Super User

Super User

لالا مصطفیٰ پاشا مسجد کا داخلی دروازہ

لالا مصطفیٰ پاشا مسجد قبرص کے شہر فیماگسٹا میں واقع ایک مسجد ہے جو ایک گرجے کی جگہ قائم کی گئی۔ یہ عمارت سینٹ نکولس گرجا کے طور پر 1298ء سے 1400ء کے درمیان تعمیر ہوئی۔ 1571ء میں فیماگسٹا کی عثمانیوں کے ہاتھوں فتح کے بعد اسے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔

غالباً یہ دنیا کی واحد مسجد ہوگی جو گوتھک طرز تعمیر کا شاہکار ہے۔

اس مسجد کے دو برج زلزلوں اور 1571ء کے عثمانی محاصرے کی بمباری کا نشانہ بنے اور آج تک دوبارہ تعمیر نہیں کیے گئے تاہم ان کی جگہ خالص عثمانی طرز کا ایک مینار قائم کیا گیا۔

عثمانیوں کی جانب سے قبرص کی فتح کے بعد اس گرجے کو " سینٹ صوفیا مسجد " کا نام دے دیا گیا۔

اسلام میں جانداروں کی تصویروں کی ممانعت کے باعث گرجے میں نصب تمام تصاویر اتار دی گئیں اور اسے بتوں سے بھی پاک کر دیا گیا۔ 1954ء میں اس مسجد کا نام بدل کر عثمانی کمانڈر لالا مصطفیٰ پاشا پر رکھ دیا گیا۔

فلسطین کی مختلف تنظیموں نے امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

فلسطین کی مختلف تنظیموں نے امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ چند روز قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے سالانہ کنونشن میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ فلسطین کی مختلف تنظیموں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ فلسطینی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے امریکی یہودیوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے امریکہ کی روایتی پالیسی سے خطرناک انحراف کیا ہے۔

آسام کے بوڈو اکثریت والے علاقوں پر حکومت کرنے والی بوڈولینڈ علاقائی کاؤنسل کے سربراہ ہاگرما موہلیاری کا کہنا ہے وہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کو بوڈو اکثریت والے علاقوں میں نہیں رہنے دیں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ آسام کے بوڈو اکثریت والے علاقوں پر حکومت کرنے والی بوڈولینڈ علاقائی کاؤنسل کے سربراہ ہاگرما موہلیاری کا کہنا ہے وہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کو بوڈو اکثریت والے علاقوں میں نہیں رہنے دیں گے۔ آسام کے وزیر اعلی ترون گوگوئی بھلے ہی یہ کہتے ہیں کہ ریاست کے کوکراجھار اور اس کے قریبی علاقوں میں نسلی تشدد کا سبب غربت اور وسائل کی کمی ہے لیکن ہاگرما موہلیاری واضح الفاظ میں کہتے ہیں ’تشدد کی وجہ بنگلہ دیشی مسلمان ہیں‘۔سنہ دوہزار تین تک بھارت مخالف علیٰحدگی پسند تنظیم بوڈو لبریشن ٹائیگر یا بی ایل ٹی کے سربراہ رہ چکے ہاگرما نے اپنی ساتھیوں کے ساتھ دوہزار تین میں ہتھیار ڈال دیے تھے اور امن مذاکرات میں حصہ لینے کے بعد بوڈو پیپلز فرنٹ یا بی ایف کی شروعات کی تھی۔ریاست آسام میں بوڈو قبائیلیوں اور اقلیتی مسلمانوں کے درمیان گزشتہ ایک ماہ سے فرقہ وارنہ تشدد جاری ہیں اس میں اب تک تقریبا نوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ پاکستان اوربھارت کے تعلقات میں بڑی مثبت تبدیلی آئی ہے اور بھارت چاہتاہے کہ پاکستان مستحکم اورخوشحال ریاست ہو۔

بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ پاکستان اوربھارت کے تعلقات میں بڑی مثبت تبدیلی آئی ہے اور بھارت چاہتاہے کہ پاکستان مستحکم اورخوشحال ریاست ہو۔ ، ایس ایم کرشنانے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کیلیے ہرچیزکرنے کیلیے تیارہیں۔ انہوں نے ایک صحافی کے اس سوال پر کہ سیاچن اورسرکریک پربھی تجارت کی طرح پیشرفت ہونی چاہیے کہا کہ ہم مرحلہ وارآگے بڑھ رہے ہیں،دونوں ملکوں کے درمیان ویزوں کے معاملے پرمعاہدہ کل ہوگا،ایک ہی وقت میں تمام مسائل حل نہیں کیے جاسکتے،ہم صحیح سمت پرچل رہے ہیں،امیدکرتاہوں تمام مسائل حل ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت سیکریٹری خارجہ کی ابھی تک ملاقات مثبت رہی ہے۔

