Super User

Super User

ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی حمایتپاکستان نے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہےکہ حکومت اسلام آباد ایران کے ایٹمی معاملے کا پرامن حل تلاش کرنے کے لئے ایران کے ساتھ عالمی اداروں کے تعاون کی حمایت کرتی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چودھری نے آلماتی میں اسلامی جمہوریہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے حالیہ مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ایٹمی معاملے کو حل کرنے میں طاقت کے استعمال سے الٹا نتیجہ نکلے گا۔ اعزاز احمد نے امید ظاہر کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران این پی ٹی معاہدہ کا رکن ہونے کی حیثیت سے ایٹمی معاملے کو سلجھانے میں مفید کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی یہ ہےکہ اسلام آباد ایران کے ایٹمی معاملے کے حل کے لئے پرامن مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کا مخالف ہے۔ واضح رہے حال ہی میں قزاقستان کے شہر آلماتی میں اسلامی جمہوریہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے مذاکرات ہوئے تھے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ایران کے جائز ایٹمی حقوق تسلیم کئے جائيں۔

رامین مہمان پرست نے آج تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ایران کے جائز ایٹمی حقوق تسلیم کئے جائيں اور اعتماد سازی کے اقدامات کئے جائيں۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ قزاقستان کے شہر الماتی میں ہونے والے ایران اور گروپ پانج جمع ایک کے حالیہ مذاکرات میں یورینیم کی افزودگي کے حق کو تسلیم کئے جانے اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں مغربی ممالک کی دشمنی کے خاتمے کے دو بنیادی محوروں پر تاکید کی گئی۔رامین مہمان پرست نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے اگلے دور کے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ایران اس سلسلے میں کیتھرین ایشٹون کے جواب کا منتظر ہے اور موجودہ حالات میں اب گروپ پانچ جمع ایک کو ثابت کرنا ہے کہ وہ مذاکرات جاری رکھنے کے لئے کس حد تک نیک نیت اور پرعزم ہے اور ملت ایران کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے کیا اقدامات کرسکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران منطقی اور سنجیدہ مذاکرات پر یقین رکھتا ہے اور وہ اس سلسلے میں اپنی آمادگی کا اعلان کرچکا ہے۔

واضح رہے کہ کیتھیرین ایشٹون یورپی یونین کے شعبۂ خارجہ پالیسی کی سربراہ ہیں اور ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات میں وہ اس گروپ کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کر رہی تھیں

۲۰۱۳/۰۴/۰۹- رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے صوبہ بوشہر میں آنے والے شدید زلزلہ کے بعد اپنے پیغام میں متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار اور ان کے لئے صبر و اجر کی دعا طلب کی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

صوبہ بوشہر میں زلزلہ کے دردناک حادثے میں جانی اور مالی نقصان کی خبر سن کر نہایت ہی افسوس اور غم و اندوہ ہوا ہے۔

اللہ تعالی کی بارگاہ سے جاں بحق افراد کے لئے رحمت و مغفرت ، زخمیوں کے لئے جلد از جلد شفایاب ہونے اور پسماندگان کے لئے صبر و اجر کی دعا کرتا ہوں نیز صوبہ میں نمائندہ ولی فقیہ ، صوبائی حکام اور مرکز میں متعلقہ حکام کو سفارش کرتا ہوں کہ وہ بھر پور انداز میں متاثرہ افراد کی نجات اور مالی نقصان اٹھانے والوں کی پشتپناہی کریں، اور امید ہے کہ ملک بھر کے عوام بھی ہمیشہ کی طرح متاثرہ افراد کے رنج و غم اور مصائب کو کم کرنے میں اپنا اہم نقش ایفا کریں گے۔

والسلام علیکم و رحمه الله

سید علی خامنه ای

20/فروردین ماه/1392

ایران کے بوشہر صوبے میں کل آنیوالے زلزلے کے حوالے سے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا کہ بوشہر ایٹمی بجلی گھر سے 90 کلومٹر کے فاصلے پر آنیوالے اس زلزلے میں مذکورہ ایٹمی پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس زلزلے کے حوالے سے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کو آگاہ کیا ہے اور موصولہ رپورٹ کے مطابق بوشہر ایٹمی بجلی گھر کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے اور اس میں کام معمول کے مطابق جاری ہے اور اس سے کسی ریڈیو ایکٹیو تابکاری کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

