Super User

Super User

Tuesday, 10 July 2012 06:49

بادشاہی مسجد لاهور

بنیادی معلومات

مقام لاہور، پاکستان

معلوماتِ طرزِ تعمیر

رخ بجانب قبلہ

سالِ تکمیل 1673ء

خصوصیات

گنجائش 60 ہزار افراد

لمبائی 804 فٹ (بمعہ صحن)

چوڑائی 612 فٹ (بمعہ صحن)

بلندی 50.5 فٹ

تعدادِ گنبد 3

بلندئ گنبد (بیرونی) مرکزی گنبد: 49 فٹ

دیگر گنبد: 32 فٹ

قطرِ گنبد (بیرونی) مرکزی گنبد: 65 فٹ

دیگر گنبد: 51.5 فٹ

تعدادِ مینار 4

بلندئ مینار 176 فٹ 4 انچ

بادشاہی مسجد 1673 میں اورنگزیب عالمگیر نے لاہور میں بنوائی۔ یہ عظیم الشان مسجد مغلوں کے دور کی ایک شاندار مثال ہے اور لاہور شہر کی شناخت بن چکی ہہے۔ یہ فیصل مسجد اسلام آباد کے بعد پورے پاکستان کی دوسری بڑی مسجد ہے، جس میں بیک وقت 60 ہزار لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اس مسجد کا انداز تعمیر جامع مسجد دلی سے بہت ملتا جلتا ہے جو کہ اورنگزیب کے والد شاہجہان نے 1648 میں تعمیر کروائی تھی۔

تاریخ

ہندوستان کے چھٹے مغل بادشاہ اورنگزیب تمام مغلوں میں سے سب سے زیادہ مذہبی بادشاہ تھے۔ انھوں نے اس مسجد کو اپنے سوتیلے بھائی مظفر حسین، جن کو فداے خان کوکا بھی کہا جاتا تھا، کی زیر نگرانی تعمیر کروایا۔ 1671 سے لیکر 1673 تک مسجد کی تعمیر کو دو سال لگے۔ مسجد کو شاہی قلعہ کے برعکس تعمیر کیا گیا، جس سے اس کی مغلیہ دور میں اہمیت کا پتہ لگتا ہے۔ اس مسجد کے بننے کے ساتھ ہی ساتھ اورنگزیب نے اس کے دروازے کے برعکس شاہی قلعہ میں بھی ایک باوقار دروازے کا اضافہ کیا، جس کو عالمگیری دروازہ کہا جاتا ہے۔

 

مرمات

جوں جوں وقت گزرتا گیا، مسجد کو متعدد وجوہات کی بنا پر نقصانات پہنچتے گئے۔ 1850 سے اس کی مرمت کا آغاز ہوا، لیکن یہ مرمت نامکمل تھیں۔ آخرکار مکمل مرمت 1939ء میں شروع ھوئی اور 1960 میں مکمل کی گئی جن پر 48 لاکھ روپے صرف ہوئے۔ اس مرمت کی وجہ سے مسجد ایک بار پھر اپنی اصلی حالت میں واپس آگئی۔

 

خاص واقعات

دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر، جو کہ لاہور میں 22 فروری، 1974 کو ہوئی، 39سربراہان مملکت نے جمعہ کی نماز اس مسجد میں ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔

 

Tuesday, 10 July 2012 06:42

فرقہ طحاویہ

چوتھی صدی میں اہل سنت کے عقاید کے حوالہ سے ایک اصلاح پسند فرقہ کو تین شخصیتوں نے قائم کیا جن میں سے ایک شخصیت ابو جعفر طحاوی ہیں ۔

آپ کا پورا نام احمد بن محمد بن سلامة الازدی الحجری ، کنیت ابو جعفر اور لقب طحاوی (متوفی ٣٢١ھ) ہے ، مصرکے ایک دیہات ، دیہات طحا میں ان کی ولادت ہوئی ، مورخین نے ان کی ولادت کو ٢٢٩، ٢٣٠، ٢٣٨،اور ٢٣٩ ہجری میں نقل کی ہے ۔

طحاوی کو علم حدیث اور فقہ سے بہت زیادہ لگائو تھا اسی وجہ سے وہ اپنے زمانہ کے بہت بڑے محدث اور فقیہ تھے ، یہ شروع میں مذہب حنفی کی پیروی کرتے تھے ۔ اس کے متعلق مختلف وجوہات بیان ہوئی ہیں(١) ۔آپ کی بہت سی اہم کتابیں بھی موجود ہیں:

١۔ شرح معانی الآثار۔ ٢۔ شرح مشکل احادیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ۔ ٣۔ احکام القرآن۔ ٤۔ اختلاف الفقہاء ۔ ٥۔ النوادر الفقھیہ ۔ ٦۔ الشروط الکبیر ۔ ٧۔ الشروط الاوسط ۔ ٨۔ شرح الجامع الصغیر ۔ ٩۔ شرح الجامع الکبیر ۔ ١٠۔ المختصر الصغیر ۔ ١١۔ المختصر الکبیر ۔ ١٢۔ مناقب ابی حنیفہ ۔ ١٣ ۔ تاریخ الکبیر۔ ١٤۔ الرد علی کتاب المدلسین ۔ ١٥۔ کتاب الفرائض ۔ ١٦۔ کتاب الوصایا ۔ ١٧۔ حکم اراضی مکہ ۔ ١٨۔ کتاب العقیدة۔ (٢) ۔

طحاوی نے علم کلام میں ایک چھوٹا سا رسالہ ''بیان السنة والجماعة'' کے نام سے تالیف کیا ہے جو عقیدہ الطحاویہ کے نام سے مشہور ہے ، اس کے مقدمہ میں کہتے ہیں :

'' اس رسالہ میں اہل سنت و الجماعت کے عقاید کو ابوحنیفہ، ابویوسف اور محمد شیبانی کے نظریات کے مطابق بیان کیا جائے گا''۔

طحاوی ، عقاید ابوحنیفہ کی توجیہ یا تفسیربیان نہیں کرنا چاہتے تھے یا نئی دلیلیں پیش کرکے قدیم کلامی مسائل کو حل و فصل نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ ان کا ہدف صرف یہ تھا کہ ابوحنیفہ کے عقاید کا خلاصہ بیان کریں اور اہل سنت والجماعت کے نظریات کے ساتھ ان کے نظریات کو بیان کریں۔

طحاوی اور ماتریدی کے درمیان اختلاف کامل طور سے آشکار اور واضح ہے ۔ طحاوی اصول ایمان کے متعلق عقلی یا نظری تفکر کے موافق نہیں تھے بلکہ وہ ترجیح دیتے تھے کہ اصول عقاید کو بغیر کسی دلیل کے قبول کرلیں، اور ان کی تصدیق بھی کریں، ان کے عقائد میں انتقاد، مآخذ ، اسباب معرفت اورکلامی نظام کے مآخذ کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہوا ہے ، اس بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے عقائد جزمی اور یقینی تھے ، جب کہ ماتریدی کے فکری نظام میں انتقاد پایا جاتا ہے وہ علم حدیث میں بھی تنقید کے طریقہ کی پیروی کرتے ہیں ۔ اس بناء پر جب کہ ماتریدی اور طحاوی دونوں کا تعلق ایک مکتب اور ایک مذہب سے ہے اور دونوں خلوص نیت کے ساتھ اپنے استاد کے نظریات کی پیروی کرتے ہیں لیکن خلق و خو کے اعتبارسے دونوں کے نظریات میں فرق پایا جاتا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ طحاوی نے علم کلام میں کوئی جدید نظام یا قانون کو ایجاد نہیں کیا ہے بلکہ امانتداری اور سچائی کے ساتھ اپنے استاد کے اہم نظریات کو خلاصہ سے کیاہے ۔

حقیقت میں علم کلام اسلامی میں '' طحاویة'' کے معنی کسی نئے مکتب کے نہیں ہیں بلکہ ابوحنیفہ کے اسی کلامی نظام کو دوسرے الفاظ میں بیان کیا ہے ۔ طحاوی کے نظریات کی اہمیت یہ ہے کہ انہوںنے اپنے استاد کے نظریات کو کامل طور سے واضح کیا ہے ، انہوں نے ابوحنیفہ کے نظریات سے ابہام و شبہات کو دور کرتے ہوئے ان کے نظریات کو واضح طور پر بیان کیا ہے (٣) ۔

حوالہ جات :

١۔ تاریخ فلسفہ در جہان اسلامی، ج ١، ص ٣٤٧۔

٢۔ فہرست ابن ندیم، ص ٢٩٦۔

٣۔ تاریخ فلسفہ در اسلام، ج١، ص ٣٤٩۔ ٣٤٨ ، ٣٦١۔ ٣٦٠۔

کتاب : فرق و مذاہب کلامی ، ص ٢٤٢۔

 

 

روس کے صرف ايک مرکز ميں اسلام قبول کرنے والي دس ہزار خواتين نے رجسٹريشن کرائي ہے-

ماسکو ميں اس وقت بيس لاکھ سے زائد مسلمان رہتے اور کام کرتے ہيں اور اس اعتبار سے وہ يورپ ميں مسلمانوں کے بڑے شہروں ميں سے ايک بن گيا ہے-

يہي وجہ ہے کہ ماسکو ميں موجود چار مساجد نمازيوں کے ليے کافي نہيں ہيں- ہر جمعہ کو نمازيوں کي تعداد اتني ہوتي ہے کہ انہيں مساجد سے باہر برف پر نماز پڑھني پڑتي ہے-

جب نماز جمعہ ہو رہي ہوتي ہے تو کار سوار راستے کے ليے ہارن بجا رہے ہوتے ہيں اور پيدل چلنے والے گذرنے کے ليے دشواريوں کا شکار ہو رہے ہوتے ہيں-

نئے مسلمانوں کي بڑي تعداد ان مہاجرين پر مشتمل ہے جو سوويت يونين کا حصہ رہنے والي وسط ايشيائي رياستوں سے ماسکو منتقل ہوئے ہيں-

غربت اور سوويت يونين کے ختم ہونے کے بعد پيدا ہونے والے جھگڑوں کے نتيجے ميں نئي زندگي شروع کرنے کے ليے نکلنے والے ان لوگوں ميں ازبک، تاجک اور کرغيزيوں کي تعداد سب سے زيادہ ہے-

ازبکستان سے آنے والے ايک نوجوان الوگ بيک کا کہنا ہے ’ہماري تعداد بہت زيادہ ہے، ہميں اس بات پر تو شکر گذار ہونا چاہيے کہ ماسکو ميں مساجد ہيں ليکن شہر، اچانک آنے والے لاکھوں لوگوں کي ميزباني کے ليے تيار نہيں‘-

تاہم دوسرے لوگوں کا خيال ہے کہ حکام مسلمان آبادي کي ضرورتوں کو نظر انداز کر رہے ہيں-

ماسکو کي تاريخي مسجد کے طور پر جاني جانے والي مسجد کے پيش امام، حسين فخرت دينوف کا کہنا ہے کہ ’موجودہ سہولتيں بہر طور ناکافي ہيں‘-

انہوں نے مزيد کہا کہ ’اس ليے ہم حکام سے نئي مساجد تعمير کرنے کے اجازت چاہتے ہيں، ليکن وہ ہمارے مطابے کو نظر انداز کر رہے ہيں، اس ليے لوگوں کو مساجد سے باہر بارش ميں اور برف پر نماز ادا کرني ہو گي‘-

ماسکو کي تاتار نامي قديم مسجد کو ايک نئي بڑي عمارت ميں منتقل کيا جا رہا ہے ليکن اس کے باوجود تمام نمازيوں کے ليے مسجد کے اندر نماز ادا کرنا ممکن نہيں ہو گا-

نئے لوگوں کي وجہ سے ماسکو ميں جو تبديلياں آ رہي ہيں ماسکو کے شہري ان پر مختلف آرا رکھتے ہيں-

مسجد کے پاس سے گذرنے والي دو نوجوان خواتين کا کہنا تھا کہ ’ماسکو ترقي کر رہا ہے اور يہي وجہ ہے کہ لوگ يہاں آ رہے ہيں اور اتفاق ہے کہ ان ميں مسلمانوں کي تعداد زيادہ ہے- اب اگر روسي يہاں چرچ بنا رہے ہيں تو کسي کو يہ حق نہيں کہ وہ مسلمانوں کو مساجد کي تعمير سے روکے‘-