Sunday, 09 September 2012 04:21

آزادی نسواں

اقبال اگرچہ عورتوں کے لئے صحیح تعلیم ، ان کی حقیقی آزادی اور ان کی ترقی کے خواہاں ہیں۔ لیکن آزادی نسواں کے مغربی تصور کو قبول کرنے کے لئے وہ تیار نہیں ہیں اس آزادی سے ان کی نظر میں عورتوں کی مشکلات آسان نہیں بلکہ اور پیچیدہ ہو جائیں گی ۔ اور اس طرح یہ تحریک عورت کو آزاد نہیں بلکہ بے شمار مسائل کا غلام بنا دے گی۔ ثبوت کے طور پر مغربی معاشرہ کی مثال کو وہ سامنے رکھتے ہے جس نے عورت کو بے بنیاد آزادی دے دی تھی تو اب وہ اس کے لئے درد ِ سر کا باعث بنی ہوئی ہے۔ کہ مرد و زن کا رشتہ بھی کٹ کر رہ گیا ہے۔

 

ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا!

مگر یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں

قصور زن کا نہیں ہے کچھ اس خرابی میں

گواہ اس کی شرافت پہ ہیں مہ پرویں

فساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہور!

کہ مرد سادہ ہے بےچارہ زن شناس نہیں

 

اقبال کی نظر میں آزادی نسواں یا آزادی رجال کے نعرے کوئی معنی نہیں رکھتے بلکہ انتہائی گمراہ کن ہیں۔ کیونکہ عورت اور مرد دونوں کو مل کر زندگی کا بوجھ اُٹھانا ہوتا ہے۔ اور زندگی کو آگے بڑھانے اور سنوارنے کے لئے دونوں کے باہمی تعاون ربط اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے دونوں کے کامل تعاون کے بغیر زندگی کا کام ادھورا اور اس کی رونق پھیکی رہ جاتی ہے۔ اس لئے ان دونوں کو اپنے فطری حدود میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زندگی کو بنانے سنوارنے کا کام کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کا ساتھی ثابت ہونا چاہیے۔ نہ کہ مدمقابل چنانچہ آزادی نسواں کے بارے میں وہ فیصلہ عورت پر ہی چھوڑ تے ہیں کہ وہ خود سوچے کہ اس کے لئے بہتر کیا ہے۔

اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں کر سکتا

گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے ، وہ قند

کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب

پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند

اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش

مجبور ہیں ، معذور ہیں، مردان خردمند

کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ

آزادی نسواں کہ زمرد کا گلوبند!

Sunday, 09 September 2012 04:17

مسجد امیه – دمشق شام

مسجد اميه (عربی: جامع بني أميۃ الكبير) شام کے قدیم شہر دمشق میں واقع دنیائے اسلام کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے۔

تعميري تاريخ

مسجد امیہ سینٹ جان کے گرجا سے بنی ۔ پہلے پہل مسلمان اور عیسائی دونوں اس میں عبادت کرتے تھے بعد میں یہی گرجا گھر مسجد بن گیا۔

705ء میں اس میں ستونی حرم کا اضافہ کیا گیا۔

محرابوں کی دو قطاریں بنیں اور تین بغلی راستے نکالے گئے۔

چوبی چھت ڈالی گئی اور گرجا کے آڑے بازوؤں پر دیواریں کھڑی کی گئیں۔

اسی زمانہ میں وسیع صحن کے شمالی حصے میں بہت بڑا مینارتعمیر کیا گیا جس کی بالائی شکل سہ گوشیہ تھی۔

ایوان کلیسا کے مرکزی حصے سے آڑے بازو کی دیوار اور قبہ کا خیال پیدا ہوا۔

وسطی نقطہ کے پر دو جانب نمازیوں کے لیے سات سات صفیں قائم کی گئیں اور اس طرح عمارت میں غیر معمولی وسعت اور مکانیت نظر آنے لگی۔

