Super User

Super User

Monday, 29 April 2013 10:07

سرزمین حجاز

سرزمین حجاز

خانہ کعبہ یا بیت اللہ (الكعبة المشرًّفة، البيت العتيق‎ یا البيت الحرام‎( مسجد حرام کے وسط میں واقع ایک عمارت ہے جو مسلمانوں کا قبلہ ہے جس کی طرف رخ کرکے وہ عبادت کیا کرتے ہیں۔ یہ دین اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ صاحب حیثیت مسلمانوں پر زندگی میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قائم کردہ بیت اللہ بغیر چھت کےایک مستطیل نما عمارت تھی جس کےدونوں طرف دروازے کھلے تھےجو سطح زمین کےبرابر تھےجن سےہر خاص و عام کو گذرنےکی اجازت تھی۔ اس کی تعمیر میں 5 پہاڑوں کےپتھر استعمال ہوئےتھےجبکہ اس کی بنیادوں میں آج بھی وہی پتھر ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نےرکھےتھے۔ خانہ خدا کا یہ انداز صدیوں تک رہا تاوقتیکہ قریش نے 604ء میں اپنےمالی مفادات کےتحفظ کےلئےاس میں تبدیلی کردی کیونکہ زائرین جو نذر و نیاز اندر رکھتےتھےوہ چوری ہوجاتی تھیں۔

خانہ کعبہ و مسجد حرام

قریش نےبیت اللہ کے شمال کی طرف تین ہاتھ جگہ چھوڑ کر عمارت کو مکعب نما (یعنی کعبہ) بنادیا تھا۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہےکہ روپے پیسےکی کمی تھی کیونکہ حق و حلال کی کمائی سےبیت اللہ کی تعمیر کرنی تھی اور یہ کمائی غالباً ہر دور میں کم رہی ہےلیکن انہوں سےاس پر چھت بھی ڈال دی تاکہ اوپر سےبھی محفوظ رہی، مغربی دروازہ بند کردیا گیا جبکہ مشرقی دروازےکو زمین سےاتنا اونچا کردیا گہ کہ صرف خواص ہی قریش کی اجازت سےاندر جاسکیں۔ اللہ کےگھر کو بڑا سا دروازہ اور تالا بھی لگادیا گیا جو مقتدر حلقوں کےمزاج اور سوچ کےعین مطابق تھا۔ حالانکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم (جو اس تعمیر میں شامل تھےاور حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنےکا مشہور زمانہ واقعہ بھی رونما ہوا تھا) کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کو ابراہیمی تعمیر کےمطابق ہی بنایا جائے۔

خانہ کعبہ کےاندر تین ستون اور دو چھتیں ہیں۔ باب کعبہ کےمتوازی ایک اور دروازہ تھا دیوار میں نشان نظر آتا ہےیہاں نبی پاک صلی اللہ وآله وسلم نماز ادا کیا کرتےتھے۔ کعبہ کےاندر رکن عراقی کےپاس باب توبہ ہےجو المونیم کی 50 سیڑھیاں ہیں جو کعبہ کی چھت تک جاتی ہیں۔ چھت پر سوا میٹر کا شیشےکا ایک حصہ ہےجو قدرتی روشنی اندر پہنچاتا ہے۔ کعبہ کےاندر سنگ مرمر کےپتھروں سےتعمیر ہوئی ہےاور قیمتی پردےلٹکےہوئےہیں جبکہ قدیم ہدایات پر مبنی ایک صندوق بھی اندر رکھا ہوا ہے۔

کعبہ کی موجودہ عمارت کی آخری بار 1996ءمیں تعمیر کی گئی تھی اور اس کی بنیادوں کو نئےسرےسےبھرا گیا تھا۔ کعبہ کی سطح مطاف سےتقریباً دو میٹر بلند ہےجبکہ یہ عمارت 14 میٹر اونچی ہے۔ کعبہ کی دیواریں ایک میٹر سےزیادہ چوڑی ہیں جبکہ اس کی شمال کی طرف نصف دائرےمیں جوجگہ ہےاسےحطیم کہتےہیں اس میں تعمیری ابراہیمی کی تین میٹر جگہ کےعلاوہ وہ مقام بھی شامل ہےجو حضرت ابراہیم علیہ السلام نےحضرت ہاجرہ علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کےرہنےکےلئےبنایا تھا جسےباب اسماعیل کہا جاتا ہے۔

