Super User
دعا کا فلسفہ کیا ہے؟

دعا کی حقیقت، اس کی روح اور اس کے تربیتی اور نفسیاتی اثر سے بے خبر لوگ دعا پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔
کبھی کہتے ہیں: یہ اعصاب کو کمزور اور بے حس کردیتی ہے کیونکہ ان کی نظر میں دعا لوگوں کو فعالیت، کوشش، ترقی اور کامیابی کے وسائل کے بجائے اسی راستہ پر لگا دیتی ہے، اور انھیں سعی و کوشش کے بدلے اسی پر اکتفا کرنے کا سبق دیتی ہے ۔
کبھی کہتے ہیں: دعا اصولی طور پر خدا کے معاملات میں بے جا دخل اندازی کا نام ہے، خدا جیسی مصلحت دیکھے گا اسے انجام دے گا، وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے مصالح و منافع کو بہتر جانتا ہے، پھر کیوں ہر وقت ہم اپنی مرضی اور پسند کے مطابق اس سے سوال کرتے رہیں؟!
کبھی کہتے ہیں: ان تمام چیزوں کے علاوہ دعا؛ارادہٴ الٰہی پر راضی رہنے اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے منافی ہے!
(قارئین کرام!) جو لوگ اس طرح کے اعتراضات کرتے ہیں وہ دعا اور تضرع و زاری کے نفسیاتی، اجتماعی، تربیتی اور معنوی و روحانی آثار سے غافل ہیں، انسان ؛ ارادہ کی تقویت اور دکھ درد کے دور ہونے کے لئے کسی سہارے کا محتاج ہے، اور دعا انسان کے دل میں امید کی کرن چمکا دیتی ہے، جو لوگ دعا کو فراموش کئے ہوئے ہیں وہ نفسیاتی اور اجتماعی طور پر ناپسندیدہ عکس العمل سے دوچار ہوتے ہیں۔
ایک مشہور ماہر نفسیات کا کہنا ہے: ”کسی قوم میں دعا و تضرع کا فقدان اس ملت کی تباہی کے برابر ہے، جس قوم نے دعا کی ضرورت کے احساس کا گلا گھونٹ دیا ہے وہ عموماً فساد اور زوال سے محفوظ نہیں رہ سکتی“۔
البتہ اس بات کو نہیں بھولنا چاہئے کہ صبح کے وقت دعا اور عبادت کرنا اور باقی تمام دن ایک وحشی جانور کی طرح گزارنا، بیہودہ اور فضول ہے، دعا کو مسلسل جاری رہنا چاہئے، کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان اس کے عمیق اثر سے ہاتھ دھو بیٹھے۔(1)
جو لوگ دعا کو کاہلی اور سستی کا سبب سمجھتے ہیں وہ دعا کے معنی ہی نہیں سمجھے، کیونکہ دعا کا یہ مطلب نہیں کہ مادی وسائل و اسباب سے ہاتھ روک لیا جائے اور صرف دستِ دعا بلند کیا جائے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ تمام موجودہ وسائل کے ذریعہ اپنی پوری کوشش بروئے کار لائی جائے اور جب معاملہ انسان کے بس میں نہ رہے اور وہ مقصد تک نہ پہنچ پائے تو دعا کا سہارا لے، توجہ کے ساتھ خدا پر بھروسہ کرے اپنے اندر امید کی کرن پیدا کرے اور اس مبداٴ عظیم کی بے پناہ نصرتوں کے ذریعہ مدد حاصل کرے۔
لہٰذا دعا مقصد تک نہ پہونچنے کی صورت میں ہے نہ کہ یہ فطری اسباب کے مقابلہ میں کوئی سبب ہے۔
مذکورہ ماہر نفسیات لکھتا ہے:
”دعا انسان میں اطمینان پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی فکر میں ایک طرح کی شگفتگی پیدا کرتی ہے ، باطنی انبساط کا باعث بنتی ہے اور بعض اوقات یہ انسان کے لئے بہادری اور دلاوری کی روح کو ابھارتی ہے، دعا کے ذریعہ انسان پر بہت سی علامات ظاہر ہوتی ہیں ، جن میں سے بعض تو صرف دعا سے مخصوص ہیں، جیسے نگاہ کی پاکیزگی، کردار میں سنجیدگی، باطنی انبساط و مسرت، مطمئن چہرہ، استعداد ہدایت اور حوادث کا استقبال کرنے کا حوصلہ ، یہ سب دعا کے اثرات ہیں، دعا کی قدرت سے پسماندہ اور کم استعداد لوگ بھی اپنی عقلی اور اخلاقی قوت کو بہتر طریقہ سے کار آمد بنالیتے ہیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہماری دنیا میں دعا کے حقیقی رخ کو پہچاننے والے لوگ بہت کم ہیں “۔(2)
(قارئین کرام!) ہمارے مذکورہ بیان سے اس اعتراض کا جواب واضح ہوجاتا ہے کہ دعا تسلیم و رضا کے منافی ہے، کیونکہ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں دعا؛ پروردگار کے بے انتہا فیض سے زیادہ سے زیادہ کسبِ کمال کا نام ہے۔
دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انسان دعا کے ذریعہ پروردگار کی زیادہ سے زیادہ توجہ اور فیض کے حصول کی اہلیت اور استعداد حاصل کرلیتا ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ تکامل کی کوشش اور زیادہ سے زیادہ کسب کمال کی سعی قوانین آفرینش کے سامنے تسلیم و رضا ہے ، اس کے منافی نہیں ہے۔
ان سب کے علاوہ دعا ایک طرح کی عبادت، خضوع اور بندگی کا نام ہے، انسان دعا کے ذریعہ ذات الٰہی کے ساتھ ایک نئی وابستگی پیدا کرتا ہے، اور جیسے تمام عبادات ؛ تربیتی تاثیر رکھتی ہیں اسی طرح دعا میں بھی یہی تاثیر پائی جاتی ہے۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دعا امور الٰہی میں مداخلت ہے اور جو کچھ مصلحت کے مطابق ہو خدا عطا کردیتا ہے، چنانچہ وہ لوگ اس طرف متوجہ نہیں ہیں کہ عطیات خداوندی استعداد اور لیاقت کے لحاظ سے تقسیم ہوتے ہیں، جتنی استعداد اور لیاقت زیادہ ہوگی انسان کو عطیات بھی اس لحاظ سے نصیب ہوں گے۔
اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”إنَّ عِنْدَ الله عَزَّ وَ جَلَّ مَنْزِلَةٌ لَاتَنَالُ إلاَّ بِمَساٴلةٍ“(3) ”خداوندعالم کے یہاں ایسے مقامات اور منازل ہیں جو بغیر مانگے نہیں ملتے“۔
ایک دانشور کا کہنا ہے: جس وقت ہم دعا کرتے ہیں تو اپنے آپ کو ایک ایسی لامتناہی قوت سے متصل کرلیتے ہیں جس نے ساری کائنات کی اشیا کو ایک دوسرے سے پیوستہ کر رکھا ہے“۔(4)
نیز موصوف کا کہنا ہے: ”آج کا جدید ترین علم یعنی علم نفسیات بھی یہی تعلیم دیتا ہے جو انبیاء کی تعلیم تھی، کیونکہ نفسیاتی ڈاکٹراس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ دعا، نماز اور دین پر مستحکم ایمان؛ اضطراب، تشویش، ہیجان اور خوف کو دور کردیتا ہے جو ہمارے دکھ درد کا آدھے سے زیادہ حصہ ہے“۔(5) (6)
________________________________________
(1) ”نیایش“ تالیف :طبیب و روانشناس مشہور ”الکسیس کارل“