780ء میں اس میں مزید توسیع ہوئی اور ضروری تبدیلیاں عمل میں آئیں۔

محرابی قبہ کے نیچے حکمرانوں کے لیے ایک مقصورہ بنایا گیا جو زمانہ مابعد میں شاہی مسجدوں کا ضروری حصہ بن گیا۔ مقصورہ میں صرف حاکم اعلی ہی نماز پڑھ سکتا تھا۔

رات کے وقت ایک خوبصورت منظر

رات کے وقت ایک خوبصورت منظر

رات کے وقت ایک خوبصورت منظر

Sunday, 09 September 2012 03:49

امام شافعی

امام ابوعبداللہ محمد بن ادریس بن عباس شافع، شافعی مذہب کے موسس اور رئیس ہیں، آپ اہل سنت کے تیسرے امام ہیںاور امام شافعی کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب جناب ہاشم بن عبد مناف کے بھتیجے کی نسبت سے جناب ہاشم بن عبدالمطلب تک پہنچتا ہے۔آپ کے جد ”شافع بن سائب“ ہیں، جنہوں نے رسول خدا کا زمانہ دیکھا ہے۔ آپ فلسطین کے کسی ایک شہر”غزہ یا عقلان“ یا ایک قول کی بناء پر یمن میں ۱۵۰ہجری میں متولد ہوئے اور اسی روز حنفی مذہب کے موسس ابوحنیفہ کا انتقال ہوا۔

ان کے والد کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا اور اپنی والدہ کے ساتھ مکہ زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ کی زندگی بہت ہی سخت اور فقر و فاقہ میں گذری۔ آپ نے فقہ وحدیث کے دروس مکہ میں حاصل کئے اور ظاہرا ایک مدت تک یمن میں شعر و لغت اور علم نحو حاصل کیا، یہاں تک کہ مصعب بن عبداللہ بن زبیر نے آپ کو رائے دی کہ علم حدیث و فقہ حاصل کریں، لہذا آپ مدینہ چلے گئے اس وقت آپ کی عمر ۲۰ سال تھی وہاں پر آپ نے مالکی مذہب کے موسس اور راہنما مالک بن انس کے پاس علم حاصل کرتے رہے۔

امام شافعی خود کہتے ہیں: میں مکتب میں تھا ، قرآن کے معلم سے آیات سیکھتا اور ان کو حفظ کرتا تھا اور استاد جوبات بھی کہتے تھے وہ میرے ذہن میں بیٹھ جاتی تھی۔ ایک روز انہوں نے مجھ سے کہا : میرے لئے جائز نہیں ہے کہ میں تم سے کوئی چیز لوں، اس وجہ سے میں مکتب سے باہر آگیا ۔ مٹی کے برتن، کھال کے ٹکڑوں اور کھجور کے چوڑے پتوں کے اوپر حدیثیں لکھتا تھا ، آخر کار مکہ چلا آیا اور ہذقیل قبلیہ کے درمیان زندگی بسر کرنے لگا ، ۱۷ سال وہاں پر رہا، جہاں پر بھی وہ کوچ کرتے تھے میں بھی ان کے ساتھ کوچ کرتا تھا ،جب میں مکہ واپس پلٹاتو میں نے شعر و ادب ، اخبار کو بہت اچھی طرح سیکھ لیا تھا ، یہاں تک کہ ایک روز زبیریوں میں سے ایک شخص نے مجھ سے کہا: میرے لئے بہت سخت ہے کہ تم اتنی ہوشیاری اور فصاحت کے باوجود فقہ حاصل نہ کرو، لہذا میں تمہیں مالک کے پاس لے جاؤں گا اس کے بعد میں نے مالک کی کتاب ”الموطا“ جو پہلے سے میرے پاس موجود تھی ، ۹ روز میں اس کا خوب مطالعہ کیا اور پھر مدینہ میں مالک بن انس کے پاس چلا گیا اور وہاں پر علم حاصل کرنے لگا۔

