Super User

Super User

القاعدہ کی سوچ ایران کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ القاعدہ کی سوچ کسی بھی طرح اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی اور ایران ایسے کسی بھی دہشت گردانہ اقدامات کا مخالف ہے کہ جس سے قوموں کی جان خطرے میں پڑ جائے۔

رپورٹ کے مطابق رامین مہمان پرست نے آج کینیڈا کے حکام کے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ انہوں نے دو ایسے دہشت گردوں کو پکڑا ہے کہ جو القاعدہ کے رکن ہیں اور وہ ایران میں مقیم رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جبکہ کینیڈا کی حکومت نے حالیہ برسوں کے دوران ایرانو فوبیا کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھا ہے اور ممکن ہے یہ دعوی کینیڈا کے مخاصمانہ طرزعمل کا تسلسل ہو۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ تمام ملکوں کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہیے اور اگر کینیڈا کی حکومت دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے تو اسے ان کا بھی مقابلہ کرنا چاہیے کہ جنہوں نے شام کے امن کو تباہ کر دیا ہے اور وہاں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

رامین مہمان پرست امریکی وزیر جنگ چیک ہیگل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن کھلا ہونے کے بارے میں دیے گئے بیان کے بارے میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اتنا طاقتور ہے کہ اپنے حقوق اور سرزمین کا دفاع کر سکتا ہے اور وہ کسی بھی دشمن کو جارحیت کو اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے شام کے بحران کے حل کے لیے ایران سعودی عرب مصر اور ترکی کے چار فریقی اجلاس کے بارے میں کہا کہ ایران شام کے بحران کو بہترین ممکن راستے اور پرامن طریقے سے حل کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔

مہمان پرست نے عراقی حکومت کی جانب سے ایرانی ہوائی جہاز کی تلاشی لیے جانے کے بارے میں کہا کہ یہ اقدام معافی کے قابل نہیں ہے اور نہ ہی اس کا جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اس پر اپنا احتجاج رکارڈ کرا دیا ہے اور وہ اسے بین الاقوامی قوانین اور کنونشنوں کے خلاف سمجھتا ہے۔

ميانمار، مسلمانوں پرتشدد پولیس برابر کی شریکمیانمار میں مسلمانوں پر انتہا پسند بڈھسٹوں کے تشدد میں اس ملک کی پولیس بھی برابر کی شریک ہے۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق ایک ویڈیو منظر عام پر آئي ہے جس میں واضح طور پر نظر آتا ہے کہ ایک مسلمان سنار کی دکان پر بدھ بلوائی حملے کر رہے ہیں۔جلاوٴ گھیراوٴ میں پولیس خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے۔یہ ویڈیو پولیس نے خود ہی میکتیلا قصبے میں مارچ کے اواخر میں بنائی۔جہاں نسلی فسادات میں تینتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلوائیوں کی ٹولیاں دکانوں اور گھروں کو لوٹ کر نذرِ آتش کر رہی ہیں۔

دریں اثناء فرانسیسی باشندوں نے پیرس میں مسلمانوں کی حمایت میں جلوس نکالا ۔ پیرس میں کل نکالے جانے والے جلوس میں فرانسیسی عوام نے میانمار کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کو دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قرار دیا۔

اسرائیل کی حماقت کا نتیجہ اس کی اپنی نابودیاسلامی جمہوریہ ایران کی برّی فوج کے کمانڈر بریگیڈیر احمد رضا پوردستان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف صیہونی حکومت کی ہر طرح کی حماقت اس حکومت کی نابودی پر منتج ہوگی۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیر احمد رضا پوردستان نے کل تہران میں ایران کے دوست ممالک کے فوجی اتاشیوں سے ملاقات میں کہا کہ صیہونی حکام کو یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہۓ کہ ملت ایران کے خلاف ان کی کسی بھی طرح کی حماقت ان کی اپنی خود کشی کے مترادف ہوگي اور اس حماقت کا نتیجہ صیہونی حکومت کی نابودی کے سوا کچھ اور نہیں نکلے گا۔

احمد رضا پوردستان نے آٹھ روزہ جنگ میں صیہونی حکومت کے مقابلے میں ملت فلسطین کی فتح کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی مجاہدین نے خدا تعالی پر ایمان ، اور اپنی ہمت پر بھروسہ کرتے ہوئے ناجائز صیہونی حکومت کو ناامید کردیا ہے۔

یورینیم کی افزودگي سمیت پرامن ایٹمی سرگرمیاں ایران کا حقایران کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم کے رکن عراقچی نے این پی ٹی معاہدے کے تحت یورینیم کی افزودگي سمیت پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو ایران کا حق قرار دیا ہے۔

مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ‎ ایران کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم کے رکن اور نائب وزیر خارجہ نے تہران میں غیرملکی سفیروں اور سفارتی نمائندوں کے ساتھ ایک نشست میں کہا کہ ایران این پی ٹی معاہدے میں دیے گئے اپنے ایٹمی حقوق سے ہر گز دستبردار نہیں ہو گا۔

عراقچی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے آلماتی مذاکرات میں گروپ پانچ جمع ایک کو قابل عمل تجاویز پیش کی ہیں اور اگر انہیں تسلیم کر لیا جاتا ہے تو ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق مسائل قدم بہ قدم اور متوازن طریقے اپنے حل کی طرف آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے حتمی اتفاق رائے کے حصول تک مذاکرات جاری رکھنے پر ایرانی وفد کی آمادگي کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر گروپ پانچ جمع ایک یورینیم کی افزودگي سمیت ملت ایران کے حقوق کو تسلیم کر لیتا ہے اور مخاصمانہ اقدامات سے اجتناب کرتے ہوئے پابندیاں ختم کر دیتا ہے تو مذاکرات آسان اور تیزی سے آگے بڑھیں گے۔

سمندری راستے منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے بارے میں ایران پاکستان اور افغانستان کا سہ فریقی اجلاس تہران میں منعقد ہوا۔

رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں ایرانی وفد کے سربراہ بریگیڈیر علی مویدی نے کہا کہ آج سمندر میں ایک نیا محاذ کھول دیا گيا ہے کہ جس کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقے کے تمام ملکوں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے جدید خطوط پر کام کرنا ہو گا اور سائنٹفک طریقے اپنانا ہوں گے۔

اس اجلاس میں متحدہ عرب امارات نے مبصر رکن کی حیثیت سے شرکت کی۔

غیر ذمہ دارانہ صحافت سے مسلمان آبادی بدنامپریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا ہے کہ میڈیا غیر ذمہ دارانہ صحافت سے مسلمان آبادی کو بدنام کر رہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف برتے جانے والے امتیاز کے باعث اْن کے اندر ناانصافی کا احساس پیدا ہورہا ہے۔ جسٹس کاٹجوگزشتہ روز ’دہشت گردی کی رپورٹنگ، میڈیا کتنا حساس ہے؟‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ پریس کونسل آف انڈیا کے سربراہ نے کہا کہ جب بھی کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے یا ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، تو ایک آدھ گھنٹے کے اندر ہی بہت سے نیوز چینل یہ دکھانے لگتے ہیں کہ انڈین مجاہدین، جیش محمد یا حرکة الجہاد الاسلامی یا کسی اور مسلم تنظیم کے نام سے ایک اِی میل یا ایس ایم ایس آیا ہے، جس میں اِس واردات کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا اِی میل یا ایس ایم ایس کوئی بھی بھیج سکتا ہے اور ایسی رپورٹنگ سے فرقہ واریت پروان چڑھتی ہے۔

