Super User

Super User

ایاصوفیہ (Church of Holy Wisdom یا موجودہ ایاصوفیہ عجائب گھر) ایک سابق مشرقی آرتھوڈوکس گرجا ہے جسے 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد عثمانی ترکوں نے مسجد میں تبدیل کردیا۔ 1935ء میں اتاترک نے اس کی گرجے و مسجد کی حیثیت ختم کرکے اسے عجائب گھر بنادیا۔ایاصوفیہ ترکی کے شہر استنبول میں واقع ہے اور بلاشک و شبہ دنیا کی تاریخ کی عظیم ترین عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

لاطینی زبان میں اسے Sancta Sophia اور ترک زبان میں Ayasofya کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں کبھی کبھار اسے سینٹ صوفیہ بھی کہا جاتا ہے۔

 

تاریخ :

ایاصوفیہ کا ایک اندرونی منظر4 صدی عیسوی کے دوران یہاں تعمیر ہونے والے گرجے کے کوئی آثار اب موجود نہیں۔ پہلے گرجے کی تباہی کے بعد قسطنطین اول کے بیٹے قسطنطیس ثانی نے اسے تعمیر کیا تاہم 532ء میں یہ گرجا بھی فسادات و ہنگاموں کی نذر ہوگیا۔ اسے جسٹینین اول نے دوبارہ تعمیر کرایا اور 27 دسمبر 537ء کو یہ مکمل ہوا۔

ایاصوفیہ متعدد بار زلزلوں کا شکار رہا جس میں 558ء میں اس کا گنبد گرگیا اور 563ء میں اس کی جگہ دوبارہ لگایا جانے والا گنبد بھی تباہ ہوگیا۔ 989ء کے زلزلے میں بھی اسے نقصان پہنچا۔

1453ء میں قسطنطنیہ کی عثمانی سلطنت میں شمولیت کے بعد ایاصوفیہ کو ایک مسجد بنادیا گیا اور اس کی یہ حیثیت 1935ء تک برقرار رہی جب کمال اتاترک نے اسے عجائب گھر میں تبدیل کردیا۔

ایاصوفیہ کا ایک وضوخانہ جو عثمانی دور میں تعمیر کیا گیا

 

گنبد کی تزئین و آرائش ایاصوفیہ بلاشبہ بازنطینی طرز تعمیر کا ایک شاہکار تھا جس سے عثمانی طرز تعمیر نے جنم لیا۔ عثمانیوں کی قائم کردہ دیگر مساجد شہزادہ مسجد، سلیمان مسجد اور رستم پاشا مسجد ایاصوفیہ کے طرز تعمیر سے متاثر ہیں۔

عثمانی دور میں مسجد میں کئی تعمیراتی کام کئے گئے جن میں سب سے معروف 16 ویں صدی کے مشہور ماہر تعمیرات معمار سنان پاشا کی تعمیر ہے جس میں نئے میناروں کی تنصیب بھی شامل تھے جو آج تک قائم ہیں۔

ایاصوفیہ کی ایک محراب

19 ویں صدی میں مسجد میں منبر تعمیر اور وسط میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور چاروں خلفائے راشدین کے ناموں کی تختیاں نصب کی گئیں۔

اس کے خوبصورت گنبد کا قطر 31 میٹر (102 فٹ) ہے اور یہ 56 میٹر بلند ہے۔

رات کے وقت ایک خوبصورت منظر

Tuesday, 31 July 2012 06:02

مسجد گوہر شاد – مشهد

گوہر شاد مسجد کا اندرونی حصہ ایرانی کاریگروں کے فن کا منہ بولتا ثبوت ہے

گوہر شاد مسجد ایران کے صوبہ خراسان کے شہر مشہد کی ایک معروف مسلم عبادت گاہ ہے۔ " مسجد گوہر شاد" روضہ امام رضا (ع) كے جنوب ميں واقع ہے-

یہ مسجد تیموری سلطنت کے دوسرے فرمانروا شاہ رخ تیموری کی اہلیہ گوہر شاد کے حکم پر 1418ء میں تعمیر کی گئی اور اسے اس وقت کے معروف ماہر تعمیر غوام الدین شیرازی نے تعمیر کیا جو تیموری عہد کی کئی عظیم الشان تعمیرات کے معمار بھی ہیں۔ صفوی اور قاچار دور میں اس مسجد میں تزئین و آرائش کا کام بھی کیا گیا۔

مسجد كا وسيع صحن ہے – مسجد كے گنبد پر كاشي كاري ہوئي ہے - مسجد میں 4 ایوان اور 50 ضرب 55 میٹر کا ایک وسیع صحن اور متعدد شبستان بھی ہیں۔ مسجد کا گنبد 1911ء میں روسی افواج کی گولہ باری سے شدید متاثر ہوا۔ یہ مسجد 15 ویں صدی کی ایرانی تعمیرات کا اولین اور اب تک محفوظ شاہکار ہے۔ اس کے داخلی راستے میں سمرقندی انداز کی محراب در محراب ہیں جبکہ بلند مینار بھی اس کی شان و شوکت کو مزید بڑھاتے ہیں۔

اس مسجد كے بہت سے اوقاف ہيں جن كي ديكه بال آستانہ قدس رضوي كا متولي كرتا ہے-

 

گوہر شاد نے مذكوره مسجد كے علاوه حرم امام رضا (ع) اور اي كے اطراف ميں ديگر عمارتيں بهي بنوائي تهيں جو كہ دارالسياده، دارالتوحيد اور دارالضيافہ سے عبارت ہيں-

گوہر شاد كو سلطان ابوسعيد محمد بن مير انشاه بن تيمور لنگ كے حكم سے هرات ميں قتل كيا گيا-

قائد انقلاب اسلامی نے بدھ انیس نومبر سن دو ہزار آٹھ کو تہران میں "نماز" کانفرنس کے شرکاء سے ملاقات میں نماز کی اہمیت پر تاکید فرمائی آپ نے نماز کو صحیح طور پر ادا کرنے اور اس کے قالب و روح پر توجہ دینے کی ہدایت کی اور معاشرے میں نماز جیسی دینی علامتوں کے نمایاں رہنے کو ضرور قرار دیا۔ تفصیلی خطاب پیش خدمت ہے۔

 

بسم‏ اللَّه ‏الرّحمن ‏الرّحيم‏

 

سب سے پہلے تو میں ان بھائی بہنوں کا تہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو نماز کی تبلیغ اور ترویج میں مصروف ہیں۔ اس کی ہر جگہ خاص طور پر یونیورسٹیوں میں خاص ضرورت اور اہمیت ہے۔ اللہ تعالی کی بارگاہ میں میری دعا ہے کہ آپ تمام حضرات بالخصوص جناب قرائتی صاحب (ایران کے معروف معلم قرآن و مبلغ) اور دوسرے ان تمام افراد کو جو اس عظیم فریضے کی ادائیگی میں مصروف ہیں اور جنہوں نے یہ شجرہ طیبہ لگایا جس سے آج بحمد اللہ ثمرات بھی مل رہے ہیں، مزید کارہائے نمایاں کرنے کی توفیق عطا کرے۔

