Super User

Super User

Wednesday, 18 July 2012 06:32

روزہ کا ظاھر وباطن

انسان جسم اور روح سے مرکّب ھے، جسم روح کی فعّالیت کا وسیلہ اور روح جسم کی حیات ھے۔ اگر جسم سے روح نکل جائے تو جسم مردہ اور بے حرکت ھو جاتا ھے ، اور دوسری طرف روح کی فعّالیت کا سلسلہ متوقّف ھو جاتا ھے ۔انسان کے اعمال و عبادات بھی بالکل انسان کے مانند ھیں ، ان میں بھی ایک جنبہٴ ظاھری و جسمانی ھے یعنی پیکر عمل، اور ایک جنبہٴ باطنی و روحانی ھے یعنی فلسفہ و اسرار عمل۔ جس طرح انسان کی زندگی اس کی روح میں ھے اسی طرح عمل کی حیات بھی اس کے اسرار اور فلسفہ میں ھے اور جس طرح روح کے بغیر انسان مردہ ھے اسی طرح اسرار و فلسفہ کے بغیر اعمال مردہ ھیں ، لیکن اکثر انسانوں کی مشکل یہ ھے کہ وہ جسم پرست اور ظاھر بین ھیں ، وہ جسم کی زینت اور خدمت میں خود کو اتنا مشغول کر لیتے ھیں کہ انھیں روح کی طرف توجہ دینے کی فرصت ھی نھیں ملتی ۔ یہ پوری انسانیت کی مشکل ھے، آج کا انسان روح اور روح کے تقاضوں سے بے خبر صرف جسم کی خدمت میں لگا ھوا ھے اور بغیر روح کے جسم کتنا ھی قوی کیوں نہ ھو جائے مردہ ھے۔ آج کے انسانی معاشروں نے بڑی مضحکہ خیز بلکہ بھیانک شکل اختیار کر لی ھے ۔ شھر، سڑکیں، گلیاں، مکان سب سجے ھوئے ھیں لیکن ان میں حرکت کرنے والے انسان مردہ ھیں ۔جنکی حرکت ایک انسانی حرکت نھیں بلکہ ایک مشین یا روبوٹ کی حرکت کے مانند ھے، جن کی ساری بھاگ دوڑاس لیے ھے کہ ان کے جسم کی تمام ضرورتیں اور خواھشیں پوری ھو جائیں لیکن اسکی کوئی فکر نھیں کہ روح کا کوئی تقاضا پورا ھویانہ ھو۔تعجب اس بات پر ھے کہ پھر یھی انسان شکایت کرتا ھے کہ معاشرے میں فساد اور جرائم بڑھتے جا رھے ھیں جبکہ اسے معلوم ھے کہ مردہ جسم کو اگر دفن نہ کر دیا جائے تو اس میں تعفّن اور فساد کا پیدا ھونا لازمی ھے۔

 

ایک سنجیدہ مسئلہ

انسانوں ھی کی طرح انسانی اعمال اور عبادتیں بھی اگر بغیر روح کے انجام دی جائیں تو نہ صرف یہ کہ ان کا انسانی زندگی پر کوئی مثبت اثر نھیں پڑتا بلکہ در حقیقت وہ مزید فساد کا باعث بنتی ھیں ۔ تصنّع، ریا کاری ، فریب، تکبّر، اور خود نمائی جیسے اخلاقی مفاسد بعض اوقات انھیں بے روح عبادتوں کے نتیجے میں پیدا ھوتے ھیں جن میں اکثر عباد ت گزار مبتلا ھوجاتے ھیں ۔عبادتوں کے ان نتائج کو دیکہ کر ایک بڑا طبقہ ان سے دور ھو جاتا ھے اور دور ھونا بھی چا ھیے کیونکہ مردہ چیزوں سے ھر شخص دوری اختیار کرتا ھے۔ پھر یہ شکایت کی جاتی ھے کہ جوان نسل مسجد میں نھیں آتی، جوان روزہ نھیں رکھتے اور یہ درست بھی ھے لیکن وہ مسجد میں اس لئے نھیں آتے کیوں کہ انھیں اسرار نماز نھیں معلوم ، وہ روزہ اسلئے نھیں رکھتے کیوں کہ انھیں فلسفھٴ روزہ نھیں بتایا گیا ھے ۔

 

راہ حل

آج جب کہ پوری بشریت شدّت سے اپنے اندر معنویت اور روحانیت کا خلا محسوس کر رھی ھے او ر دوسری طرف ان بے روح عبادتوں کو قبول بھی نھیں کیا جا سکتا تو ضرورت اس بات کی ھے کہ ان تمام عبادتوں کے اسرار و فلسفے بیان کیے جائیں ، لوگوں کو جتنے احکام بتائے جائیں اس سے کھیں زیادہ ان کے اسرار بتائے جائیں ، احکام کا فلسفہ بیان کیا جائے۔

ممکن ھے کوئی یہ راہ حل پیش کرے کہ جو چیز بے روح ھو جائے اسے ترک کردیا جائے لھٰذا یہ بے روح نمازیں ، بے روح روزے ، بے روح حج، بے روح عبادتيں ، بے روح عزاداری، حتّیٰ بے روح دین ان سب کو ترک کر دیا جائے ۔اگر اس ترک کرنے سے مراد یہ ھو کہ ان بے روح عبادتوں اور اعمال کو ترک کر کے زندہ عبادتےں ، زندہ اعمال اور زندہ دین کو اپنایا جائے تو یہ وھی راہ حل ھے جو پھلے بیان کیا گیاھے یعنی ان میں روح پیدا کی جائے ان کے اسرار وفلسفے بیان کئے جائیں ، لیکن اگر اس سے مراد یہ ھو کہ سرے سے دین کو ترک کر دیا جائے، سرے سے عبادتےں ھی نہ انجام دی جائیں ، سرے سے عزاداری ھی نہ کی جائے تو یہ راہ حل ایسا ھے جیسے کوئی کھے کہ آج اکثر انسان اور انسانی معاشرے روحانیت اور معنویت سے خالی ھیں لھٰذاان سب کا خاتمہ کر دیا جائے۔یہ کوئی راہ حل نھیں ھے کہ ابرو سنوارنے میں آنکھیں پھوڑ دی جائیں ۔

 

افطار کروانا

قال الكاظم علیه السلام: فطرك اخاك الصائم خير من صيامك.

امام كاظم (علیہ السلام) نے فرمایا: تم جو اپنے روزہ دار بهائی کو افطار کراتے ہو تمهارے اپنے (مستحب) روزے سے بہتر ہے.

(الكافى، ج 4 ص 68، ح 2 )

 

ماه رجب کا روزه

قال الكاظم (علیہ السلام) : الرجب نهر فى الجنة اشد بياضا من اللبن و احلى من العسل فمن صام يوما من رجب سقاه الله من ذلك النهر.

امام كاظم (علیہ السلام) فرمود: رجب جنت کی ایک نہر کا نام ہے جو دودھ سے زیاده سفید اور شھد سے زیاده شیرین ہے. جو شخص رجب کے مہینے مین ایک روزہ رکهے گا خدا اس کو نهر سے اس کو نوش کرائے گا.

(من لا يحضرہ الفقيہ ج 2 ص 56 ح 2 - وسائل الشیعة ج 7 ص 350 ح 3 )

 

روزہ‏ داروں کی دعا

قال الكاظم (علیہ السلام) دعوة الصائم تستجاب عند افطارہ

امام كاظم (علیہ السلام) نے فرمایا: روزہ دار کی دعا افطار کے وقت مستجاب ہوتی ہے.

(بحار الانوار ج 92 ص 255 ح 33)

 

مؤلف: محمد حسين فلاح زادہ

Wednesday, 18 July 2012 06:29

رمضان خودسازی کا مہینہ

خود سازی، خود شناسی (معرفت نفس) سے آغاز ہوتی ہے۔ سب سے پہلے انسان کو اپنی معرفت حاصل کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو پہچاننا چاہیے تاکہ اپنے آپ کو بنا سکیں۔ اس لیے کہ خود شناسی اور معرفت نفس، خدا شناسی اور معرفت خدا کا سبب بنتی ہے۔ اور اگر خدا کو پہچان لیا گویا اپنے آپ کو بنا لیا۔

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم کیوں پیدا ہوئے ہیں؟ ہماری خلقت کا مقصد کیا ہے؟ خدا وند عالم قرآن کریم میں واضح طور پر بیان کر رہا ہے: وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون۔ میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔

بہت ساری تفاسیر میں لیعبدون کو لیعرفون کے معنی میں لیا ہے۔ یعنی خلقت کا مقصد معرفت ہے۔ ورنہ صرف نماز و روزہ اور دعا کا نام عبادت نہیں ہے۔ نماز و روزہ اور خمس و زکاۃ عبادت کا ایک حصہ ہے۔

کیسے خلیفۃ اللہ بنیں؟

عبادت، سماج میں زندگی گذارنے اور دوسروں کے لیے جینے کا نام ہے۔ یہ جو عبادت کے لیے تاکید کی جاتی ہے کہ عبادت کو اجتماعی طور پر انجام دینا چاہیےاور مسجد اور جمعہ جماعت میں شرکت کرنا چاہیے، اسی وجہ سے ہے کہ انسان کی معرفت اور پہچان اس کی ذات سے منحصر نہ ہو جائے۔ اور اسے دوسروں تک بھی سرایت کرنا چاہیے۔ ہم اس لیے نہیں پیدا ہوئے ہیں کہ صرف اپنی ہی فکر کریں اور اپنی ہی نجات کے بارے میں فکر کریں۔ بلکہ سماج اور سوسائٹی کے درمیان زندگی گذاریں۔ معاشرے کو ساتھ لے کر چلیں۔ دوسروں کی فلاح اور بہبود کی بھی فکر کریں ۔بہرحال ہماری بحث معرفت کے بارے میں نہیں کہ جوایک طولانی بحث ہے جس کی یہاں پر گنجائش نہیں ہے۔ یہاں پر ہمیں یہ بیان کرنا ہے کہ کیسے اپنے آپ کو اچھا بنائیں؟ کیسے انسان اپنے آپ کو ایسا بنائے کہ خدا کا خلیفہ کہلائے؟ خود سازی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اخلاق کوا یسا بدلے جیسا خدا چاہتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ہمارا جی تکبر اور خود خواہی کی طرف مائل ہوتا ہے تو اپنے نفس کی ایسی تربیت کریں کہ تکبر اور خود خواہی سے نجات پاجائیں اور تواضع اور انکساری ہمارے اندر پیدا ہو جائے۔ اگر ہمارے اندر بخل اور کنجوسی پائی جاتی ہے تو اس مذموم صفت کو ختم کر کے اس کی جگہ کرامت اور بخشش کی صفت پیدا کریں۔ خلاصہ کلام یہ کہ صفات سلبیہ اور رذیلہ کو اپنے نفس و روح سے دور کر کے صفات ثبوتیہ اور حسنہ کا لباس اپنے وجود کو پہنائیں۔

