Super User
فرعون کی زوجہ
فرعون اور اس کی زوجہ اپنے محل کے قریب دریائے نیل کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان کی نگاہیں ایک سیاہ چیز پر پڑیں جو پانی کے اوپر تیر رہی تھی ۔ انہوں نے دور ہی سے یہ اندازہ کرلیا تھا کہ سطح آب پر بہنے والی شئے کوئی اور چیز نہیں بلکہ لکڑی کا صندوق ہے جو ان کی جانب رواں دواں ہے ۔صندوق دھیرے دھیرے ان کے قریب پہنچ گیا فرعون نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ صندوق کو پانی سے باہر نکال لو حکم ملتے ہی صندوق باہر نکالا گیا اور جب اسے کھولا گیا تو اس میں ایک خوبصورت بچہ نظر آیا ۔ وہ پیغمبر خدا حضرت موسی علیہ السلام تھے جنہیں ان کی والدہ ماجدہ نے پروردگار عالم کے حکم اور فرعونیوں سے محافظت کے لئے صندوق میں رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دیا تھا تاکہ خداوندعالم خود ان کی محافظت کرے ۔فرعون نے کہا : یہ بچہ بنی اسرائیل میں سے ہے فورا اسے قتل کردو ، بچے کی جان خطرے میں تھی لیکن فرعون کی زوجہ آسیہ بچے کو دیکھ کر اس کی گرویدہ ہوگئیں اور کہنے لگیں " یہ بچہ تو تمہاری اور ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے لہذا اسے قتل نہ کروکہ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے اور ہم اسے اپنا فرزند بنالیں " آسیہ کی ذہانت ، انداز بیان اور کلام نے اپنا اثر دکھایا اور فرعون کو بچے کے قتل سے روک دیا اور وہ بھی موسی کی محبت کا گرویدہ ہوگیا۔
رامسس دوم فرعون مصر اور اس کا خوبصورت محل آسیہ کو فریقتہ نہ کر سکا۔ آسیہ کا پاکیزہ ضمیر بیدار تھا ۔ ان کےقلب پرایمان و توحید پروردگار کا پہرہ تھا جس کی بناء پر فرعون کے مادی اور تسلط پسند جذبات آسیہ پر ذرہ برابر بھی اثر نہ کرسکے ۔ وہ ایسی پاکیزہ خاتون تھیں جنہوں نے خدا پر مکمل و راسخ ایمان کے ساتھ فرعون کے گناہوں سے معمور محل کو لرزہ براندام کردیا ۔اور اپنی پاکیزہ فطرت کو فرعون کے کفر سے نجات بخشی ۔قرآن کریم نے جناب آسیہ کو لوگوں کے لئے نمونہ و اسوہ قراردیا ہے تاکہ لوگ غیر مناسب اور گناہ سے بھرپور حالات میں بھی اپنے ایمان کو نجات بخشیں اور اسے ضلالت و گمراہی کا بہانہ نہ بنا ئیں ۔
فرعون ایک بہت ہی ظالم و جابر بادشاہ تھا اس نے مصر کے شہروں کو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا تھا تاکہ لوگ اس کے خلاف بغاوت و قیام نہ کرسکیں۔ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کرتا تھا اور انہیں ذلیل و خوار کرنے کی ہمیشہ کوشش کیا کرتا تھا اور غریب و محتاج اور بے نواؤں کی خواہشات و آرزؤں کو کچل کر اپنے غرور و تکبر کا محل کھڑا کررکھا تھا اور خود کو لوگوں کا خدا اور رازق کہتا تھا ۔لیکن کسی میں بھی اتنی جرآت نہ تھی کہ اس کے فرمان کی مخالفت کرتا ۔مگر فرعون کی پاکدامن بیوی آسیہ نے ان ظالمانہ و کافرانہ فرمان کو ہرگز قبول نہیں کیا اور ملکہ مصر کے عنوان سے اپنے شوہر کی مذمت کی۔
ایک رات فرعون نے خواب میں دیکھا کہ اس کا محل نابود ہوگیا ہے خوف و وحشت سے اس کا پورا وجود لرزنے لگا اس نے نجومیوں کو بلاکر ان سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے کہا کہ عنقریب بنی اسرائیل کا ایک بچہ تمہارے محل کو نابود کردے گا اس لئے فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جس کے یہاں بھی لڑکا پیدا ہو اسے فورا قتل کردو لیکن اگر لڑکی پیدا ہو تو اسے قتل نہ کرنا تاکہ ان کی نسل باقی رہے ۔
ایسے پر آشوب زمانے میں خدا کے پیغمبر حضرت موسی پیداہوئے جب کہ خدا وند عالم کا منشاء و ارادہ یہ تھا کہ حضرت موسی کی جان کی حفاظت کے لئے موسی فرعون کےمحل اور آسیہ کے پاس پرورش پائیں آسیہ نے موسی کو اپنا فرزند قبول کرکے درحقیت انہیں ان کی حتمی موت سے بچالیا اور قوم بنی اسرائیل کی نجات کا سامان فراہم کیا ۔
اس لئے قرآن کریم نے آسیہ جیسی عورتوں کے رائے ومشورے کو جن کا عقیدہ و کردار عقلی اور منطقی تھا ،مفید و مستحسن قرار دیا ہے ۔ اگر فرعون دوسرے امور میں بھی آسیہ کے عقلی اور معتبر نظریوں کی پیروی کرتا تو کبھی بھی بلا و مصیبت میں غرق نہ ہوتا اور خود کو ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ کا ایندھن نہ بناتا پس ایک آزاد اور صالح عورت، مردوں اور تمام معاشرے کی ترقی و کامیابی کے لئے بہترین مشاور و رہنما بن سکتی ہے ۔