اس کے برخلاف دوسروں کي رائے ہے کہ باہر سے آنے والے ان لوگوں کي وجہ سے روسي ثقافت اور زندگي کے طريقے تبديل ہو رہے ہيں-

شہر ميں نئے لوگوں کي آمد پر کڑي پابندياں لگانے کے حامي اور خود کو روزووٹ کہنے والے ايک قوم پرست گروپ کے يوري گروسکي کا کہنا ہے کہ لوگ مذاق ميں کہتے ہيں کہ ماسکو، ماسکو آباد بنتا جا رہا ہے-

ان کا کہنا ہے کہ ’ذرا آپ ماسکو کي سڑکوں پر نکل کر ديکھيں آپ کو سلاوک کم اور مسلمان زيادہ دکھائي ديں گے- اگر باہر سے لوگوں نے آنا ہي ہے تو سلاوک ملکوں کے لوگوں کو آنا چاہيے ليکن ان مسلمانوں کو روکنا ہو گا‘-

روس ميں نقل مکاني کر کے آنے والے مسلمانوں پر باقاعدگي سے حملے ہونے لگے ہيں اگرچہ اب ان ميں کچھ کمي آئي ہے-

روس ميں انساني حقوق کے ليے کام کرنے والے گروپ سووا کا کہنا ہے کہ 2008 کے دوران نسل پرستانہ حملوں ميں 57 اموات اور196 افراد زخمي ہوئے جب کہ 2011 کے دوران سات افراد ہلاک اور 28 زخمي ہوئے-

يہي نہيں، نئے آنے والے اپنے ساتھ اپني ثقافت اور رہن سہن بھي لائے ہيں، اب ماسکو ميں ايسي دکانيں اور کيفے بڑي تعداد ميں دکھائي ديتے ہيں جن پر حلال اشيا دستياب ہوتي ہيں اور ماسکو کي حلال ٹيک اووے دکانوں پر فروخت ہونے والے سموسوں نے تو سب سے زيادہ مقبوليت حاصل کر لي ہے-

اس کے علاوہ ماسکو ميں اسلام قبول کرنے والوں کي تعداد ميں بھي ڈرامائي اضافہ ہو رہا ہے- ان ميں ايک علي چسلاف بھي ہيں جو سابق آرتھوڈک پادري اور سياستداں ہيں- وہ بارہ سال قبل مسلمان ہوئے اور اب ايک ايسا امدادي مرکز چلا رہے ہيں- جو اسلام قبول کرنے والے نئے لوگوں کي مدد کرتا ہے اور انہيں مشورے ديتا ہے-

اس مرکز ميں کام کرنے والي عائشہ لاريسہ کا کہنا ہے کہ صرف ان کے مرکز ميں اسلام قبول کرنے والي دس ہزار عورتوں نے رجسٹريشن کرائي ہے-

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ان عورتوں کو عبادت کرنا سکھاتے ہيں اور اگر انہيں اسلام قبول نہ کرنے والے رشتہ داروں کي وجہ سے مسائل پيش آتے ہيں تو انہيں مشورے ديتے ہيں‘-

اسلام ہميشہ ہي سے روس ميں دوسرا بڑا مذہب رہا ہے ليکن يہ حقيقت اس سے پہلے اس طرح ظاہر نہيں ہو رہي تھي جيسے اب دکھائي ديتي ہے-

پیغام سنه 1409

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1410

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1411

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1412

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1413

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1414

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1415

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1416

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1417

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1418

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1419

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1420

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1421

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1422

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1423

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1424

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1425

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1426

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1427

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1428

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1429

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1430

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1431

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1432

ڈاؤنلوڈ

پیغام سنه 1433

ڈاؤنلوڈ

ایرانی اہلسنت عالم دین :

اخبارات کے مطابق،ایران کے صوبہ خراسان شمالی کے مانہ و سملقان شہر کی مسجد ابوبکرصدیق کے امام جماعت "سید نفس آخوند یزدانی"نے گفتگو کرتے ہوئے اسلام دشمن طاقتوں کا عالم اسلام اور ایران میں حاکم اسلامی نظام کو کسی نہ کسی طرح نقصان پہچانے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:امت اسلامی کو چاہئے کہ نہایت ہوشیاری اور احتیاط کے ساتھ دشمن کی سازشوں پر نظر رکھیں اور تفرقہ بازی کی ہر حرکت پر کڑی نظر بنائے رکھیں اور اسے ناکام بنا دیں۔

آخوند یزدانی نے کہا: دشمن نے مسلمانوں میں اتحاد کو نشانہ بنا رکھا ہے تاکہ اسے تفرقہ میں تبدیل کرسکے، اسلئے اتحاد و یکجہتی کی حفاظت اور مضبوط بنائے رکھنا ہر دور سے زیادہ اہم اور ضروری بن گیا ہے۔

انہوں نے مذید کہا :قرآن کی روح بخش تعلیمات اور رسول مکرم اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت پر عمل اور آنحضرت کی آسمانی رہنمای کی روشنی میں امت اسلامی میں حقیقی اتحاد و یکجہتی ممکن ہے۔

اس اہلسنت عالم دین نے وحدت کے مختلف معانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : مسلمانوں کے درمیان دوری کو نزدیکی میں تبدیل کرنا ، نظریے اور طرز عمل میں اختلاف کو فروعی تسلیم کرنا ،ماضی کے پیش نظر حال اور مستقل کو مخدوش نہ کرنا ، یکجہتی اختیار کرنا،انفرادیت سے اجتماعیت کی طرف آنا یہ سبھی اتحاد کے معنی ہیں اور مجموعی طور اس سے پتہ چلتا ہے کہ عالم اسلام اور عالم انسانیت میں مسلمان ایک ہاتھ کے مانند متحد ہیں جو کہ قرآن کی تعلیم اور حکم ہے اور ہم سب کو اسلام کی تبلیغ اور ترویج میں جڑے رہنا ہے۔

آخوند یزدانی نے مذید کہا: قرآن میں وحدت کی سفارش موجود ہے اور خدا نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو رحمت اور وحدت کے ساتھ بھیجا ہے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ رہ کر محبت اور اتحاد کی حفاظت کرتے رہیں۔

انہوں نے مذید کہا: ہم سب کو حقیقی اسلام اور رسول مکرم اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عملی سیرت اور حضرت امام خمینی (رہ) کے طریقہ کار اور امام خامنہ ای کی رہنمائی میں آگے بڑھنا ہوگا۔

ایران کے صوبہ خراسان شمالی کے مانہ و سملقان شہرکی مسجد ابو بکر صدیق کے امام جماعت نے کہا: آج ہم عالم اسلام اور مسلمان سماج میں جو اتحاد اور یکجہتی کو مشاہدہ کررہے ہیں یہ سب حضرت امام خمینی (رہ) اور حضرت امام خامنہ ای کی قیادت کا ثمرہ ہے ۔

آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے قومی سیکریٹری:

دنیا بھر میں مساجد و مقابر کی بے حرمتی اور انہیں مسمار کرنے کا جو سلسلہ جاری ہے وہ بہت ہی خطرناک بات ہے اگر اس پر فوری طور پر روک نہیں لگائی گئی تو دنیا بھر میں مقامات مقدسہ کو ان شدت پسندوں سے خطرہ لاحق ہوجائے گا۔

اس خدشہ کا اظہار آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے قومی سیکریٹری سید بابر اشرف کچھو چھوی نے اپنے بیان میں کیا۔

سید بابر اشرف نے کہا کہ مزارات اور بزرگان دین کے آثار و باقیات کو مٹانے کا یہ سلسلہ سعودی عربیہ نے شروع کیا اور آج وہ پیٹرو ڈالر کے ذریعہ ساری دنیا میں اپنے کارندے بھیج کر امن و امان کے علمبردار بزرگان دین کے مزارات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

 

انہوں نے حال ہی میں افریقی ملک مالی میں عظیم بزرگان دین کے مزارات کو بم سے اڑا دئے جانے کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ مزارات و دیگر مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات کریں۔

 

مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا کے قومی جنرل سیکریٹری شاہنواز وارثی نے کہا کہ وہ شدت پسند اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور جہاں بھی جاتے ہیں وہاں مسلمانوں کو اور ان سے جڑی ہوئی عقیدت و محبت کی نشانیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ افغانستان ، پاکستان کے بعد لیبیا، مصر اور صومالیہ میں مزارات کے توڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بہت قابل مذمت فعل ہے جس پر فوری طور سے روک لگائی جائے۔

 

جس زمانہ میں آپ نجف اشرف میں تعلیمی مراحل تیزی سے طے کر رہے تھے ان ایام میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت اما م خمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی نجف میں جلا وطنی کے دن کاٹ رہے تھے۔ آپ مدرسہ آیت اللہ بروجردی میں نماز مغربین کی امامت فرماتے اور چند لوگ آپ کی اقتداء میں نماز بجا لاتے تھے۔ پاکستانی طلباء میں سید عارف حسین الحسینی واحد طالب علم تھے جو باقاعدگی سے امام خمینی کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے۔ نماز کے بعد امام خمینی کے دروس کو انتہائی انہماک سے سنتے اور ذہن کی لوح پر نقش کر لیتے۔ آپ واپس اپنے ہاسٹل لوٹتے تو ہاں پر موجود تمام احباب کو امام خمینی کے درس کا خلاصہ پیش کرتے اورانہیں امام خمینی کے دروس میں شرکت کی اپیل کرتے۔

یہ وہ دور تھا جب امام خمینی پر سامراج کی نظریں لگی ہوئی تھیں اور لمحہ بہ لمحہ آ پ کی کاروائیاں جاسوس ادارے نوٹ کررہے تھے۔ حکومت عراق اور حکومت ایران دونوں کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ امام خمینی کے پیروکاروں میں اضافہ نہ ہونے پائے اور آپ کے افکار کو پھیلنے کا موقع نہ ملے۔ لہذا حکومت عراق آپ اور آپ کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے والوںپر کڑی نظررکھتی تھی اور اسی ضمن میں آپ کے رفقاء کوآپ سے جدا کرنے کا ہر طریقہ اختیار کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ علماء اور اکثر طلباء امام خمینی کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے سے گریز کرتے تھے ۔ مگر سید عارف حسین الحسینی کے عشق کی یہ حد تھی کہ آپ امام خمینی کی جماعت کی پہلی صف میں بیٹھتے ، ذہن کے دریچوں کو کھول کر امام خمینی کا ہر فرمان سنتے اور امام خمینی کے چہرے پر نظریں جما کر مہتاب انقلاب کی شعاعوں سے آنکھوں کومنور اور دل کو تازگی بخشتے۔ جب کبھی وقت اور حالات کی نزاکتوں میں شدت آتی تو آپ اپنے رفقاء سے التجا کرتے کہ امام خمینی کی درازی عمر کی دعا کریں اور خود روضہ حضرت علی علیہ السلام پر حاضری دیتے اور گڑ گڑا کر امام خمینی کے لئے دعائیں مانگتے۔

ایک بار کسی دوست نے آپ سے کہا کہ ہم پاکستانی طلباء یہاں اپنی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئے ہیں لہذا ہمیں ایران عراق اور یہاں کی سیاسی متنازعہ شخصیات سے کوئی سروکار نہیںہوناچاہیے۔ ایک تو یہ غیر ملکی معاملات ہیں اور دوسرا یہاں کے امور میں مداخلت سے ہمارے لئے مشکلات پید اہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ سنتے ہی آپ کاچہرہ جلال سے سرخ ہو گیا اور دیگر احباب کے سامنے اسی دوست سے فرمایا'' اے دوست آپ کا مذہبِ شیعہ پاکستان سے تخلیق نہیں ہوا۔ یہ چشمہ ہدایت بھی عراق سے رواں ہوا تھا اور نواسہ رسول پاکستانی نہیں تھے۔ ہم حق کے متلاشی اور ہر فرزند زہراء (س) کی صدائے ھل من ناصر پر لبیک کہنے والے ہیں لہذا ہم حق کی خاطر اٹھنے والی ہر صدا، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے کیوں نہ اٹھے اس کا ساتھ دینا اور حق کے راستے میں صعوبتیں برداشت کرنا بھی ہماری ذمہ داريوں میں شامل ہے۔ دعا کرو کہ فرزند زہراء خمینی دشمنوں کی نظر بد سے محفوظ رہیں اور کوشش کرو کہ آپ کے افکار کاچرچا عام ہو۔ یاد رکھو کہ اگر خدا نخواستہ اس رہبر کو کچھ ہوگیا تو پھر کئی برس تک کوئی عالم دین صدائے حق بلند نہیں کرسکے گا اور اگر بفضل خدا انہیں کامیابی حاصل ہو گئی تو پھر اسلام سرخرو اور علماء سربلند ہوں گے لہذا توبہ کرو اور اپنے دل سے ان وسوسوں کو نکال دو''۔