اس سے قبل ایران کے ایٹمی اینرجی ادارے کے متعلقہ حکام نے بھی اعلان کیا تھا کہ بوشہر ایٹمی بجلی گھر کا کام جاری ہے اور زلزلے سے اسے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے جنوبی صوبہ ،بوشہر میں کل 6.1 شدت کا زلزلہ ہوا جسکے نتیجے میں آخری اطلاعات کے مطابق 32 افراد جاں بحق اور 850 زخمی ہوگئے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے جنوبی علاقے بوشہر میں آج آنے والے شدید زلزلے نے تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ۔

فارس نیوز کے مطابق آج منگل کو مقامی وقت کے مطابق شام چار بج کر بائيس منٹ پر زلزلے کے جھٹکے بوشہر کے کئی علاقوں میں محسوس کئے گئے جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر چھے اعشاریہ ایک تھی۔ آنے والے شدید زلزلے نے تباہی مچا دی اور اب تک 31 افراد جاں بحق اور500 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ لا تعداد گھر مٹی کےڈھیر میں تبدیل ہو گئے ۔ جبکہ زلزلے کےبعد انتیس آفٹر شاکس محسوس کئے گئے۔

زلزلے کےبعد شہر شنبہ میں کرائسس مینجمینٹ سنٹر قائم کردیا گيا ہے اور امدادی کاروائياں بڑے پیمانے پر جاری ھیں۔

فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق بوشہر ایٹمی بجلی گھر کو کوئي نقصان نہیں پہنچا اور یہ ایٹمی بجلی گھر معمول کے مطابق کام کررہا ہے۔

جنوبی علاقوں میں آنے والے زلزلے کے جھٹکے ایران سمیت عرب امارات، عمان، قطر اور سعودی عرب میں بھی محسوس کئے گئے تاہم ایران کے علاوہ کسی اور ملک سے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

ہندوستان کی دو ریاستوں بہار اور جھار کھنڈ میں ماؤ نواز دہشت گردوں نے ہڑتال کے دوران زبردست ہنگامہ آرائي اور توڑ پھوڑ کی ہے۔

دہلی سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی دو مشرقی ریاستوں بہار اور جھار کھنڈ میں ماؤ نوازوں نے اپنی دو روزہ ہڑتال کے آخری دن آج زبردست ہنگامہ آرائي کی۔

رپورٹ کے مطابق ماؤ نوازوں نے ہنگامہ آرائی کے دوران دو سرکاری عمارتوں کو دھماکے سے اڑادیا اور ایک تھانے پر حملہ کیا لیکن پولیس فورس نے اس حملے کو ناکام بنادیا۔ماؤ نواز دہشت گردوں نے ریل پٹریوں کو بھی نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ریل ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گيا۔

ہڑتال کی وجہ گزشتہ دنوں ماؤ نوازوں کے آپسی تصادم میں 10 شدت پسندوں کی ہلاکت بتائي گئي ہے۔ماؤ نواز دہشت گردوں کو شک ہے کہ یہ آپسی تصادم پولیس کی سازش کا نتیجہ تھا۔

پاکستان نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو اس کے جائز ایٹمی حقوق ملنے چاہئيں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے مسعود خان نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کواس کے جائز ایٹمی حقوق ملنے چاہئيں اور اس کو پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سے استفادے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔

مسعود خان نے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے الماتی میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری اور مذاکرات میں ایرانی وفد کے سربراہ سعید جلیلی کے اس بیان کے بارے میں کہ ایران کے ایٹمی حق پر مغرب کے اعتراف سے مذاکرات کی پیش رفت میں مدد مل سکتی ہے کہا کہ پاکستان کا یہ موقف ہے کہ این پی ٹی معاہدے کا رکن ہونے کی حیثیت سے ایران کو اس کے جائز ایٹمی حقوق حاصل ہونے چاہئيں اور اس کو پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سے استفادے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا تاکید کی ہے کہ این پی ٹی معاہدے کی بنیاد پر وہ پرامن استفادے پر مبنی اپنے مسلمہ ایٹمی حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔سعید جلیلی نے بھی کل شام الماتی میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس میں یورینیم کی افزودگي سمیت ایران کے مسلمہ حقوق پر تاکید کی۔

