Super User
نظام الدین اولیاء – دهلي - هندوستان
نام و نسب
آپ کا اصل نام سید محمد نظام الدین ، والد کا نام سید احمد بخاری ہے۔ آپ کے القابات 'نظام الاولیاء' ، 'محبوب الہی' ، 'سلطان المشائخ' ، 'سلطان الاولیاء' اور 'زری زر بخش' وغیرہ ہیں۔
آپ کے جدِ امجد سید علی بخاری اور نانا خواجہ عرب بخارا سے ہجرت کرکے بدایوں پہنچے۔
سلسلہ عالیہ چشتیہ کے معروف صوفی بزرگ جن کا سلسلہ نسب حضرت امام حسین تک پہنچتا ہے۔
تعلیم و تربیت
ابھی بمشکل پانچ برس کے ہوئے کہ والد کا انتقال ہو گیا لیکن آپ کی نیک دل، پاک سیرت اور بلند ہمت والدہ حضرت بی بی زلیخا نے سوت کات کات کر اپنے یتیم بچے کی عمدہ پرورش کی۔ آپ نے قرآن کریم کا ایک پارہ مقری بدایونی سے پڑھا اس کے بعد مولانا علاؤالدین اصولی سے مختصر القدوری پڑھی۔ مشارق الانوار کی سند مولانا کمال الدین سے حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی آکر خواجہ نجیب الدین متوکل سے صحبت رہی۔ یہیں شمس الدین خوازمی سے تحصیل علم کی۔
بیعت و خلافت
ظاہری علوم کے حصول کے بعد آپ نے بیس سال کی عمر میں اجودھن موجودہ پاکپتن حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔آپ کو دیکھ کر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر نے یہ شعر پڑھا:
اے آتش فراغت دل ہا کباب کردہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سیلاب اشتیاقت جا نہا خراب کردہ
پیر و مرشد کے حکم پر ہی دہلی آکر محلہ غیاث پورہ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ سلوک و معرفت کی تمام منزلیں حاصل کرنے کے باوجود آپ نے تیس سال تک نہایت ہی سخت مجاہدہ کیا۔ ایک دن شیخ عبدالرحیم نے عرض کی: حضور آپ سحری میں کچھ نہیں کھاتے، افطاری کے وقت بھی کچھ نہیں کھاتے۔ ضعف و نقاہت سے کیا حال ہو گیا ہے۔ یہ سن کر آپ کر گریہ طاری ہو گیا۔ فرمایا: اے عبدالرحیم کتنے فقیر محتاج مسجدوں درسگاہوں اور چبوتروں پر بھوکے پڑے ہوتے ہیں، اس حالت میں میرے حلق سے نوالہ کیسے اتر سکتا ہے۔
شہرت
اللہ تعالٰی نے آپ کو کمال جذب و فیض عطا فرمایا۔ اہلِ دہلی کو آپ کی بزرگی کا علم ہوا تو آپ کی زیارت اور فیض و برکت کے حصول کی خاطر گروہ در گروہ آنے لگے اور ان کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہونے لگا۔ وقت کے بادشاہ اور امراء بھی آپ سے عقیدت کا اظہار کرتے لیکن آپ ان کی طرف التفات نہ فرماتے۔ سلطان غیاث الدین بلبن کا پوتا معز الدین کیقباد کو آپ سے اس قدر گہرا تعلق تھا کہ اس نے آپ کی خانقاہ کے قریب موضع کھیلوکری میں اپنا قصر تعمیر کروایا اور وہیں سکونت اختیار کی۔ خواجہ نظام الدین بھی اپنی خانقاہ سے سلطان کی نو تعمیر جامعہ مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے جاتے لیکن آپ سلطان سے ملاقات کے لیے کبھی نہ گئے۔
خدمتِ خلق