حضرت موسی علیہ السلام کے عہدہ نبوت پر فائز ہونے کے بعد سب سے پہلے حضرت آسیہ ان پر اور خدا پر ایمان لائیں اور بہت دنوں تک اپنے ایمان کو چھپائے رکھا فرعون، کفر کے اس مرحلے میں پہنچ گیا تھا کہ خود کو خدا کہلانے لگا ۔ لیکن آسیہ کا دل خدائے وحدہ لاشریک کے عشق سے سرشار تھا اس لئے فرعون کی خدائی کو قبول نہیں کیا اور خود فرعون کی قدرت وطاقت اور اس کا کفر ان کے ایمان پرغالب نہ ہوسکا ۔
خداوندعالم قرآن کریم میں فرعون کی بیوی کی مثال دیتے ہوئےفرماتا ہے کہ آسیہ خدا پر صدق دل سے ایمان لائیں تو خدا نے انہیں نجات عطا کی اور جنت میں داخل کردیا اور فرعون جیسا کافرشوہر بھی ان کے ایمان کو متزلزل نہ کرسکا ۔
مردوں کی طرح عورتیں بھی صحیح و سالم معاشرے کی تعمیر ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور معاشرے میں رونما ہونے والے ہر طرح کے ظلم و فساد کا مقابلہ کرکے ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل دے سکتی ہیں۔ حضرت آسیہ بھی ایسی ہی عظیم و با استقامت خواتین میں سے تھیں جنہوں نے ایسا عظیم کردار ادا کیا اسی لئے خداوندعالم قرآن کریم میں حضرت آسیہ کی استقامت اور عظمت و ستائش بیان کرتے ہوئے سورہ تحریم کی گیارہویں آیت میں فرماتا ہے : خدا نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی زوجہ کی مثال بیان کی ہے کہ اس نے دعا کی کہ " پروردگار میرے لئے جنت میں ایک گھربنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے کاروبار سے نجات دلادےاور اس پوری ظالم قوم سے نجات عطا کردے"
قرآن کریم کی نظر میں حضرت آسیہ حق کی شناخت و بصیرت سے آگاہ تھیں انہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنی شجاعت و بہادری کے ساتھ اپنے کافر شوہر کی پیروی نہیں کی بلکہ اپنے عقیدہ و ثقافت میں بھی پوری آزاد تھیں اسی لئے قرآن کریم نے آسیہ کومومنین کے لئے اسوہ و نمونہ قرار دیا ہے اور یہ اسوہ اور نمونہ عورتوں کے آزاد اور مستقل عقیدہ و ثقافت پر بہترین دلیل ہے ۔
آسیہ ایک شجاع و بہادر اور حق پرست خاتون تھیں اس خداپرست خاتون کے ایمان راسخ اور شجاعت و دلیری نے انہیں ایسی منزل پر فائز کردیا کہ بارگاہ الہی کے مخلص بندے جنت میں ان کا مقام و مرتبہ دیکھ کر افتخار و تعجب کریں گے ۔
جب فرعون کو آسیہ کے ایمان کے بارے میں خبر ملی تو اس نے بہت زیادہ کوششیں کی تاکہ کسی نہ کسی طرح انہیں راہ راست سے منحرف کردے لیکن وہ ایسا نہیں کرسکا اور آسیہ نے بھی اس کی تمام کوششوں کو ناکام بنا کر صرف خدائے واحد کی عبادت میں مصروف رہیں حضرت آسیہ نے حضرت موسی علیہ السلام کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے فرعون سے بہت زيادہ بحث و مناظرہ کیا مگر فرعون آسیہ کے ایمان و عقیدے کو بدلنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔
قصر فرعون روز بروز پر آشوب ہوتا گیا اور آسیہ نے فرعون سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور حضرت موسی کا دفاع کرتی رہیں ۔حضرت موسی علیہ السلام کے چاہنے والے فرعون کے سپاہیوں کے ہاتھوں ظلم و ستم کی بھینٹ چڑھ رہے تھے اور انہیں بے دردی کے ساتھ قتل کیا جارہا تھا یہاں تک کہ فرعون نے حضرت موسی پر ایمان لانے والے ایک شخص کہ ، جسے قرآن کریم نے " مومن آل فرعون" کے نام سے یاد کیا ہے بڑی ہی بے دردی سے قتل کردیا جس کے بعد آسیہ کے صبر کا پیمانہ چھلک اٹھا اور کھلم کھلا فرعون کی مخالفت کرنے لگیں فرعون میں غیظ و غضب کی آگ بھڑک اٹھی اور اس نے اپنی زوجہ آسیہ کو بہت ہی دردناک طریقے سے ایذائیں پہنچائیں ۔
بعض روایتوں میں آیا ہے کہ فرعون نے حضرت آسیہ کو مصر کے تپتے سورج کے نیچے زمین پر لٹا کر چار کیلیں ٹھونک دیں اورسخت ایذائیں پہنچائی اور آخر میں اس سنگدل نے ان کے سینے پر ایک بڑا پتھرگرادیا اور اس طرح ایک پاک وپاکیزہ اور خدا پرست کنیز خاص راہ حق میں نہایت ہی بے دردی اور اذیتوں کا شکار ہوکر درجہ شہادت پر فائز ہوگئیں ۔
حضرت آسیہ کی استقامت ایک شجاع و بہادار اور پاک و پاکیزہ با ایمان عورت کی نشاندہی کرتی ہے کہ جس نے حق کا اعتراف اور باطل قوت کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرلیا۔ تاریخ بشریت میں حضرت آسیہ کی استقامت ، تمام حق پرستوں اور منزل کمال کے متلاشیوں کے لئے بہت بڑا درس ہے۔ پیغمبر اسلام (ص)نے جناب آسیہ کو کائنات کی ان چار عظیم خواتین یعنی حضرت فاطمہ ، حضرت خدیجہ اور حضرت مریم سلام اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ شمار کیا ہے ۔
