر خلفاء اور سلاطین ؛مسلمانوں کو ان چیزوں کے نشر کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ، وہ خود اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مشکلوں کو دور کرتے تھے اور ائمہ معصومین علیہم السلام اور بزرگ علمائے دین سے ملاقات کرکے قوانین اسلامی اور سنت پیغمبر پر پردہ ڈالتے تھے۔
اس کے علا وہ حج ؛عالمی پیمانہ پر ایک عظیم الشان کانفرنس کا نام ہے جس میں دنیا بھر کے تمام مسلمان مکہ معظمہ میں جمع ہوتے ہیں اور اپنے افکار اورابتکارات کو دوسرے کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
اصولی طور پر ہماری سب سے بڑی بد بختی یہ ہے کہ اسلامی ممالک کی سرحدوں نے مسلمانوں کی ثقافت میں جدائی ڈال دی ہے، ہر ملک کا مسلمان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے، جس سے اسلامی معاشرہ کی وحدت نیست و نابود ہوگئی ہے، لیکن حج کے ایام میں اس اتحاد اور اسلامی ثقافت کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے۔
چنانچہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے (اسی ہشام بن حکم کی روایت کے ذیل میں): جن قوموں نے صرف اپنے ملک ،شہروں اور اپنے یہاں در پیش مسائل کی گفتگو کی تو وہ ساری قومیں نابود ہوجائیں گی اور ان کے ملک تباہ و برباد اور ان کے منافع ختم ہوجائیں گے اور ان کی حقیقی خبریں پشتِ پردہ رہ جائیں گی۔(4)
۴۔ حج کا اقتصادی پہلو: بعض لوگوں کے نظریہ کے برخلاف ؛ حج کا موسم اسلامی ممالک کی اقتصادی بنیاد کو مستحکم بنانے کے لئے نہ صرف ”حقیقتِ حج“ سے کوئی منافات نہیں رکھتا بلکہ اسلامی روایات کے مطابق؛ حج کا ایک فلسفہ ہے۔
اس میں کیا حرج ہے کہ اس عظیم الشان اجتماع میں اسلامی مشترک بازار کی بنیاد ڈالیں اور تجارتی اسباب و وسائل کے سلسلہ میں ایسا قدم اٹھائیں جس سے دشمن کی جیب میں پیسہ نہ جائے اور نہ ہی مسلمانوں کا اقتصاد دشمن کے ہاتھوں میں رہے، یہ دنیا پرستی نہیں ہے بلکہ عین عبادت اور جہاد ہے۔
ہشام بن حکم کی اسی روایت میں حضرت امام صادق علیہ السلام نے حج کے فلسفہ کو بیان کرتے ہوئے صاف صاف اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسلمانوں کی تجارت کو فروغ دینا اور اقتصادی تعلقات میں سہولت قائم کرنا ؛حج کے اغراض و مقاصدمیں سے ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے آیہٴ شریفہ <لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اٴَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ>(5) کے ذیل میں بیان ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: اس آیت سے مراد کسب روزی ہے، ”فاذااحل الرجل من احرامہ و قضی فلیشتر ولیبع فی الموسم“() ”جس وقت انسان احرام سے فارغ ہوجاتا ہے اور مناسکِ حج کو انجام دے لیتا ہے تو اسی موسم حج میں خرید و فروخت کرے (اور یہ چیز نہ صرف حرام نہیں ہے بلکہ اس میں ثواب بھی ہے)(6)
اور حضرت امام رضا علیہ السلام سے منقول فلسفہٴ حج کے بارے میں ایک تفصیلی حدیث کے ذیل میںیہی معنی بیان ہوئے ہیں جس کے آخر میں ارشاد ہوا ہے: ”لِیَشْھَدُوا مَنَافِعَ لَھُم“(7)
آیہٴ شریفہ”لیشھدوا منافع لھم“ معنوی منافع کو بھی شامل ہوتی ہے اور مادی منافع کو بھی، لیکن ایک لحاظ سے دونوں معنوی منافع ہیں۔