امام شافعی، امام ”مالک بن انس“ کے انتقال تک مدینہ میں رہے اور پھر یمن چلے گئے، وہاں پر آپ اپنے کاموں میں مشغول ہوگئے ، اس وقت یمن کا والی، ہارون الرشید کا گورنر بہت ظالم انسان تھا ۔ لہذا اس نے اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ شاید شافعی ، علویوں کے ساتھ مل کر شورش برپانہ کردے ، ان کو گرفتار کرکے ہارون الرشید کے پاس بھیج دیا ، لیکن ہارون نے ان کو معاف کردیا۔ محمد بن ادریس ایک مدت تک مصر اور پھر بغداد چلے گئے ،وہاں پر انہوں نے تدریس شروع کردی، وہاں دو سال تدریس کرنے کے بعد دوبارہ مکہ آگئے ، پھر دوبارہ بغدادگئے اور ماہ رجب کے آخر میں ۲۰۰ ہجری کو فطاط مصر میں انتقال ہوا، اس وقت آپ کی عمر ۵۴ سال تھی ، آپ کی قبر مصر میں بنی عبدالحکم کے مقبرہ میں شہداء کی قبروں اور اہل سنت کی زیارت گاہ کے پاس ہے ۔ آپ کے مشہور شاگرد احمد بن حنبل ہیں جو کہ حنبلی مذہب کے موسس تھے۔

اہل سنت نے آپ کے بہت سے آثار کا ذکر کیا ہے لیکن ہم یہاں پر چند کتابوں کا تذکرہ کرتے ہیں:

۱۔ الام

۲۔ المسند الشافعی

۳۔ السنن۔

۴۔ کتاب الطہارة۔

۵۔ کتاب استقبال القبلة۔

۶۔ کتاب ایجاب الکبیر۔

۷۔ صلواة العیدین۔

۸۔ صلواة الکسوف۔

۹۔ المناسک الکبیر۔

۱۰۔ کتاب الرسالة الجدیدة۔

۱۱۔ کتاب اختلاف الحدیث۔

۱۲۔ کتاب الشہادات۔

۱۳۔ کتاب الضحایا۔

۱۴۔ کتاب کثری الارض و غیرہ۔

چونکہ آپ کی تدریس کے بہترین مراکز بغداد اور قاہرہ میں تھے، اس لئے شافعی مذہب ان کے شاگردوں اور پیروکاروں کے ذریعہ ان دو جگہوں سے دوسری جگہوں پر منتقل ہوا اور آہستہ آہستہ اسلامی ممالک خصوصا شام،خراسان اور ماوراء النھر میں منتشر ہوا۔