قبولِ اسلام سے قبل عفیفہ ایک آزاد خیال ہندو لڑکی اور ہاکی کی کھلاڑی تھی۔ مگر جب اس نے اسلام کو فطرت کے قریب اور اپنے ضمیر کی آواز پایا تو اسے قبول کرلیا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کی ایک ہاکی کھلاڑی آرہی ہیں تو ہم سوچ رہے تھے کہ آپ ہاکی کے ڈریس میں آئیں گی، مگر آپ ماشاءاللہ برقع میں ملبوس، اور دستانے پہن کر مکمل پردے میں ہیں۔ آپ اپنے گھر سے برقع اوڑھ کر کیسے آئی ہیں؟

عفیفہ: الحمدللہ میں پچھلے دو ماہ سے شرعی پردے میں رہتی ہوں۔

ابھی آپ کے گھر میں تو کوئی مسلمان نہیں ہوا؟

عفیفہ: جی، میرے گھر میں ابھی میرے علاوہ کوئی مسلمان نہیں ہے۔ اس کے باوجود میں الحمدللہ کوشش کرتی ہوں کہ میں اگرچہ گھر میں اکیلی مسلمان ہوں مگر میں آدھی مسلمان تو نہ بنوں، آدھی اِدھر، آدھی ادھر، یہ تو نہ ہونا چاہیے۔

٭.... آپ کو ہاکی کھیلنے کا شوق کیسے ہوا، یہ تو بالکل مردوں کا کھیل ہے؟

عفیفہ: اصل میں، مَیں ہریانہ کے سونی پت ضلع کے ایک گاوں کی رہنے والی ہوں۔ ہمارے گھر میں سبھی مرد پڑھے لکھے ہیں اور اکثر کبڈی کھیلتے ہیں۔ میں نے اسکول میں داخلہ لیا اور ابتدا ہی سے کلاس میں ٹاپ کرتی رہی۔ سی بی ایس ای بورڈ میں میری ہائی اسکول میں گیارھویں پوزیشن رہی۔ مجھے شروع ہی سے مردوں سے آگے نکلنے کا شوق تھا، اس کے لیے میں نے اسکول میں ہاکی کھیلنا شروع کی۔ پہلے ضلع میں نویں کلاس میں سلیکشن ہوا، پھر ہائی اسکول میں ہریانہ اسٹیٹ کے لیے لڑکیوں کی ٹیم میں میرا سلیکشن ہوگیا۔ ۱۲ویں کلاس میں بھی میں نے اسکول میں ٹاپ کیا اور سی بی ایس ای بورڈ میں میرا نمبر ۱۸واں رہا۔ اسی سال میں خواتین کی بھارتی ہاکی ٹیم میں منتخب ہوگئی۔ عورتوں کے ایشیا کپ میں بھی کھیلی اور بہت سے ٹورنامنٹ میری کارکردگی کی وجہ سے جیتے گئے۔ اصل میں ہاکی میں بھی سب سے زیادہ فعال کردار سنٹرفارورڈ کا ہوتا ہے، یعنی سب سے آگے درمیان میں کھیلنے والے کھلاڑی کا۔ میں ہمیشہ سنٹرفارورڈ پوزیشن پر کھیلتی رہی۔ مردوں سے آگے بڑھنے کا جنون تھا، مگر روزانہ رات کو میرا جسم مجھ سے شکایت کرتا تھا، کہ یہ کھیل عورتوں کا نہیں ہے۔ مالک نے اپنی دنیا میں ہر ایک کے لیے الگ کام دیا ہے۔ ہاتھ پاوں بالکل شل ہوجاتے تھے، مگر میرا جنون مجھے دوڑاتا تھا اور اس پر کامیابی اور واہ واہ مجھے فطرت کے خلاف دوڑنے پر مجبور کرتی تھی۔

٭.... اسلام قبول کرنے سے پہلے تو آپ کا نام پریتی تھا؟

عفیفہ: حضرت کلیم صدیقی نے میرا نام عفیفہ، ابھی یعنی کچھ ماہ پہلے رکھا ہے۔

٭.... آپ کے والد کیا کام کرتے ہیں؟

عفیفہ: وہ سی بی ایس ای بورڈ کا ایک اسکول چلاتے ہیں، اس کے پرنسپل ہیں۔ میرے ایک بڑے بھائی اس میں پڑھاتے ہیں، میری بھابی بھی پڑھاتی ہیں۔ وہ سب کھیل سے دل چسپی رکھتے ہیں، میری بھابی بیڈمنٹن کی کھلاڑی ہیں۔

٭.... ایسے آزاد ماحول میں زندگی گزارنے کے بعد ایسے پردے میں رہنا آپ کو کیسا لگتا ہے؟

عفیفہ: ا نسان اپنی فطرت سے کتنا ہی دور ہوجائے اور کتنے زمانے تک دور رہے، جب بھی وہ اس کی طرف پلٹتا ہے تو وہ کبھی اجنبیت محسوس نہیں کرے گا۔ وہ ہمیشہ محسوس کرے گا کہ اپنے گھر لوٹ آیا۔ اللہ نے عورتوں کی فطرت مردوں سے بالکل الگ بنائی ہے۔ بنانے والے نے عورت کو چھپنے اور پردہ میں رہنے کے لیے بنایا۔ اسے سکون اور چین، لوگوں کی ہوس بھری نگاہ سے بچے رہنے میں ہی مل سکتا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے، جس کے سارے حکم انسانی فطرت سے میل کھاتے ہیں، مردوں کے لیے مردوں کے فطرت کی بات، اور عورتوں کے لیے عورتوں کی فطرت کی بات۔

٭.... آپ کی عمر کتنی ہے؟

عفیفہ: میری تاریخ پیدایش جنوری ۱۹۸۸ءہے، گویا ۲۲سال۔

٭.... آپ کے گھر میں آپ کے اتنے بڑے فیصلے پر مخالفت نہیں ہوئی؟

عفیفہ: ہوئی اور خوب ہوئی، مگر سب جانتے ہیں کہ عجیب دیوانی لڑکی ہے، جو فیصلہ کرلیتی ہے پھر اس سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ اس لیے شروع میں ذرا سختی ہوئی مگر جب اندازہ ہوگیا کہ میں دور تک جاسکتی ہوں تو سب موم ہوگئے۔

٭.... آپ ہاکی اب بھی کھیلتی ہیں؟

عفیفہ: نہیں، اب میں نے ہاکی چھوڑ دی ہے۔

٭.... اسے تو گھر والوں نے بہت محسوس کیا ہوگا؟

عفیفہ: ہاں، مگر فیصلہ لینے کا حق مجھے تھا۔ میں نے فیصلہ لیا اور میں نے اپنے اللہ کا حکم سمجھ کر لیا، اب اللہ کے حکم کے آگے بندوں کی چاہت کیسے ٹھیرسکتی ہے۔

٭.... آپ کے تیور تو گھر والوں کو بہت سخت لگتے ہوں گے؟

عفیفہ: آدمی کو ڈِھل مِل نہیں ہونا چاہیے۔ اصل میں آدمی پہلے یہ فیصلہ کرے کہ میرا فیصلہ حق ہے کہ نہیں، اور اگر اس کا حق پر ہونا ثابت ہوجائے، تو پہاڑ بھی سامنے سے ہٹ جاتے ہیں۔

٭.... آپ کے اسلام میں آنے کا ذریعہ کیا چیز بنی؟

عفیفہ: میں ہریانہ کے اس علاقے کی رہنے والی ہوں جہاں کسی ہندو کا مسلمان ہونا تو دور کی بات ہے، الٹا کتنے مسلمان ہیں جو ہندو بنے ہوئے ہیں۔ خود ہمارے گاؤں میں تیلیوں کے بیسیوں گھر ہیں جو ہندو ہوگئے ہیں، مندر جاتے ہیں، ہولی دیوالی مناتے ہیں۔ لیکن مجھے اسلام کی طرف وہاں جاکر رغبت ہوئی جہاں جاکر خود مسلمان اسلام سے آزاد ہوجاتے ہیں۔