نماز کی تبلیغ اور ترویج کی اہمیت کا سرچشمہ خود نماز کی اہمیت ہے۔ ہم اسلامی شریعت میں دیکھتے ہیں کہ قرآنی آیات ہوں، احادیث پیغمبر یا اقوال معصومین سب میں نماز کی ترغیب بالکل نمایاں ہے اور نماز کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انسان کی جسمانی، روحانی، انفرادی اور سماجی بیماریوں کے لئے رکھے گئے علاجوں میں نماز بہت بنیادی مقام کی حامل ہے۔ تمام شرعی واجبات اور وہ محرمات جن سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے در حقیقت انسان کی دنیا و آخرت کے امور کی تقویت کے لئے پروردگار عالم کی تجویز کردہ دواؤں کا مجموعہ ہے لیکن اس مجموعے میں بعض دواؤں کو کلیدی حیثیت حاصل ہے اور ان میں بھی نماز کلیدی ترین ہے۔ " الّذين ان مكّنّاهم فى الارض اقاموا الصّلوة" اللہ کے مومن بندے، راہ خدا کے مجاہد اور الہی تعلیمات کو عام کرنے کی راہ میں جاں نثاری کرنے والے افراد ایسے ہوتے ہیں کہ جب "ان مکناھم فی الارض" ہم نے زمین میں ان کو مضبوط مقام عطا کر دیا اور انہیں طاقت بخش دی تواگرچہ انہیں بہت سے کام انجام دینا ہوتے ہیں جیسے مساوات قائم کرنا وغیرہ وغیرہ لیکن ان کی اولیں ترجیح نماز کا قیام ہوتا ہے۔ اس نماز میں کیا راز پنہاں ہے کہ اسے قائم کرنا اتنا اہم ہے؟

نماز کے بارے میں بے انتہا گفتگو ہو چکی ہے۔ ہر انسان کے اندر ایک سرکش نفس موجود ہے۔ وہ بد مست ہاتھی کہ اگر اس کی جانب سے ہوشیار رہے، ڈنڈا لیکر اس کے سر پر سوار رہے اور بار بار اس کی تادیب کرتے رہے تب تو وہ آپ کو ہلاک نہیں کر پائے گا اور قابو میں رہے گا اور یہی نفس انسان کی پیشرفت کا باعث بن جائے گا۔ نفس انسانی خواہشات کا مجموعہ ہے۔ اگر ان خواہشات کو قابو میں رکھا گيا اور انہیں صحیح سمت میں موڑ دیا گیا تو وہ انسان کو ثریا پر پہنچا دیں گی۔ ان کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ یہ انسان کو بہکا دیتی ہیں۔ کوئی انہیں قابو میں رکھنے والا ہونا چاہئے۔ اگر آج دنیا میں ظلم و جور ہے تو وہ ایک یا چند افراد یا کسی ایک گروہ کی نفسانی خواہشات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بد مستی کی دین ہے۔ اگر دنیا میں فحاشی ہے، اگر انسانوں کی توہین کی جا رہی ہے، انسانی وقار کو پامال کیا جا رہا ہے، اگر دنیا میں غربت کا عفریت موجود ہے، انسانی معاشرے کا بہت بڑی حصہ الہی نعمتوں سے محروم ہے تو اس کی وجہ یہی ہے۔ ستمگر افراد کے مجموعے کی نفسانی خواہشات کے نتیجے میں ظلم و جور پیدا ہوتا ہے۔ تسلط پسند افراد کا مجموعہ دوسرے افراد کو مستضعف بنا دیتا ہے۔ تسلط پسند، خود غرض اور بے رحم مجموعہ فقیر پیدا کرتا ہے، بھکمری پھیلاتا ہے۔ تاریخ میں ابتدا سے اب تک یہ جو فتنہ و فساد نظر آتا ہے نفسانی خواہشات کی ہی دین ہے اور انسان اللہ تعالی کی جانب سے ودیعت کردہ توانائیوں کو جیسے جیسے زیادہ استعمال کر رہا ہے، اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کمی نہیں آ رہی ہے۔ "چو دزدی با چراغ آید گزیدہ تر برد کالا" (اگر چور چراغ کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ہے تو چیزیں چن کر چراتا ہے) تو جس ظالم کے پاس ایٹم بم موجود ہے اس کا قصہ شمشیر بکف ظالم سے الگ ہے۔ یہ نفسانی خواہشات انسانوں کے لئے اب زیادہ خطرناک بن چکی ہیں۔

تو انسانوں کے اندر ایک ایسی چیز موجود ہے۔ تمام انسان اپنے وجود میں پنہاں اس بد مست ہاتھی(ستم) سے دوچار ہیں۔ ان پر اسے مہار کرنے کی ذمہ داری ہے۔ اسے مہار کیا جا سکتا ہے ذکر الہی سے، تذکرہ پروردگار کے ذریعے، اللہ تعالی کی بارگاہ میں پناہ لیکر، اللہ تعالی کی بارگاہ میں اظہار نیاز کرکے اور عظمت الہی کے سامنے اپنی حقارت کا احساس کرکے، ذات اقدس وحدہ لا شریک کے جمال مطلق کے سامنے اپنے بھدے پن کا احساس کرکے۔ یہ سب ذکر الہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ جس انسان میں تقوی ہو اور جو محتاط اور ہوشیار ہو وہ کبھی بھی ظلم و جور، فتنہ و فساد اور طغیان و سرکشی میں مبتلا نہیں ہوگا۔ کیونکہ ذکر پروردگار اسے باربار روکتا رہے گا۔ "الصلاۃ تنھی" تنھی کے معنی ہیں منع کرنے کے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز انسان کے ہاتھ پیر باندھ دیتی ہے، اس کی خواہشات کو بے اثر بنا دیتی ہے۔ بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ "الصلاۃ تنھی عن الفحشاء و المنکر" کے معنی یہ ہیں کہ اگر آپ نے نماز پڑھ لی تو فحاشی و برائی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ جی نہیں، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب آپ نے نماز پڑھی تو نماز سے آپ کے اندرونی واعظ کی تقویت ہوگی اور وہ آپ کو بار بار برائیوں سے روکے گا۔ ظاہر ہے کہ جب وہ بار بار روکے گا اور منع کرے گا تو دل پر اس کا اثر بھی ہوگا اور دل خضوع و خشوع کی جانب مائل ہوگا۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ نماز کئی دفعہ ادا کی جاتی ہے۔ روزہ سال میں ایک بار، حج عمر میں ایک بار لیکن نماز روزانہ کئی بار! یہیں سے نماز کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اگر نماز ادا کی جائے تو انسان کے اندر ہی نہیں پورے معاشرے کی سطح پربلکہ معاشرے کے حکمراں طبقے کی سطح تک نماز کی برکت سے امن و امان اور احساس تحفظ پیدا ہوگا۔ انسان کے قلب کو طمانیت حاصل ہوگی، انسان کے جسم کو تحفظ ملے گا، پورا معاشرہ امن و استحکام گہوارہ بن جائے گا۔ نماز کی خاصیت یہ ہے۔ معاشرے میں نماز قائم کرنے کا مطلب یہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے اس کام پر بار بار خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ آپ پورے ملک، ہر شعبہ زندگی، ہر طبقے بالخصوص نوجوانوں کے درمیان نماز کی تبلیغ و ترویج پر مامور ہیں۔ اس کا ہدف پورے معاشرے میں ذکر الہی کی ہمہ گیر فضا قائم کرنا ہے۔ ہر چھوٹا بڑا، ہر مرد و عورت، ہر سرکاری و غیر سرکاری عہدہ دار، اپنے ذاتی کام انجام دینے والا شخص اور پوری جماعت کے لئے مصروف کار انسان، جب سب ذکر الہی میں مصروف ہوں گے تو سب کچھ بنحو احسن انجام پائے گا۔ اکثر و بیشتر ہم اپنی غفلت کے نتیجے میں گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔

نماز بار بار پڑھی جاتی ہے، اس نماز کے بارے میں بہت سی باتیں بیان کی جا چکی ہیں۔ میں نے بھی بارہا عرض کیا ہے کہ نماز جسم و روح پر مشتمل ہے۔ اس نکتے پر خاص توجہ ہونی چاہئے۔ یعنی ایک ایک فرد اس نکتے پر توجہ دے۔ نماز کا ایک جسم و پیرایا ہے اور ایک اس کی روح ہے۔ ہمیں اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ نماز کا جسم اور پیرایا روح سے خالی نہ رہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ بے روح نماز کی کوئی تاثیر نہیں ہے۔ اس نماز میں بھی تاثیر ہوتی ہے لیکن جس نماز پر قرآن مجید، پیغمبر اسلام اور ائمہ اطہار علیھم السلام نے بے پناہ تاکید فرمائی ہے، وہ نماز ہے جس کا جسم اور جس کی روح دونوں کامل و مکمل ہوں۔ اس کا جسم اس کی روح کیمناسبت سے وضع کیا گیا ہے۔ اس میں قرائت ہے، رکوع ہے، سجدے ہیں، خاک پر بیٹھ جانا ہے، دست نیاز دراز کرنا ہے، بلند آواز میں ذکر کرنا ہے اور کبھی آہستہ بولنا ہے۔ اعمال کے اس مجموعے کا یہ تنوع انسان کی ان تمام ضرورتوں اور حاجتوں کا احاطہ کرنے کے لئے ہے جو نماز کے وسیلے سے پوری ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے ہر عمل حامل اسرار ہے اور ان اعمال کا مجموعہ نماز کی شکل، قالب اور پیرایا ہے۔ یہ پیرایا بھی بہت اہمیت کا حامل ہے لیکن اس نماز کی روح قلبی توجہ ہے، اس بات کی توجہ ہے کہ ہم کر کیا رہے ہیں۔ جس نماز میں قلبی توجہ نہ ہو وہ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کم اثر ہوتی ہے۔

آپ ایک اصلی ہیرے کو دو طرح استعمال کر سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ اسے ایک قیمتی نگینے کے طور پر استعمال کیجئے۔ دوسرے یہ کہ اسے آپ ترازو کے پتھر کے طور پر استعمال کریں۔ یعنی تزارے کے ایک پلڑے میں یہ پتھر رکھئے اور اس سے مرچ یا ہلدی تولئے۔ یہ بھی ہیرے کا ایک استعمال ہے۔ لیکن یہ کیسا استعمال ہے؟ یہ تو ہیرے کو ضائع کر دینے کے مترادف ہے۔ لیکن یہ استعمال بھی ہیرے کو توڑ دینے سے بہتر ہے، اسے توڑ کر پھینک دینے سے بہتر ہے لیکن پھر بھی یہ تو ٹھیک نہیں ہے کہ انسان ہیرے سے ترازو کے پتھر کا کام لے اور اس سے مرچ اور ہلدی تولے۔ تو نماز کے ساتھ ہیرے کو ترازو کا پتھر بنانے جیسا برتاؤ نہیں کرنا چاہئے۔ نماز کی قدر و منزلت کچھ اور ہی ہے۔

کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ انسان عادتا نماز پڑھتا ہے۔ مثال کے طور پر جس طرح وہ روزانہ مسواک کرتا ہے، ورزش کرتا ہے اسی طرح وقت پر نماز بھی پڑھ لیتا ہے، لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان نماز اس احساس کے ساتھ ادا کرتا ہے کہ وہ بارگاہ پروردگار میں حاضر ہو رہا ہے۔ یہ الگ انداز کی نماز ہے۔ یوں تو ہم ہر لمحہ پروردگار عالم کی برگاہ میں ہیں۔ سو رہے ہوں، جاگ رہے ہوں، ذکر میں مصروف ہوں یا غفلت کا شکار ہوں (ہر آن پروردگار کی بارگاہ میں ہیں)۔ لیکن ایک صورت یہ ہے کہ ہم وضو کرکے، طہارت کے ساتھ تیار ہوں اور پاک و طاہر جسم، پاکیزہ لباس، اور وضو و غسل سے پیدا ہونے والی روحانی طہارت کے ساتھ بارگاہ پروردگار میں حاضر ہوں۔ نماز میں ہمارے اندر یہی احساس پیدا ہونا چاہئے۔ اس انداز سے خدا کے حضور میں جانا چاہئے۔ یہ احساس رہنا چاہئے کہ کس کی بارگاہ میں کھڑے ہیں۔ نماز میں ہمارا مخاطب(اللہ تعالی) ہونا چاہئے۔ یہ نہیں کہ بعض کلمات اور حروف پر استوار چند صوتی لہریں فضا میں آزاد کر کے بیٹھ جائیں۔ ہم سے جس چیز کا مطالبہ کیا گيا ہے وہ یہ نہیں ہے۔ اسی "الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔" کوانسان (یونہی بے خیالی کے عالم میں) اپنی زبان پر جاری کر سکتا اور انہی کلمات کو اچھی قرائت لیکن بے توجہی کے ساتھ بھی ادا کر سکتا ہے یہ بھی فضا میں صوتی لہریں چھوڑنے سے مختلف نہیں ہے۔ جس چیز کا ہم سے مطالبہ کیا گيا ہے وہ یہ نہیں ہے۔ ہمیں حکم ہے کہ نماز میں ہمارا دل بارگاہ پروردگار میں سجدہ ریز ہو، ہمارے دل سے آواز نکلے، اسی کی قدر و قیمت ہے۔ نماز کی تبلیغ و ترویج میں اس نماز میں جو ہم خود پڑھتے ہیں اور اس نماز میں جو ہم دوسروں کو سکھاتے ہیں، روح نماز پر ضرور توجہ دیں۔ ہاں یہ روح، جسم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ بیٹھ کر سو دفعہ "سبحان اللہ" کی تسبیح پڑھ لی تو نماز کی ضرورت ختم ہو گئی۔ اس کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا نماز کی صورت اور اس کا پیرایا، روح نماز کے ذریعے پوری ہونے والی متعدد انسانی ضرورتوں کے مطابق وضع کیا گیا ہے۔ چنانچہ روایات میں نماز کی ہر حالت اور عمل کے لئے کچھ خصوصیات بیان کی گئی ہیں جو واجب نہیں بلکہ مستحب ہیں جیسے کہ آنکھیں بند رکھنا یا بعض روایات کے مطابق سجدہ گاہ کو دیکھنا۔ یہ آداب انسان کی مدد کرتے ہیں کہ وہ اپنے اندر قلبی توجہ پیدا کر سکے۔