ابن عباس بیان کرتے ہيں کہ نبی اكرم صلی اللہ علیہ وآله و سلم نے زمین پر چار لکیریں لگائيں اور فرمانے لگے:
کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآله و سلم) کوزيادہ علم ہے ، رسول خدا نے فرمایا :
جنتی عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد اور فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اور مریم بنت عمران ہیں۔ (1)
اس کے علاوہ حضرت آسیہ کی زندگی کا مطالعہ ، ایسی تمام خواتین کے لئے نمونہ عمل ہے جو اپنے گھر کے ماحول یا اپنے شوہر کے عمل کو دین کی تعلیمات پر عمل نہ کرنے کی وجہ قرار دیتی ہیں کیونکہ عورتوں کے اندر اتنی طاقت و قدرت موجود ہے جو ہر طرح کے ظلم و فساد ، اخلاقی بے راہ روی اور پستی وبرائی کا خاتمہ کرسکتی ہیں اور اگر ان کا شوہر فرعون کی طرح سنگدل نہ ہو تو یہ اپنی عقل و تدبیراور نیک اخلاق وکردار سے اسے راہ حق و صداقت پر گامزن کرسکتی ہیں ۔
*******************************
1- مسنداحمد حديث نمبر ( 2663 ) علامہ البانی نے صحیح الجام (1135) میں اسے صحیح قراردیا ہے ۔
دشمن کے لئے جہنم تیار کر دیں گے
اسلامی جمہوریہ ا یران کے ایک سینئر کمانڈر نے دشمنوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کی صورت میں ہم اس کے لئے جہنم تیار کر دیں گے۔
خاتم الانبیاء ایئر ڈیفنس چھاونی کے کمانڈر بريگیڈیر جنرل فرزاد اسماعیل نے کہا کہ اگر ہمارے دشمنوں نے حملے کے بارے میں سوچا بھی تو ایرانی جوان ان کے لئے زمین، ہوا اور سمندر میں دہکتی جہنم تیار کر دیں گے۔
انہوں کہا کہ ایران کا دفاعی شعبہ پوری طرح سے خود کفیل ہے۔
کامیابی، ملت شام کا مقدر
تہران کی مرکزی نماز جمعہ آیت اللہ کاظم صدیقی کی امامت میں ادا کی گئي۔
خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرزند حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم شہادت کی مناسبت سے تسلیت و تعزیت پیش کی اور امام ھمام کو تمام علماء اور دانشوروں حوزات علمیہ اور یونیورسٹیوں کو علم کی روشنی سے فیضیات کرنے والا قراردیا۔خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ اگر امریکہ شام پر حملے کرتا ہے تو یہ علاقے اور دنیا کےلئے بڑی مصیبت ہوگي۔ آیت اللہ کاظم صدیقی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے بہانے شام پر حملہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس جارحیت سے علاقے اور عالمی امن کو نقصان پہنچے گا۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی شام کے خلاف کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ ساری اسلامی دنیا اور عالم انسانیت کی نفرت بھی مول لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی ملت شام کے مقدر میں ہے اور شام کی قوم ہر طرح کے دباؤ اور سازشوں کا مقابلہ کرکے کامیاب ہوجائے گي۔ آیت اللہ کاظم صدیقی نے مصر کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہتے عوام کا قتل عام کسی بھی گروہ کی جانب سے ہو قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر کا درد رکھنے والوں کو ایسی تدبیریں اختیار کرنی چاہیں کہ اس ملک میں خانہ جنگي کا سد باب ہوسکے کیونکہ داخلی جنگ نہ مصر کے فائدے میں ہے اور نہ ہی اسلامی دنیاکے حق میں۔ خطیب جمعہ تہران نے عراق کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عراق میں قانونی حکومت برسر کار ہے لیکن ملک میں بدامنی جاری ہے۔ انہوں نے عراق میں جاری دہشتگردی کو سازش قراردیا۔ انہوں نے نماز کی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے اسے انسانوں کی ہمیشہ کی ضرورت قراردیا۔ آیت اللہ کاظم صدیقی نے ہفتہ حکومت کی مبارک باد پیش کر تے ہوئے سابق صدر شہید رجائي اور سابق وزیر شہید باہنر کو خراج عقیدت پیش کیا۔
عراق، دہشتگردوں کے پچاس خفیہ ٹھکانے تباہ
عراق کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملک کے شمالی علاقوں میں دہشگردوں کے پچاس خفیہ ٹھکانے تباہ کردئے گئےہیں۔
موصولہ رپورٹوں کے مطابق عراق کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عراقی فوج نے شما کے ساتھ ملے سرحدی علاقے میں آپریشن کرکے دہشتگردوں کے پچاس سے زائد ٹھکانے تباہ کردئیے ہیں اور دہشتگردوں گے چار سرغنوں کو ہلاک کردیا ہے۔ اس آپریشن میں دہشتگردوں گی بارہ گاڑیاں بھی تباہ کردی گئي ہیں۔ ادھر عراقی پارلیمنٹ کے رکن جنبر باقر زبیدی نے دہشتگردوں کے خلاف فوج کے آپریشن کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں نے گذشتہ دو برسوں میں شمالی صوبوں الانبار اور نینوا میں اڈے قائم کرلئے تھے۔ واضح رہے عراقی حکام کا کہنا ہےکہ سعودی عرب اور قطر عراق میں دہشتگردی کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔
ایران، نیا سٹیلائيٹ شریف سیٹ تیار
اسلامی جمہوریہ ایران میں شریف یونیورسٹی آف ٹکنالوجی نے اعلان کیا ہے کہ نیا سٹیلائيٹ شریف سیٹ تیار ہوچکا ہےاور اسے جلد ہی اسپیس ڈپارٹمنٹ کے حوالے کردیا جائے گا۔ شریف یونیورسٹی آف ٹکنالوجی کے وائس چانسلر ڈاکٹر رضا روستا آزاد نے ہمارے نمائندے سے گفتگو میں شریف سیٹ کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سیٹیلائيٹ زمین کے مختلف حصوں پر فوکس کرکے بہترین کیفیت کی تصویریں بھیج سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ہم نے سیٹیلائيٹ تیار کرکے اسپیس ڈپارٹمنٹ کو دے دیا ہے اور اب وہ، موسم اور تمام حالات کا جائزہ لے کر اسے زمین کے مدار میں بھیجنے کا پروگرام بنائے گا۔
رہبر معظم سے صدر روحانی کی کابینہ کے ارکان کی پہلی ملاقات

۲۰۱۳/۰۸/۲۸
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے گیارہویں حکومت کی کابینہ کےارکان کے ساتھ پہلی ملاقات میں نئی حکومت کی جلد تشکیل کے سلسلے میں پارلیمنٹ اور حکومت کے درمیان تعاون اور ہمآہنگی کی قدردانی اور تعریف کی اور صدر روحانی کومطلوب ، پسندیدہ ، قابل اعتماد صدر اور ان کے ماضی کو درخشاں اور انقلابی قراردیا ، اور مطلوب اسلامی حکومت کے اہم معیاروں کی تشریح کے سلسلے میں اعتقادی اور اخلاقی سلامت، عوام کی خدمت، عدل و انصاف، اقتصادی سلامت، کرپشن کا مقابلہ، قانون پر عمل، حکمت، خردمندی اور ملک کی اندرونی پیداوار پر تکیہ کو ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: آپ علم وسائنس اور اقتصاد پرترجیحی بنیادوں پر توجہ دیں اوراس کے ساتھ مہنگائی پر کنٹرول ، عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی، پیداوار میں رونق، اقتصادی میدان میں تحرک ، آرام و سکون، اور مستقبل کے بارے میں عوام کی امید کے استمرار اور اس میں اضافہ پر اپنی توجہ مبذول کریں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شام میں امریکہ کی مداخلت اور دھمکی کو علاقہ کے لئے ایک المناک واقعہ قراردیتے ہوئے فرمایا: یقینی طور پرہر قسم کی آتش افروزی اور جنگ امریکہ کے ضرر اور نقصان میں ہوگی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ہفتہ حکومت کی مناسبت سے قوہ مجریہ کے تمام خدمتگزار اہلکاروں ، کارکنوں اور حکام کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے فرمایا: ہفتہ حکومت دو شہیدوں رجائی اور باہنر کے نام سے مزین ہےاور ان دوشہیدوں کے اہداف اور نام کو سرمشق قراردینے کے سلسلے میں تمام حکومتوں کے اقدامات ایک بامعنی حرکت کا حصہ ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صدر کی جانب سے وزراء کی پارلیمنٹ میں جلد معرفی کے عمل کو قابل تحسین قراردیتے ہوئے فرمایا: پارلیمنٹ کی جانب سے بھی نامزد وزراء کو اعتماد کا ووٹ نئی حکومت کی جلدتشکیل کا سبب بن گيا اور اس مسئلہ سے دونوں قوا کے درمیان تعاون اور ہمآہنگی اور حکومت کی سرگرمیاں جلد شروع کرنے کے سلسلے میں صدر اور پارلیمنٹ کی قابل قدر حساسیت کا بخوبی پتہ چلتا ہے ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گیارہویں حکومت کے قوی نقاط کو عملی جامہ پہنانے اور عوامی امیدوں کے استمرار اور اضافہ پر امید کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: جناب روحانی کا وجود، ان کا انقلابی اور جہادی درخشاں ماضی اورحالیہ تین عشروں میں ان کا درست مؤقف بیشک نئی حکومت کے مضبوط نقاط ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نےعوام کی مشکلات کو حل کرنے کے سلسلے میں صدر روحانی کے پختہ عزم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انشاء اللہ کابینہ کے ارکان مضبوط اور مستحکم عزم پر تکیہ اور،صحیح سمت میں حرکت کرکے اپنی سنگین ذمہ داریوں کو پورا کریں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گیارہویں حکومت کی کابینہ کے ارکان کے ساتھ پہلی ملاقات میں مطلوب اسلامی حکومت کے اہم معیاروں کی تشریح کرتے ہوئے اپنے بیان کو جاری رکھا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اعتقادی اور اخلاقی سلامت کومطلوب اسلامی حکومت کے ممتاز معیاروں میں قراردیتے ہوئے فرمایا: یہ اعتقادات