٭.... کہاں اور کس طرح؟ ذرا بتائیں؟

عفیفہ: میں ہاکی کھیلتی تھی تو بالکل آزاد ماحول میں رہتی تھی۔ آدھے سے کم کپڑوں میں ہندوستانی روایات کا خیال بھی ختم ہوگیا تھا۔ ہمارے اکثر کوچ مرد رہے۔ مرد ٹیم کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ٹیم میں ایسی بھی لڑکیاں تھیں جو رات گزارنے بلکہ خواہشات پوری کرنے میں ذرّہ برابر کوئی جھجک محسوس نہیں کرتی تھیں۔ اللہ کا کرم تھا کہ مجھے اس نے اس حد تک نہ جانے دیا۔ گول کے بعد اور میچ جیت کر مردوں عورتوں کا گلے لگ جانا، چمٹ جانا تو کوئی بات ہی نہیں تھی۔ میری ٹیم کے کوچ نے کئی دفعہ بے تکلفی میں میرے کسی شاٹ پر ٹانگوں یا کمر میں چٹکیاں بھریں۔ میں نے اس پر نوٹس لیا اور ان کو وارننگ دی، مگر ٹیم کی ساتھی لڑکیوں نے مجھے برا بھلا کہا کہ اتنی سی بات کو دوسری طرح لے رہی ہو، مگر میرے ضمیر پر بہت چوٹ لگی۔

ہماری ٹیم ایک ٹورنامنٹ کھیلنے ڈنمارک گئی۔ وہاں مجھے معلوم ہوا کہ ڈنمارک کی ٹیم کی سنٹرفارورڈ کھلاڑی نے ایک پاکستانی لڑکے سے شادی کرکے اسلام قبول کرلیا ہے، اور ہاکی کھیلنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ لوگوں میں یہ بات مشہور تھی کہ اس نے شادی کے لیے اس لڑکے کی محبت میں اسلام قبول کیا ہے۔ مجھے یہ بات عجیب سی لگی۔ ہم جس ہوٹل میں رہتے تھے، اس کے قریب ایک پارک تھا، اس پارک سے ملا ہوا ان کا مکان تھا۔ میں صبح کو اس پارک میں سیر کر رہی تھی کہ ڈنمارک کی ایک کھلاڑی نے مجھے بتایا: وہ سامنے برٹنی کا گھر ہے جو ڈنمارک کی ہاکی کی مشہور کھلاڑی رہی ہے۔ اس نے اپنا نام اب سعدیہ رکھ لیا ہے اور گھر میں رہنے لگی ہے، مجھے اس سے ملنے کا شوق ہوا۔ میں ایک ساتھی کھلاڑی کے ساتھ اس کے گھر گئی۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کہیں جانے والی تھی، بالکل موزے ، دستانے اور پورے برقعے میں ملبوس۔ میں دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئی اور ہم دونوں ہنسنے لگیں۔ میں نے اپنا تعارف کرایا تو وہ مجھے پہچانتی تھی۔ وہ بولی میں نے تمھیں کھیلتے دیکھا ہے۔ سعدیہ نے کہا: 'ہمارے ایک سسرالی عزیز کا انتقال ہوگیا ہے، مجھے وہاں جانا ہے، ورنہ میں آپ کے ساتھ کچھ باتیں کرتی۔ میں تمھارے کھیلنے کے انداز سے بہت متاثر رہی ہوں۔ ہاکی کا کھیل عورتوں کی فطرت سے میل نہیں کھاتا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ تمھاری صلاحیتیں فطرت سے رچاؤ رکھنے والے کاموں میں لگیں۔ میں تم سے ہاکی چھڑوانا چاہتی ہوں‘۔ میں نے کہا: 'آپ میرے کھیل کے انداز سے متاثر ہیں اور مجھ سے کھیل چھڑوانا چاہتی ہیں، جب کہ میں تو آپ کا ہاکی چھوڑنا سن کر آپ سے ملنے آئی ہوں کہ ایسی مشہور کھلاڑی ہوکر آپ نے کیوں ہاکی چھوڑ دی؟ میں آپ کو فیلڈ میں لانا چاہتی ہوں‘۔ سعدیہ نے کہا:'اچھا آج رات کو میرے ساتھ کھانے کی دعوت قبول کرو‘۔ میں نے کہا کہ آج تو نہیں، کل ہوسکتا ہے، اور یہ طے ہوگیا۔

میں ڈنر پر پہنچی، تو سعدیہ نے اپنے قبولِ اسلام کی روداد مجھے سنائی اور بتایا کہ میں نے شادی کے لیے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اپنی شرم اور اپنی عصمت کی عزت و حفاظت کے لیے اسلام قبول کیا ہے اور اسلام کےلیے شادی کی ہے۔ سعدیہ نہ صرف ایک مسلم خاتون تھی بلکہ اسلام کی بڑی داعیہ تھی۔ اس نے فون کرکے دو انگریز لڑکیوں کو اور ایک معمر خاتون کو بلایا، جو ان کے محلے میں رہتی تھیں، اور سعدیہ کی دعوت پر مسلمان ہوگئی تھیں۔ وہ مجھے سب سے زیادہ اسلام کے پردے کے حکم کی خیر و برکت بتاتی رہیں اور بہت اصرار کر کے مجھے برقع پہنا کر باہر جاکر آنے کو کہا۔ میں نے برقع پہنا۔ ڈنمارک کے بالکل مخالف ماحول میں، میں نے برقعے پہن کر گلی کا چکر لگایا، مگر برقع میرے دل میں اتر گیا۔ بیان نہیں کرسکتی کہ میں نے مذاق اڑانے یا زیادہ سے زیادہ اس کی خواہش کے لیے برقع پہنا تھا، مگر مجھے اپنا انسانی قد بہت بڑھا ہوا محسوس ہوا۔ اب مجھے اپنے کوچ کی بے شرمانہ شہوانی چٹکیوں سے گھن بھی آرہی تھی۔ میں نے برقع اتارا اور سعدیہ کو بتایا کہ مجھے واقعی برقع پہن کر بہت اچھا لگا، مگر آج کے ماحول میں جب برقعے پر مغربی حکومتوں میں پابندی لگائی جارہی ہے، برقع پہننا کیسے ممکن ہے، اور غیرمسلم کا برقع پہننا تو کسی طرح ممکن نہیں؟ وہ مجھے اسلام قبول کرنے کو کہتی رہیں اور بہت اصرار کرتی رہیں۔ میں نے معذرت کی کہ میں اس کے لیے تیار نہیں ہوں۔ ابھی مجھے دنیا کی نمبر ون ہاکی کی کھلاڑی بننا ہے، یوں میرے سارے ارمانوں پر پانی پھر جائے گا۔ سعدیہ نے کہا: 'مجھے آپ کو ہاکی کی فیلڈ سے برقعے میں لانا ہے۔ میں نے اپنے اللہ سے دعا بھی کی ہے اور بہت ضد کرکے دعا کی ہے‘۔ اس کے بعد ہم ۱۰روز تک ڈنمارک میں رہے۔ وہ مجھے فون کرتی رہی، دوبار ہوٹل میں ملنے آئی، اور مجھے اسلام پر کتابیں دے کر گئی۔