نماز کی اہمیت اتنی ہے کہ اسے بیان کر پانا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام زندگی کے آخری لمحات میں اپنے وصی سے فرماتے ہیں کہ "لیس منی من استخف الصلاۃ" جو نماز کو غیر اہم قرار دے اس کا ہم سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ استخفاف کا مطلب ہے کم اہمیت سمجھنا، ہلکا تصور کرنا۔ اتنی خصوصیات اور اثرات والی نماز میں انسان کا کتنا وقت صرف ہوتا ہے؟ واجب نمازیں، یہ سترہ رکعتیں اگر انسان پوری توجہ اورغور و فکر کے ساتھ پڑھے تو زیادہ سے زیادہ چونتیس منٹ درکار ہوں گے اور ممکن ہے کہ اس سے کم ہی وقت صرف ہو۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم ٹیلی ویزن دیکھنے بیٹھے ہوئے ہیں، کوئی دلچسپ پروگرام آنے والا ہے لیکن اس سے پہلے ایڈ اور اشتہارات آتے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کی بعد تیسرا، پندرہ بیس منٹ تک، اور یہ پورے کے پورے بے فائدہ نظر آتے ہے لیکن ہم بیس منٹ صرف کر دیتے ہیں اپنے اس پسندیدہ پروگرام کو دیکھنے کے لئے۔ تو ہماری زندگی میں بیس منٹ کی وقعت یہ ہے۔ ٹیکسی کا انتظار کر رہے ہیں، بس کے انتظار میں کھڑے ہیں، کہیں جانا ہے اور کسی دوست کا انتظار کر رہے ہیں، کبھی کلاس میں استاد کے انتظار میں بیٹھے ہیں، کبھی خطیب تاخیر کر دیتا ہے اور ہم مجلس میں اس کا انتظار کرتے ہیں، اس انتظار میں دس، پندرہ، بیس منٹ گزر جاتے ہیں۔ تو پھر نماز جیسے عظیم عمل کے لئے اگر ہم بیس، پچیس یا تیس منٹ صرف کریں تو کون سا ضیاع وقت ہے۔

ملک کی نوجوان نسل میں نماز کی اہمیت دوسروں سے زیادہ ہونی چاہئے۔ نوجوان کا دل نماز سے منور ہو جاتا ہے، اس میں امید کی کرنیں پیدا ہو جاتی ہیں، اس کی روح و جان میں شادابی آتی ہے، سرور آتا ہے۔ یہ کیفیات نوجوانوں کے لئے ہیں، نوجوانی کے ایام سے مربوط ہیں اور نوجوان اس سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم آپ کو اللہ تعالی کی توفیق نصیب ہو اور ہم قلبی توجہ کے ساتھ نماز ادا کریں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ نماز سے دل ہی نہیں بھرتا۔ اگر انسان نماز میں قلبی توجہ پیدا کر لے تو وہ اس طرح سے محظوظ ہوگا کہ وہ لذت اسے کسی بھی مادی چیز میں نہیں محسوس ہوگی۔ یہ قلبی توجہ کا ثمرہ ہے۔ نماز کے سلسلے میں بے توجہی، اکتاہٹ کے ساتھ نماز کی ادائیگی منافقین کی خصوصیات ہیں۔ البتہ ایسا نہیں ہے کہ جو شخص بھی عدم دلچسپی کے عالم میں نماز پڑھ رہا ہے منافق ہے، نہیں ایسا نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں منافقین کی علامتیں بیان کی ہیں اور فرمایا ہے کہ منافقین کو ان علامتوں سے پہچانو۔ پیغمبر اسلام کے زمانے میں کچھ منافق تھے جو خاص اہداف کے لئے نماز پڑھتے تھے جبکہ ان کے دل میں نماز سے کوئی دلچسپی اور اس پر کوئی عقیدہ نہیں تھا۔ (ان کے سلسلے میں ارشاد رب العزت ہے) " واذا قاموا الی الصلاۃ قاموا کسالی یرائون الناس" جی ہاں ایسا ہی ہے اگر (نماز میں مصروف) انسان کا کوئی مخاطب نہیں ہے، اگر وہ اللہ تعالی سے ہمکلام نہیں ہے تو ظاہر ہے وہ تھک جائے گا اور اسے نماز بہت بھاری پڑے گی۔ چار یا پانچ منٹ میں ادا کی جانے والی چار رکعت نماز اسے بہت طویل محسوس ہوگی۔ حالانکہ اگر دیکھیں تو چار منٹ کچھ بھی نہیں ہے۔ انسان اگر اللہ تعالی سے ہمکلام ہو تواسے محسوس ہوگا کہ یہ وقت چشم زدن میں گزر گیا، اسے افسوس ہوگا، اس کا دل چاہے گا کہ یہ سلسلہ ابھی اور جاری رہے۔

نوجوان نسل میں اس حقیقت کی ترویج کرنا چاہئے۔ ہمارے نوجوان اگر ابھی سے صحیح نماز کے عادی ہو گئے تو ہمارے سن میں پہنچ جانے کے بعد ان کے لئے صحیح نماز ادا کرنا مشکل کام نہیں ہوگا۔ اگر کسی کی صحیح نماز ادا کرنے کی عادت نہیں ہے تو ہم لوگوں کے سن میں پہنچ جانے کے بعد صحیح نماز پڑھنا اس کے لئے ممکن تو ہے لیکن بہت مشکل ہے۔ جو شخص نوجوانی سے ہی اچھی نماز ا دا کر رہا ہے، یعنی قلبی توجہ کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے، ظاہر ہے اچھی نماز سے مراد اچھی قرائت اور اچھی آواز میں سوروں کی تلاوت نہیں بلکہ حضور قلب اور قلبی توجہ کے ساتھ نماز کی ادائیگی ہے، اگر نوجوان میں یہ عادت پڑھ گئی تو یہ چیز اس کی فطرت ثانیہ بن جائے گی اور پھر اس کے لئے اس میں کوئی مشکل نہیں رہ جائے گی اور وہ تا حیات اسی انداز سے نماز ادا کرتا رہے گا۔