خانہ کعبہ سےتقریبا سوا 13 میٹر مشرق کی جانب مقام ابراہیم قائم ہے۔ یہ وہ پتھر ہےجو بیت اللہ کی تعمیر کےوقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نےاپنےقد سےاونچی دیوار قائم کرنےکےلئےاستعمال کیا تھا تاکہ وہ اس پر اونچےہوکر دیوار تعمیر کریں۔

1967ءسےپہلےاس مقام پر ایک کمرہ تھا مگر اب سونےکی ایک جالی میں بند ہے۔ اس مقام کو مصلےکا درجہ حاصل ہےاور امام کعبہ اسی کی طرف سےکعبہ کی طرف رخ کرکےنماز پڑھاتےہیں۔ طواف کےبعد یہاں دو رکعت نفل پڑھنےکا حکم ہے۔

حجر اسود

کعبہ کےجنوب مشرقی رکن پر نصب تقریباً اڑھائی فٹ قطر کےچاندی میں مڑھےہوئےمختلف شکلوں کے8 چھوٹےچھوٹےسیاہ پتھر ہیں جن کےبارےمیں اسلامی عقیدہ ہےکہ تعمیری ابرہیمی کےوقت جنت سےحضرت جبرائیل علیہ السلام لائےتھےاور بعد ازاں تعمیر قریش کےدوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےدست مبارک سےاس جگہ نصب کیا تھا اور ایک بہت بڑےفساد سےقوم کو بچایا۔ یہ مقدس پتھر حجاج بن یوسف کےکعبہ پر حملےمیں ٹکڑےٹکڑےہوگیا تھا جسےبعد میں چاندی میں مڑھ دیا گیا۔ کعبہ شریف کا طواف بھی حجر اسود سےشروع ہوتا ہےاور ہر چکر پر اگر ممکن ہو تو حجر اسود کو بوسہ دینا چاہئےورنہ دور سےہی ہاتھ کےاشارےسےبوسہ دیا جاسکتا ہے۔ حج کےدنوں میں ہر کسی کو اس مقدس پتھر کو بوسہ دینا یا استلام کرنا ممکن ہوپاتا۔

زمزم

مسجد حرام میں کعبہ کےجنوب مشرق میں تقریباً 21 میٹر کےفاصلےپر تہ خانےمیں آب زمزم کا کنواں ہےجو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہ السلام کےشیر خوار بیٹےحضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانےکےبہانےاللہ تعالیٰ نےتقریباً 4 ہزار سال قبل ایک معجزےکی صورت میں مکہ مکرمہ کےبےآب و گیاہ ریگستان میں جاری کیا جو وقت کےساتھ سوکھ گیا تھا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کےدادا حضرت عبدالمطلب نےاشارہ خداوندی سےدوبارہ کھدوایا جوآج تک جاری و ساری ہے۔ آب زمزم کا سب سےبڑا دہانہ حجر اسود کےپاس ہےجبکہ اذان کی جگہ کےعلاوہ صفا و مروہ کےمختلف مقامات سےبھی نکلتا ہے۔ 1953ءتک تمام کنوئوں سےپانی ڈول کےذریعےنکالاجاتا تھا مگر اب مسجد حرام کےاندر اور باہر مختلف مقامات پر آب زمزم کی سبیلیں لگادی گئی ہیں۔ آب زمزم مسجد نبوی میں بھی عام ملتا ہےاور حجاج کرام یہ پانی دنیا بھر میں اپنےساتھ لےجاتےہیں۔

علماء اور اسلامی بیداری کانفرنس، باہمی تعاون کا راستہ ہموار ہوگاتہران میں " علماء اور اسلامی بیداری " کے زیر عنوان منعقد ہونے والے بین الاقوامی اجلاس کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ علی کریمیان نے کہا ہے کہ اس اجلاس سے علاقائی اور عالمی مسائل کے سلسلے میں عالم اسلام سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کی تقویت کا راستہ ہموار ہوگا۔

علی کریمیان نے تہران میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس اجلاس میں اسلامی ممالک خصوصا جن ممالک میں اسلامی بیداری کی لہر آئي ہے ان ممالک کے مسلمانوں کے لۓ مدد پہنچائے جانے کا طریقۂ کار تلاش کیا جائے گا۔