آپ کے لنگر خانہ میں ہزاروں من کھانا پکتا اور ہزاورں کی تعداد میں فقراء اور مساکین اس خانقاہ سے کھانا کھاتے۔ وصال سے قبل آپ علیل ہوئے تو آپ نے وصیت کی گھر اور خانقاہ کے اندر جس قدر اثاثہ ہے سارے کا سارا مساکین اور غرباء میں تقسیم کردیا جائے۔ آپ کے حکم پر خواجہ محمد اقبال داروغہ لنگر نے ہزارہا من غلہ بانٹ دیا اور ایک دانہ بھی نہ چھوڑا۔
ایک دن آپ نے محفل میں فرمایا کہ جتنا غم و اندوہ مجھے ہے اتنا اس دنیا میں اور کسی کو نہ ہوگا کیونکہ اتنے لوگ آتے ہیں اور صبح سے شام تک اپنے دکھ درد سناتے ہیں وہ سب میرے دل میں بیٹھ جاتے ہیں پھر فرمایا عجب دل ہو گا جو اپنے مسلمان بھائی کا دکھ سنے اور اس پر اثر نہ ہو۔ ایک مرتبہ غیاث پورہ میں آگ لگی، گرمی کا موسم تھا۔ آپ چلچلاتی دھوپ میں اپنے مکان کی چھت پر کھڑے یہ منظر اس وقت تک دیکھتے رہے کہ جب تک آگ ٹھنڈی نہ ہو گئی پھر خواجہ محمد اقبال کو فرمایا کہ جاؤ ہر متاثرہ گھر والے کو دو تنکے، دو دو روٹیاں اور ٹھنڈے پانی کی ایک ایک صراحی پہنچا کر آؤ کیونکہ آبادی کے لوگ اس حالت میں بہت پریشان ہوں گے۔ جب خواجہ محمد اقبال وہاں پہنچے تو لوگ خوشی سے آبدیدہ ہو گئے۔ ایک تنکہ کی قیمت اس وقت اتنی تھی کہ کئی چھپر ڈلوائے جا سکتے تھے۔
وفات
خواجہ نظام الدین اولیاء نے 18 ربیع الثانی بروز بدھ 725 ہجری کو طلوعِ آفتاب کے وقت وصال فرمایا۔ مزار سے متصل مسجد کی دیوار پر تاریخ وفات کندہ ہے۔
حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مرید امير خسرو دهلوي

پیدائش: 1253ء - وفات: 1325ء –
فارسی اور ہندی شاعر، ابوالحسن نام ، یمین الدولہ لقب۔ امیر خسرو عرف ۔ والد ایک ترک سردار تھے۔ منگولوں کے حملوں کے وقت ہندوستان آئے اور پٹیالی (آگرہ) میں سکونت اختیار کی۔ امیر خسرو یہیں پیدا ہوئے۔ ان کى والدہ ہندوستانی تھیں۔ کچھ عرصے بعد یہ خاندان دہلی منتقل ہوگیا اور امیرخسرو نے سلطنت دہلی (خاندان غلمان، خليجی ، اورتغلق) کے آٹھ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا اور برصغیر میں اسلامی سلطنت کے ابتدائی ادوار کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی زندگی میں سرگرم حصہ لیا۔
حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مرید تھے۔ انھی کے قدموں میں دفن ہوئے۔
خسرو نے ہر صنف شعرمیں طبع آزمائی کی۔ غزل میں پانچ دیوان یادگارچھوڑے۔
فارسی کلام کی مثالیں
اگر فردوس بر روے زمین است
همین است و همین است و همین است
از سر بالین من برخیز ای نادان طبیب
دردمند عشق را دارو به جز دیدار نیست
ناخدا بر کشتی ما گر نباشد، گو مباش!
ما خدا داریم ما ناخدا در کار نیست
ہندی میں دوہے
ख़ुसरो दरिया प्रेम का, उलटी वा की धार,
जो उतरा सो डूब गया, जो डूबा सो पार.
خسرو دریا پریم کا، اُلٹی وا کی دھار
جو اترا سو ڈوب گیا ، ای پار
सेज वो सूनी देख के रोवुँ मैं दिन रैन,
पिया पिया मैं करत हूँ पहरों, पल भर सुख ना चैन.