آپ کے جذبات اور خلوص سے تمام طلباء بے حد متاثر ہوئے اور ان میں سے بعض امام خمینی کی اقتداء میں نماز مغربین میں شرکت کرنے لگے۔ کربلا کی زمین پر سید الشہداء کے مجاہد فرزند امام خمینی کی محبت بھی پروان چڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ احباب کی محفل کے درمیان امام خمینی کا ایک جملہ نقل فرماتے ہی اشکبار ہوگئے کہ آج امام خمینی نے شاہ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ'' میرا دل تیرے نیزوں سے چھلنی ہونے کے لئے حاضر ہے لیکن تیرے ظلم و ستم کو تسلیم کرنے کے لئے نہیں''۔

اس وقت جب امام خمینی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بھی خطرناک ہوا کرتا تھا۔ آپ امام خمینی کے پیچھے ایسے چلتے جیسا ان کے ذاتی محافظ ہوں۔ آپ کی یہ حالت دیکھ کر آپ کے کسی دوست نے بھری محفل میں کہہ دیا تھا کہ سید عارف حسین الحسینی نے انگیٹھی کو سینے سے لگایا ہوا ہے'' آپ صرف امام خمینی سے عقیدت تک محدود نہ رہے بلکہ امام خمینی سے عقیدت رکھنے والے افراد بھی آپ کی محبوب شخصیات بن گئے جن میں اقا علی نائینی، آقا سید رضا برقعی، آقا دعائی اور آقا سید حسین یزدی سرفہرست ہیں۔

زمانہ طالب علمی میں آپ اپنے استاد آیت اللہ شہید مدنی سے بے حد متاثر تھے کیونکہ شہید مدنی بلند پایہ عالم دین ہونے کے علاوہ امام خمینی کے عاشق بھی تھے۔ آپ مدرسہ دارالحکمت میں آیت اللہ مدنی سے شرح لمعہ پڑھتے تھے اور درس ختم ہونے کے بعد انہی کے ساتھ سیدھا مدرسہ بروجردی جا کر امام خمینی کے پیچھے نماز مغربین ادا کرتے اور نمازظہرین بھی اکثر اوقات مسجد شیخ انصاری میں امام خمینی کی اقتداء میں ادا کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔

امام خمینی سے آپ کی عشق کی مثال کچھ یوں بھی سامنے آئی ہے کہ ١٩٧١ء میں جب ایران میں ڈھائی ہزار سالہ جشن شہنشاہی منایا جا رہا تھا تو امام خمینی نے نجف اشرف میں اس کے خلاف تقریر کی۔ یہ شاہ ایران کے آباواجداد کا جشن شہنشاہی تھا جس پر اربوں روپے خرچ کئے گئے تھے جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔

اس بار ے میں امام خمینی نے فرمایا تھا کہ '' اے شہنشاہ ایران یہ ملک تمہارے باپ کی جاگیر نہیں ہے بلکہ امام زمانہ کاملک ہے۔ اس کے اربوں روپے تمہارے خاندانی جشن کے لیے نہیں بلکہ غریب و مظلوم عوام کے لئے ہیں'' امام خمینی کی اس پرجوش تقریر کے بعد امام کے طرفدار طلباء اور علماء نے شاہ کو مذمتی ٹیلی گرام بھیجے۔ پاکستانی طلاب میں صرف سید عارف حسین الحسینی ہی تھے جنہوں نے شاہ کو پاکستانی طلباء کی جانب سے ٹیلی گرام بھیجا تھا۔ جب اس بات کا علم پاکستانی طلباء کو ہوا تو وہ ایک گروپ کی صورت میں نماز مغربین کے بعد صحن مطہر حضرت علی علیہ السلام میں اپ سے ملے اور اعتراض کیا ''آپکو کیا حق پہنچتا ہے کہ آپ تمام پاکستانی طلباء کی طرف سے شاہ کو مذمتی ٹیلی گرام ارسال کریں، ہمارا ان باتوں سے کیا تعلق ہے، ہم پاکستانی ہیں۔ ہم کسی ایرانی شخصیت کی حمایت اور ایرانی حکومت کی مذمت کیوں کریں؟ ہمیں تو ایران کے راستے پاکستان آنا جانا ہوتا ہے، اس طرح حکومت ایران ہمیں تنگ کرے گی''۔

پاکستانی احباب کی یہ باتیں سن کر آپ نے کافی دلائل دئیے مگر وہ بضد رہے۔ جب بات دلائل سے نہ بنی تو پھر متحمل مزاج عارف کے چہرے پر جلال نمودار ہوا اور آپ نے انتہائی سخت الفاظ میں انہیں باز رہنے کی تاکید کی۔ نوجوانی کے عالم میں غصہ پر قابو پانا آ پ کی صفات کا ایک حصہ تھا لیکن امام خمینی یا کسی مقتدر علمی شخصیات کی توہین برداشت کرنا آپ کے لئے مشکل ہوتا تھا۔''

ایک اہم واقعہ جو ١٩٧٣ء میں نجف اشرف کی سرزمین پر پیش آیا وہ یوں تھا کہ حسن البکر کی بعثی عراقی حکومت نے آقا محسن الحکیم کی انقلابی سرگرمیوں سے خائف ہو کر انہیں کوفہ میں نظر بند کر دیا اور ان کی ملاقات پر پابندی عائد کر دی۔ وفد آقا محسن الحکیم سے ملاقات کرنے کوفہ پہنچا جہاں طلباء کے جلوس اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔ اس جلوس میں سید عارف حسین الحسینی اور سید شبر حسن آف پاراچنار بھی موجود تھے۔ ان دونوں جوانوں نے پولیس سے خوب ہاتھاپائی کی اور چند پولیس والوں کو زخمی کردیا ۔ اس تصادم میں سیدعارف حسین کی عباء بھی پھٹ گئی۔ پھر آپ مسجد کوفہ پہنچے مگر پولیس نے مسجد میں گھس کر آپ کو گرفتار کر لیا۔

اس زمانہ میں امام خمینی کی حقیقی معرفت بہت کم افراد کو تھی اور بعض اوقات طلباء آپ سے اختلاف بھی کر لیتے تھے مگر سید عارف حسین الحینی کے سامنے کسی کو امام خمینی کی شان کے منافی ایک حرف کہنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ دل کو دل سے راہ ہونے کے مصداق شہيد حسيبی نے اگر امام خمینی جیسے گوہر یکتا کو اپنی باطنی بصیرت سے کشف کر لیاتھا تو امام خمینی کی روحانیت نے بھی آپ کا انتخاب فرمالیاتھا۔ لہذا جب آپ ١٩٧٣ء میں نجف اشرف سے پاکستان بغرض ترویج انقلاب آنے لگے تو امام خمینی نے آپ کو اپنا وکالت نامہ دیا جو ایران کی سرحد پر دوران تلاشی چھین لیا گیا۔

حزب اللہ لبنان کے جنرل سکریٹری نے تاکید کی : دنیا کا کوئی شخص علم، حکمت، دانائی، شجاعت اور مدیریت میں حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ھم پلہ نہیں جو امت مسلمہ کی قیادت کا صلاحیت رکھتا ہو۔

 

رپورٹ کے مطابق ، حزب اللہ لبنان کے جنرل سکریٹری حجت الاسلام سید حسن نصراللہ نے اسلامی جمہوریہ ایران ٹی وی کے چوتھے چائنل کو انٹرویو میں کہا : ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلامی دنیا اور حتی پوری دنیا میں کوئی ایسا شخص موجود نہیں جو علم، حکمت، دانائی، شجاعت اور مدیریت میں قائد انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا ہمتا ہو اور امت مسلمہ کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہو۔

 

انہوں نے مزید کہا : میری نظر میں حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای ، امام خمینی (رہ ) کے بعد سب سے بڑی اسلامی شخصیت ہیں ۔

 

حزب اللہ لبنان فقط شیعوں کا نہیں بلکہ پوری قوم کا دفاع کر رہی ہے ۔

 

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری تنظیم کا منشور خطے کی تمام اقوام کے دفاع پر مشتمل ہے کیونکہ حزب اللہ لبنان اپنی پوری تاریخ میں امت مسلمہ کی حامی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم ہر روز لبنان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے اور لبنان کے دریایی پانی پر اپنا حق جتاتا ہے لہذا ہمیں ہمیشہ اپنے دفاع کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ سید حسن نصراللہ نے تاکید کی کہ بنت جبیل میں امن و امان کا راز اسلامی مزاحمت ہے جسکی وجہ سے دشمن اس خطے پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرتا، اگر چہ آج لبنان میں جنگ کی صورتحال نہیں لیکن حزب اللہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی بھرپور آمادگی رکھتی ہے۔

 

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا یہ دعوی درست ہے کہ حزب اللہ لبنان تشیع کی ترویج کرنے میں مصروف ہے؟ کہا کہ حزب اللہ لبنان ایک اسلامی تنظیم ہے جو اسلامی اصولوں کی پابند ہے۔ حزب اللہ لبنان ایسے افراد کا مجموعہ ہے جو مکتب اہلبیت علیھم السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور اہل تشیع ہیں لیکن اس تنظیم کی سرگرمیاں لبنان کے تمام عوام کیلئے ہیں چاہے وہ مسلمان ہوں یا عیسائی۔

 

حزب اللہ لبنان کی فوجی طاقت کا نشانہ اسرائیل ہے :

 

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ یہ تنظیم تمام لبنانی عوام کی نمایندہ تنظیم ہے، حزب اللہ لبنان کی کوشش ہے کہ وہ ایک اسلامی تحریک کا اچھا اور ترقی یافتہ نمونہ پیش کرے لہذا اسکی شکل اسلامی مزاحمت اور جہاد والی ہے اور وہ اسلامی قوانین و اصول اور اسلامی اخلاقیات کی پابند تنظیم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ لبنان کی فوجی طاقت کبھی بھی ملک کے اندر استعمال نہیں کی جائے گی اور ہم ہر گز لبنان آرمی یا سیکورٹی اداروں کے مقابلے میں نہیں آئیں گے، آپ لوگ کبھی بھی کسی کو جنوب لبنان میں مسلح حالت میں نہیں دیکھیں گے کیونکہ حزب اللہ لبنان کی طاقت خفیہ ہے اور جب تک اسرائیل ہم پر حملہ آور نہیں ہوتا ہم اپنی فوجی طاقت کا اظہار نہیں کرتے۔

 

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ قومی مفادات کو اپنے تنظیمی مفادات پر ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1982 میں اپنی تنظیمی فعالیت کے آغاز سے ہی ہم نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے ملک کا دفاع کرے لیکن اس نے ایسا نہ کیا لہذا لبنانی عوام کی ایک تعداد مسلح ہو گئی تاکہ یہ کام خود انجام دے سکیں۔

 

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ قومی حکومت ملک میں استحکام کا باعث ہے، موجودہ حکومت ہر قسم کے فتنے کو روکنے کا باعث بنی ہے اور ملک میں امن و امان کی فضا قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔

 

اسرائیل کے مقابلے میں حزب اللہ کی فتح ایک معجزہ سے کم نہ تھی:

 