٭....آپ نے وہ کتابیں پڑھیں؟

عفیفہ: کہیں کہیں سے دیکھی ہیں۔

٭.... اس کے بعد اسلام میں آنے کا کیا ذریعہ بنا؟

عفیفہ: میں بھارت واپس آئی۔ ہمارے یہاں نریلا کے پاس گاؤں کی ایک لڑکی (جس کے والد ۱۹۷۴ئ میں ہندو ہوگئے تھے، اور بعد میں آپ کے والد مولانا کلیم اللہ کے ہاتھوں مسلمان ہوگئے تھے، ان کی مرید بھی تھے اور حج بھی کر آئے تھے) ہاکی کھیلتی تھی۔ وہ دلی اسٹیٹ کی ہاکی ٹیم میں تھی اور بھارت کی طرف سے منتخب ہونے کے بعد روس میں کھیلنے جانے والی تھی۔ وہ مشورے اور کھیل کے انداز میں رہنمائی کے لیے میرے پاس آئی۔ میں نے اس سے ڈنمارک کی مشہور کھلاڑی برٹنی کا ذکر کیا۔ اس نے اپنے والد صاحب کو ساری بات بتائی۔ وہ اپنی لڑکی کے ساتھ مجھ سے ملنے آئے، اور مجھے حضرت کی کتاب آپ کی امانت اور اسلام ایک پریچے دی۔ آپ کی امانت چھوٹی سی کتاب تھی، برقعے نے میرے دل میں جگہ بنا لی تھی۔اس کتاب نے برقع کے حکم کو میرے دل میں بٹھا دیا۔ میں نے حضرت صاحب سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ دوسرے روز حضرت کا پنجاب کا سفر تھا۔ اللہ کا کرنا کہ بہال گڑھ ایک صاحب کے یہاں ہائی وے پر ملاقات طے ہوگئی اور حضرت نے ۱۰، ۱۵ منٹ مجھ سے بات کر کے کلمہ پڑھنے کو کہا، اور انھوں نے بتایا کہ میرا دل یہ کہتا ہے کہ برٹنی نے اپنے اللہ سے آپ کو برقعے میں لانے کی بات منوا لی ہے۔ بہرحال میں نے کلمہ پڑھا اور حضرت نے میرا نام عفیفہ رکھا، اور کہا: عفیفہ پاک دامن کو کہتے ہیں۔ چونکہ فطرتاً آپ اندر سے پاک دامنی کو پسند کرتی ہیں، میری بھانجی کا نام بھی عفیفہ ہے، میں آپ کا نام عفیفہ ہی رکھتا ہوں۔

٭....اس کے بعد کیا ہوا؟

عفیفہ: میں نے برٹنی کو فون کیا اور اس کو بتایا۔ وہ بہت خوش ہوئی۔ جب میں نے حضرت کا نام لیا تو انھوں نے اپنے شوہر سے بات کرائی۔ ڈاکٹر اشرف ان کا نام ہے۔ انھوں نے بتایا کہ حضرت کی بہن کے یہاں رہنے والی ایک حرا کی شہادت اور اس کے چچا کے قبولِ اسلام کی کہانی سن کر ہمیں اللہ نے اسلام کی قدر سکھائی ہے، اور اسی کی وجہ سے میں نے برٹنی سے شادی کی ہے، یہ کہہ کر کہ اگر تم اسلام لے آتی ہو تو میں تم سے شادی کے لیے تیار ہوں۔ اس کے بعد میں نے اخبار میں اشتہار دیا، گزٹ میں نام بدلوایا، اپنی ہائی اسکول اور انٹر کی ڈگریوں میں نام بدلوایا اور ہاکی سے ریٹائرمنٹ لے کر گھر پر اسٹڈی شروع کی۔

٭.... اب آپ کا کیا ارادہ ہے ، آپ کی شادی کا کیا ہوا؟

عفیفہ: میں نے آئی سی ایس (انڈین سول سروس) کی تیاری شروع کی ہے۔ میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ میں ایک آئی سی ایس افسر بنوں گی اور برقع پوش آئی ایس آئی افسر بن کر اسلامی پردے کی عظمت لوگوں کو بتاوں گی۔

٭.... آپ اس کے لیے مطالعہ کر رہی ہیں؟

عفیفہ: میں نیٹ پر اسٹڈی کر رہی ہوں۔ میرے اللہ نے ہمیشہ میرے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے کہ میں جو ارادہ کرلیتی ہوں، اسے پورا کردیتے ہیں۔ جب کافر تھی تو پورا کرتے تھے، اب تو اسلام کی عظمت کے لیے میں نے ارادہ کیا ہے، اللہ ضرور پورا کریں گے۔ مجھے ایک ہزار فی صد امید ہے کہ میں پہلی بار میں ہی آئی سی ایس امتحانات پاس کرلوں گی۔

٭.... مگر آپ کے انٹرویو کا کیا ہوگا؟

عفیفہ: برقع اوراسلام کے سارے مخالف بھی اگر انٹرویو لیں گے تو وہ میرے سلیکشن کے لیے ان شائ اللہ مجبور ہوجائیں گے۔

٭.... گھر والوں کو آپ نے دعوت نہیں دی؟

عفیفہ: ابھی دعا کر رہی ہوں، اور قریب کر رہی ہوں۔ ہمیں ہدایت کیسے ملی؟ ہندی میں مَیں نے گھر والوں کو پڑھوائی۔ سب لوگ حیران رہ گئے، اور اللہ کا شکر ہے کہ ذہن بدل رہا ہے۔

٭.... کوئی پیغام آپ دیں گی؟

عفیفہ: عورت کا بے پردہ ہونا اس کی حددرجہ توہین ہے۔ مرد خدا کے لیے، اپنے جھوٹے مطلب اور اپنا بوجھ عورتوں پر ڈالنے کے لیے ان کو بازاروں میں بے پردہ پھرا کر ان کی تحقیر و تذلیل سے باز رہیں، اور عورتیں اپنے مقام اور اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کے لیے اسلام کے پردے کے حکم کی قدر کریں۔

قرآن اور اہلبیت علیہم السلام کی روایتوں میں بعض عورتوں کو نیکی اور اچھائی کے ساتھ یاد کیا گیا ہے ،اس مقام پر ہم چند آیت وروایت بطور نمونہ پیش کرتے ہیں:

 

آیات:

١۔''انّ المسلمین والمسلمات والمومنین و المومنات والقانتین والقانتات والصّادقین و الصّادقات والصّابرین والصّابرات والخاشعین والخاشعات والمتصدّقین والمتصدّقات والصّائمین والصّائمات والحافظین فروجھم والحافظات والذّاکرین اللّٰہ کثیراً والذّاکرات اعدّ اللّٰہ لھم مغفرة واجراً عظیما''١

 

''بے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صابر مرد اور صابر عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں ،روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والے مرد اور عورتیں اور خدا کا بکثرت ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں۔اللہ نے ان سب کے لئے مغفرت اور عظیم اجر مہیا کررہا ہے'' ۔

 

اس آیۂ کریمہ میں مرد اور عورت کا تذکرہ ایک دوسرے کے پہلو میں کیا گیا ہے اور خداوند عالم نے ان دونوں کے درمیان ثواب اور جزاکے لحاظ سے کوئی فرق نہیں رکھا ہے ۔

٢۔''یا ایّھا الناس انّا خلقناکم من ذکر وانثیٰ وجعلناکم شعوباً وقبائل لتعارفوا انّ اکرمکم عنداللّٰہ اتقاکم انّ اللّٰہ علیم خبیر''٢

 

''اے انسانو!ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اورقبیلے قرار دیئے ہیں تا کہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بے شک تم میں سے خدا کے زندیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے اور اللہ ہر شے کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے'' ۔

 