واضح رہے کہ قزاقستان کے شہر الماتی میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جمعہ کے روز مذاکرات شروع ہوئے تھے جو کل اختتام پذیر ہوگئے۔دو دن میں مذاکرات کے چار دور ہوئے۔ان مذاکرات میں ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سعید جلیلی نے ایرانی وفد کی قیادت کی جبکہ گروپ پانچ جمع ایک کے وفد کی قیادت یورپی یونین کے شعبۂ خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹون نے کی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جناب علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ پختہ عزم و ارادے کی بدولت ایرانی قوم نے ہر طرح کے مشکل حالات اور سخت بحرانوں کا مقابلہ کیا ہے ۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایسی حالت میں کہ ایران کے دشمن، شدید دباؤ اور سخت پابندیاں عائد کرکے ایران کو گوشہ نشین کرنے کی کوشش کررہے تھے تہران، علاقائی امن و استحکام کے تحفظ میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے میں کامیات رہا ہے ۔ جناب علی اکبر صالحی نے ایرانی قوم کی ترقی و پیشرفت کی راہ میں کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم اپنے آہنی عزم و ارادے سے ہر طرح کا دشوار مرحلہ آسانی سے طے کرلے گی ۔

ہزاروں پاکستانی مسلمانوں نے کل جمعہ کو میانمار میں روہنگیائی مسلمانوں پر شدت پسند بڈھسٹوں کے مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق کراچی میں کل جمعہ کو ہزاروں شہریوں نے میانمار کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں ریلی نکالی ۔ مظاہرین نے مسالمانوں کے خلاف شدت پسند بڈھسٹوں کے مظالم کی سخت مذمت کرتے ہوئے میانمار کی حکومت کو بھی ان مظالم میں برابر شریک قرار دیا اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ میانمار کے مظلوم مسلمانوں پر جاری تشدد کو ختم کرنے میں فوری طور پر کردار ادا کریں۔

تہران کی مرکزی نماز جمعہ آیت اللہ کاظم صدیقی کی امامت میں ادا کی گئي ۔

خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں کہا کہ مغربی ممالک کی یکطرفہ پابندیاں جو ایران کی ملت و حکومت کے درمیان فاصلے پیداکرنے کے لئے عائد کی گئي ہیں ناکام ہوکررہیں گي۔ آیت اللہ کاظم صدیقی نے ایران کےخلاف مغربی ملکوں کی غیر دانشمندانہ پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پابندیاں بظاہر ایران کے ایٹمی پروگرام کے بہانے لگائي گئي ہیں لیکن دشمن کا بنیادی ھدف عوام کو اسلامی حکومت کے مقابل لاکھڑا کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مغرب کی یکطرفہ پابندیوں کی وجہ سے ملت اسلامی نظام کی زیادہ سے زیادہ حمایت کررہی ہے اور ان پابندیوں کا ایک اور مقصد آئندہ صدارتی الیکشن کے موقع پر مسائل کھڑے کرنا بھی ہے لیکن ان مسائل کے پیش نظر ملت ایران ہمیشہ کی طرح الیکشن میں بھرپور طرح سے شرکت کرکے دشمنوں کی سازشوں کوناکام بنادے گي۔ خطیب جمعہ تہران نے مختلف میدانوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ خلا میں مختلف طرح کے مصنوعی سيارچے اور زندہ جانور بھیجنا، مختلف طرح کے پیشرفتہ جنگي طیارے بنانا ظاہر کرتا ہےکہ ملت ایران پابندیوں سے شکست نہیں کھائے گي۔ انہوں ایران میں اور سرحدوں پر امن سکون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی سکیورٹی فورسز کی محنت سے آئندہ صدارتی انتخابات پرامن فضا میں کرائے جائيں گے۔ آیت اللہ صدیقی نے دوہزار بارہ میں غزہ پر صیہونی حکومت کی آٹھ روز جارحیت میں غزہ کے عوام کی استقامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس فتح سے جو ملت وحکومت ایران کی حمایت سے حاصل ہوئي ہے ایک بار پھر عالمی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ آیت اللہ صدیقی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا میں واحد دینی جمہوری حکومت ہے اور عوام نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اس نظام کے حق میں ریفرینڈم میں ووٹ دیا تھا۔