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل نے 1982 میں لبنان پر حملہ کیا اور دارالحکومت بیروت پر بھی قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا، اسی وقت اس کے خلاف اسلامی مزاحمت کی تحریک معرض وجود میں آئی اور اسرائیل پر کاری ضربیں لگانے میں کامیاب ہوئی، اسلامی مزاحمت نے اسے عقب نشینی پر مجبور کر دیا، اگر صرف لبنان کی فوج ہوتی تو اسرائیل لبنان میں باقی رہتا لیکن جب اس نے دیکھا کہ یہاں حزب اللہ جیسی تنظیم بھی موجود ہے اور اسکے خلاف ملٹری آپریشنز اور گوریلا جنگ کر رہی ہے تو فورا لبنان سے بھاگنے پر مجبور ہو گیا کیونکہ اسے ہمارے آپریشنز اور بم دھماکوں سے شدید نقصان پہنچ رہا تھا۔

 

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا اسرائیل اور حزب اللہ لبنان کے درمیان 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ کی فتح کا باعث اسرائیل کی کمزوری تھی یا حزب اللہ کی طاقت؟ کہا کہ یہ فتح خداوند کریم کی جانب سے ایک عظیم نصرت تھی اور ایک معجزہ سے کم نہیں تھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیلی فوج خطے کی ایک طاقتور ترین فوج سمجھی جاتی ہے اور ہماری اصلی جنگ ہوائی مقابلے کی صورت میں تھی۔

 

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ تعداد، اسلحہ اور دیگر وسائل کے اعتبار سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بالکل موازنہ نہیں کیا جا سکتا لیکن مجاہدین کے ایک گروہ نے اپنے شرعی وظیفے کا احساس کرتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی کوشش کی اور خدا نے انہیں فتح اور کامیابی عطا کی، ہم روزمرہ اور معمولی قوانین کی روشنی میں بالکل سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان 33 دنوں میں کیا گزرا کیونکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسرائیل کے پاس کیا ہے اور ہمارے پاس کیا ہے۔

 

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے اس سوال کے جواب میں کہ اسرائیل کے خلاف 33 روزہ جنگ میں آپ کی کامیابی کا راز کیا تھا ؟ کہا کہ خداوند اس وقت انسانوں کی مدد کرتا ہے جب وہ امتحان کے مرحلے سے گزر چکے ہوں، لبنان میں جو کچھ گذشتہ کئی عشروں خاص طور پر 1982 کے بعد انجام پایا وہ ان مخلص افراد کی مزاحمتی تحریک تھی جنہوں نے بڑی تعداد میں شہید اور زخمی پیش کئے اور اپنی فداکاری اور ایثار کے ذریعے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ خدا پر ان افراد کا یقین ان چند سالوں کے بعد ایمان میں تبدیل ہو گیا اور انہوں نے ایثار کا عظیم مظاہرہ کیا، ان 33 دنوں میں اسرائیل نے ہمارے مجاہدوں پر اتنی مقدار میں بم اور میزائل گرائے جو اس نے عرب ممالک کے ساتھ اپنے تمام گذشتہ جنگوں میں گرائے تھے لیکن ہمارے ایک مجاہد نے بھی میدان خالی نہیں کیا اور ڈٹ کر اسرائیل کا مقابلہ کیا، یہ معنوی آمادگی گذشتہ 20 یا 30 سال کی مزاحمت کا نتیجہ تھی۔

 

حزب اللہ کی میزائل طاقت دنیا کے 90 ممالک کے پاس نہیں:

 

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ آج اسرائیل خود یہ اعتراف کرتا ہے کہ حزب اللہ 2006 کی نسبت کئی گنا طاقتور ہو چکی ہے، حزب اللہ لبنان کی طاقت پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور اسرائیل اس کو مان چکا ہے۔

 

سید حسن نصراللہ نے اس سوال کے جواب میں کہ آج کی حزب اللہ اور 2006 کی حزب اللہ میں کیا فرق ہے؟ کہا کہ حزب اللہ کی عوام میں مقبولیت باعث بنی ہے کہ وہ ماضی کی نسبت زیادہ طاقتور ہو جائے، ہمارے مجاہدین کی تعداد بھی پہلے سے زیادہ ہے اور ہمارا اسلحہ بھی زیادہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے میزائل مقبوضہ فلسطین کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت کے حامل ہیں، حزب اللہ کی فوجی طاقت ماضی کی طاقت سے قابل موازنہ نہیں۔

 

اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی مزاحمت کی مضبوط تکیہ گاہ ہے:

 

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ لبنان اور خطے میں جو بات مشہور ہے وہ یہ کہ 2006 میں ہونے والی جنگ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان انجام پائی لیکن پشت پردہ بہت سی باتیں سننے میں آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تہران میں نماز جمعہ کے خطبے میں کہا تھا کہ ہم خطے میں اسرائیل مخالف تحریکوں کی مدد اور حمایت کرتے ہیں، یہ ایک واقعیت ہے۔ حزب اللہ ایک لبنانی تنظیم ہے اور اسکے رہنما بھی لبنانی ہیں، حزب اللہ لبنان کی خاطر جنگ لڑ رہی ہے اور ایران خدا کی خاطر ہماری مدد کر رہا ہے، ہمیں ایران کا شکریہ ادا کرنا چاہئے، اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی مزاحمت کی ایک مضبوط تکیہ گاہ ہے۔

 

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اگر اسرائیل کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا وہ کمزور ہوتا ہے تو اس میں لبنان، فلسطین، مصر، ایران اور تمام اسلامی ممالک کا فائدہ ہے، ہم اس مسئلے کو اس نظر سے دیکھتے ہیں، یہ ایک خالصانہ سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اعتقادی، دینی اور سیاسی مسئلہ ہے۔

 

ایران روز بروز طاقتور ہوتا جا رہا ہے:

 

سید حسن نصراللہ نے اس سوال کے جواب میں کہ آپکی نظر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کا کس قدر امکان ہے کہا لبنان میں اسرائیل کی شکست اور عراق اور افغانستان میں امریکہ کی شکست کے پیش نظر اسکا امکان بہت کم ہے، دوسری طرف ایران روز بروز طاقتور ہوتا چلا جا رہا ہے اور خطے میں اسکے طاقتور دوست موجود ہیں۔

 

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی قسم کی جنگ ان کیلئے انتہائی مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، جنگ کی دھمکیاں صرف اور صرف ایک نفسیاتی حربہ ہے جسکا مقصد ایران کے ساتھ مذاکرات میں اپنے مطالبات منوانا ہے۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا ایران خطے کیلئے ایک خطرہ ہے؟ کہا کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بعض ممالک کی جانب سے یہ منفی پروپیگنڈہ کیا گیا لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں۔

 

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ کیونکہ ایران اسرائیل کیلئے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے لہذا عالمی سطح پر ایران کے خلاف دشمنی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ کوشش 1979 سے جاری ہے۔ گذشتہ کئی سالوں کے دوران جب بھی خطے میں سروے انجام دیا گیا تو لوگوں نے امریکہ اور اسرائیل کو اپنا دشمن نمبر ون قرار دیا اور ایران کو اپنا دوست ظاہر کیا، یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل اپنے منصوبوں میں بری طرح ناکامی کا شکار ہوا ہے، انہوں نے اس منصوبے پر بہت زیادہ اخراجات کئے ہیں لیکن انہیں اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 

خطے میں جنم لینے والی تحریکیں اسلامی بیداری کی تحریکیں ہیں:

 

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خطے میں پیدا ہونے والی عوامی تحریکیں ایک ناقابل انکار حقیقت ہیں جنہوں نے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کو اپنا رول ماڈل بنا رکھا ہے، ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد خطے میں سیاسی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو گئیں جو بعد میں فسلطینی انتفاضہ، 33 روزہ جنگ، 22 روزہ جنگ اور عراق میں عوامی مزاحمت کے نتیجے میں امریکہ کی شکست کی صورت میں ظاہر ہوئیں۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اگر قائد انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ان تحریکوں کو اسلامی بیداری کا نام دیتے ہیں تو یہ بالکل صحیح اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسکے پٹھو ان تحریکوں کو اغوا کرنا چاہتے ہیں اور انکی ان کوششوں کو لیبیا، تیونس اور مصر میں آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔

سالہا سال کے انتظارکے بعد فرانس کے مسلمانوں نے اس ملک کے شہرسرگی کی مسجد میں پہلی مرتبہ نماز قائم کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فرانس کے شہر سرگی کے مسلمان باشندوں نے کئی سالوں کے انتظارکے بعد پہلی مرتبہ اس شہرکی جامع مسجد میں نمازجماعت قائم کی ہے۔

یاد رہے کہ اس شہر اور اطراف کے دیگر علاقوں کے باشندوں نے اس مسجد میں نمازجعمہ قائم کی ہے جن میں پانچ ہزارمرد اور ایک ہزار خواتین تھیں۔

قابل ذکرہے کہ فرانس کی چھ کروڑ کی آبادی میں سے ساٹھ لاکھ مسلمان ہیں اور اس مسجد میں اس وقت تقریبا ۱۵۰مساجد کو تعمیرکیا جارہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس سالوں کے دوران اس ملک میں مساجد کی تعداد دوگنی ہو کر دو ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔

 

 

حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے درس اخلاق میں بیان فرمایا:

اخلاقی بحثوں میں ہم اس حصے تک پہنچے کہ اخلاق اس شخص کا وسطی اوردرمیانی مرحلہ ہے کہ جو سیر الی اللہ کا خواہاں ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم سب خواہ نخواہ ذات اقدس الٰہی کی طرف لوٹ کر جائیں گے «یا أَیهَا الْإِنسَانُ إِنَّک کادِحٌ إِلَی رَبِّک کدْحاً فَمُلاَقِیهِ» یہ پہلی اصل تھی ۔

دوسری اصل یہ ہے کہ ہم اگر اس راہ پر نہ بھی چلیں تب بھی ہمیں لے جایا جائے گا ۔ اگر اس راہ پر گامزن ہوں تو ہمیں روح و ریحان نصیب ہو گی اور اگر ہمیں لے جایا گیا تو «خُذُوهُ فَغُلُّوهُ» کا سامنا کرنا پڑے گا ؛ کتنا بہتر ہے کہ اس راہ پر ہم خود چلیں۔ تیسری اصل یہ ہے کہ آخر کار ہر راہ کے لیے زادہ راہ ، رفیق اور ہمراہ کی ضرورت ہے ۔ اس طولانی اور ابدی راہ کو ان وسائل کے بغیر طے نہیں کیا جا سکتا ۔ زادہ راہ قرآن نے مقرر کر دیا ہے ؛ رفقاء کی تعیین بھی قرآن کریم نے فرما دی ہے ؛ لیکن مرکب اور سواری اہل بیت ( علیھم السلام ) نے مشخص فرمائی ہے ۔ زادہ راہ کے بارے ذات اقدس الٰہی نے فرمایا : «تَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَیرَ الزَّادِ التَّقْوَی» رفقاء کے باب میں سورہ مبارکہ نساء میں مشخص فرمایا : «وَ مَن یطِعِ اللّهَ وَ الرَّسُولَ فَأُولئِک مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللّهُ عَلَیهِم مِنَ النَّبِیینَ وَ الصِّدِّیقِینَ وَ الشُّهَدَاءِ وَ الصَّالِحِینَ وَ حَسُنَ أُولئِک رَفِیقاً.» اگر کوئی خدا اور پیغمبر (ص) کا مطیع ہو ، تو اس کے اعتقادی ، اخلاقی اور عملی حوالے سے اچھے رفقاء ہوں گے ، ایسا شخص انبیاء ، صدیقین ، صلحاء اور شہداء کے ہمراہ ہو گا ۔ یہ لوگ ہمارے ہمراہ ہیں اور ان کی اچھی رفاقت یہ ہے کہ یہ راستے میں نہیں ٹھہرنے دیں گے ۔ اگر ہمارا زاد راہ کم ہو ، تو پورا کریں گے ؛ ہماری سواری کے فقدان کا ازالہ کریں گے اور اگر ہم تھک گئے اور پیچھے رہ گئے تو یہ ہماری مدد کریں گے۔ یہ لوگ اچھے رفقاء ہیں۔ ایک شخص کو گھر فروخت کرنے کی ضرورت پڑ گئی ، ڈیلرز نے اس کے مکان کی ایک قیمت مقرر کی لیکن اس نے دوگنی سے زیادہ قیمت کہی ۔ اسے کہا گیا : یہ گھر اتنے کا نہیں ہے ! ، اس نے کہا : مجھے معلوم ہے کہ گھر کی قیمت یہ نہیں ہے اور ڈیلرز نے فلاں قیمت معین کی ہے لیکن اس گھر کو ایک ترجیح حاصل ہے اور وہ یہ ہے کہ میں امام کاظم سلام اللہ علیہ کا ہمسایہ ہوں ؛ اس بنا پر اس گھر کی قدر و قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے ۔ غرضیکہ وہ اپنے ساتھیوں کا دھیان رکھنے والے ہیں ۔ اگر انبیاء ، صلحاء ، صدّیقین اور شہداء ہمارے ہمراہ ہوں تو ہم راستے ہی میں سرگرداں نہیں رہیں گے اورپھر کوئی بھٹکا ہوا مسافرنہیں ہوگا۔ پس زاد راہ مشخص ، راہ مشخص ، ہمراہ اور سواری بھی مشخص ہے ۔

حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے نماز شب کے بارے گیارہویں امام (ع) کی حدیث کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :

گزشتہ ہفتے وجود مبارک امام عسکری (ع) کے پربرکت میلاد کی مناسبت سے اس نورانی حدیث کو نقل کیا گیا کہ فرمایا : «إنّ الوصولَ إلی الله عزّ و جلّ سفرٌ لایدرک الاّ بِامْتطاءِ اللیل» یعنی اس طولانی راستے کو سواری اور مرکب کے بغیر طے کرنا دشوار ہے ؛ اس راہ کی سب سے اہم سواری نماز شب ہے ۔ "امتطاء"، کا معنی أخذ المطیة یعنی سواری اخذ کرنا ہے ؛ "امتَطَأ" یعنی "أَخَذَ المطیة" اس نے سواری اخذ کی ، فرمایا : جو لوگ اہل تہجّد نہیں ہیں ، وہ پیدل راستہ طے کریں گے لیکن مشقت کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچیں گے لیکن اگر سوار ہو کر جائیں تو زیادہ آسانی سے منزل تک پہنچیں گے اور یہ سوار ہو کر جانا نماز شب کے ہمراہ ہونے کی صورت میں ہے «إنّ الوصولَ إلی الله عزّ و جلّ سفرٌ لایدرک الاّ بِامْتطاءِ اللیل.» راہ مشخص ہے ، ہمراہی ، زاد راہ اور سواری بھی مشخص ہے ۔ یہ باتیں بہت سی کتابوں میں ہیں ۔ اخلاقی کتب کی طرف رجوع کریں تو بیشتر کتابوں میں یہی باتیں مذکور ہیں ؛ لیکن جو مطلب ہمارے بعض اساتذہ(رضوان اللہ علیھم ) نے فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنی تقاریر اور گفتگو میں باتقویٰ رہنے کی کوشش کریں ، لوگوں کو تقویٰ کی دعوت دیں ۔ یہ باتقوٰی رہنا اور لوگوں کو تقویٰ کی دعوت دینے کا مطلب زاد راہ مہیا کرنے کے لیے سرگرم رہنا ہے لیکن ممکن ہے کہ یہ امر ہمیں اصل چیز سے روک دے ۔

اگر آپ مشہد جانا چاہیں تو کس قدر زادہ راہ مہیا کریں گے ؟ خوراک کا ایک کارٹن آپ کے لیے اور آپ کے بال بچوں کے لیے کافی ہو گا ؛ آپ ایک ٹرک بھر خواراک تو نہیں لے جائیں گے ، اگر ٹرک بھر لے جائیں تو کچھ آپ خود کھائیں گے اور کچھ دوسرے زائرین کو دے کر ثواب حاصل کریں گے ۔ اگر کوئی شخص زندگی بھر تقویٰ کی فکر میں رہے یعنی واجبات کو انجام دے اور محرمات کو ترک کرے ، نوافل ادا کرے ، نیک کام اور مستحبات انجام دے ، صدقہ دے ، تو وہ صرف زاد راہ جمع کرنے میں مشغول ہے ۔ اس ہفتہ جشن نیکو کاری ہے اگر کوئی ان تقریبات میں اس طرح کے کاموں میں شریک ہو ، فقیروں کا دھیان رکھے تو وہ تقویٰ میں مشغول ہے ۔ یہ تمام چیزیں تقویٰ ہیں ۔ لیکن یہ کام اگر ایک بزرگ اخلاقی عالم کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ کہے گا اس شخص نے اپنی عمر زاد راہ مہیّا کرنے میں خرچ کر دی ہے لیکن خدا کون ہے ؟ خدا جو ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے اور ہم سے بھی زیادہ ہمارے نزدیک ہے ، ہم اسے کیوں نہیں دیکھ پاتے ؟ یہ ہدف ہے ؛ نہ وہ زاد راہ کہ جو ہم جمع کر رہے ہیں ۔ آپ متواتر زاد راہ مہیا کرتے رہیں ؛ تو آپ کو بہشت عطا کر دی جائے گی ۔ آپ اور دوسروں کے درمیان فرق یہ ہو گا کہ اگر دوسروں کو دس سجے سجائے کمرے عطا ہوں گے تو آپ کو سو مل جائیں گے ، دوسروں کو دس نہریں ملیں تو آپ کو سو نہریں مل جائیں گی ؛ یہاں تک آپ«فِی جَنَّاتٍ وَ نَهَرٍ» کا مصداق ٹھہرے ہیں لیکن آپ کو «فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِیک مُقْتَدِرٍ»کا مقام نصیب نہیں ہو گا ۔ چونکہ آپ نے زاد راہ کے حوالے سے کام کیا ہے لیکن منزل اور ہدف کی شناخت حاصل نہیں کی ۔ خدا کا ایک مفہوم ہم سب کے ذہنوں میں ہے ۔ یہ کیسی ذات ہے کہ جو ہم سے بھی زیادہ ہمارے نزدیک ہے ؟ حتی کہ ہماری ذات سے بھی زیادہ ہمارے نزدیک ہے ؟ ہمیں اس امر کی خبر نہیں ہے ! ہم نہیں دیکھ رہے ؛ کیوں ؟ چونکہ ہماری باطنی نگاہ نہیں ہے کہ اسے دیکھ سکیں ۔ یہی وہ بات ہے جو ہم سے کہی گئی ہے کہ دیکھیں ! سورہ حج میں فرمایا : «لاَتَعْمَی الأبْصَار وَ لکن تَعْمَی الْقُلُوبُ الَّتِی فِی الصُّدُور» قرآن کریم کا یہ نورانی بیان اسی مطلب سے مربوط ہے ۔ یعنی ہم میں سے بعض کی باطنی آنکھیں بند ہیں ۔ ان باطنی نابیناؤں کو دس کمرے اور باغ تو عطا کر دئیے جائیں گے اور وہ لذّت بھی حاصل کرے گا ۔ سورہ مبارکہ قمر کے اس آخری حصے میں فرمایا : «إِنَّ الْمُتَّقِینَ فِی جَنَّاتٍ وَ نَهَرٍ» یہ آیت جسمانی لذتوں سے متعلّق ہے ؛ ہمارا جسم اور بدن اپنی لذّتیں حاصل کر لے گا؛ لیکن «فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِیک مُقْتَدِرٍ» سے دور رہیں گے اور قرب الہی کے مقام سے بہرہ مند نہیں ہوں گے ۔ آپ اس آیہ مبارکہ «عَلی سُرُرٍ مُتَقَابِلِینَ» میں یہ پیغام حاصل کرتے ہیں کہ تمام بہشتی کرسیوں پر جلوہ فگن ہیں ان کے سامنے میز سجے ہوئے ہیں ، یہ سب کے سب ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں ؛ یہ کس طرح ممکن ہے کہ کروڑوں انسان ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں ؟ چونکہ (اتنی زیادہ بھیڑ میں ) آخر کار ایک صف کی شکل بن جاتی ہے کہ جس میں بمشکل ہر دو ، تین افراد ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہو سکتے ہیں ؛ ورنہ وہ آخری ، داہنے ہاتھ والے اور باہنے ہاتھ والے تو ایک دوسرے کے روبرو نہیں ہیں ۔ یہ کہاں ملے گا کہ سب کے سب ایک دوسرے کے روبرو ہوں ؟ فرماتے ہیں جب «عِندَ مَلِیک مُقْتَدِرٍ» کے مقام پر فائز ہو جائیں تو وہاں غیبت ، غیاب اور سِتر نہیں ہے ؛ سب کے سب ایک دوسرے کے روبرو ہیں اور سب ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں ۔ ان نکات کے نہ مفہوم کا پتہ ہے اور نہ ہی مصداق کا ۔

اخلاق کا ہدف یہ ہے کہ انسان توشہ آخرت مہیا کرے اس نکتہ کوبیان کرتےہوئے حضرت استاد نے فرمایا :

اخلاق اس لیے ہے کہ ہم زاد راہ مہیا کریں ؛ لیکن اخلاق سے بالاتر امور بھی ہیں ۔ اخلاق ایک دوسری چیز کے لیے ہے ۔ اخلاق اس لیے ہے کہ «لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْیقِینِ ٭ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیمَ» کی بنیاد پر ابھی اور اسی جگہ بیٹھے بیٹھے جہنم کو دیکھا جائے ۔ ہم اس وقت گپ شپ میں مشغول ہیں ؛ جو بہشت یا جہنم پر عقلی یا نقلی دلیل قائم کرتا ہے اس کا سخن حق ہے ؛ "مما لا ریب فیہ"( اس میں کوئی شک نہیں) ہے ؛ لیکن جو منزل تک پہنچ چکے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ تم لوگ گپیں ہانک رہے ہو ، مولوی کے بقول :

خود هنر دان دیدن آتش عیان ٭٭٭ نی گپ دلّ علی النار الدخان

ہنر یہ ہے کہ انسان خود آگ کو دیکھے۔ فرمایا : «کلاَّ لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْیقِینِ ٭ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیمَ» اس سےمراد موت کے بعد دیکھنا نہیں ہے ؛ موت کے بعد تو کافر بھی دیکھ لیں گے اور کہیں گے «رَبَّنَا ابْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا» اللہ تعالیٰ انہیں جہنم دکھلائے گا اور فرمائے گا : «أَفَسِحْرٌ هذَا أَمْ أَنتُمْ لاَتُبْصِرُونَ» اور وہ عرض کریں گے : «رَبَّنَا ابْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا» اگر ایسا ہے کہ فرمایا : «لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْیقِینِ ٭ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیمَ» یعنی ابھی جہنم کو دیکھ رہے ہو ۔ یہ ہنر ہے اور «خود هنر دان دیدن آتش عیان» اگر تم چاہو تو دوسروں کے لیے عقلی یا نقلی دیل قائم کرو کہ جہنم ہے ۔ جی ہاں ! ہے ؛ یہ "ممّا لاریبَ فیه" بھی ہے ؛ لیکن یہ گپ ہے ۔ یہ اس طرح ہے کہ کوئی شخص دور سے دھواں دیکھ کر کہے کہ دھواں ہے لہٰذا آگ بھی ہے ۔ جو شخص آگ نہیں دیکھتا ، دھواں دیکھتا ہے اور دھویں سے آگ کا اندازہ لگاتاہے وہ گپ مار رہا ہے ، دھواں دیکھ رہا ہے اور دھویں سے آگ کا پتہ چلا رہا ہے ؛ وہ گپ مار رہا ہے «نی گپ دلّ علی النار دخان». حضرت امیر (ع) کا خطبہ ھمام میں نورانی بیان یہ ہے کہ فرمایا : «فَهُمْ وَ الْجَنَّةُ کمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِیهَا مُنَعَّمُونَ وَ هُمْ وَ النَّارُ کمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِیهَا مُعَذَّبُونَ» یہ گویا ابھی جہنّم کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ وجود مبارک امام رضا ( سلام اللہ علیہ) نے فرمایا : «لا هم منّا» کہ وہ شخص ہم سے نہیں ہے کہ جو یہ یقین نہ رکھے کہ بہشت اور جہنم ابھی موجود ہیں ؛ ایسا نہیں ہے کہ یہ بعد میں پیدا کیے جائیں گے ۔ وجود مبارک پیغمبر (علیہ و علی آلہ آلاف التحیۃ و الثناء) نے معراج کے موقع پر بہشت اور جہنم کو نزدیک سے دیکھا ۔ یہ ہنر ہے اور اخلاق اس امر کا مقدمہ ہے کہ انسان اس مقام پر فائز ہو ۔