علی کریمیان نے مزید کہاکہ فرقہ واریت ، مسئلہ فلسطین ، اسلامی استقامت خصوصا بحران شام جیسے مسائل کو اس اجلاس کی ترجیحات میں قرار دیا۔ علی کریمیان نے مزید بتایا کہ اس اجلاس میں عالم اسلام کی سات سو ممتاز شخصیات شرکت کریں گی۔

شام کے بحران کا فوجی حل فائدہ مند نہیں

مصر کے نائب صدر عصام الحداد نے کہا ہےکہ قاہرہ شام میں خون خرابے کی روک تھام کے لۓ سیاسی طریقے کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عصام الحداد نے سی بی سی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ مصر شام میں خون خرابے کی روک تھام اور اس ملک کے اقتدار اعلی کے تحفظ کے لۓ سیاسی راہ حل ڈھونڈنے کی کوشش کررہا ہے۔

الحداد نے مزید کہا کہ شام کے بحران کا فوجی حل فائدہ مند نہیں ہے۔

الحداد نے مصر اور ایران کے تعلقات کے بارے میں بھی کہا کہ قاہرہ اور تہران کے تعلقات مکمل طور پر حساس ہیں ان کے لۓ حکمت اور دانائی کی ضرورت ہے اور ہم مصر میں یہ کام انجام دے رہے ہیں۔ الحداد نے یہ بات زور دے کر کہی کہ کسی بھی دوسرے ملک سے متاثر ہوئے بغیر مصر اور ایران کے باہمی تعلقات کا فیصلہ کیا گیا ہے اور مصر میں انقلاب آزادانہ فیصلے کرنے کے لۓ ہی برپا کیا گيا ہے۔

رہبر معظم کا ہفتہ مزدور کی مناسبت سے ہزاروں مزدوروں سے خطاب

۲۰۱۳/۰۴/۲۷ – رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے ہزاروں مزدوروں، ملکی پیداوار کے شعبہ میں سرگرم کارکنوں، اور بعض ممتاز لیبر کارکنوں کے شاندار اجتماع سے خطاب میں سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں عظیم پیشرفت اور رزمیہ جد وجہد کی طرف اشارہ اور انتخابات کو اہم اور قومی اقتدار و قدرت کا مظہر قراردیا اور ممکنہ صدارتی امیدواروں کو اپنی توانائیوں کا صحیح جائزہ لینے اور ملک کے اجرائی نظام اور انتظامی امور کو مد نظر رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ایران اور ایران کی عظیم و پائدار قوم کو ایسے صدر کی ضرورت ہےجو بین الاقوامی سطح اور سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں نڈر، بے خوف اور بہادر اور ملک کی اندرونی سطح پر حکمت تدبیر،مزاحمتی اقتصاد کا معتقد، منصوبہ ساز، اخلاقی تہذیب اور عقلی اور متوازن پالیسیوں اور حقائق پر مبنی منطقی نعروں کا حامل ہو۔

رہبر معظم کا ہفتہ مزدور کی مناسبت سے ہزاروں مزدوروں سے خطاب

یہ ملاقات ہفتہ مزدورکی مناسبت سے منعقد ہوئی، رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے جسم و جان کے ذریعہ ملکی آسائش و پیشرفت کومزدور طبقہ کی سب سے اہم خصوصیت قراردیتے ہوئے فرمایا: مزدور ایک معاشرے و سماج کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور اگر یہ طبقہ نہ ہو یا کمزور اور ضعیف ہو تو ملک مفلوج اور تباہ و برباد ہوجائے گا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےثقافتی شعبہ اور اسی طرح قانونی اور اجرائی شعبہ میں مزدور اور کام پر خصوصی توجہ مبذول کرنے کے سلسلے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اگر مزدور طبقہ روزگار کے لحاظ سے خوشحال اور بانشاط رہےگا تو اس صورت میں ملک کی ترقی اور پیشرفت میں مزید سرعت اور آسانی فراہم ہوجائے گی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی اور اسی طرح انقلاب کے مختلف مراحل منجملہ دفاع مقدس کے دوران مزدوروں کے اہم مقام اور بنیادی نقش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: گذشتہ 34 برسوں میں مزدوروں اور لیبر یونینوں کو انقلاب اسلامی کے مد مقابل کھڑا کرنے کے سلسلے میں بہت سی کوششیں کی گئیں لیکن ملک کے مؤمن ، انقلابی اور دلیر مزدوروں نے دشمن اس سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مزدوروں کا یہ اقدام باعث فخر اور مایہ ناز ہے۔