،(2)”نیایش الکسیس کارل
(3) اصول کافی ، جلد دوم، صفحہ ۳۳۸ ، بابُ فَضْل الدُّعَا ء والحِثُّ عَلَیہ ، حدیث۳
(4) آئین زندگی ، صفحہ۱۵۶
(5) آئین زندگی ، صفحہ ۱۵۲
(6) تفسیر نمونہ ، جلد اول ، صفحہ ۶۳۹
ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی
ہندوستان کے وزیر دفاع نے ایک بار پھر پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملے کی بنا پر پاکستان پر تنقید کی ہے۔
پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق منوہر پاریکر نے منگل کے روز کہا کہ جنگجو پاکستان کی حمایت کے بغیر پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ نہیں کر سکتے تھے۔ ہندوستان کے وزیر دفاع نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ فیڈرل پولیس اس حملے کے بارے میں تحققیات کر رہی ہے، کہا کہ یقینا پاکستان میں نان اسٹیٹ ایکٹرز اس حملے میں ملوث تھے۔
منوہر پاریکر نے گزشتہ بدھ کے روز بھی کہا تھا کہ ہندوستان پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم کو پٹھان کوٹ ایئربیس کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
واضح رہے کہ جنوری کے مہینے میں مسلح افراد نے ہندوستان کی ریاست پنجاب کے پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملہ کر دیا تھا جس میں سات سیکورٹی اہلکار اور چھے حملہ آور مارے گئے تھے۔
ایران؛ معروف فلمی ہدایت کار فرج اللہ سلحشور کی رحلت پر رہبر انقلاب کا تعزیتی پیغام
پیغمبروں کی زندگیوں پر مختلف تاریخی فیلمیں بنانے والے مشہور ایرانی ہدایت کار مرحوم 'فرج اللہ سلحشور' کے انتقال پر سپریم لیڈر 'حضرت آیت اللہ خامنہ ای' اور صدر 'حسن روحانی' نے تعزیت کا اظہار کیا.
ایران میں بننے والے ٹی وی سیریل حضرت ایوب، مردان آنجلس (اصحاب کہف) اور حضرت یوسف علیہ السلام کے ہدایت کار فرج اللہ سلحشور گزشتہ ہفتے کے روز تہران میں واقع بقیۃ اللہ اسپتال میں انتقال کرگئے.
مرحوم سلحشور کینسر کے مرض میں مبتلا تھے. ان کے پھیپھڑوں نے بیماری کے باعث کام کرنا چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے مرحوم کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل کردیا گیا تھا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے.
رہبر معظم اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس مشہور ایرانی ہدایت کار کے انتقال پر ان کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مرحوم ہنر کے میدان بالخصوص ایرانی سینما میں ایک نمایاں آرٹسٹ تھے جن کا نام تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا.
صدر مملکت حسن روحانی نے بھی فرج اللہ سلحشور کے معزز خاندان کو دل کی گہرائی سے تعزیت اور تسلیت پیش کرتے ہوئے اللہ تعالی کی بارگاہ سے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی.
ملیشیا کی کرسٹل مسجد