آج کے دور میں شافعی مذہب، مصر، مشرقی اور جنوبی افریقا، مغربی اور جنوبی سعودی عرب، انڈونیشیا، فلسطین کے بعض حصہ، اور ایشیا کے ایک حصہ خصوصا کردستان میں رائج ہے۔ مذہب شافعی کے مشہور علماء میں نسائی، ابوالحسن اشعری، ابواسحاق شیرازی، امام الحرمین، ابوحامد غزالی اور امام رافعی کا نام لیا جاسکتاہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ملک بھر کےحوزات علمیہ کی اعلی کونسل سے ملاقات میں علماء و طلاب کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں اس کونسل کے اہم مقام و منزلت کی طرف اشارہ کیا اور حوزہ علمیہ کی اندرونی صلاحیتوں کو زندہ و اجاگرکرنے اور حوزات علمیہ میں تبدیلی پر سنجیدگی کے ساتھ عمل ، نیز دینی طلاب کے اخلاق و فکر و شعور اور معرفت کی سطح کو بلند کرنے پر تاکید کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حوزات علمیہ میں فقیہ کی تربیت کو اصلی اور بنیادی کام قرار دیتے ہوئے فرمایا: حوزات علمیہ میں اس اصلی کام کے ساتھ فلسفہ اور کلام کی تعلیم پر بھی اہتمام کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےفرمایا: حوزات علمیہ میں ممتاز اور نیک علماء کی تربیت کی فضا حکمفرما ہے اور حوزات علمیہ میں وسیع اداری تشکیلات، مدرک و اسنادکے رجحان اور موازی کام کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حوزات علمیہ میں تعلیمی و تربیتی امور کی سطح بلند کرنے اور اسے مضبوط بنانے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: حوزات علمیہ کی اعلی کونسل کو اس سلسلے میں پروگرام مرتب کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب کے خطاب سے قبل حوزہ علمیہ کی اعلی کونسل کے سربراہ آیت اللہ استادی،اور اس کے بعد حضرات مقتدائی، غروی اور حسینی بوشہری نے ماضی میں انجام پانے والے اقدامات اور حوزہ علمیہ کی گذشتہ اور موجودہ پالیسیوں اور پروگراموں کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےخبرگان کونسل کےسربراہ اور ارکان کے ساتھ ملاقات میں ملک کے مجموعی شرائط کو پیشرفت و ترقی کی سمت مطلوب اور پسندیدہ قدم قرار دیا اور تہران میں ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے سولہویں سربراہی اجلاس کو اسلامی نظام کی عظمت ، شکوہ اور اقتدار کا باعث قراردیتےہوئے فرمایا: ایرانی قوم کے دشمنوں نےاپنی حماقت و نادانی کی وجہ سے اس اجلاس کو اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ سفارتی جنگ میں تبدیل کیاجس کے نتیجےمیں انھیں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی مجموعی صورتحال کی منطقی اور صحیح جمع بندی کو ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا:مختلف جہات سے مسائل کا جائزہ ، اسلام کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے ملک کے اچھے اور مناسب شرائط کا مظہر ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: تہران میں ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے سربراہی اجلاس کی کامیابی، فکری نظام کے آمادہ اور مہیا شرائط کا ایک واضح نمونہ ہے جسے اسلامی جمہوریہ ایران نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تہران میں ناوابستہ ممالک کے سربراہی اجلاس کو ہر لحاظ سے ایران کی عظمت، شکوہ اور اقتدار کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا:اس عظمت وشکوہ کاسرچشمہ وہی فکر و شعور ہے جسے حضرت امام (رہ) نے اسلام کی بنیاد پر ملک میں رائج کیا اور اسے رشد و نمو عطا کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: تہران میں ناوابستہ تحریک کا سربراہی اجلاس دنیا کے دیگر اجلاسوں کی طرح معمولی صورت میں منعقد ہوسکتا تھا لیکن دنیا کے سیاسی شرائط اور اجلاس منعقد کرنے کے زمان اور مکان اور اسی طرح ایرانی قوم کےدشمنوں نے جو حماقت اور نادانی کی جس کی وجہ سے یہ اجلاس پوری دنیا کی نظر میں اہم ، حساس ،مؤثراور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ سفارتی جنگ میں تبدیل ہوگیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دشمنوں نے بہت کوشش کی تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران اس اجلاس میں اسرائيل کے خلاف اپنا مؤقف ظاہر نہ کرسکے لیکن اجلاس بہت ہی با عظمت اور مؤثر منعقد ہوا اوردشمن کی اس سلسلے میں کوششیں بھی ناکام ہوگئیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تہران اجلاس میں دنیا کے دو تہائی ممالک کی شرکت اور بین الاقوامی اجلاسوں میں جو مؤقف بیان نہیں ہوتا اس کےبیان کی راہ ہموار کرنے کو ناوابستہ ممالک کے سولہویں سربراہی اجلاس کے ممتاز اور برجستہ نقاط قراردیتے ہوئے فرمایا:تہران اجلاس میں بعض ممالک کے صدور اور وفود نے اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کی ترکیب اور دنیا پر مسلط ڈکٹیٹری کے بارے میں اپنے مؤقف کو کھل کر بیان کیا جس کی اس جیسے دیگر بین الاقوامی اجلاسوں میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تہران میں ناوابستہ ممالک کے سربراہی اجلاس کو ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے بارے میں دشمن کی سازشوں اور پروپیگنڈوں کی ناکامی کا شاندار مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: تہران میں ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے سربراہی اجلاس میں شریک صدور اور اعلی سفارتکاروں نے ایران کے دارالحکومت اور دیگر شہروں میں معمول کے مطابق عوام کی زندگی کو قریب سے مشاہدہ کیااور اجلاس کے ضمن میں ایرانی حکام کے ساتھ مختلف معاہدوں کے بارے میں بات چیت اور تبادلہ خیال کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی قوم کے ساتھ دشمنوں کی سفارتی جنگ کو ان کی ذلت آمیز شکست قراردیتے ہوئے فرمایا: تہران اجلاس کی عظمت و شان و شوکت کچھ ایسی تھی جس کےحقائق کا اسلامی نظام کے دشمن اور ان کے ذرائع ابلاغ اعتراف کرنے پر مجبور ہوگئے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے " ایران کا مخالفین کے منہ پر طمانچہ " اور " ایران کی طرف سے دشمنوں کی گوشمالی " جیسے مغربی ممالک کے ذرائع ابلاغ کے جملات ،عناوین اور تعبیروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: قرآن مجید کے قاعدہ کے مطابق جو کام دشمن کےغصہ اور قہر کا سبب بنے وہ ایک نیک اور صالح عمل ہے لہذا تہران میں ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے سربراہی اجلاس کی کامیابی نیک اور صالح عمل تھا۔