اخلاق راہ کا اختتام نہیں ہے بلکہ میان اور وسط ہے ۔ اسی رو سے آپ ملاحظہ کرتے ہیں کہ منازل السائرین میں تحریر ہے (خواہ خواجہ عبد اللہ انصاری ہوں اور خواہ وہ لوگ ہوں کہ جنہوں نے سابق سے یا لاحق سے اس کی شرح کی ہے ) کہ اخلاق ایک صد درجے کے میدان میں وسطی اور میانی مراتب کا حامل ہے ۔ اس کے بعد اصول کی نوبت آتی ہے اور اس کے بعد احوال کی ۔ اسی احوال کے مرحلے میں انسان ایسا حال پیدا کرتا ہے کہ ساری صورتحال کا ابھی مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے ۔ اس وقت وہ مطمئن ہو جاتا ہے بہت سے لوگ"کأنّ" (گویا) کے مقام پر فائز ہوئے لیکن وجود مبارک اھل بیت (علیھم السلام ) "أنّ" (عینیت) کے مقام پر پہنچے ہیں یہ جو فرمایا : «ما کنتُ أعبدُ ربّاً لم أرَهُ» یہ مبدأ کے لیے ہے ، یہ جو فرمایا : «لو کشِفَ الغطاءُ ما ازددتُ یقینا» یہ معاد کے لیے ہے ۔ ایسا شخص مفہوم کے ساتھ زندگی بسر نہیں کر سکتا (ایک) "کأنّ" کے ساتھ زندگی بسر نہیں کر سکتا ( دو) "أنّ" اور "إنّ" (خارجی حقیقت ) کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے (تین) ہر چیز دیکھ رہا ہوتا ہے ۔ اگر ہم اس مقام پر فائز نہیں ہو سکتے تو کم از کم "کأنّ" کے مقام پر ضرور فائز ہوں ۔

فریقین نے احسان کی تفسیر میں وجود مبارک پیغمبر (علیه و علی آله آلاف التحیة و الثناء) سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ فرمایا : «الإحسان أن تَعبد الله کأنّک تراه فإن لم تَکن تراه فإنّه یراک» آپ کہتے ہیں : «إِیاک نَعْبُدُ»؛مفہوم کو خطاب کر رہے ہیں یا مصداق کو ؟ مفہوم کو کہہ رہے ہیں : «إِیاک»؟! اگر مصداق کو خطاب کر رہے ہیں تو ضروری ہے کہ اسے دیکھ رہے ہوں ۔ فقط جانتے ہیں کہ یہ مفہوم ایک مصداق رکھتا ہے ۔ اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے کہ جو مشہد جا رہا ہے اور غذا کا ایک ٹرک بھر کر لے جا رہا ہے ۔ اس کے پاس صرف زاد راہ ہے اور زاد راہ ! فرماتے ہیں کہ کچھ مقدار عقل بھی ہمراہ لو ، کچھ معرفت بھی حاصل کرو ۔ ائمہ (ع) نے ابوذر رضوان اللہ علیہ کے بارے فرمایا ہے : «کان أکثر عبادة أبی ذر التفکر» یہ کیسی ذات ہے کہ جو میرے ساتھ ہے اور میں اسے نہیں دیکھ رہا ؟ روح و ریحان ایسے آدمی کو نصیب ہوتی ہے پھر اسے کوئی ڈر اور خوف نہیں ہوتا جب وجود مبارک پیغمبر علیہ و علی آلہ آلاف التحیۃ و الثناء سے کہا گیا کہ وہ آ رہے ہیں ! تو آپ (ص) نے غار کے دہانے پر فرمایا : «لاَتَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا» خدا ہمارے ساتھ ہے «هُوَ مَعَکمْ أَینَ مَا کنتُمْ» پس ہم اس سے کیوں خوفزدہ ہیں ! پس کیوں فقر ، مرض اور بیرونی حملے سے خوف کھاتے ہیں ! وہ تو ہمارے ساتھ ہے اور ہر کام اس کے ہاتھ میں ہے ،«جُنُودُ السَّماوَاتِ و الْأَرْضِ»اس کے لیے ہیں ، پس اسے کیوں نہیں دیکھ پاتے ؟! اگر دیکھ لیں تو پھر ہمیں کوئی خوف نہیں ہو گا ۔ وجود مبارک موسیٰ کلیم (ع) نے دو خطروں کے درمیان کیا فرمایا ؟ سامنے غرق ہونے کا خطرہ تھا اور پیچھے فرعون کا انتہائی عظیم لشکر تھا ۔ جب قوم کے آدمیوں نے حضرت موسیٰ کی خدمت میں عرض کیا کہ سامنے دریا ہے اور پیٹھ پیچھے فرعون کا لشکر پہنچنے والا ہے ؛ یہ آپ نے ہمیں کہاں پھنسا دیا ہے ؟ فرمایا : «کلّا إِنَّ مَعِی رَبِّی» یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟! خدا کرے یہ سخن ہم سب کے شامل حال ہو جائے اور ہم صرف اسی اخلاق کو حاصل کرنے کے درپے ہیں وہ بھی اگر انشاء اللہ حاصل ہو جائے !

یہ بھی پیغمبر اکرم (صلّی الله علیه و آله و سلّم) کے نورانی بیانات میں سے ہے کہ فرمایا : «إنّ الله سبحانه و تعالی یحبّ مَعالی الامور و یکره سَفسافها» اللہ تعالیٰ بلند ہمتوں اور افکار کو پسند کرتا ہے ۔ علوم اس قدر فراوان ہیں کہ انسان کبھی بھی منہ شگافی کرتے ہوئے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں فارغ التحصیل ہو چکا ہوں ! جب تک ہماری سانسوں میں سانس ہے ہمیں کتاب کے ساتھ رہنا چاہیے ، یا درس کہیں یا درس پڑھیں ؛ کیا ممکن ہے کہ ایک اہل حوزہ یا اہل دانشگاہ کتاب ایک طرف رکھ دے ؟! ہمیں بتایا گیا ہے : «إنّ الله سبحانه و تعالی یحبّ مَعالی الامور و یکره سَفسافها» پست فکر و ہمت اور جاہلانہ طور طریقے خدا کو پسند نہیں ہیں علوم اس قدر فراوان ہیں کہ انسان ہر لحظے ان سے استفادہ کر سکتا ہے ۔

اس بنا پر اخلاقی مسائل اس امر کا پیش خیمہ ہیں کہ انسان اس سے بالاتر مراتب پر فائز ہو ۔ اخلاق کا کم سے کم اثر یہ ہے کہ یہ معاشرے کو نورانی اور معطّر کرتا ہے ؛ ایک معاشرے کو آئیڈیل معاشرہ بناتا ہے ۔ اب کسی کو یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ صاحب ! گمراہی کے راستے پر نہ چلیں ، کسی کے راستے میں رکاوٹ کھڑی نہ کرو ! یہ ان لوگوں کے لیے ہے کہ جو اہل بیت ( ع) سے آشنا نہیں ہیں ۔ ان سب نورانی روایات ( کلامکم نور) کے باوجود ہم سے یہ کہا جائے : فلاں معصیت اور گناہ مت کرو ؟! یہ گزشتہ مطالب کا ایک خلاصہ تھا اور ہمیں امید ہے کہ خدائے سبحان ہم سب کو ان معارف کے حصول کی توفیق مرحمت فرمائے !

حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے اپنی گرانقدر فرمائشات کے دوسرے حصے میں امیر المومنین (ع) کے امام حسن (ع) کے نام خط کے اختتامی حصے میں فرمایا :

وجود مبارک حضرت امیر ( سلام اللہ علیہ ) کا خط ایک مفصل نامہ ہے اور سید رضی ( رضوان اللہ علیہ ) نے اس نامے کی کانٹ چھانٹ نہیں کی ہے ۔ وہ نامہ جو وجود مبارک حضرت امیر ( سلام اللہ علیہ ) نے اپنے فرزند بزرگوار کے لیے تحریر کیا ہے اور معروف یہی ہے کہ یہ نامہ امام مجتبی ( ع ) کے لیے مرقوم فرمایا ، بعض نے کہا ہے کہ کسی اور فرزند کے نام ہے ۔ یہ نامہ انتہائی مفصل ہے اور اس کے متعدد حصے ہیں ۔ ہم اس خط کے آخری اقتباس تک پہنچ گئے ہیں کہ فرمایا : «إِیاک أَنْ تَذْکرَ مِنَ الْکلاَمِ مَا یکونُ مُضْحِکاً وَ إِنْ حَکیتَ ذلِک عَنْ غَیرِک»؛ فرمایا : مبادا اپنی محفلوں میں ایسی بات کہو کہ دوسرے ہنسیں اگرچہ اپنے غیر سے ہی کیوں نہ نقل کرو ! کیا تم لوگوں کے ہاتھوں کا کھلونا ہو کہ تم لب کھولو اور بات کرو کہ جس پر کچھ لوگ ہنسیں ! کیا یہ چیز تمہاری قدروقیمت نہیں گھٹاتی؟! اچھا ! یہ خاندانی تربیت ہے ۔ فرمایا : مبادا ! تم ایسا کام کرو کہ جگت بازی کرو اور دوسرے ہنسیں ۔ آخر تم انسان ہو اور تمہاری ایک قدر و قیمت ہے ۔ خود کو اس طرح رائیگاں ہنسی مذاق کا مورد بناتے ہو ؟ فرمایا : «إِیاک أَنْ تَذْکرَ مِنَ الْکلاَمِ مَا یکونُ مُضْحِکاً وَ إِنْ حَکیتَ ذلِک عَنْ غَیرِک»؛ اس کے بعد اس اقتباس تک پہنچے تھے کہ «إِیاک وَ مُشَاوَرَةَ النِّسَاءِ فَإِنَّ رَأیهُنَّ إِلَی أَفَنِ» ؛ "آفن" ہمزہ کے ساتھ ضعف کے معنی میں ہے اور یہ عفن (عین کے ساتھ) کا غیر ہے کہ جس کا معنی عفونت(بدبواورگندگی) ہے ۔ . «وَ عَزْمَهُنَّ إِلَی وَهْنِ وَ اکفُفْ عَلَیهِنَّ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ بِحِجَابِک إِیاهُنَّ» گزشتہ ہفتے عورتوں سے مشورے کے بارے تفصیلی گفتگو کی گئی تھی ۔ اس میں اشارہ کیا گیا کہ ہر ملک منجملہ ہمارے ملک میں آدھی آبادی مردوں اور آدھی عورتوں پر مشتمل ہے ( یہ پہلی اصل) ؛ مردوں کو تعلیم و تزکیے اور انتظامی کاموں کی ضرورت ہے ، خواتین بھی اسی طرح ہیں ( یہ دوسری اصل ) جس طرح مردوں کو حج و عمرے کے لیے فوٹو گرافی اور ہسپتالوں میں سارے بدن کے ایکسرے کی ضرورت ہوتی ہے ، خواتین کو بھی یہ ضروریات درپیش ہیں( تیسری اصل ) جہاں تک ممکن ہو سکے انسان خود کو اضطرار سے دوچار نہ کرے ؛ اگر آپ مراجع کا فتویٰ ملاحظہ کرتے ہیں کہ اضطرار کی صورت میں مرد، خواتین کی فوٹو بنا سکتے ہیں ۔ ہم کیوں مضطرّ (مجبور) ہوں معاشرے کی آدھی آبادی جو خواتین پر مشتمل ہے ، کے لیے ضروری ہے کہ اپنی تمام ضروریات برطرف کریں تاکہ عورتوں کے لیے مرد اساتذہ ، ڈاکٹرز اور عہدیداروں کی احتیاج ہی پیدا نہ ہونے پائے ۔ ضروری ہے کہ یہ کثیر آبادی خود اپنی ضروریات پوری کر سکے تاکہ عورتوں کے لیے مرد اساتذہ ، ڈاکٹرز اور مرد عہدیدار کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو ، اس عظیم آبادی کو اپنا نظام چلانے کے لیے حوزوی اور دانشگاہی نظام کی ضرورت ہے ، انہیں اداری نظام کی بھی ضرورت ہے سوائے ضروری موارد کے کہ جب محتاج ہو جائیں اور نامحرم ان کی مشکلات برطرف کریں ۔

