Super User
شهيد ڈاکٹر محمد علي نقوي
شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ولد سید امیر حسین نقوی کے خاندان کا سلسلہ امام حضرت علی نقی سے ملتا ہے۔ یہ خاندان سادات تبلیغ پیغام کربلا میں مصروف رہا اور تقریباً تقریباً آج سے ڈیڑھ سو سال قبل شہید ڈاکٹر کے پردادا مدد علی شاہ شرقپور سے وطنہ آکر آباد ہوئے۔ یہ خاندان اپنے تقوٰی اور کردار کی بناء پر عوام الناس میں مقبول ہوا ور پھر ڈاکٹر صاحب کے دادا نے اپنی زندگی کا آغاز علاقہ نواب صاحب میں جہاں آپ کی قبر ہے۔ جبکہ آپ کے والد بزرگوار نے علاقہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور علم دین کے حصول کے لیے نجف کا رخ کیا۔ مختصر یہ کہ سید امیر حسین نقوی نے اپنی زندگی کے آٹھ سال نجف میں حصول علم کے لیے وقف کیے اور باقی زندگی فروغ تعلیمات محمد و آل محمد میں صرَف کئے اور تقریباً پوری زندگی افریقہ، کینیڈا اور کینیا وغیرہ میں گذاری جبکہ خداوند کریم نے آپ کو دو فرزند اور چھ صاحب زادیاں عطا کیں جو تمام کے تمام اپنی مثال آپ ہیں اور ڈاکٹر محمد علی نقوی نے تو کمال ہی کیا خاندان تو خاندان، قوم کی لاج بھی رکھ لی۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی پیدائش: شہی28دستمبر 1952ء کو لاہور کے علاقہ علی رضا آباد میں ایک ایسے فرزند زہرہ نے آنکھ کھولی جو بعد میں بانی بن کر سامنے آیا۔ اس فرزند زہرہ کا نام ملت جعفریہ کے مسیحا علامہ سید صفدر حسین نجفی مرحوم نے محمد علی تجویز کیا اور فخریہ انداز میں فرمایاکہمیری زندگی میں اس نام کے ہر شخص نے ستاروں پہ کمند ڈالے ہیں۔ جب آپ کی پیدائش ہوئی تو آپ کے والد نجف اشرف میں مقیم تھے۔ اسی سال واپس آئے اور واپسی پر اہل خانہ کو بھی ساتھ لے گئے۔ یہ ڈاکٹر صاحب کی خوش قسمتی تھی کہ عالم زادہ ہونے کے ساتھ ساتھ نجف و کربلا کی فضائیں جذب کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے چلنا نجف میں سیکھا تو بولنا کربلا میں شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے زندگی بھر اسی فقرے کو لائحہ عمل بنایا۔ جینا علی کی صورت مرنا حسین بن کر تقریباً چھ سال تک نجف و کربلا کی فضاﺅں میں پروان چڑھے یوں خوب کربلا والوں کی محبت خون میں رچ بس گئی۔
شہید کی تعلیمی سرگرمیاں: اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہوئے ابتدائی تعلیم کینیا کے دارالخلافہ نیروبی میں حاصل کی بعد ازاں والدین کے ہمراہ تنزانیہ اور یوگنڈا کے دارالخلافہ کمپالہ آنا پڑا اور اپنے سینیئر کیمبرج کا امتحان اچھے نمبروں سے کمپالہ میں پاس کیا ۔ بعد از انٹر پری میڈیکل گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا جو کہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے بعد پاکستان کے قدیمی اور معروف کالج سے کیا اور بعد میں بھی کیا۔
اسی دوران اپنی تنظیمی زندگی کا باقاعدہ آغاز کیا۔ جبکہ اپنی ابتدائی سرکاری سوس ہسپتال میں کی۔ جبکہ میں بھی کی اور دوران ملازمت علامہ اقبال میڈیکل کالج میں استاد کے فرائض بھی سر انجام دیے۔
تحصیلِ علم کے دوران چند سرگرمیاں: سینیئر کیمبرج کے زمانہ طالب علمی میں اپنے اسکاﺅٹ کی تعلیم حاصل کی اور اس دوران میں اپنے آپ کو بہترین اسکاﺅٹ ثابت کیا۔ دوران تعلیم سینیئر کیمبرج میں آپ ایک اچھے طالب علم تھے اور نوبت یہاں تک آئی کہ آپ کو کا جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا۔ آ پ نے ایک کی حیثیت سے کمپالہ میں ملکی سطح پر شہرت پائی۔
شہید اور کھیل: آپ زمانہ طالب علمی میں جوڈو کراٹے سے بھی واقف تھے اور آپ نے بچپن میں مولا علی کے قول پر عمل بھی کیا۔ تیراکی بھی سیکھی اور کا اعزاز حاصل کیا اور گھڑسواری اور نشانہ بازی بھی سیکھی۔ آپ کو بچپن ہی سے کا شوق تھا۔ جو آپ نے جمع کیے وہ آج تک محفوظ ہیں۔ جبکہ کتاب پڑھنا بھی آپ کا بہترین مشغلہ تھا۔ جس کا اندازہ اس لائبریری سے لگایا جا سکتا ہے جو آپ کے گھر پر قائم ہے۔ جہاں ہزارہا کتابیں انگلش، اردو، فارسی اور عربی میں موجود ہیں۔ ہم اس بات کو بڑے کامل یقین سے تحریر کر رہے ہیں کہ ان تمام کتابوں کو ڈاکٹر صاحب نے بغور مطالعہ کیا ہوا تھا۔ اس سے اندازا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر شھید کو کس قدر لائبریریز میں دلچسپی تھی اوریہ انہیں بزرگان کی کوششوں کاثمر ہے جو آج امامیہ لائبریریز کانیٹ ورک نظر آتا ہے۔
شھید اور تنظیم : ڈاکٹر صاحب نے گورنمنٹ کالج لاہور میں دوران تعلیم اپنے دوستوں کے شعور انسانی کو بیدار کرنے کے لیے ینگ شیعہ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن قائم کی اور اس کے روح رواں بھی بن گئے۔ اسی دوران آپ کی پڑھائی بھی نظر انداز ہوئی اور نوبت یہاں آن پہنچی کہ والد صاحب نے میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کی صورت میں منہ مانگے انعام کی پیشکش بھی کی۔ شہید کی محنت اور انعام : پس اس فرزند نے والد کی اطاعت کی خوب محنت کے ساتھ امتحان کی تیاری کی۔ جن واقعات کو آپ کے چچا زاد بھائی یوں نقل کرتے ہیں کہ ہم نے ڈاکٹر کو 18 گھنٹے بھی پڑھتے دیکھا اور حد یہاں تک کہ رات کو پڑھتے وقت پانی پاس رکھتے اگر نیند غالب آنے لگتی تو پانی سے اپنے آپ کو بیدار کرتے۔ آخر کار محنت رنگ لائی اور اپنے 70% نمبروں سے امتحان پاس کیا اور میڈیکل کالج میں داخلہ لیا۔ پس ڈاکٹر نے نوجوانی کے عالم میں اپنے سچے جذبہ عشق اہل بیت کی بنا پر والد صاحب سے زیارت چہاردہ معصومین اور عمرہ کا ٹکٹ بطور انعام حاصل کیا۔ بانی ہونے کا انداز: تنظیمی دور میں فعالیت، میڈیکل کی پڑھائی کے دوران آئی ایس او تنظیم کا باقاعدہ پہلا اجلاس ڈاکٹر ماجد نوروز عابدی کی رہائش گاہ پر ہوا۔ اسی دوران تنظیم کا نام آغا علی موسوی کے دست شفقت سے تجویز پایا۔ جبکہ ڈاکٹر صاحب اکثر اوقات دوستوں کو کا مفہوم یوں بیان کرتے علم کیمیاءمیں آئی ایس او پاکستان کا مطلب ایک جیسا ہونا ہے اور شھید کے کزن انکا ایک جملہ یوں نقل کرتے ہیں کہ وہ اکژ کو یوں بیان فرمایا کرتے تھے کہ آئی سو"یعنی مجھے دیکھو ،میرا کردار ، میرے افکار اور میرا اخلاق اہلیبیت کے ماننے والو جیسا ہونا چاہیے اسی دوران کی پہلی کابینہ کا اعلان ہوا تو ڈاکٹر صاحب کو آفس سیکریٹری منتخب کیا گیا جو کہ آپ کی پسندیدہ شعبہ تھا اور ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ تنظیم کا مرکزی آفس جس قدر مستحکم اوریونٹس سے مربوط ہوگا وہ تنظیم اسی قدر ترقی کرے گی۔ کا کامنظر عام پر آنا کاکا تعارف یونیورسٹی میں یوم حسین کے پروگرام سے ہوا۔ جس کا انعقاد پہلی بار پنجاب یونیورسٹی کے سیمینار ہال میں ہوا۔ جس میں تاریخی خطاب جناب مفتی جعفر حسین نے کیا اورجو پروگرام یومِ حسین آج بھی پاکستان کے تمام کالجز اور یونیورسٹیز میں جاری وساری ہیں آج یہ پروگرامات کی پہچان بن گئے ہیں ۔ وہ پہلا تنظیمی پروگرام تھا جس کی بناءپر پہلی بار کو عوامی سطح پر بھر پور کامیابی ملی۔ یوں ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں متعارف ہوئی۔ ک کی نشرواشاعت اور ڈاکٹر صاحب اسی دوران ڈاکٹر صاحب کی سوچ کی بناءپر اور پختہ جذبہ کی بدولت ایک کیلنڈر کی اشاعت ممکن ہوئی۔ جس پر امام حسین کے روضہ کی تصویر تھی اور اس تنظیم کے نصب العین اور مقاصد لوگوں پر واضح کیے گئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے جذبات صرف اشاعت کی حد تک محدود نہیں رہے تھے بلکہ آپ نے اس کی مارکیٹنگ اور فروخت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جس کو چشم دید گواہ یوں بیان کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اپنے کالج کے سائیکل اسٹینڈ پر کھڑے ہو کر کیلنڈر فروخت کرتے تھے۔ اس کیلنڈر کی بناءپر کی خوشبو ملک کی فضاﺅں میں پھیل گئی۔ کا یک ملک گیر تنظیم 1975ءسے 1976 ءمیں ملک بھر میں پھیلی اور اس کا چوتھا سالانہ کنونشن دفتر سے نکل کر پنڈال کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ کا پہلا کنونشن تھا جو جامعة المنتظر لاہور میں منعقد ہوا۔ جس میں ڈاکٹر صاحب نے کنونشن کے اسٹیج سیکریٹری کے فرائض انجام دیے اور تمام آنے والے برادران کا والہانہ استقبال کیا اور ان کے سینوں کو کے بیجز سے منور کرتے۔ یہاں تک کہ اس دوران مٰں مختلف برادران سے ملتے اوردوران پروگرام دشواریوں کے بارے میں دریافت کرتے اور ان کے تاثرات کو تحریر کرتے اور مشکلات پر ان سے معذرت چاہتے۔ دن بھر اگر تنظیمی امور میں مصروف رہتے تو رات بھر برادران کے ساتھ خوردونوش کے انتظامات میں مصروف رہتے۔ یہاں تک کہ اگر موقع ملتا تو برتن صاف کرنے میں بھی برادران کا ساتھ دیتے۔ جس کو شھید ڈاکٹر محمدعلی سے منصوب کیا گیا۔ اور نام سفیر انقلاب تجویز پایا۔
شہید کے بطور مر کز ی صدر: یہ تنظیمی سفر مختلف نشیب و فراز سے گزرتا رہا اور آخر حالات و واقعات اور تنظیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 1976 ءسے 1977 ءمیں ڈاکٹر صاحب کو کا مرکزی صدر منتخب کر لیا گیا۔ جب آپ کو بطور مرکزی صدر اسٹیج پر لایا گیا تو آپ اشکبار تھے۔ جس کی وجہ آپ کے اس قول سے واضح ہوتی ہے کہ ” دوستو حلف صرف ایک سال کے لیے نہیں بلکہ حلف کا تعلق پوری زندگی سے ہوتا ہے “ آپ حقیقتاً ان افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے حلف کو صرف صدارتی مدت کے لیے نہیں بلکہ تمام عمر حلف پر قائم رہے۔ ( میں خدا و رسول اور امام زمانہ۴ کے روبرو اقرار کرتا ہوں ....) اس دوران خاص طور پر اپنے دوستوں کی توجہ خود سازی کی طرف دلائی۔ شہید اپنی موٹر سائیکل پر علماءکرام کو لے کر شہر کے کونے کونے میں درس کے پروگرام میں لے جاتے اور خود بھی بغور درس سنتے اور اھم نکات کو نوٹ کرتے۔ نوجوانوں میں اسلامی فکر پیدا کرتے۔ اپنی صدارت کے دوران اپنے ” امامیہ نیوز بلٹن “ شائع کرنے کی بھی کوشش کی۔
شادی اور تنظیم: مارچ 1971 ئمیں آپ کا نکاح آپ کے تایا سید شبیر حسین نقوی کی صاحبزادی سیدہ کنیز بتول نقوی سے ہوا۔ جو اس دور کے مانے ہوئے باعمل روحانی شخصیت تھے۔ یہ خوش قسمتی تھی کہ ان کی زوجہ نیک اخترکی اور ان کی پرورش میں ان کی پھوپھی کا بڑا کردار تھا اور آپ کا نام بھی انہوں نے تجویز کیا جن کی قبر مبارک وادی السلام نجف میں ہے۔ نکاح سے ایک روز قبل آپ کو تاکید کی گئی کہ آپ پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل میں مقیم رہیں ورنہ وقت نکاح انہیں لاہور شہر میں ڈھونڈنامشکل ھو جائے گا۔ شہید کے تنظیمی کاموں میں ڈوبے ہونے کا یہ عالم تھا کہ بارات کی روانگی سے تھوڑی دیر پہلے آپ کو پریس سے لایا گیا۔ جہاں آپ تنظیمی پوسٹر چھپوانے میں مصروف تھے۔ تنظیم سے مخلص ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب آپ نے اپنی زوجہ سے پہلی ملاقات کی تو یہ بات واضح کردی کہ ” یہ میری دوسری شادی ہے “ جب زوجہ کافی پریشان ہوئیں تو آپ نے کہا کہ میں پہلی شادی تنظیم سے کر چکا ہوں لہٰذا گھر کوزیادہ وقت نہ دینے کا شکوہ مت کرنا۔ اپنی دونوں شادیوں کو انہوں نے خوب احسن طریقے سے نبھایا۔ فکری ہم آہنگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ڈاکٹر صاحب بانی ہیں تو زوجہ بانی شعبہ طالبات ہیں۔ اسی بناءپر طالبات کا پہلا مرکزی دفتر ڈاکٹر صاحب کا گھر منتخب ہوا۔ مجھے یہ لکھتے ہوئے کوئی عار نہیں کہ آپ کی زوجہ نے یوں سوچا ہوگا! ” اگر آپ سفیر کربلا ہیں تو میں سفیر شام ہوں، آپ حسین کی صدا پر لبیک کہیں اور ورد بنائیں تو میں زینب کی صدا پر لبیک کہتی ہوں اور زینبی خطیبوں کو ورد بناتی ہوں “ یہ کہنا ہر گز بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان طلباءو طالبات آپ کے گھر میں پروان چڑھے اور آپ ان کے روحانی والدین ہیں۔ یہیں پر انکی تربیت ہوئی اور یہیں پر منزل کا تعین اور یقینِ محکم ملا اور یہیں سے سفر کا آغازھوا۔
انقلاب ایران اور شہید: سرزمین ایران پر اسلامی انقلاب کا سورج طلوع ہو چکا تھا جبکہ آپ کی ذات انقلابی سرگرمیوں کا محور تھی درحقیقت انقلاب ایران ولایت فقیہ اور خط امام رح کو پا کستان میں متعارف کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ملک کے کونے کونے میں میں جا کر اسلامی لو گوں کو انقلاب کا پیغام پہنچایا پاکستان کو ولایت فقیہ سے منسلک کیا یوں پاکستان میں شھید کے اقدامات کی بدولت انقلاب کی پاسبان بنی یہ ایک بہت بڑا شرف تھا جو اس عظیم شھید کو حاصل ہوا اس ہی وجہ سے انکا نام سفیر انقلاب پڑا ۔ اس لیے آپ تمام حساس اداروں کی نظر میں کھٹکتے تھے۔ انہی وجوہات کی بناءپر آپ کے پے در پے تبادلے ہوئے۔ آخر کار لاہور کے سرکاری ہسپتال کی ملازمت چھوڑنا پڑی۔اسی دوران پاکستان میں پہلا یوم مردہ باد امریکہ 16 مئی کو شہید عارف الحسینی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے منایا گیا۔ یہ جلوس شہید عارف الحسینی کی قیادت میں برآمد ہوا اور ڈاکٹر صاحب آپ کے دست راست ٹھہرے۔ اس جلوس کے دوران شہید نے اپنے دوستوں کی مدد سے ایک طویل بینر جس پر لکھا گیا تھا لاہور کے معروف کاروباری مرکز الفلاح بلڈنگ کے اوپر لگایا۔ یہی وہ واقعہ تھا کہ جس