جناب قرئتی صاحب ( ایران کے معروف معلم قرآن اور مبلغ) نے ابھی ایک نکتے کی جانب اشارہ کیا اور وہ اس سے قبل بھی کئی بار یہ نکتہ بیان کر چکے ہیں اور میں نے بھی اس جانب اشارہ کیا ہے کہ ازدہام والے مراکز میں مساجد اور نماز خانوں کی کمی ہے، یہاں انتظامیہ سے وابستہ جو افراد موجود ہیں، جو وزرا تشریف فرما ہیں انہیں چاہئے کہ انتظامیہ کی سطح پر اس موضوع کو سنجیدگی کے ساتھ اٹھائیں۔ تعمیرات سے متعلق ہر پروجیکٹ میں مسجد اور نماز خانے کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔ اگر میٹرو کا کوئی پروجیکٹ ہے تو میٹرو اسٹیشنوں کی تعمیر میں مسجد کا خیال بھی رکھا جائے۔ میٹرو اسٹیشن تعمیر کیا جا رہا ہے، ایئرپورٹ کی ڈیزائننگ ہو رہی ہے تو اس مسجد کے لئے بھی جگہ ضرور نکالی جائے۔ بالفرض کوئی کامپلیکس تعمیر کیا جا رہا ہے، کالونی بنائی جا رہی ہے اور ہم سڑک کی جگہ رکھنا بھول جائیں تو کیا ممکن ہے کہ بغیر سڑک کے ہی کالونی بن جائے؟مسجد کو بھی اس نقطہ نظر سے دیکھنا چاہئے۔ بغیر مسجد کی کالونی کا تصور بے معنی ہے۔ کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کرنے والے بلڈر جب بلڈنگ کے لئے پرمٹ حاصل کرنا چاہیں اور بلڈنگ کا نقشہ اور دیزائن منظور کروانے کے لئے پیش کریں تو اس نقشے میں مسجد یا نماز خانے کی جگہ ضرور رکھی جائے۔ نماز خانے کے سلسلے میں یہ روش لازمی ہے۔

ہوائی جہاز کا ذکر کیا گیا۔ صرف حج کی پروازوں میں نہیں بلکہ اندرون ملک ، بیرون ملک اور دور دراز کی پروازوں میں جن کا وقت نماز کے وقت سے متصل ہے نماز کا اہتمام ضروری ہے۔ اگر ممکن ہے تو پرواز اس طرح انجام پائے کہ اس سے قبل یا بعد میں نماز کا وقت رہے، ایسا نہ ہو کہ مثال کے طور پر نماز صبح کی اذان سے قبل طیارہ پرواز کرے اور طلوع آفتاب کے بعد اپنی منزل پر پہنچے۔ ٹائم ٹیبل ایسا ہو کہ لوگ طیارے کے پرواز کرنے سے قبل یا منزل پر پہنچ جانے کے بعد نماز ادا کر سکیں۔ اگر ایئرلائنوں کے کچھ مسائل ہیں اندرون ملک یا بیرون ملک جانے والی پروازوں کے کچھ ممکنہ مسائل کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو تو ہوائی جہاز کےاندر ہی نماز ادا کرنے کی سہولت رکھی جائے۔ قبلے کی سمت کا تعین بھی آسان ہے۔ پائلٹ بخوبی اس کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں وہ اس کام میں ماہر ہوتے ہیں، تو یہ کیا جائے تاکہ جو افراد ہوائی جہاز کے اندر نماز ادا کرنا چاہتے ہیں ادا کر لیں۔ ٹرینوں کے سلسلے میں بھی بدرجہ اولی اس کا خیال رکھنا چاہئے۔

ان امورکے سلسلے میں ہمارے ملک میں آج جو صورت حال ہے، انقلاب سے قبل کے دور سے اس کا کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔ آپ میں سے اکثر کو انقلاب سے قبل کا زمانہ یاد نہ ہوگا۔ بڑا عجیب ماحول تھا، یہاں بھی اوردوسری جگہوں پر بھی۔ زیارت کے لئے ہمارا عراق جانا ہوا۔ ہم نے لاکھ کوشش کی لیکن نماز صبح کے لئے (ٹرین) رکی ہی نہیں۔ وقت ہی ایسا رکھا تھا کہ یہ ممکن ہی نہیں تھا۔ میں مجبورا ٹرین کے پیچھے جاکر ٹرین سے باہر کودا تاکہ نماز ادا کر سکوں کیونکہ ٹرین کے اندر گندگی بہت زیادہ تھی اور وہاں نماز پڑھنا ممکن نہیں تھا۔ ان باتوں کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی جاتی تھی۔ آج حالات بہت بدل چکے ہیں تاہم اب بھی ہماری کچھ اور توقعات ہیں۔ نماز کی اہمیت نمایاں رہنی چاہئے۔

ہم نے ائمہ جمعہ، ائمہ نماز جماعت اور علمائے کرام سے بارہا کہا ہے، تہران میں اور دیگر اضلاع کے سلسلے میں سفارش کی ہے کہ مساجد کو آباد و با رونق بنایا جائے۔ مساجد سے اذان کی آوازیں بلند ہونی چاہئے۔ اسلامی شہروں بالخصوص تہران اور دیگر بڑے شہروں میں نماز اور نماز کی ادائیگی پر خصوصی توجہ کی علامتیں واضح اور عیاں ہوں۔ اسی طرح ہمارے تعمیراتی پروجیکٹوں میں بھی اسلامی علامتیں نمایاں رہنی چاہئے۔ صیہونی دنیا کے کسی بھی علاقے میں اگر کوئی عمارت تعمیر کرتے ہیں، ان کوشش ہوتی ہے کہ اس پر ستارہ داؤد کی وہ منحوس علامت ضرور بنائیں۔ ان کے سیاسی کام اس انداز سے انجام پاتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کو بھی چاہئے کہاپنے تمام تعمیراتی کاموں اور جملہ منصوبوں میں اسلامی علامتوں کو ملحوظ رکھیں۔

اللہ تعالی سے توفیقات کی التجا کرتا ہوں۔ نماز(کی تبلیغ) کا کام معمولی نہیں ہے۔ یہ عظیم کام ہے۔ اللہ تعالی کے لطف و کرم سے اس عظیم کام میں مصروف تمام افراد "المقیمین الصلاۃ" کے زمرے میں قرار پائیں، قرآن نے جس میں پاک و پاکیزہ اور با اخلاص مومنین قرار دیا ہے۔ انشاء اللہ تعالی آپ سب کا شمار مقیمین الصلاۃ میں کیا جائے اور اللہ تعالی ہمیں توفیقات سے نوازے اور نماز کی برکتیں ہمارے شامل حال کر دے۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

 

ماسِ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی واضح نشانیاں موجود ہیں (بقره 185)