انہوں نے نتیجے کے طور پر فرمایا :

اس بنا پر خواتین کو بھی حوزوی اور یونیورسٹی کے نظام کی ضرورت ہے ؛ انہیں تدریس اور تعلیم کی ضرورت ہے ۔ تمام امور جو مردوں کے لیے ہیں ، خواتین کے لیے بھی ضروری ہیں تاکہ اپنی مشکلات خود حل کریں ۔ البتّہ انتظامی کاموں کے حوالے سے مرد بعض کاموں میں زیادہ قوی ہیں اور بعض کاموں کے لیے عورت ؛ علمی اور ثقافتی شعبہ جات میں زن و مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے کہ مرد اس قدر علم حاصل کرے اور عورت اتنی مقدار بلکہ اس کا تعلق استعداد اور صلاحیت کے ساتھ ہے ، اخلاقی حوالے سے بھی کوئی فرق نہیں ہے ۔ اخلاق کے اعلیٰ ترین مدارج کہ جو عرفانی شہود سے متعلّق ہیں، میں بھی عورت اور مرد کے مابین کوئی فرق نہیں ہے ۔ البتہ بعض انتظامی کاموں میں جیسا کہ اشارہ کیا گیا کہ مرد انتظامی کاموں کو بہتر طریقے سے انجام دے سکتا ہے اور ضروری ہے کہ وہ انجام دے ۔ اس طرح کے امور کو عورت انجام نہیں دے سکتی اور اسے انجام دینے بھی نہیں چاہییں ۔ نبوت ، رسالت اور امامت اسی قبیل سے ہے ۔ محاذ جنگ اور جنگ کی سپہ سالاری بھی ایسے ہی ہے ، یہ انتظامی کام ہیں لیکن ان تمام کاموں کی اساس اور بنیاد ولایت کا بلند و بالا مقام ہےاور ولایت، زن و مرد کے لیے یکساں ہے ۔ نبوت ، رسالت ، امامت اور خلافت انتظامی کام ہیں کہ جن کا تعلق لوگوں اور معاشرے سے ہے ؛ مرجعیت اور جمعہ و جماعت کی امامت ، انتظامی کام ہیں ؛ لیکن فقاہت سے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا فقاہت اور اجتہاد میں مرد ہونے کی شرط ہے ؟ نہیں ! آیا ولایت میں مرد ہونا شرط ہے ؟ نہیں ۔ کیا نبوت ، رسالت اور امامت کی تمام قدر و قیمت ولایت کی بدولت نہیں ہے ؟ جی ہاں ! چونکہ وہ شخص ولی اللہ ہے ، نبوت ، رسالت یا امامت کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے ۔ ان کی بنیاد یہی ہے ۔ وہاں آپ ملاحظہ کرتے ہیں کہ صدّیقۀ کبرٰی (سلام الله علیها) اور مریم (سلام الله علیها) پوری آب و تاب سے حاضر ہیں ۔

ممکن ہے کہ فتوٰی یہ ہو کہ عورت قاضی نہیں بن سکتی ؛ لیکن عورت لاء کالج کی استاد بن سکتی ہے کہ اس کے شاگرد قاضی ہوں ۔ قاضی بننا کمال نہیں ہے بلکہ کمال اس مجتہد کا ہے کہ جو قاضیوں کی تربیت کر سکے ۔ اس کمال میں عورت اور مرد یکساں ہیں ۔ ممکن ہے کہ مرد کے ہاتھ میں محاذ جنگ اور جنگ کے انتظامی معاملات ہوں لیکن عورت جنگی قوانین کی اچھی طرح تعلیم حاصل کرے، ان کا گہرائی سے جائزہ لے کر دوسروں کو تعلیم دے اور اس کے شاگرد ایک لشکر کے امیر بن جائیں ۔ جہاں کمال ہے ، عورت ہے ۔ جہاں انتظامی کام ہیں ، وہاں مرد اور اس طرح سے کاموں کی تقسیم کر دی گئی ہے ۔

لیکن عورت کا پاک ترین ، طیب ترین اور اصلی ترین فریضہ ماں بننا ہے ۔ یہ امر کسی کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے ۔ اب آپ یہاں تشریف فرما ہیں تو آپ کی بہت قدر و قیمت ہے لیکن آپ لوگوں نے ماں کے مکتب میں پرورش پائی ہے ۔ اگر عورت اس فرض کو چھوٹا سمجھے تو اس نے اپنے آپ اور معاشرے پر جفا کی ہے ۔ مبادا یہ کہے : کیا ہمیں اولاد کی پرورش کے لیے پیدا کیا گیا ہے ؟ ہرگز ایسا مت کہیں ، اصل یہ ہے کہ تم ماں بن سکو ، ایک تعلیم یافتہ ماں تعلیم یافتہ بچے کی تربیت کرتی ہے ۔ وہ چھ ، سات سال کہ جب یہ بچہ ماں کے ہاتھوں میں ہے ، کالج ، یونیورسٹی اور حوزہ علمیہ کے ہر کورس سے قوی تر ہیں، وہ تمام خصوصیات کہ جو شیر خوارگی کے زمانے میں اور مادری محبت کے ساتھ اس بچے کو تلقین اور تعلیم دی جاتی ہیں ۔ ہرگز کسی دوسری جگہ پر اس بچے کو نصیب نہیں ہوں گی ۔ اس بنا پر ایک عورت کا اہم ترین ، اصلی ترین فریضہ ماں بننا ہے ؛ لیکن اسے تعلیم حاصل کرنا چاہئیے اور اس اعلی تعلیم کی روشنی میں بچے کی تربیت اور دیکھ بھال کرے ۔

حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے ماؤں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : مبادا ایسا ہو کہ بہت زیادہ سماجی مصروفیات وغیرہ اس امر کا باعث بنیں کہ انسان بچے کو ڈے کئیر سنٹر کے رحم و کرم پر چھوڑ دے اور پھر کچھ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ آپ کیوں ملاحظہ کرتے ہیں کہ جن شہروں میں عاطفہ ، لطف اور محبت ہے ، وہاں اولڈ ہاؤسز کا نام و نشان نہیں ہے ۔ گزشتہ ہفتے بھی ہم نے نقل کیا کہ ایک بزرگ سید نے ایک علاقے میں بہت زیادہ خدمات انجام دیں ؛ مسجد ، حمام اور امامبارگاہ کی تعمیر کی ، اس کے بعد ایک مرتبہ میرے پاس گلہ کر رہے تھے کہ میں نے ان لوگوں کو بہت تشویق دلائی ہے کہ ایک اولڈ ہاؤس بھی تعمیر کریں ، لیکن انہوں نے اس معاملے میں میری کوئی مدد نہیں کی ، میں نے ان سے کہا : ان مردوں کا شکریہ ادا کرو کہ انہوں نے آپ کو پیسے نہیں دیے ، کوئی شخص آمادہ نہیں ہے کہ اپنے ماں باپ کو اولڈ ہاؤس کے حوالے کر دے لہٰذا ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے ۔

وہ بچے کہ جنہیں ڈے کئیر سنٹر کے حوالے کیا جاتا ہے وہ محبت وپیار کا ادراک نہیں کر پاتے اور جوں ہی ان کے ماں باپ بوڑھے ہو جاتے ہیں ، وہ انہیں اولڈ ہاؤس چھوڑ آتے ہیں ، بوڑھوں کو اولڈ ہاؤس کے حوالے کرنے کا مطلب ماں باپ کی تدریجی موت ہے ۔

قرآن کریم نے فرمایا : «وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ»؛ فرمایا : اپنے پر پھیلاؤ اور انہیں ان پروں کی آغوش میں لو ! یہ بات کون قبول کرتا ہے ؟ وہی جس نے بچپن کے سات سال ماں کے دودھ اور محبت کے سائے میں گزارے ہوں لیکن ڈے کئیر میں پلنے والا بچہ جونہی بڑا ہوتا ہے ، ماں باپ کو اولڈ ہاؤس روانہ کر دیتا ہے ۔ اس نے پیارومحبت کو درک نہیں کیا اور محبت کا درس نہیں لیا ۔ اس بنا پر اگر قرآن ہے ، دینی احکام ہیں ، تو تحصیل اور علم اپنی جگہ پر محفوظ ہیں ، معاشرے کی آدھی آبادی جو خواتین پر مشتمل ہے وہ اپنے تمام امور خود انجام دیں تاکہ ضرورت ہی نہ رہے کہ کوئی نامحرم ان کے کام میں مداخلت کرے اور یاد رہے کہ ان کا اصلی ترین کام ماں بننا ہے ۔ اس امر کا بالکل امکان نہیں ہے کہ معاشرے کو ڈے کئیر سنٹر کے رحم و کرم پر چلایا جا سکے ۔ معاشرے کو ماں اور پاکیزہ دودھ چلا سکتا ہے ۔ جب وہ نماز ادا کرتی ہے تو بچے کو اپنے جائے نماز کے پاس بٹھا دیتی ہے ؛ یہی کہ جو ان چھ یا سات سالوں میں اس کی تسبیح اور سجدہ گاہ سے کھیلتا ہے ، تسبیح اور سجدہ گاہ سے آشنا ہوتا ہے ، وہ خود ذکر کرتی ہے اور بچے کو بھی ذکر سکھاتی ہے ۔ یہ جو فرمایا کہ اپنے بچوں کو تعلیم دو اس لیے ہے کہ یہ اسلام میں نووارد ہیں ۔ خدا رحمت نازل کرے ہمارے عظیم استاد علامہ طباطبائی پر وہ نورانی حدیث جو مرحوم صدوق کی کتاب "توحید" میںموجود ہے اور انہوں نے اس حدیث کو نقل کر کے اس کی اتنہائی خوبصورت تشریح اور عقلی تحلیل فرمائی ہے ۔ اصل حدیث یہ ہے کہ بچہ جب روتا ہے تو اس کو مت مارا جائے چونکہ پہلے چار ماہ اس کا گریہ خدائے سبحان کی وحدانیت کی شہادت ہے ، دوسرے چار ماہ کا گریہ وجود مبارک پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شہادت ہے ، تیسرے چار ماہ کا گریہ ماں اور باپ کے لیے دعا ہے ۔ اس کا کیا مطلب ہے ؟ کیا بچہ توحید کے بغیر پیدا ہوتا ہے ؟! کیا خدائے سبحان نے بچے کو بغیر سرمائے کے خلق کیا ہے ؟! فرمایا : «وَ نَفْسٍ وَ مَا سَوَّاهَا ٭ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَ تَقْوَاهَا» میں نے اسے بہت کچھ سکھایا ہے ، «فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِی» خدا نے سورہ روم اور سورہ شمس میں فرمایا ہے: بچہ علمی سرمائے کے ساتھ دنیا میں آتا ہے ۔ جی ہاں ! حوزہ اور یونیورسٹی کا علم اسے نصیب نہیں ہے ؛ اس مطلب کو سورہ نحل میں فرمایا ہے : «وَ اللَّهُ أَخْرَجَکم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِکمْ لاَتَعْلَمُونَ شَیئاً.» یہ تمام چیزیں جو ہم حوزہ اور یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں ، ہمیں بھول جاتی ہیں ، بہت سے علماء بڑھاپے میں ایک سادہ توضیح المسائل کا ایک صفحہ جو انہوں نے خود تحریر کیا ہے ، نہیں پڑھ سکتے ۔ سعدی کے بقول :