کی بناءپر بعد از شہادت نعرہ لگا کہ ” ڈاکٹر کا نعرہ یاد ہے امریکہ مردہ باد ہے “ اسی دوران قائد انقلاب اسلامی امام خمینی بت شکن نے صدائے" ھل من ناصر ینصرنا بلند کی ک " جو شخص جنگ کی طاقت رکھتا ہو وہ محاذ پر جائے“۔ پس اس فرزند زہرا نے آخری امام کے حقیقی نائب کی صدا پر پاکستان سے لبیک یا امام کا نعرہ بلند کیا ور محاذ جنگ میں ڈاکٹری کے فرائض انجام دینے کے لیے روانہ ہوگئے۔ آپ دوران محاذ غازیان ایران کی تیمارداری کے فرائض انجام دیتے رہے۔ آپ نے دوران جنگ ایران کے شہر شلمچے اور اھواز میں طبی خدمات سرانجام دیں۔ اس دوران میں کچھ احباب جب آپ کو آرام کو کہتے تو آپ جواباً کہتے کہ: ” دوستو میں یہاں آرام کرنے نہیں بلکہ فرزندان اسلام کی خدمت کے لیے آیا ہوں “۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے دوستوں نے آپ کو ڈاکٹر پریشان کا لقب دیا اور بعد میں ایک برادر نے ڈاکٹر صاحب کو ایک کارڈ اسرسال کیا جس پر ڈاکٹر شہید مصطفیٰ چمران کی تصویر بنی ہوئی تھی اور لکھا تھا ” چمران ثانی کے لیے“۔ جب برادران برسی ِ امام خمینی کے موقع پر ایران گئے اور شھید مصطفی چمران کی مقتل گاہ پر حاضری دی تو ایک بسیجی نے چمران ثانی کے بارے میں یوں کہا جو کہ امام خمینی کا قول ہے” جیو چمران کی طرح اور مروچمران کی طرح“۔
ڈاکٹر صاحب اور اصول پسندی: ڈاکٹر صاحب کے اصول پسند ہونے اور عاشق انقلاب ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دوران جنگ ڈاکٹر صاحب کی کوششوں سے ادویات کے ٹرک بھی ایران روانہ کیے گئے جن کے ساتھ خود ڈاکٹر صاحب ایران گئے۔ اس دوران جب باڈر پر پہنچے تو عملے نے بتایا کہ آپکے پاسپورٹ پر ایک مہر نہیں لگی ہوئی ہے تو آپ اسی پاﺅں واپس کوئٹہ لوٹے اور اس غلطی کو درست کروایا۔ جب آپ لگاتار سفر کے بعد بارڈر پر پہنچے تو اس افسر نے سوالیہ انداز میں آپ سے کہا: ” ہو کس فولاد کے بنے ہوئے “
شھادت کی خواہش: جب ڈاکٹر صاحب محاذ جنگ سے ایک غازی کی حیثیت سے وطن واپس لوٹ رہے تھے
تو آخری الوداع قبرستان شھداء( بہشت زہرا ) کو کیا۔ آپ فرماتے تھے کہ یہ اتنا خوبصورت ہے کہ دل چاہتا ہے زندہ قبر میں لیٹ جاﺅں۔ یہاں پر شہید ڈاکٹر مصطفیٰ چمران کی تربت بھی ہے۔ جہاں ڈاکٹر صاحب نے خوب گریہ کیا اور شہادت کی دعائیں مانگیں۔ ایک ساتھی اس واقعہ کو یاد کر کے آج بھی کہتے ہیں کہ ہم جیسوں نے کہا ڈاکٹر صاحب ہمارے بچے اور خاندان والے پیچھے وطن میں انتظار کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب آیت اللہ طاہری کے درس میں باقاعدگی سے شرکت کرتے اور برادران کو آگاہ کرتے: ” نمائندہ امام خمینی کے دروس انقلاب پرور ہیں بلکہ مجھے تو ان سے امام خمینی رح کی خوشبو آتی ہے “ شہید کا انقلاب ایران سے لگاﺅ تین بنیادوں پر تھا جس کا اظہار انہوں نے 11 فروری 1990 ءمیں روزنامہ جنگ لاہور کے خصوصی ایڈیشن برائے انقلاب اسلامی ایران میں یوں فرمایا کہ ( انقلاب اسلامی ایران ) قیادت، نظریہ اور قربانیوں کا ثمر ہے۔ جب تک وہاں کے عوام ان بنیادی اصولوں پر قائم ہیں ہم اس وقت تک ان کا ساتھ دیتے رہیں گے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ انقلاب کی بقاءان اصولوں میں مضمر ہے۔
شہید عارف حسینی سے ڈاکٹر شہید کا عشق اور لگا و : اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب شہید قائد نے ” قرآن و سنت کانفرنس “ مینار پاکستان پر منعقد کرنے کو کہا۔ جبکہ ڈاکٹر صاحب حالات کے پیش نظر اس تجویز کے مخالف تھے مگر پھر بھی اپنے محبوب قائد کی آواز پر لبیک کہا اور اپنے قریبی دوستوں سے کہا: اس شخص کی بات ہم پر تین طرح سے حجت ہے: ۱۔ اول عارف حسینی ہمارے قائد ہیں۔ ۲۔ دوم یہ کہ ہمیشہ ان کی ہر بات کے پیچھے کوئی طاقت گویا ہوتی ہے۔ ۳۔ سوم یہ کہ یہ امام خمینی کے نمائندہ ہیں۔ لہٰذا ان کی کسی بات کے آگے چوں چراں گناہ کرنے کے مترادف ہے۔
شھید اور استقبال رھبرمعظم : یہ آپ کی امام خمینی رح سے محبت کا نتیجہ تھا کہ دنیا بھر میں امام کے نمائندگان سے آپ کے روابط تھے اور آپ ان کے ہر امر کی تعمیل بھی لازم سمجھتے تھے۔ 1986 ءمیں جب امام سید علی خامنہ ای صدر اسلامی جمہویہ ایران کی حیثیت سے پہلی بار سرکاری دورے پر پاکستان تشریف لائے تو لاہور میں استقبال کے تمام انتظامی امور آپ کے ہاتھ میں تھے۔ جب تمام تر تیاری کے باوجود صدر اسلامی جمہوریہ ایران ایک دن تاخیر سے آئے تو ڈاکٹر شہید نے استقبالی ہجوم کو فرمایا! ” ہمارے معزز مہمان کل تشریف لائیں گے۔ لہٰذا دور دراز سے آئے ہوئے لوگوں کو گھروں کو واپس نہیں لوٹنا چاھئے۔ یہ صدر ایران کا استقبال نہیں ہے بلکہ امام خمینی رح کے نمائندہ کا استقبال ہے۔ لاہور والے افراد کو چاہیے کہ باہر سے آئے ہوئے برادران کو اپنے گھروں میں لے جائیں اور ان کی مہمان نوازی کریں۔ دوسرے روز جونہی نمائندہ امام خمینی رح لاہور ایئرپورٹ پر آئے تو ڈاکٹر صاحب اور آپ کے احباب نے پاکستان کی تاریخ کا مثالی استقبال کیا۔ آسمان اس موقع پر مرگ بر امریکہ اور یار امام خوش آمد سے گونج اٹھا۔ ڈاکٹر صاحب فرمایا کرتے تھے کہ یقیناً امام خمینی رح خوش ہوں گے کہ اسلامیان پاکستان نے ان کے نمائندہ کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہا ہے۔
ڈاکٹر شہید کی ذات کا امام خمینی رح سے عشق: آپ امام کے سچے اور حقیقی عاشق تھے جس کا ثبوت یہ تھا کہ آپ نے پہلی بار پاکستان میں امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگایا اور ایوانوں میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کو للکارا۔ جب دوران حج ایرانی باشندوں کو شہید کیا گیا تو اگلے سال ایران سے کوئی حاجی حج بیت اللہ کو نہیں گیا۔ اسی سال ڈاکٹر صاحب نے کچھ دوستوں کے ساتھ ایک ٹیم تیار کی جو دنیا کے مختلف کونوں سے حج کے دوران جمع ہوئے تھے جس کا بڑا مقصد تھا کہ حجاج کرام کو شیطان دوراں سے واقف کرانا تھا۔ چنانچہ آپ لوگوں نے حجاج پر واضح کیا: ” اے مسلمانوں تم جس شیطان سے نفرت کا اظہار کر رہے ہو آج وہ امریکہ کی شکل میں موجود ہے لہٰذا آج کے شیطان بزرگ سے برآت کا اعلان کرو، قرآن مجید کے حکم کی تعمیل کرو۔ اس موقع پر ان افراد نے اپنے احرام جن پر مرگ بر امریکہ لکھا ہوا تھا ہوا میں لہرائے اور صدائے احتجاج بلند کی