سیج وہ سونی دیکھ کے روؤں میں دن رین
پیا پیا میں کرت ہوں پہروں، پل بھر سکھ نہ چین
کویت میں احتجاجی مظاہرہ
کویت میں سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کر کے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امیر کویت کی توہین کے الزام میں کویت کی پارلیمنٹ کے سابق رکن مسلم البراک کو قید کی سزا کے حکم کے بعد سینکڑوں افراد نے اس سزا کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ اگر اس قسم کے غیرمنصفانہ احکامات واپس نہ لیے گئے تو ان کے خلاف سخت احتجاج کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کویت کے سابق رکن پارلیمنٹ مسلم البراک کو انٹرنیٹ پر امیر کویت کی توہین کرنے کی بنا پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئي ہے۔
غیرملکی فوجیوں کو افغانستان کی وزارت دفاع کا انتباہ
افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان نے اس ملک میں غیر ملکی فوجیوں کے حملوں میں عام افغان شہریوں کے جانی نقصانات پر شدید تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ عام افغان شہریوں کی جان کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں ۔ کابل سے ارنا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان جنرل ظاہر عظیمی نے آج کابل میں نیٹو حکام کے ساتھہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں تاکید کی کہ اس ملک میں تعینات غیرملکی افواج کو رہائشی علاقوں میں طالبان کمانڈروں کی موجودگی کی صورت میں ان علاقوں پر ہوائی حملوں کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس قسم کے حملوں میں زیادہ تر عام شہری مارے جاتے ہیں ۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان نے اس موقع پر ڈیورینڈ لائن کے اطراف میں پاکستان کی جانب سے خاردار تار لگائے جانے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور راستوں کو صاف کرنے پر تاکید کی اور کہا کہ کابل ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گا ۔ افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان ظاہر عظیمی نے اسی طرح اس ملک کے مشرقی صوبوں بدخشان اور کنڑ میں ہونے والے میزائیلی اور راکٹی حملوں میں بعض ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے پاس اس قسم کے ہتھیار نہیں ہیں ۔
عورت کی عصمت و عفت کا تصور
یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ عورت ہمیشہ افراط و تفریط کے المناک عذاب میں مبتلا رہی ہے۔ عورت کو کبھی تقدس کا اونچا درجہ دے کر پاربتی اور درگار دیوی بنایا گیا، جس کے قدموں میں خود شنکر اور کیلاش پتی نظر آتے ہیں، کبھی اس بے بس مخلوق کو خدا کی لعنت اور ’’شیطانی کمند‘‘ قرار دیتے ہیں، کبھی اس کو اس حد تک اونچا کیا گیا کہ جائیداد منقول اور غیر منقول کا حق صرف عورت تک محدود کر دیتے ہیں اور مرد کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ وہ نہ تو کسی جائیداد کا مالک ہو سکتا ہے اور نہ اُسے بیچ سکتا ہے، جیسا کہ افریقہ کے کئی قبائل خصوصاً ملثمین کے قوانین میں درج ہے کہ عورت کو خود منقولہ جائیداد سمجھا گیا۔ جیسا کہ ارسطو طالیس کی تعلیمات میں ملتا ہے کبھی عورت کو وراثت سے کلیتاً محروم کر دیا گیا ہے، کیونکہ اس سلسلے میں بہت سے مفکروں نے مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے، جیسے یونانیوں کا خیال تھا کہ آگ سے جل جانے اور سانپ کے ڈسے جانے کا علاج ممکن ہے، لیکن عورت کے شر کا علاج محال ہے۔