خداوند عالم نے اس آیۂ کریمہ میں بھی مرد اور عورت کی جنسیت ،حسب ونسب اور رنگ کی بناء پر انسانوں کی برتری اور بلندی کو معیار قرار نہیں دیا ہے ،بلکہ خداوند عالم کے نزدیک سب سے اہم اور گرانقدر شے تقویٰ اور احکام الٰہی پر عمل کرنا ہے اور یہ آیت قوم پرستی کوباطل سمجھی ہے۔

 

٣۔''من عمل صالحاً من ذکر اوانثیٰ وھو مومن فلنحیینّہ حیاة طیّبة ولنجزینّھم اجرھم باحسن ما کانوا یعملون ''٣

 

''جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مرد ہو یا عورت بشرطی کہ صاحبان ایمان ہو ہم اسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے اور انھیں ان اعمال سے بہتر جزا دیں گے جو وہ زندگی میں انجام دے رہے تھے''۔

 

خداوند عالم نے اس آیۂ کریمہ میں جزا اور ثواب کو عمل کے بدلہ میں قرار دیا ہے اور مرد وعورت کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا ہے۔

 

٤۔''ومن آیاتہ اَن خلق لکم من انفسکم ازواجاً لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودّة ورحمة انّ ذالک لآیات لقوم یتفکرون''٤

 

''اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمھارا جوڑا تمھیں میں سے پیدا کیا ہے تا کہ تمھیں اس سے سکون حاصل ہو اور پھر تمھارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے کہ اس میں صاحبان فکر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں''۔

 

خداوند عالم نے اس آیۂ کریمہ میں عورت کی خلقت کو اپنی نشانیاں قرار دی ہیں اور بتایا ہے کہ عورت ،محبت ،رحمت اور آرام وسکون کا باعث ہوتی ہے ،مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے سے وابستہ ہونے سے کامل ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر دونوں کا وجود ناقص ہے ۔

 

خداوند عالم آیت کے آخر میں فرماتا ہے یہ مطالب ان افراد کے لئے ہیں جو غور وفکر کرتے ہیں اور اگر کوئی شخص عاقل اور متعال انسان ہوتووہ متوجہ ہوگا کہ مرد اور عورت ایک دوسری کی تکمیل کا باعث ہوتے ہیں اور عورت ہی ہے جو خانوادہ کے وجود کوسرگرم اور خوشحال رکھتی ہے اور انسان کے رشد وکمال کا باعث ہوتی ہے ۔

 

روایات:

١۔رسول اکرم ۖنے فرمایا:''خیر اولادکم البنات''۔''تمھاری بہترین اولاد لڑکیاں ہیں''۔

 

٢۔حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا:''اذا آذاھا لم یقبل اللّٰہ صلاتہ ولا حسنة من عملہ وکان اوّل من یرد النّار''''اگر مرد اپنی زوجہ کو تکلیف پہونچائے تو خداوند عالم اس کی نماز قبول نہیں کرتا ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا نہیں دیتا ہے ،وہ سب سے پہلا شخص ہے جو جہنم میں داخل ہوگا''۔

 

یہ ہے اسلام میں عورت کی اہمیت اور اس کی منزلت لیکن خواتین بالخصوص علم حاصل کرنے والی لڑکیاں عام طور سے یہ سوال کرتی ہیں کہ مرد کی بہ نسبت عورت کی میراث آدھی کیوں ہے؟کیا یہ عدالت کے مطابق ہے اوریہ عورت کے حقوق پرظلم نہیں ہے؟

 

جواب:

 

اول یہ کہ :ہمیشہ ایسانہیں ہے کہ مرد،عورت کی میراث سے دو گنا میراث پائے،بلکہ بعض وقت مرد اورعورت دونوں برابر میراث پاتے ہیں منجملہ میت کے ماں باپ دونوں میراث کاچھٹاں حصہ بطورمساوی پاتے ہیں،اسی طرح ماں کے گھرانے والے خواہ عورتیں ہوں یامرددونوں بطور مساوی میراث پاتے ہیں اوربعض وقت عورت پوری میراث پاتی ہے ...

 

دوسرے یہ کہ: دشمن سے جہادکرنے کے اخراجات مردپرواجب ہوتے ہیں جب کہ عورت پریہ اخراجات واجب نہیں ہیں ۔

 

تیسرے یہ کہ: عورت کے اخراجات مردپر واجب ہیں اگرچہ عورت کی درآمد بہت اچھی اورزیادہ کیوں نہ ہو۔

 

چوٹھے یہ کہ:اولاد کے اخراجات چاہے وہ خوراک ہویالباس وغیرہ ہوں،مردکے ذمہ ہے ۔

 

پانچویں یہ کہ:اگر عورت مطالبہ کرے اورچاہے توبچوں کوجودودھ پلاتی ہے وہ شیربہا (دودھ پلانے کاہدیہ) لے سکتی ہے ۔

 

چھٹے یہ کہ:ماں باپ اوردوسرے افرادکے اخراجات کہ جس کی وضاحت رسالۂ عملیہ میں کی گئی ہے،مرد کے ذمہ ہے ۔

 

ساتویں یہ کہ:بعض وقت دیہ (شرعی جرمانہ)مردپرواجب ہے جب کہ عورت پرواجب نہیں ہے اوریہ اس وقت ہوتاہے کہ جب کوئی شخص سہواً جنایت کا مرتکب ہو،تو اس مقام پرمجرم کے قرابتداروں (بھائی،چچااوران کے بیٹوں)کوچاہیئے کہ دیہ ادا کریں ۔

 

آٹھویں یہ کہ:شادی کے اخراجات کے علاوہ شادی کے وقت مرد کو چاہیئے کہ عورت کو مہر بھی ادا کرے ۔

 

اس بناء پرزیادہ تر مرحلوں میں مردخرچ کرنے والااورعورت اخراجات لینے والی ہوتی ہے،اسی وجہ سے اسلام نے مرد کے حصہ کوعورت کی بہ نسبت دو گناقرار دیاہے تاکہ تعادل برقراررہے اوراگر عورت کی میراث مرد کی میراث سے آدھی ہوتویہ عین عدالت ہے اوراس مقام پرمساوی ہونا مرد کے حقوق پر ظلم ہے ۔

اسی بناء پر حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا:ماں باپ اوراولاد کے اخراجات مرد پر واجب ہیں۔

حضرت سے پوچھا گیاکہ عورت کی بہ نسبت مرد کی میراث دو گنا کیوں ہوتی ہے؟حضرت نے فرمایا:اس لئے کہ عاقلہ کا دیہ، زندگی کے اخراجات،جہاد،مہر اوردوسری چیزیں عورت پر واجب نہیں ہیں جب کہ مرد پر واجب ہیں ۔

جب حضرت امام علی رضا ـسے پوچھاگیاکہ عورت کی میراث کے آدھی ہونے کی علت کیاہے،توآپ نے فرمایا:اس لئے کہ جب عورت شادی کرتی ہے تو اس کاشمار (مال) پانے والی میں ہوتا ہے جب کہ مرد کا شمار خرچ کرنے والوں میں ہوتا ہے،اس کے بعد امام نے سورۂ نساء آیت نمبر ٣٤ کودلیل کے طور پر پیش کیا۔

 

کیا مرد اور عورت کے درمیان عقل کے لحاظ سے کوئی فرق ہے؟

 

بعض وقت خواتین کے درمیان یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض روایتوں میں عورت کی مذمت کیوں ہوئی ہے اور اسے ناقص العقل کیوں کہا گیا ہے؟

 

جواب:

اول یہ کہ: روایتوں میں یہ مذمت عورت کے اصل وجود سے متعلق نہیں ہے اس لئے کہ قرآن کریم کی نظر میں مرد اور عورت دونوں کا وجود ،کامل ہے ،مرد اور عورت ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے بلکہ یہ مذمت فقط بعض عورتوں سے متعلق ہے ۔در حقیقت یہ مذمت مردوں کے لئے ایک یاددہانی ہے کہ وہ بے تقویٰ اور گنہگار عورتوں کے فریب سے بچیں،اس بناء پر یہ مذمت صرف عورتوں سے مخصوص نہیں بلکہ مردوں سے بھی مربوط ہے ،جیسا کہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ منافق ،شریر، بدمعاش ،احمق ،حاسد،بخیل ،جھوٹے اور فاسد لوگوں کی ہمنشینی اختیار نہ کی جائے اور ان سے مشورہ نہ لیا جائے یہ ایک ایسا عقلی قانون ہے کہ جسے دنیا میں تمام عقلمند انسان قبول کرتے ہیں کہ اگر کوئی سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہے تو اس طرح کے لوگوں سے دوری اختیار کرے۔

 

لہٰذا مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اگر چہ مرد کی بہ نسبت عورت کے اندر کشش اور جاذبہ زیادہ پایاجاتا ہے ،مگر اسلام سے آشنا نہ ہونے کی وجہ سے بعض لوگ صرف ان روایتوں کو پیش کرتے ہیں جو عورت کی مذمت میں آئی ہے پھر بھی سوال کا جواب دینا ضروری ہے۔

 

خلاصۂ مطلب:

جب ہم قرآن کریم کی آیتوں اور روایتوں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو متوجہ ہوتے ہیں کہ جس طرح دنیا میں بہادر مومن مرد ہیں اسی طرح بہادر مومنہ عورتیں بھی ہیں جس طرح مردوں میں شریر افراد پائے جاتے ہیں اسی طرح شریر،عورتوں میں بھی ہیں جبکہ مردوں کی شرارت عورتوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے ،چونکہ قدرت وطاقت مردوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس لئے عام طورسے ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہیں جہاں بھی عورتوں کی جانب سے ایک جرم سرزد ہوتا ہے اسے کئی مرتبہ فاش کیا جاتا ہے جبکہ مردوں کے جرائم کا مقائسہ عورتوں سے نہیں کیا جاسکتا ہے۔

 

دوسرے یہ کہ:بعض روایتوں میں یہ مذمت زمانے کے ایک خاص حصہ میں بعض عورتوں سے متعلق ہے اور یہ عورتوں ہی سے مخصوص نہیں ہے اس کے لئے زمانے کے ایک خاص حصہ میںبعض مرد یابعض شہروں کے لوگوں کی مذمت کی گئی ہے اور یہ مذمت دلیل نہیں ہے کہ عورت یا مرد یا فلاں شہر ہمیشہ کے لئے قابل مذمت ہو اور اس کے برعکس بعض روایتوں میں بعض شہروں کے لوگ اچھائی کے ساتھ یاد کئے گئے ہیں تو یہ دلیل نہیں ہے کہ ان شہروں کے لوگ ہمیشہ کے لئے نیک اور متقی ہوں، بعض عورتوں کے متعلق یہ مذمتیں بصورت موقت ہیں۔

 

تیسرے یہ کہ: کہا گیا ہے کہ عورت ناقص العقل ہے اس کے معنی یہ نہیں ہے کہ عورت عقل کے لحاظ سے نقص رکھتی ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب ہم مرد کا عورت سے مقائسہ کرتے ہیں تو مرد کو عورت سے سخت اور محکم پاتے ہیں اور قد کے لحاظ سے وہ عورت سے بلند ہے اور عورت مرد سے بہت نازک اور قد کے اعتبار سے چھوٹی ہے ،ان اسی کی بہ نسبت اس کا مغز مرد کے مغز سے بہت چھوٹا ہے ۔

اسی بنیاد پر فقیہ عالیقدر آیت اللہ شہید مطہری فرماتے ہیں:

''متوسط مرد کا مغز متوسط عورت کے مغز سے بڑاہوتا ہے لیکن عورت کے تمام جسم کی بہ نسبت اس کا مغز مرد کے مغز سے بڑا ہے ،اس بناء پر عورت ایک ناقص العقل وجود کا نام نہیں ہے ''۔

 

چوتھے یہ کہ:اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ عقل کا ایک معنی اجرائی امور میں فکر وتدبر کرنا ہے اور ایک طرف اجرائی منصب بہت مشکل اور سخت ہے ،عورت کے لطیف اور نازک جسم کے مناسب نہیں ہے لہٰذا خداوند حکیم نے اجرائی امور میں اس کے فکر وتدبر کی قدرت وطاقت کی بہ نسبت اسے بہت کم ودیعت کی ہے اس لئے کہ اجرائی منصب کوئی ایسامقام نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے عورت کی شان وشوکت میں کوئی کمی پیداہو،وہ مرد ہی ہے جو سب سے زیادہ اجرائی امور اوراجتماعی کاموں سے سروکار رکھتا ہے اور دوسری طرف چونکہ عورت خانوادہ اور سماج میں فطرت کے مطابق تربیت اور اخلاق کی بنیاد ہے اسی لئے مرد کی بہ نسبت اس کی محبت کی طاقت بہت زیادہ ہے۔

حوالے:

١۔سورۂ احزاب ،آیت نمبر ٣٥۔

٢۔سورۂ حجرات ،آیت نمبر ١٣۔

٣۔سورۂ نحل ،آیت نمبر ٩٧۔

٤۔سورۂ روم ،آیت نمبر ٢١۔

 

تحرير: جناب جلال پوری

Monday, 22 April 2013 03:53

قوم سبا

قوم سبا ايك ايسى جمعيت اور قوم تھى كہ جو جزيرہ عرب ميں رہتى تھى ،اور ايك اعلى حكومت اور درخشاں تمدن كى مالك تھى

يمن كا علاقہ وسيع اور زرخيز تھا ليكن زرخيز علاقہ ہونے كے باوجود چونكہ وہاں كوئي اہم دريا نہيں تھا، لہذا اس سے كوئي فائدہ نہيں اٹھا يا جاتاتھا ،سيلاب اور بارشيں پہاڑوں پر برستى تھيں اور ان كا پانى بيابانوں ميں بے كار اور بے فائدہ ضائع ہوجاتاتھا ،اس سر زمين كے سمجھدار لوگ ان پانيوں سے استفادہ كرنے كى فكر ميں لگ گئے اور اہم علاقوں ميں بہت سے بند باندھے ، جن ميں سے زيادہ اہم اور سب سے زيادہ پانى كا ذخيرہ ركھنے والا بند ''مارب''(1)تھا_

''مارب''(بروزن مغرب ) ايك شہر تھاكہ جو ان دروں ميں سے ايك كے اخر ميں واقع تھا ، اور''صرا ة '' كے كوہستانوں كے بڑے بڑے سيلاب اس كے قريب سے گزرتے تھے ،اس درہ كے دہانہ پر ''بلق'' نامى دو پہاڑوں كے دامن ميں انھوں نے ايك مضبوط باندھ بناياتھا ،اور اس ميں سے پانى كى كئي نہريں نكالى تھيں ،اس باندھ كے اندر پانى كا اس قدر ذخيرہ جمع ہو گيا تھا كہ جس سے استفادہ كرتے ہوئے وہ اس بات پر قادر ہو گئے تھے كہ اس نہر كے دونوں طرف ،كہ جو باندھ تك جاتى تھى ،بہت ہى خوبصورت و زيبا۔باغات لگائيں اور پر بركت كھيت تيار كريں _