کیا کرنا چاہیے؟

اپنے دل کو ہر اس چیز سے جو اللہ کی نظر میں ناپسند اور مکروہ ہے پاک اور پاکیزہ بنائیں اور اپنے تمام اعضاء و جوارح کو اس کی رضا اور خشنودی کی راہ میں لگا دیں۔

اپنے اندر حلم اور بردباری کی عادت ڈالیں اس لیے کہ حلم انسان کے مقام کو بلند و بالا کرتا ہے اور لوگوں کے درمیان باعزت و شرف ہونے کا باعث بنتا ہے۔ اور بزرگوں اور بڑوں کا احترام کریں اور ہر وہ چیز جو پستی، سستی اور کہولت کا سبب ہے سے دور رہیں اور جو چیز خدا سے نزدیک اور اس کا تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اسے اپنے وجود کے اندر پیدا کریں۔ اس چیز کی طرف قدم بڑھائیں جو عاقبت بخیر کا باعث ہو اور جس کا ثمرہ اور پھل میٹھا ہو۔

عفت اور پاکدامنی کی حفاظت کریں اور جو چیز نفرت ، خجالت اور شرمندگی کا باعث ہے اور انسان کی شخصیت پر دھبہ لگاتی ہے اس سے پرہیز کریں۔ صبر سے کام لیں تاکہ یقین اور رضا کی منزل پر پہنچ سکیں خدا کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم رہیں مشکلات، مصائب، سختیوں اور پریشانیوں کے سامنے گھٹنا نہ ٹیکیں۔

عقل و روح کے تکامل کی طرف بڑھیں۔ اور تقویٰ اور عمل کے دو پروں کے ساتھ عزت اور عظمت کی بلندیوں کی طرف پرواز کریں۔ دنیا کی محدود لذتوں سے دل نہ لگائیں بلکہ تقویٰ، ورع، پارسائی اور زہد کے اسلحوں سے اپنے آپ کو مسلح کریں۔ تاکہ شیطان کو میدان جنگ میں شکست دے سکیں۔ اس طریقے سے اپنے نفس پر تسلط حاصل کریں اور نفس کی لگام اپنے ہاتھ میں کس کر رکھیں کہ نہ دوسروں کی تعریف اور مدح سرائی ہمارے اوپر اثر کرے اور نہ ان کا برا بلا کہنا اور گالیاں گلوچ دینا۔

اپنے آپ کو خدا کی ہر ناپسند چیز سے محفوظ رکھیں نہ اس سے جسے ہمارا نفس ناپسند کرے۔ مولا کی مرضی کے سامنے اپنی مرضی کوئی معنی نہیں رکھتی۔

آج کل کی فکر کریں اور آج ہی کل کا سرمایہ اگٹھا کریں۔ اور اس ابدی زندگی کے لیے ساز وسامان جمع کریں۔

استقامت اور پائداری کےساتھ تلخ اور ناگوار حادثات کا سامنا کریں اور ہر لمحہ خدا پر بھروسہ رکھیں وہ کل خیر ہے اس کےساتھ وابستہ رہنے سے شر انسان کے قریب نہیں آ سکتا۔ اس کی راہ میں قدم بڑھاتے رہیں اور ہمیشہ اس سے ہدایت کی توفیق طلب کرتے رہیں کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے۔ اھد نا الصراط المستقیم۔

مہر و محبت، دوستی اور ایک دوسرے کا ہاتھ ہمبستگی ، ایثار اور قربانی اور عفو اور بخشش کو نفرت، بغض ،کینہ، خود خواہی اور خود غرضی کا جانشین قرار دیں۔

دوسروں کی زندگیوں سے عبر ت حاصل کریں نہ خود دوسروں کے لیے عبرت بنیں۔

ماہ مبارک رمضان وہ بہترین وقت ہے جس میں انسان کو اپنی فطرت اور سرشت کی طرف رجوع کرنے کا بہترین موقع ملتاہے۔ اور اسے خواب غفلت سے بیدار کرنے اور گناہوں کے پردوں کو ہٹانے کا بہترین مہینہ ہے۔

ماہ مبارک رمضان کے لمحوں کو غنیمت جانیں

بھائیو! اور بہنو! اللہ کا مہینہ آن پہنچا ہے۔ کتنا اچھا ہے کہ اسے بہترین فائدہ اٹھایا جائے۔ ایک لمحہ بھی اس مہینہ کا بیکار میں ضایع نہ ہو۔ اس ایک مہینہ میں ایک سال کی قسمت بلکہ ایک عمر کی قسمت لکھی جاتی ہے۔

ہوشیار رہیں کہ کہیں یہ مہینہ بھی بے توجہی کے ساتھ گذر جائے اور بروز عید ہم شرمندہ ، شرمسار اور رحمت الٰہی سے محروم ٹہلتے ہوئے نظر آئیں۔روایت میں ہے کہ رسول خدا (ص) نے ماہ رمضان سے پہلے ایک خطبہ پڑھا اور اس خطبہ میں فرمایا:

اے لوگو! جبرئیل مجھ پر نازل ہوئے اور کہا: یا محمد! جو آپ کا نام مبارک سنے اور آپ پر درود نہ بھیجے خدا کی رحمت سے دور رہے گا۔ اے محمد! جو شخص ماہ رمضان کو درک کرے اور خدا کی رحمت اور مغفرت کو حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور دنیا سے گذر جائے ہمیشہ خدا کی رحمت سے دور رہے گا۔ اے پیغمبر آپ آمین کہیے۔ میں نے بھی آمین کہا۔(۱)

اس ماہ میں بہشت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور جھنم کے دروازے بند ہیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے کہ جس کی وجہ سے بہشت کے دروازے ہمارے اوپر بند ہو جائیں۔

اس مبارک ماہ میں جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتاہے جنت کو مزین کیا جاتا ہے اور نیک کاموں اور عبادتوں کی جزا دوگنی ہو جاتی ہے۔

رسول خدا ﷺ نے فرمایا: شهر رمضان شهرالله عز و جل و هو شهر يضاعف الله فيه الحسنات و يمحو فيه السيئات، و هو شهر البركة، و هو شهرالانابة، و هو شهر التوبة، و هو شهرالمغفرة ، و هو شهرالعتق من النار و الفوز بالجنة.

 

الا فاجتنبوا فيه كل حرام و اكثروا فيه من تلاوة القرآن و سلوا فيه حوائجكم واشتغلوا فيه بذكر ربكم و لا يكونن شهر رمضان عندكم كغيره من الشهور فان له ‏عندالله حرمه و فضلا على سائر الشهور، ولا يكونن شهر رمضان، يوم صومكم كيوم ‏فطركم . (2(

ماہ رمضان اللہ کا مہینہ ہے کہ جس میں نیک کاموں کی جزا دوبرابر ہو جاتی ہے اور گناہ محو ہو جاتے ہیں۔ ماہ رمضان رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ ماہ رمضان توبہ اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ ماہ رمضان جہنم سے رہائی اور جنت کے حصول کا مہینہ ہے۔

پس اے لوگو! اس مہینہ میں ہر برے اور حرام کام سے دوری اختیار کرو۔ اور قرآن کی کثرت سے تلاوت کرو۔ اور اس کے تمام اوقات کو اللہ کی یاد میں گزارو۔ مبادا یہ مہینہ بھی تمہارے نزدیک دوسرے مہینوں کی طرح رہے اس لیے کہ یہ دوسرے مہینوں پر برتری اور فوقیت رکھتا ہے۔ حضرت امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں: "عليكم فى شهر رمضان بكثرة الاستغفار والدعاء، فاما الدعاء فيدفع البلاء عنكم و اما الاستغفار فتمحى به ذنوبكم ." (3)

آپ پر لازمی ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں کثرت سے دعا اور استغفار کریں اس لیے کہ دعا بلاؤں کو ٹال دیتی ہے۔ اور استغفار گناہوں کو محو کر دیتا ہے۔

بہر حال ، ماہ رمضان خودسازی کامہینہ ہے۔ اور خود سازی کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ انسان اپنی خودی کو بھول کر خدا کو اپنا مالک واقعی سمجھے تا کہ خدا کو پہچان سکے اور اس کی عبودیت کا حق ادا کر سکے۔ اور جو چیز رنگ الٰہی کے مخالف ہو اس سے دور رہے۔ خود سازی اور نفسانی ہوی و ہوس سے کنارہ کشی تمام کمالات اور فضائل انسانی کا منشا ہے۔ اگر کوئی اپنے آپ کو مادی تعلقات سے دور رکھنے میں کامیاب ہوگیا اور دنیاکے تجملات میں غرق نہ ہوا تو یقینا خدا کی طرف متوجہ رہے گا اور تکامل کی طرف گامزن ہو گا۔ اور کامیابی اور کامرانی کے بلند ترین مقام پر فائزہوگا۔