مختصر یہ کہ اگر اس عظیم الشان عبادت سے صحیح اور کامل طور پر استفادہ کیا جائے ، اور خانہ خدا کے زائرین ان دنوں میں جبکہ وہ اس مقدس سر زمین پر بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ حاضر ہیں اور ان کے دل آمادہ ہیں تو اسلامی معاشرہ کی مختلف مشکلات دور کرنے کے لئے سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی کانفرنس کے ذریعہ فا ئدہ اٹھائیں، یہ عبادت ہر پہلو سے مشکل کشا ہوسکتی ہے، اور شاید اسی وجہ سے حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”لایزال الدین قائما ما قامت الکعبة“(8) ”جب تک خانہٴ کعبہ باقی ہے اس وقت تک اسلام بھی باقی رہے گا“۔
اور اسی طرح حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: خانہ خدا کو نہ بھلاؤ کہ اگر تم نے اسے بھلا دیا تو ہلاک ہوجاؤ گے، ” الله الله فِی بَیتِ ربّکُم لاتَخْلُوہُ مَا بَقِیتُمْ فَإنّہُ إنْ َترَکَ لَم تَنَاظَرُوا“(42) (خدا کے لئے تمہیں خانہ خدا کے بارے میں تلقین کرتا ہوں اس کو خالی نہ چھوڑ نا، اور اگر تم نے چھوڑ دیا تو مہلت الٰہی تم سے اٹھالی جائے گی۔)
اور اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اسلامی روایات میں ایک فصل اس عنوان سے بیان کی گئی کہ اگر ایک سال ایسا آجائے کہ مسلمان حج کے لئے نہ جا ئیں تو اسلامی حکومت پر واجب ہے کہ مسلمانوں کو مکہ معظمہ جانے پر مجبور کرے۔(9)(10)
”حج“ ایک اہم انسان ساز عبادت ہے
حج کا سفر در اصل بہت عظیم ہجرت ہے، ایک الٰہی سفر ہے اور اصلاح نیز جہاد اکبر کا وسیع میدان ہے۔
اعمال حج؛ حقیقت میں ایک ایسی عبادت ہے جس میں جناب ابراہیم اور ان کے بیٹے جناب اسماعیل اور ان کی زوجہ حضرت ہاجرہ کی قربانیوں اور مجاہدت کی یاد تازہ ہوتی ہے ، اور اگر ہم اسرار حج کے بارے میں اس نکتہ سے غافل ہوجائیں تو بہت سے اعمال ایک معمہ بن کر رہ جائیں گے ، جی ہاں! اس معمہ کو حل کرنے کی کنجی انھیں عمیق مطالب پر توجہ دینا ہے۔
جس وقت ہم سر زمین منیٰ کی قربانگاہ میں جاتے ہیں تو تعجب کرتے ہیں، یہ اس قدرقربانی کس لئے؟ کیا حیوانات کی قربانی عبادت ہوسکتی ہے؟!
لیکن جس وقت قربانی کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے نور نظر ،پارہ جگر اور اپنے ہر دل عزیز بیٹے کو راہ خدا میں قربان کردیا، جو ایک سنت ابراہیمی بن گیا اور منی میں اس یاد میں قربانی ہونے لگی تو اس کام کا فلسفہ سمجھ میں اجا تا ہے۔
قربانی کرنا خدا کی راہ میں تمام چیزوں سے گزرنے کا راز ہے، قربانی کرنا یعنی اس بات کا ظاہر کرنا ہے کہ اس کا دل غیر خدا سے خالی ہے،حج کے اعمال سے اسی وقت ضروری مقدار میں تربیتی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جب ذبح اسماعیل اور قربانی کے وقت اس باپ کے احساسات کو مد نظر رکھا جائے، اور وہی احساسات ان کے اندر جلوہ گر ہوجائیں۔(1)
جس وقت ہم ”جمرات“ کی طرف جاتے ہیں ( یعنی وہ تین مخصوص پتھر جن پر حجاج کو کنکری مارنا ہوتی ہیں، اور ہر بار سات کنکر مارنا ہوتی ہیں) توہمارے سامنے یہ سوال پیش آتا ہے کہ اس مجسمہ
(1) افسوس کہ ہمارے زمانہ میں منی میں قربانی کا طریقہ کار رضایت بخش نہیں ہے لہٰذا علمائے اسلام کو اس سلسلہ میں توجہ دینا چاہئے
پر سنگ باری کا کیا مقصد ہے؟ اور اس سے کیا مشکل حل ہوسکتی ہے؟ لیکن جس وقت ہم یاد کرتے ہیں کہ یہ سب بت شکن قہر مان جناب ابراہیم علیہ السلام کی یاد ہے ، آپ کی راہ میں تین بار شیطان آیا تا کہ آپ کو اس عظیم ”جہاد اکبر“سے رو ک دے یا شک و شبہ میں مبتلا کردے لیکن ہر بار توحید کے علمبر دار نے شیطان کو پتھر مار کر دور بھگا دیا،لہٰذا اگر اس واقعہ کو یاد کریں تو پھر ”رمی جمرات“ کا مقصد سمجھ میں آجاتا ہے۔