رہبر معظم کا ہفتہ مزدور کی مناسبت سے ہزاروں مزدوروں سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گذشتہ سال کے نام و نعرے ، قومی پیداوار، ایرانی سرمایہ اور کام کی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: قومی پیداوار کی حمایت ایک سال سے مختص نہیں ہے بلکہ اس موضوع کا ہمیشہ بنیادی طور پر اورسنجیدگی کے ساتھ پیچھا کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی داخلی اشیاء استعمال کرنے کی ثقافت کے فروغ کو بہت ہی اہم قدم قراردیتے ہوئے فرمایا: اس ثقافت کو لوگوں کے درمیان فروغ دینا اور پھیلانا چاہیے اور نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ملک کے اندر بنی ہوئی جنس یا غیر ملکی جنس کے استعمال سے ایک ایرانی مزدور کو مدد بھی پہنچائی جاسکتی ہے اور اسے محروم بھی رکھاجاسکتا ہے۔

رہبر معظم کا ہفتہ مزدور کی مناسبت سے ہزاروں مزدوروں سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: پوری قوم سے میری یہ درخواست ہے کہ وہ داخلی پیداوار کے استعمال کی طرف اپنی توجہ مبذول کریں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حکومتی اداروں کو بھی اپنی ضروریات پورا کرنے کے لئےغیر ملکی اجناس کی خرید سے پرہیز اور داخلی پیداوار کے استعمال کے سلسلے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا: البتہ ملکی پیداوار میں شریک کمپنیوں ، سرمایہ کاروں ، ڈائریکٹروں اور مزدوروں کو بھی چاہیے کہ وہ پیداوار کواچھی اور بہترین شکل میں پیش کریں۔

رہبر معظم کا ہفتہ مزدور کی مناسبت سے ہزاروں مزدوروں سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےمضبوط و مستحکم کام اور مزدور کے احترام اور سرمایہ اور روزگار کو محفوظ بنانےکے بارے میں اسلام کے حکم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلام نے لیبرل اور سوشلسٹ معاشی اور اقتصادی نظریات کے برعکس درمیانہ اور معتدل راستہ اختیار کیا ہے اور اسلام کی مزدور اور سرمایہ دار پر نگاہ منصفانہ اور کام کی بنیاد پر ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سرمایہ دارانہ معیشت و اقتصادکے غلط ہونے اور اس کی ناکامی کے عملی طور پر آشکار ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج یورپ اور امریکہ میں عوامی رد عمل ، سرمایہ دارانہ نظام کے غلط ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: یورپ اور امریکہ میں رونما ہونے والے حوادث کا ابھی آغاز ہے اور انھیں اس سے بھی بد ترین شرائط اور حالات کا سامنا کرنا پڑےگا کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام زوال کی جانب بڑھ رہا ہے۔

رہبر معظم کا ہفتہ مزدور کی مناسبت سے ہزاروں مزدوروں سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مغربی ممالک میں موجودہ اقتصادی و معاشی بحران، مغربی تمدن کے انحطاط کا ایک حصہ ہے جبکہ دوسرا حصہ اخلاقی اور ثقافتی مشکلات پر مشتمل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس سال کو سیاسی و اقتصادی رزم و جہاد کے نام سے موسوم کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حماسہ کا مطلب جہاد کی مانند ولولہ انگیز حرکت ہے اور حکام و عوام دونوں کو اس موضوع پر اپنی توجہ مبذول کرنی چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ حماسہ و جہاد کے محقق ہونے کے لئے صحیح ، منظم و مرتب پروگرام اور خامیوں اور کمزوریوں کی شناخت ضروری ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: تمام منصوبوں اور پروگراموں میں محروم اور کمزور طبقہ کی معیشت اور زندگی کو مد نظر رکھنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی برق رفتار سرعت سے پیشرفت کے لئے جہاد کی طرح خلاقیت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: سیاسی اور اقتصادی رزم و جہاد کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تقویت اور حفاظت کا باعث ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی قوم کے بد نیت دشمنوں کی طرف سے سیاسی و اقتصادی رزم و جہاد کو روکنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمن اقتصادی دباؤ کے ذریعہ انقلاب اور عوام کے درمیان فاصلہ ڈالنے اور عوام کو مایوس بنانے کی تلاش و کوشش کررہا ہے اس کے باوجود بے شرمی کے ساتھ وہ ایرانی قوم کے ساتھ دوستی کا بھی اظہار کررہا ہے!۔