خدا شاہد ہے کہ دنیا کےتمام مفاسد ، مظالم، فتنہ وفساد صرف خود پرستی اور ہوس پرستی کی بنا پر ہیں۔لہذا قرآن کریم میں ہمیشہ تزکیہ اورتربیت تعلیم اور تعلم پر مقدم ذکر ہوا ہے اور خود سازی یعنی تزکیہ نفس اور ماہ رمضان تزکیہ اور تطہیر نفس کے لیے ہے۔ پس آئیے اس مبارک مہینہ میں خدا کا قرب حاصل کریں تاکہ روز قیامت سرخرو اس کی بارگا ہ میں حاضر ہوں۔

امام سجاد (ع) کے مناجات کا ایک نمونہ

آخر میں امام سجاد علیہ السلام کی دعا اور مناجات کا ایک حصہ صحیفہ سجادیہ سے نقل کرتے ہیں تاکہ ہماری زندگی کے لیے نمونہ عمل قرار پائے:

" اللهم و انت جعلت من صفايا تلك الوظائف، و خصائص تلك الفروض شهر رمضان، الذى اختصصته من سائر الشهور و تخيرته من جميع الازمنه و الدهور، و آثرته على كل‏ اوقات السنه بما انزلت فيه من القرآن و النور و ضاعفت فيه من الايمان، و فرضت ‏فيه من الصيام، و رغبت فيه من القيام، و اجللت فيه من ليله القدر التى هى خير من الف شهر، ثم آثرتنا به على سائر الامم و اصطفيتنا بفضله دون اهل الملل، فصمنا بامرك نهاره، و قمنا بعونك ليله، متعرضين بصيامه و قيامه لما عرضتنا له من ‏رحمتك و نسبتنا اليه من مثوبتك و انت الملى بما رغب فيه اليك، الجواد بما سئلت ‏من فضلك القريب الى من حاول قربك. " (4(

خدایا تو نے اپنے منتخب کاموں اور مخصوص فرائض سے ماہ مبارک رمضان کو قرار دیا ہے۔ وہ مہینہ جسے تو نے تمام مہینوں میں سے انتخاب کیا ہے اور تمام دنوں اور لمحوں میں سے اسے چنا ہے۔ اور سال کے تمام اوقات پر اسے فوقیت اور برتری عطا کی ہے۔ یہ فوقیت اس لیے ہے کہ اس کے اندر قرآن اور نور کو نازل کیا ہے اور ایمان کو اس مہینہ کے اندر دوگنا کیا ہے اور روزہ کو اس ماہ میں واجب کیا ہے اور شب بیداری کو اس میں عبادت کے لیے قرار دیا ہےاور اس ماہ میں شب قدر کو رکھا ہے کہ جو ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ پھر ہمیں اس مہینہ کے وسیلہ سے تمام دیگر مذاہب اور امتوں پر برتری عطا کی ہے۔ پھر تیرے حکم سے ہم اس کے دنوں کو روزہ رکھتے ہیں اور تیری مدد سے اس کی راتوں کو عبادت کرتے ہیں۔ اس حال میں کہ اس کے صیام و قیام کے وسیلہ سے اس کی بارگاہ میں دعوت کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اور اسے تیرے حضور سے اجرو ثواب لینے کا سبب قرار دیتے ہیں تو ہر اس چیز پر قادر ہے جو تیری بارگاہ سے ہم طلب کرتےہیں۔ اور جو کچھ بھی تیرے فضل و کرم سے مانگا جائے تو عطا کرتاہے اور جو تیرے تقرب کی تلاش میں ہو تو اس کے نزدیک ہوتا ہے۔

پروردگار عالم سے دعاگو ہیں کہ ہمیں توفیق عنایت فرمائے کہ ہم اس مہینہ میں اس کی عبادت کر سکیں اور اس کی بارگاہ سے رحمت اور مغفرت طلب کر سکیں۔

حوالہ جات

1-المقنعه، ص 308.

2 -فضائل الاشهر الثلاثه، ص‏95 .

3 -وسائل الشيعه، ج‏7، ص‏220 .

4 -صحيفه سجاديه، دعاى 45.

Wednesday, 18 July 2012 06:27

خود شناسی

روزمرّہ زندگی کی گرفتاریاں انسان کو اجازت نھیں دیتی تھیں کہ وہ اپنے اندر جھانک کر دیکھے اور اپنے آپ کو پھچاننے کی کوشش کرے ۔اب اسے روزہ کے ذریعے اپنے روٹین سے نکالا گیا ھے تا کہ اپنے آپ کو پانے کی کوشش کرے، اپنے اندر جھانک کر دیکھے کہ اسے اتنی قوّتوں ،صلاحیتوں اور استعداد (Abilities) کے ساتھ کیوں پیدا کیا گیا؟

 

جھان شناسی

انسان اپنے باھر کی دنیاکو دیکھے کہ اتنی وسیع کائنات اور اس میں موجود لا محدود نعمتیں کس لئے ھیں اور ان سب کو کیوں انسان کی خدمت میں قرار دیا گیا ھے؟

 

ھدف شناسی

انسان اگر اپنے اندر موجود صلاحیتوں و قوتوں اور اس عظیم کائنات کی وسعتوں کو کسی حد تک پھچان لے گا تو لا محالہ اپنی منزل اور اپنے اھداف کو بھی پھچان لے گا کہ ان فوق العادّہ صلاحیتوں اور ان بے شمار نعمتوں کے ذریعے اسے کن اھداف تک پھونچنا ھے، پھر ایک خود شناختہ انسان کی حرکت کا رخ اس مذکورہ شھوانی مثلث کی طرف نھیں ھو گا کیونکہ یہ شھوات وخواھشات خدا نے انسان کے اندراس لئے رکھی ھیں تا کہ یہ ناقص مخلوق اپنے اندر تکامل پیدا کر سکے مثلاً شھوت جنسی کو اس لئے قرار دیاھے تا کہ انسان وجود میں آسکے یعنی اسکے ذریعے تولید نسل کا سلسلہ جاری رھے ۔خواھش آب و غذا اس لئے رکھی گئی تا کہ انسان انھیں استعمال کر کے اپنے آپ کو باقی رکہ سکے لیکن صرف تو لید نسل اور اپنے وجود کی بقاھی انسان کا کل ھدف نھیں ھے ،بلکہ اسکا اصل ھدف اپنے اس ناقص وجود کو کمال تک پھونچانا ھے ۔اسطرح خود شناسی ،جھان شناسی اور ھدف شناسی کے بعد انسان کی حرکت کا رخ کمالات کی طرف مڑ جاتا ھے جو اسکے اندر کا ایک فطری تقاضا ھے ۔

 

خدا شناسی

کسب کمالات بھی انسان کا آخری ھدف نھیں ھے ۔اسکا آخری ھدف ان کمالات سے متصّف ھو کر کمال مطلق یعنی ذات خدا تک پھونچنا ھے ”یَا اَیُّھَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلَی رَبِّکَ کَدْحاً فَمُلَاقِیْھ“انسان کا سفر خدا کی طرف ھے اور اسے خدا سے ملاقات کرنی ھے ۔یہ انسان کا نھائی ھدف (Last Target)ھے،یہ ھدف کثرت عبادات سے نھیں بلکہ عبادات کے باطن اور اسرار سے حاصل ھوتا ھے ،عبادات کا باطن اپنی تطھیرکرکے کمالات کو حاصل کرنا ھے ،پس انسان اپنے عمل کے ذریعے جتنا پاکیزہ اور با کمال ھو گا اتنا ھی ذات خدا سے قریب ترھوگا”اِلَیْہ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُھ“خدا کی طرف پاکیزہ نفوس بلند ھوتے ھیں اور ان کے بلندکرنے کا وسیلہ اسکے اعمال صالحہ ھیں ۔عمل صالح یعنی ایسا عمل جس میں انسان کو باکمال اور بلند کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ھو ،اسطرح خودشناسی و جھان شناسی انسان کو ھدف شناسی اور کمال طلبی کے راستے سے خدا شناسی تک لے آتی ھے ۔

روزہ در حقیقت خود شناسی سے خدا شناسی تک سفر کرنے کی ایک مشق ھے اورایک مھینہ مشق کرنے کے بعدانسان کو پورے سال اسی سفر کو جاری رکھنا ھے۔

 

دشمن شناسی

اس سفر کی راہ میں ایک بھت قوی اورنامرئی دشمن بھی موجود ھے جس نے خدا کی عزّت کی قسم کھا کر اعلان کیا ھے کہ صراط مستقیم پر بیٹھ کر اس راہ کے مسافروں کو گمراہ کرے گا”لَاَقْعُدَنَّ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ثُمَّ لَآتِیَنَّھُمْ مِنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَمِنْ خَلْفِھِمْ وَ عَنْ شَمَائِلِھِمْ“ صراط مستقیم پر بیٹھ کرمیں بندگان خدا کو ھر سمت سے گمراہ کروں گا، لھٰذا ایسے دشمن کی عمیق شناخت کے بغیرانسان اس سفر کو طے نھیں کر سکتا ،یہ ایک ایسا دشمن ھے جسکا سب سے بڑا اسلحہ خود انسان کے اندر موجود ھے ”اعدی عدوک نفسک التی بین جنبک“تمھارا سب سے بڑا دشمن خودتمھارا نفس ھے جوخود تمھارے اندر موجود ھے ،یہ شیطان کا اندرونی اسلحہ ھے ، اور اگر اپنے وجودسے باھر نگاہ کریں تو اسکے فراوان لشکر موجود ھیں جن میں انسان اور جنّات دونوں شامل ھیں ”من الجنّة و النّاس “پس اتنے بڑے دشمن جن کا قرآن نے ”عدو مبین“کہہ کرتعارف کرایا،کے ھوتے ھوئے اس سفر کو طے کرنا بھت آسان نھیں ھے ۔