بعثت کے دسويں سال ماہ رمضان ميں حضرت خديجہ س کي وفات ہوئي - اس وقت ان کي عمر 65 سال تھي - نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ان کے جسد خاکي کو اپنے ہاتھوں سے مکہ کے ابوطالب نامي قبرستان ميں سپرد خاک کيا - حضرت خديجہ کي وفات نے نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو بےحد غمزدہ کيا اور اس سال کو نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے " عام الحزن " يعني غم کا سال نام ديا - حضرت خديجہ سے نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو بےحد زيادہ محبت تھي - ان کي دولت نے اسلام کو مالي لحاظ سے قوت بخشي اور انہوں نے ہر غم اور تکليف ميں نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا ساتھ ديا - اس سال کو عام الحزن کا نام اسي ليے ديا گيا کيونکہ اس سال نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپني پياري بيٹي سے محبت کرنے والي اس کي ماں اور اپني محبوب بيوي کو کھو ديا اور اس جيون ساتھي کو کھو ديا جس کے ساتھ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم بےحد زيادہ محبت کرتے تھے -

خدا کي قسم ! خدا نے خديجہ سے بہتر مجھے کوئي چيز عطا نہيں کي ہے (1)

جناب عائشہ نے کہا کہ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم گھر سے باہر نہيں جاتے تھے مگر جب حضرت خديجہ کي ياد آتي تب جاتے تھے اور انہيں اچھے الفاظ ميں ياد کرکے ان کي ثنا اور مدح کرتے - ايک دن ميں نے نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے کہا کہ وہ بوڑھي عورت اچھي نہيں تھي اور خدا نے اس سے بہتر آپ کو عطا کي ہے - يہ سن کر نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اس قدر غصے ميں آ گۓ کہ ان کے سر کے سامنے والے بال ہلنے لگے اور پھر فرمايا : نہيں ، خدا کي قسم اس سے بہتر خدا نے مجھے بدل نہيں ديا ہے - وہ مجھ پر ايسے وقت ميں ايمان لائي جب لوگ کافر تھے - اس نے ميري اس وقت تصديق کي جب لوگ تکذيب کرتے تھے اور اپنے مال سے ميري مدد کي - جب لوگوں نے مجھے محروم کيا تو خدا نے اس سے مجھے وہ اولاد عطا کي کہ جس سے دوسري عورتيں محروم يعني خدا نے فاطمہ س کو اس سے مجھے عطا کيا - (2)

جي ہاں ! نبي اکرم ، اس کي وفات کے سالوں بعد بھي اس وفادار ساتھي کو ياد کيا کرتے تھے - بارہا حضرت خديجہ کي ياد ميں نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم رويا کرتے تھے –

جناب عائشہ سے نقل کيا گيا ہے کہ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم جب بھي کوئي بکرا ذبح کيا کرتے تھے تو فرمايا کرتے کہ اس کے گوشت کو خديجہ کے دوستوں کو بھي بھيج دو اور اس پر عائشہ کو رشک آتا اور کہتيں کہ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم خديجہ کو مجھ سے زيادہ ياد کيا کرتے - ايک دوسري روايت ميں آيا ہے کہ بعض اوقات جب نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے ليۓ کوئي تحفہ آتا تو فرماتے کہ اسے فلاں بانو کے ليۓ بھيج دو کہ وہ خديجہ کے دوستوں ميں سے تھيں -

رسول خدا حضرت خديجہ کے بارے ميں فرماتے ہيں : خدا نے اس سے بہتر مجھے نہيں ديا ہے - وہ اس وقت مجھ پر ايمان لائي جب لوگ کافر تھے ، ميري نبوت کي تصديق کي جب دوسروں نے مجھے جھوٹا کہا اور اپنے مال کو اس وقت ميرے اختيار ميں ديا جب دوسروں نے محروم کيا اور خدا نے اس سے مجھے اولاد عطا کي اور فتح مکہ کے دن نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے گزرنے کے ليۓ وہ راستہ اختيار کيا جو حضرت خديجہ کے مزار کے نزديک سے گزرتا تھا-

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے علم و سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ سے منسلک ماہرین ، محققین ، سائنسدانوں اور علمی بنیاد پر قائم کمپنیوں اور سائنس و ٹیکنالوجی پارک کےحکام سے ملاقات میں علم کو ملک کے لئے ابلتا ہوا دائمی چشمہ قراردیا اور قومی تشخص کے ارتقاء میں علم و دانش کی بنیاد پر استوار معیشت و اقتصاد، اور ملک کے سیاسی اقتدار اور استقلال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایران ، آج ایک یادگار تاریخی اور احساس مرحلے پر پہنچ گیا ہے لہذا ذمہ داریوں کی صحیح شناخت اور ان پر عمل کے ذریعہ ایرانی قوم یقینی طور پر اپنے درخشاں اور نوید بخش اہداف تک پہنچ جائےگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ملک پیشرفت و ترقی کی جانب گامزن ہے اور ایرانی قوم کی پیشرفت و ترقی میں کوئي مشکل اور رکاوٹ موجود نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اعلی و درخشاں اہداف کی جانب ملک کی پیشرفت میں بعض سیاسی، اقتصادی اور تبلیغاتی دباؤ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم پختہ عزم و ارادے اور ہمت کے ساتھ اپنے مورد نظر اہداف تک پہنچنے کے لئے مصمم ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی قوم میدان کی وسط میں ہے اور ایرانی قوم کے ارادوں اور توانائیوں کے مقابلے میں دباؤ اور مشکلات ناچیز ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے موجودہ مرحلے کو زحمت اور محنت کے ہمراہ ایک بانشاط اور شوق آفرین مرحلہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے موجودہ مرحلہ کھیل کےمقابلوں کے میدان کی طرح ہے جو محنت، تھکاوٹ اور خدشات کے باوجود کھلاڑیوں کے لئے شوق و نشاط کا باعث ہے اور کھلاڑی اس میں شوق و نشاط اور بھر پور عزم کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےمزاحمتی معیشت و اقتصاد پر سنجیدگی سے عمل کو موجودہ فیصلہ کن اور احساس مرحلے سے عبور کرنے کی ایک راہ قراردیتے ہوئے فرمایا: مزاحمتی اقتصاد کوئی نعرہ نہیں ہے بلکہ ایک واقعیت اور حقیقت ہےجسے محقق ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: علم و دانش کی بنیاد پر استوار کمپنیاں مزاحمتی اقتصاد کے بہترین اور مؤثر ترین عناصر میں شامل ہیں جو مزاحمتی معیشت و اقتصاد کومزید پائداربنا سکتی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علم و دانش کی بنیاد پر ثروت کی پیداوار کو اقتصادی اور معیشتی رشد کا حقیقی ضامن قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر علم و دانش کی بنیاد پر قائم کپمپنیوں کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان کی کمی اور کیفی لحاظ سے حمایت کی جائے، تو علم کے ذریعہ ثروت کی پیداوار سے ملک کی معیشت و اقتصاد میں حقیقی رونق پیدا ہوجائےگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیل جیسے ختم ہونے والے وسائل کی بنیاد پر معیشت کے استوار ہونے کو خود فریبی اور دھوکہ دہی قراردیتے ہوئے فرمایا: خام مواد کی فروخت در حقیقت ایک جال ہے جو انقلاب سے پہلے کے برسوں سے میراث میں ملا ہے افسوس کہ ملک اس میں گرفتار ہوکر رہ گیا ہے۔ اور اس فریب سے نجات حاصل کرنے کے لئے تلاش و کوشش کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیل کے کنوؤں کو اختیار کے ساتھ بند کرنے اور معدنی و خام مواد کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کو بہت ہی اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: علم و دانش کی بنیاد پر استوار کمپنیوں کے ذریعہ اس مرحلے تک پہنچنا ممکن ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ سے متعلق صدارتی ادارے میں انجام پانے والے اقدامات کو بہت ہی مؤثر اور امید افزاقراردیتے ہوئے فرمایا: بعض مشکلات اور خامیاں بھی موجود ہیں جنھیں فوری طور پر پہچان کر برطرف کرنا بہت ضروری ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے محققین اور سائنسدانوں کی جانب سے پیش کئے گئے موضوعات، مالی اداروں اور بینکوں کی جانب سے قدیمی اور سنتی توثیقی سسٹم اور علم کی بنیاد پر قائم کمپنیوں کی حمایت کے لئے بیمہ کے فقدان کو منجملہ خامیاں اور کمزوریاں قراردیتے ہوئے فرمایا: حکومتی اداروں کو چاہیے کہ وہ اختراعات پر نظارت اور ممتاز و خلاق ماہرین کی شناخت کے ساتھ ان کی حمایت کریں اور نئی علمی کمپنیوں کو تاسیس کرنےکی راہ ہموار کریں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ماہر افراد کی شناخت اور انھیں جذب کرنے کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا اور اس عمل کو منطقی طریقے ، تشویق اور ضروری حمایتوں کے ذریعہ روکنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: علمی بنیاد پر قائم کمپنیوں کو ایک مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ان کمپنیوں کی حمایت کے بارے میں قانون نافذ اور اجراء نہیں ہوا ہے اور ا نکے آئین نامہ کو جلد از جلد ابلاغ کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی علمی توانائیوں کی پہچان کے لئے معلوماتی بینک کی تشکیل، خامیوں کی شناخت و پہچان، علم و دانش کی بنیاد پر قائم کمپنیوں کے فروغ ، علم و دانش کی بنیاد پر قائم کمپنیوں کے خصوصی اور نجی سیکٹر کی تقویت کے موضوعات پر بھی تاکید کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے علم و دانش کی بنیاد پر کمپنیوں کے ذریعہ ملک کے اقتصاد کی پیداوار کو حقیقی اقتصاد تک پہنچنے کا راستہ اور اسی طرح خود اعتمادی کے جذبے کی تقویت، قومی تشخص اور سرانجام سیاسی طاقت و قدرت کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: اس سلسلے میں ضروری راہیں ہموار کرنے کے ذریعہ ممتاز اور ماہر علمی شخصیات اور سائنسدانوں کو علم و دانش کی بنیاد پر کمپنیاں تشکیل دینے کے لئے تشویق کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: پانچویں منصوبہ کے پیش نظر،علم و دانش کی بنیاد پر 20 ہزار کمپنیوں کی تشکیل سے بالا تر افق کو مد نظر رکھنا چاہیے۔