خدا گواہ رہنا کہ ہم نے تیرے دین رسول اور کتاب اور ان کے پیروکاروں کے دشمنوں کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق اعلان نفرت کردیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ۰۱ ذی الحجہ کی شام ایرانی نشریات سے یہ خبر نشر کر دی گئی کہ آج سعودی عرب میں عالمی سامراج امریکہ کے خلاف مظاہرہ ہوا۔ بعد ازں آپ کو آپ کے دوستوں کو سعودی جیل کی سختیاں برداشت کرنی پڑیں۔ جب کسی دوست نے آپ سے دوران جیل سزاﺅں کی تکلیف کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا: ” اگر ہماری اس کوشش سے امام خمینی رح کو چند سانس بھی سکون کے میسر آجائیں تو یہ اذیتیں کوئی معنے نہیں رکھتیں “ شاید یہی وجہ تھی کہ آپ برادران کے ایک سوال کا جواب یوں دیتے ہیں کہ : دوستو جو کام ذات کے لیے ہوتے ہیں وہ تھکا دیتے ہیں اور جو کام خدا کے لیے قوم کے لیے اور قربت الہیٰ کے لیے ہوتے ہیں وہ انسان کو خستہ نہیں ہونے دیتے۔
ڈاکٹر شہید نقوی کو امام خمینی رح سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ جس کو خود شہید یوں بیان فرماتے ہیں کہ: ” مجھے امام کی دست بوسی کی لذت کا سرور تا زیست نہیں بھولے گا۔ جب بھی تصور میں وہ لمحات آتے ہیں لذت حاصل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ہر وہ محفل جس میں امام خمینی (رح) کا ذکر ہوتا آپ کی پسندیدہ محفل ہوتی تھی اور وہ افراد جو امام اور ان کی فکر کا تذکرہ کرتے تھے آپ کو محبوب لگتے تھے۔ جوں ہی ڈاکٹر صاحب کو امام کی رحلت کی خبر ملی تو آپ دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ لوگوں نے آپ کو اتنا غمگین دیکھا۔ جبکہ اپنے والدین کی وفات پر صرف اشکبار ہوئے۔ یہ نہیں کہ انہیں اپنے والدین کی فرقت کا غم نہیں تھا بلکہ وہ خود کہا کرتے تھے کہ
میرے والدین کی رحلت نے مجھے یتیم کیا تھا جبکہ امام خمینی رح کی رحلت نے مسلمانان عالم کو یتیم کر دیا ہے۔ اس لیے یہ صدمہ ذاتی صدمات سے بڑھ کر ہے“۔
ڈاکٹر صاحب کی شہادت :
آپ کو اپنی موت کا یقین تھا ور آخر ایام میں دوستوں کو کہتے تھے کہ ” میں نہیں چاہتا کہ ضعیفی میں کھانس کھانس کر مروں، خدا میری زندگی کو میری متحرک زندگی سے متصل کر دے “ برس بیت گئے اور ابھی تک شہادت نصیب نہیں ہوئی لگتا ہے کہ میرا کوئی عمل خدا کو پسند نہیں آیا“۔ اس طرح یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ آپ کو یقین تھا کہ آپ کو شہید کیا جائے گا ۔جس کا اندازا اس فقرے سے لگایا جاسکتا ہے جو اپنے وصیت نامہ میں تحریر کیا " میری لاش کا پوسٹ ماٹم نہ کیا جائے اور نہ ہی میرے جنازے پر تنظیمی اجتماع و احتجاج کیا جاے۔ آخر یہ عبد خدا جس کا متمنی تھا۔ اس ہدف تک پہنچ گیا اور طاغوتی طاقتوں اور شیطان بزرگ امریکہ کے حامی اور ایجنٹ جب آپ کی فکر کا مقابلہ نہ کر سکے تو 7 مارچ 1995 ءکو آپ کے ایک رفیق باوفا تقی حیدر کے ہمراہ صبح ساڑھے سات بجے کے قریب آپ کے گھر کے نزدیک یتیم خانہ چوک پہ کلاشنکوف کی گولیوں کا نشانہ بنایا اور آپ شہید ہوئے اور ایک ایسی سرخ موت سے ہمکنار ہوئے جسکی تمنا ہمیشہ کرتے رہے اور اپنے مولا امام علی علیہ اسلام کی طرح اسکی تلاش میں رہے اور بلآخر اسے پالیا۔
ہندوستان کي شمال مشرقي رياست آسام ميں فرقہ وارانہ فسادات بدستور جاري ہيں اور ہلاکتوں کي تعداد ميں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
خبروں کے مطابق متاثرہ علاقوں سےمسلسل لاشيں برآمد ہونے سے ، ہلاکتوں کي تعداد چواليس سے زائد ہوگئي ہے جبکہ فوج اور نيم فوجي دستوں نے ديہي علاقوں تک پہنچ کر تلاشي مہم شروع کر دي ہے۔
پناہ گزينوں کے کميپ کا دورہ کرنے والے ايک جج پر نامعلوم افراد نے حملہ کرديا جس ميں وہ زخمي ہوگئے۔ فسادات سے سب سے زيادہ متاثرہ کھوکھراجھار ضلع ميں کرفيو نافذ ہے اور وزير اعلي ترون گگوئي نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کيا ہے جبکہ ہندوستان کے وزير اعلي منموہن سنگھ کل سنيچر کو آسام کا دورہ کريں گے۔ وزير اعظم منموہن سنگھ نے فسادات پر قابو پانے کے سخت احکامات صادر کئے ہيں۔
کہا جارہا ہےکہ فساد زدہ علاقوں میں صورتحال دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور انسانی المیہ رونما ہونے کا خدشتہ پیدا ہوگیا۔
سات دنوں سے جاري تشدد ميں دو لاکھ لوگ بے گھر ہوگئے علاقے ميں فوج مسلسل فليگ مارچ کررہي ہے علاقے کے باشندوں نے رياستي حکومت پر الزام لگايا ہے کہ وہ فسادات کو قابو کرنے ناکام رہي ہے ۔مقامي باشندوں کا کہنا ہےکہ اگر رياستي حکومت سنجيدگي سے حالات کو قابو کرنے کي کوشش ہوتي تو صورتحال اتني زيادہ خراب نہ ہوتي۔حزب اختلاف کي جماعت بھارتيہ جنتا پارٹي نے مرکزي حکومت پر بھي اسي طرح کا الزام لگايا ہے۔
حکومت پاکستان برطانوی اخبار کے خلاف مقدمہ دائر کریگی
حکومت پاکستان نے برطانوي اخبار دي سن کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا فيصلہ کيا ہے۔
پاکستان کے وزريراعظم کي صدرات ميں ہونے والے کابينہ کے اجلاس ميں جعلي پاسپورٹ اسکينڈل کے حوالے سے شائع ہونے والي رپورٹ کا جائزہ لياگيا اور فيصلہ کيا گيا ہے کہ اخبار کے خلاف مقدمہ دائر کيا جائے۔
پاکستان کي کابينہ نے جعلي پاسپورٹ کے ذريعےاولمپيک وليج کا سفر کرنے کے بارے ميں دي سن کي رپورٹ کو بے بنياد قرار ديا ہے- ذرائع کا کہنا ہے حکومت پاکستان برطانوي عدالت ميں دي سن کے خلاف غلط بياني کا مقدمہ دائر کرے گي۔
اخبار نے دعوي کيا تھا کہ پاکستان ميں دس لاکھ روپے رشوت ليکر جعلي پاسپورٹ، سفري دستاويزات، دو مہينے کا برطانيہ کا ويزا اور پاکستاني اولمپيک اسپورٹ اسٹاف ثابت کرنے کے لئے پاکستان کے اسپورٹ بورڈ کا ايک خط فراہم کيا جا رہا ہے۔
اخبار نے يہ بھي دعوي کيا تھا کہ برطانوي اخبار نے دعوي کيا ہے کہ دہشتگرد پاکستاني اولمپيک ٹيم کے ساتھ برطانيہ ميں داخل ہوسکتے ہيں۔
رپورٹ ميں کہا گيا تھا کہ اس کارو بار ميں بعض پاکستاني سياستداں اور ٹريول اينجنٹ ملوث ہيں۔
اسلام کا مقابلہ کرنے کے لئے میانمار کے مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے
تہران یونیورسٹی میں ، نماز جمعہ آیت اللہ امامی کاشانی کی امامت میں منعقد ہوئی جس میں لاکھوں روزہ دار مؤمنین نے شرکت کی تہران یونیورسٹی میں نماز جمعہ کے خطیب آیت اللہ امامی کاشانی نے میانمار میں مسلمانوں کے بہمیانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام کا مقابلہ کرنے کے لئے میانمار کے مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ دشمن نے ہر طرف سے اسلام کو محاصرے میں لےرکھا ہے اور میانمار کے مسلمانوں کا بہیمانہ قتل عام اسلام کے ساتھ مقابلہ کرنے کی غرض سے ہے۔