رہبر معظم نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: مختلف اندرونی مسائل میں ہوشیار رہنا چاہیے تاکہ مغالطہ کہیں ہمیں غلط تجزيہ و تحلیل میں مبتلا نہ کردے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ملک کے شرائط کے بارے میں میرا تجزیہ یہ ہے کہ ملک مجموعی طورپر پیشرفت اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ممکن ہے بعض اجرائی اور فکری مسائل میں کمزوری اور ضعف موجود ہولیکن ملک کے تمام شرائط کا قوی اور ترقیاتی امور کو مد نظر رکھتے ہوئے جائزہ لینا چاہیے۔

اس ملاقات میں خبرگان کونسل کے سربراہ آیت اللہ مہدوی کنی نے خبرگان کونسل کے بارہویں اجلاس میں بیان شدہ موضوعات کو بہت ہی اہم قراردیتے ہوئے کہا: خبرگان کونسل کے اجلاس میں بیان ہونے والے مطالب بہت ہی اہم ہیں اور اس کونسل میں ملک کے ممتاز اور نام آور علماء موجود ہیں جو مختلف سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور بین الاقوامی مسائل پر اظہار خیال کرتے ہیں۔

خبرگان کونسل کے نائب سربراہ آیت اللہ یزدی نےبھی اجلاس میں بیان ہونے والے موضوعات کے بارے میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا : اجلاس میں ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے اجلاس کو کامیاب منعقدکرنے پر شکریہ ادا کیا گيا اور ملک کے سیاسی، سماجی ، اقتصادی مسائل اور شام کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا.

پیدایش اور تعلیم

ڈاکڑ مصطفی چمران کا شمار ایران کی چند معروف شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی قوم کے لۓ عظیم انقلابی سرگرمیاں انجام دیں اور قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔ آپ سن 1932 کو تهران میں پیدا ہوۓ۔

آپ نےاپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز تهران میں واقع انتصاریه سکول سے کیا اور پھر دارالفنون1 اور البرز 2 جیسے مدارس میں اپنی تعلیم کو جاری رکھا . اس کے بعد تہران یونیورسٹی کے ٹیکنیکل ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیا اور سن 1957 میں الیکٹرومیکانیک کے شعبہ میں اپنی ڈگری مکمل کی ۔ پھر ایک سال تک اسی ڈیمارٹمنٹ میں انہوں نے تدریس کی ۔

انہوں نے اپنی تعلیم کے دوران ہر کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی . اور سن 1957 میں اعلی تعلیم کی غرض سے اسکالرشپ پر امریکا تشریف لے گۓ اور وہاں دنیا کے معروف ترین دانشمندوں کی موجودگی میں تحقیقاتی سرگرمیاں انجام دیں ۔ انہوں نے امریکا کی مشہور یونیورسٹیوں کیلی فورنیا اور برکلے میں اعلی علمی ذوق کے حامل اساتذہ کی زیر نگرانی الیکٹرونیک اور پلازما فزیکس کے شعبہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری جاصل کی ۔

امریکا میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے اپنے بعض دوسرے دوستوں کی مدد سے پہلی بار اسلامک اسٹوڈنٹس سوسائٹی ( انجمن دانشجویان اسلامی ) کی بنیاد رکھی اور اس کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لۓ انہوں نے انتھک جدوجہد کی ۔ امریکا میں موجود ایرانی اسٹوڈنٹ کمیونیٹی میں ان کا شمار اس سوسائیٹی کے سرگرم رکن کی حیثیت سے ہوتا تھا ۔ ان کو اپنی سرگرمیوں کی سزا یہ ملی کہ ایران میں موجود حکومت شاہ نے ان کا تعلیمی وظیفہ روک دیا ۔