آج شیطانی طاقتوں نے میڈیا ،سٹ لائٹ ،انٹرنیٹ اور یوروپین کلچر کے ذریعے انسان سے اسکے کمال کا راستہ چھین لیا ھے آج کا انسان یہ اچھی طرح محسوس کر رھا ھے کہ انٹرنیٹ کے عھد کی نسلیں انسانی اقدار (Human Values) سے خالی ھوتی جا رھی ھیں مثلاًغیرت ایک قدر (Value)ھے جو انسان کے کمال میں دخیل ھے لیکن ایک جوان جس نے ساری رات انٹرنٹ کی فحش سائٹوں میں گزاری ھے اسے اگر صبح کے وقت عراق کے ابو غریب جیل کی تصویریں دکھائی جائیں تو اسے ذرا بھی غیرت نھیں آتی ،جبکہ انسانی غیرت کا معیار یہ ھے کہ لشکر معاویہ نے یمن میں یھودی عورت کے پیروں سے پازیب اتارا تو امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر اس عمل پر ایک انسان غیرت سے مر جائے تو وہ اس کا مستحق ھے ۔

 

روزہ کا ایک فلسفہ یہ ھے کہ انسان اس مھینہ میں اپنے ان دشمنوں کے خلاف آمادہ ھو جنھوں نے اس سے اس کے تکامل کا راستہ چھین لیا ھے ،دشمن سے مقابلہ کرنے اور اس پر غلبہ پانے کے لئے صبر و استقامت کی مشق کرے ،شیطانی فریب سے بچنے وھوائے نفس پر غالب ھونے کے لئے جھاداکبر کی مشق کرے ، شایداسی لئے اس مبارک مھینے میں شیطان کو سخت زنجیروں میں مقیّد کر دیا جاتا ھے تا کہ انسان کی اس آمادگی میں رکاوٹ ایجاد نہ کر سکے ۔

 

یھیں سے اب ھم دوسرے سوال کی طرف متوجہ ھوتے ھیں کہ کیا روزہ انسان کے اندر ضعف ایجاد کرتا ھے ؟

Wednesday, 18 July 2012 06:24

آزادی یا پابندی؟

انسان کے ذھن میں اٹھنے والے سوالوں میں سے ایک اھم سوال یہ تھا کہ روزہ کے وقت انسان شدید پابندی کی حالت میں ھوتا ھے اور یہ درست بھی ھے لیکن یہ بھی درست ھے کہ انسان کو بلند اھداف تک پھونچنے کے لئے اپنے اوپر پابندیاں عائد کرنی پڑتی ھیں ۔ پابندیاں اگر چہ سخت ھوتی ھیں لیکن بغیر پابندی کے کوئی ھدف اور کمال قابل حصول نھیں ھے ۔

ایک طالب علم ، دانشمند اور فنکار کو اپنے بلند اھداف تک پھونچنے کے لئے اپنے اوپر سخت پابندیاں عائد کرنی پڑتی ھیں جنمیں سر فھرست وقت کی پابندی ھے ۔اس کے علاوہ بھت سی حلال چیزیں اپنے اوپر حرام کرنی پڑتی ھیں ورنہ کامیابی حاصل نھیں ھوتی ۔

خاندان ، قبیلہ ،شھر ، ملک اور دنیا کو ھرج و مرج سے بچانے کے لئے انسان کو اپنے اوپر خاندانی ، قبائلی ، شھری ، ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی پابندیاں عائد کرنی پڑتی ھیں ۔ اسی طرح دین و شریعت اور انکے احکام بھی ایک پابندی ھیں جنکے دو ھدف ھیں :

 

۱۔ انسان کو فردی و نفسیاتی مشکلات اور اجتماعی ھرج ومرج سے محفوظ رکھنا ۔

 

۲۔ انسان کے اندر مادی و معنوی ،جسمانی و روحانی اور فردی و اجتماعی تکامل پیدا کرنا ۔

 

روزہ بھی دیگر احکام دین کی طرح ایک پابندی ضرور ھے لیکن ایک ایسی پابندی جو ایک طرف انسان کے اندر تکامل پیدا کرتی ھے اور دوسری طرف اسکو بھت سے نقائص ،رذائل اور شھوات کے زندان سے آزاد کر دیتی ھے ۔

انسان کےلئے سب سے محکم زندان خود اسکے نفسانی ھویٰ و ھوس اور خواھشات ھیں اور حقیقت میں آزاد انسان وہ ھے جس نے اپنے آپ کو اس زندان سے آزاد کر لیا ھو۔

 

امام علی علیہ السلام فرماتے ھیں : ” مَنْ تَرَکَ الشَّھوَاتِ کَانَ حُرّاً“

جو اپنی خواھشات کو ترک کرنے میں کامیاب ھو جائے وہ ایک آزاد انسان ھے-

 

اورروزہ اپنے اسرار کے ساتھ رکھا جائے تو اسکا سب سے بڑا اثر یہ ھے کہ وہ انسان کو نفسانی خواھشات سے آزاد کر کے بلند اھداف کی طرف متوجہ کر دیتا ھے ۔

قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت الله العظمي خامنه اي نے 6 دی تیرہ سو نواسی ہجری شمسی مطابق اکیس محرم الحرام سنہ چودہ سو بتیس ہجری قمری کو فقہ کے اجتہادی و استنباطی درس " درس خارج" سے قبل حسب معمول فرزند رسول حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا ایک قول مع تشریح بیان کیا۔ اس روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مومنین کے درمیان کیسی اپنائیت اور خلوص کا رشتہ ہونا چاہئے۔

"قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع أَ يَجِي‏ءُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِی كِيسِهِ فَيَأْخُذُ حَاجَتَهُ فَلَا يَدْفَعُهُ فَقُلْتُ مَا أَعْرِفُ ذَلِكَ فِينَا فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع فَلَا شَيْ‏ءَ إِذاً قُلْتُ فَالْهَلَاكُ إِذاً فَقَالَ إِنَّ الْقَوْمَ لَمْ يُعْطَوْا أَحْلَامَهُمْ بَعْد"

كافى، ج 2، ص 174

کتاب الکافی میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی یہ روایت منقول ہے کہ «أ يجى‌ء احدكم الى اخيه فيدخل يده فى كيسه فيأخذ حاجته فلا يدفعه» حضرت نے اپنے اصحاب میں سے ایک سے سوال کیا، اب اس روایت میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ وہ صحابی کون تھے، انہوں نے کیا سوال کیا تھا اور وہ کہاں کے رہنے والے تھے؟ اس تمہید کا ذکر اس روایت میں نہیں ہیں۔ حضرت نے پوچھا کہ آپ جس جگہ رہتے ہیں کیا وہاں ایسا ماحول ہے کہ آپ میں سے کوئی آئے اور اپنے برادر دینی کی جیب میں ہاتھ ڈالے اور اپنی ضرورت کے مطابق پیسہ نکال لے اور اس برادر دینی کو ناگوار بھی نہ گزرے؟ کیا آپ لوگ اس مقام تک پہنچ گئے ہیں کہ آپ کی جیبیں ایک دوسرے کے لئے کھلی ہوئی ہوں۔

مرحوم حرز الدین نے نقل کیا ہے کہ معروف اور جلیل القدر عالم دین کاشف الغطاء مرحوم کے زمانے میں شیخ خضر نام کے بڑے اہم عالم دین گزرے ہیں۔ عید کے دن نجف اشرف کے عوام اور اطراف کے قبائل شیخ خضر کے گھر جاتے تھے اور تحفے کے طور پر سامان اور رقم دیتے تھے۔ عید کا دن تھا اور لوگوں نے ان کے سامنے جو چیزیں لاکر رکھی تھیں ان کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ اسی عالم میں شیخ جعفرکاشف الغطاء وہاں پہنچے۔ انہوں نے سامان اور رقم دیکھی۔ ظہر کا وقت آ گیا اور ملنے والے لوگ رفتہ رفتہ لوٹ گئے۔ کاشف الغطاء اٹھے اور اپنی ابا میں اس رقم اور سونا چاندی کو جمع کیا اور خدا حافظ کرکے روانہ ہو گئے۔ شیخ خضر نے بس ایک نظرڈالی اور کچھ بھی نہیں بولے گویا کوئي خاص بات ہوئی ہی نہ ہو۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ اور بھی دلچسپ ہے۔ بہرحال امام نے سوال کیا کہ کیا آپ لوگوں کے درمیان ذاتی چیزوں کے استعمال کے سلسلے میں یہ عالم ہے۔ مثلا آپ نے اپنی قبا کہیں آویزاں کر رکھی ہے۔ آپ کا دوست آتا ہے اور آپ کی قبا کی جیب میں ہاتھ ڈالتا ہے، ضرورت کے مطابق رقم نکالتا ہے اور باقی رقم جیب میں چھوڑ کر روانہ ہو جاتا ہے اور آپ کو ذرہ برابر بھی ناگوار نہیں گزرتا؟ کیا تمہارے درمیان اس طرح کے تعلقات ہیں؟ اس راوی نے جواب دیا کہ ہمارے درمیان ایسا ماحول نہیں ہے۔ امام نے فرمایا کہ پھر تو ابھی کچھ ہوا ہی نہیں۔

میں یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ یہ امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانے کا واقعہ ہے۔ اس زمانے میں شیعہ معاشرہ رفتہ رفتہ تشکیل پا رہا تھا۔ واقعہ کربلا کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام کے تینتیس چوتیس سال کے دور میں عوام الناس رفتہ رفتہ جمع ہو رہے تھے۔ کیونکہ عاشور کے واقعے کے بعد شیعوں کے خلاف جو سختیاں اور زیادتیاں شروع ہوئیں ان سے شیعہ بکھر کر رہ گئے تھے، گوشہ و کنار میں چلے گئے تھے۔ ان چونتیس برسوں میں لوگ دوبارہ رفتہ رفتہ جمع ہوئے۔ امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانے میں لوگ زیادہ جمع ہوئے۔ شہروں اور قرب و جوار کے علاقوں میں لوگ پھر سے جمع ہوئے۔ یہ واقعہ اس زمانے کا ہے اور امام فرما رہے ہیں کہ دنیا کے مختلف گوشوں میں شیعہ مراکز کو اس انداز سے قائم کیا جائے۔ ان کے درمیان آپس میں اس طرح میل محبت ہو۔