رمی جمرات کا مقصد یہ ہے کہ ہم سب جہاد اکبر کے موقع پر شیطانی وسوسوں سے روبرو ہوتے ہیں اور جب تک ان کو سنگسار نہ کریں گے اور اپنے سے دور نہ بھگائیں گے تواس پر غالب نہیں ہوسکتے۔
اگر تمہیں اس بات کی امید ہے کہ خداوندعالم نے جس طرح جناب ابراہیم علیہ السلام پر درود و سلام بھیجا اور ان کی یاد کو ہمیشہ کے لئے باقی رکھا ہے اگر تم بھی یہ چاہتے ہو کہ وہ تم پر نظر رحمت کرے تو پھر راہ ابراہیم پر قدم بڑھاؤ۔
یا جس وقت ”صفا“ اور ”مروہ“ پر جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ حجاج گروہ در گروہ ایک چھوٹی پہاڑی سے دوسری چھوٹی پہاڑی پر جاتے ہیں، اور پھر وہاں سے اسی پہاڑی پر واپس آجاتے ہیں ، اور پھر اسی طرح اس عمل کی تکرار کرتے ہیں، کبھی آہستہ چلتے ہیں تو کبھی دوڑتے ہیں، واقعاً تعجب ہوتا ہے کہ یہ کیا ہے؟! اور اس کا مقصد کیا ہے؟!
لیکن جب ایک نظر اس با ایمان خاتون حضرت ہاجرہ کے واقعہ پر ڈالتے ہیں جو اپنے شیر خوار فرزند اسماعیل کی جان کے لئے اس بے آب و گیاہ بیابان میں اس پہاڑی سے اس پہاڑی پر جاتی ہیں، اس واقعہ کو یاد کرتے ہیں کہ خداوندعالم نے حضرت ہاجرہ کی سعی و کوشش کو کس طرح منزل مقصود تک پہنچایا اور اور ان کے نو مولود بچہ کے پیروں کے نیچے چشمہٴ زمزم جاری کیا، تو اچانک زمانہ پیچھے ہٹتا دکھائی دیتا ہے اور پردے ہٹ جاتے ہیں اور ہم اپنے کو جناب ہاجرہ کے پاس دیکھتے ہیں اور ہم بھی ان کے ساتھ سعی و کوشش میں مشغول ہوجاتے ہیں کہ راہ خدا میں سعی و کوشش کے بغیر منزل نہیں مل سکتی!
(قارئین کرام!) ہماری مذکورہ گفتگوکے ذریعہ آسانی کے ساتھ یہ نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ ”حج“ کو ان اسرار و رموز کے ذریعہ تعلیم دیا جائے اور جناب ابراہیم، ان کی زوجہ اور ان کے فرزند اسماعیل کی یاد کو قدم قدم پر مجسم بنایا جائے تاکہ اس کے فلسفہ کو سمجھ سکیں، اور حجاج کے دل و جان میں حج کی اخلاقی تاثیر جلوہ گر ہو ، کیونکہ ان آثار کے بغیر حج کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔(11)
________________________________________
(1) بحار الانوار ، جلد ۹۹، صفحہ ۲۶
(2) نہج البلاغہ، کلمات قصار ، نمبر ۲۵۲
(3) وسائل الشیعہ ، جلد ۸، صفحہ ۹ (4) وسائل الشیعہ ، جلد ۸، صفحہ ۹
(4) سورہٴ بقرہ ، آیت ۱۹۸ (ترجمہ آیت: ”تمہارے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ اپنے پروردگار کے فضل وکرم کو تلاش کرو“)
(5) تفسیر عیاشی، تفسیر المیزان ، جلد ۲ ، صفحہ ۸۶ کی نقل کے مطابق
(6) بحار الاانوار ، جلد ۹۹، صفحہ ۳۲
(7) وسائل الشیعہ ، ، جلد ۸، صفحہ ۱۴
(8) نہج البلاغہ ،وصیت نامہ سے اقتباس۴۷
(9) وسائل الشیعہ ، جلد۸، صفحہ ۱۵”باب وجوب اجبار الوالی الناس علی الحج“
(10) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۴، صفحہ ۷۶
(11) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۹، صفحہ ۱۲۵
نمازی نماز کو خدا سے ملاقات کے وقت کی نگاہ سے دیکھے
رہبر معظم کا نماز کے بائیسویں اجلاس کے نام پیغام
نمازی نماز کو خدا سے ملاقات کے وقت کی نگاہ سے دیکھے
رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم کے پیغام کو صوبہ لرستان میں ولی فقیہ کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین میر عمادی نےنماز کے بائیسویں اجلاس میں پیش کیا ، رہبر معظم انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قرآن مجید نے قدرتمند اور متمکن مؤمنین کی تعریف و توصیف اور ان کے سرفہرست وظائف میں نماز کا نام لیا ہے: الذین ان مکنّاهم فی الارض اقاموا الصلاة...