آج لبنان، نیویارک اور واشنگٹن سے زیادہ پرامن ہے/ شکستوں کا دورگزرگیا
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے امریکہ کی طرف سے علاقائی قوموں کے خلاف جاری خفیہ جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکستوں کا دورگزر چکا ہے اور اب فتح اور کامیابی کا زمانہ آگیا ہے۔
انھوں نے کہا ہمارے پیشوا حضرت امام خامنہ ای نے علاقہ کی قوموں کے خلاف امریکی جنگ کو خفیہ اور نرم جنگ سے تعبیر کیا ہے ہمیں اس وقت امریکہ کی خفیہ جنگ کا سامنا ہے اور اسرائیل علاقہ میں امریکہ کا ایک سپاہی اور ہمارا دشمن ہے، سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسلامی اقدار کو ختم کرنے کے لئے مسلم معاشرے میں غیر اخلاقی فلمیں اور منشیات کو فروغ دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لبنان آج تمام مشکلات کے باوجود واشنگٹن اور نیویارک سے زیادہ پرامن ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں شہداء اور ان کے خاندانوں پر فخر ہے جنھوں نے سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور آج ان کے اہل خانہ اپنے گرانقدر شہیدوں کی راہ پر پختہ عزم کے ساتھ گامزن ہیں۔
مذھب اباضیہ
عبداللہ اباض تمیمی کو مذھب اباضیہ کا بانی بتایا جاتاہے البتہ بعض اباضی محققین عبداللہ اباضی کی طرف اپنے مذھب کی تاسیس کی نفی نہیں کرتے ہیں تاہم اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ مذھب اباضیہ کے بانی جابر ابن ابوزید (ابو شعثاء ) تھے اور قائل ہیں کہ عبداللہ ،جابر کے فتووں کے مطابق عمل اور فیصلے کیا کرتے تھے ۔
عبداللہ اباضی اٹھارویں ہجری میں عمان کے شہر نزوی میں پیدا ہوۓ اور 93 ہجری میں بصرہ میں وفات پائي ۔
بعض محققین کا خیال ہےکہ اباضی مذھب کے دراصل دو بانی ہیں ایک نے سیاسی قیادت سنبھال رکھی تھی جو عبداللہ اباض تھے اور دوسرے نے فقہی وعلمی قیادت سنبھا لی ہوئي تھی اور وہ جابر ابن زید تھے ۔
عمان میں بسنے والے اباضی مذھب کے پیرووں کے بارے میں مندرجہ ذیل مطلب قابل توجہ ہے ۔
عمان شبہ جزیرہ سعودی عرب کے جنوب مشرق میں واقع ہے اس ملک میں شاہی نظام قائم ہے اور اس کا دارالحکومت مسقط ہے اس ملک کی آب وہوا گرم و استوائی ہے ،عمان کے اہم شہروں میں صحار ،صور،قلھات و دبا کا نام لیا جاسکتاہے تاہم مسقط اس ملک کی اہم بندرگاہ اور تجارتی مرکز ہے ۔
عمان کے اکثر باشندے اباضی مذھب کے پیرو ہیں ،ماضی میں اباضیہ کی امامت کا مرکز شہر نزوی تھا ۔
سرزمین عمان میں سب سے پہلے مسلمان ہونے والے شخص کا نام "مازن بن غضوبہ "ہے مازن کے اسلام لانے کے ایک سال بعد عمانیوں کا ایک گروہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیتا ہے اس زمانے میں ایران کا بادشاہ شیرویہ تھا ،شیرویہ نے اپنی سرحدی فورس کے سربراہ سے نۓ پیغمبر(ص) کے بارے میں تحقیق کرنے کو کہا یہ فوجی سردار رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے کے بعد مسلمان ہوگیا اور عمان کی اکثریت کو بھی مسلمان بنادیا ۔
حضرت علی علیہ السلام کے زمانے میں جو خوارج کا فرقہ وجود میں آیا تھا کئي گروہوں میں بٹ گیا جن میں صفریان نجدات ،اباضیہ اور عجارہ کا نام قابل ذکر ہے البتہ اس وقت اباضیہ ان شدت پسند عقائد کے حامل نہیں ہیں تاہم ان کا شمار خوارج میں ہوتاہے ۔
عمان کے اباضیہ کی بعض اہم شخصیتیں
1 -امام جابر ابن زید انہوں نے مذھب اباضیہ کے اصول وقواعد ترتیب دۓ ۔
2 -ابو عبیدہ مسلم ابن ابی کریمہ تمیمی ؛ان کے زمانے میں مذھب اباضیہ مستقل مذھب کی حیثیت سے سامنے آیا اور اسی زمانے میں اس مذھب کی فکری و عقیدتی آراء کو مدون کیا گیا ۔
3 -ربیع ابن حبیب فراھیدی : یہ بزرگ فقیہ و محدث تھے ۔
مذھب اباضیہ کی خصوصیات
مذھب اباضیہ میں منابع شریعت قرآن سنت اجماع و قیاس و استدلال ہیں ان کے نزدیک عقائد ، عبادات ،اخلاق و معاملات کا بنیادی منبع قرآن ہے ۔
دوسرامنبع سنت ہے جو تواتر کی حد تک ہو ۔
تیسرا منبع اجماع ہے البتہ اجماع قولی کو حجت قطعی اور اجماع سکوتی کو حجت ظنی قراردیتے ہیں ۔
چوتھا منبع قیاس ہے جس کی تفصیلات اور اصول و قواعد ان کی کتب اصول میں مذکورہیں ۔
پانچواں منبع استدلال ہے جس میں استصحاب ،استحسان و مصالح مرسلہ شامل ہیں ۔
اباضیہ کے فقہی ممیزات :
1 - اباضیہ خداکی یکتائي ،نبوت ،حقانیت قرآن اور روزہ نماز جیسی عبادات کو جز ایمان سمجھتے ہیں
2 - اباضیہ کا ایک فقہی امتیاز اعتدال پسند ہونا ہے وہ مسئلہ حدیث و راي ، نیزسیاسی و مذھبی روش میں میانہ روی کے قائل ہیں ۔
اباضیہ کے بعض فقہی مسائل :
1-طعام اھل کتاب کو حرام سمجھتے ہیں مگر یہ کہ وہ ذمی ہوں ۔
2 - دفع مفسدہ جلب مفسدہ پر تقدم رکھتا ہے ۔
3 - مسافر کی نماز قصر ہے ۔
4 - ان کے نزدیک باب اجتھاد کھلا ہے اور مجتھد کے لۓ لغت و اصول دین ،فقہ و مصادر ادلہ میں ماہر ہونا ضروری ہے ۔
5 - ان کے نزدیک واجبات میں علم و ایمان ۔نماز و روزہ ، زکات حج و توبہ امربہ معروف و نہی ازمنکر و جھاد ہیں ۔
6 - ان کے نزدیک نمازجمعہ واجب ہے
7 - اباضیہ قنوت نہیں پڑھتے ۔
اباضیہ کی بعض کتب فقہی :
اجوبۃ ابی نھیان
اجوبہ فقہیہ ابو یعقوب و ارجلانی
احکام الدماء ابی العباس احمد بن محمد
احکام الزکات جاعد بن خمیس خروصی
احکام السفر فی الاسلام یحی معمر
رسالۃ فی احکام الزکات مسلم بن ابی کریمہ ۔
مذھب اباضیہ کا بانی
مورخین ملل و نحل کے نزدیک جو روایت مشہور ہے وہ یہ ہےکہ اباضی مذھب کا بانی عبداللہ بن اباض تمیمی ہے مشہورہےکہ انہوں نے معاویۃ بن ابوسفیان کا زمانہ دیکھا ہے البتہ بعض مورخین کا خیال ہےکہ اس فرقے کے بانی جابر ابن زید ہیں جابر نے بہت سے صحابہ سے کسب فیض کیا ہے وہ فقہ و حدیث میں مہارت رکھتے تھے انہوں نے حضرت علی علیہ السلام اور ابن عباس و جناب عایشہ سے حدیثیں نقل کی ہیں جابر عمان کے رہنے والے تھے ۔
مذھب اباضیہ تاریخی نشیب و فراز میں ۔
ایک سوبتیس ہجری قمری سے مذھب اباضیہ عمان کا سرکاری مذھب قرارپایا البتہ تاریخ میں یہ ملتاہے کہ اباضیہ 75 سے لیکر 95 ہجری قمری میں سب سے پہلے عمان پہنچے ہیں جب حجاج ابن یوسف نے جابر ابن زید کو عمان کی طرف ملک بدرکیا تھا عاہل عمان کا جابر ابن زید کی دعوت کو قبول کرنے کی وجوہات میں یہ ایک اہم بات ہےکہ وہ خود عمان کے علاقے ازد کے رہنے والے تھے اور ازد ہی عمان کا سب سے بڑا قبیلہ ہے اس کے علاوہ جابر ابن زید کی معتدل آراء و نظریات بھی ان کے مذھب کے پھیلنے میں موثر واقع ہوئي ہیں ۔