ملیشیا کی کرسٹل (شیشہ ) کی بنی مسجد ، دنیا کی خوبصورت مسجدوں میں سے ایک ہے کہ جس کا ہر حصہ کریسٹل یعنی شیشہ سے بنا ہوا ہے ، یہ مسجد ماڈرن ٹیکنولوجی سے بنی ہوئی ہے۔

میزان زین العابدین " جو ۲۰۰۶ میں ترنگانو ، ریاست کا بادشاہ تھا اس نے یہ مسجد بنانے کا حکم دیا ، کرسٹل مسجد بنانے کا آغاز ۲۰۰۶ میں ہوا اور فروری ۲۰۰۸ میں اس کا افتتاح کیا گیا۔

یہ مسجد خالص کرسٹل سے بنی ہوئی ہے ، جو جنوب مشرقی ایشیاء میں جکارتا کی "استقلال جامع مسجد" کے بعد دوسری بڑی مسجد ہے اور ملیشیاء کی خوبصورت مسجدوں میں شمار کی جاتی ہے۔

یہ مسجد ریاست تیرینگانو کے تین ھزار آبادی والے شھرکوالا تیرینگانو میں پوتراجیا کی مصنوعی جھیل کے کنارے "وان من" اسلامی ثقافتی باغ میں واقع ہے۔

کرسٹل مسجد کی اندرونی معماری بے نظیر ہے اور اس میں پچیس ھزار لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں یہ مسجد ریاست ترنگانو میں سیاحوں کے لئے دلکش جگہ شمار ہوتی ہے۔

اس مسجد کی شیشہ والی دیواروں نے اس کی ظرافت اور شفافیت کو دوبالا کیا ہے۔ اگر چہ ہلکے مواد جیسے شیشہ کے استعمال نے اس کو ناپایدار اور قابل شکست جیسا بنایا ہے لیکن اس کا اندرونی ڈیزائن بہت مضبوط اور طاقتور ہے۔

کرسٹل مسجد اپنے اطراف کے ماحول، باغ، پانی کے فواروں کے ساتھ بہترین طریقے سے بنائی گئی ہے اور اس کے ساتھ ھم آھنگ ہے۔

مسجد کی محراب اور نماز کی مخصوص جگہ کے ارد گرد خوبصورت نقش و نگارسے قرآنی آیات ، خداوند متعال کے اسماء گرامی خط کوفی سے لکھے گئے ہیں جس نے فضا میں ایک خاص روحانی ماحول بنا دیا ہے۔

اس مسجد کے بنانے والوں نے اس کی خوبصورتی اور دلکش مناظر کی طرف خاص توجہ دی ہے۔

ملیشا کے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مسجد چینی طرز کے مطابق بنائی گئی ہے جبکہ وہ یہ چاھتے تھے کہ وہ مسجد کو اپنے علاقائی طرز پر بناتے۔