من هر چه خوانده ام همه از یاد من برفت ٭٭٭ الاّ حدیث دوست که تکرار می کنم

فقط ایک حدیث دوست باقی رہتی ہے ، ان حوزوی اور یونیورسٹی کے دروس پر زیادہ بھروسہ نہیں کیا جا سکتا لیکن وہ الٰہی سرمایہ ساتھ رہتا ہے ۔ فرمایا : میں نے اسے سرمائے کے ساتھ خلق کیا ہے اور اس کے پاس یہ سرمایہ موجود ہے کہ جس سے وہ استفادہ کر رہا ہے : پہلے چار ماہ کے دوران خدا اور مخلوق میں سے خدا کی وحدانیت کی ستائش کرتا ہے ، دوسرے چار ماہ میں پیغمبر (ص) اور اپنی ذات میں سے پیغمبر (ص) کی عظمت کا اقرار کرتا ہے اور تیسرے چار ماہ میں ماں باپ کی تعریف کرتا ہے ۔ یہ جو فرمایا : «إِن مِن شَی‏ءٍ إِلَّا یسَبِّحُ بِحَمْدِهِ» اس کا مطلب یہی ہے ۔ فرمایا : بچہ جس قدر گریہ کرے ، یہ صادقانہ ہے یہ فضول گریہ نہیں کرتا ۔ اگر مسکراتا ہے تو یہ بھی صادقانہ ہے مگر یہ کہ کوئی راستے سے ہٹا دے ۔ فرمایا : ہم نے اسے پاک و پاکیزہ تمہارے حوالے کیاہے ۔ یہ اسلام میں نووارد ہے «کلُّ مولودٍ یولَدُ علی الفطرة» ، یہ الٰہی امانت ہے ۔ اس امر کی مائیں حفاظت کرتی ہیں ۔ اس بنا پر ملکی معاملات میں صلاح و مشورہ ایک مطلب ہے ؛ مردوں کے انتظامی مسائل میں مشورہ دوسرا مطلب اور خود خواتین سے ان کے اپنے کاموں میں مشورہ ایک علیٰحدہ چیز ہے ۔

پھر فرمایا : حجاب و پاکدامنی میں ان کی عظمت ہے ۔ کیوں مرد کا کافر عورت کی جانب نگاہ کرنا (البتہ شائبے کے بغیر) جائز ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی کوئی حرمت نہیں ہے ۔ چند مرد ایک گھر میں رہ رہے ہیں ؛ باوجود اس کے کہ نامحرم نہیں ہیں لیکن ان کے کمروں میں جھانکنا جائز نہیں ہے ؛ کیوں ؟ کیا نگاہ کے احکام صرف نامحرم کے لیے ہیں ؟! انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی کی پرائیویٹ زندگی میں دخل اندازی کرے ۔ کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ وہ کمرہ طلبہ کا ہے اور وہ مرد ہیں لہٰذا میں چھپ کر کھڑکی سے جھانک لوں کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ، دوسرے لوگ کیا کر رہے ہیں ؟! عورت کی جانب نگاہ خصوصی حریم شکنی کے مترادف ہے اگرچہ نامحرم نہ ہو ، عورت کے بدن اور بالوں کی جانب نگاہ نہیں کی جا سکتی اگرچہ لذت کے ارادے سے نہ ہو ، لذّت کا قصد تمام جگہوں پر اشکال رکھتا ہے ، چونکہ یہ حرام کے ساتھ مخلوط ہے ۔ آپ یہی نگاہ کافر عورت پر ڈالتے ہیں؛ کیوں ؟ اس لیے کہ اس کی نہ حرمت ہے اور نہ احترام ۔ اس نے اپنا احترام ختم کر دیا ہے ۔ اس بنا پر عورت کی طرف نگاہ کرنا اس کی کرامت اور خصوصی حریم میں ورود کے مترادف ہے اور اس کا حجاب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عورت پر خود کو ڈھانپنا واجب ہے ، مبادا اس پر کوئی غیر ارادی نگاہ پڑ جائے ، یہ عورت کی عظمت اور جلال ہے کہ وجود مبارک حضرت امیر ( سلام اللہ علیہ ) نے اس نامے میں فرمایا : ان کے حجاب کا خیال رکھو «وَ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَلاَّ یعْرِفْنَ غَیرَک فَافْعَلْ»؛ جو کام تم خود انجام دے سکتے ہو وہ اپنی زوجہ پر کیوں موقوف کرتے ہو ، «وَ لاَتُمَلِّک الْمَرْأَةَ مِنْ أَمْرِهَا مَا جَاوَزَ نَفْسَهَا» وہ اپنے کام انجام دے سکتی ہے ، وہ گرلز کالج چلا سکتی ہے ؛ جامعہ زہراء کا انتظام سنبھال سکتی ہے ۔ زنانہ کلاسیں منعقد کر سکتی ہے ، وہ استاد بن سکتی ہے ، تدریس ، تالیف اور تقریر کر سکتی ہے ۔ آدھا ملک ان کے زیر اختیار ہے ، ان کا نظم و انتظام سنبھالنا معمولی کام نہیں ہے ۔ «فَإِنَّ الْمَرْأَةَ رَیحَانَةٌ وَ لَیسَتْ بِقَهْرَمَانَةٍ وَ لاَتَعْدُ بِکرَامَتِهَا نَفْسَهَا» مبادا اسے کام کا ذریعہ قرار دو ، اگر کسی کو اداری کام ہو تو وہ تمہاری بیوی کے ذریعے تمہیں کہے ۔ یہ کام مت کرو ! «وَ لاَتُطْمِعْهَا فِی أَنْ تَشْفَعَ لِغَیرِهَا» اسے کہو کہ ٹیلیفون کرے یا فلاں ٹیلیفون کا جواب دے ، اسے کہو کہ فلاں کیس کا مطالعہ کرو اور وہ دخل اندازی کرے ؛ یہ کام مت کرو! چونکہ خدائے سبحان نے انہیں عاطفہ کے ساتھ خلق کیا ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ مناجات کی تاثیر خواتین میں مردوں سے زیادہ ہے ۔ موطأ مالک کا مطالعہ کیجیے ؛ یہ کتاب قدیم ترین اسلامی کتاب ہے ؛ یہ مطلب مالک نے موطّا میں نقل کیا ہے کہ صدر اسلام میں ابھی بہت سے مرد ہاتھوں میں تلواریں لیے اسلام کے خلاف لڑ رہے تھے لیکن ان کی عورتیں مسلمان ہو چکی تھیں ۔ الٰہی مواعظ سے خواتین کی تاثیر پذیری اگر مردوں سے زیادہ نہیں ہے تو کم بھی نہیں ہے۔ ابھی شوہر اسلام کے خلاف جنگ کر رہا تھا لیکن بیوی مسلمان ہو چکی تھی اور پیغمبر (ص) کی پیروکار تھی ۔ «وَ إِیاک وَ التَّغَایرَ فِی غَیرِ مَوْضِعِ غَیرَةٍ» ہم نے گزشتہ بحثوں میں ذکر کیا کہ غیرت نمایاں ترین اخلاقی فضیلت ہے ۔ غیرت کے تین بنیادی عنصر ہیں : ماہیت اورحقیقت شناسی ( ایک ) غیر کے حریم میں داخل نہ ہونا ( دو) غیر کو اپنی حریم میںداخل ہونے کی اجازت نہ دینا ( تین ) اسے کہا جاتا ہے غیرت ۔ غیرت یعنی غیر کو دفع کرنا اور یہ کہ انسان نہ غیر کی حریم میں داخل ہو اور نہ ہی غیر کو اپنی حریم میں داخل ہونے کی اجازت دے ؛ چونکہ دیاثت بے غیرتی (عورت کی بدکاری پر چشم پوشی) کی بازگشت بھی غیرت کے ترک کی طرف ہوتی ہے ۔ حضرت امیر (ع) کا یہ نورانی بیان جو پہلے پڑھا گیا کہ فرمایا : «ما زَنیٰ غیورٌ قطُّ» ہر گز ایک غیرت مند، نامحرم کے ساتھ تعلقات نہیں بناتا ۔ کوئی بھی غیرت مند انسان یہ کام نہیں کرتا ہے اور جس نے بھی ایسا کیا وہ بے غیرت ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ غیرت کا معنی یہ ہے کہ غیر کو اپنی حریم میں داخلے کی اجازت نہ دے ( ایک) اور دوسرے کی حریم میں داخل نہ ہو ( دو) یہ دو عنصر کہ جو دفعِ غیر ہیں خود شناسی کی فرع ہے ، انسان جب تک خود کو نہ پہچانے اس وقت تک ان دو طرفوں کو ترک نہیں کر سکتا ۔ فرمایا : «فَإِنَّ ذلِک یدْعُو الصَّحِیحَةَ إِلَی السَّقَمِ وَ الْبَرِیئَةَ إِلَی الرِّیبِ» ان پر زیادتی اور بدگمانی بد ہے ، افراط و تفریط بد ہیں ؛ یہ اقتباس خواتین اور خاندان سے مربوط تھا ۔

پھر فرمایا : «وَ اجْعَلْ لِکلِّ إِنْسَانٍ مِنْ خَدَمِک عَمَلاً تَأْخُذُهُ بِهِ» وجود مبارک امام مجتبی (ع) کہ جن کے پاس کوئی ظاہری منصب نہیں ہے ؛ فرمایا : اگر آپ عہدیدار اور مدیر بن گئے تو ضروری ہے کہ ہر ہر فرد کے لیے کسی ذمہ داری کا تعین کرو اور منصوبہ بندی کے ساتھ چلو ( ایک) ذمہ داری طلب کرو ( دو ) اسے کام کی تلقین کرو ( تین ) تم کنٹرول اور نگرانی کرو ( چار ) اس سے جواب طلبی کرو (پانچ) ایسا نہ ہو کہ نظام مملکت کو اسی طرح چھوڑ دو یا اپنے تحت کام کرنے والے عملے کو اپنے حال پر چھوڑ دو ۔ «وَ اجْعَلْ لِکلِّ إِنْسَانٍ مِنْ خَدَمِک عَمَلاً تَأْخُذُهُ بِهِ فَإِنَّهُ أَحْرَی أَنْ لاَیتَوَاکلُوا فِی خِدْمَتِک» جب حساب کتاب سے کام نہ لیا جائے تو ہر شخص اپنا کام دوسرے پر چھوڑ دیتا ہے ، یہ تواکل ہے ، متقابل تواکل یعنی یہ اسے وکیل قرار دیتا ہے اور وہ اسے وکیل قرار دیتا ہے ، اس صورت میں تمام کام بکھر اور ضائع ہو جاتے ہیں ۔

«وَ أَکرِمْ عَشِیرَتَک» قوم ، قبیلے اور اپنے اہل خانہ کا احترام کرو چونکہ تم خالی ہاتھ کچھ بھی نہیں کر سکتے ۔ خدا نے تجھے اس خاندان کے ساتھ قرار دیا ہے ۔ انہیں اذیت دینے کی کیا وجہ ہے !«وَ أَکرِمْ عَشِیرَتَک فَاِنَّهُمْ جَنَاحُک الَّذِی بِهِ تَطِیرُ» تم اگر پرواز کرنا چاہو تو اپنی فیملی اور قوم کے سہارے پرواز کر سکتے ہو ۔ «وَ أَصْلُک الَّذِی إِلَیهِ تَصِیرُ» آخرکار تم اگر کبھی پلٹنا چاہو تو اسی اصل ، قبیلے اور خاندان کی طرف ہی پلٹو گے ۔ «وَ یدُک الّتِی بِهَا تَصُولُ» اگر کبھی دشمن تم پر حملہ کرے اور تم اپنی شجاعت اور ہیبت دکھانا چاہو تو وہ اپنے قبیلے کے ذریعے ہی کر سکو گے ۔

اس خط کے آخر میں فرماتے ہیں : : «اسْتَوْدِعِ اللَّهَ دِینَک وَ دُنْیاک وَ اسْأَلْهُ خَیرَ الْقَضَاءِ لَک فِی الْعَاجِلَةِ وَ الْآجِلَةِ وَ الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ» فرمایا : تمہارا دین اور دنیا ان سب کو خدا کے حوالے کرتا ہوں ۔ خدائے سبحان سے دنیا و آخرت کی خیر کا سوال کرتے ہیں ، اسے وجود مبارک حضرت امیر ( سلام اللہ علیہ ) نے اپنے نامے کے آخر میں تحریر فرمایا ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ انشاء اللہ حضرت کی یہ اختتامی دعا تمام حوزوی ، دانشگاہی اور بسیجی خواتین و حضرات کے شامل حال ہو ؛ ذات اقدس الٰہی ہم سب کو یہ توفیق مرحمت فرمائے کہ ہم ان معارف کو سمجھیں ، ان پر یقین رکھیں، ان پر عمل پیرا ہوں اور ان کی اشاعت کریں ۔