فریضہ نماز، انسان کے انفرادی عمل میں اس کی کیفیت پر توجہ دینے سے تحقق پاتا ہے جبکہ اجتماعی عمل میں عام سطح پر اس کی تبلیغ اور ترویج کے ذریعے محقق ہوتا ہے۔
نماز کی کیفیت سے مراد یہ ہے کہ نماز کو خضوع و خشوع اور حضور قلب کے ساتھ ادا کرے، نمازی نماز کو ’’ خدا سے ملاقات کے وقت‘‘ کی نگاہ سے دیکھے اور اس میں اپنے خدا سے گفتگو کرے جب تک ممکن ہو نماز کو مسجد میں اور جماعت کے ساتھ ادا کرے۔
نماز کی ترویج، ہر وہ عمل اور تلاش ہے جو نماز کو عام کرنے، اس کی اہمیت کو بیان کرنے اور اس تک رسائی کو آسان بنانے کی راہ میں انجام پائے۔
صاحبان فکر، اپنے بیان،زبان اور تحریر؛ ذرائع ابلاغ اور اہل منبر اپنےجذاب ہنر ؛ اور تمام ادارے اپنی وسعت کے مطابق نماز کے سلسلے میں اپنی عظیم ذمہ داری کو ادا کر سکتے ہیں۔
چھوٹے و بڑے شہروں اور دیہاتوں میں مساجد کی کمی، کھیل کے اسٹڈیموں، بوستانوں، اسٹیشنوں اور دیگرسماجی جگہوں جیسے مراکز میں نماز کی جگہ کی قلت، حمل و نقل کے وسائل میں نماز کے وقت کی عدم رعایت، درسی کتب میں نماز کی اہمیت پر عدم توجہ، مساجد میں صحت اور پاکیزگی کے امور پر عدم توجہ، امام اور مامومین کے درمیان رابطہ پر عدم توجہ اور ان جیسی دیگر خامیاں ایسے کمزور نقاط ہیں جن کو ہمت اور تلاش و کوشش کے ذریعہ دور کرنے کی ضرورت ہے اور نماز برپا کرنا متمکن افراد کے ایمان کی علامت ہے جسے ہمارے اسلامی معاشرے میں روزبروز نمایاں تر ہونا چاہیے، انشاء اللہ ۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
سید علی خامنہ ای ۲ستمبر ۲۰۱۳
ہندوستان، بانی پاکستان کی تقاریر پاکستان کے سپرد
ہندستان نے پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی دو اہم تقریروں کی ریکارڈنگ پاکستانی حکام کے سپرد کر دی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ محمد علی جناح کی ان تقاریر میں سے ایک تقریر تقسیم سے دو ماہ قبل تین جون، 1947 سے متعلق ہے ۔ جس میں وہ شمال مغربی پاکستان میں پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ جانے کو لے کر ریفرنڈم کرائے جانے پر اپنے رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔دوسری تقریر 14 اگست، 1947 سے متعلق ہے اس تقریرمیں وہ پاکستان میں تمام کمیونٹیز کی فلاح کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ پاکستان ریڈیو کے ایک اعلی عہدیدار جاوید خان جدون نے کہا ہے کہ ہمیں دونوں تقریریں مل گئی ہیں۔ پاکستان بہت خوش ہے اور ہم آكاشواني کے شكرگزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں تقریر انٹرنیٹ کے ذریعے ملیں اور حکام نے انہیں ڈاؤن لوڈ کیا اور پھر ان کو محفوظ کرنے کے لئے سی ڈیز بنائی گئیں۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