رہبر معظم کا ہفتہ مزدور کی مناسبت سے ہزاروں مزدوروں سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اگر قوہ مجریہ اور قوہ مقننہ کے حکام اقتصادی و معاشی شعبہ کی برق رفتاری پر توجہ مبذول کریں تو دشمن کی تمام معاشی اور اقتصادی پابندیاں ناکام ہوجائیں گي۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی قوم اور حکام اپنے پختہ عزم و ارادہ کے ساتھ دشمن کو اقتصادی شعبہ میں ناکام اور مایوس بنادیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سیاسی حماسہ کو بھی ملک کی مدیریت اور سیاست میں عوام کی آگاہانہ موجودگی قراردیتے ہوئے فرمایا: آئندہ انتخابات سیاسی جہاد و رزم کا آشکار نمونہ ہیں جو اپنے مقررہ وقت پر اور عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت و دشمن شکن حضور کے ساتھ منعقد ہوں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سیاسی حہاد کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اور عوام کو انتخابات میں شرکت سے روکنے کے لئے دشمن کے شوم منصوبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کے دشمن برسہا برس گزر جانے کے بعد بھی ایرانی قوم کی استقامت اور اس کے ایمانی جذبے سے بے خبـر ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: گذشتہ 34 برسوں میں ایرانی قوم نے عظیم اور بزرگ کام انجام دیئے ہیں اور ایرانی حکومت نے بھی ایرانی قوم کی پشتپناہی کی بدولت اپنی استقامت اور پا ئداری کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کے بعد بھی ایسا ہی ہوگا۔

رہبر معظم کا ہفتہ مزدور کی مناسبت سے ہزاروں مزدوروں سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انتخابات کو قومی طاقت و قدرت کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: جو قوم زندہ دل، بانشاط اور اللہ تعالی کی پشتپناہی پر مظمئن ہے وہ انتخابات سمیت تمام میدانوں میں کامیاب ہوجائے گی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انتخابات میں تمام سلیقوں کے افراد کی شرکت کے سلسلے میں اپنے کچھ روز پہلے کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انتخابات کے میدان میں ایسے افراد وارد ہوں کہ انھیں اپنی صلاحیتوں اور ملکی مدیریت سنبھالنےکے سلسلے میں اپنے اندازوں میں کسی غلطی کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جو افراد انتخابات میں صدارتی امیدوار بننا چاہتے ہیں انھیں صحیح جائزے کے بعد میدان میں وارد ہونا چاہیے جبکہ آخری فیصلہ قوم کا فیصلہ ہی ہوگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کے انتخاباتی نظام کو مضبوط نظام قراردیتے ہوئے فرمایا: جیسا کہ حضرت امام خمینی (رہ) بارہا تاکید فرماتے تھے انتخابات میں گارڈین کونسل کی موجودگی، اور عادل، غیر جانبدار، بصیر اور آگاہ افراد کے ذریعہ صلاحیتوں کا جائزہ ایک مبارک عمل ہے۔