رات کے وقت کرسٹل مسجد کا ایک خوبصورت منظر
نائجیریا میں 50 ہزار سے زائد افراد خوراک کی قلت کی وجہ سے موت کے قریب پہنچ گئے ہیں
رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مطابق نائجیریا کے شمال مشرقی علاقوں میں 50 ہزار سے زیادہ افراد وہابی دہشت گرد تنظیم بوکو حرام کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خوراک کی قلت کی وجہ سے موت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ملک کے شمال مشرقی صوبہ بورنو کے کچھ علاقے فلاحی تنظیموں کے اہلکاروں کے لئے بہت خطرناک ہیں اس لئے وہ وہاں اشیائے خوردنی نہیں لا سکتے۔ نائجیریا کے شمال مشرقی علاقوں میں تقریباً 40 لاکھ افراد کو غذائی امداد کی ضرورت ہے کیوں کہ وہاں مسلسل جنگی کارروائیاں جاری ہیں۔لاکھوں افراد 2014 میں مسلح تصادم میں انتہائی شدت آنے کے وقت صوبہ بورنو کے مرکزی شہر مائڈوگوری میں پناہ لینے مین کامیاب ہوگئے تھے اور انہیں باقاعدگی سے امداد فراہم کی جا رہی ہے کیوں کہ فلاحی تنظیموں کے کارکنوں کو پناہ گزینوں کے کیمپوں تک رسائی حاصل ہے۔ لیکن جو لوگ نسبتاً محفوظ علاقوں میں بھاک نہیں سکے انہیں بھوک سے مرنے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے سعودی عرب سے منسلک وہابی دہشت گرد دنیا بھر میں بہیمانہ کارروائیاں کرکے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کررہے ہین جبکہ خود سعودی عرب یمن میں بھیانک اور خوفناک جرائم کا ارتکاب کررہا ہے جس میں اب تک ہزآروں یمنی شہری شہید ہوگئے ہیں۔
قرآن مجید؛ کازا بلانکا کتب نمائش میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب
رپورٹ کے مطابق مراکش کے شہر کازابلانکا میں منعقدہ اکیسویں بین الاقوامی کتب نمایش میں قرآن مجید کا نسخہ تیزی سے فروخت ہورہا ہے
«السلفیه» پبلیکیشنز کے مطابق نمایش میں بچوں کی کتابیں اور قرآن مجید کے نسخے سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں شامل ہیں.
«إفریقیا الشرق» پبلیکیشنز کے انچارج کمیل حب اللہ کا کہنا ہے کہ نمایش گاہ میں لوگوں کی دلچسپی دیدنی ہے جہاں ادبیات، رومانس،سوشل ساینسیز، اسلامک اسٹڈیز اور فلسفے کی کتابیں فروخت کے لیے موجود ہیں.
قابل ذکر ہے کہ نمایش گاہ میں عوام کی دلچسپی کے باوجود نمایش گاہ میں ہونے والی نشستوں کوخاطر خواہ توجہ اور کامیابی نہیں مل سکی ہیں.
شیعہ اور سنی بھائی بھائی : شیخ الازھر
رپورٹ کے مطابق شیخ الازھر شیخ احمد طیب نے کہا ہے کہ شیعہ اور سنی اسلام کے دو بازو اور آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ انہوں اسلامی فرقوں کے درمیان اتحاد اور قربت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد کا مطلب یہ نہیں ہے ہم کسی ایک نظریئے کو قبول کرلیں کیونکہ اختلاف ایک فطری بات ہے اور اسلام نے اسے تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر یہ بات زور دیکر کہی کہ کسی بھی مسلمان کو قتل کرنا چاہے شیعہ ہو یا سنی ، حرام ہے۔ انہوں نےتکفیریت کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کعبے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے والے کسی بھی شخص کی تکفیر جائز نہیں ہے۔ انہوں نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اسلام کے حقیقی راستے پر لوٹ آئیں جو برداشت و رواداری کا مذہب ہے اور انتہاپسندی سے پرہیز کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے شیعہ اور سنی علمائے کرام کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شیخ الازھر اور شیعہ علما کے درمیان ملاقاتوں اور رابطے کا سلسلہ شروع کیا جانا چاہیے۔
شیخ الازہر: قبلے کی طرف نماز پڑھنے والے کو کافر کہنا حرام ہے
ڈاکٹر احمد الطیب جو علمائے الازہر کے ایک وفد کے ہمراہ انڈونیشا میں ہین نے اس ملک کے علما کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کسی بھی مسلمان چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی کا قتل حرام قرار دیا اور سب کو اس بات کی طرف دعوت دی کہ اسلام کی حقیقی میراث جو مہر و محبت اور تشدد سے پرہیز پر مبنی ہے کی طرف توجہ کریں۔