سقراط کہتا ہے کہ عورت سے زیادہ فتنہ و فساد کی چیز دنیا میں کوئی نہیں ہے، وہ ایک ایسا درخت ہے کہ بظاہر انتہائی خوبصورت اور خوش نما نظر آتا ہے، لیکن جب کوئی اسے کھاتا ہے تو مر جاتا ہے۔ افلاطون کا قول ہے کہ دنیا میں جتنے ظالم اور ذلیل مرد ہوتے ہیں وہ سب نتائج کی دنیا میں عورت بن جاتے ہیں۔ مقدس قدس برنار کہتا ہے کہ عورت شیطان کا آلہ کار ہے۔ یوحنا دمشقی کہتا ہے کہ عورت مکر کی بیٹی ہے اور امن و سلامتی کی دشمن۔ مونٹسکو کہتا ہے کہ فطرت نے مرد کو طاقت دی ہے اور عقل و خرد سے نوازا ہے، لیکن عورت کو صرف زینت اور خوشنمائی دی ہے۔
ان خیالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر شخص نے اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات کے تحت عورت کے بارے میں اچھی بری رائے قائم کی۔ زندگی میں ہر شخص کے ذاتی تجربات اور مشاہدات مختلف ہو سکتے ہیں، چنانچہ ہر ایک نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے، چونکہ بڑے لوگ تھے اس لئے ان کی باتوں کو ضرب المثال کا درجہ حاصل ہو گیا۔ جنہیں آج تک عورت کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ تمام باتیں اس طرزِ فکر کی ترجمانی کرتی ہیں، جن کا خمیر بھی افراط و تفریط سے اٹھایا گیا تھا۔ ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے عورت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ صرف ان کی صفاتی کمزوریوں اور خرابیوں کو ضرب المثال کا درجہ دے دیا۔
اعتدال کو قائم نہ رکھنے کی یہ صورت آج کے اس ترقی یافتہ متمدن اور مہذب دور میں بھی یہ بدستور قائم ہے۔ مغربی اور استعماری ایجنٹ جو سب سے زیادہ عورت کی آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں، ان کے ہاں یورپ میں کئی ممالک ایسے ہیں جن میں عورت کو حق رائے دہی حاصل نہیں۔ اسمبلیوں اور پارلیمنٹسں کے دروازے ان پر بند ہیں۔ پہلے برطانیہ میں عورت وزیراعظم نہیں بن سکتی تھی، امریکہ میں عورت صدر نہیں بن سکتی تھی، فوج کی سپہ سالار عورت نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اسے ورلڈ بینک آف انگلینڈ میں ڈائریکٹر کا عہدہ دیا جا سکتا ہے۔
شادی کرتے ہی عورت اپنے اصلی نام سے محروم ہو جاتی ہے، جب تک شادی نہ ہو تو باپ کے نام سے پہچانی جاتی ہے، جیسے کہ اس کی اپنی کوئی شخصیت نہ ہو۔ عملی طور پر زندگی کے ہر شعبے میں اس کو کم تر درجہ مخلوق بنا کر رکھا گیا ہے، لیکن ہر قسم کے لہو و لعب کے کاموں، کلبوں اور عیاشی کے اداروں میں اس کو بے پناہ عزت حاصل ہے۔ عام اجتماعی زندگی میں عریانی، فحاشی اور بے لگام آزادی اسے اس طرح دی گئی ہے کہ اس کے بغیر کسی محفلِ نشاط کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔
عورت ایک انتہائی خوبصورت اور خوش رنگ پھول ہے، نسوانیت کا جوہر اس کی خوشبو ہے۔ یہ جوہر عورت کی عصمت و عفت کا تصور ہے، جب یہ بھینی بھینی عطر بیز خوشبو گلزار ہستی میں پھیلتی ہے تو اسے رشک فردوس بنا دیتی ہے، ہر شخص کی زندگی دامن گل فروش بن جاتی ہے، اسی خوشبو کا اعجاز ہے کہ مختلف قبیلے، ذاتیں، قومیں اور انسانی گروہ معرضِ وجود میں آتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم کے برے دن آتے ہیں تو سب سے پہلے اس قوم کی عورتیں عصمت و عفت کے جوہر سے محروم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ دانشور اور فلاسفر تصور عصمت و عفت کا مذاق اڑاتے ہیں، عورت کی دوشیزگی کو قدامت پرستی کے طعنے دیئے جاتے ہیں اور یہ نام نہاد اہلِ علم اور قلم کار عورت کو ایسے ایسے خوبصورت فریب دیتے ہیں کہ وہ آخر اپنے فطری راستے سے بھٹک جاتی ہے۔ چونکہ عورت میں روزِ اوّل سے ہی احساسِ کمتری پیدا کر دیا گیا ہے، اس لئے جب اسے مردوں کی طرف سے شتر بے مہار قسم کی آزادی ملتی ہے تو وہ بہک جاتی ہے اور بہت خوش ہوتی ہے کہ اسے اُس کے حقوق مل گئے ہیں۔