اس سر زمين كى آبادبستياں ايك دوسرى سے متصل تھيں اور درختوں كے وسيع سائے ايك دوسرے سے ملے ہوئے تھے ،اور ان كى شاخوں پر اتنے پھل لگا كرتے تھے كہ كہتے ہيں كہ جب كوئي آدمى اپنے سر پر ايك ٹوكرى ركھ كر ان كے نيچے سے گزرتاتھا تو يكے بعد ديگرے اتنے پھل اس ميں اكر گرتے تھے كہ تھوڑى ہى دير ميں وہ ٹوكرى بھر جاتى تھى _امن و امان كے ساتھ نعمت كے وفور نے پاك و صاف زندگى كے لئے بہت ہى عمدہ اور مرفہ ماحول پيدا كرركھا تھا ،ايك ايسا ماحول جو خدا كى اطاعت اور معنوى پہلووں كے ارتقاء و تكامل كے لئے مہيا تھا_

ليكن انھوں نے ان تمام نعمتوں كى قدر كو نہ پہچانا اور خدا كو بھول گئے اور كفران نعمت ميں مشغول ہوگئے، اور فخر و مباہات كرنے لگے اور طبقاتى اختلاف پيدا كر ديئے _

صحرائي چو ہوں نے مغرور و مست لوگوں كى آنكھوں سے دور ،مٹى كے اس باندھ كى ديوار كا رخ كيا اور اسے اندر سے كھوكھلا كر ديا ،اچانك ايسى شديد بارشيں برسيں اور يسا عظيم سيلاب آيا كہ جس سے باندھ كى وہ ديواريں كہ جو سيلاب كے دباو كو بر داشت كر نے كے قابل نہ رہى تھيں دھڑام سے گر پڑيں اور بہت ہى زيادہ پانى كہ جو باندھ كے اندر جمع ہو رہا تھا ،اچانك باہر نكل پڑا اور تمام آباديوں ،باغات ،كھيتوں ،فصلوں اور چوپايوں كو تباہ كر كے ركھ ديا اور خوبصورت سجے سجائے قصور و محلات اور مكانات كو ويران كرديا اور اس كے بعد آباد سرزمين كو خشك اور بے آب و گياہ صحرا ميں بدل ديا اور ان تمام سر سبز و شاداب باغوں اور پھلدار درختوں ميں سے صرف چند ''اراك''كے كڑوے شجر ،كچھ ،جھاو اور كچھ بيرى كے درخت باقى رہ گئے ،غزل خوانى كرنے والے پرندے وہاں سے كوچ كر گئے اور الووں اور كووّں نے ان كى جگہ لے لي_

ہاں جب خدا اپنى قدرت دكھانا چاہتا ہے تو چوہوں كے ذريعہ ايك عظيم تمدن كو برباد كر ديتا ہے، تاكہ بندے اپنے ضعف اور كمزورى سے آگاہ ہو جائيں ،اور قدرت اور اقتدار كے وقت مغرور نہ ہوں _

اس بارے ميں كہ''سبا ''كس كانام ہے؟ اور يہ كيا چيز ہے ؟ مورخين كے درميان اختلاف ہے،

ليكن مشہور يہ ہے كہ ''سباء''، ''يمن''كے اعراب كے باپ كا نام ہے اور اس روايت كے مطابق كہ جو پيغمبر اسلام (ص) سے نقل ہوئي ہے ،وہ ايك آدمى تھا اور اس كانام ''سباء''تھا اور اس كے دس بيٹے تھے ،اور ان ميں سے ہر ايك سے وہاں كے قبائل ميں سے ايك قبيلہ وجود ميں ايا _(2)

ايك درخشاں تمدن جو كفران نعمت كى وجہ سے برباد ہو گيا قرآن مجيد نے ان كى عبرت انگيز سر گذشت بيان كى ہے ،اور ان كى زندگى كے جزئيات و خصوصيات كے اہم حصہ كى طرف اشارہ كيا ہے _

پہلے كہتاہے : ''قوم سبا كے لئے ان كے محل سكونت ميں خدائي قدرت كى ايك نشانى تھي''_(3)

جيسا كہ ہم ديكھيں گے ،خدا كى اس بزرگ آيت كا سرچشمہ يہ تھا كہ ، قوم سباء اس علاقے كے اطراف ميں واقع پہاڑوں كے محل وقوع اور ان كے خاص حالات و شرائط ، اور اپنى خداداد ذہانت اور ہوشمندى سے استفادہ كرتے ہوئے ،ان سيلابوں كو كہ جو سوائے ويرانى و تباہى كے كوئي نتيجہ نہ ديتے تھے ،ايك قوى اور مستحكم باندھ كے پيچھے روك دينے پر قادر ہو گئے تھے اور اس كے ذريعہ انھوں نے بہت ہى آباد ملك تعمير كر ليا تھا ،يہ كتنى عظيم آيت ہے كہ ايك ويران اور برباد كر نے والا عامل ،عمران و آبادى كے اہم ترين عوامل ميں بدل جائے _

اس كے بعد قرآن اس خدائي آيت كى تفسير كى تشريح كر تے ہوئے كہ جو قوم سباء كے ا ختيار ميں قرار پائي تھى ،اس طرح كہتا ہے :''دوبڑے باغ تھے دائيں اور بائيں طرف''(4)

يہ دونوں باغ كوئي معمولى اور سادہ قسم كے باغ نہيں تھے ،بلكہ يہ ايك عظيم نہر كے دونوں طرف باغوں كا مسلسل اور ملا ہوا سلسلہ تھا ،جو اس عظيم باندھ كے ذريعہ سيراب ہوتے تھے قوم سبا ء اس عظيم باندھ كے ذريعہ ،جو انھوں نے اس علاقہ كے اہم پہاڑوں كے درميان بناياتھا ،اس بات پر قادر ہوگئي تھى كہ ان فراواں سيلابوں كو ،جو ويرانى كا سبب بنتے تھے يا كم از كم بيابانوں ميں بے كار و فضول طورسے ضائع اور تلف ہو جاتے تھے ،اس باندھ كے پيچھے ذخيرہ كرليں، اور اس كے اندر كھڑكياں بنا كر پانى كے اس عظيم مخزن سے استفادہ كر نے كے لئے اپنے كنٹرول ميں كر ليں اور اس طرح سے وسيع و عريض زمينوں كو زير كاشت لائيں _

وہى سيلاب كہ جو خرابى و بر بادى كا باعث بنيں ،وہ اس طرح سے آبادى كا باعث بن جائيں ،كيا يہ عجيب بات نہيں ہے ؟ كيا يہ خدا كى عظيم آيت اور نشانى شمار نہيں ہوتي_؟

يہ بات تو آبادى كے لحاظ سے ہے ،ليكن چونكہ لوگوں كى آبادى كافى نہيں ہے ، بلكہ اہم اور بنيادى شرط امن و امان ہوتا ہے ،لہذا مزيد كہتا ہے:'' ہم نے ان آباديوں كے درميان مناسب اور نزديك نزديك فاصلے ركھے ''(تاكہ وہ آسانى اور امن و امان كے ساتھ ايك دوسرى جگہ اجاسكيں )_اور ہم نے ان سے كہا: ''تم ان بستيوں كے درميان راتوں ميں اور دنوں ميں پورے امن و امان كے ساتھ سفر كرو، اور ان آباديوں ميں چلو پھرو_''(5)

اس طرح يہ آبادياں مناسب اور جچا تلافاصلہ ركھتى تھيں ،اور وحوشى اور بيابانى درندوں ،يا چوروں اور ڈاكوو ں كے حملہ كے لحاظ سے بھى انتہائي امن و امان ميں تھيں ،اس طرح سے كہ لوگ زاد راہ ،سفر خرچ اور سوارى كے بغير ہى ،اس صورت ميں كہ نہ اكٹھے قافلوں ميں چلنے كى ضرورت تھى اور نہ ہى مسلح افراد ساتھ لينے كي.