اس ملاقات کے آغاز میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق 10 ممتاز ماہرین و محققین اور سائنسدانوں اور علم و دانش کی بنیاد پر قائم کمپنیوں کے حکام نے اپنے خیالات اور نظریات پیش کئے۔

1: ڈاکٹر قہار، ہمانند ساز بافت کیش کمپنی کے ڈائریکٹر

٭ ملک کی اندرونی سطح پر بیو ایمپلنٹس کی پیداوار، اس دانش کا امریکی کمپنیوں کے انحصار سےاخراج، بیماریوں پر اس جدید علم و دانش کے اہم اثرات اور ہزاروں افراد کے اعضاء کے کٹنے کے خطرے سے بچاؤ۔

٭ اس علم و ٹیکنالوجی کو منتقل کرنے کے لئے دس ممالک کی طرف سے درخواست۔

٭ وزارت صحت و وزارت رفاہ و تعاون کی جانب سے علم و دانش پر مبنی کمپنیوں کی حمایت پر تاکید۔

2: انجینئر قرحی ، خلائی توسیع ادارے کے سربراہ

٭ ہم آہنگی پیدا کرنا، ملکی و غیر ملکی تعاون کے نمونہ کا استقرار،تجارت کے لئے مناسب راہ ہموار کرنا، خلائی شعبہ میں توسیع اور اس کی مقامی سطح پر پیداوار، خلائی شعبہ کے چار اہم اقدامات ہیں،

٭ خلائی شعبہ میں 200 نجی کمپنیوں کی فعالیت۔

٭ خلائی شعبہ میں جامع منصوبہ کی منظوری میں سرعت اور مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی۔

3: انجینئر محمد رضا محمد، طبی وسائل برآمد کرنے کی یونین کے سکیرٹری

٭ مقامی سطح پر پیشرفتہ طبی وسائل کی پیداوار،علاقائی اور بعض یورپی ممالک میں ان کی برآمدات۔

٭ بیوروکریسی کو برطرف کرنے اور نجی سیکٹر کی سنجیدہ حمایت پرتاکید۔

٭ ایسے وسائل کی درآمد کے لئےغیر ملکی کرنسی مخصوص کرنے پر پابندی جوملک میں موجود ہیں۔

4: ڈاکٹر رضائی زادہ، سیمرغ حکمت ایرانیان کمپنی کے ڈائریکٹر، سنتی طب کے متخصص۔

٭ سنتی طب کے متعلق 130 تحقیقاتی اور مطالعاتی منصوبوں پر یونیورسٹیوں کے تعاون سے کام۔

٭ کینسراورایم ایس کے علاج کے لئے ایرانی دوا کی پیداوار۔

٭ تجارتی استفادہ کے لئے سنتی طب کو تجربی طب میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر تاکید، اور اس سلسلے میں ماہر افراد کے تجربات سے استفادہ۔

5: محترمہ انجینئر علوی، فرادشت کروج کمپنی کی ڈائریکٹر

٭ زرعتی محصولات پر خصوصی توجہ پر تاکید۔

6: ڈاکٹر چنگینی، اوقیانوس ادارے کی سربراہ۔

٭ دریائی شعبہ میں مطالعہ اور سرمایہ کاری کے بارے میں اطلاع رسانی۔

٭ علم و دانش کی بنیاد پر قائم کمپنیوں کی درجہ بندی پر تاکید۔

7: انجینئر ذکائی، پارس پلیمر شریف دانش بنیان کمپنی کے ڈائریکٹر۔

٭ دانش بنیان کمپنیوں کے قانون کے اجراء پر تاکید۔

8: ڈاکٹر شکریہ، کمپوزیٹس ایسوسی ایشن کے سکریٹری

٭ کمپوزیٹ ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے قومی ریسرچ ادارے کی تاسیس پر تاکید