اموی دور کے آخر میں اباضی مذھب کے پیرو اپنے مذھب کو مخفی رکھہ کر پہاڑی علاقوں میں زندگی گزارا کرتے تھے یہ لوگ عمرابن عبدالعزیز کو امیرالمومنین کہاکرتے تھے ، عباسی حکمرانوں کے زمانے میں جناح ابن عبادہ اور محمد ابن جناح عمان کے حاکم تھے اور انہو ں نے اباضیہ کو اقتدارتک پہنچانے میں اہم کردار اداکیاہے ۔
اباضی رہنماوں نے برسوں تک خفیہ طور پر تبلیغ کی اور ان ہی کی کوششوں سے اباضیہ مذھب کو ترقی ملی ۔
اباضیہ مذھب کے اماموں کی فہرست حسب ذیل ہے ۔
جلند بن مسعود
محمد بن عبداللہ ابن ابی عفان
وارث ابن کعب خروصی
غسان ابن عبداللہ یحمدی
عبدالمالک ابن حمید
مھنا ابن جیفر
راشد ابن نظر۔
علاقے میں بالخصوص عمان میں سامراجیوں کا وجود اور نویں اور دسویں صدی میں ان کی دینی قیادت کے فقدان سے اس ملک میں مغربی سامراج کا تسلط ہوگیا ۔
اباضیہ کے کلامی نظریات ۔
بعض علماءکا کہنا ہےکہ اباضیہ صرف حکمیت کے بارے میں اور امام کے قرشی ہونے کے مسائل میں دیگرمذاھب سے اختلاف رکھتے ہیں اور دیگر مسائل میں کسی نہ کسی فرقے سے اتفاق رکھتے ہیں چنانچہ صفات خدا ،رویت و تنزیہ تاویل و حدوث قرآن کے بارے میں معتزلہ اور امامیہ سے اتفاق رکھتے ہيں ،شفاعت کے بارے میں اباضیہ کی نظر معتزلہ سے نزدیک ہے ۔
مختلف مذاھب کے ساتھہ اباضیہ کے بعض اختلافات و اتفاقات
اھل سنت و اشاعرہ کے ساتھ ان کے اختلافات
گناہ کبیرہ کے مرتکبین کی شفاعت ممکن ہے
صفات خدا زائد برذات ہیں
گناہ کبیرہ کے مرتکبیں لازمی نہیں ہے کہ دوزخ میں جائيں
بغیر تاویل کے صفات خبریہ کا اثبات ممکن ہے ۔
مومنین قیامت میں خدا کو آنکھوں سے دیکھیں گے ۔
قدریہ اور معتزلہ سے ان امور میں اختلاف رکھتے ہیں ۔
انسان کے افعال میں قدرالھی کی نفی
ارادہ خداوندی افعال قبیح سے متعلق نہیں ہوتا اور یہ کہ گناہ کبیرہ کے مرتکبین کے لۓ ایمان وکفر کے درمیان ایک منزل ہے ۔
ان امور میں قدریہ اور معتزلہ سے موافق ہیں ۔
صفات خدا عین ذات خدا ہيں ،خدا کو آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا
مسئلہ امامت میں نص سے انکار ،اثبات استحقاق ثواب براے مومن
اس صورت میں کہ وہ جب بھی گناہ کرے استغفارکرلے ۔
مآخذ
1-الکشف و البیان قلھاتی
2-اللمعۃ المرضیہ من اشعۃ الاباضیہ سالمی ،نورالدین
3 -معجم مصادر الاباضیہ علی اکبرضیائي
4 -الاباضیہ فی المصر والمغرب عبدالحلیم ،رجب محمد
5 -الاباضیہ بین الفرق الاسلامیہ معمر ۔علی یحی
6 –دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی جلد2
7 -مشوھات الاباضیہ بحاز،ابراھیم
رہبر معظم کی ملک کی تینوں قوا اور ملک کے اعلی حکام سے ملاقات ( ۲۰۱۲/۰۷/۲۴)
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حکومت اور اسلامی نظام کے اعلی حکام اور عہدیداروں کے ساتھ ملاقات میں اہداف کے ہمراہ حقیقت پسندی کوحالیہ 32 برسوں میں ایرانی قوم اور اسلامی نظام کی ترقی و پیشرفت کی رمز قراردیا اور ایرانی قوم و اسلامی نظام کی فیصلہ کن توانائیوں اور صلاحیتوں پر تاکید کرتے ہوئے دشمن کے پیچیدہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور ضروری اور غیر ضروری امورکے سلسلے میں تفصیل سے روشنی ڈالی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حقیقت پسندی کے ہمراہ اہداف کی ظریف اور حساس ترکیب پر گہری توجہ کو ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: واقیعات کے ہمراہ اہداف کی ترکیب در حقیقت تدبر کے دائرے میں مجاہدانہ حرکت ہے جس کے لئے عوام کو آگاہی فراہم کرنا اور حکام کی تمام میداںوں میں باہمی ہمدردی و ہمدلی اور تعاون ضروری ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز سے ہی قتل ، قومی و لسانی بحران، آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ، مسلمسل اقتصادی پابندیوں ،تیر ماہ 1378 کے واقعات اور سن 1388 میں رونما ہونے والے حوادث اور چیلنجوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کی عظیم صلاحیتوں اور ظرفیتوں کی بدولت اسلامی نظام ان تمام چیلنجوں کے مقابلے میں کامیاب رہا اور دوسرے میں پہلے مرحلے کی نسبت مزید قوی اور مزید مضبوط بن گيا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حقیقت پسندی اور اہداف کے تضاد کےبارے میں بعض افراد کے نظریہ کو رد کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کے بہت سے اہداف عوامی مطالبات کا حصہ ہیں اور اسی وجہ سے وہ معاشرے کے عینی اور مسلم حقائق میں شمار ہوتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قومی عزت و وقار، ایمان سے سرشار زندگی ، ملک کی مدیریت میں شراکت، ہمہ گیر پیشرفت ،اقتصادی و سیاسی استقلال، اور بین الاقوامی سطح پر عزت و عظمت کو عوام کے حقیقی مطالبات میں قراردیتے ہوئے فرمایا: عوام کے یہ مطالبات در حقیقت انقلاب کے اہداف کا حصہ ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت پسندی اور اہداف میں کوئی اختلاف اور منافات نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حقائق پر عدم توجہ اور منطقی اور معقول امورکے بغیر اہداف کو خیال پردازی اور خام و ناقص تصور قراردیتے ہوئے فرمایا: حکام اور اعلی عہدیداروں کو چاہیے کہ وہ اہداف کا منطقی اور معقول طور پر پیچھا کریں تاکہ اہداف صرف نعرے کی حد تک باقی نہ رہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نےمعاشرے کے حقائق کو نظر انداز کرنے کو راہ کے انتخاب میں خطا اور فیصلے و قضاوت میں اشتباہ کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: ہمیں حقائق کی بنیاد پر اپنی حرکت کو منظم کرنا چاہیے اور اس راہ میں غلطیوں اور غلطیوں کی جگہوں سے حفاظت بہت ہی اہم مسئلہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حقیقت پسندی کے عنوان کے تحت بعض غلط جگہوں کے بارے میں مزید تشریح فرمائی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: انقلاب اور اسلام کے دشمن عوام اور حکام کو حقیقت اور حقیقت نمائی کے ذریعہ محاسبات او راندازوں میں غلطی اور اشتباہ میں مبتلا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں سامراجی محاذ کو بڑا بنا کر پیش کرنے اور ایرانی قوم کی طاقت و توانائی کو چھوٹا بنا کر پیش کرنے