معاشرتی سرگرمیاں

جب آپ کی عمر پندرہ سال کو پہنچی تو ھدایت مسجد 3 میں مرحوم آیت اللہ طالقانی کے درس تفسیر قرآن اور استاد شہید مرتضی مطہری 4 کے درس منطق اور فلسفے کی کلاسوں میں شرکت کیا کرتے تھے ۔

آپ تہران یونیورسٹی میں اسلامک اسٹوڈنٹس سوسائٹی کے ابتدائی اراکین میں سے تھے ۔ سیاسی تنازیات میں ڈاکٹر مصدق کے دور( چودھویں اسمبلی ) سے لے کر تیل کی صنعت کے قومی تحویل میں آنے تک سرگرم عمل رہے ۔

شہید چمران نے ایران میں اپنی تعلیم کے دوران شاہی حکومت کے خلاف انقلاب میں بھر پور حصہ لیا اور امریکہ میں بھی اپنی اس جد وجہد کو جاری رکھا۔

کچھ عرصے کے بعد وہ لبنان چلے گئے

شہید ڈاکٹر مصطفي چمران جبل عامل لبنان میں

جہاں لاپتہ شیعہ رہنما امام موسیٰ صدر کے ساتھ مل کر صیہونی حکومت کے خلاف جد و جہد شروع کی اور لبنان کے محروم طبقات اور فلسطینی آوارہ وطنوں کی امداد کے لئے " تحریک محرومین " کی بنیاد رکھی۔

شہید ڈاکٹر مصطفي چمران امام موسي صدر کے ساتھ

انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد

ڈاکٹر چمران جو ملک سے باہر تشریف لے گۓ تھے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد 23 سال کا عرصہ ملک سے باہر گزار کر وطن واپس آ گۓ ۔

شہید ڈاکٹر مصطفي چمران مرحوم سيد احمد خميني لبنان میں

یہاں واپس آنے کے بعد انہوں نے اپنی تمام علمی اور انقلابی صلاحیتوں کو تعمیری کاموں میں صرف کرنے کے لۓ انقلاب اسلامی کی خدمت میں پیش کر دیا ۔

شہید ڈاکٹر مصطفي چمران امام خميني رح کے ساتھ

کچھ عرصے کے بعد اسلامی مجلس کے پہلے انتخابات میں تہران کے نمائندہ منتخب ہوئے ۔

شہید ڈاکٹر مصطفي چمران حضرت آيت الله العظمي سيد علي خامنه اي کے ساتھ

ایران عراق جنگ کے دوران مجاہدین کی صف میں شامل ہوئے اور رضاکار فورسز سپاہ پاسداران کی قیادت کی ۔

شہید ڈاکٹر مصطفي چمران شهيد وزير اعظم محمد علي رجائي کے ساتھ

آپ کو وزیراعظم کا معاون مقرر کر دیا گیا اور اس دوران آپ نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتے ہوۓ کردستان میں موجود شورش کا حل نکالا ۔

شہید ڈاکٹر مصطفي چمران حضرت آيت الله العظمي سيد علي خامنه اي کے ساتھ

وزارت دفاع میں تعیناتی

کردستان میں بے نظیر کامیابی حاصل کرنے کے بعد آپ کو تهران کی طرف بلایا گیا اور امام خمینی (رح) کے حکم پر وزارت دفاع سے منسلک ہو کر اپنے فرائض انجام دینے لگے ۔

شہید ڈاکٹر مصطفي چمران شهيد فلاحي کے ساتھ

 

شهادت

ڈاکٹر چمران عارفانہ شخصیت کے مالک تھے ۔ 1981 کو ایران کے معروف دانشور اور مجاہد ڈاکٹر مصطفیٰ چمران نے جارح عراقی فوجیوں سے جنگ کے دوران جام شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کے لۓ خالق حقیقی سے جا ملے ۔

ان کی شہادت کے بعد امام خمینی (رح) نے اپنے ایک پیغام میں فرمایا تھا کہ :

" ڈاکٹر چمران نے پاک و صاف عقیدے کے ساتھ ، خالصانہ طور پر بغیر کسی سیاسی گروپ سے وابستہ ہوئے خدا کی راہ میں جہاد کیا۔انہوں نے بڑی سربلندی کے ساتھ زندگي گزاری اور سرفرازي کے ساتھ شہید ہوئے اور حق تعالیٰ سے جا ملے ۔"

شہید ڈاکٹر مصطفي چمران امام خميني رح کے ساتھ