انہوں نے امت مسلمہ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی نسبت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ہر طرح کے تعصب چاہے وہ فکری تعصب ہو یا مذہبی شدت پسندی، سے دور رہنا چاہیے۔
ڈاکٹر الطیب نے کسی خاص مذہب کو دوسرے پر تحمیل کرنے کے لیے کئے جانے والے اقدامات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: یہ چیز مذہبی جنگ کا باعث بنتی ہے جبکہ اسلام تمام مذاہب کو بغیر کسی تعصب کے قبول کرتا ہے۔
شیخ الازہر نے ہر اس شخص کی تکفیر کرنا حرام قرار دیا جو قبلہ کی طرف نماز ادا کرتا ہے اور کہا: تکفیر کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے اور کسی کو بھی حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے کو کافر قرار دے۔
احمد الطیب نے شیعہ سنی علما کی باہمی ملاقاتوں کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مسلمان علماء کے درمیان اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ سب ایک ہی مکتب فکر کے تابع ہو جائیں چونکہ اختلاف کا پایا جانا ایک فطری امر ہے جسے اسلام قبول کرتا ہے۔
شیخ الازہر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسلامی ممالک میں بچوں کو دی جانے والی دینی تعلیم صحیح نہیں ہے اور ان میں تشدد کا جذبہ پیدا کرتی ہے کہا: بعض تعلیمی نظام طلاب کو یہ باور کرا دیتا ہے کہ صرف ایک خاص مذہب ہی صحیح مذہب ہے اور صرف اسی کی پیروری ہونا چاہیے اور بس۔
سوئزر لینڈ کے صدر کی رہبر انقلاب سے ملاقات، اقتصادی میدانوں میں دوجانبہ تعاون پر تاکید
سوئزرلینڈ کے صدر یوہان اشنائیڈر امان نے ہفتے کی شام رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے دونوں ملکوں کے اچھے تعلقات اور ایرانی عوام کے ذہنوں میں سوئزرلینڈ کے تئیں مثبت سوچ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایران اور سوئزرلینڈ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کا حجم کم اور غیرمتوازن ہے۔ آپ نے فرمایا کہ سوئیس سرمایہ کار، ایران میں پائے جانے والے بے شمار مواقع سے آگاہی حاصل کر کے دونوں ملکوں کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران کے خلاف مغربی ملکوں کی پابندیوں اور دباؤ کے دور میں سوئزرلینڈ کی جانب سے کوئی منفی رویّہ نہیں دیکھا گیا اور سوئزرلینڈ، ایران مخالف پابندیوں میں ان مغربی ملکوں کے ساتھ شامل نہیں ہوا اور یہی چیز دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کا باعث بن سکتی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے بعض یورپی حکومتوں کے جنگ بھڑکانے والے اقدامات منجملہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے دوران یورپی حکومتوں کی طرف سے صدام کو جنگی طیاروں اور میزائلوں کی فراہمی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایرانی عوام یورپی حکومتوں کے ان اقدامات کو بھولے نہیں ہیں اور یورپی حکومتوں کے انہی منفی رویوں کی وجہ سے ایران کے عوام میں یورپ کے تئیں اچھے خیالات نہیں پائے جاتے البتہ سوئزرلینڈ کے سلسلے میں ایران کے عوام مثبت اور اچھی سوچ رکھتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ایران اور سوئزرلینڈ کے درمیان ہونے والے سمجھوتوں کی مکمل حمایت کرتے ہوئے فرمایا کہ اہم بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے محکم عزم و ارادوں اور سنجیدہ تعاون کی بدولت ان سمجھوتوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ سوئزرلینڈ کے صدر یوہان اشنائیڈر امان نے بھی اپنے دورہ ایران پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایران اور سوئزرلینڈ کے قدیم دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے دورہ تہران میں دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تعاون کے روڈ میپ پر بات چیت ہوئی ہے اور اس روڈ میپ پر دستخط سے دونوں ملکوں کے تعلقات زیادہ سے زیادہ فروغ پا سکتے ہیں۔
با بصیرت عوام کا شکریہ جنہوں نے اپنی جوش و جذبے سے سرشار درخشاں تصویر دنیا کے سامنے پیش کی