اور معاشرے کے حقائق پر صحیح نگاہ حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانےاور صحیح سمت گامزن رکھنے میں ممد و مددگار ثابت ہوں گے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) کے بیانات اور ہدایات کے مجموعہ کو بنیادی اور اساسی معیار قراردیتے ہوئے فرمایا: حضرت امام (رہ) کے بیانات اور ہدایات میں انقلاب کےاصول، اقدار اور مؤقف جلوہ گر اور نمایاں ہیں اور اگر ہم عملی طور پر ان پر عمل پیرا اور گامزن رہیں اور شک و ابہام کی صورت میں بھی ان کی طرف رجوع کریں تو اللہ تعالی کے فضل و کرم سے تمام کام خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پذیر اور آگے کی جانب بڑھیں گے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اعتقادی اور اخلاقی سلامت کے معیار کی مزید تشریح کے سلسلے میں اللہ تعالی کے وعدوں پر مکمل اطمینان اور اعتماد کوضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی، دفاع مقدس، انقلاب کے آغاز میں متعدد قومی بغاوتوں پر غلبہ جیسے تجربات اوراللہ تعالی کے وعدوں کے محقق ہونے کو قوم اور حکام نے مکمل طور پر محسوس کیا ہے اور یہ گرانقدر تجربات اللہ تعالی کی مدد و نصرت پر مزيد مکمل اعتماد کا آئینہ ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صدر روحانی کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی پر اعتماد، درست و صحیح نگاہ، عقل و خردمندی، حلال مشکلات ہیں۔
عوام کی خدمت مطلوب اسلامی حکومت کا دوسرا معیار تھا جس کی طرف رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں اشارہ فرمایا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نےعوام کی خدمت کو اسلامی حکومت اور حکام کی ذمہ داریوں میں سرفہرست ذمہ داری قراردیتے ہوئے فرمایا: ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے جو حکام کو عوام کی خدمت سے غافل بنادے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: مختلف سیاسی، اقتصادی اور سماجی نظریات حاشیہ کے طور پر ہیں جبکہ عوام کی خدمت اصلی متن ہے اور حاشیہ کو متن پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام کی خدمت کی فرصت کے جلد گزرجانے کی طرف نئی حکومت کی توجہ مبذول کرتے ہوئے فرمایا: میں گذشتہ تمام حکومتوں سے بھی یہ بات کہہ چکا ہوں کہ 4 یا 8 سال کی مدت بہت جلد تمام ہوجائے گي اور یہی محدود مدت، قوم کی خدمت کا بہترین ، سنہرا اور گرانقدرموقع ہے اور عوام کی خدمت کے لئےاس موقع کو ہاتھ سے نہیں کھونا چاہیے ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام کی خدمت کے سلسلے میں ، جہادی کام اور نگاہ کو گرانقدر قراردیتے ہوئے فرمایا: جہادی کام کا مطلب لاقانونیت نہیں ہے اور لاقانونیت کا میں سخت مخالف ہوں اور قانون کے دائرے میں اور اداری رسم و رواج سے دور رہ کر بھی جہادی عمل و نگاہ کے ساتھ کام کیا جاسکتا ہے اور رکاوٹوں کو برطرف کیا جاسکتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عدل و انصاف کو مطلوب اسلامی حکومت کا ایک اہم معیار قراردیتے ہوئے فرمایا: جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جاچکا ہے کہ ہم پیشرفت اور دوسرے الفاظ میں توسیع کی تلاش میں ہیں لیکن یقینی طور پر اس پیشرفت کو عدل و انصاف کے ہمراہ ہونا چاہیے ورنہ معاشرہ ، مغربی ممالک کی طرح شگاف ، تبعیض اور ناراضگی سے دوچار ہوجائےگا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مطلوب اسلامی حکومت کے لئے چوتھا معیار، اقتصادی سلامت ،بدعنوانی اور کرپشن کے ساتھ مقابلہ کو قراردیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نئی حکومت کو یاد دلایا کہ حکومتی منصب و عہدہ ، طاقت و قدرت کی وسوسہ انگیز اور مادی وسائل کی اہم جگہ ہے لہذا بصیر آنکھ اور قوی و دائمی روشنی کے ذریعہ اس کی نگرانی رکھنی چاہیے اور آپ کو اپنے ماتحت اداروں پر کڑي نگرانی رکھنی چاہیے تاکہ وہ بدعنوانی اور کرپشن کے وسوسہ سے دور اور امن و سلامت میں رہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تینوں قوا میں نگراں اداروں کی موجودگی اور کابینہ کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: بدعنوانی اور کرپشن دیمک کی طرح ہے اور آپ بد عنوانی، پارٹی بازی ، رشوت اور اسراف کی روک تھام میں تدبیر اورٹھوس اقدام عمل میں لائیں ۔