رہبر معظم کا ہفتہ مزدور کی مناسبت سے ہزاروں مزدوروں سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: گارڈین کونسل کے ذریعہ صلاحیتوں کے جائزے کے بعد عوام امیدواروں کے گذشتہ کارناموں ، صلاحیپتوں اور نعروں کی روشنی میں صالح افراد میں سے ایک کو صدر کے طور پر انتخاب کریں گے اور اس سلسلے میں مناسب ، مبارک اور بہترین قانون موجود ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں آئندہ صدر کی بعض اہم خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: صدر ایسا شخص ہونا چاہیے جس کا سب سے پہلے اللہ تعالی ، عوام اور بنیادی آئين پر ایمان اور اعتقاد ہواور دوسرے مرحلے پر اسے پائدار جذبے سے سرشار ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی قوم عظیم اور نمایاں کام انجام دینے کی تلاش میں ہے اور دشمن کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والی بھی نہیں ہے اور کوئی اس کے ساتھ طاقت کی زبان سے بات بھی نہیں کرسکتا لہذا قوہ مجریہ کا سربراہ ایسے شخص کو ہونا چاہیے جو دشمنوں کے دباؤ کے مقابلے میں نڈر، بے خوف ، شجاع اور بہادر ہو اور میدان سے بھاگنے والا نہ ہو۔

رہبر معظم کا ہفتہ مزدور کی مناسبت سے ہزاروں مزدوروں سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حکمت، تدبیر، منصوبہ بندی کو آئندہ صدر کی دوسری خصوصیات قراردیتے ہوئے فرمایا: جیسا کہ ہمیں خارجہ پالیسی میں عزت، حکمت اور مصلحت کی ضرورت ہے، اسی طرح اندرونی مسائل اور اقتصاد میں بھی طویل مدت منصوبہ بندی اور صحیح کام انجام دینے کی ضرورت ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے روز مرہ معاشی مسائل، اقتصادی پالیسیوں میں مکرر تبدیلی،غیر ماہرانہ نظریات پر عمل، اور اسی طرح مغربی اور مشرقی مسلط کردہ اقتصادی پالیسیوں کو مضر اور نقصاندہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اقتصادی پالیسیاں مزاحمتی اور مقاومتی اقتصاد پر استوار ہونی چاہییں۔

رہبر معظم کا ہفتہ مزدور کی مناسبت سے ہزاروں مزدوروں سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مزاحمتی اور پائدار اقتصاد وہ ہے کہ جس کے بنیادی ڈھانچے مضبوط و مستحکم ہوں اور دنیا میں رونما ہونے والی مختلف تبدیلیوں سے اس میں کوئي تلاطم اور موج ایجاد نہ ہو۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اخلاقی تہذیب اور اختلافات سے دوری کو آئندہ صدارتی امیدوار کی مزید خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں گذشتہ برسوں میں مختلف حکومتوں اور صدور کی حمایت اور اس کے ساتھ انھیں نصیحت اور سفارش بھی کرتا رہا ہوں اور ان سے وضاحت بھی طلب کرتا رہا ہوں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: گذشتہ صدور کو میری ایک نصیحت ہمیشہ یہ رہی ہے کہ صدور عوام کے لئے کوئی سنگین مشکل کھڑی نہ کریں اور عوام کے اندر تشویش اور خدشات پیدا کرنے سے بھی اجتناب کریں۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جو افراد صدارتی امیدوار بننے کی تیاری کررہے ہیں انھیں عوام کے ساتھ جھوٹے اور غیر واقعی وعدے نہیں کرنے چاہییں بلکہ منطق اور حقائق پر مبنی باتوں اور اللہ تعالی پر توکل کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

رہبر معظم کا ہفتہ مزدور کی مناسبت سے ہزاروں مزدوروں سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایران کی عظيم قوم کے صدر اور ایران کی قوہ مجریہ کے سربراہ کے اندر ان خصوصیات کا ہونا ضروری ہے تاکہ وہ عوام کے تعاون سے اس قابل فخر راہ پر آگے بڑھ سکے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب کے گذشتہ برسوں کے تجربات کی روشنی میں فرمایا: اللہ تعالی کی نصرت و مدد سے یہ قوم اپنے دشمنوں پر کامیاب و کامراں ہوجائے گی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی قوم کا اللہ تعالی پر گہرا یقین ہے اور اس قوم کے ساتھ دشمنی کرنے والوں کو ناکامی نصیب ہوگی۔

اس ملاقات کے آغاز میں سماجی امور و تعاون و لیبر وزارت کے سرپرست جناب اسداللہی عباسی نےاس وزارت خانہ میں گذشتہ سال انجام پانے والے امور کے بارے میں رپورٹ پیش کی اور آئندہ سال (1392 ہجری شمسی ) کے بارے میں طے پانے والے منصوبوں سے آگاہ کیا۔