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے ایک پیغام کے ذریعے ایران کی مصمم ارادوں کی مالک با بصیرت عوام کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے اسلامی نظام کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اپنے یادگاراور پختہ عزم و ارادےکا مظاہرہ کیا اور اپنی جوش و جذبے سے سرشار درخشاں تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔ اس پیغام میں اعلیٰ حکام کو مخاطب کرتے ہوئے عوام کا شائستہ انداز میں شکریہ ادا کرنے کو سچی خدمت اور ہمہ جانبہ اور اندرونی طور پر ترقی و پیشرفت کو بنیادی ہدف قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگلی پارلیمنٹ کے کاندھوں پر بہت اہم ذمہ داریاں ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اس پارلیمنٹ میں خداوند متعال اور عوام کے سامنے جوابدہ ہونے کا مشاہدہ کیا جائے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
خداوند دانا اور توانا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ جس نے ایک اور عظیم امتحان میں ایران کی مصمم ارادوں کی مالک با بصیرت عوام کو کامیابی سے ہمکنار کیا، عوام اسلامی انقلاب کے آغاز کے بعد سے چھتیسیوں مرتبہ عام انتخابات میں اپنے یادگار راسخ عزم و ارادے اور جوش و جذبے کے ذریعے حاضر ہوئے اور موجودہ دور میں اپنے ملک کی تقدیر اور اییک بار پھر اپنے مذہبی اقتدار کو درخشاں اور با قدرت چہرے کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران اپنی ملت پر فخر کرتا ہے اور ان قوانین کے قوی ہونے کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھتا ہے کہ جن کی وجہ سے اپنا سر فخر سے بلند کرنے اور قومی طاقت کی تجدید کے لیے یہ بہترین مواقع میسر آئے ہیں۔
میں اپنا وظیفہ سمجھتا ہوں کہ عوام کی جانب سے نظام اسلامی کی دعوت پر لبیک کہے جانے کا شکریہ ادا کروں اور خداوند متعال سے عوام کی ہدایت اور جزا کی دعا کرتا ہوں کہ جنہوں نے اس جمعے کو اپنے بھرپور جوش و جذبے اور عظمت و شوکت کا مظاہرہ کیا۔
ملک کے اعلیٰ حکام کو کہ جنہیں پارلیمنٹ اور مجلس خبرگان کے لئے منتخب کیا گیا ہے یامختلف ایگزیکٹو عہدوں پر فائز افراد ہوں یا مختلف اداروں اور آرگنائزیشنز میں مشغول اعلی افسران، ان تمام افراد کو یہ یاددہانی کروانا چاہتا ہوں کہ اسلامی نظام، ملک اور عوام کا شائستہ انداز میں شکریہ ادا کرنے کے لئے عملی اقدامات کریں، سادہ زندگی، پاکدامنی، اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے مقام پر مسلسل حاضر رہنے، قومی مفادات کو گروہی اور انفرادی مفادات پر ترجیح دے کر، اغیار کی مداخلت کے مقابلے میں شجاعت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے، بدخواہوں اور منافقین کی سازشوں کے مقابلے میں انقلابی ردعمل کا مظاہرہ کرنے، اپنی فکر و عمل میں جہادی طرز عمل دکھانے، اور ایک جملے میں کہوں تو خدا کے لئے اور خلق خدا کی خدمت کی راہ میں کام انجام دینے کو اس ذمہ داری کے زمانے میں اپنا لائحہ عمل قرار دیں اور کسی بھی قیمت پر اس سے روگردانی نہ کریں۔
موجودہ انتہائی حساس دور، آپ اعلی حکام سے حساسیت، ہوشیاری اور راسخ عزم کا تقاضہ کرتا ہے۔
بنیادی ہدف ملکی ترقی اور پیشرفت ہے۔ قومی عزت اور آزادی سے خالی دکھاوے کی ترقی قابل قبول نہیں ہے۔ ترقی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عالمی استکبار کے ہاضمے میں تحلیل ہوجائیں اور تمام میدانوں میں ترقی اور داخلی طور پر استحکام کے بغیر قومی عزت اور شناخت کی حفاظت نہیں کی جاسکتی۔ ان اہم موضوعات کے سلسلے میں اگلی پارلیمنٹ کے کاندھوں پر سنگین ذمہ داریاں ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اس پارلیمنٹ میں خداوند متعال اور عوام کے سامنے جوابدہ ہونے کا مشاہدہ کیا جائے گا۔
ضروری سمجھتا ہوں کہ پر شکوہ انتخابات کے انعقاد پر الیکشن کمیشن کے عملے، اور دیگر حکام، امن و امان برقرار کرنے والے اداروں اور دوسرے تمام اداروں اور اس سلسلے میں موثر شخصیات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کروں۔
خداوند متعال آپ تمام افراد کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
سیّد علی خامنهای
۹/ اسفند ماه/ ۱۳۹۴




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