یہی وہ دھوکہ اور طلسمی فریب ہے جس میں جدید دور کی عورت کو مبتلا کر دیا گیا ہے! اس افراط و تفریط کے عمل میں عورت کا ظالمانہ استحصال بھی شامل ہوتا ہے، جو آج تک جاری ہے۔ یہ حماقت ہے کہ عورتوں کے کام مرد کریں، اور مردوں کے کام عورتیں انجام دیں، کیونکہ ہر ایک کی ساخت اور فطری تقاضے ہیں، جو خالق کائنات نے ازل سے عطا کئے گئے ہیں۔ جہاں تک اس حقیقت کا تعلق ہے یہ قطعی حقیقت ہے کہ مرد نے ہمیشہ اسی آغوش کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا، جس آغوش میں اس نے پرورش پائی اور اسی سینے کو زخمی کیا، جس سے اس کا رشتہ حیات وابستہ رہا۔
ان تمام اقوال اور خیالات کے باوجود یورپ کی پہلی جنگ عظیم کے اوائل میں ہی اہل یورپ نے یہ محسوس کیا کہ وہ چاہے عورت کے بارے میں جو بھی خیالات رکھتے ہوں، مگر اس کے بغیر جنگ میں کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ مردوں کی کثیر تعداد جنگ کے محاذوں پر مصروف ہو گئی ہے تو اندرونی ذمہ داریاں کون نبھائے گا؟ چنانچہ خواتین نے اسلحہ ساز اور دیگر ہر قسم کے کارخانوں میں جا کر کام کرنا شروع کر دیا۔ حالات کے تحت عورتوں نے علمِ طب میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی، وکالت کے میدان میں آئیں، وظائف اور مناصب حاصل کرکے قلیل عرصے میں یہ ثابت کر دیا کہ عورتیں بھی مردوں کے کام حسن و خوبی کے ساتھ انجام دی سکتی ہیں۔
اسی طرح سرزمین عرب میں جس قدر ادیب، شاعر اور فاضل خواتین پیدا ہوئیں، وہ فراست و شجاعت اور ذہانت کی زندہ مثال تھیں، جو ریگستان عرب میں مشہور و معروف ہوئیں، حالانکہ یہ وہی سرزمین عرب تھی جہاں عورت کے ساتھ بدترین سلوک کیا جاتا تھا۔ لیکن اسلام کی روشنی پھیلنے کے بعد پورے ملک میں عورت کی زندگی میں انقلاب آ گیا۔ اسلام نے عورتوں کے لئے جو اصول و ضوابط پیش کئے اور تعلیم و تربیت کے جس اصول کو پیشِ نظر رکھا، وہ یقینا عورت کی صحیح اور متوازن فطری آزادی کا ضامن تھا۔
اس تعلیم و تربیت کی بدولت نہایت مختصر عرصے میں نسائیت کے وہ اعلٰی ترین نمونے پیش کئے کہ اب پوری دنیا میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ اس کی صرف ایک وجہ تھی کہ اسلام دنیا کا وہ پہلا اور آخری مذہب ہے جس نے صدیوں کی ٹھکرائی اور روندی ہوئی مظلوم عورت کو فطری حدود کے اندر جائز اور مکمل آزادی عطا کی۔ انہیں عزت و آبرو اور وقار کا مقام عطا کیا، جو ہر قسم کے افراط و تفریط سے یکسر پاک تھا، یہ افراط و تفریط کا رویہ ہی ہمیشہ عورت کے لئے دنیا میں جہنم زار بنا رہا ہے۔
دنیا میں فقط اسلام ایسا دین فطرت ہے، جس نے عورت کو عورت اور خدا کی حسین مخلوق سمجھا ہے اور اس کی بشری کمزوریوں کو نہیں اچھالا بلکہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے حکم دیا کہ دونوں میں بہتر وہی ہے جو تقویٰ میں بہتر ہے۔ ان دانشوروں کی طرح اسلام نے عورت میں احساسِ کمتری اور احساسِ ذلت پیدا نہیں کیا، بلکہ عورت کو ہر روحانی بلندی تک پہنچنے کے قابل بنایا ہے، بشرطیکہ وہ سچی مسلمان ہو اور سچی مسلمان عورت کا کردار فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ حضرت زہرا (س) کی زندگی بہت مختصر تھی، لیکن زندگی کے مختلف شعبوں، جہاد، سیاست، گھر اور معاشرے و اجتماعیت میں ان کی زندگی کی برکت، نورانیت، درخشندگی اور جامعیت نے انہیں ممتاز اور بے مثل و بے نظیر بنا دیا ہے۔
خواتین اپنے حقوق اور اسلام کی نظر میں عورت کے کردار میں معیار و میزان کے فہم اور ان معیاروں کی اساس پر اپنی تربیت و خود سازی کی روش و طریقہ کار کی دستیابی کے لئے حضرت فاطمہ زہرا (س) جیسی عظیم المرتبت شخصیت کو اپنے سامنے موجود پاتی ہیں، اور اس بناء پر وہ دیگر آئیڈیل شخصیات سے بے نیاز ہیں۔ حضرت زہرا (س) اور ان کی سراپا درس و سبق آموز زندگی کی طرف توجہ کرنا خواتین کو معنویت، اخلاق، اجتماعی فعالیت و جدوجہد اور گھرانے کے ماحول میں ان کی انسانی شان کے مطابق ایک مطلوبہ منزل تک پہنچانے کا باعث ہوگا۔