اس ملاقات سے قبل ملک کے مزدور طبقہ کے شہداء کے اہلخانہ نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے ساتھ قریب سے ملاقات اور گفتگو کی۔

میانمار پر پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کی مذمت کیہندوستان کے ایک ممتاز عالم اہل سنت مفتی مکرم احمد نے یورپی یونین کی جانب سے میانمار پر پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

مفتی مکرم احمد نے میانمار کے مسلمانوں پر انتہا پسند بدھسٹوں کے حملوں میں اس ملک کی حکومت کی جانب سے بدھسٹوں کی مدد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میانمار کی حکومت نہ صرف روہنگیا کے مسلمانوں کو انصاف فراہم نہیں کر رہی ہے بلکہ ان کے خلاف غیرانسانی اقدامات کی حوصلہ افزائي بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ میانمار پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور اس ملک کی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ ملک میں موجود اقلیتوں کو امن اور انصاف فراہم کرے۔ مفتی مکرم نے بین الاقوامی اداروں، ہندوستان کی حکومت اور امن کے حامی تمام ملکوں سے اپیل کی کہ وہ روہنگیا کے مسلمانوں پر جاری تشدد کو رکوانے کے لیے میانمار کی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔

جمیعت علمائے ہند کے سیکرٹری جنرل مولانا محمود مدنی نے بھی نئي دہلی میں یورپی یونین کے نمائندے کے نام خط میں یورپی یونین کے اس فیصلے کو اس یونین کے بہت سے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین نے بائیس اپریل کو اعلان کیا کہ وہ میانمار میں سیاسی اصلاحات پر عمل درآمد کے جواب میں اس ملک پر عائد تجارتی و اقتصادی پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کر رہی ہے۔

ایران اور ترکی کے مفادات اور دشمن مشترکہاسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایران اور ترکی کے مفادات اور دشمن مشترکہ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے تہران میں ترکی کے ترقی و منصوبہ بندی کے وزیر جودت ییلماز سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ دشمن دونوں ملکوں کے تعلقات میں فروغ کے مخالف ہیں کیونکہ یہ علاقے میں ان کے مفادات کے نقصان میں ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران اور ترکی ترقی و پیشرفت کے لیے بےپناہ توانائی اور صلاحیت رکھتے ہیں، مزید کہا کہ دونوں طرفہ تعاون میں توسیع اور تعلقات میں فروغ دونوں ملکوں اور پورے علاقے کے مفاد میں ہے۔

ترکی کے ترقی اور منصوبہ بندی کے وزیر جودت ییلماز نے بھی اس ملاقات میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران اور ترکی کی ثقافت اقدار اور ماضی مشترک ہے، کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی میدانوں میں دونوں ملکوں کی سرنوشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئي ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی ایران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

امریکی قید سے رہائی، ایرانی پروفیسر تہران پہنچ گئےامریکی حکومت کی قید سے رہا ہونے والے ایرانی پروفیسر تہران پہنچ گئے ہیں۔

تہران کی شریف صنعتی یونیورسٹی کے پروفیسر مجتبی عطاردی کو سات دسمبر دو ہزار گيارہ کو لاس اینجلس ہوائی اڈے پر طیارے سے اترنے کے بعد امریکہ کے جدید ٹیکنالوجی کے سازوسامان خریدنے کے بےبنیاد الزام کے تحت گرفتار کر لیا گيا تھا۔

بین الاقوامی وکیل فرینکلن لیمب نے امریکہ کی طرف سے پروفیسر مجتبی عطاردی کی گرفتاری کو سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی و پیشرفت کو روکنے کے مقصد سے ایران پر دباؤ میں اضافے کی ایک کوشش قرار دیا تھا۔

ایران کے نائب وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اور شریف صنعتی یونیورسٹی کے سربراہ سمیت بہت سے سرکاری حکام نے ان کی استقبالیہ تقریب میں شرکت کی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست کے بقول پروفیسر مجتبی عطاردی دسمبر دو ہزار گيارہ میں ایک علمی سیمینار میں شرکت کے لیے امریکہ گئے تھے جنہیں اس ملک کی پولیس نے گرفتار کر لیا تھا اور ایرانی وزارت خارجہ کی کوششوں سے یہ رہا ہوئے ہیں۔