حضرت نے جو فرمایا کہ " فلا شئ" تب تو ابھی کوچھ ہوا ہی نہیں، اس کا مطلب یہی ہے کہ جو مطمح نظر ہے وہ ابھی حاصل نہیں ہوا ہے۔ وہ شخص یہ سن کر خوفزدہ ہو گیا اور اس نے پوچھا کہ " فالھلاک اذا؟" ہلاک لفظ کے الگ الگ جگہوں پر مختلف معانی ہوتے ہیں۔ یہاں اس سے مراد ہے بد بختی۔ یعنی تو کیا ہم بد بخت ہیں؟ امام نے جواب دیا " ان القوم لم یعطوا احلامھم بعد" احلام جمع ہے حلم کی۔ اس کا مطلب ہے حلم و بردباری۔ قرآن میں بھی "حلم یحلم" کا لفظ استعمال ہوا ہے خواب کے معنی میں۔ ان دونوں میں فرق ہے۔ روایت میں امام نے یہ فرمایا کہ ہے پھر بردباری اور رواداری کی مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچ سکے ہو۔ لہذا یہاں ہلاک کا مطلب نابودی نہیں ہے اور عذاب خدا میں گرفتار ہونا نہیں ہے۔ یہاں یہ مراد ہے کہ ابھی تمہارے اندر مطلوبہ شرح صدر پیدا نہیں ہوا ہے۔

القاب

نام فاطمہ اور مشہور لقب زہرا، سیده النساء العالمین، راضیۃ، مرضیۃ، شافعۃ، صدیقہ، طاھرہ، زکیہ، خیر النساء اور بتول ہیں۔

 

کنیت

آپ کی مشہور کنیت ام الآئمۃ، ام الحسنین، ام السبطین اور امِ ابیہا ہے۔ ان تمام کنیتوں میں سب سے زیادہ حیرت انگیز ام ابیھا ھے، یعنی اپنے باپ کی ماں ، یہ لقب اس بات کا ترجمان ھے کہ آپ اپنے والد بزرگوار کو بے حد چاھتی تھیں اور کمسنی کے باوجود اپنے بابا کی روحی اور معنوی پناہ گاہ تھیں ۔

پیغمبر اسلام(ص) نے آپ کو ام ابیھا کا لقب اس لئے دیا . کیونکہ عربی میں اس لفظ کے معنی، ماں کے علاوہ اصل اور مبداء کے بھی ھیں یعنی جڑ اور بنیاد ۔

 

والدین

آپ کےوالد ماجد ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی(ص) اور والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ بنت خولد ہیں۔ ھم اس باپ کی تعریف میں کیا کھیں جو ختم المرسلین، حبیب خدا اور منجی بشریت ھو ؟ کیا لکھیں اس باپ کی تعریف میں جسکے تمام اوصاف و کمالات لکھنے سے قلم عاجز ہو ؟ فصحاء و بلغاء عالم، جس کے محاسن کی توصیف سے ششدر ہوں؟ اور آپ کی والدہ ماجدہ، جناب خدیجہ بنت خویلد جو قبل از اسلام قریش کی سب سے زیادہ باعفت اور نیک خاتون تھیں ۔ وہ عالم اسلام کی سب سے پھلی خاتون تھیں جو خورشید اسلام کے طلوع کے بعد حضرت محمد مصطفی(ص) پر ایمان لائیں اور اپنا تمام مال دنیا اسلام کو پروان چڑھانے کےلئے اپنے شوھر کے اختیار میں دے دیا ۔ تاریخ اسلام، حضرت خدیجہ(س) کی پیغمبر اسلام(ص) کے ساتھ وفاداری اور جان و مال کی فداکاری کو ھرگز نھیں بھلا سکتی۔ جیسا کہ خود پیغمبر اسلام (ص) کے کردار سے ظاھر ھوتا ھے کہ جب تک آپ زندہ تھیں کوئی دوسری شادی نھیں کی اور ھمیشہ آپ کی عظمت کا قصیدہ پڑھا، جناب عائشہ زوجہ پیغمبر(ص) فرماتی ھیں :

" ازواج رسول(ص) میں کوئی بھی حضرت خدیجہ کے مقام و احترام تک نھیں پہنچ پائی ۔ پیغمبر اسلام(ص) ھمیشہ انکا ذکر خیر کیا کرتے تھے اور اتنا احترام کہ گویا ازواج میں سے کوئی بھی ان جیسی نھیں تھی ۔"پھر جناب عائشہ کھتی ھیں : میں نےایک دن پیغمبر اسلام(ص) سے کہا :

" وہ محض ایک بیوہ عورت تھیں" تو یہ سن کر پیغمبر اسلام(ص) اس قدر ناراض ھوئے کہ آپ کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور پھر فرمایا :

"خدا کی قسم میرے لئے خدیجہ سے بھتر کوئی نھیں تھا ۔ جب سب لوگ کافر تھے تو وہ مجھ پر ایمان لائیں، جب سب لوگ مجھ سے رخ پھیر چکے تھے تو انہوں نے اپنی ساری دولت میرے حوالے کردی ۔ خدا نے مجھے اس سے ایک ایسی بیٹی عطا کی کہ جو تقویٰ، عفت و طھارت کا نمونہ ھے ۔ "پھر جناب عائشہ کہتی ھیں : میں یہ بات کہہ کر بہت شرمندہ ھوئی اور میں نے پیغمبر اسلام(ص) سے عرض کیا : اس بات سے میرا کوئی غلط مقصد نھیں تھا ۔

 

حضرت فاطمہ زھراء(س) ایسی والدہ اور والد کی آغوش پروردہ ھیں ۔

 

ولادت

حضرت فاطمہ زھرا(ع) کی تاریخ ولادت کے سلسلہ میں علماء اسلام کے درمیان اختلاف ہے۔ لیکن اہل بیت عصمت و طہارت کی روایات کی بنیاد پر آپ کی ولادت بعثت کے پانچویں سال ۲۰ جمادی الثانی، بروز جمعہ مکہ معظمہ میں ھوئی۔

 

بچپن اور تربیت

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پانچ برس تک اپنی والدہ ماجدہ حضرت خدیجۃ الکبری کے زیر سایہ رہیں اور جب بعثت کے دسویں برس خدیجۃ الکبریٰ علیہا السّلام کا انتقال ہو گیا ماں کی اغوش سے جدائی کے بعد ان کا گہوارہ تربیت صرف باپ کا سایہ رحمت تھا اور پیغمبر اسلام کی اخلاقی تربیت کا آفتاب تھا جس کی شعاعیں براه راست اس بے نظیر گوہر کی آب وتاب میں اضافہ کر رہی تھیں .

جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کو اپنے بچپن میں بہت سے ناگوار حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ پانچ سال کی عمر میں سر سے ماں کا سایہ اٹھ گیا ۔ اب باپ کے زیر سایہ زندگی شروع ہوئی تو اسلام کے دشمنوں کی طرف سے رسول کو دی جانے والی اذیتیں سامنے تھیں ۔ کبھی اپنے بابا کے جسم مبارک کو پتھرون سے لہو لہان دیکھتیں تو کبھی سنتی کے مشرکوں نے بابا کے سر پر کوڑا ڈال دیا۔ کبھی سنتیں کہ دشمن بابا کے قتل کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ مگر اس کم سنی کے عالم میں بھی سیّدہ عالم نہ ڈریں نہ سہمیں نہ گھبرائیں بلکہ اس ننھی سی عمر میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ کی مددگار بنی رہیں۔

 

حضرت فاطمہ(س) کی شادی

یہ بات شروع سے ہی سب پر عیاں تھی کہ علی(ع) کے علاوہ کوئی دوسرا دختر رسول(ص) کا کفو و ہمتا نھیں ہے ۔ اس کے باوجود بھی بہت سے ایسے لوگ، جو اپنے آپ کو پیغمبر(ص) کے نزدیک سمجھتے تھے اپنے دلوں میں دختر رسول(ص) سے شادی کی امید لگائے بیٹھے تھے ۔

مورخین نے لکھا ھے : جب سب لوگوں نے قسمت آزمائی کر لی تو حضرت علی(ع) سے کہنا شروع کردیا : اے علی(ع) آپ دختر پیغمبر(ص) سے شادی کے لئے نسبت کیوں نہیں دیتے ۔ حضرت علی(ع) فرماتے تھے : میرے پاس ایسا کچھ بھی نھیں ھے جس کی بنا پر میں اس راہ میں قدم بڑھاؤں ۔ وہ لوگ کہتے تھے : پیغمبر(ص) تم سے کچھ نہیں مانگیں گے ۔

آخرکار حضرت علی(ع) نے اس پیغام کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کیا اور ایک دن رسول اکرم(ص) کے بیت الشرف میں تشریف لے گئے لیکن شرم و حیا کی وجہ سے آپ اپنا مقصد ظاھر نہیں کر پا رہے تھے ۔

مورخین لکھتے ھیں کہ : آپ اسی طرح دو تین مرتبہ رسول اکرم(ص) کے گھر گئے لیکن اپنی بات نہ کہہ سکے۔ آخر کار تیسری مرتبہ پیغمبر اکرم(ص) نے پوچھ ہی لیا : اے علی کیا کوئی کام ھے ؟

حضرت امیر(ع) نے جواب دیا : جی، رسول اکرم(ص) نے فرمایا : شاید زھراء سے شادی کی نسبت لے کر آئے ھو ؟ حضرت علی(ع) نے جواب دیا، جی ۔ چونکہ