کے سلسلے میں دشمن کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر ہم اس حقیقت میں گرفتار ہوجائیں اور اپنی و دشمن کی طاقت کے درمیان محاسبہ میں خطا کریں تو ہم غلط راستے پر چل پڑیں گے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دنیا کے ساتھ دلبستگی اور نفسانی کمزوریوں کو غلطیوں کا دوسرا مقام قرار دیا جو راہ کے انتخاب اور واقعیات کے محاسبہ کے وقت غلطی اور خطا کا سبب بنتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بغیر قربانی کے اہداف تک پہنچنے کے تصور کو اشتباہ کا ایک دوسرا مقام قراردیتے ہوئے فرمایا: بعض واقعیات پر اعتماد اور تمام واقعی مسائل کو ایکدوسرے کے ساتھ ملا کر نہ دیکھنا بھی ایک غلط مقام اور غلط جگہ ہے جس کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ملک کے تمام حقائق کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر پیش کرنے کو بہت زيادہ امید افزا قدم قراردیتے ہوئے فرمایا: ان حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ اگر چہ اہداف کی سمت حرکت کرنے میں ہماری قوم کو چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن اس راہ میں کوئی تعطل موجود نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمنوں کی طرف سے ایرانی قوم کی راہ میں تعطل پیش کرنے کی کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: وہ صریح اور آشکارا طور پر کہتے ہیں کہ دباؤ اور اقتصادی پابندیوں میں شدت کے ذریعہ ایرانی حکام کو اپنے اندازوں اور محاسبات میں نظر ثانی کرنے پر مجبور کریں لیکن ہم حقائق کو ملحوظ رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے محاسبات میں نظر ثانی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنی راہ پر اطمینان کے ساتھ سفربھی جاری رکھنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بعض موجود واقعیات کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران پر بعض سامراجی طاقتوں کا دباؤ ایک حقیقت ہے اور اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: بعض سامراجی طاقتیں جن کے پاس سیاسی و اقتصادی اور پروپیگنڈہ مشینری موجود ہے وہ اپنے آپ کو عالمی برادری بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن یہ بات حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
مشہور نیپالی اداکارہ پوجا لاما کا قبول اسلام
نیپال کی سابقہ معروف آرٹسٹ پوجا لاما جنہیں اب آمنہ کے نام سے پکارا جاتا ہے
س: اسلام کی کون سی خصوصیت نے آپ کو قبول اسلام پر آمادہ کیا ؟ ج: میں بودھ خاندان سے تھی، بودھ مت میرے رگ رگ میں سرایت تھا، ایک سال پہلے میرے ذہن میں خیال آیا کہ دوسرے مذاہب کا مطالعہ کیا جائے، ہندو مت، عیسائیت اور اسلام کا تقابلی مطالعہ شروع کیا، اسلام کی جو سب سے بڑی خصوصیت ہے، وہ توحید ہے، ایک اللہ پر ایمان و یقین کا جو مضبوط عقیدہ یہاں دیکھنے کو ملا، وہ کسی اور دھرم میں نہیں مل سکا۔
س: عالمی میڈیا نے اسلام کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے، اسلام کو دہشت کے انداز میں پیش کیا جارہا ہے، کیا آپ اس سے متاثر نہیں ہوئیں؟
ج: اسلام کے خلاف پروپگنڈے نے مجھے اسلام سے قریب کردیا، اس لئے کہ مطالعہ میں اس کے بر عکس پایا، اور اب میں پورے دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسانیت کے مسائل کا عادلانہ و پر امن حل پیش کرتا ہے۔
س: پوجا جی! آپ کا تعلق فلمی دنیا سے رہا ہے، اور آپ ہی سے متعلق میڈیا میں کئی اسکینڈل منظر عام پر آئے، جس سے آپ کو صدمہ لاحق ہوا ، اور ایک مرتبہ آپ نے خودکشی کی ناکام کوشش بھی کی، کچھ بتائیں گی؟
ج: میں نہیں چاہتی تھی کہ میری ذاتی زندگی کے تعلق سے میڈیا تہمت تراشی کرے ، تبصرے شائع کرے ، مجھے بدنام کرے ،میں آپ کو یہ بتادینا ضروری سمجھتی ہوں کہ اب تک میری تین شادیاں ہو چکی ہیں ، مختصر وقفے کے بعد سب سے علیحدگی ہوتی گئی ، پہلے شوہر سے ایک بیٹا ہے جو میری ماں کے ساتھ رہتا ہے، انہی امور کے متعلق میڈیا نے کچھ نا مناسب چیزیں اچھال دیں، جس سے مجھے بے حد تکلیف ہوئی، لوگ مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ شہرت کے لئے میں نے یہ سب کیا، حقیقت یہ ہے کہ میں بد حال تھی خود کشی کرنا چاہتی تھی، مجھے میرے دوستوں نے سنبھالا ، مذہبی کتابوں کے مطالعہ پر اکسایا ، پھر اسلام قبول کیا، میں اپنا ماضی بھول جانا چاہتی ہوں، اس لئے کہ میں اب ایک پرسکون و با وقار زندگی بسر کررہی ہوں۔
س: پوجا جی! قبول اسلام کے بعد آپ کے طرز زندگی میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں ، آپ کے سر پر اسکارف بندھا ہوا ہے، کیا شراب و تمباکو نوشی سے بھی توبہ کر لی ؟
ج: برائے مہربانی مجھے پوجا نہ پکاریں، پوجا میرا ماضی تھا اور اب میں آمنہ ہوں ، قبول اسلام سے پہلے تناؤ بھرے لمحات میں شراب و سگریٹ میرا سہارا تھے، کبھی اس قدر پی لیتی کہ بے ہوش ہوجاتی تھی۔ ڈپریشن کا شکار ہو چکی تھی ، میرے چاروں اور اندھیرا ہی اندھیرا تھا، لیکن قبول اسلام کے بعد سکھ کا سانس لیا ہے، شراب ، سگریٹ سے توبہ کرلی ہے، صرف حلال گوشت ہی کھاتی ہوں۔
س: اسلام نے خواتین کو جسمانی نمائش ، ناچ گانا اور سازو سرود سے روکا ہے، آپ کس حد تک متفق ہیں؟
ج: میرے مسلمان ہونے کے بعد سارے پروڈیوسروں نے مجھ سے ناطہ توڑ لیا ہے، چونکہ سنگیت میرے نس نس میں سمایا ہوا ہے، اس لئے کبھی کبھار تھمیل( کاٹھمانڈو کا پوش علاقہ)کے ایک ریستوران میں گیت گانے چلی جاتی ہوں، برقع (مکمل پردہ) پہننے کی بھی عادت ڈال رہی ہوں، کوشش کروں گی کہ گانے کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے۔
س: قبول اسلام کے محرکات کیا تھے؟
ج: چونکہ میرے کئی بودھ ساتھی اسلام قبول کر چکے تھے، جب وہ مجھے پریشان دیکھتے تو اسلام کی طرف رغبت دلاتے، اس کی تعلیمات بتاتے، میں نے مطالعہ شروع کیا، ایک دن مجھے ایک مسلم دوست نے لیکچر دے ڈالا، اس کا ایک جملہ میرے دل میں پیوست ہوگیا کہ کوئی بھی غلط کام انسانوں کے ڈر سے نہیں بلکہ اللہ کے ڈر سے نہیں کرنا چاہئے، چنانچہ اسی وقت اسلام کے دامن میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔
س: قبول اسلام کے بعد آپ کے خاندان کا کیا رد عمل رہا؟