مسلمانوں کے اتحاد اور بیداری پر زورتہران کی مرکزی نماز جمعہ کے خطیب حجۃ الاسلام و المسلمین کاظمی صدیقی نے سامراجیوں کی اسلامی دنیا کے خلاف کی سازشوں اور اسے دی جانے والی دھمکیوں کے مقابلے کے لۓ مسلمانوں کے اتحاد اور بیداری پر زور دیا ہے۔

تہران کی مرکزی نماز جمعہ حجت الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی کی امامت میں ادا کی گئي ۔حجت الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ اسلامی دنیا کے پانچ سو علمائے کرام کی شرکت کے ساتھ " علماء اور اسلامی بیداری " کے نام سے انتیس اور تیس اپریل کو بین الاقوامی اجلاس بلایا جائے گا ، اس امید کا اظہار کیاکہ اس اجلاس سے اسلامی دنیا میں پائے جانے والے تمام اختلافات کے خاتمے کے قابل عمل حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔

خطیب نماز جمعہ تہران نے دہشتگردوں کو مسلح کرنے اور غیر معمولی فتاوی دینے کے لۓ مسلمان مفتیوں کو فریب دینے اور اکسانے کے سلسلے میں اسرائیل اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے ، ان کی تیل کی منڈیوں تک آسانی کے ساتھ رسائی حاصل کرنے اور اسلامی ممالک کو ہتیھار فروخت کرنےکے مقاصد سے کی جارہی ہیں۔

خطیب نمازجمعہ تہران نے خطے میں اسلامی بیداری میں انقلاب اسلامی کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ دشمن اسلامی بیداری کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور ہمیشہ سازشیں تیار کرتے رہتے ہیں لیکن ان کو کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہوگی کیونکہ اسلامی بیداری میں وسعت آتی جارہی ہے۔

حجۃ الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی نے رواں سال جون کے مہینے میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں کے تصور کے برخلاف ایرانی عوام نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کی چونتیسویں سالگرہ کے موقع پر نکالے جانے والے جلوسوں میں اپنی بھرپور شرکت کے ساتھ اس بات کو ثابت کر دکھایا کہ وہ ایران کے اسلامی جمہوری نظام اور اس کے مقاصد کے ساتھ وفادار ہیں۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے دعوے سفید جھوٹشام کے وزیر اطلاعات عمران الزعبی نے شام میں حکومت کی جانب سے مسلح دہشتگرد گروہوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیار استعمال کۓ جانے کی تردید کر دی ہے۔

شام کے وزیر اطلاعات نے رشیا ٹوڈے چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کی حکومت کیمیاوی ہتھیاروں کی حامل ہونے کی صورت میں بھی مسلح گروہوں کے خلاف ان کو استعمال نہیں کرے گی اور نہ ہی اس نے استعمال کۓ ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ ایک صرف سیاسی فیصلہ نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی اور شرعی فیصلہ ہے اور شام کی حکومت اس کی پابند ہے اور وہ ہرگز یہ اقدام انجام نہیں دے گي۔

اس سے قبل شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد نے بھی کہا تھا کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت بعض یورپی ممالک کے اس دعوے کو سفید جھوٹ قرار دیا تھا کہ شام کی فوج نے کیمیاوی ہتھیار استعمال کۓ ہیں۔

بدھسٹوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشیمیانمار نے یورپی یونین کی جانب سے اس پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق میانمار کی حکومت نے یورپی یونین کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی اصلاحات کے بعد یورپی یونین سے اسی فیصلے کی توقع تھی۔

یورپی یونین نے ایک ایسے وقت میں میانمار پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے کہ جب میانمار کی حکومت پر الزام ہے کہ وہ روہنگيا کے مسلمانوں کے قتل عام میں انتہا پسند بدھسٹوں کی مدد کر رہی ہے اور اس ملک میں مسلمانوں کے حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

گزشتہ دنوں ایک ایسی ویڈیو فلم منظر عام پر آئي تھی کہ جس میں انتہا پسند بدھسٹوں کو مسلمانوں پر حملے کرتے ہوئے دکھایا گيا تھا اور میانمار کی پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔

ہیومن رائٹس واچ نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ میانمار میں انتہا پسند بدھسٹوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے ۔