مشیت الٰھی بھی یہی چاہ رہی تھی کہ یہ عظیم رشتہ برقرار ھو لھذا حضرت علی(ع) کے آنے سے پہلے ہی رسول اکرم(ص) کو وحی کے ذریعہ اس بات سے آگاہ کیا جا چکا تھا ۔ بہتر تھا کہ پیغمبر(ص) اس نسبت کا تذکرہ زھراء سے بھی کرتے لھذا آپ نے اپنی صاحب زادی سے فرمایا : آپ، علی(ع) کو بہت اچھی طرح جانتیں ھیں ۔ وہ سب سے زیادہ میرے نزدیک ھیں ۔ علی(ع) اسلام کے سابق خدمت گذاروں اور با فضیلت افراد میں سے ھیں، میں نے خدا سے یہ چاہا تھا کہ وہ تمھارے لئے بھترین شوھر کا انتخاب کرے ۔

اور خدا نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں آپ کی شادی علی(ع) سے کردوں آپ کی کیا رائے ھے ؟

حضرت زھراء(س) خاموش رھیں، پیغمبر اسلام(ص) نے آپ کی خاموشی کو آپ کی رضا مندی سمجھا اور خوشی کے ساتھ تکبیر کہتے ھوئے وھاں سے اٹھ کھڑے ھوئے ۔ پھر حضرت امیر(ع) کو شادی کی بشارت دی ۔ حضرت فاطمہ زھرا(س) کا مھر ۴۰ مثقال چاندی قرار پایا اور اصحاب کے ایک مجمع میں خطبہ نکاح پڑھا دیا گیا ۔ قابل غور بات یہ ھے کہ شادی کے وقت حضرت علی(ع) کے پاس ایک تلوار، ایک ذرہ اور پانی بھرنے کے لئے ایک اونٹ کے علاوہ کچہ بھی نہیں تھا، پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا : تلوار کو جھاد کے لئے رکھو، اونٹ کو سفر اور پانی بھرنے کے لئے رکھو لیکن اپنی زرہ کو بیچ ڈالو تاکہ شادی کے وسائل خرید سکو ۔ رسول اکرم(ص) نے جناب سلمان فارسی سے کہا : اس زرہ کو بیچ دو ۔ جناب سلمان نے اس زرہ کو پانچ سو درھم میں بیچا ۔ پھر ایک بھیڑ ذبح کی گئ اور اس شادی کا ولیمہ ھوا ۔ جھیز کا وہ سامان جو دختر رسول اکرم(ص) کے گھر لایا گیا تھا،اس میں چودہ چیزیں تھی ۔

شھزادی عالم، زوجہ علی(ع)، فاطمہ زھراء(ع) کا بس یہی مختصر سا جہیز تھا ۔ رسول اکرم(ص) اپنے چند با وفا مھاجر اور انصار اصحاب کے ساتھ اس شادی کے جشن میں شریک تھے ۔ تکبیروں کی آوازوں سے مدینہ کی گلیوں اور کوچوں میں ایک خاص روحانیت پیدا ھو گئی تھی اور دلوں میں سرور و مسرت کی لہریں موج زن تھیں ۔ پیغمبر اسلام(ص) اپنی صاحبزادی کا ہاتھ حضرت علی(ع) کے ھاتھوں میں دے کر اس مبارک جوڑے کے حق میں دعا کی اور انھیں خدا کے حوالے کر دیا ۔ اس طرح کائنات کے سب سے بہتر جوڑے کی شادی کے مراسم نہایت سادگی سے انجام پائے ۔

 

حضرت فاطمہ(س) کا اخلاق و کردار

حضرت فاطمہ زھرا اپنی والدہ گرامی حضرت خدیجہ کی والا صفات کا واضح نمونہ تھیں جود و سخا، اعلیٰ فکری اور نیکی میں اپنی والدہ کی وارث اور ملکوتی صفات و اخلاق میں اپنے پدر بزرگوار کی جانشین تھیں۔ وہ اپنے شوھر حضرت علی(ع) کے لئے ایک دلسوز، مھربان اور فدا کار زوجہ تھیں ۔ آپ کے قلب مبارک میں اللہ کی عبادت اور پیغمبر کی محبت کے علاوہ اور کوئی تیسرا نقش نہ تھا۔ زمانہ جاھلیت کی بت پرستی سے آپ کوسوں دور تھیں ۔ آپ نےشادی سے پہلے کی ۹ سال کی زندگی کے پانچ سال اپنی والدہ اور والد بزرگوار کے ساتھ اور ۴ سال اپنے بابا کے زیر سایہ بسر کئے اور شادی کے بعد کے دوسرے نو سال اپنے شوھر بزرگوار علی مرتضیٰ(ع) کے شانہ بہ شانہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت، اجتماعی خدمات اور خانہ داری میں گزارے ۔ آپ کا وقت بچوں کی تربیت گھر کی صفائی اور ذکر و عبادت خدا میں گزرتا تھا ۔ فاطمہ(س) اس خاتون کا نام ھے جس نے اسلام کے مکتب تربیت میں پرورش پائی تھی اور ایمان و تقویٰ آپ کے وجود کے ذرات میں گھل مل چکا تھا ۔

فاطمہ زھرا (س) نے اپنے ماں باپ کی آغوش میں تربیت پائی اور معارف و علوم الھٰی کو، سر چشمہ نبوت سے کسب کیا۔ انہوں نے جو کچہ بھی ازدواجی زندگی سے پہلے سیکھا تھا اسے شادی کے بعد اپنے شوھر کے گھر میں عملی جامہ پھنایا ۔ وہ ایک ایسی مسن وسمجھدار خاتون کی طرح جس نے زندگی کے تمام مراحل طے کر لئے ھوں اپنے گھر کے امور اور تربیت اولاد سے متعلق مسائل پر توجہ دیتی تھیں اور جو کچھ گھر سے باہر ہوتا تھا اس سے بھی باخبر رھتی تھیں اور اپنے اور اپنے شوھر کے حق کا دفاع کرتی تھیں ۔

 

حضرت فاطمہ (س) کا نظام عمل

حضرت فاطمہ زہرا نے شادی کے بعد جس نطام زندگی کا نمونہ پیش کیا وہ طبقہ نسواں کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ گھر کا تمام کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں ۔ جھاڑو دینا، کھانا پکانا، چرخہ چلانا، چکی پیسنا اور بچوں کی تربیت کرنا ۔ یہ سب کام اور ایک اکیلی سیدہ لیکن نہ تو کبھی تیوریوں پر بل پڑے اور نہ کبھی اپنے شوہر حضرت علی علیہ السّلام سے اپنے لیے کسی مددگار یا خادمہ کے انتظام کی فرمائش کی۔ ایک مرتبہ اپنے پدر بزرگوار حضرت رسولِ خدا سے ایک کنیز عطا کرنے کی خواہش کی تو رسول نے بجائے کنیز عطا کرنے کے وہ تسبیح تعلیم فرمائی جو تسبیح فاطمہ زہرا کے نام سے مشہور ہے ۳۴ مرتبہ الله اکبر، 33 مرتبہ الحمد الله اور 33 مرتبہ سبحان الله ۔ حضرت فاطمہ اس تسبیح کی تعلیم سے اتنی خوش ہوئی کہ کنیز کی خواہش ترک کردی ۔ بعد میں رسول نے بلا طلب ایک کنیز عطا فرمائی جو فضہ کے نام سے مشہور ہے۔ جناب سیّدہ اپنی کنیز فضہ کے ساتھ کنیز جیسا برتاؤ نہیں کرتی تھیں بلکہ اس سے ایک برابر کے دوست جیسا سلوک کرتی تھیں. وہ ایک دن گھر کا کام خود کرتیں اور ایک دن فضہ سے کراتیں۔ اسلام کی تعلیم یقیناً یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں زندگی کے جہاد میں مشترک طور پر حصہ لیں اور کام کریں . بیکار نہ بیٹھیں مگر ان دونوں میں صنف کے اختلاف کے لحاظ سے تقسیم عمل ہے . اس تقسیم کار کو علی علیہ السّلام اور فاطمہ نے مکمل طریقہ پر دُنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ گھر سے باہر کے تمام کام اور اپنی قوت بازو سے اپنے اور اپنے گھر والوں کی زندگی کے خرچ کا سامان مہیا کرنا علی علیہ السّلام کے ذمہ تھا اور گھر کے اندر کے تمام کام حضرت فاطمہ زہرا انجام دیتی تھیں۔

 

حضرت زہرا سلام اللہ کا پردہ

سیدہ عالم نہ صرف اپنی سیرت زندگی بلکہ اقوال سے بھی خواتین کے لیے پردہ کی اہمیت پر بہت زور دیتی تھیں. آپ کا مکان مسجدِ رسولِ سے بالکل متصل تھا۔ لیکن آپ کبھی برقع وچادر میں نہاں ہو کر بھی اپنے والدِ بزرگوار کے پیچھے نماز جماعت پڑھنے یا اپ کا وعظ سننے کے لیے مسجد میں تشریف نہیں لائیں بلکہ اپنے فرزند امام حسن علیہ السّلام سے جب وہ مسجد سے واپس آتے تھے اکثر رسول کے خطبے کے مضامین سن لیا کرتی تھیں . ایک مرتبہ پیغمبر نے منبر پر یہ سوال پیش کر دیا کہ عورت کے لیے سب سے بہتر کیا چیز ہے یہ بات سیدہ کو معلوم ہوئی تو آپ نے جواب دیا عورت کے لئے سب سے بہتر بات یہ ہے کہ نہ اس کی نظر کسی غیر مرد پر پڑے اور نہ کسی غیر مرد کی نظر اس پر پڑے ۔ رسول کے سامنے یہ جواب پیش ہوا تو حضرت نے فرمایا .