تاکہ آپ کے زیر نظر اداروں میں نگراں اداروں کے اہلکاروں کو مداخلت کا موقع نہ ملے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قوہ مجریہ کے اداروں کے کارکنوں اور اہلکاروں کو پاک اور شریف انسان قراردیتے ہوئے فرمایا: وائرس کی طرح کچھ گنے چنےغلط عناصر، پورے خدمتگزار مجموعہ کی تمام خدمات اور زحمات پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں لہذا ایسےکام کی روک تھام کرنی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مطلوب اسلامی حکومت کے لئے قانون پر عمل کو ایک اور اہم معیار قراردیتے ہوئے فرمایا: قانون حکومت کے چلنے اور حرکت کرنے کی پٹری ہے اور اگر حکومت اس پٹری سے اتر جائےتو اس سے عوام اور ملک کو نقصان پہنچےگا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ممکن ہے بعض قوانین ناقص اور معیوب ہوں لیکن ان پر عمل نہ کرنے کا نقصان ان کے نفاذ سے کہیں زیادہ ہے لہذا آپ تمام اداروں میں قانون پر عمل کو یقینی بنائیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اعلی دستاویزات کے نفاذ منجملہ نظام کی کلی پالیسیوں اور طویل المدت پالیسیوں کو قوانین پر عمل کرنے کے لوازمات میں قراردیتے ہوئے فرمایا: اعلی کونسلوں منجملہ انقلاب اسلامی کی اعلی ثقافتی کونسل اور سائبرسپیس کی اعلی کونسل کے قوانین کو معتبر جاننا اور ان پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ یہ اہم ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اداری نظام میں تبدیلی کی کلی پالیسیوں کو بھی بہت ہی اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: افسوس ہے کہ ان پالیسیوں کے نفاذ میں بہت تاخير ہوگئی ہے اور ان کو اب نافذ ہونا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صدر روحانی اور ان کی کابینہ کے ساتھ ملاقات میں حکمت اور خرد مندی کومطلوب اسلامی حکومت کا چھٹا معیار قراردیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حکومت کو تمام شعبوں میں اندرونی وسائل ،ماہرین اور دانشوروں سے استفادہ کرنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ہر قسم کے اقدام، اظہار نظر اور مؤقف بیان کرنے سے پہلے اس موضوع کے بارے میں اچھا اور جامعہ مطالعہ ہونا چاہیے کیونکہ غیر سنجیدہ بیانات اور ناپختہ کاموں کے منفی اثرات کو دور کرنے کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔
حضرت سارہ سلام اللہ علیہا
قرآنی علوم ومعارف سے سرشار عورت جس نے ایمان و تقوی اور فضائل و کمالات کے اعلی مراتب حاصل کئے ہیں اور اسی طرح انبیاء علیہم السلام کی تاریخ اور توحید کا پیغام نشرکرنے میں ایک عظیم مقام پر فائز ہے وہ جلیل القدر خاتون خلیل خدا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریک حیات حضرت سارہ ہیں آپ حضرت آدم علیہ السلام کے دنیا میں تشریف لانے کے تینتیس سو اکسٹھ سال بعد اور پیغمبر اسلام (ص) کی ہجرت سے اٹھائیس سو پچپن سال پہلے عراق کے شہر بابل میں پیدا ہوئیں آپ کے والد ماجد لاہج تھے اور والدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خالہ تھیں ۔ آپ نے ابھی زندگی کی چھتیسویں بہار ہی میں قدم رکھا تھا کہ آپ کی شادی حضرت ابراہیم سے ہوگئی اور آپ عمر کے آخری لمحہ تک ان کی مطیع و قرمانبردار رہیں۔ جناب سارہ اپنے زمانے کی مالدار خاتون اور بہت سی زمینوں اور مویشی اور جانوروں کی مالک تھیں مگر شادی کے بعد آپ نے اپنی تمام دولت وثروت حضرت ابراہیم کی خدمت میں پیش کردی تاکہ وہ دین کی نشرو اشاعت میں صرف کریں ۔
حناب سارہ نے بچپن سے ہی یہ مشاہدہ کیاتھا کہ ان کے خالہ زاد بھائی ابراہیم ، اگر چہ جہالت و گمراہی سے پر اور بت پرست معاشرے میں پیدا ہوئے تھے اوران کے ولی و سرپرست آزر خود ایک بت پرست تھے لیکن انہوں نے سن شعور ہی سے باطل خداؤں سے منھ موڑ رکھا تھا اور قوی ومستحکم دلیلوں کے ذریعے سورج ، چاند ستاروں اور ہرطرح کے خداؤں کی خدائی کو باطل قرار دیدیا تھا اور اپنے چچا آزر سے بحث و مناظرہ کرکے انہیں بت پرستی سے منع کیا تھا اس شرک و کفر کے ماحول میں جس چیز نے جناب سارہ کو اپنی طرف جذب کیا وہ انسانی اور توحیدی فضائل و کمالات تھے لہذا آپ نے ہزاروں پریشانی و مشکلات کے باوجود اپنے بھائی لوط کے ہمراہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق اور ان کی پیروی کی ۔