9: انجینئر صابری، پردیس ٹیکنالوجی پارک۔

٭ ملک کی 30 علمی و ٹیکنالوجی پارکوں کا تجارتی اور علمی لحاظ سے خصوصی نقش۔

10 : ڈاکٹر شفیعی ، بیرونی دواؤں کی پیدوار کے منصوبے کے مجری۔

٭ کینسر اور بعض دیگر بیماریوں کے علاج کے لئے دواؤں کی پیدوار۔

اس ملاقات میں سائنس و ٹیکنالوجیکے شعبہ کی نائب صدر محترمہ ڈاکٹر سلطانخواہ نے علم و دانش کی بنیاد پر قائم ہونے والی کمپنیوں اور ان کی پیشرفت اور پیدوار کے سلسلے میں جامع رپورٹ پیش کی۔

سلطان احمد مسجد المعروف نیلی مسجد (ترک: سلطان احمد جامع) ترکی کے سب سے بڑے شہر اور عثمانی سلطنت کے دارالحکومت (1453ء تا 1923ء) استنبول میں واقع ایک مسجد ہے۔ اسے بیرونی دیواروں کے نیلے رنگ کے باعث نیلی مسجد کے طور پر جانا جاتا ہے۔

 

یہ ترکی کی واحد مسجد ہے جس کے چھ مینار ہیں۔ جب تعمیر مکمل ہونے پر سلطان کو اس کا علم ہوا تو اس نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا کیونکہ اُس وقت صرف مسجد حرام کے میناروں کی تعداد چھ تھی لیکن اب چونکہ مسجد تعمیر ہو چکی تھی اس لیے اس نے مسئلے کا حل یہ نکالا کہ مسجد حرام میں ایک مینار کا اضافہ کرکے اُس کے میناروں کی تعداد سات کر دی۔

مسجد کے مرکزی کمرے پر کئی گنبد ہیں جن کے درمیان میں مرکزی گنبد واقع ہے جس کا قطر 33 میٹر اور بلندی 43 میٹر ہے۔

مسجد کے اندرونی حصے میں زیریں دیواروں کو 20 ہزار ہاتھوں سے تیار کردہ ٹائلوں سے مزین کیا گیا ہے جو ازنک (قدیم نیسیا) میں تیار کی گئیں۔

دیوار کے بالائی حصوں پر رنگ کیا گیا ہے۔ مسجد میں شیشے کی 200 سے زائد کھڑکیاں موجود ہیں تاکہ قدرتی روشنی اور ہوا کا گذر رہے۔ اس مسجد کے اندر قرآن مجید کی آیات اپنے وقت کے عظیم ترین خطاط سید قاسم غباری نے کی۔ مسجد کے طرز تعمیر کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ نماز جمعہ کے موقع پر جب امام خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو مسجد کے ہر کونے اور ہر جگہ سے امام کو با آسانی دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔

مسجد کے ہر مینار پر تین چھجے ہیں اور کچھ عرصہ قبل تک مؤذن اس مینار پر چڑھ کر پانچوں وقت نماز کے لیے اہل ایمان کو پکارتے تھے۔ آج کل اس کی جگہ صوتی نظام استعمال کیا جاتا ہے جس کی آوازیں قدیم شہر کے ہر گلی کوچے میں سنی جاتی ہے۔ نماز مغرب پر یہاں مقامی باشندوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد بارگاہ الٰہی میں سربسجود دیکھی جا سکتی ہے۔ رات کے وقت رنگین برقی قمقمے اس عظیم مسجد کے جاہ و جلال میں اضافہ کرتے ہیں۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات کے دو امیدوار زیادہ سے زیادہ صیہونی حکومت کی خشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

امریکہ کی سیاسی تجزیہ کار گلوریا بورجر نے سی این این چینل سے گفتگو میں کہا کہ میت رامنی کا برطانیہ کا دورہ اولمپیک کھیلوں کے حوالے سے برطانیہ پر تنقید کی وجہ سے بے رنگ رہا لیکن جب بھی امریکی امیدوار خارجہ پالیسی میں اپنا سکہ چلانا چاہتے ہیں اسرائیل کا دورہ کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں تمام صدارتی امیدوار اسی نہج پر کام کرتے ہیں اور چار برس قبل جب اوباما صدارتی امیدوار تھے توانہوں نے بھی اسرائيل کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تجریاتی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہےکہ میت رامنی خارجہ پالیسی میں اوباما سے پیچھے ہیں ۔ گلوریا بورجر نے کہا کہ چونکہ اوباما صدر بننے کےبعد سے اسرائیل نہیں گئے تھے لھذا میت رامنی کا دورہ اسرائيل اس لحاظ سے اہمیت رکھتا ہےکہ وہ خود کو اسرائیل کا بڑا حامی ظاہرکرنا چاہتے ہیں اور اسرائیل کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ایران اور شام کےتعلق سے ان کے موا‍‌قف اوباما کی نسبت شدید ہیں۔

 

 

امریکہ کے ایک مورخ وبسٹر گریفین تارپلی نے شام میں جاری بدامنی کے بارے میں کہا ہےکہ امریکہ شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کی حمایت کررہا ہے۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وبسٹر تارپلی نے کہا ہےکہ شام میں بدامنی بدستور جاری ہے تاہم اس سلسلے میں بیرونی طاقتوں کے کردار کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

تارپلی نے کہا کہ سعودی عرب اور قطر کی مالی حمایت سے ترکی میں شام میں سرگرم دہشتگردوں کے کیمپ قائم کئے گئے ہیں اور آدانا کیمپ بھی ان ہی میں شامل ہے۔ گریفین تارپلی نے شام کے بارے میں روس کے مواقف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ روسی وزیر خارجہ سرگئي لاوروف نے کچھ دنوں قبل اعلان کیا تھا کہ امریکہ شام میں اپنی پھیلائي ہوئي دہشتگردي کا جواز پیش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے اس موقف کی شدید الفاظ میں مذمت کرتےہوئے کہا کہ سلامتی کونسل میں ایک قرارداد منظور کی جانی چاہیے جس میں امریکہ کی جانب سے القاعدہ کی حمایت کی مذمت کی جانی چاہیے۔ اس امریکی تجزیہ نگار نے شام کے تعلق سے ترکی کے موقف کی بھی مذمت کرتےہوئے کہا کہ ترکی نے شام کے بارے میں نہایت غیر ذمہ دارانہ موقف اپنایا ہے۔

 

 

شیخ لطف اللہ مسجد ایران کے صفوی دور کی عظیم تعمیرات میں سے ایک ہے جو اصفہان کے معروف میدان نقش جہاں کے مشرقی جانب واقع ہے۔

مسجد کا بیرونی منظر

 

یہ مسجد 1615ء میں صفوی خاندان کے شاہ عباس اول کے حکم پر تعمیر کی گئی۔

اس مسجد کے معمار محمد رضا ابن استاد حسین بنا اصفہانی تھے۔

مسجد کی تعمیر کا کام 1618ء میں مکمل ہوا۔