دریائے علم اجرِ رسالت ہیں فاطمہ(س)
قرآن اختصار، فصاحت ہیں فاطمہ(س)
محروم عدل، روحِ عدالت ہیں فاطمہ(س)
اقتباس از اسلام ٹائمز
میانمار کی حکومت ، اسلامی ممالک کے وفد کو دورے کی اجازت دے
اسلامی تعاون تنظیم نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ روہنگیائی مسلمانوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے اسلامی ممالک کے وفد کو دورے کی اجازت دی جائے۔
اسلامی تعاون تنظیم نے کل اتوار کو میانمار کے مسلمانوں کے موضوع پر منعقد ہونیوالے خصوصی اجلاس کے اختتام پر میانمار کے حکام سے مطالبہ کیا کہ اسلامی ممالک کے وزارتی وفد کو میانمار کے دورے کی اجازت دی جائے ۔ اس اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل اکمل الدین احسان اوغلو نے میانمار کے مسالمانوں پر جاری تشدد کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے اسے، بحران کے خاتمے کےلئے میانمار کی حکومت کی منفی کارکردگی کا نتیجہ قرار دیا۔
اس سے قبل مارچ میں بھی اکمل الدین احسان اوغلو نے میانمار کے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ مسلمانوں پر شدت پسند بڈھسٹوں کے حملوں کی روک تھام کرے ۔ اسلامی تعاون تنظیم گذشتہ ایک سال سے میانمار میں وفد بھیجنے کی کوشش کررہی ہے لیکن ابھی تک دورے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
لاہور میں خسرے نے خطرے کی گھنٹی بجادی
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے صدر مقام لاہور کے معروف میو اسپتال میں خسرے سے متاثرہ اکیس نئے بچے داخل کرادیئے گئے ہیں۔ یوں رواں سال کے ابتدائی چار ماہ میں اب تک گیارہ سو سے زائد بچے سے خسرے کے باعث اسپتال داخل ہونے پر مجبور ہوئے ، جبکہ گذشتہ تین دنوں میں پانچ بچے زندگی کی بازی ہارچکے ہیں۔ لاہور میں خسرے نے خطرے کی گھنٹی بجادی ۔ ہر گزرتے دن خسرے سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے۔نگراں صوبائی وزیر صحت پہلے ہی اعتراف کرچکی ہیں کہ خسرہ کی روک تھام کرنے کے لیے مہم موثر ثابت نہیں ہوئی۔ یہ بات یوں بھی ثابت ہوتی ہے کہ صرف میو اسپتال میں رواں سال اب تک مختلف اوقات میں گیارہ سو سے زائد بچے داخل ہوچکے ہیں ، جبکہ اپریل کے تیرہ دنوں میں خسر ے سے متاثرہ دو سو بچے میو اسپتال میں داخل ہوئے ہیں ۔ میواسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر زاہد پرویز کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچوں کے لیے اسپتال میں دو خصوصی وارڈز بنادیئے گئے ہیں ، جبکہ شدید متاثرہ بچوں کا علاج انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں کیا جارہا ہے۔
ايران اور متحدہ عرب امارات کے مابین سکورٹی تعاون میں توسیع
ایران اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے داخلہ نے دو طرفہ سکورٹی تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا ہے –
ایران کے وزیر داخلہ مصطفی محمد نجار نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظبی پہونچنے پر نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو ميں کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا فروغ ، تمام شعبوں خاص طور پر سیکورٹی اور فوجی شعبے میں اہمیت کا حامل ہے – وہ امارات کے حکام سے دو طرفہ تعاون میں فروغ سمیت دیگر مسائل پر بھی بات چیت کریں گے ۔
امارات کے وزیر داخلہ " شیخ سیف بن زاید آل نہیان " نے بھی جنوبی ایران کے صوبے بو شہر کے حالیہ زلزلے میں مرنے والوں کے اہل خانہ کو تعزیت پیش کرتے ہوئے ان سے اظہار ہمدردی کیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کو چاہیئے کہ بحران پر قابو پانے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں -
غزہ پٹی کا محاصرہ ،علاقہ ایک بار پھر انسانی المیے کے دہانے پر
غزہ پٹی کے خلاف صیہونی حکومت کے محاصرے سے یہ علاقہ ایک بار پھر انسانی المیے کے دہانے پر پہنچ گيا ہے۔ المنار کے نمائندے نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ صیہونی حکومت نے غزہ پٹی کے عوام کی بنیادی ضرورتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کرم ابو سالم گذر گاہ کو بند کردیا ہے اور اسی وجہ سے غزہ انسانی المیے کے دہانے پر آ پہنچا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گذرگاہ ابوسالم کےبند کئےجانے سے غزہ کےلئے دواوں، ملک پاوڈر، اور ایندھن کی شدید قلت ہوچکی ہے۔ فلسطین کامرس چیمبرس کے سربراہ ماہر طباع نے کہا ہےکہ محاصرے سے قدرتی گيس کی سپلائي بند ہوگئي ہےجس سے غزہ کے سارے باشندے متاثر ہوچکے ہیں اور انہیں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔ ادھر فلسطینی گروہوں نے گذرگاہوں کو بندکرنے کے صیہونی اقدام کو گذشتہ نومبر کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔
عراق پرامریکہ کا حملہ غلط تھا، امریکہ کے سابق وزیر خارجہ کولین پاول
امریکہ کے سابق وزیر خارجہ کولین پاول نے ایک بار پھر اعتراف کیا ہےکہ عراق پرامریکہ کا حملہ غلط تھا۔ مھر نیوز کی رپورٹ کے مطابق کولن پاول نے اشتٹرن نامی جریدے کے ساتھ گفتگو میں ریپبلیکن پارٹی کا رکن ہونے کےباوجود اس پارٹی پر تنقید کی۔ کولن پاول نے عراق پرحملوں کو اپنی زندگي میں سب سےزیادہ مایوسی کا سبب قراردیا۔ کولن پاول دوہزار تین میں عراق پر امریکہ کے حملوں کے وقت امریکہ کے وزیر خارجہ تھے۔ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ری پبلیکن پارٹی امریکہ کے حقائق کو نظر انداز کررہی ہے جبکہ امریکہ تباہی کی طرف جارہا ہے اور ہر روز دنیا کے حقائق سے دور ہوتاجارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ ری پبلیکن پارٹی کی پالیسیوں سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر اوباما کی پالیسیوں کی حمایت کی۔
رہبر معظم سے برونڈی کے صدر اور اس کے ہمراہ وفد کی ملاقات
۲۰۱۳/۰۴/۱۰ - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے برونڈی کے صدر اور اس کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی افریقی ممالک پر مثبت نگاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایران ، افریقی ممالک کی پیشرفت ، ترقی اور ان کے اتحاد کا استقبال کرتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے افریقی ممالک کے استعمار کے دوران بعض یورپی ممالک اور امریکہ کی طرف سے ان ممالک میں معاندانہ اقدامات، سازشوں اور فتنہ پیدا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امیدوار ہیں کہ پیشرفت اور ترقی کے لحاظ سےافریقہ بالخصوص برونڈی کا مستقبل مزید درخشاں اور تابناک ہو۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران اور برونڈی کے باہمی تعلقات کے فروغ کا خیر مقدم کرتے ہوئے فرمایا: افریقی یونین تمام افریقی ممالک کے اقتدار کے مرکز میں تبدیل ہوسکتی ہے، اور اسلامی جمہوریہ ایران، افریقی یونین کے اتحاد کی حمایت کرتا ہے۔
اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژاد بھی موجود تھے۔، برونڈی کے صدر نے ایران اور برونڈی کے 28 سالہ روابط کی جانب اشارہ کیا اور ایران و برونڈی کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط و مستحکم بنانے کو اپنے سفر کا اصلی مقصد قراردیا ۔
برونڈی کے صدر نےاستعماری طاقتوں کی جانب سے افریقی ممالک پر ڈھائے جانے مظالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: افریقی ممالک بالخصوص برونڈی بہتر مستقل کی تلاش میں ہیں۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