"کیوں نہ ہو فاطمہ میرا ہی ایک ٹکڑا ہے۔"

 

حضرت زہرا(س) اور جہاد

اسلام میں عورتوں کا جہاد، مردوں کے جہاد سے مختلف ہے۔ لٰہذا حضرت فاطمہ زہرا نے کبھی میدانِ جنگ میں قدم نہیں رکھا ۔ لیکن جب کبھی پیغمبر میدان جنگ سے زخمی ہو کر پلٹتے تو سیدہ عالم ان کے زخموں کو دھوتیں تھیں .اور جب علی علیہ السّلام خون آلود تلوار لے کر آتے تو فاطمہ اسے دھو کر پاک کرتی تھیں۔ وہ اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ ان کا جہاد یہی ہے جسے وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں رہ کے کرتی ہیں . ہاں صرف ایک موقع پر حضرت زہرا نصرت اسلام کے لئے گھر سے باہر آئیں اور وہ تھا مباہلے کا موقع۔ کیونکہ یہ ایک پرامن مقابلہ تھا اور اس میں صرف روحانی فتح کا سوال تھا۔ یعنی صرف مباہلہ کا میدان ایسا تھا جہاں سیدہ عالم خدا کے حکم سے برقع و چادر میں نہاں ہو کر اپنے باپ اور شوہر کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں جس کا واقعہ یہ تھا کہ یمن سے عیسائی علماء کا ایک وفد رسول کے پاس بحث ومباحثہ کے لیے آیا اور کئ دن تک ان سے بحث ہوتی رہی جس سے حقیقت ان پر روشن تو ہوگئی مگر سخن پروری کی بنا پر وہ قائل نہ ہونا چاہتے تھے نہ ہوئے . اس وقت قران کی یہ آیت نازل ہوئی کہ

" اے رسول اتنے سچے دلائل کے بعد بھی یہ نہیں مانتے تو ان سے کہو کہ پھر جاؤ ہم اپنے بیٹوں کو لائیں تم اپنے بیٹوں کو لاؤ، ہم اپنی عورتوں کو لائیں تم اپنی عورتوں کولاؤ، ہم اپنے نفسوں کو لائیں تم اپنے نفسوں کو اور الله کی طرف رجوع کریں اور جھوٹوں کے لیے الله کی لعنت یعنی عذاب کی بد دعا کریں . "

عیسائی علماء پہلے تو اس کے لیے تیار ہوگئے مگر جب رسول الله اس شان سے تشریف لے گئے کہ حسن علیہ السّلام اور حسین علیہ السّلام جیسے بیٹے فاطمہ زہرا جیسی خاتون اور علی علیہ السّلام جیسے نفس ان کے ساتھ تھے تو عیسائیوں نے مباہلہ سے انکار کر دیا اور مخصوص شرائط پر صلح کرکے واپس ہو گئے .

 

فاطمہ زہرا(س) اور پیغمبر اسلام

حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول(ص) فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی ۔ محبت کا ایک نمونہ یہ ہے کہ جب آپ کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں فاطمہ زہرا سے رخصت ہونےتھے اور جب واپس تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ زہرا سے ملنے کے لئے جاتے تھے .

اور عزت و احترام کا نمونہ یہ ہے کہ جب فاطمہ(س) ان کے پاس آتی تھیں تو آپ تعظیم کے لۓ کھڑے ہوجاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے . رسول کا یہ برتاؤ فاطمہ زہرا کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ نہ تھا .

 

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر(ص) کی نظر میں

سیدہ عالم کی فضیلت میں پیغمبر کی اتنی حدیثیں وارد ہوئی ہیں کہ جتنی حضرت علی علیہ السّلام کے سوا کسی دوسری شخصیت کے لیے نہیں ملتیں .

ان میں سے اکثر علماء اسلام میں متفقہ حیثیت رکھتی ہیں . مثلاً

" آپ بہشت میں جانے والی عورتوں کی سردار ہیں۔ "

" ایما ن لانے والی عوتوں کی سردار ہیں ."

" تما م جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں "

" آپ کی رضا سے الله راضی ہوتا ہے اور آپ کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے "

" جس نے آپ کو ایذا دی اس نے رسول کو ایذا دی"

اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں جو معتبر کتابوں میں درج ہیں .

 

اولاد

حضرت فاطمہ زہرا(س) کو اللہ نے چار اولاد عطا فرمائیں جن میں سے دو لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں ۔ شادی کے بعد حضرت فاطمہ زہرا صرف نو برس زندہ رہیں ۔ اس نو برس میں شادی کے دوسرے سال حضرت امام حسن علیہ السّلام پیدا ہوئے اور تیسرے سال حضرت امام حسین علیہ السّلام . پھر غالباً پانچویں سال حضرت زینب اور ساتویں سال حضرت امِ کلثوم ۔ لہذا وفات کے وقت آپ نے دو صاحبزادوں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہما السّلام اور دو صاحبزادیوں زینب کبری و امِ کلثوم کو چھوڑا جو اپنے اوصاف کے لحاظ سے طبقہ خواتین میں اپنی ماں کی سچی جانشین ثابت ہوئیں

 

حضرت فاطمہ زہرا(س) کی وصیتیں

حضرت فاطمہ زہرا(س) نے خواتین کے لیے پردے کی اہمیت کو اس وقت بھی ظاہر کیا جب آپ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں . اس طرح کہ آپ ایک دن غیر معمولی فکر مند نظر آئیں . آپ کی چچی(جعفر طیار(رض) کی بیوہ) اسماء بنتِ عمیس نے سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے جنازہ کے اٹھانے کا یہ دستور اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ عورت کی میّت کو بھی تختہ پر اٹھایا جاتا ہے جس سے اس کا قد و قامت نظر اتا ہے . اسما (رض) نے کہا کہ میں نے ملک حبشہ میں ایک طریقہ جنازہ اٹھانے کا دیکھا ہے وہ غالباً آپ کو پسند ہو. اسکے بعد انھوں نے تابوت کی ایک شکل بنا کر دکھائی اس پر سیّدہ عالم بہت خوش ہوئیں

اور پیغمبر کے بعد صرف ایک موقع ایسا تھا کہ اپ کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی چنانچہ آپ نے وصیّت فرمائی کہ آپ کو اسی طرح کے تابوت میں اٹھایا جائے .

 

رحلت سيده دو عالم

سیدہ دو عالم نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ ہجری قمری میں وفات پائی . آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا . صرف بنی ہاشم اور سلمان فارسی(رض)، مقداد(رض) اور عمار(رض) کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا . آپ کے دفن کی اطلاع بھی عام طور پر سب لوگوں کو نہیں ہوئی، جس کی بنا پر یہ اختلاف رہ گیا کہ اپ جنت البقیع میں دفن ہیں یا اپنے ہی مکان میں جو بعد میں مسجد رسول کا جزو بن گیا۔ جنت البقیع میں جو آپ کا روضہ تھا وہ بھی باقی نہیں رہا۔

Tuesday, 17 July 2012 03:38

اسماعیلیہ (بوہرہ)

ایک ہزار چورانویے صدی عیسوی میں فاطمی حکمران المستنصر کی موت کے بعد ان کی جانشینی کے سلسلے میں اسماعیلی فرقے میں شدید اختلافات پیداہوگۓ مستنصر نے اپنے بڑے بیٹے ابو منصورنزار کو اپنا جانشین معین کیا تھا لیکن ان کے وزیر افضل نے ان کی وفات کے بعد بغاوت کردی اور ان کے چھوٹے بیٹے القاسم احمد معروف بہ المستعلی باللہ کو تخت نشین کردیا ۔

 

بوہرے

داودی بوہروں کی آبادی کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہیں تاہم ھندوستان میں تقریبا دولاکھ دس ہزار بوہرے رہتے ہیں بعض تخمینوں کے مطابق عالمی سطح پر بوہروں کی تعداد پانچ لاکھ بتائي جاتی ہے ،داودی بوہرے ھندوستان ،پاکستان ،یمن ،سری لنکا مشرق بعید اور خلیج فارس کے جنوبی علاقوں میں بستے ہیں ان ملکوں میں داودی بوہروں کی تعداد میں کمی آرہی ہے ۔

 

عقائد

بوہروں کا امام اور ان کے جانشین سب غائب ہیں یہ بوہروں کا اہم ترین اصول عقیدہ ہے اور جو داعی ہیں وہ امام کے حکم سے اس کے جانشین بنتے ہیں ان کی پہلی دینی کتاب قرآن ہے صرف داعی ہی قرآن کے باطن تک رسائي حاصل کرسکتاہے ،حدیث و سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان کے منابع دینی میں شامل ہیں ،بوہرے خداکی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں اور مفہوم خدا نہایت مجرد اور دور از ذھن ہے،بوہرے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم الانبیاء اور اپنے داعی کو رسول کی صلاحیتوں کا حامل سمجھتے ہیں ۔

 

دینی فرائض

بوہروں کے نزدیک رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اھل بیت کی مودت و محبت رکن اسلام ہے یہ لوگ قسم میثاق میں جس پر تمام بوہرے متفق ہیں کہتے ہیں کہ " صدق دل سے امام ابوالقاسم امیرالمومنین جو تمہارے امام ہیں پیروی کریں "ان کے فرائض پنجگانہ اس طرح ہیں ،اذان انکی اذان شيعه کی طرح ہے لیکن وضو کا طریقہ اھل سنت کی طرح ہے ،بوہرے نمازکے دوران ہاتھہ کھلے رکھتے ہیں نمازکے لۓ ان کا لباس مخصوص ہوتا ہے یہ لوگ تین وقت نمازپڑھتے ہیں اور ہر نماز کے اختتام پر رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،حضرت علی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھم اور اپنے اکیس اماموں کا نام لیتے ہیں ۔

بوہرے نمازجمعہ کے قائل نہیں ہیں ان کی دعاؤں کی کتاب کانام "صحیفۃ الصلاۃ "ہے بوہروں کے نزدیک شفاعت کانہایت اہم مقام ہے ۔

 

زکات

ہربوہرے پر زکات واجب ہے ان پر چھہ طرح کی زکاتیں واجب ہیں جو حسب ذیل ہیں ۔

1- زکات صلات ؛اس کی مقدار چار آنہ ہے اور ہرفرد پرواجب ہے

2 - زکات فطرہ اس کی مقدار بھی چارآنہ ہے ۔

3 - زکات حق النفس یہ زکا ت عروج ارواح اموات ہے جس کی مقدار ایک سو انیس روپیے ہے ۔