جناب سارہ بے شمار معنوی اور اخلاقی فضائل و کمالات کی حامل خاتون تھیں اور قضائے الہی پر صبر و تحمل کے ساتھ راضي رہنا ان کی اہم خصوصیت تھی اور خدا پر اعتماد وبھروسہ ، عبادت و ریاضت میں خلوص اس خداپرست خاتون کی دوسری صفتیں تھیں اگر چہ آپ شادی سے پہلے ایک بہت ہی مالدار خاتون تھیں لیکن حضرت ابراہیم سے شادی کے بعد بے پناہ مصائب و آلام برداشت کئے اور اس راہ میں نہایت صبر وتحمل اور خدا پر مکمل اعتماد کے ساتھ زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کو سر کیا اور اخلاص کے ساتھ عبادت و بندگی میں منزل کمال پر فائز ہوئیں جناب سارہ کے اخلاقی صفات خصوصا مصائب وآلام میں صبر و تحمل ، اپنی تمام دولت و ثروت کو اپنے شوہر کی خدمت میں پیش کرنا پیغمبر اسلام (ص) کی شریک حیات حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کہ جو تمام مصیبت و آلام میں پیغمبر اسلام کے ہمراہ رہیں، کے ایثار و قربانی اور ان کے جذبہ خلوص کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔
بے شک خدا پر ایمان ، انسان کے قلب کو قوت وطاقت فراہم کرتا ہے تاکہ انسان مشکلات و پریشانی کے عالم میں حلیم و بردبار رہے۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نار نمرودی میں ڈالاگیا تو اس وقت جناب سارہ موجود تھیں اور آپ کی سلامتی کے لئے بارگاہ پروردگار میں دعائیں کی تھی اور آگ خدا کے حکم سے گلزار ہوگئ اور دشمنوں کی تمام سازشیں ناکام ہوگئیں اور اس واقعے کے بعد بت پرستوں نے حضرت ابراہیم ، سارہ اور لوط کو شہر سے باہر نکال دیا اور وہ لوگ شام کی جانب چلے گئے جناب سارہ نے دربدری اور سفر کی صعوبتوں کو برداشت کیا تا کہ ابراہیم کے ذریعے دین کا پیغام زیادہ عام ہوسکے اور مدتوں شام میں رہے اور اس دوران حضرت ابراہیم لوگوں کو خدا کے دین کی دعوت دیتے رہے۔
ایمان و اخلاق کی پیکر حضرت سارہ عفت و پاکدامنی میں بے نظیر تھیں آپ نہایت جمیل تھیں عام طور پر صاحبان حسن وجمال اپنے فانی حسن پر بہت زیادہ اتراتے ہیں لیکن جناب سارہ ایمان و تقوی کی دولت سے مالا مال ہونے کی بناء پر ہمیشہ پورے حجاب میں رہتی تھیں اور غیر افراد کے ساتھ کبھی بھی نشست و برخواست نہیں کرتی تھیں
جناب سارہ ایثار وقربانی کی پیکر اور عفو و درگذر کرنے والی خاتون تھیں شادی کے چند سال بعد جب انہیں یہ احساس ہوا کہ وہ ماں نہیں بن سکتیں اور حضرت ابراہیم کے یہاں ایک بچے کا وجود ضروری ہے تاکہ نسل رسالت کا سلسلہ جاری رہے توآپ نے اپنی کنیز خاص ہاجرہ کہ جو ایک متقی و پرہیزگار خاتون تھیں انہیں حضرت ابراہیم سے شادی کرنے کے لئے آمادہ کیا اور اس طرح پروردگار عالم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسماعیل جیسا بیٹا عطافرمایا ۔
جناب سارہ بہترین شریک حیات ہونے کے ساتھ ساتھ ہر ہر منزل پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاور و مددگار تھیں یہی وجہ ہے کہ خداوندعالم نے ان کے ایثار اور جذبہ قربانی ، صبر و اطمینان اور اعتماد کے نتیجے میں ایسی عمر میں کہ جس میں عورتوں میں بچہ جننے کی صلاحیت نہیں ہوتی جناب سارہ کو اسحاق جیسا فرزند عطا کیا اور یہ ایک معجزہ الہی تھا ورنہ علمی اعتبار سے بھی اسے کوئی قبول نہیں کرسکتا کہ ایک عورت نوے سال کی عمر میں ماں بن سکتی ہے ۔
حضرت ابراہیم اور جناب سارہ بہت زیادہ مہمان نواز تھے جناب سارہ کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی تھی کہ تمام نیک امور بالخصوص مہمان نوازی میں حضرت ابراہیم کے شانہ بشانہ رہیں۔ ایک دن حضرت ابراہیم اور سارہ کے یہاں مہمان آئے لیکن یہ عام مہمان نہیں بلکہ فرشتے تھے جو انسانی شکل میں حضرت سارہ اور حضرت ابراہیم کے مہمان ہوئے تھے ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فورا ہی مہمانوں کی خاطر و تواضع کے لئے اسباب فراہم کئے اور بہترین بھنا ہوا بچھڑے کا گوشت لائے سارہ نے بھی کھانا تیار کرنے میں اپنے شوہر نامدار کا ہاتھ بٹایا اور خوشی خوشی مہمانوں کے سامنے کھانا پیش کیا لیکن مہمانوں کا ابراہیم کے گھر آنے کا مقصد ، انہیں بشارت و خوشخبری سنانا تھا ۔
وہ لوگ بڑھاپے کے عالم میں خداوند عالم کے فضل وکرم سے صاحب اولاد ہوئے ایسا فرزند جس کا سارہ مدتوں سے انتظار کررہی تھیں اور اس طرح فرشتوں نے جناب سارہ کو ایک عظیم فرزند اسحاق کی خوشخبری سنائی سارہ نے جیسے ہی ماں بننے کی خبر سنی تو کہا : " اب میرے یہاں بچہ پیدا ہوگا جب کہ میں بوڑھی ہوں اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہو چکے ہیں یہ تو بالکل عجیب سی بات ہے ۔ فرشتوں نے کہا کہ کیا تمہیں حکم الہی میں تعجب ہورہا ہے اللہ کی رحمت اور برکت تمہارے گھر والوں پر ہے وہ قابل حمد اور صاحب مجد و کرامت ہے ۔