ج: اسلام کو گلے لگانے کے بعد میں نے اپنے خاندان کو اطلاع دی، جو دار جلنگ میں رہتا ہے، میری ماں نے بھر پور تعاون کیا، انہوں نے جب مجھے دیکھا تو پھولے نہیں سمائیں، کہنے لگیں'' واہ بیٹا! تو نے صحیح راہ چنی، تمہیں خوش دیکھ کر مجھے چین مل گیا ہے‘‘۔ میری عادتیں بدل گئی ہیں، اس لئے خاندان کے دوسرے لوگوں نے بھی سراہا۔
س: میڈیا نے شک ظاہر کیا ہے کہ کہیں آپ کسی مسلمان کی محبت میں گرفتار ہیں اور اس سے شادی کے لئے آپ نے اسلام قبول کیا ہے؟
ج: بالکل بے بنیاد خبر، میرے کئی دوست مسلمان ہیں ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کسی کی محبت میں گرفتار ہوں اور اس سے شادی کے لئے اسلام لائی ہوں ، ہاں اب میں مسلمان ہوں ، لہذا میری شادی بھی کسی مسلمان سے ہی ہوگی ، اور جب اس کا فیصلہ کروں گی تو سب کو پتہ چل جائے گا۔
قبا كي مسجد ( اسلام کی پہلی مسجد)
قبا مدینہ منورہ کے جنوب میں بالائی علاقہ ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آله و سلم جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے قبا میں آباد تھا۔ آپ نے تین دن اس جگہ پر قیام فرماکر اہلِ قبا کی درخواست پر مسجد قبا کی بنیاد ڈالی آپ نے اہلِ قبا کو حکم دیا کہ پتھر جمع کرو اور اپنی چھڑی سے قبلہ کے تعین کےلئے ایک خط کھینچا۔ اور اپنے دستِ مبارک سے ایک پتھر بنیاد میں رکھا۔ پھر صحابہ کرام کو حکم دیا کہ ہر شخص ایک ایک پتھر ترتیب سے رکھے۔ آپ اس مسجد کی تعمیر کےلئے خود پتھر ڈھوتے تھے۔ قرآن کی یہ آیت ترجمہ ”البتہ مسجد وہ ہے جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی“ اسی مسجد قبا کی شان میں نازل ہوئی۔
مسجد قبا صرف عبادت کی ہی جگہ نہیں تھی بلکہ معارف اور احکام اسلام اور تعلیمات دینی اسی مسجد میں بیان ہوتے تھے ان کے علاوہ سیاسی مسائل اور قضاوت و غیرہ بھی یہیں انجام پاتے تھے ۔
مسجد کا ہال کمرہ مستطیل ہے۔ اور اندرون مسجد صحن ہے۔ جس کے اطراف میں دالان ہیں جن کے دروازوں کارخ صحن کی طرف ہے۔ دو منزلہ شمالی حصہ عورتوں کےلئے مخصوص ہے، مردوں اور عورتوں کے داخلے کے دروازے جدا جدا ہیں۔
مسجد پر 56 چھوٹے گنبد ہیں جن کا قطر 6 میٹر ہے، اور چھ بڑے گنبد ہیں جن کا قطر 12 میٹر ہے۔ مسجد کے دروازوں پر آٹھ گنبد ایک دوسرے سے متصل ہیں۔ اور مسجد کے چاروں کونوں پر چار مینار ہیں۔ جو ایک دوسرے کے ہم شکل ہیں۔ اور سطح زمین سے سینتالیس میٹر اونچے ہیں مسجد کی چار دیواری ساڑھے تین میٹر تک گرینا ئٹ پتھر سے تعمیر کی گئی ہے اور صحنِ مسجد میں سنگِ مر مر اور منقش گرینائٹ کا استعمال کیا گیا ہے۔ صحن کو چھپر سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ جو بوقت ضرورت کھولا بند کیا جاسکتا ہے۔ الیکٹرانک ذریعہ سے بوقت ضرورت نمازیوں کو دھوپ کی تمازت سے بچانے کے لئے یہ انتظام مسجد نبوی کے صحن میں بھی چھتریوں کے ذریعے کیا گیا ہے۔
اماموں اور موذنوں کےلئے مشرق کی جانب پانچ مکانات تعمیر کئے گئے ہیں جہاں مختلف انتظامی دفاتر بھی ہیں۔ اس طرح مسجد ومتعلقات کا کل رقبہ13 ہزار500 سو مربع میٹر پر مشتمل ہے اور مسجد کے اندر اور باہر فرش پر بیس ہزار افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ بیرونی فرش کا رقبہ چوبیس سو چوہتر مربع میٹر ہے۔ مسجد کے ارد گرد پارکنگ کا انتظام ہے۔ مردوں کی نماز گاہ 5035 مربع میٹر اور عورتوں کی نماز گاہ 750 مربع میٹر پر مشتمل ہے مردوں کی ضروریات اور وضو خانے 602 مربع میٹر اور عورتوں کےلئے 255 مربع میٹر جگہ رکھی گئی ہے - سمیت مسجد کا کل رقبہ 13500 مربع میٹر ہے۔ اس مسجد کی عمارت میں مختلف حجم کی تینتیس لاکھ اینٹیں استعمال کی گئی ہیں اور چھ ہزار مربع میٹر سنگِ مرمر استعمال کیا گیا ہے۔
امریکی صدر اوبامہ کے بیان پر ہندوستانی سیاسی رہنماؤں کی شدید تنقید/ امریکہ خود معاشی بحران کا شکار
امریکی صدر باراک اوبامہ نے ہندوستانی خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے ساتھ گفتگو میں ہندوستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے سلسلے میں ممنوعیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کو بیرونی سرمایہ کاری کی روک اٹھا لینی چاہیے تاکہ ہندوستان کی معاشی صورتحال بہتر ہوسکے۔ اوبامہ کے اس مشورے کو ہندوستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ خود معاشی بحران کا شکار ہے اور اوبامہ کو دوسرے ممالک کو درس دینے کے بجائے امریکی معاشی صورتحال کو ٹھیک کرنا چاہیے۔
ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل هوا ہے کہ امریکی صدر باراک اوبامہ نے ہندوستانی خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے ساتھ گفتگو میں ہندوستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے سلسلے میں ممنوعیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کو بیرونی سرمایہ کاری کی روک اٹھا لینی چاہیے تاکہ ہندوستان کی معاشی صورتحال بہتر ہوسکے۔ اوبامہ کے اس مشورے کو ہندوستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ خود معاشی بحران کا شکار ہے اور اوبامہ کو دوسرے ممالک کو درس دینے کے بجائے امریکی معاشی صورتحال کو ٹھیک کرنا چاہیے۔ ہندوستان میں حکمراں محاذ یو پی اے سمیت اپوزیشن جماعتوں نے بھی اوبامہ کے اس بیان پر تنقید کی ہے۔
کانگریس پارٹی کے رہنما اور مرکزی وزیر ہریش راؤت نے کہا ’ہم کسی ملک یا معاشی نظام کی بہتری کے لیے نہیں بلکہ اپنی معاشی بہتری کے لیے فیصلہ کرتے ہیں۔ آج دنیا میں یہ بات سبھی محسوس کر سکتے ہیں کہ یوروزون جیسے معاشی بحران کے باوجود ہندوستانی معیشت سات فیصد کی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ خوردہ بازار جیسے شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت اس لیے نہیں ہونی چاہیے کہ باراک اوبامہ ایسا سوچتے ہیں۔بی جے پی کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا کا کہنا تھا: ’اگر اوباما خوردہ بازار میں بیرونی سرمایہ کاری چاہتے ہیں اور ہندوستان اس کے حق میں نہیں ہے تو پھر ان کے چاہنے سے ایسا نہیں ہوسکتا۔
بی جے پی کے ترجمان مختار عباس نقوی نے اوباما کے بیان کو مضحکہ خیز بتایا۔ ’وہ امریکہ جو خود معاشی مندی کا شکار ہو وہ دوسرے ممالک کو سرٹیفکٹ دے تو یہ تو مضحکہ خیز بات ہوئي۔ ہم خود اپنے ملک کے مفاد مطابق فیصلہ کریں گے۔بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی امریکی صدر اوبامہ کے بیان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیا ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