4 جق نکاح ؛یہ زکات حق ازدواج کے طور پر اداکی جاتی ہے اس کی مقدار گیارہ روپیے ہے ۔

5 - زکات سلامی سیدنا؛یہ داعی مطلق کے لۓ نقدی تحفے ہیں ۔

6- زکات دعوت؛یہ زکات دعوت کے اخراجات پورے کرنے کے لۓ ادا کی جاتی ہے اور تین طرح کی ہے ۔

الف ؛ آمدنی پر ٹیکس جو کہ تاجربرادری سے لی جاتی ہے

ب؛ خمس جوکہ متوقع آمدنی کا ایک بٹاپانچ حصہ ہوتا ہے جیسے وراثت میں ملنے والے اموال ۔

ج وہ لوگ جو بیماری کی وجہ سے نماز وروزہ ادا نہیں کرسکتے ان پر بھی یہ زکات واجب ہے ۔

7- نذر مقام ،امام غائب کی نذر کےلے جوپیسہ رکھاجاتا ہے اسے کہتے ہیں ۔

 

روزہ

بوہروں کاروزہ تیس دنون کا ماہ رمضان میں ہوتا ہے یہ لوگ ہرمہینے کی پہلی اور آخری تاریخ اور ہر پنچ شنبہ کوبھی روزہ رکھتے ہيں اس کے علاوہ ہرمہینے کے وسطی چہارشنبہ کوبھی روزہ رکھتے ہیں ۔روزے اھل سنت سے چند روزقبل شروع کرکے چند روزپہلے ہی تمام کرتے ہیں ۔

 

حج وزیارت

بوہروں کے نزدیک استطاعت رکھنے والون پر حج واجب ہے اور اس فریضے کے لۓ ضروری ہےکہ قسم میثاق کھائی جاۓ یہ لوگ مکہ کے علاوہ کربلا کی زیارت کو بھی جاتے ہيں اور کچہ لوگ نجف و قاہرہ بھی جاتے ہيں ھندوستان میں بوہروں کی مشہور زیارتگاہیں احمد آباد ، سورت ، جام نگر ، مانڈوی ، اجین اور برھانپور میں ہیں ۔

بوہروں کے مشاہد اولیاء میں ان مقامات کانام لیا جاسکتا ہے مقبرہ جندابای بمبئی ،مقبرہ نتابائی ،مقبرہ مولانا وحید بائی ،مقبرہ مولانا نورالدین بمبئی ۔

بوہروں کے نزدیک محرم کے تابوتوں اور تعزیوں کے لۓ نذر کرنا شرک ہے لیکن انکے نزدیک اولیاء خدا کے مزارت پرنذر کرنا جائزہے اس علاوہ وہ اور بھی نذورات کے قائل ہیں جیسے معین دنوں میں نذر کاروزہ رکھنا ،بعض دعائيں باربار پڑھنا،کھانا کھلانا ،مذھبی مقامات تعمیرکرنا ،اور وقف کرنا ۔

بوہروں پر عھد اولیآءکی بناپر جھاد واجب ہے اور جھاد ہرزمانے میں جب بھی امام یا داعی ضروری سمجھیں واجب ہے اور اس میں خلوص سے شرکت ضروری ہے ۔

 

حشرونشر

بوہرے حشرونشر و قیامت کے بارے میں فاطمیوں کے عقائد کے تابع ہیں سعادت کی واحد راہ امام کی پیروی ہے موت کے بعد بھی سعادت کی راہ جاری رہتی ہے یہانتک کہ مومن بوہرہ خدا سےجاملتا ہے اور دونوں ایک ہوجاتے ہیں بنابریں نیک بوہرے کی روح موت کے بعد اس کے نفس سے جو ابھی دنیا میں ہے نزدیک ہوتی جاتی ہے اس طرح زندہ شخص کو خیر و شر کا الھام ہوتاہے اور اسی کے ساتھ ساتھ اس سے تعلیم بھی حاصل کرتی ہے ۔

Monday, 16 July 2012 08:30

مسجد نبوی

شہر مدینہ منورہ میں قائم اسلام کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے ۔ مکہ مکرمہ میں مسجد حرام مسلمانوں کے لئے مقدس ترین مقام ہے جبکہ بیت المقدس میں مسجد اقصی اسلام کا تیسرا مقدس مقام ہے ۔

تعمیر

مسجد الحرام کے بعد دنیا کی سب سے اہم مسجد ”مسجد نبوی“ کی تعمیر کا آغاز 18 ربیع الاول سنہ 1ھ کو ہوا ۔ حضور اکرم )ص( نے مدینے ہجرت کے فوراً بعد اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا اور خود بھی اس کی تعمیر میں بھر پور شرکت کی ۔مسجد کی دیواریں پتھر اور اینٹوں سے جبکہ چھت درخت کی لکڑیوں سے بنائی گئی تھی ۔مسجد سے ملحق کمرے بھی بنائے گئے تھے جو آنحضرت –(ص( اور ان کے اہل بیت اور بعض اصحاب رضی اللہ تعالٰی عنہم کے لئے مخصوص تھے ۔

پرانا تصوير - باب السلام مسجد النبي (ص)

مسجد نبوی جس جگہ قائم کی گئی وہ دراصل دو یتیموں کا پلاٹ تھا۔ ورثاء اور سرپرست اسے ہدیہ کرنے پر آمادہ تھے اور اس بات کو اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھتے تھے کہ ان کی زمیں شرف قبولیت پا کر مدینہ منورہ کی پہلی مسجد بنانے کیلئے استعمال ہوجائے مگر رسول اللہ (ص) نے بلا معاوضہ وہ پلاٹ قبول نہیں فرمایا، دس دینار قیمت طے پائی اور آپ (ص) نے جناب ابوبکر کو اس کی ادائیگی کا حکم دیا اور اس جگہ پر مسجد اور مدرسہ کی تعمیر کا فیصلہ ہوا۔

پرانا تصوير- مسجد النبي (ص)

 

پتھروں کو گارے کے ساتھ چن دیا گیا۔ کھجور کی ٹہنیاں اور تنے چھت کیلئے استعمال ہوئے اور اس طرح سادگی اور وقار کے ساتھ مسجد کا کام مکمل ہوا۔

مسجد سے متصل ایک چبوترہ بنایا گیا جو ایسے افراد کے لئے دار الاقامہ تھا جو دوردراز سے آئے تھے اور مدینہ منورہ میں ان کا اپنا گھر نہ تھا۔

آپ (ص) نے اپنے دست مبارک سے مسجد نبوی کی تعمیر شروع کی جبکہ کئی مسلم حکمرانوں نے اس میں توسیع اور تزئین و آرائش کا کام کیا۔ گنبد خضراء کو مسجد نبوی میں امتیازی خصوصیت حاصل ہے جس کے نیچے آنحضرت (ص) ، جناب ابوبکر اور جناب عمر کے روضہ مبارک ہیں۔ یہ مقام در اصل جناب عائشہ کا حجرہ مبارک تھا ۔

ریاست مدینہ میں مسجد نبوی کی حیثیت مسلمانوں کے لئے معبد ، کمیونٹی سینٹر، عدالت اور مدرسے کی تھی۔

مسجد کے قلب میں عمارت کا اہم ترین حصہ نبی کریم (ص) کا روضہ مبارک واقع ہے جہاں ہر وقت زائرین کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے ۔ یہاں مانگی جانے والی کوئی دعا رد نہیں ہوتی۔ خصوصاً حج کے موقع پر رش کے باعث روضہ مبارک کے حصے میں داخلہ انتہائی مشکل ہوجاتا ہے ۔ اسی مقام پر منبر رسول بھی ہے ۔ سنگ مرمر حالیہ منبر عثمانی سلاطین کاتیار کردہ ہے جبکہ اصل منبر رسول کھجور کے درخت سے بنا ہوا تھا۔

مسجد نبوی میں کئی مرتبہ توسیع ہوئی لیکن مرحوم فہد بن عبد العزیز کے دور میں مسجد کی توسیع کا عظیم ترین منصوبہ تشکیل دیاگیا جس کے تحت حضرت محمد (ص) کے دور کے تمام شہر مدینہ کو مسجد کا حصہ بنادیا گیا۔ اس عظیم توسیعی منصوبے کے نتیجے میں مسجد تعمیرات کا عظیم شاہکار بن گئی۔

مسجد امیر چخماق ، یزد کی تاریخ میں نئی جامع مسجد کے نام سے بھی یاد کی جاتی ہے یہ مسجد صفوی دور میں یزد کے حاکم امیر جلال الدین چخماق شامی اور اس کی بیوی بی بی فاطمہ خاتون کی ہمت و کوشش سے بنائی گئی ہے ۔

امیر جلال الدین کا شمار شاہرخ کے قریبی سرداروں اور امراء میں ہوتا تھا۔ اس مسجد کی تعمیرکا کام سنہ 841 ہجری قمری میں پایہ تکمیل کو پہنچا ۔ حسن و زیبائی اور وسعت کے اعتبار سے شہر کی جامع مسجد کے بعد اس کا دوسرامقام ہے ۔

اس مسجد کی تعریف و توصیف میں بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ اس کا ورودی دروازہ میر چخماق میدان کی طرف کھلتا ہے جہاں ایک پتھر نصب ہے جس پر خط نسخ میں وقف نامہ لکھا ہوا ہے ورودی دروازہ سے جب صحن میں داخل ہوتے ہیں توشمالی راہرو کی جالیاں بہترین و خوبصورت ٹائل سے مزین ہیں۔

ایوان کے بالائی حصہ پر بھی معرق کاشیکاری کی گئی ہے ۔ محراب کے اطراف میں بھی خوبصورت ٹائل اور اس کے وسط میں بہترین تراشا ہوا سنگ مرمر نصب کیا گیا ہے۔ مسجد کا گنبد بھی سبز رنگ کی خوبصورت ٹائلوں سے مزین ہے جس پر کوفی خط میں عبارت کندہ ہے ۔