كوئي احتياج تھى ،راستے كى بے امنى كى جہت سے ،يا پانى اور غذا كى كمى كى وجہ سے كسى ڈر اور خوف كے بغير اپنا سفر جارى ركھ سكتے تھے_

اس كے بعد مزيد كہتا ہے :''ہم نے ان سے كہا كہ اپنے پروردگار كى اس فراواں روزى ميں سے كھاو اور اس كا شكر اداكرو_ ايك پاك وپاكيزہ شہر ہے اور پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے_''(6)

اس چھوٹے سے جملے نے تمام مادى و معنوى نعمتوں كے مجموعے كو زيبا ترين شكل ميں منعكس كر ديا ہے ،مادى نعمتوں كے لحاظ سے تو وہ پاك و پاكيزہ زمين ركھتے تھے كہ جو چوروں،ظالموں ،آفات و بليات، خشك سالى و قحط اور بد امنى و وحشت جيسے طرح طرح كے مصائب سے پاك تھى ،يہاں تك كہ كہا جاتا ہے كہ وہ زمين موذى حشرات سے بھى پاك و پاكيزہ تھى ،پاك وپاكيزہ ہوائيں چلتى تھيں اور فرحت بخش نسيم رواں دواں تھى ،زمين زر خيز تھى اور درخت پُر بار تھے _

اور معنوى نعمت كے لحاظ سے خدا كى بخشش و غفران ان كے شامل حال تھى ، وہ ان كى تقصير و كوتاہى پر صرف نظر كرتا تھا اور انھيں مشمول عذاب اور ان كى سر زمين كو بلا و مصيبت ميں گرفتار نہيں كرتا تھا _

ليكن ان ناشكر ے لوگوں نے ان تمام نعمتوں كى قدردانى نہيں كى اور آزمائشے كى بھٹى سے صحيح و سالم باہر نہ اسكے ،انھوں نے كفران نعمت اور روگردانى كى راہ اختيار كر لى لہذا خدا نے بھى ان كى سختى كے ساتھ گوشمالى كى _

اسى لئے خداوند عالم فرماتا ہے :''وہ خدا سے رو گرداں ہوگئے _''(7)

يہ وہ موقع تھا كہ عذاب كا كوڑا ان كے پيكر پر اكر پڑا ،جيسا كہ قرآن كہتا ہے :''ہم نے بنيادوں كو اكھاڑ كر پھينك دينے والا وحشتناك سيلاب ان كے پاس بھيجا ''(8) اور ان كى آبادسرزمين ايك ويرانے ميں بدل گئي _اس كے بعد قرآن اس سرزمين كى باقى ماندہ حالت و كيفيت كى اس طرح سے توصيف كرتا ہے: ''ہم نے ان كے دو وسيع اور پر نعمت باغوں كو ، بے قدر و قيمت كڑوے پھلوں والے ،اور جھاو كے بے مصرف درختوں اور تھوڑے سے بيرى كے درختوں ميں بدل ديا _''(9)

اور اس طرح سے ان تمام سر سبز و شاداب درختوں كے بجائے ،بہت ہى كم قدر و قيمت والے بيابانى اور جنگلى قسم كے چند ايك درخت ،كہ شايد ان ميں سے سب زيادہ اہم درخت وہى بيرى كے درخت تھے ،كہ وہ بھى تھوڑى سى ہى مقدار ميں ،باقى رہ گئے تھے ،(اب تم اس كى اس مجمل داستان كو پڑھنے كے بعد خود ہى ان كى مفصل داستان كا انداز ہ لگا لو،كہ خود ان كے اوپر اور ان كى آباد سر زمين پر كيا گزرى ؟)

ممكن ہے كہ ان تين قسم كے درختوں كا بيان ہے كہ جو اس سر زمين ميں باقى رہ گئے تھے ،(درختوں كے ) تين مختلف گروہوں كى طرف اشارہ ہو، كہ ان درختوں ميں سے ايك حصہ نقصان دہ تھا ،بعض بے مصرف تھے _اور بعض بہت ہى كم نفع دينے والے تھے _

……………………………..

(1)مغرب كے وزن پر

(2)بعض''سباء ''كو سر زمين يمن كا اس كے كسى علاقے كا نام سمجھتے ہيں ،سورہ نمل ميں سليمان و ہد ہد كے قصہ ميں قرآن مجيد كا ظا ہر بھى يہى نشاندہى كرتا ہے ''سبا ''كسى جگہ ،علاقے يا مقام كا نام ہے ،جہاں پر وہ كہتا ہے كہ ''ميں سر زمين سبا سے تيرے پاس ايك يقينى خبر لے كر ايا ہوں _''

جب كہ زير بحث آيت كا ظاہر يہ ہے كہ سبا ايك قوم تھى كہ جو اس علاقے ميں رہتى تھى ،كيونكہ ضمير جمع مذكر (ھم) ان كى طرف لوٹ رہى ہے _ ليكن ان دونوں تفسيروں ميں كوئي منافات نہيں ہے ،كيونكہ ممكن ہے كہ ابتداء ميں سبا كسى شخص كا نام ہو ، پھر اس كے تما م بيٹے اور قوم اس نام سے موسوم ہوں اور اس كے بعد يہ نام اس سرزمين كى طرف بھى منتقل ہو گيا ہو

(3)سورہ سباء ايت 15

(4)سورہ سباء ايت 15

(5)سورہ سباء ايت 18

(6)سورہ سباء ايت 15

(7)سورہ سباء ايت 16

(8)سورہ سباء ايت 16

(9)سورہ سباء ايت 16

Monday, 22 April 2013 03:51

نواز شریف کا انتباہ

نواز شریف کا انتباہپاکستان کی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ انتخابی عمل کو روکنے کےلئے کسی بھی کوشش ،ملک کےلئے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے ۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق نواز شریف نے گذشتہ روز مسلم لیگ ن کے رہنما ثناءاللہ زہری کے آبائی گاؤں سے واپسی پر کوئٹہ ایئرپورٹ میں کہا کہ انتخابات وقت پر منعقد ہونا ہے اور انتخابی عمل کو روکنے کےلئے کسی بھی کوشش ،ملک کےلئے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر مسئلے کا حل جمہوریت کے فروغ اور آئین کی بالادستی میں ہے، بلوچستان میں مخدوش حالات کے باوجود انتخابات ہونے چاہئیں تاکہ جن مسائل کا آج ہمیں سامنا ہے ان کا تدارک کیا جاسکے۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ نے مزید کہا کہ جمہوری ملکوں کی روایت رہی ہے کہ حالات چاہے جتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں انتخابی عمل کو کسی صورت بھی روکا نہیں جاتا، درحقیقت مسائل کاحل صاف شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد میں ہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ گیارہ مئی کو مقرر کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی گروپ فیتھ میٹرز کی تازہ ترین رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ دس سال کے دوران چالیس ہزار سے زائد برطانوی باشندوں نے اسلام قبول کیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار گيارہ میں پانچ ہزار دو سو برطانوی باشندوں نے اسلام قبول کیا جن میں اکثریت خواتین کی تھی جبکہ ان میں سے دو تہائی افراد نوجوان نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی عمریں ستائیس سے تیس سال کے درمیان ہیں۔

ان افراد نے برطانوی معاشرے میں پھیلی ہوئی بے راہ روی اور معنویت کے فقدان کو اسلام قبول کرنے کی وجہ بتایا ہے۔