اور پھر پروردگار عالم نے حضرت سارہ کو ایک عظیم فرزند اسحاق کی شکل میں عطا فرمایا حضرت اسحاق جناب یعقوب علیہ السلام کے والد ماجد ہیں اور حضرت یعقوب علیہ السلام انبیاء بنی اسرائیل ، حضرت موسی ، داؤد ، سلیمان ، زکریا ، عیسی، یحیی اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کے جد امجد ہیں ۔
دین اسلام نے جنسیت کو لوگوں کی عظمت و برتری شمار نہیں کیا ہے بلکہ عورتوں اور مردوں کے لئے خدا سے قربت کا بہترین ذریعہ تقوی اور پرہیزگاری کو قرار دیا ہے ۔ دین اسلام کی نظر میں مومن انسان اپنے نیک اعمال اور فضائل و کمالات کے ذریعے خدا سے قربت حاصل کرتاہے اسی لئے پروردگار عالم نے انسان کو چاہے وہ مرد ہوں یا عورت ، روئے زمین پر اپنا جانشین وخلیفہ بنانے کا مستحق و سزاوار قراردیا ہے ۔
جناب سارہ نے بھی بے انتہا کوشش و محنت کرکے آرام و سائش سے دوری اور مادیت سے کنارہ کشی اختیار کی تھی اور خدا کی عبادت وبندگی میں اس درجہ کمال پر پہنچ چکی تھیں کہ پروردگارعالم نے ان کے عزت واحترام اور تعظیم کے لئے فرشتوں کو بھیجا اور ان سے خطاب کیا بالآخر عظمت و رفعت کی پیکراور توحید پروردگار کی حامی جناب سارہ اپنی بابرکت ودرخشاں زندگی اور حضرت ابراہیم کی رسالت وولایت کی حفاظت کرتے ہوئے ایک سو بیس سال کی عمر میں راہی ملک ارم ہوگئیں۔
سلام ہو اس حامی خدا اور خلیل خدا پر ۔
میانمار ، بدہوں نے 48 مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگا دی
میانمار میں فرقہ ورانہ فسادات میں متعدد مسلمانوں کے گھرجلا دئیے گئے۔ میانمار میں ایک مرتبہ پھرفرقہ ورانہ تشدد میں تیزی آرہی ہے۔ جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایک گاوٴں میں بدھ مذہب کے ماننے والوں نے 48 گھروں کو آگ لگا دی جس سے 300 سے زائد مسلمان بے گھر ہوگئے۔
حکام کا کہنا تھا کہ12 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گذشتہ سال فسادات میں ڈھائی سو لوگ جاں بحق 1 لاکھ 40 ہزار بے گھر ہوگئے تھے۔
میانمار کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مسلم حکمرانوں کی لاتعلقی کی بناپر اس وقت سخت کسمپرسی کے عالم میں جائے پناہ کی تلاش میں ہے۔
قائد اعظم کی تقاریر،ہندوستان میں حکومت کو اہم ہدایات
ہندوستان میں پاکستان کے بانی اور اس ملک کے قائد اعظم محمد علی جناح کی تقاریر کے بارے میں اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
بعض ذرائع کے مطابق ہندوستان کے چیف انفارمیشن کمشنر نے حکومت کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ آزادی سے پہلی کی گئی بانی پاکستان محمدعلی جناح کی تمام تقاریر عام کرے۔ہندوستان کے رائٹ ٹو انفارمیشن محکمے کے چیف کمشنر نے یہ فیصلہ، ایک درخواست کی سماعت کے بعد سنایا۔چیف انفارمیشن کمشنر نے اپنے حکم میں کہا کہ کسی بھی سرکاری افسر کے لیے یہ کہہ دینا آسان ہے کہ پاکستان یا پاکستان چلے جانے والے رہنماوٴں سے متعلق کسی بھی معلومات کو خفیہ رکھے جانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ہن تقاریر کے ایسے تمام ریکارڈز، عوام کو مفت فراہم کرے۔ ہندوستان میں پاکستان کے بانی اور اس ملک کے قائد اعظم محمد علی جناح کی تقاریر کے بارے میں یہ ہدایات اہم قرار دی جارہی ہیں۔
صاعقہ ، مغرب کی پابندیوں پر ایک طمانچہ
ہندوستان کے ایک معروف دانشور نے ایرانی ماہرین کے توسط سےصاعقہ جنگي طیارہ بنائے جانے پرمبارکباد پیش کرتے ہوئے ایران کی جدید ٹکنالوجی کو ، اس ملک کے خلاف مغرب کی غیر منصفانہ پابندیوں پر ایک کاری ضرب سے تعبیر کیا ہے ۔
نئی دہلی میں اندراگاندھی اوپن یونیورسٹی کے سابق چانسلر نے ارنا کے ساتھ گفتگو میں مغرب کی غیر منصفانہ پابندیوں کے باوجود اس کامیابی کے حصول کو ایران کی پیشرفت میں ایک اہم قدم بتایا ۔ انڈین مسلم یونین کے سربراہ نے کہا کہ مختلف شعبوں میں خودکفیل ہونے کی ایرانی دانشوروں اور ماہرین کی کوششیں ان ملکوں کے لئے نمونۂ عمل قرار پانی چاہیئے جو مغرب کی امداد سے وابستہ ہیں ۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران نے دشوار حالات میں بین الاقوامی پابندیوں کو ناکام بنادیا ہے اور ایرانی دانشوروں نے خود کو عالمی سطح پر پہنچا دیا ہے کہا کہ ایران کی علمی وسائنسی پیشرفت کا شمار دنیا کی تیزترین پیشرفت میں ہوتا ہے ۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
